Home » 2018 » July » 04

Daily Archives: July 4, 2018

جانئے آج آپ کا دن کیسا رہے گا

حمل:
21مارچ تا21اپریل

آپ لاحاصل سوچوں کو اپنے دل و دماغ پر مسلط کر لیں گے، کوشش کیجیے کہ ایسا نہ ہو سکے اس طرح کی سوچ بچار آپکو بیمار کر سکتی ہے، اگر جان بوجھ کر بیمار پلنگ نشین ہونا چاہتے ہیں تو یہ کوئی عقلمندی تو نہیں۔

ثور:
22اپریل تا20مئی

بعض اوقات انسان سب کچھ پانے کے بعد بھی یہ محسوس کرتا ہے کہ اسے کچھ نہیں ملا اس لاحاصل سوچ کو حقیقت کا رنگ دینے سے حاصل بھی تو کچھ نہیں ہو سکتا تو پھر کیوں نہ ہنسی خوشی وقت گزارا جائے۔

جوزا:
21مئی تا21جون

اپنے ان دوستوں پر بھروسہ نہ کریں جو وقت پڑنے پر ہر قسم کی مدد کرنے کا وعدہ کررہے ہیں ۔ حالات تو یہ بھی واضح کررہے ہیں کہ آپکا کوئی عزیز آپکے مخالفوں کے ہاتھ مضبوط کر رہا ہے۔

سرطان:
22جون تا23جولائی

کاروباری حضرات اپنی آمدنی میں معمولی اضافہ کر سکیں گے نیا کاروبار قطعی نہ کیجیے زیادہ بہتر یہی ہے کہ کسی چالو مشترکہ بزنس میں شمولیت اختیار کریں اس طرح آپ زیادہ فائدہ حاصل کر سکیں گے۔

 

اسد:
24جولائی تا23اگست

مقدمہ بازی سے حتی الامکان پرہیز کریں کوشش یہی کریں کہ کسی بھی طرح مخالفین سے صلح ہو جائے ۔ کسی سے قرض نہ لیںاور نہ ہی قرض دیں ورنہ لین دین کا یہ چکر آپ کو بری طرح پریشان کر سکتا ہے۔

سنبلہ:
24اگست تا23ستمبر

اپنا مزاج بدلنے کی کوشش کیجیے، بات بات پر الجھنا چھوڑ دیں اور جذبات کے اندھے کنویں میں چھلانگ لگا دینے والی اس پرانی عادت ترک کر دیجیے اور ہر امر کا فیصلہ ٹھنڈے دل و دماغ کے ساتھ کیجیے۔

میزان:
24ستمبر تا23اکتوبر

آپ اپنی اعلیٰ صلاحیتوں کو ہمیشہ جگائے رکھیں تاکہ وقت ضرورت فوری طور پر ان سے کام لے سکیں یوں سمجھ لیجئے کہ مایوسی اور ناامیدی کا طویل اور ناقابل فہم دور ختم ہونے والا ہے۔

عقرب:
24اکتوبر تا 22نومبر

عشق و محبت کے یہ سبز باغ ابھی نہ دیکھئے ورنہ فوری طور پر آپ کو خزان اپنی لپیٹ میں لے لے گی تصوراتی محلوں کو خیالات کے ہی ذریعے مسمار کر دیجیے۔اور ہر کام خوش اسلوبی سے کرنے کی کوشش کیجیے۔

قوس:
23نومبر تا22دسمبر

ایسے لوگ جن پر آپ بھروسہ کرتے ہیں درپردہ آپ کیخلاف سازش کر سکتے ہیں وہ آپکی راہ میں کانٹے بکھیرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔چند اہم امور کے سلسلے میں نتیجہ خیز کامیابی حاصل ہو سکتی ہے۔

جدی:
23دسمبر تا20جنوری

اگر آپ کوئی کاروبار کرنا چاہتے ہیں تو دیر مت کریں اس سے بہتر موقع آپ کو نہ مل سکے گا۔ آپ کی اعلیٰ صلاحیتیں بھی ہمہ وقت جاگتی رہیں گی اور ہر معاملے میں آپ کی مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔

دلو:
21جنوری تا19فروری

بسلسلہ عشق و محبت جذباتیت کا مظاہرہ لاحاصل ثابت ہو سکتا ہے لہٰذا اس سلسلے میں خاموشی بہتر ثابت ہو سکتی ہے راہ چلتے یا گاڑی چلاتے ہوئے محتاط رہئے۔ صحت جسمانی بہتر رہے گی۔

