Home » 2018 » July

Monthly Archives: July 2018

اپوزیشن جماعتوں کا تحریک انصاف کےخلاف مشترکہ حکمت عملی پر اتفاق

مسلم لیگ (ن)، پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی)، متحدہ مجلس عمل (ایم ایم اے) اور عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) نے پارلیمنٹ میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے خلاف مشترکہ حکمت عملی اپنانے پر اتفاق کرلیا۔

اسلام آباد میں چاروں پارلیمانی جماعتوں کے سینئر رہنماؤں کے درمیان ملاقات کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ ’ملاقات میں متفقہ طور پر تاریخی دھاندلی زدہ الیکشن کو مسترد اور مشترکہ پارلیمانی حکمت عملی تیار کرنے پر اتفاق کیا گیا۔‘ انہوں نے کہا کہ ’چاروں جماعتوں نے پارلیمنٹ کے اندر اور باہر قوت کے ساتھ اپوزیشن کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔‘

سابق وزیر اعظم نے ’غیر ریاستی اداروں‘ کی مداخلت کی مذمت بھی کی۔

مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما راجہ ظفر الحق نے الزام لگایا کہ ’انتخابات کے دوران الیکشن کمیشن بے بس نظر آیا اور چیف الیکشن کمشنر کو غیر موثر کر دیا گیا، لہٰذا الیکشن کمیشن کو مستعفی ہوجانا چاہیے۔‘

ایم ایم اے کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا تھا کہ ’جن اداروں نے عوام کا مینڈیٹ چوری کیا انہیں شرم آنی چاہیے۔‘

ان کا مشترکہ حکمت عملی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ’ہر پارٹی نے اپنی رائے دی ہے، ابھی مشاورت ہورہی ہے متفقہ لائحہ عمل میں وقت لگ سکتا ہے جبکہ جماعتوں میں اختلاف رائے بھی ہے جسے ختم کرنا ہوگا۔‘

انہوں نے کہا کہ ’ہم نے متفقہ طور پر انتخابات کے نتائج کو مسترد کیا ہے، اب ہم مستقبل کے لائحہ عمل کے لیے بھی اتفاق رائے قائم کرنا چاہتے ہیں۔‘

 

قومی اسمبلی کے سابق اسپیکر ایاز صادق کے گھر ہونے والی اس ملاقات سے متعلق مسلم لیگ (ن) کے رہنما مشاہد حسین سید کا کہنا تھا کہ یہ ملاقات دونوں جماعتوں کے تعلقات کے درمیان ’برف پگھلنے کے مترادف تھی‘۔

تعلقات میں نئے دور کے آغاز پر تیار ہیں، مودی کا عمران خان کو فون

اسلام آباد: بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سے ٹیلی فونک گفتگو میں پاکستان کے ساتھ تعلقات میں نئے دور کے آغاز کے عزم کا اظہار کردیا۔

تحریک انصاف کے میڈیا ڈیپارٹمنٹ سے جاری بیان کے مطابق نریندر مودی نے عمران خان کو ٹیلی فون کرکے انتخاب میں کامیابی پر مبارکباد پیش کی اور نیک تمناؤں اور خواہشات کا اظہار کیا۔

بھارتی وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان کے ساتھ تعلقات میں نئے دور کے آغاز پر تیار ہیں، تاہم معاملات آگے بڑھانے کے لیے دونوں ممالک کو مشترکہ حکمت عملی اپنانا ہوگی۔

چیئرمین تحریک انصاف نے مبارکباد اور نیک تمناؤں کے اظہار پر بھارتی وزیر اعظم کا شکریہ ادا کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ بات چیت کے ذریعے تنازعات کے حل کی تدبیر کی جانی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ ’جنگیں اور خونریزی سے تناعات کے حل کی بجائے المیے جنم لیتے ہیں، جبکہ دونوں ممالک کے عوام کو غربت کے بے رحم شکنجے سے نکالنے کے لیے حکومتوں کو مشترکہ تدابیر کرنا ہوں گی۔

