Home » 2018 » June » 11 (page 4)

Daily Archives: June 11, 2018

چین، یورپ رابطے کیلیے پاکستان اہم اسٹیشن ہے، گلوبل ٹائمز

اسلام آباد: معروف چینی اخبار ’’ گلوبل ٹائمز ‘‘ نے کہا ہے کہ پاکستان اپنے منفرد جغرافیائی صورتحال اور صلاحیتوں سے چین کو یورپ سے رابطوں کیلیے انٹر چینج اسٹیشن بن جائے گا۔

ہفتہ کو گلوبل ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق یورپین یونین نے عرصہ دراز سے خطے پر نظریں جمائی ہیں، اگر چین اور یورپین یونین پاکستان میں قریبی تعاون کیلیے کام کریں تو یہ علاقائی سیاسی استحکام کے فروغ اور اقتصادی ترقی کیلئے انتہائی اہمیت کی حامل ہوگی۔

رپورٹ کے مطابق شاہراہ ریشم کو اقتصادی بیلٹ تصور کیا جاتا ہے اور کئی راستوں کے ذریعے چین کو یورپ سے منسلک کرتا ہے، بیلٹ اینڈ روڈ اقدام کو آگے بڑھانے کیلئے شاہراہ ریشم کیساتھ لاجسٹک مرکز قائم کرنے کا منصوبہ ہے جبکہ پاکستان ان راستوں میں سے اہم پوائنٹ ہے، اس لحاظ سے پاکستان، چین کو یورپ سے منسلک کرنے کا انٹر چینج اسٹیشن بن سکتا ہے۔

یورپین یونین مشرق وسطیٰ بالخصوص اسلامی ممالک میں اسٹریٹجک پارٹنرزکو خصوصی توجہ دے رہا ہے۔ پاکستان کے مشرق وسطیٰ اور سابق سویت ریاستوں سے ربط کے باعث پاکستان سرمایہ کاری کیلیے پر کشش ملکبنتا جارہا ہے۔

 

سلمان خان نے اداکاری کے بعد فلم ڈسٹری بیوشن میں بھی قدم رکھ دیا

ممبئی: بالی وڈ اداکار سلمان خان نے فلم ’ریس 3‘ سے ڈسٹری بیوشن کی دنیا میں بھی قدم رکھ دیا۔

دو دہائیوں سے زائد عرصے سے بالی وڈ نگری پر راج کرنے والے اداکار سلمان خان کئی فلموں میں اداکاری کے جوہر دکھانے کے ساتھ پروڈیوسر بھی ہیں۔

سلو میاں کے پروڈکشن ہاؤس ’سلمان خان فلمز‘ کے بینر تلے بننے والی فلموں میں ’بجرنگی بھائی جان‘، ’ہیرو‘ اور ’ٹیوب لائٹ‘ شامل ہیں

لیکن اب سلو میاں نے فلم ڈسٹری بیوشن کی دنیا میں بھی قدم رکھ دیا ہے جس کا آغاز اپنی فلم ’ریس 3‘ سے کریں گے۔

فلم ’ریس 3‘ ٹپس فلمز اور سلمان خان فلمز کے مشترکہ بینر تلے بن رہی ہے جس کے بعد اب فلم کے ڈسٹری بیوٹرز بھی یہی دو پروڈکشن ہاؤس ہیں۔

اس حوالے سے سلمان خان کا کہنا تھا کہ ان کا خواب اپنے سنیما تھیٹر بنانے کا ہے جس کے لیے انہیں کافی سوچ سمجھ کر چلنا پڑ رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اپنے تھیٹر کھولنے کے لیے ایکزیبیٹر اور ڈسٹری بیوشن کے حوالے سے بہت کچھ کرنا ہے لیکن ’ریس 3‘ کا ڈسٹری بیوٹر بن کر میں نے اس حوالے سے پہلا قدم اٹھا لیا ہے جس سے امید ہے میرا مقصد پورا ہوگا۔

