Home » 2018 » June » 05

Daily Archives: June 5, 2018

ملک بھر میں لاکھوں افراد اعتکاف میں بیٹھ گئے

لاہور / اسلام آباد: ملک بھر میں لاکھوں افراد نے اعتکاف میں بیٹھنے کی سعادت حاصل کرلی۔ 

20 رمضان المبارک کو عشرہ مغفرت شروع ہوتے ہی اہل ایمان مساجد اور گھروں میں اللہ کو راضی کرنے کے لیے اعتکاف کرتے ہیں۔ اعتکاف کی تنہائی میں مسلمان جہاں دنیاوی کام سے الگ ہوکر رب کائنات کی رضا کے لئے عبادات و مناجات میں مصروف رہتے ہیں وہیں روحانی پاکیزگی سے بھی سیراب ہوتے ہیں۔ خالق کائنات کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے عید کا چاند نظر آنے تک عبادات کا یہ سلسلہ جاری رہتا ہے۔

ہر سال کی طرح امسال بھی لاکھوں افراد نے اعتکاف میں بیٹھنے کی سعادت حاصل کرلی۔ مرد حضرات مسجد میں اعتکاف میں بیٹھے جب کہ خواتین نے گھر پر ہی اعتکاف میں بیٹھنے کی سعادت حاصل کی۔

جانئے آج آپ کا دن کیسا رہے گا

حمل:

21مارچ تا21اپریلکافی رقم مل سکتی ہے، بہتر یہی ہے کہ اس رقم کو بھی آپ کاروبار میں لگا دیں کیونکہ اگر زیادہ دولت جمع کرنے کی نیت سے یہ رقم محفوظ رکھنا چاہی تو پھر کچھ باقی نہ رہے گا۔

ثور:
22اپریل تا20مئی

اپنے ذہن کو ہر فکر سے آزاد رکھنے کی کوشش کریں زیادہ سوچ بچار کرنے والے افراد پرمسرت زندگی گزارنے سے قاصر رہتے ہیں بلکہ وہ سوچوں کے تانے بانے میں الجھ کر کیا سے کیا بن جاتے ہیں۔

جوزا:
21مئی تا21جون

آپ اپنے شریک حیات کو مکمل طور پر اپنا ہمنوا بنانے میں کامیاب ہو سکیں گے، شریک حیات کی تمام تر محبت آپ کا مقدر بن جائے گی اور وقت انتہائی خوشگوار ماحول میں بسر ہو سکے گا۔

سرطان:
22جون تا23جولائی

آپ بے خوف و خطر اپنی خداداد صلاحیتوں کو بروئے کار لایئے بفضل خدا چند دیرینہ الجھنوں سے یقینا نجات مل سکے گی، نزدیکی سفر امیدوں کی بار آوری کا سبب بن سکتا ہے۔

اسد:
24جولائی تا23اگست

غلط فہمیوں کا ازالہ کافی حد تک ہو سکتا ہے، آپ کے شریک حیات بھی اپنا سلوک مزید بہتر کر سکتے ہیں اس طرح محرومی کے جس عذاب سے آپ دوچار تھے وہ خود بخود ختم ہو جائے گا۔

سنبلہ:
24اگست تا23ستمبر

رہائش ہرگز نہ بدلیں اس طرح خیالات مزید الجھ سکتے ہیں تھوڑا سا صبر کر لیں کاروبار کو وسعت دینے کے لیے آپ کو جمع شدہ رقم خرچ کرنا پڑ سکتی ہے، اطمینان رکھیں نقصان نہیں ہو گا۔

میزان:
24ستمبر تا23اکتوبر

کوئی نیا دوست ہرگز نہ بنائیں، ممکن ہے کہ اس نئی دوستی کی قیمت اس قدر بھاری ادا کرنی پڑ جائے جسے آپ ساری زندگی فراموش نہ کر سکیں، صحت جسمانی خراب ہو سکتی ہے۔

عقرب:
24اکتوبر تا22نومبر

اگر آپ نے اپنے مزاج پر قابو رکھا اور شریک حیات کو ناراض ہونے کا موقعہ نہ دیا تو پھر ڈھیر ساری خوشیوں کے پھول آپ کے دامن میں ہو سکتے ہیں۔ملازمت کے معاملات جوں کے توں رہیں گے۔

قوس:
23نومبر تا22دسمبر

بسلسلہ عشق و محبت زیادہ گہرائیوں میں نہ جائیں، ڈوب جانے کا اندیشہ ہے مخالفین سے الجھنے کی بجائے انھیں راہ راست پر لانے کی کوشش کریں۔اس سلسلے میں مصالحانہ انداز اختیار کرنا آپ کیلیے بہتر ہوگا۔

جدی:
23دسمبر تا20جنوری

اپنی غلطیوں کا ازالہ کیجئے جن کا دل دکھایا ہے ان سے معافی مانگ لیجئے ابھی تو معافی کی گنجائش بھی ہے پانی سر سے اونچا نہیں گیا، کسی سے بھی لڑائی جھگڑا ہرگز نہ کریں ورنہ نقصان آپ ہی کا ہو سکتا ہے۔

دلو:
21جنوری تا19فروری

تعلیمی معاملات توقع کے مطابق طے پا سکتے ہیں، محبت کے سلسلے میں کامیابی ہو سکتی ہےمنگنی یا شادی کا امکان بہت زیادہ نہیں، مخالف رشتہ داروں کے ساتھ بھی مراسم خوشگوار ہو سکتے ہیں۔

حوت:
20 فروری تا 20 مارچ

ماضی میں آپ نے کافی غلطیاں کیں اور پھر خود ہی اس کی سزا بھگتی، چاہئے تو یہ تھا کہ ان غلطیوں سے آپ کوئی سبق لیتے لیکن شاید آپ اپنی فطرت سے مجبور ہو کر دوبارہ وہی غلطیاں کرنے پر آمادہ ہیں۔