دوسری جانب بھارت کی وزارت خارجہ سے جاری بیان میں کہا گیا کہ نریندر مودی نے عمران خان سے ٹیلی فونک گفتگو میں امید کا اظہار کیا کہ حالیہ انتخابات سے پاکستان میں جمہوریت کی جڑی مضبوط ہوں گی۔

انہوں نے پورے خطے میں امن اور ترقی کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

چینی سفیر کی عمران خان سے ملاقات

دوسری جانب عوامی جمہوریہ چین کے پاکستان میں سفیر یاؤ جنگ نے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان سے بنی گالہ میں ملاقات کی اور انہیں چینی حکومت اور کمیونسٹ پارٹی کی جانب سے عام انتخابات میں کامیابی پر مبارک باد پیش کی۔

تحریک انصاف کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق چینی سفیر نے انتخابات کے بعد خطاب میں چین کے بارے میں چیئرمین تحریک انصاف کے خیالات کا خیر مقدم کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے بانیان کی جدوجہد تاریخ میں منفرد مقام کی حامل ہے، پاکستان کے انتظامی ڈھانچے میں اصلاحات اور قانون کی بالادستی کے حوالے سے تحریک انصاف کے نظریے کی حمایت کرتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں غربت کے خاتمے کے حوالے سے چیئرمین تحریک انصاف کا نظریہ قابل تعریف ہے، معیشت، سفارت اور عالمی معاملات میں پاکستان کی بھرپور معاونت جاری رکھیں گے۔

اس موقع پر چیئرمین تحریک انصاف نے تہنیتی پیغامات اور نیک تمناؤں کے اظہار پر چینی قیادت کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ تحریک انصاف چین کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کو نہایت اہمیت کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ غربت کے خاتمے کیلئے چین کے تجربات سے بھرپور استفادہ کریں گے اور ماحولیات کے تحفظ اور ایکو سولائزیشن کے فروغ کیلئے چین کے ساتھ اشتراک میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہماری حکومت سبز ترقی، نیشنل پارکس اور قابل تجدید توانائی کے فروغ میں بھی چین کی کامیابیوں سے فائدہ اٹھانا چاہے گی۔

خواہش ہے ایم کیو ایم چوری کے مینڈیٹ والی جماعت کے ساتھ نہ بیٹھے

گورنر سندھ محمد زبیر نے پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی) کو آئندہ پانچ سال حکومت کرنے کا مینڈیٹ دے دیا۔

بہادر آباد میں متحدہ قومی موومنٹ پاکستان (ایم کیو ایم) کے رہنماؤں سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہماری تو خواہش ہے کہ ایم کیو ایم قومی اسمبلی میں اپوزیشن کی نشستوں پر اگلے پانچ سال تک ہمارے ساتھ بیٹھے۔

گورنر سندھ نے ایم کیو ایم کے رہنماؤں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ہمیشہ کی طرح ہمیں دعوت دی اور ہم نے پاکستان اور بالخصوص کراچی کے مسائل پر بات کی۔

انہوں نے کہا کہ الیکشن کے بعد ملک میں پیدا ہونے والے سیاسی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

محمد زبیر کا کہنا تھا کہ خواہش ہے کہ ایم کیو ایم اس جماعت کے ساتھ نہ بیٹھے جو چوری کے مینڈیٹ سے حکومت بنانے جارہی ہے، متحدہ کا چوری کے مینڈیٹ والی جماعت کے ساتھ بیٹھنا سوالیہ نشان ہوگا۔

قومی اسمبلی میں ایم کیو ایم کی حمایت سے متعلق سوال پر گورنر سندھ نے کہا کہ ضروری تو نہیں کہ ہر دفعہ ہم ایم کیو ایم سے ووٹ مانگنے آئیں، ملک کی مجموعی صورتحال پر گفتگو بھی کرسکتے ہیں۔