یاد رہے کہ سلمان خان کی فلم ’ریس 3‘ 15 جون کو عید کے موقع پر نمائش کے لیے پیش کی جانی ہے جس  کی کاسٹ میں میں ان کے ساتھ بوبی دیول، انیل کپور، جیکولین فرنینڈس اور ڈیزی شاہ شامل ہیں۔

سامسنگ گیلیکسی اے 9 اسٹار اور اے 9 اسٹار لائٹ لانچ‎

سام سنگ کمپنی کی جانب سے گیلکسی اے 9 اسٹار اور اے 9 اسٹار لائٹ اسمارٹ فون لانچ کر دئیے گئے ہیں۔اے 9 اسٹار میں 6.28 انچ ایچ ڈی پلس ڈسپلے ، اینڈرائیڈ اوریو آپریٹنگ سسٹم ، اسنیپ ڈریگن 660 پروسیسر ، 4 جی بی ریم اور 64 جی بی اسٹوریج دیا گیا ہے۔ اسٹوریج کو ایس ڈی کارڈ کی مدد سے 256 جی بی تک بڑھایا جاسکتا ہے۔ فون کی پشت پر ایل ای ڈی فلیش کے ساتھ 16 میگا پکسل اور 24 میگاپکسل کے دو کیمرے شامل کیے گئے ہیں۔ سیلفی کے لئے فون میں آرٹیفیشل انٹیلیجنس بیوٹی فیچرز کے ساتھ 24 میگا پکسل کا کیمرہ دیا گیا ہے۔ اسمارٹ فون کی بیٹری 3700 ملی ایمپیئر آورز کی ہے اور اس میں فاسٹ چارجنگ سپورٹ بھی شامل ہے۔ فون کو کالے اور سفید رنگ میں پیش کیا گیا ہے اور اس کی قیمت 2999 یان ہے۔ فون کو پری آرڈر کے لیے پیش کر دیا گیا ہے اور اس کی فروخت 15 جون سے شروع ہو گی۔

اے 9 اسٹار لائٹ میں 6 انچ ایچ ڈی پلس ڈسپلے ، اسنیپ ڈریگن 450 پروسیسر اور اینڈرائیڈ اوریو آپریٹنگ سسٹم دیا گیا ہے۔ فون کے کیمرہ سیٹ اپ میں 16 میگا پکسل اور 5 میگا پکسل کے 2 بیک کیمرے اور 24 میگا پکسل کا فرنٹ کیمرہ دیا گیا ہے۔ اسمارٹ فون کی بیٹری 3500 ملی ایمپیئر آورز کی ہے۔فون کو کالے اور نیلے رنگ میں پیش کیا گیا ہے اور اس کی قیمت 1999 یان ہے۔ فون کی فروخت 15 جون سے شروع ہو گی۔

’سمبا‘ میں رنویر سنگھ کے اجے دیوگن اسٹائل کے چرچے

بولی وڈ کی آنے والی ایکشن رومانٹک فلم ’سمبا‘ کا شائقین کو بے حد انتظار ہے، جس میں پہلی بار رنویر سنگھ دبنگ پولیس افسر کے روپ میں نظر آئیں گے۔

’سمبا‘ کو ویسے تو رواں برس کے آخر میں ریلیز کیا جائے گا، تاہم اب اس فلم کی پہلی جھلک جاری کردی گئی، جس میں رنویر سنگھ کو اجے دیوگن اسٹائل میں دیکھا جا سکتا ہے۔

فلم کی پہلی جھلک کو رنویر سنگھ نے اپنے انسٹاگرام اور ٹوئٹر اکاؤنٹ پر شیئر کیا، جس میں وہ اپنے پولیس اہلکاروں کے ساتھ ایکشن میں دکھائی دیے۔

تصویر میں رنویر سنگھ کو پولیس افسر کی ڈریس کے بجائے عام ڈریس میں سیاہ چشمے کے ساتھ دکھایا گیا۔