ہائیکورٹ کا فیصلہ معطل، الیکشن شیڈول جاری

adaria

سپریم کورٹ نے کاغذات نامزدگی کالعدم قرار دینے سے متعلق لاہورہائیکورٹ کے فیصلے کو معطل کرتے ہوئے کہا ہے کہ عام انتخابات 25 جولائی کو ہی ہونگے، لاہور رجسٹری میں چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کاغذات نامزدگی سے متعلق لاہورہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف سردار ایاز صادق اور الیکشن کمیشن کی اپیلوں کی سماعت کی۔ ایاز صادق کے وکلا نے چیف جسٹس سے استدعا کی کہ کاغذات نامزدگی کالعدم قرار دینے کا لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ منسوخ کیا جائے، یہ انتخابات کے بروقت انعقاد کا معاملہ ہے، ہائی کورٹ کے فیصلے سے انتخابات میں تاخیر ہوگی۔ الیکشن کمیشن نے اپیل میں موقف اختیار کیا کہ لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے میں تضاد پایا جاتا ہے اور فیصلے سے انتخابات کا شیڈول متاثر ہونے کا خدشہ ہے، اگر نامزدگی فارم کا اجرا جلد شروع نہ کیا گیا تو انتخابات تاخیر کا شکار ہو سکتے ہیں۔سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن اور ایاز صادق کی اپیلیں منظور کرتے ہوئے لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ معطل کر دیا۔ اس موقع پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ انتخابات 25 جولائی کو ہی ہوں گے، اگر الیکشن میں تاخیر ہوئی تو الیکشن کمیشن آف پاکستان ذاتی طور پر اس کا ذمہ دار ہوگا۔ یکم جون کو لاہور ہائی کورٹ نے آئینی ماہر سعد رسول کی درخواست پر پارلیمنٹ کے تیار کردہ کاغذاتِ نامزدگی کو کالعدم قرار دیتے ہوئے الیکشن کمیشن کو نئے کاغذات نامزدگی تیار کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا تھا کہ نئے کاغذات نامزدگی میں آئین کے آرٹیکل 62 اور 63 کے تقاضے دوبارہ شامل کئے جائیں۔الیکشن کمیشن اور اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایازصادق نے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے گزشتہ روز سپریم کورٹ میں رجوع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایازصادق کا کہنا تھا کہ اس طرح کے اقدام سے انتخابات کے بروقت انعقاد میں تاخیر کا اندیشہ ہے۔ دوسری طرف سپریم کور ٹ کی جانب سے کاغذات نامزدگی سے متعلق لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ معطل کئے جانے کے بعد الیکشن کمیشن نے عام انتخابات 2018کانظر ثانی شدہ شیڈول جاری کر دیا جس کے مطابق کاغذات نامزدگی 4سے 8جون تک جمع کرائے جائیں گے جبکہ امیدواروں کے ناموں کی فہرست بھی 8 جون کو شائع کی جائے گی ، الیکشن کمیشن کی جانب سے باقی شیڈول میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ، جس کے بعد کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال 14جون تک کی جائے گی ، امیدوار ریٹرنگ افسران کے فیصلوں کے خلاف 19جون تک اپیلیں دائر کر سکیں گے جبکہ ایپلٹ ٹربیونل کے فیصلوں کے خلاف اپیلیں 26جون تک نمٹائی جائیں گی ،امیدواروں کی حتمی فہرست 27جون کو شائع کی جائے گی جبکہ 28جولائی تک امیدوار اپنے نام واپس لے سکتے ہیں جبکہ 29جون کو امیدواروں کو انتخابی نشان الاٹ کئے جائیں گے ، جبکہ پولنگ 25جولائی کو ہی ہو گی ۔نگران وزیراعظم جسٹس (ر)ناصر الملک نے کہا ہے کہ میں صرف 2 ماہ کے لیے آیا ہوں،یقین دلاتا ہوں کہ انتخابات 25 جولائی کو ہی ہوں گے،ملک میں تمام کام صرف آئین کے مطابق ہوں گے، اپنے اختیارات کے مطابق لوگوں کی خدمت کروں گا۔ کاغذات نامزدگی کالعدم قرار دینے کا فیصلہ الیکشن کے بروقت انعقاد کا باعث قرار پائے گا،سیاسی منظر نامہ غیر یقینی صورتحال سے دوچار تھا لیکن سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے نے غیر یقینی صورتحال کو ختم کردیا ہے اب الیکشن اپنے مقررہ وقت پر ہونگے، حکومت اور الیکشن کمیشن کی یہ ذمہ داری قرار پاتی ہے کہ ہے کہ وہ پرامن انتخابات کے ساتھ ساتھ انتخابی عمل میں شفافیت کو بھی یقینی بنائیں تاکہ ماضی کی طرح دھاندلی کی گردان اس بار نہ دہرائی جائے، سیاسی جماعتوں کو بھی چاہیے کہ وہ اپنے اپنے منشور کا پرچارکریں، ایک دوسرے پر تنقید برائے تنقید اور الزام تراشی سے گریز کریں، الیکشن کا انعقاد نگران حکومت کی اولین ترجیح ہے امید ہے کہ وہ اس مشن کو کماحقہ پورا کرنے میں کامیاب قرار پائے گی۔ انتخابات کا عمل ہی جمہوریت کیلئے نیک شگون قرار پاتا ہے۔ الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ عام انتخابات میں حصہ لینے والے امیدواروں کی سکروٹنی ایف آئی اے ، نیب، ایف بی آر، اسٹیٹ بنک سے کرائی جائے گی، چار ٹیموں پر مشتمل 36 رکنی سنٹرل سکروٹنی سیل تشکیل دیا جائے گا، امیدواروں کی دوہری شہریت، قرضے، ڈیفالٹر، انکم ٹیکس کی معلومات اکٹھی کرے گا۔الیکشن کمیشن کا یہ اقدام اہل امیدواروں کو آگے لانے میں ممدومعاون ثابت ہوگا اور کرپٹ امیدواروں کا راستہ رک پائے گا یہی وقت کی ضرورت اور تقاضا ہے ، الیکشن کمیشن کا یہ فیصلہ دوررس نتائج کاحامل قرار پائے گا اس پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے۔شفاف الیکشن ہی الیکشن کمیشن کیلئے ستائش کا باعث قرار پائیں گے۔
افغان سرحد سے دہشت گردی
افغان سرحد سے پاکستان میں کی جانے والی دہشت گردی دونوں ملکوں کیلئے جہاں تعلقات کو خراب کرنے کا باعث بن رہی ہے وہاں خطے کے امن کیلئے خطرات بڑھنے کا بھی ذریعہ بن رہی ہے ۔ گزشتہ روز افغان سرحد سے دہشت گردوں نے خیبرپختونخوا کے علاقے باجوڑ اور بلوچستان میں قمر دین کاریز میں سرحدی چوکیوں اور باڑ لگانے والے فوجی جوانوں پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں ایف سی کے 4 اور پاک فضائیہ کا ایک جوان زخمی ہوگیا۔سرحد پار سے باجوڑ میں 24 گھنٹوں کے دوران 7 حملے کئے گئے، سیکیورٹی فورسز نے باڑ کی تنصیب اور سرحدی چوکیوں کے قیام سے روکنے کی دہشت گردوں کی کوششوں کو ناکام بنا دیا۔ جوابی فائرنگ کے نتیجے میں 6 دہشت گرد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے۔دہشت گرد افغانستان میں حکومتی عملداری نہ ہونے کا فائدہ اٹھا کر پاکستان پر حملے کر رہے ہیں لیکن پاکستان تمام چیلنجز کے باوجود سرحدوں کو محفوظ بنانے کے لیے باڑ کی تنصیب اور سرحدی چوکیوں کے قیام کا کام جاری رکھے گا۔ پاکستان کے خلاف افغان سرزمین کا استعمال ہونا لمحہ فکریہ ہے ، پاکستان دہشت گردی کیخلاف ایک تواتر سے برسرپیکار ہے اور پاک فوج دن رات دہشت گردوں کی بیخ کنی کیلئے کوشاں ہے، لیکن افغان علاقے سے دہشت گردانہ کارروائیاں پاکستان کیلئے پریشان کن ہیں، پاکستان کئی بار افغان حکومت سے احتجاج ریکارڈ کرواچکا ہے لیکن توجہ طلب امر یہ ہے کہ تاحال افغانستان کی سرزمین پاکستان کیخلاف استعمال ہورہی ہے، افغانستان میں دہشت گردوں کی آماجگاہیں خطے کے امن کیلئے خطرہ ہیں، دہشت گرد انسانیت کے دشمن ہیں ان کا کوئی دین نہیں، معصوم شہریوں کو بموں اور دھماکوں سے اڑانا ان کا مشن ہے لیکن یہ اپنے مذموم عزائم میں کبھی بھی کامیاب نہیں ہوپائیں گے، کیونکہ پاک فوج دہشت گردی کیخلاف پرعزم ہے اس طرح کی کارروائیاں پاک فوج کو متزلزل نہیں کرسکتیں، پاک فوج کا یہ طرہ امتیاز ہے کہ وہ ایک طرف سرحدی کی حفاظت کررہی ہے تو دوسری طرف دہشت گردی کی روک تھام میں کوشاں ہے ، دہشت گردی کے ناسور کا خاتمہ وقت کی ضرورت ہے، افغان حکومت کو چاہیے کہ وہ اپنی سرزمین پاکستان کیخلاف استعمال نہ ہونے دے تاکہ خطے کا امن بحال رہے ، افغان حدود سے پاکستانی چیک پوسٹوں پر حملے کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے، پاکستان باڑ کی تنصیب اور سرحدی چوکیوں کے قیام کا کام جاری رکھے گا کیونکہ اس کے بغیر دہشت گردی کی روک تھام ناممکن ہے۔

