Home » 2018 » July » 02

Daily Archives: July 2, 2018

جانئے آج آپ کا دن کیسا رہے گا

حمل:

21مارچ تا21اپریلآپ بے انتہا مغرور ہیں اس میں کوئی کلام نہیں کہ آپ اعلیٰ صلاحیتوں کے بھی مالک ہیں لیکن اس کا یہ مطلب تو نہیں کہ دوسروں کو خاطر میں نہ لا یا جائے لہٰذا اپنے مزاج کو بدلنے کی کوشش کریں۔

ثور:
22اپریل تا20مئی

آپ کا رویہ اپنے چھوٹوں کے ساتھ بہت ہی غلط ہوتا ہے آخر آپ اس حقیقت کو کیوں نظر انداز کر دیتے ہیں کہ آج کے چھوٹے کل کے بڑے ہوں گے۔ اور اس وقت آپ کا مقام کیا ہو گا۔

جوزا:
21مئی تا21جون

اگر خوشگوار زندگی بسر کرنا چاہتے ہیں تو بتدریج اپنے آپ کو بدلنے کی کوشش کریں سب سے الگ تھلگ رہ کر زندگی گزارنا اچھے لوگوں کا دستور نہیں ہوتا۔ صحت جسمانی گاہے بہ گاہے خراب ہو سکتی ہے۔

سرطان:
22جون تا23جولائی

رشتوں کو بھی سمجھنے کی کوشش کریں بعض ایسے رشتے بھی ہیں جنہیں چھوڑ کر یا ان سے دور رہ کر آپ کبھی خوش نہیں رہ سکتے۔ آپ کا مزاج شاہی انداز اپنائے ہوئے ہے۔

 

اسد:
24جولائی تا23اگست

آپ کے بعض اہم کام التواء میں پڑ سکتے ہیں مالی مشکلات سے بھی دو چار ہونا پڑ سکتا ہے لہٰذا ہمارا پہلا مشورہ تو یہ ہے کہ آپ کے پاس اگر کچھ رقم ہے تو اسے فضول کاموں کی نذز نہ کریں۔

سنبلہ:
24اگست تا23ستمبر

خود کو مزاجی طور پر قدرے سرد ہی رکھنے کی کوشش کریں۔ اپنے شریک حیات کو ناراض ہونے موقع نہ دیں تاکہ گھریلو گاڑی متوازن طریقے سے اپنی منزل کی جانب گامزن رہ سکے۔

میزان:
24ستمبر تا23اکتوبر

چند اہم کاموں میں آپ نے حیران کن کامیابی حاصل کی ان کامیابیوں کے پیچھے ہمارے ان مشوروں کا کس قدر ہاتھ ہے جہ کہ ہم نے آپ کو ن ہی صفحات پر دئیے ہیں اس کا اندازہ آپ خود لگا سکتے ہیں۔

عقرب:
24اکتوبر تا 22نومبر

آپ گزشتہ کی طرح محتاط رہ کر ہر کام کریں۔ انشاء اللہ تعالیٰ ناکامیاں کم ہی ہوں گی۔ کاروبار میں تھوڑی سے تبدیلی بھی کی جا سکتی ہے تاکہ آپ کو متوقع نقصان انتہائی کم ہو۔

قوس:
23نومبر تا22دسمبر

مکان کی تعمیر و مرمت کے پلان کو آپ عملی شکل دے سکیں گے۔ بسلسلہ تعلیم آپ کو شاندار کامیابی حاصل ہو سکے گی۔غیر شادی شدہ افراد اپنا دامن بچانے کی کوشش کریں۔

جدی:
23دسمبر تا20جنوری

اگر آپ ہر کام کے سلسلے میں جلد بازی کا طریقہ اختیار کرنے کی بجائے سوچ بچار اور دور اندیشی کے فوائد کو پیش نظر رکھ لیں تو پھر زندگی میں بہت کم ناکامیوں کا سامنا کر نا پڑ سکتا ہے۔

