Home » 2018 » June » 11 (page 5)

Daily Archives: June 11, 2018

زکواۃ کی جبری وصولی اور مستحقین زکواۃ

زکواۃ ،عشر اور خمس کی ادائیگی اسلامی معیشت کی بنیادی اکائی ہے ۔زکواۃاور نماز دین کے ایسے ارکان ہیں جن کا ہر دور میں اور ہر مذہب میں آسمانی تعلیمات کے پیرو کاروں کو حکم دیا گیا ہے یہ دونوں فریضے ایسے ہیں جو ہر نبی کی امت پر عائد ہوتے رہے ۔لغوی اعتبار سے زکواۃ کے معنی بڑھوتری اور اضافے کے ہیں اور دوسرے معنی پاک وصاف ہونے کے ہیں ۔ شرعی اصطلاح کے مطابق زکواۃ میں دونوں ہی مفہوم پائے جاتے ہیں ۔زکواۃ کی ادائیگی میں بقیہ مال پاک وصاف ہو جاتا ہے اور عدم ادائیگی سے اس میں غرباء و مساکین کا حق شامل رہتا ہے ۔قرآن مجید میں عموماً جہاں بھی نماز کا ذکر یعنی اقامت صلوٰ ۃ کا حکم آیا ہے زکواۃ کی ادائیگی کا حکم ساتھ ساتھ ہے۔ماہ رمضان میں زکواۃ کی اپیل کی درخواستیں اور اشتہار بازی اتنی عام ہے کہ ایسا دکھائی دیتا ہے کہ پوری قوم ہی زکواۃ کی مستحق ہے لیکن زکواۃ و صدقات کا استحقاق صرف نادار اور بیمار مسلمانوں کو ہی قرار دیا گیا ہے۔ایک رپورٹ کے مطابق پاکستانی ایک کھرب سے زائد صدقہ ،خیرات اور زکواۃ کی مد میں دیتے ہیں لیکن انفرادی تقسیم میں سب ضائع ہو جاتا ہے ۔حکومتی ونجی سطح پر سو یا چند ہزار دینے سے جہاں ہم بھکاریوں کی تعداد میں اضافہ کر رہے ہیں وہاں سفید پوش طبقہ کا بھی کچھ نہیں بنتا ۔غربت اور بھوک سے روز افزوں بڑھتی ہوئی خود کشیوں کے انسداد کیلئے اب وسیع پیمانے پر مستقل بحالی کا پروگرام شروع کیا جانا چاہیے ۔ہر سال مقررہ تعداد میں معقول رقم دے کر لوگوں کو اپنے پاؤں پر کھڑا کیا جائے ۔اس مقصد کیلئے ملک و معاشرے کے چند نیک نام لوگوں کی قیادت میں زکواۃ بینک قائم کیا جائے جو نجی شعبہ کے وافر وسائل کو منظم انداز میں استعمال میں لائے ،وسائل کم نہیں ہیں ضرورت وسائل کے بہتر مصرف اور منظم تنظیم و ترتیب کی ہے۔اسلامی دنیا میں شائد ہمارا ملک ہی وہ واحد ملک ہے جہاں بینکوں کے ذریعے ان کے کھاتہ داروں سے زکواۃ جبراً وصول کی جاتی ہے ۔متحدہ عرب امارات میں کم و بیش ہر شاہراہ کے اہم مقام پر زکواۃ کی ادائیگی کیلئے کاؤنٹر بنائے گئے ہیں جہاں مقامی باشندوں میں موجودمستحقین زکواۃ خاموشی سے آتے ہیں اور اپنا شناختی کارڈ دکھا کر اپنے حصے کی زکواۃ وصول کر لیتے ہیں کسی کو کانوں کان خبر نہیں ہوتی کہ زکواۃ دینے والا کون ہے اور لینے والا کون ہے ۔ البتہ زکواۃ کاؤنٹر یو اے ای حکومت کی معاونت سے قائم کئے گئے ہیں جہاں متعلقہ علاقے میں موجود اصحاب نصاب اپنی واجب الادا زکواۃ کی رقم جمع کرا جاتے ہیں ۔اس طرح زکواۃ کی وصولی اور ادائیگی کا یہ سسٹم خاموشی کے ساتھ اور خوش اسلوبی سے چل رہا ہے جس میں کسی گھپلے کا کوئی امکان ہے نہ غیر مستحق لوگوں میں تقسیم ہونے کا کوئی خدشہ۔ہمارے پڑوسی غیر مسلم ملک بھارت میں جہاں مسلم آبادی ہماری مجموعی مسلم آبادی سے زیادہ ہے حکومت کی سطح پر زکواۃ کی وصولی اور تقسیم کا کوئی شعبہ قائم نہیں اور اسلام میں زکواۃ کی تقسیم کا فلسفہ ہی یہی ہے کہ اصحاب نصاب خاموشی سے اپنے ارد گردمستحقین میں اپنی تسلی کر کے خود زکواۃ کی رقم تقسیم کریں اور خالق کائنات سے اس کا اجر پائیں ۔وطن عزیز میں زکواۃ کی جبری وصولی کی بدعت کا آغاز جنرل ضیاء الحق کے مارشل لاء دور میں صدارتی زکواۃ آرڈیننس کے ذریعہ ہوا جس کی بنیاد پر تمام قومی بینکوں کو پابند کیا گیا کہ وہ ماہ رمضان المبارک کے آغاز ہی میں اپنے مسلم کھاتہ داروں کے اکاؤنٹس میں سے از خود واجب الادا زکواۃ کی رقم منہا کر لیا کریں گے ۔اس میں قباحت زکواۃ کی تقسیم کے نظام کے ذریعے پیدا ہوئی کیونکہ حکومت نے زکواۃ ڈائیریکٹوریٹ قائم کر کے مستحقین زکواۃ کی فہرستیں اپنی من مرضی سے مرتب کیں جن میں زیادہ تر غیر مستحقین کو مستحقین زکواۃ بنا کر نوازا جانے لگا جبکہ زکواۃ ڈائریکٹیوریٹ اور اس کی پورے ملک میں قائم برانچوں کے انتظامی اخراجات اور ان کے ملازمین کی تنخواہیں بھی زکواۃ فنڈ میں سے نکالی جانے لگیں ۔یہ سارے اخراجات کروڑوں میں بنتے ہیں جبکہ ہر برسر اقتدار سیاسی جماعت نے زکواۃ فنڈ سے ہی اپنے کارکنوں کو نوازنے کے راستے نکال لئے ۔اس طرح زکواۃ کی تقسیم کے اسلامی تصور ہی کو غارت کر دیا گیا جبکہ اسلام میں زکواۃ کی جبری وصولی کا بھی کوئی تصور موجود نہیں ۔زکواۃ کی جبری وصولی شروع ہوئی تو لوگوں نے اس سے بچنے کے بھی کئی راستے نکال لئے ۔پہلے تو مسلم کھاتہ داروں کی جانب سے اہل تشیع ہونے کے جعلی سرٹیفیکیٹ تیار کرا کے بینکوں میں جمع کرائے جانے لگے اور پھر کھاتہ داروں کی اکثریت نے ماہ رمضان المبارک کے آغاز سے قبل ہی اپنے بینک اکاؤنٹ خالی کرنے کی راہ اختیار کر لی ۔چنانچہ زکواۃ کی جبری وصولی کی بدعت نے اصحاب نصاب مسلمانوں کو جعل سازی کے گر بھی سکھا دیے جو زکواۃ کی ادائیگی کے ذریعے مستحقین کی خاموشی سے امداد کر کے ثواب کمانے کے فلسفہ کی سرا سر نفی ہے ۔