’ خالصتان تحریک‘ ایک مرتبہ پھر عروج پر

نام نہاد امن کے علمبردار اور عوامی حقوق کے غاصب بھارت میں متعدد آزادی کی تحریکیں چل رہی ہیں۔ عوام کو بنیادی حقوق دینے کے بجائے کچلنے کے ایجنڈے پر عمل پیرا بھارت میں ایک بار پھر خالصتان تحریک آج کل عروج پر ہے۔کشمیر ہو یا آسام اور یا پھر خالصتان بھارت کسی کو بھی حقوق دینے کو تیار نہیں ہے۔ اب دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے جھوٹے دعویدار کو کون سمجھائے کہ عوام کو ان کے حقوق دینے سے مسائل حل ہوتے ہیں، ان کی جان لینے سے نہیں ۔ بھارت میں جہاں ایک طرف کشمیر کے مسلمان بھارتی ظلم اور تشدد کا شکار ہیں تو وہیں ان مظالم سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لئے آسام اور خالصتان کی آزادی کی تحریکیں بھی چل رہی ہیں۔ تحریک خالصتان سکھ قوم کی بھارتی پنجاب کو بھارت سے الگ کرکے آزاد سکھ ملک بنانے کی تحریک ہے۔ سکھ زیادہ تر بھارتی پنجاب میں آباد ہیں اور امرتسر میں ان کا صدر مقام ہے۔ 1980ء کی دہائی میں خالصتان کے حصول کی تحریک زوروں پر تھی جس کو بیرون ملک مقیم سکھوں کی مالی اور اخلاقی امداد حاصل تھی۔ 1984ء میں اْس وقت کی بھارتی وزیراعظم اندرا گاندھی کے حکم پر امرتسر میں واقع گولڈن ٹیمپل پر بھارتی پولیس سکھوں پر پل پڑی۔ 3 سے 8 جون تک ہونے والے’’ آپریشن بلیو سٹار’’ میں بھارتی فوج کے دس ہزار سورما، سیکڑوں سیکیورٹی گارڈز، پیراشوٹ رجمنٹ، توپ خانہ یونٹس کے اہلکاروں سمیت پولیس ریزرو پولیس 175 سے 200 سکھوں پر ٹوٹ پڑی۔ بھارتی فوج نے اس آپریشن میں بے رحمی اور سفاکی سے آزادی کا مطالبہ کرنے والوں کو کچل ڈالا۔ اس دوران ہزاروں شہری بھی بھارتی ظلم و بربریت کی بھینٹ چڑھ گئے۔سکھ لیڈروں کا کہنا ہے کہ ہندوستان میں ہمارے لئے یہ بڑا اچھا سبق ہے۔ بھارت نے تقسیم کے وقت سکھوں کو سبزباغ دکھا کر اورجھوٹے وعدے کرکے اپنے ساتھ ملایا تاہم سکھوں کو بہت جلد احساس ہوگیا کہ پنڈت نہرو اور سردار پٹیل نے ان کے ساتھ بہت بڑا دھوکہ کیاہے۔چنانچہ سکھ رہنما ماسٹر تارا سنگھ نے 28مارچ1953ء کو کہا:’’ انگریز چلا گیا لیکن ہم آزاد نہ ہوسکے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ آزادی نہیں ، صرف آقا تبدیل ہوئے ہیں۔ پہلے سفید تھے اب کالے آگئے ہیں۔ جمہوریت اور سیکولرازم کا ڈھونگ رچا کر ہمارے پنتھ، ہماری آزادی اور ہمارے مذہب کو کچلا جا رہا ہے۔‘‘ دنیا جانتی ہے کہ اندراگاندھی نے اپنے دور میں آپریشن بلیوسٹار کے تحت سکھوں کے انتہائی مقدس مقام گولڈن ٹیمپل پر چڑھائی کی ، اس میں 10ہزارسکھ زائرین کو ہلاک کر دیا گیا تھا۔ جبکہ31اکتوبر 1984ء کو بھارتی وزیراعظم اندرا گاندھی کے قتل کے بعد اس وقت کی حکمران جماعت ’انڈین نیشنل کانگریس‘ نے سکھوں کی نسل کشی کی منظم مہم شروع کی گئی۔ اس مہم میں سکھوں کو جانی نقصان کا سامنا بھی ہوا، ان کے گھر بار تباہ وبرباد کردئیے گئے، ان کی جائیدادوں پر قبضے کئے گئے ، ان کی عبادت گاہوں پر حملے کئے گئے ۔ ہزاروں سکھ قتل کردئیے گئے۔ ایک اندازے کے مطابق اس مہم میں 30ہزار سے زائد سکھ قتل کئے گئے۔ان میں سے زیادہ تر بے بس تھے جن کو اپنے گھر والوں یا محلے والوں کے سامنے زندہ جلادیاگیا۔ مغربی ذرائع ابلاغ بھی سکھوں پر ہونے والے ظلم وستم پرخاموش نہ رہ سکے۔ شواہد موجود ہیں کہ سکھوں کے خلاف ڈیتھ سکواڈز کی قیادت وفاقی وزیر کمل ناتھ، ارکان پارلیمان سجن کمار، جگدیش ٹیٹلر، للت میکن، دھرم داس شاستری، ایچ کے ایل بھگت، ارون نہرو، ارجن سنگھ، حتیٰ کہ بالی ووڈ سٹار امیتابھ بچن کررہے تھے۔ اپنی ماں اندرا گاندھی کے قتل کے بعد راجیو گاندھی نے سکھوں کی نسل کشی کی ان الفاظ کے ساتھ حمایت کی تھی کہ جب ایک بڑا درخت گرتاہے تو ساری زمین پر لرزہ ضرورطاری ہوتا ہے۔ بھارت میں سکھوں کو لگائے گئے زخموں پر مرہم نہیں رکھاگیا۔ آپریشن بلیوسٹار کو غلطی قرار دیاگیا لیکن اس غلطی کا مداوا نہیں کیا گیا۔ اس کے بعد ہونے والے ’’فسادات‘‘ کیلئے بھی تحقیقاتی کمیشن قائم کئے گئے لیکن انھیں اختیارات حاصل نہیں تھے۔ اب بھارت کو زخم لگانے اور پھر ان پر نمک چھڑکنے کا خمیازہ بھگتنا ہی پڑے گا۔ خالصتان کے قیام کیلئے پنجاب کی آزادی کی مہم پوری دنیا میں پھیل رہی ہے ۔ زیادہ سے زیادہ سکھ اس تحریک کا حصہ بن رہے ہیں۔ سکھ ایک دوسرے کو ’ریفرنڈم 2020ء ‘ کا پیغام پھیلانے کیلئے بلا رہے ہیں۔ اس تحریک کے ذمہ داران کہتے ہیں کہ حق خودارادیت جس طرح ہر انسان کا قانونی حق ہے، اسی طرح سکھوں کا بھی حق ہے۔ سکھ قوم اس یقین کے ساتھ جدوجہد کررہی ہے کہ وہ 2020ء میں بہرصورت حق خود ارادیت حاصل کرے گی۔ 80ء اور90ء کے عشروں میں بھارتی حکومت کے ظلم و ستم سے تنگ آکر 90 فیصد سکھوں نے دنیا کے مختلف ممالک کا رخ کیاتھا، بعدازاں انھوں نے اپنے گھرانے کے دوسرے لوگوں کو بھی بلا لیا۔ وہ سکھ نوجوان بھی یہاں آگئے جنھیں بھارت میں بے روزگاری کی زندگی گزارنے پر مجبور کیا جارہا تھا۔ چنانچہ وہ اپنی زمینیں اور جائیدادیں فروخت کرکے بیرون ملک مقیم ہوگئے۔ ظاہر ہے کہ ان کے پاس اس کے سوا کوئی اور راستہ نہیں تھا۔ اب بیرون ملک مقیم یہ سکھ پورے جوش وخروش سے ’ریفرنڈم2020ء ‘ کیلئے تحریک چلارہے ہیں۔ خالصتانی تحریک کے ذمہ داران کا دعویٰ ہے کہ سکھ ازم دنیا کا پانچواں بڑا مذہب ہے۔ پوری دنیا میں اس کے ماننے والوں کی تعداد دوکروڑ 80 لاکھ ہے۔ دنیا میں اس قدر بڑی آبادی ہونے کے باوجود سکھوں کی تعداد بھارت کی آبادی کا محض 1.8فیصد ہے۔جن کا زیادہ تر حصہ پنجاب میں آباد ہے۔ خالصتان تحریک کے ذمہ داران اپنے وژن اور اہداف میں بہت واضح ہیں۔ انھوں نے خالصتان کا مکمل نقشہ تیار کرلیاہے ، اس کے قیام کے بعد ممکنہ چیلنجز کا بھی انھیں احساس ہے اور ان کا حل بھی سوچ لیاہے۔ انہیں احساس ہے کہ خالصتان چہار اطراف سے خشکی میں گھرا ہوا ایک ملک ہوگا۔ ممکنہ مملکت خالصتان کے ساتھ سمندر نہیں لگتا۔ ایسے میں اس کی معیشت کا کیاہوگا؟ خالصتانی ذمہ داران کاخیال ہے کہ پنجاب ایک مضبوط معیشت کا حامل ملک ہوگا۔ سمندرکا کنارا کامیاب ریاست کی ضمانت نہیں بن سکتا اور سمندر کا کنارا نہ لگنے کا مطلب یہ نہیں ہوتاکہ وہ ریاست ناکام ہوگی۔خالصتان کے قیام سے بھارت کا ریاست جموں و کشمیر پر قبضہ ازخود ختم ہوجائے گا کیونکہ بھارت اور مقبوضہ کشمیر کے درمیان واحد راستہ خالصتان سے ہی گزرتا ہے۔ اس وقت ریاست جموں وکشمیر میں موجود سکھ تحریک آزادی کشمیر کی حمایت کررہے ہیں جبکہ ممکنہ مملکت خالصتان میں مسلمان خالصتان تحریک کا ساتھ دے رہے ہیں۔
*****

