Home » 2018 » June » 06

Daily Archives: June 6, 2018

جانئے آج آپ کا دن کیسا رہے گا

حمل:

21مارچ تا21اپریلشادی کا امکان روشن ہے بس ذرا اپنے بزرگان کو بھی ہمنوا بنا لیں، مقصد کی تکمیل لازمی ہو سکے گی، بفضل خدا آپ کو منشاء کے مطابق ملازمت مل سکتی ہے، صحت جسمانی گاہے بگاہے خراب ہو سکتی ہے۔

ثور:
22اپریل تا20مئی

یہ عرصہ گھریلو ماحول کو مزید خوشگوار بنانے میں آپ کا معاون و مددگار ثابت ہو سکتا ہے، آپ کی کاوش اور ہمت قابل داد ہے، بفضل خدا آپ اپنے نیک اور پرخلوص جذبوں کا صلہ توقع سے بڑھ کر پا سکیں گے۔

جوزا:
21مئی تا21جون

آپ خواہ کوئی کاروبار کرتے ہیں بہتر ثابت ہو سکتا ہے بس ذرا ضرورت غیر معمولی ذہانت کی ہے اس حقیقت سے تو انکار نہیں کیا جا سکتا کہ آپ ایک باصلاحیت انسان ہیں۔

سرطان:
22جون تا23جولائی

اگر سوچ بچار کے بعد اپنی کسی سکیم کو عملی شکل دیں تو لازمی کامیابی ہو سکتی ہے البتہ جلد بازی سے گریز کریں اپنے شریک کار پر بھی خصوصی نظر رکھیں تاکہ نقصان سے محفوظ رہا جا سکے۔

اسد:
24جولائی تا23اگست

اپنے دوستوں سے بھی مشورہ ضرور کرتے رہئے جو کہ آپ کے برے وقتوں میں بھی کام آتے رہے ہیں، آپ اپنے اخلاق کو کبھی نہ بگڑنے دیں آپ کی مالی پوزیشن بہت مضبوط ہو سکتی ہے۔

سنبلہ:
24اگست تا23ستمبر

بنائی ہوئی ہر سکیم کامیابی سے ہمکنار ہو سکتی ہے اور آپ ان سکیموں کی بدولت بہتر مستقبل کی ضمانت حاصل کر سکیں گے، غیر ملکی سفر کا پروگرام عملی شکل اختیار کر سکتا ہے۔

میزان:
24ستمبر تا23اکتوبر

آپ کی سب سے بڑی خامی تو یہ ہے کہ آپ خود کو سب سے زیادہ عقلمند سمجھ کر ہر معاملے کو حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں کاش آپ اگر ایسا نہ کریں تو بڑی خوشگوار زندگی بسر ہو سکتی ہے۔

عقرب:
24اکتوبر تا22نومبر

دوسروں کو حتی الامکان خوش رکھیں تاکہ دوسرے بھی آپ کی مرضی کے مطابق آپ کو خوش رکھیں، شریک حیات اور سسرال سے غلط قسم کی توقعات وابستہ نہ کریں۔

قوس:
23نومبر تا22دسمبر

آپ نے ہمارے مشوروں کو نظرانداز نہیں کیا بلکہ ان پر عمل پیرا ہو کر کچھ نہ کچھ استفادہ بھی کر لیا ہو گا اب بھی آپ اس حقیقت سے انکار کر سکتے ہیں کہ گزشتہ ہونے والی ناکامیوں کے پیچھے آپ ہی کا ہاتھ ہے۔

جدی:
23دسمبر تا20جنوری

چند ایسے رشتہ داروں سے تعلقات استوار ہونے کی امید ہے جو کہ پہلے آپ کی مخالفت ہی پر آمادہ رہا کرتے تھے لہٰذا اگر ایسا ہونے لگے تو آپ بھی ان کی سابقہ غلطیوں کو نظرانداز کر دیجئے۔