دلو:
21جنوری تا19فروری

ملازمت میں تھوڑی بہت گڑ بڑ ہو سکتی ہے۔ آپ انپے فرائض پوری ہوشمندی کے ساتھ انجام دیں تاکہ ملازمت قائم رہ جائے ۔ آپ کا رہائشی سلسلہ تھوڑی سی جدو جہد سے حل ہو سکتا ہے۔

حوت:
20 فروری تا 20 مارچ

مخالفت کو مزید ہوا نہ دیں یہ تو جنگل کی آگ ہے اگر بھڑک اٹھی تو سب کچھ اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے لہٰذا اگر کوئی مخالف صلح کرنا چاہے تو بھی اسے مایوس نہ کریں کیونکہ اسی میں آپ کی بھلائی چھپی ہے۔

فضل الرحمان ایک مقناطیس ہے جو اقتدار میں ہو اس طرف جھک جاتا ہے،عمران خان

بنوں: چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان نے کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمان ایک مقناطیس ہے جو اقتدار میں ہواس طرف جھک جاتاہے۔

بنوں میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ بنوں کے فرعون کا مقابلہ کرنے آیا ہوں، اکرم خان دورانی اقتدار سے پہلے کیا تھے سب جانتے ہیں اور اب عوام کو اکرم درانی سے پوچھنا چاہیئے کہ انہوں نے کونسی خدمت کی ہے،  دو سال سے خیبرپختونخوا کی حکومت  بجلی کی پیدوار اور ترقیاتی کاموں کے لیے پرائیویٹ سرمایہ کاروں کے ذریعے سرمایہ کرنے کے لیے سرگرم تھی تاہم (ن) لیگ نے اسے روک دیا ، مجھے کیوں نکالا حکومت نے ایم او یو سائن ہونے کے باوجود اسٹیشن بننے نہیں دئیے کیونکہ (ن) لیگ نے کام اس لئے نہیں ہونے دیا کہ عمران ہمارا تختہ نہ الٹ دے۔

عمران خان نے جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ فضل الرحمان کو مولانا کہنا توہین سمجھتا ہوں، ڈیزل کے پرمٹ پر بکنے والا مولانا نہیں ہوسکتا، مولانا فضل الرحمان ایک مقناطیس ہے جو اقتدار میں ہواس طرف جھک جاتاہے۔

عمران خان نے کہا کہ میں یہ نہیں کہتا کہ پشاور کو پیرس بنادیا لیکن سندھ اور پنجاب میں کئی بار برسراقتدار رہنے والی حکومتوں سے خیبرپختونخوا حکومت کی کارکردگی کا مقابلہ کریں تو کے پی حکومت نے پولیس کو غیر سیاسی کرکے اسے مثالی بنایا، تعلیم اور صحت کے شعبوں میں بہترین اور انقلابی اصلاحات کی، مثالی بلدیاتی نظام بنایا اور پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار کسی حکومت نے ایک ارب درخت لگائے، چار ہفتوں میں فیصلہ ہوگا کہ یہ ملک قائد اعظم محمد علی جناح کا پاکستان کا بنے گا یا چوروں اور ڈاکوں کا بنے گا۔

لیاری میں بلاول بھٹو کے قافلے پر مشتعل مظاہرین کا حملہ، متعدد افراد زخمی

کراچی: پیپلز پارٹی کا مضبوط گڑھ سمجھے جانے والے علاقے لیاری میں چیئرمین پی پی پی بلاول بھٹو زرداری کے قافلے پر مشتعل افراد نے پتھراؤ کردیا اور ڈنڈوں سے ان کے قافلے میں شامل متعدد گاڑیوں کے شیشے توڑ دیئے۔

کراچی کے حلقے این اے 246 لیاری میں پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اپنی انتخابی مہم کا آغاز کردیا۔ بلاول بھٹو خطاب کے لیے لیاری کے دورے پر پہنچے تو جونا مسجد کے مقام پر سیکڑوں مشتعل افراد سڑکوں پر نکل آئے اور قافلے کو آگے جانے سے روک دیا۔

