Home » 2018 » June » 08

Daily Archives: June 8, 2018

جانئے آج آپ کا دن کیسا رہے گا

حمل:
21مارچ تا21اپریل

گھریلو حالات متاثر ہو سکتے ہیں آپ انتہائی صبروتحمل کے ساتھ حالات پر قابو پانے کی کوشش کریں تاکہ صورت حال زیادہ نہ بگڑ سکے انشاء اللہ الجھے ہوئے مسائل کا حل خودبخود نکل آئے گا۔

ثور:
22اپریل تا20مئی

ہر ایرے غیرے کو اپنا سمجھنے کی پرانی عادت کو بدل ڈالیں ماضی میں بھی آپ کی زندگی میں زہر ان لوگوں نے گھولا جس پر آپ کو بہت ناز تھا شریک حیات سے وابستہ توقعات پوری ہو سکتی ہیں۔

جوزا:
21مئی تا21جون

آج کا دن آپ سے بڑی سخت جدوجہد اور ذہانت کا طلب گار ہے گزشتہ آپ نے بہت کچھ حاصل کیا گو کہ شدید قسم کی مخالفتوں کا سامنا کرنا پڑا ان گنت رکاوٹیں سنگ راہ بنتی رہیں۔

سرطان:
22جون تا23جولائی

مذہبی خیالات درست ہو سکتے ہیں مقدمہ بازی سے حتیٰ الامکان پرہیز کیجئے کوشش کیجئے کہ کسی بھی طرح مخالفین سے صلح ہو جائیں دیرینہ آرزو پوری ہونے کے امکان ہیں۔

اسد:
24جولائی تا23اگست

چند نام و نہاد دوست و احباب آپ کے خلاف سازش کر سکتے ہیں بہرحال آپ کو اتنا اندازہ تو ہو گا کہ برے وقت کے دوران کوئی بھی کسی کا ساتھ نہیں دیتا لہٰذا محتاط رہیں۔

سنبلہ:
24اگست تا23ستمبر

اپنی بے مقصد سوچوں کو اپنا من پسند نتیجہ بخش کر مایوسی کے اندھیروں میں ڈوب جانا عقلمندی تونہیںلہٰذا خود اپنا حال تو درست رہنے دو اور جو تھوڑے بہت چانسز مل رہے ہیں ان سے فائدہ اٹھائیں یہی بہتر ہے۔

میزان:
24ستمبر تا23اکتوبر

اگر آپ سیاست دان ہے تو پھر فوری طور پر خود کو بدلنے کی کوشش کیجئے ورنہ حالات آپ کو ایسے چوراہے پر لاکھڑا کردینگے جہاں سے کوئی راستہ بلندی کی طرف نہیں جاتا۔

عقرب:
24اکتوبر تا22نومبر

آپ کے سرپرستوں کی کوشش کے سبب حسب منشاء جگہ پر رشتہ طے پا سکتا ہے لہٰذا خوداس سلسلے میں کوئی فیصلہ وقت سے پہلے ہرگز نہ کیجئے نئی ملازمت ملنے کے امکان روشن ہیں۔

قوس:
23نومبر تا22دسمبر

کوئی بھی کام بڑوں کی اجازت کے بغیر نہ کریں بلکہ ہر معاملے میں ان کی رائے کو اہمیت دیں جنس مخالف سے بچنے کی کوشش کیجئے دماغ پر مسلط شدہ غبار ہلکا ہو سکتا ہے۔

جدی:
23دسمبر تا20جنوری

راہ چلتے اور گاڑی چلاتے ہوئے محتاط رہیے صحت جسمانی بھی گاہے بگاہے خراب ہو سکتی ہے علاج کی جانب سے غفلت نہ برتیں گھریلو ماحول خاصا خوشگوار رہے گا۔

دلو:
21جنوری تا19فروری

کوئی نیا کام ہرگز نہ کریں بلکہ کوشش کریں کہ جو کام آپ کے ہاتھوں میں ہے یہی تکمیل تک پہنچ جائیں کیونکہ آپ کے پرانے مخالف آپ کے خلاف سازشوں کا جال بچھا سکتے ہیں۔