رنویر سنگھ کے دبنگ اسٹائل کو دیکھ کر کئی لوگوں کو اجے دیوگن کا سنگھم اسٹائل یاد آگیا، کیوں کہ اجے دیوگن نے بھی سنگھم فلم میں دبنگ پولیس افسر کا کردار نبھایا تھا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اجے دیوگن کی ’سنگھم‘ اور رنویر سنگھ کی ’سمبا‘ کی ہدایات روہت شیٹھی نے دی ہیں، جو ’گول مال‘ سیریز جیسی کامیاب فلمیں بھی بنا چکے ہیں۔

اگرچہ ’سمبا‘ میں رنویر سنگھ ہی مرکزی کردار میں نظر آئیں گے، تاہم اطلاعات ہیں کہ فلم میں اجے دیوگن کو بھی مختصر کردار میں دکھایا جائے گا۔

بولی وڈ ہنگامہ کے مطابق’سمبا‘ میں اجے دیوگن کو خصوصی مختصر کردار میں دکھایا جائے گا۔

اطلاعات ہیں کہ فلم میں اجے دیوگن کو بھی خصوصی طور پر دکھایا جائے گا—فوٹو: بولی وڈ ہنگامہ
اطلاعات ہیں کہ فلم میں اجے دیوگن کو بھی خصوصی طور پر دکھایا جائے گا—فوٹو: بولی وڈ ہنگامہ

رپورٹ کے مطابق فلم میں اجے دیوگن اور رنویر سنگھ کے کچھ ایکشن مناظر شامل کیے جائیں گے، جن کی شوٹنگ کے لیے اجے دیوگن نے ’سمبا‘ ٹیم کو جوائن کرلیا۔

’سمبا‘ کی شوٹنگ رواں ماہ 6 جون سے شروع کردی گئی، اس موقع پر فلم کی ٹیم نے ایک مختصر ویڈیو بھی جاری کی، جسے رنویر نے اپنے انسٹاگرام پر شیئر کیا، جس میں رنویر سنگھ، سارہ علی خان، روہت شیٹھی اور فلم کے پروڈیوسر کرن جوہر کو دکھایا گیا۔

جاری کی گئی ویڈیو میں رنویر سنگھ ایکشن انداز میں بولتے نظر آتے ہیں کہ وہ ’سمبا‘ میں پولیس افسر ’سنگرام بھولی راؤ‘ کا کردار ادا کرتے نظر آئیں گے۔

ساتھ ہی وہ ویڈیو میں فلم کا مشہور ڈائلاگ بھی بولتے نظر آتے ہیں۔

اسی ویڈیو میں پروڈیوسر کرن جوہر بتاتے ہیں کہ ’سمبا‘ کو رواں برس 28 دسمبر کو ریلیز کیا جائے گا۔

خیال رہے کہ اس فلم میں رنویر سنگھ کے ساتھ پہلی بار 24 سالہ اداکارہ سارہ علی خان رومانس کرتی نظر آئیں گی، جو اس فلم کی شوٹنگ سے قبل اپنی پہلی فلم ’کیدر ناتھ‘ کی شوٹنگ مکمل کر چکی ہیں۔

فلم میں جہاں رنویر سنگھ پولیس افسر کا کردار ادا کرتے نظر آئیں گے، وہیں ممکنہ طور پر سارہ علی خان جانوروں سے پیار کرنے والی لڑکی کا کردار ادا کرتی نظر آئیں گی۔

یہ فلم 2015 میں ریلیز ہونے والی تیلگو فلم ’ٹیمپر‘ کا ہندی ریمیک ہے۔

ڈپریشن میں مبتلا مردوں میں بانجھ پن کا خدشہ

ذہنی دباؤ، الجھن، پریشانی اور ڈپریشن کو ویسے بھی انسانی صحت کے لیے نقصان دہ سمجھا جاتا ہے۔

تاہم ایک حالیہ تحقیق سے ڈپریشن کا ایک اور خطرناک سبب سامنے آیا ہے، جو یقیناً مرد حضرات کے لیے باعث تکلیف ہوگا۔