نامعلوم مشتعل مظاہرین نے بلاول کے قافلے پر حملہ کردیا اور شدید نعرے بازی کی جب کہ پولیس موبائل سمیت متعدد گاڑیوں کے شیشے بھی توڑ دیئے گئے۔ مشتعل مظاہرین نے ہاتھوں میں ڈنڈے اور پتھر اٹھارکھے تھے اور جیسے ہی بلاول بھٹو کی گاڑی قریب آئی تو اس کو گھیرے میں لے کر شدید پتھراؤ کیا۔ مظاہرین نے پیپلز پارٹی کے پرچم بھی نذر آتش کردیے۔

اس موقع پر پی پی پی کے کارکنوں اور مظاہرین کے درمیان بھی تصادم ہوا جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوگئے۔ راستہ نہ ملنے کی وجہ سے بلاول کا قافلہ آگے جانے میں ناکام ہوگیا اور واپس روانہ ہوگیا۔ مشتعل افراد کو روکنے کے لئے پولیس نے لاٹھی چارج کیا تاہم مظاہرین قابو سے باہر رہے اور بلاول کے واپس جانے کے باوجود ان کا احتجاج جاری رہا۔ ڈی آئی جی ساوتھ کے مطابق بلاول زرداری اور ان کے ساتھ موجود دیگر رہنما مراد علی شاہ، شیری رحمان محفوظ رہے۔

مظاہرین کا کہنا تھا کہ لیاری پیپلزپارٹی کا گڑھ ہے لیکن یہاں کے عوام آج بھی پانی کی بوند بوند کو ترس رہے ہیں۔ لوگوں نے شدید گرمی  میں پانی کی عدم فراہمی پر پانی کی بوتلیں لہرا کر مظاہرہ کیا۔ خواتین مٹکے اٹھا کر گھروں کی چھتوں پر احتجاج کرتی رہیں اور پانی دو پانی دو کے نعرے لگائے۔

ساری توپوں کا رخ مسلم لیگ (ن) کی طرف ہے، نوازشریف

لندن: سابق وزیراعظم نوازشریف کا کہنا ہے کہ ہمارے کارکنان اور رہنماؤں کو جان بوجھ کر نشانہ بنایا جارہا ہے اور ساری توپوں کا رخ مسلم لیگ (ن) کی طرف ہے۔

لندن میں میڈیا سے غیررسمی گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیراعظم نوازشریف کا کہنا تھا کہ ہمارے کارکنان اور رہنماؤں کو جان بوجھ کر ایک سازش کے تحت نشانہ بنایا جارہا ہے، ملتان میں ہمارے ایم پی اے کے امیدوار رانا اقبال سراج کو تھپڑ مارے گئے، راجن پور کے ایم این ایز اور ایم پی ایز سے ٹکٹ واپس کرائے گئے، یہ سب خبریں میڈیا کے ذریعے مجھ تک پہنچی کیوں کہ میں اپنی اہلیہ کی علالت کے باعث سارا دن اسپتال میں ہوتا ہوں۔

نوازشریف نے کہا کہ گزشتہ روز بھی کہا تھا کہ ساری توپوں کا رخ مسلم لیگ (ن) کی جانب کردیا گیا ہے،  پاکستان انتہائی افسوناک صورتحال سے گزر رہا ہے اور افسوس ہے کہ ہم نے ماضی کی غلطیوں سے کچھ نہیں سیکھا۔

مسلم لیگ میرے خون میں شامل ہے لیکن میری ٹانگ اندر سے کھینچی گئی، چوہدری نثار

ٹیکسلا: سابق وزیرداخلہ چوہدری نثار کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ میرے خون میں شامل ہے لیکن میری ٹانگ اندر سے کھینچی گئی۔

ٹیکسلا میں عید ملن پارٹی سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیرداخلہ چوہدری نثارکا کہنا تھا کہ میں تنہا ہوں میری کوئی برادری نہیں لیکن یہ اللہ کا کرم ہے کہ میں نے کامیاب سیاست کی اور پاکستان کا واحد سیاستدان ہوں جو 8 دفعہ مسلسل ایم این اے بنا لیکن لوگ میرے چہرے سے تنگ نہیں آئے، ایسا کوئی کام نہیں کیا جس پرشرمندگی ہو یا مجھے ووٹ دینے والے شرمندہ ہوں، میں نے بطور وزیر داخلہ جو کام کیا ایمان اور ضمیر کے مطابق کیا۔