حوت:
20 فروری تا 20 مارچ

غیرشادی شدہ افراد کی منگنی ہو سکتی ہے اپنے مخالفوں سے غافل نہ رہئے خصوصاً کاروباری حریف آپ کی کسی غلطی سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ کاروبار میں خصوصی دلچسپی لیں۔صحت جسمانی بہتر رہے گی۔

شریف خاندان کے خلاف ایون فیلڈ ریفرنس کا فیصلہ 6 جولائی کو ہوگا

اسلام آباد کی احتساب عدالت نے سابق وزیراعظم نواز شریف اوران کی صاحبزادی مریم نواز کے خلاف دائرایون فیلڈ ریفرنس کے دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کرلیا جو 6 جولائی کو سنایا جائے گا۔

مریم نواز کے وکیل امجد پرویز نے اپنے دلائل مکمل کیے جس کے بعد جج محمد بشیر نے فیصلہ محفوظ کر لیا۔

احتساب عدالت نے فیصلے کے وقت نواز شریف اور مریم نواز سمیت تمام ملزمان کو عدالت میں حاضر ہونے کی بھی ہدایت کی ہے۔

واضح رہے کہ ایون فیلڈ ریفرنس، نواز شریف اور ان کے تین بچوں مریم نواز، حسین نواز، حسن نواز اور داماد کیپٹن (ر) صفدر کے علاوہ سابق وزیرخزانہ اسحٰق ڈار کے خلاف سپریم کورٹ کی جانب سے پاناما کیس فیصلے کے حکم کی روشنی میں دائر کیے گئے مقدمات میں سے ایک ہے۔

قبل ازیں مریم نوازاور شریف خاندان کے وکیل نے اپنے دلائل میں کہا کہ فورنزک ماہر رابرٹ ولیم ریڈلے فونٹ کے ماہر نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ رابرٹ ریڈلے فونٹ کے شناخت کی مہارت نہیں رکھتے تھے۔

امجد پرویز حتمی دلائل میں حوالے کے لیے جے آئی ٹی رپورٹ کے والیم 4 کی اصل کاپی لے آئے جو سپریم کورٹ سے حاصل کی گئی تھی اور رپورٹ کا والیم 4 ایون فیلڈ اپارٹمنٹس سے متعلق ہے۔

امجد پرویز نے کہا کہ اے جی آفس کا خط بھی تصدیق شدہ نہیں تھا، واجد ضیا کو بھی پتہ نہیں تھا کہ یہ خط والیم 4 میں موجود تھا لیکن انہوں نے کہا کہ ہم سے خط رہ گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بی وی آئی حکام نے 31 مئی کی ایم ایل اے کا جواب دینے سے انکار کیا اور یہ حقیقت اب تک چھپائی گئی ہے۔

مریم نواز کے وکیل کی جانب سے بھارتی عدالتی فیصلوں کے حوالے بھی دیے گئے۔

احتساب عدالت میں کارروائی

ایون فیلڈ یفرنس میں سابق وزیراعظم نوازشریف، مریم نواز، حسن اورحسین نوازکے علاوہ کیپٹن ریٹائرڈ صفدرملزم نامزد ہیں تاہم عدالت نےعدم حاضری کی بنا پرحسن اور حسین نواز کو اشتہاری قرار دیا تھا۔

قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے نوازشریف اور ان کے بچوں کے خلاف 8ستمبر2017 کوعبوری ریفرنس دائرکیا گیا اور مزید شواہد سامنے آنے پر نیب نے 22 جنوری 2018 کو ضمنی ریفرنس دائر کیا۔

مریم نواز اور کیپٹن ریٹائرڈ صفدر پر 19 اکتوبر 2017 کو براہ راست فرد جرم عائد کی گئی جبکہ نوازشریف کی عدم موجودگی کی بنا پران کے نمائندے ظافرخان کے ذریعے فردجرم عائد کی گئی تاہم نواز شریف 26 ستمبر 2017 کو پہلی بار احتساب عدالت کے روبرو پیش ہوئے۔

مسلسل عدم حاضری کی بنا پر26 اکتوبر2017 کو نوازشریف کے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری ہوئے۔