حوت:
20 فروری تا 20 مارچ

آپ کا ذہن فضول سوچوں میں الجھ سکتا ہے مزاج بھی قدرے رنگین رہیگا خوبصورت چیز کو اپنا سمجھنے کی غلطی بھی نہ کریں حسن پرستی کا جذبہ شدت اختیار کرسکتا ہے لہٰذابندہ پرور ذرا احتیاط کیجئے۔

آئی ایم ایف سے بیل آؤٹ پیکج لینے کا کوئی فیصلہ نہیں کیا، وزارت خزانہ

وزارت خزانہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان نے آئی ایم ایف سے بیل آؤٹ پیکج لینے کا کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے۔

وزارت خزانہ کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق آئی ایم ایف سے کسی بیل آوٹ پیکج پر کسی قسم کے مذاکرات بھی نہیں ہو رہے۔

اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ آئی ایم ایف سے رکن ممالک کی سالانہ مشاورت ہوتی ہے، آئی ایف سے یہ مشاورت آئین کے آرٹیکل 4 کے تحت ہوتی ہے۔

وزارت خزانہ کے مطابق رواں سال یہ مشاورت مارچ میں ہونی تھی جو بجٹ سازی کے باعث ملتوی ہوئی جو اب جون کے آخر میں ہو گی لیکن اس مشاورت کا بیل آوٹ پیکج سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

نگران حکومت کا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں نہ بڑھانےکا فیصلہ

نگران حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں نہ بڑھانےکا فیصلہ کرلیا۔

ذرائع کے مطابق نگران وزیرخزانہ شمشاد اختر کا کہنا ہے کہ وہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھانے جیسا کوئی فیصلہ نہیں کریں گی۔

ذرائع کے مطابق نگران سیٹ اپ قائم ہونے سے قبل پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر وزیراعظم کو بھجوائی گئی سمری بھی واپس نہیں آئی، وزارت خزانہ کی جانب اوگرا کی سفارشات پر مبنی سمری وزیراعظم کو بھجوائی گئی تھی۔

خیال رہے کہ اوگرا نے یکم جون سے پیٹرول کی قیمت 8 روپے 37 پیسے، ڈیزل ساڑھے 12 روپے اور مٹی کا تیل 8 روپے 30 پیسے فی لیٹر مہنگا کرنے کی سفارش کی تھی تاہم اس حوالے سے سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا تھا کہ حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں 7 جون تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

مفتاح اسماعیل نے کہا تھا کہ ہماری حکومت ختم ہو رہی ہے اور پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا فیصلہ آئندہ حکومت کرے گی۔

سابق دور حکومت میں پاکستان اسٹیل 500 ارب کا بوجھ بن گئی

 کراچی: سابقہ حکومت کے دور میں پاکستان اسٹیل کے خسارے اور واجبات کی مالیت میں 250ارب روپے کا اضافہ ہوا جبکہ پلانٹ بند ہونے کی وجہ سے اسٹیل مصنوعات کی درآمد پر بھی 2.5 ارب ڈالر کا زرمبادلہ خرچ ہوا۔

پاکستان اسٹیل کو گیس کی فراہمی جون 2015میں واجبات کی عدم ادائیگی پر بند کردی گئی، اس وقت پاکستان اسٹیل پیداوار کے قابل تھا اور پلانٹ کو 40فیصد پیداواری گنجائش پر چلانے کا عملی مظاہرہ کیا جاچکا تھا، پاکستان اسٹیل کو گیس کی سپلائی بند کرکے درحقیقت اس اہم ترین قومی اثاثے کی آکسیجن بند کردی گئی، 3 سال گزرنے کے باوجود پیداوار بحال نہیں ہوسکی۔

پاکستان اسٹیل کے ذرائع کے مطابق بورڈ آف ڈائریکٹر زکو ربڑ اسٹمپ سے زائد حیثیت نہیں دی گئی، مل کو چلانے کے لیے انتظامی صلاحیتوں سے عاری افراد کو ذمے داریاں سونپی جاتی رہیں، مل کے انتظامی امور ایڈہاک بنیادوں پر چلائے جاتے رہے، اس وقت بھی انتظامی اسٹرکچر ادھورا پڑا ہے.