آؤ قوم کی آنکھ میں دھول جھونکیں. . . !!

مغرب کے لوگ دیتے ہیں جمہوریت پہ جان
اُن کی نظر میں ووٹ ہے طاقت عوام کی

اِسلام میں ہے حاکم ِ اعلیٰ خدا کی ذات
بنیاد ہے اِسی پہ وفا کے نظام کی
جبکہ ستر سال سے سرزمینِ پاکستان میں مُلک اور قوم سے بے وفا، عیار و مکار، لالچی اور قومی خزا نے کو لوٹ کھا نے اور آف شور کمپنیوں و اقامے والے مٹھی بھر اشرافیہ کا طبقہ اپنی مرضی کے کسی اور نظام حکومت پر چل رہا ہے آج جس نے نہ تو جمہور اور جمہوری ثمرات عوام تک پہنچائے ہیں اور نہ وطن عزیز میں اسلامی نظام حکومت کو ہی پوری طرح رائج کیا ہے۔
تاہم ہمارے طبقہ اشرافیہ نے تو جمہوری ثمرات عوام تک پہنچا نے کے بجائے اُلٹااِنہیں اپنی ذات اور اپنے دامن تک ہی محدود رکھاہواہے ۔جہاں تک پاکستان میں اسلامی نظامِ حکومت کا سوال ہے تو معاف کیجئے گا پاکستانی اشرافیہ کی نظر میں مُلک میں اسلامی نظامِ حکومت تو بس عیدین کی نمازوں کے اجتماعات اور عیدمیلاد البنی ﷺ اور یوم عاشورہ کے جلسے اور جلوسوں کی آزادی تک ہے ہمارا اشرافیہ اِسی کو ہی اسلامی نظامِ حکومت گردانتا ہے اور سمجھتاہے کہ بس یہی تو اسلامی نظامِ حکومت ہے۔ اِس کے علاوہ توکہیں بھی ایسا کچھ دِکھا ئی نہیں دیتاہے کہ یقیناًکے ساتھ یہ کہا جاسکے کہ اسلام کے نام پر قائم ہونے والے مملکتِ پاکستا ن میں پورا کا پورا اسلامی نظامِ حکومت قا ئم ہے۔یہ کسی سے ڈھکاچھپا نہیں ہے کہ لگ بھگ پونے صدی سے وطن عزیز پاکستا ن میں کیسا دونظامِ حکومت جمہوری اور اسلامی نظام چل رہاہے؟آج جس کا فائدہ امریکی پٹھو اشرافیہ کو ہی ہورہاہے تب ہی ماضی وحال کے باری لگا کر اقتدار حاصل کرنے والے امریکی عیارومکار ا ور اغیار کے پٹھوسیاست دانوں کی چوری اور سینہ زوری بے لگام ہے ۔ جنہوں نے مُلک میں لوٹ مار کی حد کردی ہے ۔