الیکشن میں مبینہ دھاندلی کے بارے میں انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی نے بھی انتخابی نتائج کو مسترد کردیا ہے، جس طرح انتخابی عمل پر ہمارے تحفظات ہیں اسی طرح ایم کیو ایم بھی اس حوالے سے شکوک و شبہات کا اظہار کرچکی ہے۔

محمد زبیر نے کہا کہ ایم کیو ایم ایک سیاسی حقیقت ہے، کراچی اور حیدرآباد میں کئی سالوں سے ان کا مینڈیٹ رہا ہے، ایم کیو ایم کو مٹانے کی بہت کوششیں کی گئیں لیکن ایسا نہیں ہوسکا۔

اس موقع پر ایم کیو ایم رہنما فاروق ستار نے محمد زبیر سے مائیک لے کر شعر پڑھا’’ ابھی غنیمت ہے صبر میرا، ابھی لبالب بھرا نہیں ہے۔ وہ مجھ کو مردہ سمجھ رہا ہے، اسے کہو میں مرا نہیں‘‘۔

کراچی میں کیے گئے آپریشن سے متعلق سوال پر گورنر سندھ نے کہا کہ ماضی میں جتنے آپریشن کیے گئے وہ ایم کیو ایم کے خلاف نہیں دہشت گردوں کے خلاف کیے گئے تھے، ایم کیو ایم نے خود اُن آپریشن میں بہت حد تک ہمارے ساتھ تعاون بھی کیا تھا۔

ایم کیو ایم رہنما فیصل سبزواری نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایم کیو ایم نے سب سے پہلے چیف الیکشن کمشنر سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا تھا، ہم نے ہی سب سے پہلے کہا تھا کہ یہ پاکستان کے پہلے انتخابات ہیں جن میں الیکشن کمیشن دھاندلی میں براہ راست ملوث ہے۔

انہوں نے کہا کہ آر ٹی ایس سسٹم نہیں چلا، یہ الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے، فارم 45 دینا پریذائڈنگ افسر کی ذمہ داری تھی، آج کہتے ہیں کہ الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ پر فارم 45 لگادیے جائیں گے، تو کسے پتا ہے کہ یہ فارم 45 کہاں بیٹھ کر بھرے گئے ہیں۔

فیصل سبزواری نے جہانگیر ترین سے ممکنہ ملاقات کے حوالے سے سوال پر کہا کہ پی ٹی آئی رہنما کا وفد ہمارے پاس آئے گا تو ہم ان سے ضرور ملیں گے اور ان کی بات کو رابطہ کمیٹی میں لے کر جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ کراچی آپریشن سے متعلق ہمارے بہت سے تحفظات تھے جن کا ذکر ہم نے مسلم لیگ (ن) کے ساتھ کئی بار کیا ہے، ہمارا مؤقف ہے کہ کراچی میں ٹارگٹڈ آپریشن بہت ہوچکے اب اس شہر میں ٹارگٹڈ ڈیولپمنٹ کی ضرورت ہے۔

وفاق اور پنجاب حکومت کیلئے نمبرگیم پوری کرلی،فواد چوہدری کا دعویٰ

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے مرکزی رہنما فواد چوہدری نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کی جماعت نے مرکز اور پنجاب میں حکومت سازی کے لیے مطلوبہ اراکین کی تعداد پوری کرلی۔