سب سے زیادہ اذیت ناک پہلو تو یہ ہے کہ ضیاء آمریت کو قبول نہ کرنے اور 5جولائی کو ہر سال یوم سیاہ منانے والی پیپلز پارٹی نے بھی اپنے تمام ادوار حکومت میں آمر ضیاء الحق کے مسلط کردہ زکواۃ آرڈیننس کو خوشدلی سے قبول کر کے اسے اپنے مقاصد کیلئے استعمال کرنا شروع کر دیا۔غرض جو بھی سیاسی جماعت اقتدار یں آئی اسے جرنیلی آمریت کی قباحتوں کا ڈھنڈورا پیٹنے کے باوجود ضیاء الحق کے زکواۃ آرڈیننس میں کوئی قباحت نظر نہیں آئی چنانچہ یہ آرڈیننس قانون کا درجہ پا کر آج کے دن تک اپنی عملداری قائم کئے ہوئے ہے ۔آج بے نظیر انکم سپورٹ کا محکمہ اسی زکواۃ فنڈ سے چل رہا ہے اور پیپلز پارٹی سارا کریڈٹ اپنے کھاتے میں ڈالتی ہے جیسے انکم سپورٹ کی مد میں یہ طبقات اپنی جیبوں سے رقوم ادا کر رہے ہوں ۔چنانچہ اس حوالے سے جائز سوال اٹھتے ہیں کہ جعلسازی کی بنیاد پر استوار کئے گئے زکواۃ کے جبری وصولی کے نظام کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ ہمارے جید علمائے کرام فروعی مسائل و معاملات کے بارے میں اپنا حصہ ڈالنے میں تو پیش پیش ہوتے ہیں مگر زکواۃ کی جبری وصولی کے حکومتی نظام کے بارے میں کوئی مستند رائے یا فتویٰ صادر کرنے کی علمائے کرام میں سے کسی کو کم ہی توفیق ہوتی ہے اور یہ سیاسی جماعتوں نے بھی فوجی حکمرانوں سے انتہا درجے کی نفرت کرنے کے باوجود ضیاء آمریت کے زکواۃ آرڈیننس کو آخر کس مقصد کے تحت خوشدلی سے قبول کر رکھا ہے اور زکواۃ کے نام پر جعلسازی کی لعنت اس معاشرے میں کیوں سرائت کرنے دی جا رہی ہے ۔زکواۃ کی جبری وصولی کا حکومتی نظام تو در حقیقت مستحقین زکواۃ کا حق مارنے کے فلسفہ پر مبنی ہے پھر کیوں نہ اس جبری نظام ہی کے خلاف آواز بلند کی جائے ۔کئی فلاحی اور رفاحی ادارے جو بے وسیلہ اور غریب عوام کو اپنے ہسپتالوں کے ذریعے علاج معالجہ کی بلا معاوضہ سہولتیں فراہم کر رہے ہیں ۔مختلف تنظیمیں اور فلاحی ادارے بھی دن رات اپنے کام میں مصروف ہیں ۔عمران خان اور نوجوان گلوکار ابرارالحق کے ہسپتال و دیگر کئی ایسے ادارے غریب مریضوں کی آخری امید ہیں ۔عبد القدیر خان نے بھی اپنا ہسپتال شروع کیا ہے اور بذریعہ زکواۃ و صدقات اس میں شریک ہونے کی اپیل کر رہے ہیں ایسے ادارے یقیناًزکواۃ کے مستحق ہیں مگر زکواۃ فنڈ کی حکومتی بندر بانٹ کے بعد سرکاری فنڈ میں سے ان اداروں کی مالی معاونت کیلئے کیا بچے گا۔کیا شہریوں کی اس جبری نظام سے گلوخلاصی کیلئے کوئی تدبیرکارگر ہو سکتی ہے یہی آج کا سوال ہے جو میں نے کارپردازان وقت کے سامنے رکھ کر اپنا فرض ادا کر دیا ہے۔