ہیلتھ جرنل ’میڈیسن نیٹ ورک‘ میں شائع رپورٹ کے مطابق اسرائیلی ماہرین کی جانب سے کی جانے والی تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ صرف 2 ماہ کی ڈپریشن یا ذہنی دباؤ بھی مرد کے اسپرم کو کمزور کرنے کے لیے کافی ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیل کی سوروکا میڈیکل سینٹر یونیوسٹی اوربین گوریو یونیورسٹی کے ماہرین نے مشترکہ تحقیق کے دوران 11 ہزار مردوں کے اسپرم کے نمونوں کا جائزہ لیا۔

ماہرین نے جن مردوں کے اسپرم کا جائزہ لیا وہ اسرائیل کے ہی 2 مختلف علاقوں کے رہنے والے تھے اور ان میں سے نصف لوگ ایسے تھے جو کسی بھی ذہنی دباؤ میں مبتلا نہیں تھے، جب کہ نصف لوگ ڈپریشن کا شکار تھے۔

رپورٹ کے مطابق ماہرین کی جانب سے اسپرم کے لیے گئے جائزے سے پتہ چلا کہ جو لوگ 8 ہفتوں تک ذہنی دباؤ اور کشیدگی کا شکار رہے، ان کے اسپرم میں کمزوری پائی گئی۔

ماہرین نے مردوں کے اسپرم میں کمزوری اور ان کی ڈپریشن کے دورانیے کا موازنہ کیا، جس سے پتہ چلا کہ زیادہ وقت تک ڈپریشن کا شکار رہنے والے افراد میں بانجھ پن کے خطرات بڑھ گئے تھے۔

ماہرین نے ڈپریشن کے شکار افراد کو تجویز دی کہ بانجھ پن سے بچنے اور ذہنی دباؤ سے نکلنے کے لیے انہیں زیادہ سے زیادہ ورزش کرنی چاہیے۔

ماہرین نے تجویز دی کہ ڈپریشن کے شکار افراد کو زیادہ سے زیادہ سوئمنگ یا اس طرح کی دیگر ایکسر سائز کرنی چاہیے