مریم نواز پہلی بار9 اکتوبر2017 کو احتساب عدالت کے روبرو پیش ہوئی تھیں جبکہ کیپٹن (ر) صفدر کو ایئر پورٹ سے گرفتار کرکے عدالت میں پیش کیا گیا تھا۔

3 نومبر 2017 کو پہلی بار نوازشریف، مریم نواز اور کیپٹن(ر)صفدر اکٹھے عدالت میں پیش ہوئے اور 8 نومبر2017 کو پیشی کے موقع پر نوازشریف پربراہ راست فرد جرم عائد کی گئی۔

11 جون 2018 کو کیس میں نیا موڑ آیا جب حتمی دلائل کی تاریخ سے ایک دن پہلے خواجہ حارث کیس سے الگ ہوگئے جس پر نوازشریف کی طرف سے ایڈووکیٹ جہانگیر جدون نے وکالت نامہ جمع کروایا تاہم 19جون کوخواجہ حارث احتساب عدالت پہنچے اوردست برداری کی درخواست واپس لے لی۔

ایون فیلڈ ریفرنس میں مجموعی طور پر18 گواہوں کے بیانات قلمبند کیے گئے جن میں پاناما جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیاء بھی شامل تھے۔

پاک فضائیہ کے تین افسران کی ایئر مارشل کے عہدے پر ترقی

اسلام آباد: حکومت پاکستان نے ائیروائس مارشل سید نعمان علی، ائیروائس مارشل ظہیر احمد بابر اور ائیروائس مارشل جواد سعید کو ائیر مارشل کے عہدے پر ترقی دے دی۔

ائیر مارشل سید نعمان علی

ائیر مارشل سید نعمان علی نے اپریل1986 میں پاکستان ائیر فورس کی جی ڈی پی برانچ میں کمیشن حاصل کیا، وہ ایک تربیت یافتہ فلائنگ انسٹرکٹر ہیں۔

اپنے کیرئیر کے دوران انہوں نے کمبیٹ کمانڈر اسکول اور آپریشنل ائیر بیس کی کمانڈ کی۔

وہ ائیر ہیڈکوارٹرز اسلام آباد میں ڈائریکٹر آپریشنز، پرسنل اسٹاف آفیسر ٹو چیف آف ائیرسٹاف، انسپکٹر جنرل ائیر فورس، ڈپٹی چیف آف ائیر اسٹاف (آپریشنز) اور چیف پراجیکٹ ڈائریکٹر JF-17 کے طور پر بھی تعینات رہے ہیں۔

ائیر مارشل سید نعمان علی کو پاک فضائیہ میں شاندار خدمات پر ستارۂ امتیاز (ملٹری) اور تمغہء امتیاز (ملٹری) سے نوازا گیا۔

ائیر مارشل ظہیر احمد بابر

ائیر مارشل ظہیر احمد بابر نے اپریل1986 میں پاکستان ائیر فورس کی جی ڈی پی برانچ میں کمیشن حاصل کیا۔

اپنے کیرئیر کے دوران انہوں نے فائٹر اسکواڈرن، آپریشنل ائیر بیس اور ریجنل ائیر کمانڈ کی کمان کی۔ وہ ائیر ہیڈ کوارٹرز میں اسسٹنٹ چیف آف ائیر اسٹاف (آپریشن ریسرچ اینڈ ڈیویلپمنٹ )، اسسٹنٹ چیف آف ائیر اسٹاف (ٹریننگ آفیسرز) اور ڈائریکٹر جنرل پراجیکٹس تعینات رہے۔

اس کے علاوہ ائیر مارشل ظہیر احمد بابر وزارت دفاع میں ایڈیشنل سیکریٹری کے طور پر بھی خدمات سر انجام دے چکے ہیں۔

وہ کمبیٹ کمانڈر اسکول، ائیر وار کالج اور برطانیہ کے رائل کالج آف ڈیفنس اسٹڈیز سے فارغ التحصیل ہیں۔ انہیں پاک فضائیہ میں شاندار خدمات پر ستارۂ امتیاز (ملٹری) اور تمغہء امتیاز (ملٹری) سے نوازا گیا۔

ائیر مارشل جواد سعید

ائیر مارشل جواد سعید نے نومبر1986 میں پاکستان ائیر فورس کی جی ڈی پی برانچ میں کمیشن حاصل کیا۔

اپنے کیرئیر کے دوران انہوں نے فائٹر اسکواڈرن، فائٹر ونگ، آپریشنل ائیر بیس اور ریجنل ائیر کمانڈ کی کمان کی۔