ماحول دشمن کاربن ڈائی آکسائیڈ کو ایندھن میں بدلنے والا کارخانہ

ہارورڈ: عالمی پیمانے پر تپش میں اضافے کی سب سے بدنام گیس کاربن ڈائی آکسائیڈ ہے جس کا اخراج کم کرنے کی بھرپور کوشش کی جارہی ہے اس ضمن میں جرمنی میں ایک کم خرچ پلانٹ لگایا گیا ہے جو کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرکے اسے ایندھن میں تبدیل کرتا ہے۔

اس ضمن میں برسوں قبل ڈائریکٹ ایئرکیپچر (ڈی اے سی ) ٹیکنالوجی پر کئی پلانٹ اور ری ایکٹر بنائے گئے ہیں جو کاربن ڈائی آکسائیڈ کو پتھروں میں بدلتے ہیں یا پھر کسی اور بے ضرر اجزا میں ڈھالتے ہیں تاہم ان پر خرچ بہت آتا ہے اور ایک میٹرک ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ کو تعدیل کرنے پر 500 سے 1000 ڈالر خرچ ہوتے ہیں۔

لیکن اب ایک نیا پائلٹ پلانٹ بنایا گیا جو صرف 94 سے 232 ڈالر فی میٹرک ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ کو تلف کرسکتا ہے۔ اسے ہارورڈ یونیورسٹی کے سائنس دانوں نے تیار کیا ہے ۔ اس پر کام کرنے والے انجینئر ڈیوڈ کائتھ کہتے ہیں کہ فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ شامل کرنا بہت آسان ہے جبکہ اسے ختم کرنا بہت مہنگا نسخہ تھا اور ہم نے 9 برس کی مسلسل محنت کے بعد یہ ٹیکنالوجی تیار کی ہے۔

اس کا آزمائشی پلانٹ ایک فیکٹری کے کولنگ ٹاور جیسا ہے جس میں کئی تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ اس میں مائع ہائیڈروآکسائیڈ محلول کے ذریعے کاربن ڈائی آکسائیڈ کو قید کیا جاتا ہے جس سے کاربونیٹ وجود میں آتے ہیں اور ان کے ڈلے بن جاتے ہیں۔ اب اگر ان ڈیلوں کو بھٹی میں گرم کیا جائے تو یہ دوبارہ خالص کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج کریں گے۔

اس تصور کو ہوا سے ایندھن کا نام دیا گیا ہے جس میں پکڑی جانے والی کاربن ڈائی آکسائیڈ کو مائع ہائیڈروکاربنز میں بھی تبدیل کرکے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ ماہرین کا دعویٰ ہے کہ اس ایندھن کو ایک سے دوسری جگہ آسانی سے منتقل کیا جاسکتا ہے۔ یہ تحقیق ہارورڈ یونیورسٹی کے ماہرین کی ذیلی کمپنی نے کی ہے۔

ٹیکس چوروں کے خلاف گھیرا تنگ، ایف بی آر کو نادرا کے ڈیٹا تک رسائی دے دی گئی

اسلام آباد: وفاقی حکومت نے بلیک اکانومی کا حجم کم کرنے، آمدنی چھپانے والوں اورٹیکس چوروں کا سراغ لگانے کے لیے یکم جولائی سے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کو نیشنل ڈیٹا بیس رجسٹریشن اتھارٹی کے ڈیٹا تک رسائی دے دی ہے۔

فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کے سینئر افسر نے گزشتہ روز’’ایکسپریس،،کو بتایا کہ فنانس ایکٹ 2018 کے تحت ایف بی آر کو قابل ٹیکس آمدنی رکھنے کے باوجود ٹیکس ادا نہ کرنے والے امیر لوگوں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے نیشنل ڈیٹا بیس رجسٹریشن اتھارٹی کے ڈیٹا تک رسائی دی گئی ہے جس کے لیے انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی سیکشن 216 میں نئی ذیلی شق شامل کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ نئے لوگوں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے اور براڈننگ آف ٹیکس بیس کے لیے نیشنل ڈیٹا بیس رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) کے ڈیٹا تک ایف بی آر کو رسائی حاصل ہوگی۔

مذکورہ افسر نے بتایا کہ وفاقی حکومت نے کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ نمبرز کو نیشنل ٹیکس نمبر قرار دے دیا ہے اور ایف بی آر کو نادرا کے ڈیٹا تک رسائی دینے کا مقصد لوگوں کے کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ نمبر کے ذریعے ان کی ٹرانزیکشنز کا سراغ لگاکر انہیں ٹیکس نیٹ میں لانا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ مذکورہ اختیارات کے تحت ایف بی آر کا براڈننگ آف ٹیکس بیس ڈپارٹمنٹ نادرا کے ڈیٹا کی آن لائن مانیٹرنگ کر سکے گا اور اس چیکنگ کے دوران جو لوگ بھاری ٹرانزیکشن کے حامل پائے جائیں گے تو انہیں انکم ٹیکس میں لازمی رجسٹریشن کے قانون کے تحت رجسٹرڈ کرلیا جائے گا اور انکم ٹیکس میں لازمی رجسٹریشن کے بعد انہیں انکم ٹیکس گوشوارے جمع کروانے کے آن لائن نوٹسز جاری ہوں گے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ انکم ٹیکس میں لازمی رجسٹریشن کے باوجود جو لوگ انکم ٹیکس گوشوارے جمع نہیں کرائیں گے ان کے ذمے ٹیکس واجبات کا تعین کرنے کے لیے کارروائی کی جائے گی اور تمام قانونی تقاضے پورے کرنے کے بعد ٹیکس واجبات کے اسیسمنٹ آرڈر جاری کیے جائیں گے اور ریکوری کی جائے گی۔