پاکستان اسٹیل سی ای او کے بغیر چلائی جارہی ہے جبکہ ایگزیکٹو ڈائریکٹرز کی 8آسامیاں خالی پڑی ہیں جبکہ 24 جنرل منیجرز میں سے صر ف 1جنرل منیجر موجود ہے، پاکستان اسٹیل کے موجودہ واجبات اور خسارے کی مالیت 450ارب روپے سے تجاوز کر چکی ہے۔

پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں پاکستان اسٹیل کے خسارے اور واجبات کی مالیت 200ارب روپے تھی جس میں ن لیگ کے دور حکومت میں مزید 250ارب روپے کا اضافہ ہوا، کسی قسم کی پیداوار کے بغیر پاکستان اسٹیل ماہانہ 1ارب 70 کروڑ روپے نگل رہی ہے جس میں 80کروڑ روپے واجبات پر سود کی مد میں ہر ماہ عائد ہورہے ہیں جبکہ تنخواہوں اور دیگر عمومی اخراجات کی مالیت بھی 90کروڑ روپے ماہانہ ہے۔

پاکستان اسٹیل اسٹیک ہولڈرز گروپ نے سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کو حکومت کی مدت ختم ہونے سے قبل بھی پاکستان اسٹیل کی صورتحال سے آگاہ کرتے ہوئے اس اہم قومی اثاثے کو بوجھ میں تبدیل کرنے والے عناصر کے خلاف تحقیقات اور شفاف احتسابی کارروائی کی اپیل کی تاہم حکومت کی جانب سے کوئی توجہ نہیں دی گئی۔

مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی نے حسن عسکری کی تقرری مسترد کردی

لاہور: الیکشن کمیشن پاکستان (ای سی پی) کی جانب سے پروفیسر حسن عسکری کی بطور نگراں وزیراعلیٰ پنجاب تقرری کے فیصلے کو پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی جانب سے مسترد کردیا گیا۔

مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں کے ساتھ میڈیا نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے سابق وزیراعظم اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن نے پنجاب میں انتخابات کو مشکوک بنادیا ہے، ایسا لگ رہا ہے کہ انتخابات شفاف نہیں ہوں گے۔

سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ ملک میں الیکشن خلائی مخلوق کروائے یا زمینی مخلوق، مسلم لیگ (ن) انتخابات میں ضرور حصہ لے گی۔

انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) اور پاکستان کے عوام 25 جولائی کو انتخابات چاہتے ہیں،

شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ پنجاب میں نگراں سیٹ اپ غیر جانبدارہونا اور نظر آنا چاہیے،نو منتخب نگراں وزیراعلیٰ حسن عسکری اپنے کالموں میں انتخابات ملتوی ہونے کا ذکر کرچکے ہیں۔ ان کے ٹوئٹس اور آرٹیکلز میں مسلم لیگ (ن) کے خلاف تعصب ظاہر ہوتا ہے۔

سابق وزیراعظم نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کے دیے گئے نام پر کسی قسم کا اعتراض نہیں کیا جاسکتا تھا، پاک نیوی کے سابق سربراہ ایڈمرل (ر) ذکاء اللہ اور جسٹس (ر) سائر کے ناموں پر کوئی انگلی نہیں اٹھا سکتا۔

سابق وزیرِ ریلوے خواجہ سعد رفیق کا کہنا تھا کہ ’ہم پروفیسر حسن عسکری کا احترام کرتے ہیں، انہیں خود ہی اپنے منصب سے پیچھے ہٹ جانا چاہیے ‘۔

اس موقع پر احسن اقبال کا کہنا تھا کہ 25 جولائی کو انتخابات ہونا ملک کے لیے نہایت ضروری ہے،پاکستان کے عوام ووٹ کی عزت کریں، ہم ہر قیمت پر پاکستان کے عوام کی جدوجہد جاری رکھیں گے۔

پیپلز پارٹی کا حسن عسکری کی بطور نگراں وزیراعلیٰ پنجاب تقرری پر اعتراض

ادھر پیپلز پارٹی لاہور ڈویژن کے صدر عزیز الرحمٰن چن نے کہا کہ پروفیسر حسن عسکری کی بطور نگراں وزیراعلیٰ پنجاب تقرری پر پی پی پی کو اتراضات ہیں۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ پنجاب میں نگراں وزیراعلیٰ کی تقرری کے پورے عمل میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور مسلم لیگ (ن) نے پی پی پی سے مشاورت نہیں کی۔