دلو:
21جنوری تا19فروری

ایک ایسا پرانا دشمن جس کے ساتھ بسلسلہ جائیداد آپ کا جھگڑا بھی ہے آپ سے صلح کی کوشش کر سکتا ہے اس چانس سے فائدہ ضرور حاصل کریں۔

حوت:
20 فروری تا 20 مارچ

بفضل خدا حالات موافق ہو سکتے ہیں آپ آگے بڑھنے کا مضبوط ارادہ کریں تمام دشواریاں یکے بعد دیگرے آپ کے راستے سے ہٹتی چلی جائیں گی۔

چیف جسٹس کا خدیجہ صدیقی کے حملہ آور کی رہائی پرازخود نوٹس

چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے قانون کی طالبہ پر چھریوں کے وار کرنے کے مقدمے میں بری ہونے والے ملزم کی رہائی کا ازخود نوٹس لے لیا۔

چیف جسٹس نے مقدمے کا ریکارڈ 10 جون 2018 کو سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں طلب کرلیا۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس سردار احمد نعیم نے فریقین کے وکلا کے دلائل سننے کے بعد مختصر فیصلہ ملزم کے حق میں سنایا تھا۔

واضح رہے کہ خدیجہ صدیقی کو ان کے ساتھی طالب علم شاہ حسین نے 3 مئی 2016 کو شملہ ہلز کے قریب اس وقت چھریوں کے وار سے زخمی کر دیا تھا جب وہ اپنی چھوٹی بہن کو اسکول چھوڑنے جارہی تھی۔

خدیجہ اپنی سات سالہ بہن صوفیہ کو اسکول سے گھر واپس لانے کے لیے گئی تھی اور ابھی اپنی گاڑی میں بیٹھنے ہی والی تھی کہ ہیلمٹ پہنے شاہ حسین ان کی جانب بڑھے اور خدیجہ کو 23 بار خنجر سے تشدد کا نشانہ بنایا۔

واقعے کے ایک ہفتے کے اندر لاہور ہائی کورٹ میں ملزم کے خلاف اقدام قتل کا مقدمہ دائر کیا گیا، عدالت کے سامنے شواہد پیش کیے گئے اور شاہ حسین کی شناخت یقینی بنانے کے لیے ویڈیو فوٹیج بھی پیش کی گئی۔

تاہم لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے ستمبر 2016 میں ملزم کی ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست خارج کیے جانے کے باوجود دوماہ بعد شاہ حسین کو سیشن کورٹ سے ضمانت قبل از گرفتاری مل گئی۔

بعد ازاں 29 جولائی 2017 کو جوڈیشل مجسٹریٹ نے شاہ حسین کو 7 برس کی سزا سنادی تھی تاہم رواں سال مارچ میں سیشن کورٹ نے ان کی اپیل پر سزا کم کرکے 5 سال کردی تھی جس پر مجرم نے دوسری اپیل دائر کردی تھی۔

سینئر وکیل کے بیٹے شاہ حسین نے سیشن عدالت کے پانچ سال قید کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کی تھی جس پر لاہور ہائی کورٹ جسٹس نے ان کی بریت کا فیصلہ سنا دیا۔

لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد خدیجہ صدیقی نے ڈان ڈاٹ کام سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ہائی کورٹ سے اس فیصلے کی توقع نہیں کررہی تھیں کہ ان پر حملہ کرنے والے ملزم کو ثبوت کے باوجود شک بنیاد پر رہا کردیا جائے گا۔

پی ٹی آئی کے الزامات دن رات برداشت کیے اور صرف کام کیا، شہباز شریف

لاہور: پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کا کہنا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے الزامات دن رات برداشت کیے اور بدلے میں صرف کام کیا۔

لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ برے کو برا کہنے اور اچھے کی تعریف کرنے سے ہی ملک آگے بڑھے گا، سزا اور جزا کا نظام صاف اور شفاف ہونا چاہیے لیکن پسند ناپسند کے باعث خرابیاں مزید بڑھیں گی۔