چوہدری نثار کا کہنا تھا کہ اللہ نےمجھے سچ بات کرنے کی طاقت دی ہے، سینے پر ہاتھ رکھ کر کہتا ہوں جھوٹ نہیں بولتا، منافقت نہیں کرتا، وفاداریاں بھی نبھاتا ہوں اور مخالفتیں بھی نبھاتا ہوں اور کسی سے ہچکچاتا نہیں، کبھی کسی مخالف کے ساتھ بھی زیادتی نہیں کی، مسلم لیگ میرے خون میں شامل ہے لیکن میری ٹانگ اندر سے کھینچی گئی۔

سابق وزیرداخلہ نے کہا کہ پارٹی میں شامل لوگوں سے پوچھا جائے کہ وہ مجھ سے دشمنی کیوں کررہے ہیں، نوازشریف بتائیں میں نے ان کے ساتھ کون سی بے وفائی کی، ماضی میں جنہوں نے نوازشریف کو گا لیاں دی آج انہیں ہی  پارٹی ٹکٹیں دی گئیں، میں نے کون سے ایسے بیا ن دئیے اور میں کب پارٹی کے ساتھ کھڑا نہیں رہا ، میں نے صرف یہ کہا کہ عدلیہ اور فوج سے مت لڑو اور میرے بیان کو بتنگڑ بنا دیا گیا ، میں ایک ہی راستہ لیتا ہوں اور میں نے اپنا راستہ لے لیا ہے آج کہتے ہیں نثار اکیلا ہے لیکن میں کہتا ہوں کہ میرے لیے اللہ کافی ہے۔

چوہدری نثار علی نے کہا کہ  گزشتہ پانچ سالوں میں (ن) لیگ کی لیڈرشپ نے اسلام کے ساتھ جو کیا اور ناموسِ رسالت پر جو بہت بڑا حملہ ہوا اگر نواز شریف کا چہیتا چیلنج کرے تو بتاوٴں گا۔

عمران خان کو لاہور میں بری طرح شکست دوں گا، خواجہ سعد رفیق

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور سابق وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق کا کہنا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کو لاہور کے حلقہ این اے 131 سے بری طرح شکست دوں گا۔

سابق وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق کا سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے بیان میں کہنا تھا کہ ہمارے مخالفین کی انتخابی مہم جھنڈوں اور پینافلیکسوں پر ہے، وہ افتتاحی مہم کے دوران 200 کارکن بھی نہیں اکٹھے کر سکے لیکن ہم ہر روز 100 گلیوں میں جاتے ہیں اور ہر گلی میں 200 ووٹرز ہمارے ساتھ ہوتے ہیں۔

Khawaja Saad Rafique@KhSaad_Rafique

عمران خان تُم لاہور سے بُری طرح ہارو گے،انشاءاللہ۔ ڈھونڈتے پھرو گے کہ تمہیں لاہور کے اس حلقے میں دھکا کس نے دیا تھا،

انہوں نے کہا کہ عمران خان تُم لاہور سے بُری طرح ہارو گے اور ڈھونڈتے پھرو گے کہ تمہیں لاہور کے اس حلقے میں دھکا کس نے دیا تھا۔

Khawaja Saad Rafique@KhSaad_Rafique

ہمارے مخالفین کی انتخابی مہم جھنڈوں اور فلیکسوں پر ہے۔ وہ افتتاحی مہم کے افتتاح پر دو سو کارکن نہیں اکٹھے کر سکے، ہم ہر روز سو گلیوں میں جاتے ہیں اور ہر گلی میں دو سو ووٹر ہمارے ساتھ ہوتے ہیں

سابق وفاقی وزیر ریلوے کا ٹوئٹ میں کہنا تھا کہ ملکی مسائل کا حل مسلم لیگ (ن) کے پاس ہے اور بڑے ڈیم بھی وہی بنائیں گے جنہوں نے دہشت گردی اور لوڈ شیڈنگ پر قابو پایا، جنہوں نے ریلوے کو بحال کیا اور لواری ٹنل جیسے عشروں سے زیر تکمیل منصوبے مکمل کیے۔