آج اپنے سیاست دانوں کی ضد اور ہٹ دھرمی سے محسوس ہوتا ہے کہ جیسے مُلک اور قوم کی جمہوراور جمہوریت کی آڑ میں عوامی خدمات کے بہانے اپنی خدمات کرانے اور میگاپروجیکٹس پرپرسنٹیج اورکمیشن بنا نے والوں نے اقتدار کی کُرسی سے چمٹے رہنے کی قسم کھا لی ہے، اِسی لئے اپنے ذاتی اور سیاسی عزائم کی تکمیل کیلئے یہ جو چا ہئیں کرلیں،مگر کو ئی اِن سے کچھ نہ پوچھے ، جو اِنہیں پوچھے ، وہی جمہور اور جمہوریت کا بڑا دُشمن اور نادیدہ قوتوں و خلا ئی مخلوق کا آلہ کار ہے۔
افسوس کی بات یہاں یہ ہے کہ جو کل تک الیکشن فارم میں ترمیم کرکے متوقع الیکشن2018 ء میں ایوانوں کو کرپٹ عناصر سے پاک رکھنے کے عزم پر قا ئم تھے آج ایک مرتبہ پھر مُلک میں ظاہر اور با طن بڑے چھوٹے کرپٹ سیاستدان اپنی کرپشن چھپانے کے لئے پھر اپنی ہی ترمیم پر پچھتاتے ہوئے باہم متحد و منظم ہیں اور ایک پیچ پرنظرآرہے ہیں ۔تاکہ اگلے متوقع الیکشن میں مختلف اقسام کے کرپٹ عناصر حصہ لے سکیں اور پانچ سال کیلئے مُلک کی باگ ڈورسنبھالیں۔
آج اِن کے اِس فعلِ شنیع سے یہی انداز ہورہاہے کہ جیسے کوئی نہیں چاہتاہے کہ اگلے متوقع الیکشن میں صاف سُتھرے لوگ ایوانوں میں جائیں اور صادق و امین صدر اور وزیراعظم کے زیرے سائے ایماندار اور مخلص وزراء کی حکومت تشکیل پائے اور ارضِ مقدس کو کرپٹ عناصر سے پاک قیاد ت ملے جو مُلک اور معاشرے کو قرآن و سُنت کی روشنی میں اسلامی تعلیمات کے اصولوں اور ضابطوں کے مطابق صاف سُتھرے انداز سے چلا ئیں اور مُلک آگے لے کر جا ئیں۔
بہر کیف ، گزشتہ دِنوں اللہ اللہ کرکے قومی خزا نے سے لوٹ مار کرکے مُلک کی چولیں ڈھیلی کرنے اور قوم کا خون اور پسینہ چوسنے والوں سے جیسے ہی کچھ مدت کیلئے جان چھوٹی توالیکشن کمیشن نے ارضِ مقدس میں 25جولائی 2018ء کو مُلکی تاریخ کے اپنی نوعیت کے منفرد اور مہنگے ترین انتخابات کرانے کا اعلان کردیایقیناًمقررہ تاریخ کو ہی انتخابات ہونے جارہے ہیں۔
غرضیکہ، مُلک بھر کے سیاسی حلقوں کے بال رومز میں’’الیکشن آگیاہے آؤ قوم کی آنکھ میں دھول جھونکیں‘‘ اور ووٹ کو عزت دو کے نام پراپنی ’ ’ موج مستی کا سا مان کریں‘‘ کا ڈنکا بچ گیاہے، یعنی کہ سیاسی جماعتوں کے مراکز میں الیکشن کی تاریخ کے آتے ہی خوشی سے رَت جگے ہو رہے ہیں ، بھنگڑے اور دھمال ڈالے جارہے ہیں اور اِس کے ساتھ ہی اُمیدوارنِ الیکشن سے کبھی تیز توکبھی دھیمی آواز وں میںیہ بازگشت بھی سُنی جا رہی ہے کہ بس صرف ’’ایک بار الیکشن میں پانچ سال کیلئے انویسمنٹ سرمایہ کاری کرو پھرپچاس سال بیٹھ کر کھاؤ‘‘ یہ وہ الفاظ اور جملے ہیں جن کی بنیاد پر سیاسی حلقے اور الیکشن میں حصے لینے والے خود کو وارم اَپ کئے ہوئے ہیں،آج اِسی لئے یہ لوگ الیکشن کو تہوارکے طور پر دھوم دھام سے منانے کی تیاریوں میں مگن ہیں۔ ایسے ہی کسی الیکشن کے موقع پر شاعر نے عرض کیا تھا ابھی مجھے اُس شاعر کے یہ اشعار یاد آگئے ہیں۔
کہہ رہا تھا اپنے ہر ووٹر سے ایک اُمیدوار
مجھ سے اُجرت لیجئے گا میری ہستی دیکھ کر
میں کسی مل کا نہ مالک ہوں نہ ہوں جاگیردار
بندہ پَر ووٹ دینا میری کُرسی دیکھ کر
اورمزید یہ کہ:۔
الیکشن نام ہے جس کا وہ خدمت ہے عبادت ہے
ہمارا ووٹ کیا ہے مُلک و ملت کی امانت ہے
مگر جب جائزہ اِس کا لیا تو یہ ہوا ثابت
الیکشن قوم کی خدمت نہیں ہے اِک تجارت ہے
اَب ایسے میں پاکستا نی قوم اور عوام کو بھی سوچنا اور سمجھنا ہوگا کہ آج اِنہیں اپنی کیسی قیادت چاہئے؟قوم کو آئندہ 5سال کیلئے ماضی کی طرح پھرکرپٹ حکمران مطلوب ہیں؟ یا کرپشن سے پاک حکمران چاہئیں؟اگر پاکستان کے عوام سمجھتے ہیں کہ اِنہیں اپنی نسل کو تبدیلی کے ساتھ کرپٹ عناصر سے پاک نیا پاکستان دینا ہے تو پھر اپنے ووٹ کی طاقت کو سوچ سمجھ کر استعمال کریں اور اچھی قیادت لا ئیں ورنہ؟ ( ختم شُد)
****

بہ کعبہ ولادت بہ مسجد شہادت

اقلیمِ شجاعت کے تاجدار ،مسندِعلم و دانش کے صدر نشین، افق ولایت کے نیر تاباں، کاروان عشق و مستی کے امیدوار،صاحب نہج البلاغہ، زاہد شب زندہ دار جناب امیرا لمومنین علی ابن ابی طالب کرم اﷲ وجہہ 13 رجب یوم جمعہ عام الفیل وسط خانہ کعبہ میں پیدا ہوئے آپ کی والدہ حضرت فاطمہ بنت اسد نے آپ کا نام حیدر رکھا ان کا خانہ کعبہ میں پیدا ہونا ایسا معجزہ ہے کہ ان سے پہلے یا ان کے بعدکسی کو یہ اعزاز حاصل نہیں۔

کسے را میسر نہ شد ایں سعادت
بہ کعبہ ولادت بہ مسجد شہادت
مسجد خدا وندی میں شہادت پا کرکسی کی زبان پریہ کلمہ جاری نہیں ہوا کہ رب کعبہ کی قسم میں کامیاب ہوا آپ کے کمالات نفسی علم وحلم،زہد وشجاعت ،حسن وخلق،عفت اس درجہ پر تھے جس کا اعتراف آپؓ کے دشمنوں نے بھی کیا آپؓ کی جوانمردی اور ایثار اس درجہ کا تھا کہ ہجرت کی رات بستر رسول ؐ پر سو گئے کفار قریش کی ننگی تلوا ریں رسولؐ کے عوض اپنی جان کیلئے خرید لیں کمالات بدنی میں کوئی شخص آپؓ کے ہم پلہ نہ تھا آپؓ نے قلعہ خیبر کا دروازہ اپنے دست معجزنما سے اکھاڑا کہ جسے ایک جماعت بھی حرکت نہ دے سکی یہودی لشکر میں نامی گرامی پہلوان مرحب کو پچھاڑا قتل کیا مگر اس کے جسم پرقیمتی زرہ کو ہاتھ تک نہ لگایا یہ زرہ اور خود سونے کے تھے لیکن حضرت علیؓ کی غیرت و حمیت نے گوارا نہ کیاکہ اس کے بدن سے زرہ اتاری جائے بلکہ آپؓ نے مال غنیمت بھی ضرورت مندوں میں تقسیم کر دیا آپؓ کی بہادری نے گزشتہ لوگوں کی شجاعت بھلا دی کوئی دشمن جو آپؓ کے سامنے آیا وہ بچ کر نہ نکلا مگر یہ کہ ایمان لے آیا جس بہادر کو آپ قتل کرتے اس کی قوم فخر کرتی کہ اسے امیرالمومنین نے قتل کیا یہ تھی آپؓ کی قوت و طاقت آپؓ کی خوراک تو جو کی روٹی تھی کم غذا تناول فرماتے آپؓ کا لباس سب سے کھردرا ہوتا شہنشاہان ولائت کی کڑیاں آپ سے منسلک ہیں روئے زمین پر تمام اولیا کا مرجع آپؓ ہیں صالح کش حنفی اپنی تصنیف میں لکھتے ہیں کہ ولایت میں جتنا درجہ بڑھتا ہے عدد گھٹتا ہے کل اولیاء کاملین میں اول درجے میں تین سو ہیں اس اگلے درجے میں ستر ہیں ،ابدالی چالیس ہیں،اوتار چار ہیں ان کے اوپر قطب عالم ہوتا ہے وہ نبی ہوتا ہے جہاں نبوت ختم ہوتی ہے وہاں ولائت شروع ہوتی ہے اولیا کرام کی تاریخ اور سلسلوں کا مطالعہ کریں تو حضرت علی شاہ ولائت کے مرتبہ پر فائز نظر آئیں گے حضرت علی ہجویری داتا گنج بخش ایک جگہ فرماتے ہیں راہ ولایت میں بہت سے ایسے مقام آئے جہاں لرزش اور لغزش کا امکان تھا تو جناب علیؓ سے میری نسبت نے مجھے پار لگایا اسی طرح شہباز قلندر ایک رباعی میںآپ سے اپنی نسبت کااعلان کرتے ہوئے کہہ رہے ہیں