شہباز شریف نے تحریک انصاف کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کے الزامات دن رات برداشت کیے اور بدلے میں صرف کام کیا، قوم نے 5 سال بعد ہر الزام کا موازنہ کرلیا اور دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہوگیا۔

ان کا کہنا تھاکہ اورنج لائن میں 22 ماہ کی تاخیر تحریک انصاف نے کرائی، ساڑھے چار سال جنگلا جنگلا بولتے رہے لیکن اب پشاور میں جنگلا بس بنا رہے ہیں جس کی وجہ سے پورا شہر کھودا ہوا ہے اور آج یہی میٹرو منصوبہ پی ٹی آئی کے گلے کا پھندا بن گیا ہے۔

سابق وزیراعلیٰ پنجاب نے کہاکہ اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق پنجاب دیگر صوبوں سے بازی لے گیا اور نوازشریف کی قیادت میں بجلی کی منصوبے لگانا 5 سال کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔

شہبازشریف کا کہنا تھا کہ پنجاب میں بہت براحال تھا اور 20، 20 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ ہوتی تھی، وفاقی حکومت نے بلوکی اور حویلی بہادرشاہ میں 1200، 1200 میگاواٹ کےبجلی پیداوارکے پلانٹ لگائے ہیں جب کہ کے الیکٹرک کو دی جانے والی 300 میگاواٹ بجلی پنجاب کو ملنی تھی جو نہیں ملی۔

انہوں نے کہا کہ پنجاب میں 19 یونیورسٹیاں اور 200 نئے کالج بنائے گئے جب کہ 4 لاکھ مفت لیپ ٹاپ بانٹے گئے، پنجاب کےتمام اضلاع کوصحت کے معاملے پر اپ گریڈ کیا گیا  ہے  اور کئی اضلاع میں ڈرگ ٹیسٹنگ لیبز بنائی ہیں، 17 اضلاع میں ہیلتھ انشورنس کارڈمتعارف کرایاجاچکا ہے۔

شہباز شریف کا کہنا تھا کہ دیامیر بھاشا ڈیم کی زمین 100 ارب روپے میں خرید لی ہے اور موقع ملا تو اگلے دور میں ڈیم بھی بنائیں گئے۔

نگراں وزیراعظم کا توانائی شعبے کی بہتری کیلیے جامع منصوبہ مرتب کرنے کا حکم

 اسلام آباد: نگراں وزیراعظم جسٹس (ر) ناصر الملک نے توانائی کے شعبے کی بہتری کے لیے جامع منصوبہ مرتب کرنے کا حکم دیا ہے۔

نگراں وزیراعظم جسٹس ریٹائرڈ ناصر الملک کی زیر صدارت اجلاس ہوا جس میں سیکرٹری توانائی، ایم ڈی پیپکو اور ایم ڈی این ٹی ڈی سی نے شرکت کی اور نگراں وزیراعظم کو شعبہ توانائی کی صورتحال پر بریفنگ دی گئی۔

بریفنگ میں نگراں وزیراعظم کو بتایا گیا کہ ملک میں 28 ہزار 704 میگاواٹ بجلی کی پیداوار کی گنجائش موجود ہے، مئی میں پن بجلی کی پیداوار کم ہو کر 3090 میگاواٹ ہوگئی ہے۔

اس موقع پر نگراں وزیراعظم نے کئی ڈسٹری بیوشن کمپنیز میں بھاری لاسز پر تشویش کا اظہار کیا اور وزارت توانائی کو خسارے میں کمی کے لئے اقدامات کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ توانائی کے شعبے کی بہتری کے لیے جامع پلان مرتب کیا جائے۔

جسٹس (ر) دوست محمد خان نگراں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا مقرر

اسلام آباد: الیکشن کمیشن نے جسٹس ریٹائرڈ دوست محمد خان کونگراں وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا مقرر کردیا۔