پانی کو صوبائی تعصب سے بچائیے

ہم بھی کیا عجیب قوم ٹھہرے ہیں پانی جو کہ ہر موسم اور ہر وقت کی بنیادی ضرورت ہے جب بھی موسم گرما کی شدت بے حال کرنے لگتی ہے اس کی قدروقیمت کا احساس ہونے لگتا ہے۔گزشتہ موسم گرما کی طرح رواں موسم گرما بھی کڑاکے نکالنے لگا ہے تو ہر طرف پانی پانی کی دہائی ہے.ہر چھوٹی بڑی محفل کا موضوع پانی کی قلت اور ڈیمز کی تعمیر ہے .ان دنوں سوشل میڈیا پر نئے ڈیمز کی تعمیر خصوصا کالاباغ ڈیم ٹاپ ٹرینڈ ہے۔بلاشبہ پاکستان ان ممالک میں شامل ہو چکا ہے جہاں پانی نایاب ہونے کو ہے۔مستقبل کی جنگوں کی ایک وجہ پانی کو ایک عرصہ سے قرار دیا جا رہا ہے لیکن اب تو قلت آب کو دہشتگردی سے بھی بڑاخطرہ قراردیا جا رہا ہے۔آئی ایم ایف کی ایک تازہ رپورٹ کے مطابق پانی کی سنگین قلت کے شکار ممالک کی فہرست میں پاکستان تیسرے نمبر پر ہے۔جبکہ اقوام متحدہ کے ادارے یو این ڈی پی اور آبی ذخائر کے لیے پاکستانی کونسل برائے تحقیق (پی سی آر ڈبلیو آر) نے خبردار کیا ہے کہ 2025 تک یہ جنوب ایشیائی ملک پانی کے شدید بحران کا شکار ہو سکتا ہے۔ پاکستان کے لیے اقوام متحدہ کے ہیومنیٹیرین کوآرڈینٹر نیل بوہنے کے مطابق پانی کے اس بحران کی وجہ سے پاکستان کا کوئی علاقہ بھی نہیں بچ سکے گا۔محققین نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا ہے کہ 2040 تک شہریوں کی پانی کی طلب کو پورا کرنے کے حوالے سے پاکستان شدید مشکلات کا شکار ہو سکتا ہے۔ اس صورتحال میں کئی عالمی اداروں نے پہلی مرتبہ پاکستانی حکام کو خبردار کیا ہے کہ پانی کے بحران سے نمٹنے کے لیے فوری ایکشن نہ لیا گیا تو صورتحال قابو سے باہر ہو سکتی ہے۔ ادھر میڈیا رپورٹس کے مطابق رواں ماہ کے دوران پانی کے دو بڑے ذخائر منگلہ اور تربیلا ڈیموں میں پانی کی سطح انتہائی خطرناک حد تک کم ہو گئی ہے۔ انڈس ریور سسٹم اتھارٹی کے حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان کے دو بڑے آبی ذخائر میں پانی صرف تیس دن کی ضرورت کے لیے ہی ذخیرہ کیا جا سکتا ہے جوکہ کم از کم 120 دن تک ہونا چاہیے جبکہ بھارت ایک سو نوے دنوں تک کے استعمال کے لیے پانی اسٹور کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ پاکستان کو دریاں اور بارشوں کی صورت میں سالانہ تقریبا 115ملین ایکڑ فٹ پانی دستیاب ہوتا ہے۔ اس پانی کا 93 فیصد زراعت کے لیے استعمال ہوتا ہے اور پانچ فیصد گھریلو اور دو فیصد صنعتی شعبے میں استعمال ہوتا ہے۔ تاہم اریگیشن نیٹ ورک بد حالی کا شکار ہونے کے باعث زرعی شعبے کو ملنے والے پانی کا 70فیصد حصہ ترسیل کے دوران ضائع ہوجاتا ہے۔کئی ماہرین زور دے رہے ہیں کہ اس مسئلے کے حل کی خاطر حکومت کو فوری اقدامات کرنے کی ضرورت ہے اور سیاسی عزم کا مظاہرہ کرنا ہو گا۔ پانی کے ذخائر قائم کرنے کے ساتھ ساتھ پانی کو ضائع ہونے سے بھی روکنا ہوگا جو ہر سال تقریبا 46 ملین ایکڑ فٹ ضائع ہوتا ہے.اپریل میں حکومت نے پاکستان کی پہلی قومی واٹر پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے وعدہ کیا تھا کہ پاکستان میں پانی کے بحران پر قابو پانے کی خاطر پہلے سے جاری کوششوں کو مزید بہتر بنایا جائے گا۔ تاہم ماہرین، حکومت کی طرف سے کیے گئے ان اعلانات کو محض اعلان ہی سمجھتے ہیں۔