اسلام آباد میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے فواد چوہدری نے کہا کہ ’وفاق اور پنجاب میں حکومت سازی کے لیے (ق) لیگ سے فارمولا طے پاگیا ہے اور مسلم لیگ (ق)، تحریک انصاف کے ساتھ حکمراں اتحاد میں شامل ہوگی، وزیر اعلیٰ پنجاب تحریک انصاف سے ہی ہوگا جس کا حتمی فیصلہ عمران خان کریں گے جبکہ ایم کیو ایم کو اتحاد میں شامل کرنے کے لیے جہانگیر ترین مذاکرات کریں گے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’قومی اسمبلی کی 270 نشستوں پر انتخابات ہوئے ہیں جبکہ کئی ارکان ایسے ہیں جنہوں نے ایک سے زائد نشستوں پر کامیابی حاصل کی جو انہیں چھوڑنا ہوں گی، اس لیے مخصوص اور اقلیتی نشستوں کو ملا کر ایوان زیریں لگ بھگ 330 کا رہ جاتا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ’ تحریک انصاف کو مخصوص نشستیں ملا کر 144 نشستیں ملیں گی، (ق) لیگ کی 4، ایم کیو ایم کی 7، بلوچستان عوامی پارٹی کی 2، گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس کی 2 جبکہ قومی اسمبلی کی نشستیں جیتنے والے 7 آزاد اراکین ہمارے ساتھ شامل ہوچکے ہیں، اس طرح ہماری کُل نشستیں 168 بن رہی ہیں۔‘

فواد چوہدری نے کہا کہ ’پنجاب اسمبلی کی کُل نشستیں 371 ہیں لیکن جن نشستوں پر انتخابات ہوئے اور جن پر ضمنی انتخابات ہوں گے اس کے بعد یہ ایوان بھی لگ بھگ 360 اراکین پر مشتمل ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’آزاد امیدواروں، اتحادیوں اور خواتین کی مخصوص نشستیں ملا کر پنجاب اسمبلی کے لیے ہماری نشستیں 180 سے زائد ہوچکی ہیں جس کے بعد ہم اس صوبے میں بھی حکومت بنانے کی پوزیشن میں آگئے ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ ’بلوچستان میں مخلوط حکومت بنائیں گے جس کے لیے مذاکرات آخری مراحل میں ہیں جبکہ خیبر پختونخوا میں ہم دو تہائی اکثریت سے حکومت بنائیں گے۔‘

— فوٹو: فہد چوہدری
— فوٹو: فہد چوہدری

(ق) لیگ کے وفد کی عمران خان سے ملاقات

قبل ازیں چوہدری شجاعت حسین اور پرویز الہٰی سمیت مسلم لیگ (ق) کے وفد نے چیئرمین تحریک انصاف عمران خان سے بنی گالا میں ملاقات کی اور انہیں انتخابات میں کامیابی پر مبارکباد دی۔

ملاقات کے دوران (ق) لیگ نے عمران خان کو وفاق اور پنجاب میں حکومت سازی کے لیے بھر پور تعاون کی یقین دہانی کرائی۔

عمران خان کو جتوانے کے لیے ایک نہیں بلکہ فل پنکچر لگائے گئے، خورشید شاہ

 اسلام آباد: پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنما خورشید شاہ کا کہنا ہے کہ عمران خان کو جتوانے کے لیے ایک پنکچر نہیں بلکہ فل پنکچر لگائے گئے ہیں۔

ایک بیان میں پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنما خورشید شاہ کاکہنا تھا کہ الیکشن کا نتیجہ دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ عمران خان کی ارینج میرج ہوئی ہے، عمران خان کو جتوانے کے لیے ایک پنکچر نہیں بلکہ فل پنکچر لگائے گئے ہیں اور یہ پنکچر عمران خان کے تمام حلقوں میں لگائے گئے۔

خورشید شاہ نے کہا کہ الیکشن کا پوسٹ مارٹم کرنا ہے تو صرف چند حلقے کھول لیں، یوسف رضا گیلانی، رسول بخش چانڈیو، فیصل صالح حیات، اعجاز جاکھرانی اور سعد رفیق کے حلقوں میں پنکچر لگائے گئے، یہ حلقے مثال کے طور پر دیے ہیں جب کہ عمران خان کو جتوانے کے لیے 35 سے زائد حلقوں میں جھرلو پھیرا گیا۔