الیکشن کمیشن اسلام آباد میں خیبر پختونخوا میں نگراں وزیراعلی کے لئے اسپیکر صوبائی اسمبلی کی جانب سے بھجوائے گئے ناموں پرغورکیا گیا۔ الیکشن کمیشن نے غورکے بعد جسٹس ریٹائرڈ دوست محمد خان کو نگراں وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا مقرر کردیا۔

الیکشن کمیشن حکام کا کہنا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 224 اے کے تحت صوبائی اسمبلی میں قائد ایوان اورقائد حزب اختلاف نگراں وزیراعلیٰ کے لئے کسی نام پر متفق نہ ہوسکے جس کے بعد پارلیمانی کمیٹی بنائی گئی، کمیٹی بھی کسی نتیجے پرنہ پہنچ سکی تو اسپیکر صوبائی اسمبلی اسد قیصر نے الیکشن کمیشن کو 4 نام اعجاز قریشی، حمایت اللہ خان، منظور آفریدی اور جسٹس (ر) دوست محمد ریفر کیے تھے۔

واضح رہے کہ جسٹس ریٹائرڈ دوست محمد خان پشاورہائی کورٹ کے چیف جسٹس جب کہ سپریم کورٹ کورٹ کے فاضل جج بھی رہ چکے ہیں ، وہ سپریم کورٹ کے جج کی حیثیت سے چند ماہ قبل ہی ریٹائرہوئے ہیں۔

پاکستان میں عیدالفطر پر بھارتی فلموں کی نمائش پر پابندی میں نرمی

کراچی: عید الفطر کے موقع پر ملک بھر کے سینما گھروں میں بھارتی فلموں پر عائد دو ہفتوں کی پابندی میں نرمی کرکے ایک ہفتے کردی گئی ہے۔

گزشتہ ہفتے وزارت معلومات، براڈ کاسٹنگ، قومی، تاریخی و ثقافتی ورثہ نے پاکستان میں عید الفطر کے موقع پر بھارتی فلموں پر پابندی عائد کردی تھی، جس کے مطابق عید الفطر کے دوہفتے تک کسی بھی بھارتی فلم کو پاکستانی سینماؤں میں نمائش کی اجازت نہیں تھی، تاکہ پاکستانی فلمیں دوہفتے تک بزنس کرکے اپنی لاگت پوری کرسکیں۔ وزارت انفارمیشن کے اس فیصلے کو فنکار برادری کے ساتھ دیگر حلقوں کی جانب سے بے حد پزیرائی ملی تھی تاہم اب بھارتی فلموں کی نمائش پر عائد پابندی میں نرمی کرکے صرف ایک ہفتہ کردی گئی ہے جس کے تحت اب بھارتی فلمیں مقامی سینماؤں میں عید الفطر کے ایک ہفتے بعد ہی ریلیز کردی جائیں گی۔

چیئرمین سینٹرل بورڈ آف فلم سنسرز(سی بی ایف سی)دانیال گیلانی کاکہنا ہے کہ مقامی فلمی صنعت اور نمائش کی سہولیات کو دیکھتے ہوئے حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ عید الفطر اور عیدالضحیٰ کے موقع پر بھارتی فلموں کی نمائش کو ایک ہفتے تک محدود کیاجائے گا۔

ذرائع کے مطابق حکومت کی جانب سے عائد کی جانے والی پابندی میں ترمیم کچھ بااثر گروپ کی وجہ سے سامنے آئی ہے جو مقامی سینما انڈسٹری پر اثرانداز ہیں۔ یہ گروپ پاکستانی سینما پر بھارتی فلموں کی نمائش پر عائد پابندی میں نرمی کروانے کا ذمہ دار ہے۔ چیئرمین آف پاکستان فلم ڈسٹری بیوشن ایسوسی ایشن  چوہدری اعجاز کامران نے ایکسپریس ٹریبیون سے بات کرتے ہوئے کہا یہ نہایت طاقتور گروپ ہے، یہ لوگ نہیں جانتے ان کے اس اقدام سے مقامی فلمیں کتنی زیادہ اثر انداز ہوں گی جب کہ وہ ڈسٹری بیوٹرز جنہوں نے پاکستانی فلمیں خرید لی ہیں انہیں کتنی مشکلات پیش آئیں گی۔