پی پی پی کی رہنما ثمینہ گھرکی کا کہنا ہے کہ ان کی جماعت کو حسن عسکری کی تقرری پر اعتراضات تو ہیں، تاہم انہیں امید ہے کہ انتخابات شفاف ہوں گے۔

علاوہ ازیں لیکشن کمیشن نے مسلم لیگ (ن) کے اعتراض کو مسترد کردیا۔الیکشن کمیشن نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 224 کے تحت الیکشن کمیشن کو چار نام بھیجے گئے تھے۔ آئین اور قانون کے تحت متفقہ طور پر پروفیسر حسن عسکری کا نام نگراں وزیراعلی کے طور پر منظور کیا گیا۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز ایڈیشنل سیکریٹری اختر نذیر نے اعلان کیا تھا کہ الیکشن کمیشن نے پنجاب کے نگراں وزیراعلیٰ کے لیے پروفیسر حسن عسکری کو مقرر کردیا۔

ان کا کہنا تھا کہ پروفیسر حسن عسکری کا شمار پاکستان کی نامور علمی شخصیات میں ہوتا ہے، وہ ملکی اور غیر ملکی درسگاہوں سے منسلک رہے ہیں، اس کے علاوہ وہ مختلف اخبارات، جرائد اور ٹی وی چینلز پراہم موضوعات پر ایک مایہ ناز مبصربھی تصور کیے جاتے ہیں۔

خدیجہ کا جج پر جانبداری کا دعویٰ نشر کرنے پر عدالت کا معافی کا مطالبہ

لاہور ہائی کورٹ نے چھریوں کے وار سہنے والی قانون کی طالبہ خدیجہ صدیقی کے دعوے کو مسترد کردیا۔

واضح رہے کہ خدیجہ صدیقی کو ان کے ساتھی طالب علم شاہ حسین نے 3 مئی 2016 کو شملہ ہلز کے قریب اس وقت چھریوں کے وار سے زخمی کر دیا تھا جب وہ اپنی چھوٹی بہن کو اسکول چھوڑنے جارہی تھی۔

خیال رہے کہ چھریوں کے وار سے بچ جانے والی خدیجہ صدیقی نے دعویٰ کیا تھا کہ انہیں جج کے چیمبر میں بلا کر ان پر حملہ کرنے والے شاہ حسین سے صلح کرنے کا کہا گیا تھا۔

لاہور ہائی کورٹ کے رجسٹرار کی جانب سے جاری ہونے والی پریس ریلیز میں کہا گیا کہ ’جسٹس نعیم کی جانب سے شاہ حسین کی 5 سال قید کی سزا کی اپیل کو منظور کرتے ہوئے جو فیصلہ سنایا گیا تھا اس پر الیکٹرانک میڈیا، سوشل اور پرنٹ میڈیا پر میں مختلف وضاحتیں چلائی گئیں تھیں۔

واضح رہے کہ لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس سردار احمد نعیم نے فریقین کیس کے وکلا کے دلائل سننے کے بعد مختصر فیصلہ ملزم کے حق میں سنایا تھا۔

رجسٹرار نے رواں ہفتے کے آغاز میں ایک انٹرویو کا حوالہ دیا جس میں خدیجہ صدیقی نے دعویٰ کیا تھا کہ انہیں معزز جج نے اپنے چیمبر میں بلا کر ملزم شاہ حسین سے اس کے والد کی موجودگی میں صلح کرنے کا کہا تھا۔

لاہور ہائی کورٹ نے یہ نہیں واضح کیا کہ خدیجہ نے کس انٹرویو میں یہ دعویٰ کیا تاہم ڈان نیوز ٹی وی کے پروگرام ’زرا ہٹ کے‘ میں اپنے دعوے کی تصدیق کرنے کے سوال پر خدیجہ صدیقی نے جج کا نام بتائے بغیر کہا تھا کہ کیس کی کارروائی کے دوران جج نے انہیں اپنے چیمبر میں بلا کر ان سے ملزم کے ساتھ صلح کرنے کا پوچھا تھا جس کا ان کے مطابق انہوں نے انکار کردیا تھا۔

