Home » 2018 » July » 04 (page 2)

Daily Archives: July 4, 2018

میں نا ہوتا تو شمالی کوریا سے جنگ ہوجاتی، امریکی صدر ٹرمپ

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر ان کی شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان سے ملاقات نہیں ہوتی تو امریکا اور شمالی کوریا کی جنگ ہوجاتی۔

اپنے ٹوئٹر پیغام میں ان کا کہنا تھا کہ ’شمالی کوریا کے ساتھ مثبت گفتگو ہوئی اور سب اچھا چل رہا ہے، نہ ہی کوئی راکٹ لانچ کیے جارہے ہیں جبکہ گزشتہ 8 ماہ سے کسی نیوکلیئر میزائل کو ٹیسٹ نہیں کیا گیا۔ پورا ایشیا خوش ہے، صرف اپوزیشن پارٹی، جس میں فیک نیوز بھی شامل ہے شکایت کررہے ہیں۔ اگر میں نہ ہوتا تو ہماری شمالی کوریا سے جنگ ہوجاتی۔‘

Donald J. Trump

@realDonaldTrump

Many good conversations with North Korea-it is going well! In the meantime, no Rocket Launches or Nuclear Testing in 8 months. All of Asia is thrilled. Only the Opposition Party, which includes the Fake News, is complaining. If not for me, we would now be at War with North Korea!

اس سے قبل رپورٹس سامنے آئی تھیں کہ امریکی حکام کا ماننا ہے کہ جزیرہ نما کوریا کو ایٹمی ہتھیاروں سے پاک کرنے پر اتفاق کے باوجود شمالی کوریا نے اپنی نیوکلیئر ہتھیاروں کے لیے ایندھن کی پیداوار میں اضافہ کردیا ہے۔

ایک رپورٹ میں نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر امریکی اہلکار کا کہنا تھا کہ ایسے کوئی شواہد نہیں کہ شمالی کوریا نے اپنے ذخیرے میں کمی کی ہے یا اپنی پیداوار میں کمی کی ہے بلکہ ایسے شواہد موصول ہوئے ہین کہ شمالی کوریا صرف امریکا کو دھوکا دے رہا ہے۔

امریکی صدر اور شمالی کوریا کے رہنما کی گزشتہ ماہ ملاقات ہوئی تھی۔ ملاقات کے بعد ٹرمپ نے ٹوئیٹ کی تھی کہ اب شمالی کوریا نے کوئی نیوکلیئر خطرہ نہیں۔

پی ٹی آئی کا ٹکٹ سے محروم ارکان کے آزاد انتخاب لڑنے پر کارروائی کا اعلان

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے پارٹی ڈسپلن کی خلاف ورزی کرتے ہوئے انتخابات میں آزاد حیثیت میں حصہ لینے والے اراکین کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کر لیا۔

پی ٹی آئی کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ٹکٹ حاصل کرنے میں ناکامی پر آزاد حیثیت میں انتخابات میں حصہ لینے کی منصوبہ بندی کرنے والے اراکین کے نام دو رکنی کمیٹی کو بھجوائے جائیں گے۔

دو رکنی کمیٹی نعیم الحق اور ارشد داد پر مشتمل ہوگی۔

پی ٹی آئی کے اعلامیے کے مطابق اراکین نے ٹکٹ نہ ملنےکی صورت میں انتخابات نہ لڑنے کا حلف نامہ پہلے ہی جمع کرا دیا تھا اور یہ نہ صرف ڈسپلن کی بلکہ حلف نامے اور آرٹیکل 62، 63 کی بھی خلاف ورزی ہے۔

نعیم الحق اور ارشد داد پر مشتمل کمیٹی ایسے امیدواران کے خلاف ضابطے کی کارروائی کرے گی اور پارٹی ٹکٹ کے خلاف لڑنے والوں کی رپورٹ چیئرمین کو پیش کرے گی۔

پی ٹی آئی کی جانب سے اس کاروائی کا آغاز فوری کر دیا جائے گا۔

خیال رہے کہ پی ٹی آئی کی جانب سے یہ اعلان پارٹی کے ناراض رہنما کرنل (ر) اجمل صابر راجا کے اس بیان کے بعد کیا گیا ہے جس میں انھوں نے کہا تھا کہ پارٹی نے ٹکٹ دینے سے انکار کیا ہے جس کے بعد این اے 63 سے آزاد حیثیت میں الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔

پی ٹی آئی میں ٹکٹوں کی تقسیم کے حوالے سے شدید اختلاف سامنے آیا تھا اور کارکنان نے بنی گالا میں عمران خان کی رہائش گاہ کے باہر کئی دنوں تک احتجاج کیا تھا تاہم عمران خان کی جانب سے ان کے تحفظات دور کرنے کی یقین دہانی پر احتجاج ختم کردیا گیا تھا۔

لاہور اور ملتان سمیت ملک کے دیگر شہروں میں خواتین کارکنان نے بھی پی ٹی آئی کے ٹکٹوں کی تقسیم پر احتجاج کرتے ہوئے رہنماؤں پر من پسند افراد کو نوازنے کا الزام عائد کیا تھا۔

یو این او کے انڈر سیکرٹری جنرل برائے امن مشن کی آرمی چیف سے ملاقات

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے اقوام متحدہ کے انڈر سیکرٹری جنرل برائے امن مشن جین پیری نے جی ایچ کیو میں ملاقات کی جس میں خطہ میں قیام امن کے حوالے سے امور پر تبادلہ خیال کیاگیا، آئی ایس پی آر کے مطابق جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات کے دوران جین پیری نے امن مشن آپریشنز میں پاک فوج کی جانب سے کی جانیوالی کوششوں کو سراہا۔ اس موقع پر آرمی چیف نے کہا پاکستان خطے میں قیام امن کے حوالے سے اپنی کوششیں جاری رکھے گا اور امن مشن میں اپنا مثبت کردار ادا کرتا ہے گا، انہوں نے مزید کہا پاکستان اقوام متحدہ کے جھنڈے تلے عالمی امن کیلئے پہلے کی طرح آئندہ بھی اپنا کردار نبھاتا رہے گا ،آرمی چیف نے کہا پاکستان امن مشن کیلئے سب سے زیادہ فوج فراہم کرنیو الا ملک ہے۔ اس موقع پر انڈر سیکرٹری جنرل نے کہاعالمی امن مشن میں پاک فوج کی قربانیوں کی قدر کرتے ہیں، انہوں نے کہا کہ یہ دورہ اس بات کا بھی موقع فراہم کرتا ہے کی ہم ان 156 پاکستانی امن مشن کے محافضوں کو خراج تحسین پیش کریں جنہوں نے یو این کی خدمت کرتے ہوئے اپنی جانوں کی قربانی دی۔اس میں شبہ نہیں کہ پاکستان نے امن کی کوششوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ہے چاہے یو این پیس کیپنگ مشن کی صورت میں ہوں یا دہشتگردی کے خلاف جاری جنگ کی صورت میں ہوں۔دہشتگردی کے خلاف جاری جنگ میں جتنی قربانی اور مالی نقصان اٹھایا ہے اس کی مثال کسی اور ملک کے حوالے سے نہیں دی جاسکتی۔ خصوصا بھارت کہ جس کی خاطر امریکہ افغانستان میں پاکستان کو بلیک میل کرتا رہتا ہے۔بین الاقومی غیر جانبدار ماہرین کا ماننا ہے کہ امریکہ اور پاکستان کے پاس افغانستان میں دہشت گردی کو شکست دینے اور امن بحال کرنے کیلئے مل کر کام کرنے کے بڑے مواقع ہیں جبکہ صدر ٹرمپ کی پچھلے سال اگست میں منظر عام پر آنے والی افغان پالیسی میں خطے میں امن کیلئے پاکستان کی مثالی جدوجہد کو تحقیر آمیز طور پر دیکھنے سے دونوں ملکوں میں کشیدگی میں اضافہ ہوا۔