وہ ائیر ہیڈکوارٹرز اسلام آباد میں اسسٹنٹ چیف آف ائیر اسٹاف (آپریشنز) اور ڈپٹی چیف آف ائیر اسٹاف (آپریشنز) بھی تعینات رہے ہیں۔

وہ کمبیٹ کمانڈر اسکول، ائیر وار کالج اور نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہیں۔ انہیں پاک فضائیہ میں شاندار خدمات پر ستارۂ امتیاز (ملٹری) اور تمغہء امتیاز (ملٹری) سے نوازا گیا۔

لاہور کو پیرس بنانے کے دعوے جھوٹے نکلے، عمران خان

لاہور: چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کا کہنا ہے کہ لاہور کو پیرس بنانے کے دعوے جھوٹے نکلے اب شہبازشریف گھر سے باہر نہیں نکل رہے کیوں کہ انہیں لوگوں کا ڈر ہے۔

لاہور میں ہونے والی شدید بارشوں کے باعث اموات اور نقصانات کے بعد چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے شہر کے مختلف علاقوں کا دورہ کیا، اس موقع پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ لاہور کو پیرس بنانے کے دعوے جھوٹے نکلے، پیرس میں بارش ہو تو سڑکیں پانی میں نہیں ڈوبتیں، لاہور پر کھربوں روپے لگا ئے گئے لیکن سڑکوں کا برا حال ہے۔

عمران خان نے کہا کہ اگر قوم کا پیسہ ایمانداری و دیانتداری سے خرچ کیا جاتا تو آج لاہور کی یہ صورتحال نہ ہوتی لیکن شریف خاندان نے عوام کے ٹیکس کا سارا پیسہ رائیونڈ پرلگا دیا اور 40 ارب روپے اشتہارات کے لیے استعمال کیے گئے، عوام کو پتہ چل گیا ہے کہ لاہور میں کیا ترقی ہوئی، اب شہباز شریف اس لئے باہر نہیں نکل رہے کہ انہیں لوگوں کا ڈر ہے۔

لیاری میں بلاول بھٹو کی ریلی پر پتھراؤ، چیئرمین پی پی پی کو شوکاز نوٹس

انتخابی مہم کے سلسلے میں لیاری کے حلقے کا دورہ کرنے والے پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی گاڑی پر پتھراؤ کے واقعے کے بعد بلاول بھٹو زرداری کو بغیر اطلاع ریلی نکالنے پر شوکاز نوٹس جاری ۔

شوکاز نوٹس ڈسٹرکٹ مانیٹرنگ آفیسر کراچی جنوب کی جانب سے جاری کیا گیا۔

شوکاز نوٹس میں بتایا گیا کہ کسی بھی ریلی یا جلسے سے 3 دن قبل اجازت لینا ہوتی ہے تاہم پیپلز پارٹی نے ریلی کے لئے انتظامیہ کو آگاہ نہیں کیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ ریلی کے ساتھ پیش آنے والے ناخوشگوار واقعے کی وجہ پیپلز پارٹی کا انتظامیہ کو اطلاع نہ دینا تھا، اگر اطلاع دی ہوتی تو انتظامیہ سکیورٹی کے انتظامات کرتی۔

مانیٹرنگ آفیسر نے بلاول بھٹو سے 5 جولائی تک شوکاز نوٹس کا جواب طلب کرلیا۔

خیال رہے کہ یکم جون کو پی پی پی چیئرمین کراچی کے علاقے لیاری میں اپنی انتخابی مہم کے سلسلے میں دورے پر تھے کہ اچانک ان کے قافلے پر پتھرائو کردیا گیا تھا۔

بلاول بھٹو زرداری کی گاڑی کے ڈرائیور نے اشتعال انگیز صورتحال کے پیشِ نظر ریورس گیئر میں گاڑی چلا کر چیئرمین پی پی پی کو اس صورتحال سے باہر نکالا تھا۔

واضح رہے کہ انتخابی مہم بلاول بھٹو زرداری کے ساتھ یہ واقعہ لیاری کے علاقے جونا مسجد، ہنگورہ آباد میں پیش آیا تھا جہاں علاقہ مکینوں نے چیئرمین پی پی پی کی گاڑی روک لی تھی۔