رجسٹرار کا کہنا تھا کہ خدیجہ صدیقی نے معزز جج پر گورنر پنجاب ملک محمد رفيق رجوانہ‬ کے زیر اثر آ کر ملزم کی بریت کا فیصلہ سنانے کا دعویٰ بھی کیا تھا۔

لاہور ہائی کورٹ کے رجسٹرار کا کہنا تھا کہ خدیجہ کے دعوے من گھڑت اور غیر سنجیدہ تھے اور انہیں الیکٹرانک، سوشل اور پرنٹ میڈیا پر شائع و نشر کیا گیا تھا جو عدلیہ کو بدنام کرنے کی سازش ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’یہ مہم معزز جج کے خلاف نہیں بلکہ عدلیہ کو بدنام کرنے کی سازش کا حصہ ہے‘۔

انہوں نے خبر کی مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا کہ اس جرم میں ملوث لوگوں کے خلاف قانونی کارروائی بھی ہوسکتی ہے۔

لاہور ہائی کورٹ کے رجسٹرار نے الیکٹرانک میڈیا سے 3 روز کے اندر اپنے پرائم ٹائم کے دوران من گھڑت خبر چلانے پر معافی مانگنے اور پرنٹ میڈیا کو اپنے فرنٹ پیج پر معافی نامہ شائع کرنے کی ہدایت کی۔

عدالت کے رجسٹرار نے پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی اور پریس کونسل آف پاکستان کو اس حوالے سے اپنی رپورٹ جمع کرانے کی بھی ہدایت کی۔

اداکاری کے بعد سونم کپور ہدایت کاری کرتی نظر آئیں گی؟

رواں ماہ یکم جون کو ریلیز ہونے والی بولڈ رومانٹک کامیڈی فلم ’ویرے دی ویڈنگ‘ کی اداکارہ سونم کپور سے متعلق اطلاعات ہیں کہ وہ جلد ہی ہدایت کاری کرتی نظر آئیں گی۔

اس سے زیادہ دلچسپ بات یہ ہے کہ سونم کپور اپنی ہدایت کاری میں بننے والی پہلی فلم میں ساتھی اداکارہ سوارا بھاسکر کو کاسٹ کریں گی۔

واضح رہے کہ سونم کپور اداکاری کے علاوہ فلموں کوپروڈیوس تو کرتی ہیں، تاہم انہوں نے تاحال کسی فلم کی ڈائریکشن نہیں دیں۔

اب اطلاعات ہیں کہ وہ ہدایت کاری میں بھی قسمت آزمائیں گی اور وہ اپنی پہلی فلم میں ’ویرے دی ویڈنگ‘ کی ساتھی اداکارہ سوارا بھاسکر کو کاسٹ کریں گی۔

ابھی یہ واضح نہیں کہ اس فلم میں سونم کپور خود بھی اداکاری کریں گی یا نہیں، تاہم خیال کیا جا رہا ہے کہ سونم بھی فلم کا حصہ ہوں گی۔

ممکنہ طور پر فلم میں دونوں اداکارائیں جلوہ گر ہوں گی—اسکرین شاٹ
ممکنہ طور پر فلم میں دونوں اداکارائیں جلوہ گر ہوں گی—اسکرین شاٹ

نشریاتی ادارے ’ایسٹرن آئی‘ نے اپنی خبر میں ایک اور نشریاتی ادارے کی خبر کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ سوارا بھاسکر نے انکشاف کیا ہے کہ سونم کپور جلد ہدایت کاری کرتی نظر آئیں گی۔

سوارا بھاسکر کے مطابق سونم کپور اس وقت ایک بہت ہی دلچسپ فلم کے اسکرپٹ پر کام کر رہی ہیں، جس کی وہ ہدایت کاری بھی کریں گی۔

سوارا بھاسکر کا کہنا تھا کہ اگر فلم کا اسکرپٹ مکمل ہوگیا اور سونم نے اسے ڈائریکٹ کیا تو وہ اس فلم کا حصہ ہوں گی۔

ساتھ ہی سوارا بھاسکر نے سونم کپور کی تعریفیں کرتے ہوئے اسے بہترین اداکارہ اور دوست بھی قرار دیا۔