دھاندلی الزامات، الیکشن کمیشن کا فارم45 منظر عام پر لانے کا فیصلہ

adaria

عام انتخابات2018ء میں فارم 45 کا تنازع ، الیکشن کمیشن کا بڑا فیصلہ ملک بھر کے فارم 45 عوام کے سامنے رکھنے کا فیصلہ کرلیا گیا ، الیکشن کمیشن آف پاکستان ین اس معاملے میں چاروں صوبائی الیکشن کمشنر کو ہدایات جاری کردی ہیں ۔ 83 ہزار سے زائد فارم 45 الیکشن کمیشن نے ملک بھر سے فارم 45کا ریکارڈ طلب کرلیا اور صوبائی کمشنرز کو ریٹرننگ افسران سے فوری فارم 45 حاصل کرنے کی ہدایات جاری کردی گئی ہیں یہ فیصلہ مختلف سیاسی جماعتوں کی طرف سے فارم 45 نہ ملنے کی شکایات پر کیا گیا ہے،فارم 45 ویب سائٹ پر اپ لوڈ کرنے میں 4سے 5 روز درکار ہوں گے یہ فارم پہلے فارم 14 کے نام سے جانا جاتا تھا یہ فار کسی بھی پولنگ اسٹیشن میں ڈالے گئے ووٹوں کی گنتی کا سرکاری اعلان ہوتا ہے اس فارم میں متعلقہ حلقے میں تمام امیدواروں کو ڈالے گئے کل ووٹوں اور مسترد ہونے والے بیلٹ پیپر کا اندراج ہوتا ہے اور اس فارم پر پریزائیڈنگ افسر ، اسسٹنٹ پریزائیڈنگ اور موقع پر اگر کوئی مبصر موجود ہوتو اس کے اور پولنگ ایجنٹس کے دستخط ہوتے ہیں الیکن کمیشن کے فارم 45 پر ہر پولنگ بوتھ سے مرد اور خواتین ووٹرز کے ڈالے گئے ووٹوں کے علیحدہ علیحدہ اعداد و شمار بھی درج ہوتے ہیں ،اعدادوشمار کے یہ نتائج پولنگ اسٹیشنز پر موجود امیدواروں اور ان کے پولنگ ایجنٹس کو فراہم کیے جاتے ہیں تاہم اگر کوئی شخص اس پر دستخط کرنے سے انکار کردے تو پریزائیڈنگ افسر اس پر نوٹ لکھنے کا مجاز ہے جس کے بعد پولنگ اسٹیشن کے نتائج کی نقول پر پریزائیڈنگ افسر کی مہر اور انگوٹھے کا نشان کسی سینیئر اسسٹنٹ پریزائیڈنگ کے دستخط کے بعد اسے امیدوار یا وہاں موجود ان کے ایجنٹس کو فراہم کیا جاتا ہے ۔ الیکشن کمیشن نے یہ فیصلہ سیاسی جماعتوں کی طرف سے دھاندلی کے الزام کے تناظر میں کیا ہے الیکشن کمیشن نے کہا ہے کہ عام انتخابات کا انعقاد آزادانہ، منصفانہ اور شفاف انداز میں ہوا ہے جس کو عالمی مبصرین نے بھی سراہا ہے عالمی سطح پر انتخابی عمل کو صاف و شفاف قرار دیا گیا ہے۔ الیکشن کمیشن کے ترجمان نے پاکستان مسلم لیگ(ن) کے رہنماؤں کی طرف سے کمیشن پر لگائے گے الزامات مسترد کردئیے الیکشن کمیشن نے انتخابات میں دھاندلی یا بے ضابطگیوں کی شکایات کی سماعت کیلئے عذرداری ٹربیونلز تشکیل دیینے کی منظوری دے دی ہے اور ملک بھر میں قومی و صوبائی اسمبلی کیلئے عذرداری ٹریبونلز بنائے جائیں گے الیکشن کمیشن چند روز میں اس کا نوٹیفکیشن جاری کردے گا جبکہ مسلم لیگ(ن) دھاندلی کی تحقیقات کیلئے جوڈیشل کمیشن کا تقاضا کررہی ہے، مسلم لیگ(ن) اپنی شکست کو دھاندلی کے شور شرابے کی نذر کرنا چاہتی ہے لیکن اس کا یہ مشن ناکام رہے گا ۔ انتخابات صاف و شفاف ہوئے اور عالمی سطح پر بھی انتخابی عمل کو سراہا جارہا ہے ، مسلم لیگ (ن) کا بیانیہ درست نہیں انتخابات بھی مسلم لیگ ن کی مات دراصل سابق وزیراعظم کا عدلیہ مخالف بیانیہ ہے۔ کرپشن کو چھپانے کیلئے نواز شریف نے اداروں کو نشانہ بنایا اور کھلے عام پانامہ فیصلے کو نہ ماننے اور عوام کے جذبات کو ابھرنے اور عدلیہ مخالف بیان بازی جاری رکھی جس کو عوام نے مسترد کردیا ۔ عوام نے تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی قیادت پر اعتماد کا اظہار کیا اور انتخابات میں ان کو کامیابی دلوائی ۔ صاف و شفاف انتخابات کو متنازع بنانا درست نہیں مسلم لیگ (ن) اپنے تحفظات والے حلقوں سے دوبارہ گنتی کرواسکتی ہے الیکشن کمیشن نے فارم 45 عوام کے سامنے رکھنے کا فیصلہ کرکے مسلم لیگ(ن) کی طرف سے لگائے گئے دھاندلی الزام کا توڑ کردیا ہے الیکشن کمیشن کا یہ اقدام اس امر کا آئینہ دار ہے کہ انتخابی عمل صاف و شفاف ہے اس کو دھاندلی قرار دینا انصاف کے تقاضوں کے برعکس ہے فارم 45 ویب سائٹ پر ڈالنے سے دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہو جائے گا ۔ دھاندلی کا الزام خود بخود دم توڑ جائے گا ۔ مسلم لیگ(ن) احتجاج کی سیاست کرنے کی بجائے اپوزیشن کا کردار ادا کرے یہی جمہوری تسلسل کیلئے سودمند راستہ ہے ۔ ہار جیت کو قبول کرنا ہی سیاسی بصیرت و تدبر قرار پاتا ہے۔ نواز شریف کے بیانیہ پر ڈٹے رہنا ہٹ دھرمی کے سوا کچھ نہیں،سیاست میں وسیع النظری اور برداشت کے جمہوری کلچر کو اپنانے کی ضرورت ہے۔