امریکہ نے امن دشمن مودی سرکار کی بولی بولتے ہوئے دہشت گردی کی معاونت کے الزامات عائد کر کے پاکستان کو مایوس کر دیا تھا۔ ڈونلڈٹرمپ کے ہاتھ جب سے امریکہ کی صدارت کا عہدہ آیا ہے دوسرے ملکوں کے بارے میں امریکی رویہ جارحانہ ہوچکا ہے۔جس سے امن کوششوں کو دھچکا لگا ہے حتیٰ کہ افغانستان میں امریکی افواج کے کامیابی کے امکانات ایک ڈراؤنا خواب بن چکے ہیں۔ اسی تلملاہٹ میں وہ پاکستان کی مدد کا خواہاں تو ہے لیکن دھونس کے ذریعے۔ جیسے پاکستان کی امداد کی بندش اور دیگر اقدامات کے علاوہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی جانب سے پاکستان کو دہشت گردوں کی مالی معاونت روکنے میں ناکام رہنے والے ملکوں کی گرے لسٹ میں شامل کرانے کیلئے اپنے اثر و رسوخ کا بھرپور استعمال کیا ہے۔دوسری جانب افغانستان میں بھارت کے رول کو بڑھاوا بھی دیا جا رہا ہے تاکہ پاکستان خوف زدہ ہو کر یس باس پر آمادہ ہو جائے۔اس ضمن میں صدر ٹرمپ کی افغان پالیسی کا زمینی حقائق کے منافی ہونا واضح ہوچکی ہے۔ امریکہ ، نیٹو اور افغان افواج، طالبان مزاحمت کاروں کے خلاف مکمل طور پر ناکام ہو رہی ہیں ، افغانستان کے ایک بڑے حصے پر طالبان کا قبضہ نہ صرف برقرار رہا بلکہ اس عرصے میں انہوں نے مزید کئی علاقوں پر اپنا تسلط مزید مستحکم کرنے میں بھی کامیابی حاصل کی۔بلاشبہ افغانستان میں پائیدار امن کیلئے ضروری ہے کہ افغانستان اور پاکستان کی مشترکہ جدوجہد کیلئے حالات سازگار بنائے جائیں، بھارت کا کردار محدود کیا جائے جبکہ دونوں برادر ملکوں میں غلط فہمیاں پیدا کرنے کی کوششوں کو روکا جائے۔طالبان کو سیاسی قوت کی حیثیت سے تسلیم کرکے ان کے ساتھ امن مذاکرات کا وہ عمل پوری نیک نیتی کے ساتھ بحال کرنا لازمی ہے جسے امریکہ اپنے اقدامات سے بار بار سبوتاژ کرتا رہا ہے، اسی امریکہ کی جانب سے بھارت کو افغانستان میں بالادست طاقت بناکر پاکستان پر مسلط رکھنے کی پالیسی ترک کی جائے ۔یہی ایک صورت ہے پاکستان سے تعاون کے حصول کی۔افواج پاکستان کو ایک بائنڈنگ فورس کے طور پر دیکھا جائے تو ہماری جری اور بہادر افواج افغانستان میں بھی وہی کردار ادا کر سکتی ہیں جو وہ اقوام متحدہ کے پیس کیپنگ مشنز میں ادا کر رہی ہیں۔افواج پاکستان کے کردار کو اقوام متحدہ کے انڈر سیکرٹری جنرل برائے امن مشن جین پیری کی طرف سے سراہانا امریکہ پالیسی سازوں کیلئے واضح پیغام ہے کہ تعصب کی عینک اتار کر کسی معاملے کو دیکھا جائے تو روشن پہلو صاف دکھائی دیتا ہے۔
بارہ دہشت گردوں کی سزائے موت کی توثیق
دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کی جاری کوششوں کے سلسلے میں جن فوجی عدالتوں کا قیام عمل میں لایا گیا تھا وہاں سے سزائیں پانے والوں کو کیفر کردار تک پہنچانے کا سلسلہ جاری ہے گزشتہ روز بھی 12 خطرناک دہشت گردوں کی سزائے موت کی توثیق کی گئی ہے۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عام (آئی ایس پی آر)کے اعلامیے کے مطابق آرمی چیف نے 12 دہشت گردوں کو سزائے موت کے علاوہ 6 دہشت گردوں کی قید کی سزا کی بھی توثیق کردی ہے۔سزا پانے والے دہشت گرد معصوم شہریوں، مسلح افواج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پرحملوں میں ملوث تھے۔ان کے مقدمات خصوصی فوجی عدالتوں میں چلائے گئے۔فوجی عدالتوں کے فیصلے تمام تر قانونی ضابطے پورے کرنے کے بعد سامنے آ رہے ہیں۔اب تک بیسیوں دہشت گردوں کو موت کی سزائیں سنائی جا چکی ہیں اور درجنوں کی سزاؤں پر عملدرآمد بھی ہو چکا ہے۔قوم ان فیصلوں پر اطمینان کا اظہار کر رہی ہے۔دہشت گرد کسی رو رعایت کے مستحق نہیں ہیں۔یہاں حکومت کا بھی کام ہے جن مجرموں کی سزاؤں کی توثیق ہو رہی ہے ان کی سزاؤں پر جلد عملدرآمد بھی کیا جائے ۔
سپریم کورٹ کو متنازعہ بنانے کی روش خطرناک
چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار نے مختلف کیسوں کی سماعت کے دوران ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ کہا جاتا ہے، سپریم کورٹ متنازع ہور ہی ہے، انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ اگر متنازع ہوتی جارہی ہے تو پھر یہاں آتے ہی کیوں ہیں؟ اسپتال عوام کیلئے گئے کسی کی انتخابی مہم کیلئے نہیں۔دیکھا گیا ہے کہ مسلم لیگ نون کے حمایتی حلقوں کی طرف سے ایک منصوبہ کے تحت سپریم کورٹ کو متنازعہ بنانے کی کوشش کی جاتی ہے۔اگلے روز جب چیف جسٹس ثاقب نثار نے راولپنڈی کے ہسپتالوں کا دورہ کیا اور اس موقع پر شیخ رشید بھی موجود رہے تو ان پر ایک بار پھر تنقید کی گئی۔حالانکہ راولپنڈی کے زچہ وبچہ اسپتال کی تعمیر میں تاخیرسے متعلق شیخ رشید کی آئینی درخواست کی سماعت کے درخواست گزار کی استدعا پر زچہ و بچہ اسپتال کا دورہ کیا تو شیخ رشید کا وہاں موجود ہونا ضروری تھا جس پر بلاجواز سوشل میڈیا پر شور مچایا گیا۔سوشل میڈیااور دیگر فورمز پر کئے جانے والے منفی تبصروں پر وضاحت پیش کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میرا درخواست گزارشیخ رشید سے کوئی سیاسی تعلق نہیں، ہم وہاں پر شہریوں کے ایک اہم ترین مسئلہ کو سمجھنے کیلئے گئے تھے ، کسی کی انتخابی مہم کیلئے نہیں گئے ۔ لوگ انہیں ووٹ دیں یا نہ دیں ہمیں اس سے کوئی سروکار نہیں۔ان سطور کے ذریعے گزارش ہے کہ سیاست اور عدالت کو گڈ مڈ کرنے کی روش کسی طور مناسب نہیں اس سے گریز کیا جانا چاہیے۔