حیدریم ، قلندرم ، مستم
بندہ علیؓ مرتضیٰ ہستم
پیشوائے تمام رندانم
کہ سگ کوئے یزدانم
حضرت علیؓ نے محنت مزدوری کو شعارزندگی بنایا کہتے ہیں کہ صاحب فکرونظر یا فلسفی عمل سے بیگانہ ہوتا ہے اسی طرح کسی عالم کا شجاع ہونا محفل نظرہے گویا بہادر تلوار کا دھنی صاحبِ علم نہیں ہوتا علم اور شجاعت دو متضاد خصائص ہیں جو کسی ایک شخص میں جمع ہونا معجزے سے کم نہیں امیرالمومنین حضرت علیؓ میں یہ دونوں صفات بدرجہ اتم موجود تھیں نہج البلاغہ کے خطبات اور اقوال میں حکمت و بصیرت کے خزانے پائے جاتے ہیں ۔ الغرض آپ کی طبیعت ہر فضیلت سے پوری مناسبت اور ہر کمال سے پورا لگاؤ رکھتی تھی، کوئی صفت و کمال ایسی نہ تھی جس سے آپ کا دامن خالی رہا ہو، کوئی خلعت و خوبی و جمال ایسا نہ تھا جو آپؓ کے قدو قامت پر درست نہ آیا ہو آپؓ پہلے مفکر اسلام ہیں جنہوں نے خداوند کریم کی توحید اور انسانیت کی معراج کو اپنے عمل و کردار سے دنیا کے سامنے پیش کیا اور علم و معرفت کے چشمے آنکھوں سے آنسوؤں کی لڑی ریش مبارک کو تر کر دیتی آپؓ کو دنیا وما فیہا کی بالکل خبر نہ رہتی آپ کا جسم موم کی طرح نرم ہو جاتا اور جنگ وغیرہ میں جو تلوار یا تیر کا ٹکڑاآپ کے جسم میں پیوست ہو جاتا اس کو اس وقت نکالا جاتا جب آپ نماز میں مشغول ہو جاتے حضرت علیؓ نے دعوت العشیرہ میں اپنے بھائی کے حکم پر تمام سرداران قریش کو کہا کہ جو وعدہ کرے گا اور اس پر قائم رہے گا وہی میر ا وزیر اور وصی ہو گا حضرت علیؓ اس پر قائم رہ کرہمیشہ دین کی نصرت میں سر گرم عمل رہے حضرت علیؓ کاعہد خلافت ان کی راست فکری کا آئینہ دار ہے انہوں نے اپنے دور خلافت میں مسلمانوں کے درمیان انتشار وافتراق کو روکنے کی بھر پور کوشش کی حضوراکرمؐ کی واضح احادیث کے باوجود کہ علیؓ کا گو شت میرا گوشت ،علیؓ سے دوستی مجھ سے دوستی ، علیؓ سے جنگ مجھ سے جنگ ،علیؓ سے صلح مجھ سے صلح مگر لوگ دنیا طلبی کے با عث دین اور آخرت سے روگردانی ظاہر کرنے لگے ۔آپؓ نے ایک لمحے کیلئے بھی مصلحت کا راستہ اختیار کرنے یا نفاق پر کمربستہ قوت سے صلح کرنے کے متعلق دل میں جگہ نہ دی بلکہ اصولِ دین کو باقی رکھنا قبول کیا ۔ رمضان المبارک کی ۱۹تاریخ بدھ کی رات تھی آپؓ بار بار صحن میں نکلتے آسمان کی طرف نظر دوڑاتے ستاروں کو دیکھتے اور فرماتے خدا کی قسم یہی وہ رات ہے جس کی خبر مجھے رسول اکرمؐ نے دی تھی پو پھٹنے میں ابھی دیر تھی آپ مسجد کوفہ میں داخل ہوئے آپ کا قاتل مسجد میں پہلے سے ہی موجود تھا مسجد کی قندیلیں گل تھیں چند رکعت نماز پڑھی، تسبیح کے بعد بام مسجد پر آئے اور صبح کی سفیدی سے مخاطب ہو کر فرمایا ’’ تو ایک دن بھی ایسے وقت پر طلوع نہیں ہوئی کہ میں سویا ہوا ہوں ‘‘ اس کے بعد ا ذان دی مسجد میں سونے والوں میں آپ کا قاتل ابن ملجم بھی تھا آپؓ نے کہا کہ اے شخص اوندھا مت لیٹ ایسے سونے والے کواﷲپسند نہیں کرتا تیرے دل اور دامن میں کیا ہے میں بتا سکتا ہوں آپ سجدہ میں گئے ابن ملجم نے زہر میں بجھی ہوئی تلوار سے وار کیا یہ تلوار اسی جگہ لگی جس جگہ جنگ خندق میں عمرو ابن ود کی تلوار لگ چکی تھی آپؓ نے صدا بلند کی رب کعبہ کی قسم میں کامیاب ہو گیا ۔ قاتل سے پوچھا کیا میں تمہارا اچھا امام نہیں آپ نے فرمایا میرے قاتل کو شربت پلاؤ ۔ کردار امامت انسانیت سے محبت کا معتبر حوالہ بن کر تاریخ میں جگمگاتا رہے گا علیؓ کی شرافت کا نقش دشمن کے دل پر بھی مرتسم رہے گا آج بھی صورت حال وہی ہے مگر علیؓ کی طرح سلوک کرنے کا کوئی حوصلہ نہیں رکھتا۔
کرنے کا کو ئی حوصلہ نہیں رکھتا کوئی تو ہوتا جو اپنے قاتل کی تشنگی کا لحاظ رکھتا
کہ نفرتوں کی زمیں پہ اب بھی علی محبت کا آئینہ ہے اس ماہ کی اکیسویں رات کا حصہ گزر گیا تو آپؓ کی روح مقدس نے ریاض جنان کی طرف پرواز کی آپؓ کا مزاراقد س کو فہ سے پانچ میل دور بغداد سے 120 میل جنوب میں نجف اشرف کے مقام پر واقع ہے ۔آپؓ کی قبر مبارک ایک عرصہ معین تک پوشیدہ رکھی گئی ۱۷۰ھ میں عباسی حلیفہ ہارون الرشید کوفہ کے اطراف میں شکار کھیل رہا تھا اس دوران چیتے اور شکاری کتے جو اس کے ہمراہ تھے ہرن کے پیچھے بھاگ رہے تھے ہرن بھاگتابھاگتا اس مقام تک پہنچ گیا جہاں آپؓ کی قبر مبارک تھی شکاری کتے اور چیتے رک گئے ہرن کو پناہ مل گئی ہارون نے تعجب میں آکر تحقیق کروائی تو پتہ چلا کہ جہاں ہرن سکون کے ساتھ بے خوف و خطر کھڑا ہے یہی آپؓ کا مقام و مرقد ہے ہارون نے اس مقام پر عمارت تعمیر کروائی اور کٹہرا لگوادیا۔
*****

ممبئی دھماکے، اصل حقیقت!