جیسے کہ اوپر اقوام متحدہ کے ہیومنیٹیرین کوآرڈینٹر نے کہا ہے کہ پانی کے اس بحران کی وجہ سے پاکستان کا کوئی علاقہ بھی نہیں بچ سکے گا ہم اس کے آثار تھر اور کوئٹہ کے دور دراز علاقوں آواران اور گردونواح میں دیکھ سکتے ہیں۔تھر میں پانی اور دیگر غذائی قلت کے باعث ہر سال بیسیوں بچے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں مگر اس کا حل نہیں نکالا جا سکا ہے جبکہ ضلع آواران میں بھی موسم گرما میں کم بارشوں کی یہی صورتحال رہتی ہے۔بس فرق اتنا ہے کہ آوارن میڈیا کی نظروں سے اوجھل رہتا ہے۔ابھی گزشتہ ماہ ہی صاف پانی کی عدم دستیابی اور کم بارشوں کے باعث اس بد قسمت علاقے کو گیسٹرو کے مرض نے آن لیا.اس افسوسناک صورتحال میں بھی حکومت اور اپوزیشن ایک دوسرے کو مورد الزام ٹھہراتی رہی جبکہ پاک فوج نے حسب سابق ریلیف کی سرگرمیوں کو سنبھالا. فوری طور پر میڈیکل کیمپ لگائے .ادویات فراہم کرنے کے علاوہ عوام میں پینے کا پانی,پانی کی ٹینکیاں، مچھردانیاں اور راشن بھی تقسیم کیا۔جن مریضوں کی حالت زیادہ خراب ہوتی انہیں فوجی ہیلی کاپٹرز کے ذریعے حب پہنچایا گیا ۔اس قدرتی آفت میں پاک فوج کی ان کوششوں کو سرہانے کی بجائے بلوچ سب نیشلسٹوں نے منفی پروپیگنڈا کے طور لیا.کہا جانے لگا کہ علاقے کی عوام کو بی ایس اینز کی حمایت سے دور رکھنے کیلئے جبری طور دوسرے علاقوں میں منتقل کیا جا رہا ہے.یقیناًحقیقت اس سے مختلف ہے ۔ضلع آواران جو کسی نہ کسی آفت کا شکار رہتا امدادی سرگرمیوں کے لیے پاک فوج ہمیشہ پیش پیش رہی ہے۔چند برس قبل یہ ضلع جب زلزلہ کی آفت سے دوچار ہوا تھا تو یہ پاک فوج ہی تھی جس نے کئی قیمتی جانوں کو بچایا تھا.بات دور تک چلی گئی مختصر یہ کہ موسمیاتی تبدیلیاں خطے کو بری طرح متاثر کر رہی ہیں جس کے اثرات قلت آب کی شکل میں ظاہر ہونا شروع ہو چکے ہیں.چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں لارجر بینچ ان دنوں کالا باغ ڈیم سے متعلق کیس کی سماعت کر رہا ہے ،اگلے روز کراچی رجسٹری میں سماعت کے دوران سابق چیرمین واپڈا ظفر محمود نے عدالت کو بتایا کہ بلوچستان میں زیر زمین پانی خطرناک حد تک نیچے جاچکا ہے،کوئٹہ کا پانی اتنا نیچے جاچکا ہے کہ بحالی میں 2 سو سال لگیں گے۔اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ 10 سال بعد تو کوئٹہ میں پینے کا پانی نہیں ہوگا، یعنی 10 سال بعد لوگوں کو کوئٹہ سے ہجرت کرنا پڑے گی.پانی کی قلت کا اندازہ اس سے بھی لگا لینا چاہیے کہ 1948 میں سالانہ فی کس پچاس لاکھ لیٹر پانی موجود ہوتا تھا۔ جو اب کم ہوکر دس لاکھ لیٹر فی کس رہ گیا ہے۔ اسی طرح کی اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں سال 2025 تک سالانہ فی کس پانی کی موجودگی خطرناک حد تک کم ہوکر آٹھ لاکھ لٹر تک ہوجا ئے گی۔ تب ملک میں 80 فیصد لوگوں کو گھروں میں ٹونٹیوں کے ذریعے پانی مہیا نہیں ہوسکے گا اور زراعت کو بڑی حد تک نقصان پہنچے گا۔اس سے معاملے کی سنگین کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ہم پانی جیسی بنیادی ضرورت کو بھی صوبائی تعصب کی بھینٹ چڑھا کر اپنی ہی آنے والی نسلوں سے دشمنی کر رہے ہیں۔