بھارتی فلموں پر عائد پابندی میں نرمی کے بعد پاکستانی فلموں کو بھارتی فلموں سے سخت مقابلہ کرنا پڑے گا۔ پاکستانی فلموں کا سب سے زیادہ مقابلہ بالی ووڈ کے دبنگ اداکار سلمان خان کی فلم ’ریس3‘سے ہوگا جو عیدالفطر کے ایک ہفتے بعد ہی ریلیز ہوجائے گی جب کہ دوسری فلم اداکار سنجے دت کی زندگی پر مبنی فلم’سنجو‘ہے جو پاکستانی فلموں کے مقابلے میں کھڑی ہوگی۔

سینئر فلم ڈسٹری بیوٹرز کا کہنا ہے کہ پہلے پاکستانی فلموں کو عید پر کمائی کرنے کیلئے دوہفتے مل گئے تھے لیکن اب انہیں ایک ہفتے کے اندر اندر اچھا خاصا بزنس کرناہوگا۔ پاکستانی فلم پروڈیوسرز بھارتی فلموں کی نمائش پر پابندی سے خوش تھے تاہم پابندی میں نرمی کے فیصلے نے انہیں مایوس کردیا۔

دوسری جانب بھارتی فلمی تجزیہ نگار گریش جوہر نے پاکستان میں بھارتی فلموں کی نمائش پر عائد پابندی میں نرمی پر خوش ہوتے ہوئے کہا ہے کہ یہ فیصلہ سلمان خان کے مداحوں کیلئے بڑی خبر ہے، مجھے یقین ہے پاکستانی فلم ڈسٹری بیوٹرز بھی فلم’ریس3‘کی پاکستان میں نمائش کے خواہاں تھے۔

واضح رہے کہ عید الفطر کے موقع پر اداکارہ ماہرہ خان اور شہریار منور کی فلم’سات دن محبت ان‘ ، جاوید شیخ اور دانش تیمور کی فلم’وجود‘ اور معمررانا اورسونیا حسین کی فلم’آزادی‘ ریلیز ہورہی ہیں۔

ریحام خان 24 گھنٹے میں کتاب کی تردید اور معافی مانگیں، فواد چوہدری

 اسلام آباد: تحریک انصاف کے ترجمان بیرسٹر فواد چوہدری نے کہا ہے کہ عمران خان کی سابق اہلیہ ریحام خان کی کتاب فحش مواد اور ذہنی اختراع پر مبنی ہے، وہ 24 گھنٹے میں کتاب کے مواد کی تردید کریں اور معافی مانگیں۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ترجمان پی ٹی آئی فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ ریحام خان کی کتاب الیکشن سے پہلے کیوں آ رہی ہے؟ اس کتاب کے پیچھے مجھے رائیونڈ نظرآتا ہے،  کتاب فحش مواد اور ذہنی اختراع پر مبنی ہے، ایک عورت فحش مواد کی ایڈیٹنگ اپنے جوان بیٹے اور بیٹی سے کیسے کروا سکتی ہے ؟ اس کتاب نے ملک میں خاندانی نظام کو تباہ کر دیا ہے۔

فواد چوہدری نے کہا کہ ریحام خان بتائیں کہ وہ  لندن میں شہزادیوں کی طرح زندگی گزار رہی ہے ان کے اخراجات کون برداشت کرتا ہے؟ اپنی کتاب کے بارے میں 24 گھنٹے میں وضاحت پیش کریں، کتاب کے مواد کی تردید کریں اور معافی مانگیں ورنہ ہم قانونی کارروائی کا حق رکھتے ہیں۔ الیکشن کمیشن اور اسلامی نظریاتی کونسل کو بھی چاہئے کہ اس کتاب کا نوٹس لے۔

فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ پاکستان پر 5 سال تک جھوٹے لوگ مسلط رہے اور اس عرصے میں  ان کے سارے دعوے ناکام ہوئے، آج ایک ٹریلین کا سرکلر ڈیٹ سر پر کھڑا ہے، بڑے اداروں کو خسارے سے نہیں نکال سکے، یہ حکمران کہتے تھے 11 ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کی ہے لیکن لوڈشیڈنگ نے شریف برادران کے دعوؤں کی قلعی کھول دی ہے،  پورا پاکستان اندھیروں میں ڈوبا ہوا ہے، شہبازشریف نے کہا تھا لوڈشیڈنگ ختم نہ ہوئی تو اپنا نام بدلوں گا اب وہ اپنا نام شہباز سے شبانہ رکھ لیں، نواز شریف کو اسٹیبلشمنٹ کا سہارا لینے اور جھوڑے وعدوں پر معافی مانگنی چاہیے اور اپنی انتخابی مہم معافی سے شروع کرنی چاہیے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس،ملک دشمن لابی کو تنبیہ

adaria

ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفورنے پیر کے روز پریس کانفرنس میں ملک دشمن لابیز کو تنبیہ کرتے ہوئے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ ہم پاکستان کی جنگ لڑرہے ہیں،ہم ہر وہ کام کریں گے جو پاکستان کے مفاد میں ہوگا،ہم پاکستان کیلئے سب کچھ برداشت کریں گے لیکن جب ملک کے نقصان پہنچانے کی بات ہوگی تو کچھ برداشت نہیں کریں گے۔انہوں یہ بھی کہا کہ عوام کی محبت فوج کیلئے پچھلے 10 سال میں زیادہ ہوئی ہے، کم نہیں ہوئی،الزام لگانے سے ہم پر فرق نہیں پڑتا اور نہ ہی ہر چیز کا جواب دے سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ملک میں امن لانے کیلئے اپنی حکومت اور فورسز پر یقین رکھنا چاہیے،افواج پاکستان نے اپنی زندگی ملک کے نام لکھی ہوتی ہے،ہمیں کچھ نہیں چاہیے، صرف چاہتے ہیں اپنے ذاتی مفاد میں ملک کے مفاد کو پیچھے نہ چھوڑیں۔ اگر فوج کو گالیاں دینے سے آپ کا قد بڑا ہوتا ہے تو دیں لیکن اگر ایسا کرنے سے پاکستان کا قد چھوٹا ہوتا ہے تو یہ نہ کریں۔میجر جنرل آصف غفور نے سوشل میڈیا پر اینٹی پاکستان اور اینٹی آرمی مہم پر بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ جہاں تک ہماری ذات کی بات ہے اسے ہم برداشت کرتے ہیں لیکن ملک کے خلاف بات کو برداشت نہیں کرتے اور متعلقہ اتھارٹی کو آگاہ کرتے ہیں، ہمارے پاس صلاحیت ہے کہ سوشل میڈیا کو دیکھ سکیں کہ کون کیا کررہا ہے ،سوشل میڈیا پر جو تصویر پیش کی جاتی ہے وہ حقیقت نہیں ہوتی۔