نومبر 2008میں ہونے والے ممبئی دھماکوں کو بنیاد بنا کر بھارت نے پاکستان کو بدنام کرنے کی جو بھونڈی اور کسی حد تک بہت ہی خطرناک سازش تیار کی تھی وہ بالآخر کب کی بے نقاب ہو چکی ہے۔آپ کو علم ہے 26/11کے بدنامِ زمانہ ممبئی بم دھماکوں کی اصلیت کیا ہے؟ ذرا سنیں یہ کوئی مسلمان نہیں کہہ رہابلکہ ممبئی دھماکوں کی بھارتی سازش یلس ڈیوڈ سن نامی جرمن نژاد ایک یہودی مصنف دنیا کو بتا رہا ہے، ڈیوڈسن کی کتاب گزشتہ برس منظر عام پر آئی ہے The Betrayal of India Revisiting the 26/11 Evidence ہے اس کتاب میں ڈیوڈسن نے مختلف حوالوں، عینی شہادتوں اور ثبوتوں کی مدد سے ثابت کیا ہے کہ ممبئی دھماکے اصل میں ممبئی ڈرمہ تھے ،جنہیں حقیقت کا روپ دینے کے لیے رسوائے زمانہ بھارتی انٹیلی جنس ایجنسی رانے بھارتی میڈیا اور بھارتی عدالتوں سے بھرپور مدد حاصل کی بھارتی میڈیا نے پہلے سے طے شدہ کہانی کے مطابق حقائق کو اس عیارانہ انداز میں مسخ کیا کہ عام آدمی کیلئے سچ پر یقین کرنا تقریبا ناممکن ہوگیا تھا،اب جب کہ اس کتاب کے توسط سے بھارتی عوام کو بھی معلوم ہوچلا ہے کہ بھارتی حکومت نے اپنے گاڈ فادر امریکا کی خوشنودی کیلئے ان دھماکوں کی آڑ میں 162سے زائد بے گناہ بھارتی شہریوں کو موت کے گھاٹ اتارا اور اِس کا الزام نہایت بھونڈے انداز میں پاکستان پر دھر دیاڈیوڈسن کی مذکورہ کتاب کی اشاعت کے بعد بھارت کی معاشرتی زندگی میں ایک بھو نچال آگیا تھا کیونکہ را کی انسپانسرڈ تشہیری کارروائی نے بھارتی قوم کو بیوقوف بنا دیا تھا ممبئی دھماکوں کی منصوبہ بندی اس خیال کے پیش نظر کی گئی تھی کہ امریکا اور مغرب سمیت دنیا بھرکو پاکستان کے خلاف بھڑکایا جائے اکسایا جائے تاکہ عالمی سطح پر پاکستان کو پاکستانی سیکورٹی ادارے فوج کو اور پاکستانی قوم کو دنیا سے علیحدہ کیا جائے پاکستان پر پابندیوں کا مطالبہ بھارتی عوام کی آواز بن سکے۔یہ نئی دہلی کی برسوں سے چلی آرہی سازش تھی، بقول مصنف اس سارے معاملے میں سب سے قابل مذمت کردار بھارتی عدلیہ کا بھی ہے، جس نے خود کو امریکی اور بھارتی ریاستی اداروں کے ہاتھوں میں پلاسٹک کا بندر بننے کادیا، ثبوت، میڈیکل رپورٹس اور وہ تمام شواہد جو اس سارے واقعے کی قلعی کھولنے کیلئے کافی تھے، عدالت نے ان کی طرف سے جان بوجھ کر اپنی آنکھیں بند کیے رکھیں جو عدالتوں کی عزت اور وقار ان کی دیانتداری اور غیر جانبداری سے منسلک ہوتی ہیں، بھارتی عدالتوں نے انصاف کے اِس وقار کو بھی پاش پاش کر دیا بھارت میں اگرچہ اس مبہم واقعے کی حقیقت جاننے کے بعد عوام شدید غم و غصے کی حالت میں آچکے تھے، اعتدال پسند بھارتی معاشرے کے چند حصوں میں آرایس ای اور اِس جیسی متشدد تنظیموں کے خلاف رائے عامہ ہموار ہونے لگی تھی کہ ممبئی دھماکوں کی طرح سے سمجھوتہ ایکسپریس کو نذرآتش کرنے کا واقعہ بھی پاکستان کو بدنام کرنے کی ایسی ہی بھونڈی سازش پر بھارت بھر میں بحث ہورہی تھی کہ سابق وزیر اعظم صاحب کے ایک ناقابلِ یقین متنازعہ بیان نے یکایک بھارتی فضامیں پاکستان کے خلاف زہر گھول دیا ،افسوس صدہا افسوس! پاکستان میں گنتی کے چند میڈیا عناصر نے اپنے نشریاتی اور اشاعتی اداروں کے تعاون سے اس بھونڈی بھارتی سازش کو نام نہاد سچائی کا روپ دینے کی مذموم کوششیں کیں جو قابل افسوس ہیں۔

فوج کو سیاست اور الیکشن میں نہیں گھسیٹنا چاہیے، ترجمان پاک فوج

راولپنڈی: ترجمان پاک فوج میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ پاکستان کی امن کی خواہش کو بھارت ہماری کمزوری نہ سمجھے جب کہ سیاست اور الیکشن میں فوج کو نہیں گھسیٹنا چاہیے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے راولپنڈی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ بھارت نے 2018 میں 1 ہزار 77 مرتبہ جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزیاں کیں اور 48 پاکستانیوں کو شہید اور 265 کو زخمی کیا، بھارتی فوج جب پاکستانی پر گولی چلاتی ہے تو ہم جواب نہیں دیتے لیکن جب شہری آبادی کو نشانہ بنایا جاتا ہے تو ہم جواب دینے پر مجبور ہوتے ہیں، ہماری امن کی خواہش کو کمزوری نہ سمجھا جائے، بھارت کی جانب سے پہلی گولی آنے سے کوئی نقصان نہیں ہوتا تو جواب نہیں دیں گے لیکن دوسری گولی آتی ہے تو بھرپور جواب دیں گے۔

فاٹا انضمام

میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ فاٹا کا خیبرپختون خوا میں انضمام تاریخی کامیابی ہے، اگرچہ 100 فیصد اتفاق رائے نہیں تھا اور کچھ عمائدین انضمام نہیں چاہتے تھے، لیکن فاٹا اب خیبرپختون خوا کا حصہ ہے جسے ترقی اور بہتری کی طرف لے کر جانا ہے۔

پشتون تحفظ موومنٹ

میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ منظور پشتین اور محسن داوڑ نے مجھ سے میرے دفتر میں ملاقات کی جس میں انہوں نے نقیب محسود، لاپتہ افراد، فوجی چوکیوں اور فاٹا کے بعض مسائل کو اجاگر کیا، میں نے تمام جی او سیز اور آئی جی ایف سیز سے منظور پشتین اور محسن داوڑ کی بات کرائی اور مسائل کے حل کی یقین دہانی کرائی، محسن داوڑ نے مجھے شکریہ کا میسیج بھی کیا کہ مسئلہ حل ہوگیا لیکن اس کے بعد یہ نام منظور احمد مسعود سے منظور پشتین کیسے ہوگیا، سوشل میڈیا پر مہم چلی،  افغانستان میں سوشل میڈیا اکاؤنٹس بنے اور ایک ٹوپی ملک کے باہر سے تیار ہوکر پاکستان میں برآمد ہونے لگی۔

میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ غیر ملکی میڈیا پی ٹی ایم کے جلسے کو کیوں براہ راست نشر کررہا ہے، آرمی چیف کی سخت ہدایت تھی کہ پی ٹی ایم کے جلسے کو طاقت سے منتشر نہیں کرنا، لاہور جلسے میں آرمی چیف نے پولیس کو پی ٹی ایم کارکنوں کی پکڑ دھکڑ سے منع کیا، تاحال پی ٹی ایم کے خلاف کوئی کریک ڈاؤن نہیں کیا گیا، لیکن اب ہمارے پاس پی ٹی ایم کے خلاف بہت سارے ثبوت ہیں، یہ لوگ استعمال ہورہے ہیں،

وانا واقعہ

میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ وانا میں امن کمیٹی ہے جس نے دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑی ہے، وانا میں پی ٹی ایم کے رہنما علی وزیر اور دیگر  کارکن فوج مخالف نعرے لگا رہے تھے، امن کمیٹی اور پی ٹی ایم کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوگیا جس میں ہلاکتیں ہوئیں، لیکن سوشل میڈیا پر 8 سالہ بچی کی تصویر لگاکر فوج کے خلاف پروپگینڈا کیا جارہا ہے، آپ ریاست کو طاقت کے استعمال پر مجبور کررہے ہیں جو ہم نہیں چاہتے، ہمارے خلاف الزام لگانے اور نعرے لگانے سے فوج کو کوئی فرق نہیں پڑتا، کیونکہ پچھلے 10 سال میں عوام کی فوج سے محبت بڑھی ہے، ہم چاہتے ہیں کہ آپ ذاتی مفاد میں ملکی مفاد کو نقصان نہ پہنچائیں، فوج کو گالیاں دینے سے آپ کا قید اونچا ہوتا ہے تو کریں لیکن پاکستان کا قد نیچے ہوتا ہے تو یہ کام نہ کریں۔

میڈیا کو ڈکٹیشن

ترجمان پاک فوج نے میڈیا مالکان کو کسی طرح کی ہدایات دینے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ میڈیا مالکان اور صحافیوں سے جب بھی بات ہوئی میں نے کہا پاکستان کو اکٹھے ہونے کی ضرورت ہے، میڈیا نمائندوں کو کبھی ڈکٹیٹ کرنے کی کوشش نہیں کی۔

اسد درانی

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ اسد درانی سیاسی وجوہات کی وجہ سے فوج سے قبل از وقت ریٹائر ہوئے، انہوں نے اپنی کتاب میں ریٹائرمنٹ کے بعد کے واقعات پر بات کی، سروس کے بعد کی باتوں پر آپ اپنا تجربہ اور مشاہدہ لکھیں تو وہ کام خراب ہے، فوج نے ان کی کتاب کا نوٹس لیا اور طلب کیا، فوج ان کی وضاحت سے مطمئن نہیں ہوئی اور انکوائری کا حکم دیا، جلد از جلد انکوائری کا نتیجہ سامنے آجائے گا، اسد درانی اور کسی عام افسر کے کتاب لکھنے میں فرق ہے، وردی پہننے سے کوئی فرشتہ نہیں بن جاتا، غلطی کرنے پر سزا بھگتنی پڑتی ہے، پاک فوج نے غلطی پر چاہے جرنل ہو یا سپاہی کسی کو معاف نہیں کیا۔

الیکشن 2018

میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ ہم سے زیادہ کسی کو خوشی نہیں کہ حکومت نے اپنی مدت پوری کی، 2018 الیکشن کا سال ہے، تاہم سیاست اور الیکشن میں فوج کو نہیں گھسیٹنا چاہیے، انتخابات کرانا الیکشن کمیشن کا کام ہے اس سے فوج کا کوئی تعلق نہیں، فوج کو آئینی حدود میں جو کردار سونپا گیا وہ اسے ادا کرے گی۔

افغانستان

میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ پاک فوج چاہتی ہے کہ امریکا و غیرملکی افواج افغانستان سے فاتح اور کامیاب ہوکر نکلیں اور ملک کو 1980 کی طرح غیر مستحکم چھوڑ کر نہ چلی جائیں، اس سلسلے میں پاکستان امریکا کی ہر ممکن مدد کرے گا، افغان سرحد پر باڑ لگانے کے بعد سے سرحد پار فائرنگ کے 71 واقعات پیش آئے جس میں 7 فوجی شہید اور 39 زخمی ہوئے، افغانستان میں امن کی خواہش پاکستان سے زیادہ کسی کی نہیں، افغان مہاجرین کی باعزت واپسی چاہتے ہیں، افغانستان سے اپنی چوکیوں پر حملوں کو برداشت نہیں کریں گے۔

پاک امریکا تعلقات

میجر جنرل آصف غفور نے پاک امریکا تعلقات میں کشیدگی کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے سفارتی و فوجی امداد کی سطح پر بات چیت ہورہی ہے، پاکستان سیکیورٹی فورسز نے دودہائیوں کے دوران بہت کچھ سیکھا ہے، ہم نے سیکھا ہے کہ سب سے پہلے پاکستان ہے۔

حقانی نیٹ ورک

میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ ضرب عضب میں تمام دہشتگرد تنظیموں کا بلاتفریق صفایا کیا ہے، پاکستان میں حقانی نیٹ ورک سمیت کسی دہشت گرد تنظیم کا منظم ڈھانچہ موجود نہیں، لیکن ان کی باقی ماندہ قوت کو افغان مہاجر کیمپوں سے سہولت ملتی ہے، اسی لیے افغان پناہ گزینوں کا پر امن انخلا ضروری ہے۔

سوشل میڈیا

میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ سوشل میڈیا پر اینٹی پاکستان اور اینٹی آرمی اکاؤنٹس میں اضافہ ہوا ہے، سوشل میڈیا پر ہونے والی باتیں سچ نہیں ہوتی، سوشل میڈیا ہمارے بچوں اور نوجوانوں کے لیے سب سے مہلک خطرہ ہے، جہاں ہماری ذات کی بات ہے اسے ہم برداشت کرتے ہیں لیکن ملک کے خلاف بات کو برداشت نہیں کرتے اور متعلقہ اتھارٹی کو آگاہ کرتے ہیں، کچھ سیاست دان بھی ملک کے خلاف کی جانے والی ٹوئٹس کو شیئر کرتے اور شاباش دیتے ہیں، سوشل میڈیا تاحال خطرہ نہیں لیکن بہت سارے ممالک نے اسے کنٹرول کیا ہے۔

بلوچستان

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ صوبے میں سلامتی کی صورت حال بہتر ہوئی، ہزارہ  کمیونٹی کے 100 سے زائد افراد کے قتل میں ملوث سلمان بادینی کو ہلاک کیا گیا، اس پر ہزارہ کمیونٹی کا بہت اچھا رد عمل سامنے آیا، سلمان بادینی کا نیٹ ورک توڑنے سے بلوچستان میں امن کی صورتحال بہتر ہونے کی امید ہے، ملک میں امن لانا ہے تو فوج اور حکومت پر اعتماد رکھنا ہوگا۔

ایران

میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ ایران کے ساتھ سرحد پر حالات بہتری کی طرف جا رہے ہیں، آرمی چیف کے دورہ ایران اور آئی جی ایف سی کے رابطوں کا بہتر نتیجہ نکل رہا ہے۔

کراچی

میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ کراچی میں جرائم کا تناسب کم ہوگیا، رینجرز اور پولیس نے بہت کام کیا ہے، پائیدار امن کے لیے کراچی کے شہریوں کو سیاسی و جرائم پیشہ افراد کے گٹھ جوڑ کو مسترد کرنا ہوگا۔

Google Analytics Alternative