وفاقی حکومت کی جانب سے گزشتہ چندسال سے کیے جانے والے اقدامات کے نتیجے میں آٹومیشن کو فروغ حاصل ہوا ہے اور بینک ٹرانزیکشن کے ساتھ منقولہ و غیر منقولہ جائیداد کی لین دین، گاڑیوں کی بکنگ وخریداری ،بیرون ملک سفرسمیت دیگر اقسام کے لین دین میں کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ نمبرز استعمال ہوتے ہیں اس لیے نادرا کے ڈیٹا بینک سے  یہ تمام ریکارڈ چیک ہوسکے گا اور نئے لوگوں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے ساتھ ساتھ ٹیکس بچانے کے لیے آمدنی چھپانے والوں کا بھی سُراغ لگانے میں میں مدد ملے گی اور بلیک اکانومی کے حجم میں بھی کمی واقع ہوگی۔

 

کینسر کے مرض کی جانچ کے لیے ’تشخیصی کِٹ‘ تیار

برلن: سائنس دانوں نے کینسر کی تشخیص کے لیے ایک کِٹ تیار کرلی ہے جس کے ذریعے کوئی بھی مریض خود سے کینسر کے مرض کا پتہ چلا سکے گا۔

سائنس دان ایچ آئی وی وائرس کی تشخیص کے لیے ایک سادہ سی کٹ تیار کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں جس کے ذریعے کوئی بھی شخص خود سے خون میں اس موزی وائرس کی موجودگی کا پتہ چلا سکتا ہے اور بروقت تشخیص کے ذریعے اس مرض کو شکست دی جاسکتی ہے۔ یہ سادہ ٹیسٹ لیبارٹری جائے بغیر گھر میں بھی انجام دیا جاسکتا ہے جو نہایت ارزاں قیمت بھی ہے۔

کینسر کے مرض کی تشخیص کے لیے کی جانے والی اس کامیاب تشخیصی کٹ کو تجرباتی بنیاد پر رواں سال اپریل میں پیش کیا گیا تھا جسے اب دنیا بھر میں سال کے آخر تک مارکیٹ کیا جا سکے گا۔ جرمنی کی وزارت صحت نے ایچ آئی وی وائرس کو ٹیسٹ کرنے کے لیے خود تشخیصی کِٹ کی جلد دستیابی کے لیے اقدامات کر لیے ہیں اسی طرح امریکا سمیت دیگر ممالک میں بھی اس ٹیسٹ کٹ کو ماہرین طب کی جانب سے پذیرائی حاصل ہورہی ہے۔

جرمن وزارت صحت کا کہنا ہے کہ کینسر کی تشخیص کے لیے ’ٹیسٹ کٹ‘ کی ہر خاص و عام کو دستیابی کا مقصد پرائیوسی کو برقرار رکھتے ہوئے مدافعتی نظام کو نقصان پہنچانے والے ایچ آئی وائرس کی موجودگی کا پتہ چلانا ہے تاکہ مریض بروقت علاج کا آغاز کرسکیں گے۔ جرمنی میں 88 ہزار افراد کینسر کے مرض میں مبتلا ہیں اور 13 ہزار ایسے مریض ہیں جنہیں اپنے جسم میں کینسر کی موجودگی کا علم ہی نہیں۔

واضح رہےکہ کینسر اس وقت ایک بڑا چیلنج ہے اور اس کی اولین شناخت کے لیے دنیا بھر میں تحقیق کی جارہی ہے امید کی جا رہی ہے کہ یہ خود تشخیصی کٹ اسی برس کے آخر تک فروخت کے لیے دستیاب ہو گی۔

 

Google Analytics Alternative