اس موقع پر انہوں نے پاکستان کے اندرونی چیلنجز، فاٹاکے انضمام، پی ٹی ایم، سوشل میڈیا پر پاکستان مخالف سرگرمیوں،عام انتخابات 2018 ،اسد درانی کی کتاب , بھارتی جارحیت ،افغانستان،ایران صورتحال اور امریکا کی افغانستان سے واپسی جیسے امور پر تفصیل سے بات چیت کی خصوصاً بھارتی رویے اور حالیہ سیز فائر کی خلاف ورزیوں پر واضح الفاظ میں میجرجنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ بھارت کی جانب سے 2018 میں 1577 مرتبہ جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کی گئی جبکہ 2017 میں ایک ہزار 881 مرتبہ جنگ بندی کی خلاف ورزیاں کی گئیں جس سے 52 افراد جاں بحق اور 254 افراد زخمی ہوئے۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے ہمیشہ ذمہ داری کا مظاہرہ کیا اور بھارت کے ساتھ فائر بندی معاہدے کی مکمل پاسداری کرنا چاہتے ہیں۔ہماری امن کی خواہش کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔ ہم بھارت کی جانب سے کیے گئے ایسے پہلے فائر کو نظر اندازکرتے ہیں جس سے شہریوں کا جانی نقصان نہ ہو تاہم دوسری مرتبہ کیے گئے فائر کا اسی طرح جواب دیا جائے گا۔انھوں نے کہا کہ بھارت کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ وہ کہاں جانا چاہ رہا ہے کیونکہ ہم دونوں جوہری طاقت ہیں۔انہوں نے افغانستان پر بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان سے زیادہ کسی کی خواہش نہیں کہ افغانستان میں امن قائم ہو۔محفوظ سرحد پاکستان اور افغانستان کے حق میں ہے اور اس حوالے سے افغانستان کے وفد کے ساتھ بہت مثبت بات چیت ہوئی ہے۔دہشت گردی کے خلاف جنگ کے حوالے سے انھوں نے کہا کہ افغانستان کے ساتھ مل کردہشت گردی کے مشترکہ چیلنج سے نمٹنا چاہتے ہیں اور واضح کرتے ہیں کسی بھی کالعدم تنظیم کا منظم نیٹ ورک پاکستان میں موجود نہیں ہے۔اسددرانی کی کتاب اور ان کے خلاف انکوائری کے حوالے سے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ان کی فوج سے ریٹائرمنٹ بھی قبل از وقت ہوئی اور اس کی وجہ بھی سیاسی تھی ،انہیں ریٹائرڈ ہوئے 25سال ہوگئے،جتنے واقعات کی بات کی وہ سب ان کی ریٹائرمنٹ کے بعد کے ہیں،پاک فوج میں آج تک کسی کو غلطی پر معاف نہیں کیا خواہ وہ سپاہی ہو یا جنرل،اسد درانی نے این او سی لئے بغیر کتاب لکھی ،ادارے نے خود نوٹس لیا اور انکوائری شروع کی ،جلد فیصلہ بھی آئے گا۔افواج پاکستان کی طرف سے تازہ میڈیا بریفنگ اس بات کی مظہر ہے کہ وہ ملک کو درپیش چیلنجز سے پوری طرح آگاہ ہے اور ہر چیلنج سے نمٹنے کی پوری صلاحیت بھی رکھتی ہیں۔خصوصاً وہ عناصر جو سوشل میڈیا کے ذریعے پاکستان اور سکیورٹی اداروں کے خلاف مہم چلا رہے ان کو مانیٹر کیا جا رہا ہے جو حد سے گزرتے ہیں ان کے خلاف قانونی ایکشن بھی لیا جاتا ہے،بھارت اور افغانستان کے حوالے سے بھی پالیسی اور عزم کو دوہرایا گیا کہ پاکستان امن کا خواہاں ہے،امن کی خواہش کو کمزوری سمجھنے والے کسی مغالطے کا شکار ہیں۔