افغان صدر کی عمران خان کو مبارکباد
افغان صدر اشرف غنی نے چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کو الیکشن میں کامیابی پر مبارکباد دیتے ہوئے دورہ کابل کی دعوت دی جسے پاکستان کے متوقع وزیراعظم عمران خان نے قبول کرلیا ۔ افغان صدر کا کہنا تھا کہ پاکستان اور افغانستان کے تاریخی تعلقات ہیں اور دونوں ممالک بھائی چارے ، ہمسائیگی اور دوستی کے دیرینہ رشتوں سے منسلک ہیں ، ترجمان پی ٹی آئی نعیم الحق نے بتایا کہ افغان صدر نے کہا عمران خان افغانستان میں بہت مقبول اور نوجوانوں کے ہیرو ہیں، افغان نوجوانوں میں عمران خان کی مقبولیت کی وجہ سے افغانستان میں کرکٹ کو فروغ ملا جبکہ عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان افغانستان میں مکمل امن و خوشحالی چاہتا ہے ۔ چیئرمین پی ٹی آئی میں خداداد صلاحیت ہیں اور وہ نہ صرف اندرونی معاملات کو سدھارنے کی صلاحیت رکھتے ہیں بلکہ بیرونی معاملات کے حل کیلئے بھی پرعزم ہیں عمران خان کی وضع داری ، ثابت قدمی کا یہ عالم ہے کہ انہوں نے 22 سالہ سیاسی جدوجہد کے بعد آج یہ مقام پایا کرپشن کیخلاف ان کا بیانیہ عوام کی امنگوں کا ترجمان قرار پایا عمران خان پر اب بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے دیکھنا یہ ہے کہ وہ اپنے پارٹی منشور پر کہاں تک عمل پیرا ہوتے ہیں۔ عوام ان سے پرامید دکھائی دیتے ہیں اور ان کے سہانے خواب کی تعبیر پی ٹی آئی سے جوڑی ہے خدا کرے عوام کا خواب تعبیری شکل میں سامنے آئے اور یہ ملک امن کا گہوارہ بنے۔ کرپشن کا خاتمہ ہو مسائل زدہ عوام کے مسائل حل ہوں ان کا معیار زندگی بلند ہو،افغان صدر کی طرف سے دعوت نیک شگون ہے۔ افغانستان ہمارا پڑوسی ملک ہے اس سے برادرانہ اسلامی تعلقات ہیں پاکستان افغان کو مستحکم دیکھنا چاہتا ہے اور چاہتا ہے کہ افغانستان میں امن قائم ہو دونوں ملک ایک دوسرے کے قریب آئیں افغان حکومت کو اپنی سرزمین پاکستان کیخلاف استعمال نہیں ہونے دینی چاہیے ۔ امید ہے کہ پاک افغان تعلقات مزید مستحکم ہونگے اور عمران خان اپنی قائدانہ صلاحیتوں سے پڑوسی ممالک کے ساتھ تعلقات خوشگوار بنانے میں کامیاب قرارپائیں۔
تخت لاہور کیلئے جوڑ توڑ
تخت لاہور کا تاج کس کے سر سجتا ہے حکومت سازی کیلئے جوڑ توڑ کا عمل شدت پکڑ چکا ہے۔ پی ٹی آئی کی طرف سے چوہدری سرور، جہانگیر ترین اور علیم خان سرگرم عمل ہیں اور ن لیگ بھی ایڑی چوٹی کا زور لگائے ہوئے ہے تازہ سیاسی منظر نامے میں آزاد ارکان کی شمولیت سے پی ٹی آئی کا پلڑا بھاری ہوتا دکھائی دے رہا ہے ۔ پنجاب میں تحریک انصاف کی 133 سیٹیں ہوگئی ہیں ۔ مسلم لیگ(ق) اور آزاد ارکان کے مزید ارکان بھی پی ٹی آئی میں آسکتے ہیں ۔ تخت لاہور کیلئے پی ٹی آئی اور ن لیگ میں مقابلہ کانٹے دار ہوتا جارہا ہے پی ٹی آئی کا دعویٰ ہے کہ وہ پنجاب میں حکومت بنائے گی جبکہ ن لیگی تخت لاہور اپنے پاس رکھنے کیلئے پرعزم ہیں دیکھنا یہ ہے کہ آخر تخت لاہور کا تاج کون پہنتا ہے اور جوڑ توڑ میں شدت و حدت بڑھ چکی ہے ۔ قسمت کے اس کھیل میں پنجاب کی حکمرانی کس کے سرجاتی ہے عوام بے تاب و بے قرار ہیں لگتا ہے کہ ن لیگ کے ہاتھ سے تخت لاہور نکلتا جارہا ہے۔