مظاہرین نے مطالبہ کیا تھا کہ آئندہ بلاول بھٹو زرداری یا پیپلز پارٹی کو لیاری کے علاقے ہنگورہ آباد میں قبول نہیں کیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی لیاری سے 2008 اور 2013 کے انتخابات جیتنے کے باوجود لیاری کے عوام کے لیے انہوں نے کچھ نہیں کیا، انہیں انتخابات میں ووٹ نہیں دیا جائے گا۔

نواز شریف نے مجھ سے بے وفائی نہیں دشمنی کی،چوہدری نثار

سابق وزیر داخلہ اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے ناراض رہنما چوہدری نثار کا کہنا ہے کہ ’میں نے نواز شریف سے 34 سال وفاداری نبھائی لیکن انہوں نے مجھ سے بے وفائی نہیں دشمنی کی‘۔

ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف کی بے وفائی کا جواب عوام دیں گے۔

راولپنڈی میں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ ’میں نے کبھی اپنا نہیں، ہمیشہ نواز شریف کاسوچا تھا اور نواز شریف کو لیڈر بنانے میں میرا بھی کردار ہے‘

چوہدری نثار نے کہا کہ ان کے حلقے کامقابلہ شریف برادران، زرداری اور عمران خان سے کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ این اے 63 میں 12 ارب روپے لگائے گئے تھے جس کے حوالے سے مسلم لیگ (ن) دعویٰ کرتی ہے کہ یہ پیسہ انہوں نے دیا جبکہ یہ پیسہ ان کا نہیں، حکومت پاکستان اور عوام کا تھا.

ان کا کہنا تھا کہ شہبازشریف، عمران خان اور آصف علی زرداری بھی پاکستان کو لاحق خطرات پربات نہیں کرتے، ملک کو جو خطرات ہیں، اس پر بھی کسی کو بات کرنی چاہیے۔

چوہدری نثار کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ (ن) کے صدر میاں محمد شہباز شریف کہتے ہیں کہ اگر انتخابات میں اکثریت ملی تو قومی حکومت بناؤں گا جبکہ ان ہی کی جماعت کا ترجمان کہتا ہے کہ شہباز شریف کو ایسا کرنے کا کس نے اختیار دیا ہے۔

عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے ہمیشہ عزت کی سیاست کی ہے اور انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ جیپ کےنشان پراطمینان سے مہر لگائیں۔

’چوہدری نثار کو جیپ مبارک ہو‘

سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا ہے کہ چوہدری نثار کو اگر ٹکٹ نہ ملتا تو ان کا گلہ بجا ہوتا مگر اب چوہدری نثار کو جیپ مبارک ہو۔

شاہد خاقان عباسی نے سابق وزیرداخلہ کومشورہ دیا کہ چوہدری نثارکوٹکٹ کے لیے درخواست دینی چاہیے تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ جو لوگ جماعت سے وفادار نہیں ہوتے، ان کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی۔

’دھوم 4‘ میں رنویر کی انٹری کی افواہیں دم توڑ گئیں

کافی عرصے سے یہ افواہیں گردش کر رہی تھیں کہ ’دھوم 4‘ میں پہلی دفعہ سلمان خان کے ساتھ رنویر سنگھ بھی مرکزی کردار میں جلوہ گر ہوں گے، تاہم اب ان افواہوں نے دم توڑ دیا ہے۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق یش راج فلمز کے ذرائع کا کہنا ہے کہ فلم ’دھوم 4‘ میں رنویر، سلمان خان کے ساتھ کام نہیں کریں گے۔

ذرائع کے مطابق سلمان خان، رنویر سنگھ کے ساتھ کام کرنے کے خواہشمند نہیں ہیں کیوں کہ دونوں کے تعلقات میں کشیدگی پائی جاتی ہے۔

واضح رہے کہ 2016 میں پیرس میں فلم ’سلطان‘ کی اسکریننگ کے دوران رنویر سنگھ نے سلمان خان کے گانے پر رقص کیا تھا جس پر دبنگ خان آگ بگولہ ہوگئے تھے۔

سلمان خان نے ردعمل دیتے ہوئے کہا تھا، ’کیا رنویر نے سلطان نہیں دیکھی؟ دل تو چاہتا ہے کہ کرسی اس کے سر پر توڑ دوں‘۔

اس واقعے کے بعد سے دونوں اداکاروں کے درمیان ایک سرد جنگ جیسی صورتحال پائی جاتی ہے۔