فلم ’’سنجو‘‘ آن لائن نہ دیکھنے پر راجکمار ہیرانی کا مداحوں کو شکریہ

ممبئی:ہدایت کار راجکمار ہیرانی نے فلم’’سنجو‘‘کو آن لائن لیک ہونے کے باوجود تھیٹر میں دیکھنے پر مداحوں کا شکریہ اداکیا ہے۔

رنبیر کپور کے کیریئر کی سب سے بڑی فلم ’’سنجو‘‘ گزشتہ جمعہ کو ریلیز کی گئی تھی، فلم نے ریلیز ہوتے ہی کئی ریکارڈ توڑے اور کئی ریکارڈ قائم کردئیے تھے، تاہم فلم کو پہلا جھٹکا اس وقت لگا جب ریلیز کے پہلے ہی دن ’’سنجو‘‘فیس بک پر اور انٹرنیٹ پر لیک ہوگئی اورفلم کا ٹورینٹ لنک سوشل میڈیا پر گردش کرنے لگا تاہم سنجے دت کے مداحوں نے فلم کو آن لائن دیکھنے سے انکار کرتے ہوئے دوسرے لوگوں سے بھی درخواست کی کہ فلم کو تھیٹر میں جاکر دیکھیں۔

فلم کے ہدایت کار راجکمار ہیرانی نے فیس بک پر ان تمام لوگوں کا شکریہ ادا کیا ہے جنہوں نےفلم آن لائن دیکھنے سے انکار کرتے ہوئے فلمسازوں کو بھی فلم کے آن لائن ورژن لیک ہونے سے آگاہ کردیا تھا۔ راجکمار ہیرانی نے لکھا’’آپ تمام لوگوں کا شکریہ  جنہوں نے ہمیں فلم کےآن لائن لیک ہونے سے آگاہ کیا، تحقیقات کرنے پر پتہ چلا کہ فلم ’’سنجو‘‘کی کیمرہ سے بنائی گئی کاپی فیس بک پر لیک ہوگئی ہے جو ہمارے لیے بہت ہی صدمے کی بات تھی۔ لیکن آپ لوگوں نے فلم غیرقانونی طور پر دیکھنے سے انکار کردیااس کے ساتھ ہی آپ لوگوں نے اس مسئلے کی جانب ہماری توجہ مبذول کرائی جس کے بعد ہم نے انتظامیہ کی مدد سے یہ فلم فیس بک سے ہٹوادی۔

میں کہنا چاہتا ہوں آپ سب لوگ غیر معمولی انسان ہیں، آپ لوگ اس بات سے واقف ہیں کہ ایک فلم کو بنانے میں کتنا پسینہ،  خون اور آنسو لگتے ہیں، آپ سب لوگوں کی سینما سے محبت کے باعث ہمیں مزید کام کرنے کی حوصلہ افزائی ملتی ہے، میں آپ تمام لوگوں کو دل کی گہرائیوں سے شکریہ کہنا چاہتا ہوں۔‘‘

واضح رہے کہ فلم ’’سنجو‘‘ محض چار روز میں ’’باہو بلی2‘‘اور ’’ریس3‘‘سمیت متعدد کامیاب فلموں کا ریکارڈ توڑ چکی ہے جب کہ فلم کا سفر اب بھی کامیابی سے جاری ہے۔

سوئیڈن نے سوئٹزرلینڈ 0-1 سے شکست دےکر کوارٹر فائنل میں جگہ بنالی

سینٹ پیٹرزبرگ: سوئیڈن نے فٹ بال ورلڈ کپ میں سوئٹزرلینڈ کو 0-1 سے شکست دے کر 24 سالوں میں پہلی مرتبہ کوارٹر فائنلز میں جگہ بنالی۔

سوئیڈن اس سے قبل 1994 میں امریکا میں ہونے والے عالمی کپ کے کوارٹر فائنل میں پہنچا تھا۔

میچ میں مجموعی طور پر بال پر حکمرانی سوئٹزرلینڈ کی رہی تاہم پہلا اور واحد گول سوئیڈن کی جانب سے ایمل فورسبرگ نے 66ویں منٹ میں اسکور کیا۔

سوئیڈن کی جانب سے گول پر 12 جبکہ سوئٹزرلینڈ کی جانب سے 18 شاٹس گول پر مارے گئے۔

سوئیڈن کا کوارٹر فائنل میں مقابلہ انگلینڈ اور کولمبیا کے درمیان میچ کے فاتح سے ہوگا

یمن میں شادی کی تقریب پر بمباری، 11 افراد ہلاک

صنعا: یمن میں شادی کی تقریب پر بمباری کے نتیجے میں 11 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ 

غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق سعودی اتحادی فوج نے شمالی یمن کے شہر ’سادا‘ میں رات گئے فضائی بمباری کی جس کے نتیجے میں 11 افراد ہلاک ہوگئے۔

فضائی بمباری میں 10 سے زائد افراد زخمی بھی ہوئے ، زخمیوں کو فوری طور پر طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کردیا گیا۔

مقامی حکام کا کہنا ہے کہ بمباری شادی کی تقریب میں کی گئی جب کہ بمباری کے بعد لڑاکا طیارے بہت دیر تک علاقے میں پرواز کرتے رہے۔

’’جیک پاٹ‘‘ کے فنکار تشہیری مہم کے بعد کراچی چلے گئے

لاہور: فلم ’’جیک پاٹ‘‘ کے فنکار تشہیری مہم میں حصہ لینے کے بعد گزشتہ روز کراچی واپس چلے گئے۔