*****

ایک کروڑ 40 لاکھ فیس بک صارفین کی خفیہ پوسٹس عام ہوگئیں

دنیا کی سب سے بڑی سوشل ویب سائٹ فیس بک پر گزشتہ کئی ماہ سے پرائیویسی پالیسی اور صارفین کے ڈیٹا کا تحفظ نہ کرپانے کے حوالے سے تنقید کی جا رہی ہے۔

حال ہی میں جہاں فیس بک نے اس بات کا اعتراف کیا کہ اس نے صارفین کا ذاتی ڈیٹا موبائل بنانے والی 60 کمپنیوں کو فراہم کیا، وہیں اب سماجی ویب سائٹ کی ایک بہت خرابی سامنے آگئی۔

جی ہاں فیس بک نے انکشاف کیا ہے کہ گزشتہ ماہ مئی میں دنیا بھر کےایک کروڑ 40 لاکھ فیس بک صارفین کی ایسی خفیہ پوسٹیں از خود عام ہوگئیں جنہیں صارفین نے ’پبلک‘ نہیں کر رکھا تھا۔

فیس بک انتظامیہ کی جانب سے اپنے وضاحتی بیان میں کہا گیا کہ سماجی ویب سائٹ پر خود کار سافٹ ویئر کی خرابی کی وجہ سے دنیا بھر کے ایک کروڑ 40 لاکھ صارفین کی محدود پوسٹس از خود پبلک ہوگئیں، جس وجہ سے کئی صارفین کی خفیہ معلومات بھی عام ہوگئیں۔

بیان میں کہا گیا کہ سافٹ ویئر میں خرابی کا پتہ چلنے کے بعد کمپنی نے اس خرابی کو دور کردیا، ساتھ ہی کمپنی نے متاثرہ افراد کو خصوصی پیغامات کے ذریعے آگاہ کرنے کا سلسلہ بھی شروع کردیا۔

بیان کے مطابق کمپنی نے متاثرہ افراد سمیت اپنے عام صارفین کو بھی اپنی پرائیویسی پالیسی پر نظر ثانی کی تجاویز دی ہیں، تاکہ صارفین کی معلومات اور پوسٹس کو زیادہ سے زیادہ خفیہ رکھا جاسکے۔

کمپنی نے یہ وضاحت نہیں کی کہ سافٹ ویئر کی خرابی سے کن ممالک کے صارفین کی محدود پوسٹس عام ہوئیں اور ایسی پوسٹس میں کس طرح کا مواد شامل ہے۔

سیف علی خان ایک اور مشکل میں پھنس گئے

ممبئی: بالی ووڈ کے چھوٹے نواب سیف علی خان کو کالے ہرن شکار کیس کے بعد اب جنگلی خنزیر شکار کیس میں بھی طلب کرلیا گیا۔

سیف علی خان نے 19 سال قبل 1998 میں راجستھان کی ریاست جودھ پور میں فلم ’’ہم ساتھ ساتھ ہیں‘‘کی شوٹنگ کے دوران اجازت نہ ہونے کے باوجود نایاب کالے ہرنوں کا شکار کیا تھا جس پر وہاں کی مقامی کمیونٹی کی جانب سے کیس دائر کرنے کے بعد عدالت نے سیف علی خان سمیت، سلمان خان اداکارہ سونالی باندرے، تبو اوراداکارہ نیلم کو طلب کیا تھا اور حال ہی میں اس کیس میں سلمان خان کو تو سزا سنائی گئی تاہم سیف علی خان سمیت دیگر کو بری کردیا گیا تھا مگر اب بلغاریہ میں جنگلی خنزیر کے غیر قانونی شکار میں سیف علی خان کو بیان ریکارڈ کرنے کے لئے طلب کیا گیا ہے۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق بلغاریہ پولیس نے کچھ روز قبل ایک ایجنٹ کو گرفتار کیا تھا جس کے بعد بلغاریہ حکومت کی جانب سے انٹر پول کے ذریعے سیف علی خان کا بیان ریکارڈ کرنے کی درخواست کی گئی تاہم ممبئی کرائم برانچ کے باندرہ یونٹ نے بطور گواہ سیف کا بیان قلم بند کرلیا۔

ممبئی پولیس کا کہنا ہے کہ انٹر پول سے رابطہ ہونے کے بعد پتہ چلا کہ سیف علی خان جنگلی خنزیر شکار کی تحقیقات میں اہم گواہ ہیں جس کے بعد باندرہ یونٹ نے اُن کے گھر جا کر بیان ریکارڈ کیا۔

ذرائع کے مطابق بلغاریہ پولیس نے جس ایجنٹ کو گرفتار کیا ہے اُس نے بغیر کسی لائسنس اور اجازت نامے کے سیف علی خان کے لئے شکار کا انتظام کیا تھا اور بغیر اجازت شکار کرنے کی وجہ سے انٹرپول نے اداکار سے کیس پر تفصیلات طلب کی ہے۔

Google Analytics Alternative