Khawaja Saad Rafique@KhSaad_Rafique

ملکی مسائل کا حل مسلم لیگ ن کے پاس ہے، بڑے ڈیم بھی وہی بنائیں گے جنہوں نے دہشت گردی اور لوڈ شیڈنگ پر قابو پایا، جنہوں نے ریلوے کو بحال کیا اور لواری ٹنل جیسے عشروں سے زیر تکمیل منصوبے مکمل کئے۔

ان کا کہنا ہے کہ میرا مخالف جھوٹا بھی ہے اور بُزدل بھی، یہ عدلیہ بحالی تحریک میں اس وقت جا کے چھپ گیا تھا جب مسلم لیگ ن نواز شریف کی قیادت میں سڑکوں پر تھی۔

Khawaja Saad Rafique@KhSaad_Rafique

آئین اور جمہوریت کے لئے ماریں ہم کھائیں، قومی اور عوامی مسائل ہم حل کریں اور دودھ کوئی بلا آ کے پی جائے، ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے۔

ہم قومی اداروں کا احترام کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ عوام کی نمائندہ پارلیمنٹ کا بھی احترام کیا جائے جو مدر آف انسٹی ٹیوشنز ہے۔

اپنی ٹوئٹ میں ان کا کہنا تھا کہ آئین اور جمہوریت کے لئے ماریں ہم کھائیں، قومی اور عوامی مسائل ہم حل کریں اور دودھ کوئی بلا آ کے پی جائے، ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ہم قومی اداروں کا احترام کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ عوام کی نمائندہ پارلیمنٹ کا بھی احترام کیا جائے جو مدر آف انسٹی ٹیوشنز ہے جب کہ ہم امید کرتے ہیں کہ دھونس اور دھاندلی کی اطلاعات کا نوٹس لیا جائے گا، نگران حکومت کی طرف سے آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کو یقینی بنایا جائے گا۔

Khawaja Saad Rafique@KhSaad_Rafique

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے اور روپے کی قیمت میں کمی کی ذمہ داری مسلم لیگ ن پر کسی طور عائد نہیں کی جا سکتی، بے بنیاد پروپیگنڈہ نہ کیا جائے۔ معیشت کی ذمہ داری جب تک مسلم لیگ ن کے پاس رہی روپے کی قیمت اور زرمبادلہ کے ذخائر مستحکم رہے۔

خواجہ سعد رفیق کا کہنا تھا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے اور روپے کی قیمت میں کمی کی ذمہ داری مسلم لیگ (ن) پر کسی طور عائد نہیں کی جاسکتی، لہذا بے بنیاد پروپیگنڈہ نہ کیا جائے اور معیشت کی ذمہ داری جب تک مسلم لیگ (ن) کے پاس رہی روپے کی قیمت اور زرمبادلہ کے ذخائر مستحکم رہے۔

Khawaja Saad Rafique@KhSaad_Rafique

اب سب کو علم ہو گیا کہ اسحاق ڈار باصلاحیت،محب وطن اور عوام دوست وزیر خزانہ تھے جن کے معترف عالمی ادارے بھی ہیں
مہنگائی اور معیشت کی ابتری کی ذمہ داری دھرنےدینے والے اسد عمر اور انکے سازشی ساتھیوں پر عائد ہوتی ہےجو اب مگرمچھ کے آنسو بہا رہے اور جھوٹ بولنے کے ریکارڈ قائم کر رہے ہیں

ان کا کہنا ہے کہ اب سب کو علم ہو گیا کہ اسحاق ڈار باصلاحیت، محب وطن اور عوام دوست وزیر خزانہ تھے جن کے معترف عالمی ادارے بھی ہیں جب کہ مہنگائی اور معیشت کی ابتری کی ذمہ داری دھرنے دینے والے اسد عمر اور ان کے سازشی ساتھیوں پر عائد ہوتی ہے جو اب مگر مچھ کے آنسو بہا رہے اور جھوٹ بولنے کے ریکارڈ قائم کر رہے ہیں۔