جیت کر سیٹ نواز شریف کے قدموں میں رکھوں گا، شیرعلی گورچانی

پنجاب کے ضلع راجن پور سے مسلم لیگ ن کا ٹکٹ واپس کرنے والے سابق صوبائی ڈپٹی اسپیکر شیر علی گورچانی نے آزاد حیثیت میں انتخابات لڑنے کا فیصلہ پارٹی قیادت کے اعتماد سے کرنے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ الیکشن جیت کر اپنی سیٹ نواز شریف اور شہباز شریف کے قدموں میں رکھ دوں گا۔

راجن پور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شیر علی گورچانی کا کہنا تھا کہ علما کے کہنے پر ٹکٹ واپس کیا تھا اور آزاد حیثیت میں انتخابات میں حصہ لینے کے لیے پارٹی قیادت کو اعتماد میں لیا تھا۔

ان کا کہنا تھا راجن پور میں مسلم لیگ ن کی بنیاد ہمارے خاندان نے رکھی ہے، ہماری قربانیاں اس جماعت کے لیے بہت زیادہ ہیں اور ہماری رگوں میں مسلم لیگ شامل ہے۔

شیر علی گورچانی نے کہا کہ یہاں پر جماعتوں کا ووٹ بہت کم اور شخصیت اور دھڑوں کا ووٹ زیادہ ہوتا ہے اورکچھ علما کرام ہمارے پاس آئے اور کہا کہ ختم نبوت کی وجہ سے کچھ واضح نہیں ہو سکا اس لیے آپ آزاد نشان سے انتخاب لڑیں گے تو ہم بھرپور حمایت کریں گے۔

علاقے کی سیاست پر بات کرتے ہوئے انھوں کہا کہ ‘یہاں پر دو سرداروں نے گٹھ جوڑ کر رکھا ہے اور جعفر لغاری نے مسلم لیگ ن کی حکومت سے فائدے اٹھائے اور آج تحریک انصاف کے ٹکٹ پر لڑرہے ہیں اور یہ لوگ یہاں پر عوام کو بتارہے ہیں کہ مسلم لیگ ن کی حکومت نہیں آرہی ہے اور ہمیں ایجنسیاں مدد کر رہی ہیں’۔

انھوں نے کہا کہ اللہ نے کامیابی دی تومسلم لیگ ن حکومت میں ہو یا اپوزیشن میں یہ سیٹ جا کر میاں نواز شریف اور شہباز شریف کے قدموں میں رکھ دیں گے۔

سابق ڈپٹی اسپیکر کا کہنا تھا کہ ہم نہ تو نیب زدہ ہیں اور نہ ہی بینک کے ڈیفالٹر ہیں اور ہمارے کردار پر کوئی انگلی نہیں اٹھا سکتا ہے۔

اپنے فیصلے کی وضاحت کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ یہ فیصلہ اہل علاقے کی مشاورت سے کیا گیا ہے اور پارٹی قیادت کو بھی اس بارے میں آگاہ کیا گیا تھا۔

شیر علی گورچانی نے کہا کہ میں مسلم لیگ ن کا حصہ تھا اور رہوں گا۔

یاد رہے کہ 30 جون کو راجن پور سے تعلق رکھنے والے مسلم لیگ ن کے 4 رہنماؤں نے پارٹی ٹکٹ واپس کرکے آزاد حیثیت میں الیکشن لڑنے کا اعلان کیا تھا اور ریٹرننگ افسر سے جیپ کا نشان الاٹ کرنے کی درخواست کی تھی۔

ٹکٹ واپس کرنے والے رہنماؤں میں قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 193 اور پنجاب اسمبلی کے حلقہ پی پی 293 سے اُمیدوار سابق ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی شیر علی گورچانی اور ان کے والد پرویز گورچانی شامل ہیں، جو صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی پی 294 سے اُمیدوار ہیں۔

ان کے علاوہ قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 194 سے حفیظ دریشک اور ان کے بھائی یوسف دریشک نے بھی مسلم لیگ ن کا ٹکٹ واپس کرکے آزاد حیثیت سے الیکشن لڑنے کا اعلان کیا تھا جو صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی پی 296 سے امید وار ہیں۔

اس سے قبل صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی پی 295 سے اطہر گورچانی نے بھی مسلم لیگ ن کا ٹکٹ واپس کرنے کا اعلان کیا تھا۔

Google Analytics Alternative