کالاباغ ڈیم ۔۔۔اب نہیں تو پھر کب
سپریم کورٹ نے ملک بھر میں پانی کی قلت اور نئے ڈیموں کی تعمیر سے متعلقہ ایک آئینی درخواست کی سماعت کے دوران وفاقی حکومت سے تحریری جواب طلب کر تے ہوئے اس حوالے سے زیر سماعت تمام تر مقدمات کو یکجا کرنے کا حکم جاری کرتے ہوئے کیس کو ہفتہ کے روز کراچی برانچ رجسٹری میں لگانے کی ہدایت کی ہے۔اس موقع پر چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا ہے کہ پانی کے معاملے کو سنجیدگی سے دیکھ رہے ہیں، پانی کی فراہمی ہمارے بچوں کا بنیادی حق ہے، بھارت کے کشن گنگا ڈیم کے باعث دریائے نیلم اور دریائے جہلم خشک ہوگئے ہیں، اگرہم نے اپنے بچو ں کو پانی نہ دیا تو اور کیا دیں گے؟چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں جسٹس سردار طارق مسعود اور جسٹس مظہر عالم میاں خیل پر مشتمل بنچ اس کیس کی سماعت کررہا ہے۔ڈیمز سے متعلق کیس مقرر ہونے پر ایک امید کی کرن پیدا ہوئی ہے کہ شاید اب کی بار سیاسی رکاٹوں کا کوئی حل نکالا جا سکے۔کالاباغ ڈیم ملک کا ایک عظیم پروجیکٹ ہے جو مٹھی بھر سیاسی عناصر کی بھینٹ چڑھ چکا ہے۔حیرت ہے پاکستان ایک زرعی ملک ہے اور اسکی ترقی کا تمام تر انحصار پانی پر ہے لیکن پچھلی نصف صدی سے ملک میں کوئی ڈیم نہیں بناہے۔اس سے بھی زیادہ افسوسناک امر یہ ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ ڈیمز کی تعمیر ہماری ترجیحات سے نکل گئی ہے۔ان دنوں سوشل میڈیا پر کالاباغ ڈیم کی تعمیر کے حوالے سے بھر پور آواز بلند ہو رہی ہے۔یہ آواز خلق ہے پاکستان کے ان پولیٹیکل عناصر کو اسے سمجھنا چاہیے جو کالاباغ ڈیم کی مخالفت میں جتھہ بندی کئے ہوئے ہیں۔یہ ایک سنہری موقع ہے سپریم کورٹ اس ایشو کو ہمیشہ کیلئے طے کر دیں۔سیدھی بات ہے کہ یہ ڈیم اب نہیں تو پھر کب بنے گا کہ پانی کا بحران ملک کو بنجر کرنے کے در پے ہے۔
صوبائی نگران سیٹ اپ میں تاخیر،اعتماد کے فقدان کی دلیل
آئینی مدت پوری ہونے کے پیش نظر ملک کی چاروں صوبائی اسمبلیاں اور قومی اسمبلی تحلیل ہوچکی ہیں، لیکن وفاق اور صوبہ سندھ کے علاوہ کسی دوسرے صوبے کے نگران وزیراعلیٰ کے نام پر فیصلہ نہیں ہوسکا تھا،تاہم گزشتہ روز ’’کے پی کے‘‘ کیلئے جسٹس (ر) دوست محمد خان کو چنا گیا ہے۔خیبر پختونخوا کی پارلیمانی کمیٹی بھی نگران وزیراعلیٰ کے نام پر اتفاق رائے کرنے میں ناکام ہوئی تویہ معاملہ الیکشن کمیشن آف پاکستان میں بھیجا گیا جس نے انکا انتخاب کرلیا ہے ۔اسی طرح مسلم لیگ (ن)اور تحریک انصاف کی جانب سے پنجاب کے نگران وزیراعلیٰ کے انتخاب کا کام بھی پارلیمانی کمیٹی کے سپرد کرنے کا فیصلہ کیا گیاہے۔بلوچستان کی صورتحال بھی مختلف نہیں وہاں بھی کسی ایک نام پر اتفاق رائے نہیں ہو پایا ہے۔یہ ایک افسوسناک امرہے کہ سیاسی جماعتیں اس معاملے پر روایتی رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔الیکشن شیڈیول جاری ہو چکا ہے،دیے گئے پچپن دنوں میں سے پانچ دن مزید گزر گئے ہیں۔نگران حکومتوں کے ذمہ بہت سے کرنے والے کام ابھی باقی ہیں.یہ کام اسمبلیوں کی تحلیل سے قبل ہو جانا چاہیے تھا۔

Google Analytics Alternative