سابق وفاقی وزیر کا ٹوئٹ میں کہنا تھا کہ نواز شریف کی حکومت میں پیٹرول 70 روپے لٹیر رہا اور  پیٹرول درآمد کرنے والے ملکوں میں سب سے سستا پیٹرول پاکستان میں رہا جس پر سب کو شکریہ نواز شریف کہنا چاہیے۔

یاد رہے کہ عام انتخابات 2018 کے موقع پر لاہور کے حلقے این اے 131 پر پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے مدمقابل خواجہ سعد رفیق ن لیگ کے امیدوار ہیں۔

سلمان اور سنجے لیلا کی 11 سال بعد بننے والی فلم کا نام سامنے آگیا

بالی وڈ اداکار سلمان خان اور ہدایت کار سنجے لیلا بھنسالی 11 سال بعد ایک ساتھ فلم بنانے والے ہیں اور اب فلم کا نام بھی سامنے آگیا ہے۔

سنجے لیلا بھنسالی کا شمار بالی وڈ کے بڑے فلمسازوں میں ہوتا ہے جنہوں نے کئی بلاک بسٹر فلمیں دی ہیں۔

ان کی سپر ہٹ فلموں میں ’خاموشی‘، ’ہم دل دے چکے صنم‘، ’دیوداس‘، ’بلیک‘، ’گزارش‘، ’رام لیلا‘، ’باجی راؤ مستانی‘ اور ’پدماوت‘ شامل ہیں۔

ہدایت کار سلمان خان، شاہ رخ خان، ہریتھک روشن اور ایشوریا رائے کے ساتھ کئی فلمیں کرچکے ہیں لیکن اب 11 سال بعد وہ ایک بار پھر سلو میاں کے ساتھ فلم بنانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق سنجے لیلا بھنسالی 11 سال بعد سلمان خان کے ساتھ فلم بنائیں گے جس کے لیے وہ اسکرپٹ پر کام کررہے ہیں۔

فلم کی شوٹنگ اگلے برس شروع ہوگی جبکہ فلم کو عید 2020 کے موقع پر نمائش کے لیے پیش کیے جانے کا امکان ہے۔

بھارتی میڈیا میں زیر گردش خبروں کے مطابق سنجے لیلا بھنسالی کے پروڈکشن ہاؤس نے انڈین فلم موشن پکچرز پروڈیوسرز ایسوسیی ایشن(آئی ایم پی پی اے) میں فلم کا نام’انشاء اللہ‘ رجسٹرڈ کروایا ہے جس کے بعد قیاس کیا جارہا ہے کہ یہی نام سلمان خان والی فلم کا ہے۔

یاد رہے کہ سلمان خان نے سنجے لیلا بھنسالی کی ہدایت کاری میں 1996 میں بننے والی فلم ’خاموشی‘ اور 1999 میں ریلیز ہونے والی  فلم ’ہم دل دے چکے صنم‘ میں مرکزی کردار کیا تھا جب کہ 2007 کی ’سانوریا‘ میں مختصر کردار میں جلوہ گر ہوئے تھے۔