خیال رہے کہ سونم کپور اور سوارا بھاسکر کو حقیقی زندگی میں بھی بہترین دوست سمجھا جاتا ہے۔

یہ دونوں اداکارائیں حال ہی میں ریلیز ہونے والی فلم ’ویرے دی ویڈنگ‘ سے قبل 2013 میں ریلیز ہونے والی ’رانجھنا‘ اور 2015 میں ریلیز ہونے والی ’پریم رتن دھن پایو‘ میں بھی ایک ساتھ نظر آئیں تھیں۔

خیال کیا جا رہا ہے کہ سونم کپور کی ہدایت کاری میں بننے والی فلم بھی ’ویرے دی ویڈنگ‘ کی طرح خواتین کے مرکزی کرداروں پر مبنی ہوگی، جس میں دونوں اداکارائیں ایک ساتھ نظر آئیں گی، تاہم اس حوالے سے کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہے۔

ان کی فلم ’ویرے دی ویڈنگ‘ میں نامناسب مناظر اور نازیبا جملوں کی وجہ سے اس پر پاکستان میں پابندی عائد کی گئی تھی۔

فلم کو یکم جون کو دنیا بھر میں ریلیز کیا گیا تھا، جس نے اب تک 50 کروڑ روپے سے زائد کی کمائی کرلی ہے۔

فلم میں سونم کپور اور سوارا بھاسکر کے علاوہ کرینہ کپور اور شیکھا تلسانی نے مرکزی کردار ادا کیے۔

فلم کی کہانی 4 سہیلیوں کے گرد گھومتی ہے، جو ہمیشہ شادی کے مسائل میں پھنسی رہتی ہیں۔

—اسکرین شاٹ
—اسکرین شاٹ

بھارت خطے کو ہتھیاروں کی دوڑ میں جھونک رہا ہے، پاکستان

اسلام آباد: ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا ہے کہ بھارت خطے کو ہتھیاروں کی دوڑ میں جھونک رہا ہے اور پاکستان کو بھی تیار رہنا پڑے گا۔

دفتر خارجہ اسلام آباد میں ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران ڈاکٹر فیصل نے کہا کہ گزشتہ ایک ہفتے میں بھارت نے 7 کشمیریوں کو شہید کیا جب کہ احتجاج کے دوران ایک جوان پر فوجی جیپ چڑھا دی گئی، سری نگر میں بھارتی حکام نے انٹر نیٹ سروسز بھی بند کر دی، پاکستان شبیر احمد شاہ اور آسیہ اندرابی سمیت سیکڑوں حریت رہنماؤں کی گرفتاری کی مذمت کرتا ہے۔

پاکستان بھی تیار

ڈاکٹر فیصل نے کہا کہ بھارتی فوج کی کنٹرول لائن پر بلا اشتعال فائرنگ کا سلسلہ جاری ہے، بھارت خطے کو ہتھیاروں کی دوڑ میں جھونک رہا ہے، پاکستان کو بھی تیار رہنا پڑے گا، پاک فوج ہر طرح کے خطرات سے نمٹنے کے لئے تیار ہے، پاکستان معاملات پُرامن طور پر حل کرنے کا خواہاں ہے لیکن بھارت نہیں چاہتا تو ہم بھی تیار ہیں۔

پانی ہماری شہہ رگ

بھارت کی آبی دہشتگردی سے متعلق ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ پانی کا مسئلہ ہماری شہہ رگ ہے، کشن گنگا ڈیم پر ذمہ داری عالمی بینک کی ہے۔

عام انتخابات

عام انتخابات کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ عام انتخابات آزادانہ اور شفاف ہو ں گے، انتخابات کے حوالے سے عالمی برادری کا ردعمل مثبت ہے۔

شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس

ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا کہ صدر مملکت 9 جون کو شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس میں شرکت کے لئے چین کا دورہ کریں گے، اس دوران وہ چین کے صدر اور دیگر رہنماؤں سے بھی ملاقاتیں کریں گے۔

ریحام خان کی کتاب

ترجمان دفترخارجہ نے ریحام خان کی کتاب پر تبصرے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ ہم کتابوں پر تبصرہ نہیں کرتے، یہ آزاد سوسائٹی ہے، سب کو اظہار کی اجازت ہے۔

Google Analytics Alternative