وفاق میں مستحکم حکومت بنانے کی پوزیشن میں ہیں: شاہ محمود

اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی کا کہناہے کہ  وفاق میں اتنی عددی اکثریت ہے جس میں مستحکم حکومت بنانے کی پوزیشن میں آچکے ہیں۔

اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شاہ محمودقریشی نے کہا کہ آل پارٹیز کانفرنس میں کچھ عناصر کو کامیابی ہوئی لیکن آج سب اپوزیشن جماعتوں نے مولانا فضل الرحمان کی تجویز کو مسترد کردیا کیونکہ دوہرا معیار نہیں ہوسکتا، جہاں نشستیں ملیں وہاں الیکشن درست باقی جگہ غلط ہیں۔

انہوں نے کہا کہ چیف الیکشن کمشنر کے استعفے کا مطالبہ بلا جوازہے، اسی کمیشن کی سربراہی میں تمام الیکشن ہوئے اور صوبوں میں اسی الیکشن کے نتیجے میں اپنی حکومتیں بنارہے ہیں۔

پی ٹی آئی رہنما کا کہنا تھا کہ لوگوں نے نئے پاکستان کے تصور اور ویژن کو قبول کیا ہے، ہم نئے پاکستان کے تصور کو آگے بڑھانا چاہتے ہیں، ہمیں جو بین الاقوامی کمیونٹی سےسپورٹ مل رہی ہے اس سے حوصلہ بلند ہوا، الیکشن کےبعد اسٹاک مارکیٹ میں استحکام آیا، روپیہ اوپر آیا ہے، یہ سب مثبت اشارے ہیں۔

شاہ محمود قریشی نےکہا کہ انتخابات کو پوری دنیا نےتسلیم کیا اب ہم آگے بڑھنے کی خواہش رکھتے ہیں، عمران خان کے پہلے خطاب کو مخالفین نے بھی تسلیم کیا، قوم سے اپیل ہے ہمارا ساتھ دیں۔

پی ٹی آئی کے وائس چیئرمین کا کہنا تھا کہ وفاق میں اتنی عددی اکثریت ہے جس میں مستحکم حکومت بنانے کی پوزیشن میں آچکے ہیں جب کہ خیبرپختونخوا میں ہم نےتاریخ پلٹ دی جہاں عوام نے نہ صرف موقع دیا بلکہ دو تہائی اکثریت دی، وہاں بڑی بڑی قد آور شخصیات کو ہمارے کم متعارف لوگوں نےشکست دی، یہ عمران  خان کی سوچ کی کامیابی تھی۔

شاہ محمود نے دعویٰ کیا کہ پنجاب میں نمبرز گیم میں (ن) لیگ سے آگے جاچکے ہیں، (ق) لیگ کے ساتھ معاملات آگے بڑھ چکے ہیں، چوہدری شجاعت اور پرویز الٰہی نے ساتھ دینے کا فیصلہ کیا ہے جب کہ بہت سے آزاد امیدوار آگئے ہیں لہٰذا پنجاب میں بھی ہماری حکومت ہوگی، بلوچستان حلیفوں کے ساتھ حکومت بنانے میں کامیاب ہوجائیں گے۔

یونان میں آگ لگنے سے ہلاکتیں 91 ہو گئیں

یونان کے دارالحکومت ایتھنز کے قریب لگنے والی آگ سے ہلاک افراد کی تعداد 91 ہو گئی ہے جب کہ 25 افراد تاحال لاپتہ ہیں۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق ایتھنز کے قریب سمندری تفریحی مقام کنیٹا پر لگنے والی آگ سے خواتین اور بچوں سمیت ہلاکتوں کی تعداد 91 تک پہنچ گئی ہے۔

مقامی حکام کے مطابق آتشزدگی کے واقعے کے بعد سے 25 افراد تاحال لاپتہ ہیں جن کی تلاش کے لیے امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔

ڈیزاسٹر منیجمنٹ ادارے کے حکام کے مطابق مرنے والوں میں چار غیرملکی بھی شامل ہیں جن کی شناخت کرلی گئی ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ جھلس کے ہلاک ہونے والے 28 افراد کی شناخت کے لیے ان کے اعضاء کے نمونے فرانزک لیب بھجوا دیے گئے ہیں۔

خیال رہے کہ 23 جولائی کو ایتھنز کے قریب واقع کنیٹا کے علاقے میں اچانک آگ بھڑک اٹھی تھی جس نے تیز ہوا کے جھونکوں کے باعث بہت بڑے علاقے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔

برسلز میں واقع ریسرچ سینٹر کے ڈیٹابیس کے مطابق سن 1900 کے بعد یہ یورپ میں آگ لگنے کا بدترین واقعہ ہے۔

Google Analytics Alternative