نئے آبی ذخائر کی تعمیر وقت کا تقاضا۔۔۔چیف جسٹس پر عزم

adaria

چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے خوشخبری دی ہے کہ فوری طور پر دو ڈیمز کی تعمیر پر اتفاق رائے ہوگیا ہے،قرض معافی کیس میں ریکور ہونے والے پیسے سے یہ ڈیم بنائے جائیں گے۔چیف جسٹس نے بتایا کہ گزشتہ روز ان کی ڈیمز کے ماہرین اور مختلف اسٹیک ہولڈرز سے جو میٹنگ ہوئی تھی اس کے بعد ملک میں فوری طور پر ڈیمز کی تعمیر پر اتفاق رائے ہوگیا ہے۔سپریم کورٹ میں چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے 54 ارب روپے قرض معافی کیس کی سماعت کر رہا ہے۔دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ قرض معافی کیس میں ریکور ہونے والے پیسے سے ڈیم بنائیں گے، جو رقم واپس نہیں کرنا چاہتے ان کے کیسز بینکنگ عدالت کو بھجوائیں گے اور تمام کمپنیوں، متعلقہ افراد کی جائیدادیں ان کیسز سے منسلک کریں گے۔چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی طرف سے ڈیمز کی تعمیر کے حوالے سے سامنے آنے والا عندیہ نہایت ہی حوصلہ افزا ہے۔خدا کرے جلد اس سلسلے میں عملی اقدامات شروع ہو جائیں کیونکہ ان دنوں ہر طرف پانی پانی کی دہائی ہے،ہر چھوٹی بڑی محفل کا موضوع پانی کی قلت اور ڈیمز کی تعمیر ہے ۔سوشل میڈیا پر نئے ڈیمز کی تعمیر خصوصاً کالاباغ ڈیم کی تعمیر کا مطالبہ زور پکڑ چکا ہے۔اس حقیقت سے انکار نہیں کہ پاکستان ان ممالک میں شامل ہو چکا ہے جہاں پانی نایاب ہونے کو ہے۔ یہ خدشہ تو ظاہر کیا جاتا ہے کہ مستقبل کی جنگیں پانی پر ہوں گی مگر اب تو قلت آب کو دہشت گردی سے بھی بڑاخطرہ قراردیا جا رہا ہے۔آئی ایم ایف کی ایک تازہ رپورٹ کے مطابق پانی کی سنگین قلت کے شکار ممالک کی فہرست میں پاکستان تیسرے نمبر پر آ چکا ہے۔جبکہ اقوام متحدہ کے ادارے یو این ڈی پی اور آبی ذخائر کے لیے پاکستانی کونسل برائے تحقیق (پی سی آر ڈبلیو آر)نے خبردار کیا ہے کہ 2025 تک پاکستان پانی کے شدید بحران کا شکار ہو سکتا ہے اور اس بحران کی وجہ سے پاکستان کا کوئی علاقہ بھی نہیں بچ سکے گا۔محققین نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا ہے کہ 2040 تک شہریوں کی پانی کی طلب کو پورا کرنے کے حوالے سے پاکستان شدید مشکلات کا شکار ہو جائے گا ۔ اس صورتحال میں کئی عالمی اداروں نے پاکستانی حکام کو خبردار کیا ہے کہ پانی کے بحران سے نمٹنے کے لیے فوری ایکشن نہ لیا گیا تو صورتحال قابو سے باہر ہو سکتی ہے۔ ادھر انڈس ریور سسٹم اتھارٹی کے حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان کے دو بڑے آبی ذخائر میں پانی صرف تیس دن کی ضرورت کے لیے ہی ذخیرہ کیا جا سکتا ہے جوکہ کم از کم 120 دن تک ہونا چاہیے جبکہ بھارت ایک سو نوے دنوں تک کے استعمال کے لیے پانی اسٹور کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ پاکستان کو دریاں اور بارشوں کی صورت میں سالانہ تقریباً 115ملین ایکڑ فٹ پانی دستیاب ہوتا ہے۔ اس پانی کا زیادہ تر حصہ یعنی 93 فیصد زراعت کے لیے استعمال ہوتا ہے اور پانچ فیصد گھریلو اور دو فیصد صنعتی شعبے میں استعمال ہوتا ہے۔ تاہم اری گیشن نیٹ ورک بد حالی کا شکار ہونے کے باعث زرعی شعبے کو ملنے والے پانی کا 70فیصد حصہ ترسیل کے دوران ضائع ہوجاتا ہے۔کئی ماہرین زور دے رہے ہیں کہ اس مسئلے کے حل کی خاطر حکام کو فوری اقدامات کرنے کی ضرورت ہے اور سیاسی عزم کا مظاہرہ کرنا ہو گا۔ پانی کے ذخائر قائم کرنے کے ساتھ ساتھ پانی کو ضائع ہونے سے بھی روکنا ہوگا جو ہر سال تقریباً 46 ملین ایکڑ فٹ ضائع ہوتا ہے۔رواں سال اپریل میں سابق حکومت نے پاکستان کی پہلی قومی واٹر پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے وعدہ کیا تھا کہ پاکستان میں پانی کے بحران پر قابو پانے کی خاطر پہلے سے جاری کوششوں کو مزید بہتر بنایا جائے گا۔ تاہم ماہرین، حکومت کی طرف سے کیے گئے ان اعلانات کو محض اعلان ہی سمجھتے ہیں۔پانی کی قلت کا اندازہ اس سے بھی لگا لینا چاہیے کہ 1948 میں سالانہ فی کس پچاس لاکھ لٹر پانی موجود ہوتا تھا۔ جو اب کم ہوکر دس لاکھ لٹر فی کس رہ گیا ہے جو سال 2025 تک خطرناک حد تک کم ہوکر آٹھ لاکھ لٹر فی کس تک ہوجا ئے گا۔ماہرین خدشہ ظاہر کر رہے ہیں کہ تب ملک میں 80 فیصد لوگوں کو گھروں میں نلکوں کے ذریعے پانی مہیا نہیں ہوسکے گا اور زراعت کو بڑی حد تک نقصان پہنچے گا۔ایسے سنگین حالات میں ضروری ہو گیا ہے ملک میں نئے آبی ذخائر کی تعمیر ہنگامی بنیادوں پر شروع کی جائے۔چیف جسٹس آف پاکستان کی کوششیں لائق تحسین ہیں۔ہمیں امید ہے کہ وہ اس معاملے کو منطقی حل تک لے جانے میں کامیاب ہونگے۔

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ظالمانہ اضافہ
نگراں حکومت نے ایک ماہ میں دوسری بار پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کرکے یہ ثابت کیا ہے کہ اسے بھی عوامی مسائل سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔نگران سیٹ اپ کی مہربانی سے اب پیٹرول کی نئی قیمت 99روپے 50 پیسے فی لیٹر جبکہ ڈیزل کی نئی قیمت 119 روپے 31 پیسے ہوگئی ہے۔محکمہ خزانہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 7 روپے 54 پیسے فی لیٹر اور ڈیزل کی قیمت میں فی لیٹر 14 روپے کا اضافہ کیا گیا ہے ۔ لائٹ ڈیزل کی قیمت میں 5 روپے 92 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے جس کے بعد اس کی فی لیٹر قیمت 80 روپے 91 پیسے پر پہنچ گئی ہے۔ اس ظالمانہ اضافے کا جواز یہ پیش کیا گیا ہے کہ مشکل مالی حالات کے سبب پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ لازمی ہے، نئی قیمتوں کا اطلاق یکم جولائی سے 31جولائی تک ہوگا۔نگران سیٹ اپ کی جانب سے آئے روز بجلی گیس اور تیل کے نرخوں میں اضافہ معمول بنتا جارہا ہے ۔ سات جون کو پٹرولیم مصنوعات اور گیس کے نرخوں میں اضافہ کیا گیا جبکہ دو روز قبل فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی ایک روپے 25 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی منظوری بھی دی گئی۔نگران حکومت کا کام الیکشن کرانا ہوتا ہے نہ کہ عوام کی کھال ادھیڑنا۔چیف جسٹس میاں ثاقب نثار جو پہلے ہی پٹرولیم مصنوعات پر بلاجواز ٹیکسز کیخلاف ازخود نوٹس پر سماعت کر رہے ہیں فوری طور تازہ اضافے کو معطل کرنا چاہیے ۔نگران حکومت کے ایسے اقدامات سے آنے والی حکومت کے لیے مشکلات میں بے تحاشہ اضافہ ہو گا۔بلاشبہ سابق حکومت کی معاشی پالیسی کی وجہ سے ڈالر کی قدر میں اضافہ ہوا جو جواز بنا کر تیل کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا ہے مگر یہ بھی حقیقت ہے عالمی سطح پر خام تیل کی قیمت کم ہوئی ہے۔عوامی نمائندوں کو اس پر احتجاج کرنا چاہیے۔عوام کا جینا پہلے ہی حرام ہو چکا ہے اب اس بھاری بھرکم اضافے سے ٹرانسپورٹیشن کی مد جو اضافہ ہو گا اس کا براہ راست اثر اشیائے خورد و نوش پر پڑے گا۔

Google Analytics Alternative