فلم ’’جیک پاٹ‘‘ کے فنکار نورحسن،صنم چوہدری،عنایت خان، فائزہ خان اور ٹیپو 26جون کو تشہیری مہم کے سلسلے میں لاہور آئے تھے جہاں انھوں نے ٹی وی اور ریڈیو پروگراموں میں شرکت کرنے کیساتھ لاہورکے مختلف شاپنگ مالزمیں اپنے چاہنے والوں سے ملاقات کی۔ اس کے بعد فلم کے فنکار فیصل آباد اور اسلام آباد بھی گئے جہاں انھوں نے پرستاروں کو آٹو گراف دیئے اور تصاویر بنوائیں۔

گزشتہ روز اسلام آبادمیں تشہیری مہم کیساتھ فلم کا دوسرا گانا ’’لولی لولی ‘‘ بھی لانچ کیا گیا۔ جس کو ’’شکریہ شکریہ‘‘ کی طرح سوشل میڈیا پر بے حد پسند کیا جارہا ہے۔

ہدایتکار شعیب خان نے ’’ایکسپریس‘‘ کوبتایا کہ لاہور ، فیصل آباد اور اسلام آباد میں پوری ٹیم کے بے حد پذیرائی ملی ہے اورمجھے امید ہے کہ ہماری فلم سینما گھروںکی رونقیں بحال کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔

جنگ کے سائے اور ادیب کاکردار!

اس وقت دنیا نئے سیاسی اور اقتصادی بحرانوں کی لپیٹ میں ہے سرمایہ داری کے تیروں نے تیسری دنیا کے خوابوں تک کو چھلنی چھلنی کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔انسانیت کو سلگتی ، سسکتی کراہوں اور بھیانک اندھیروں میں جھونک دینے کے باوجود موت کے عالمی سوداگروں نے نئے محاذ کھول دیئے ہیں اور ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت مودی سرکار اور کچھ وحشی عالمی طاقتیں اپنے مفادات کے لیے خطے کو جنگ کی طرف دھکیلنا چاہتی ہیں۔ آج کا انسان اسلحے کے ڈھیر پر بیٹھا ہے جب تک اسلحے کی فیکڑیاں چلتی رہیں گی امن کو خطرہ لاحق رہے گا۔ ادیب اور شاعر کا کام سیاستدان اور سائنسدان سے ہٹ کر احساس کی سطح پر سوچنے کا ہوتا ہے وہ ہنگامہ آرائی اور نعرے بازی کی بجائے ہر واقعے کے مضمرات پر بھی نظر رکھتا ہے یہی وجہ ہے کہ وہ کبھی معتصب نہیں ہو سکتا اگچہ کبھی کبھی اسے اس کی قمیت بھی چکانا پڑتی ہے تاہم وہ اپنے فرائض سے کبھی پیچھے نہیں ہٹتا۔
وقت کی شاعرہ پروین شاکر نے کہا تھا
جگنو کو دن کے وقت پرکھنے کی ضد کریں
بچے ہمارے عہد کے چالاک ہوگئے
اور عہد حاضر کے قمر جلالوی کے رنگ میں رنگے ہوئے شاعر سید حاکم شاہ نوکوٹی نے لکھا
بندوق مانگتے ہیں کھلونوں کو توڑ کر
بچے ہمارے عہد کے چالاک ہوگئے
سعادت حسن منٹو نے ’’تماشا‘‘ جیسا افسانہ لکھ کر بتایا تھا کہ جنگ سے لوگوں اور خاص کر بچوں کی نفسیات پر کیا اثر پڑسکتا ہے؟ اور ایک مشہور ترقی پسند ادیب نے کہا تھاکسی کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ کیپٹلزم کے نام پر یا سوشلزم کے نام پر کسی تعصب یا غیر ملکی مفاد کے نام پر لوگوں کے سر پر بندوق لے چڑھ دوڑے۔انہوں نے یہ گھتی سلجھانے کی کوشش کی کہ کس طرح انسان کے ہاتھ سے بندوق چھین لی جائے اور اس کے ہاتھ میں ایک پھول دیا جائے۔
مودی سرکار کے بیانات جنون پر مبنی ہیں اور وہ اپنے بیانات سے اشتعال پھیلا کر نہ صرف خطے بلکہ دنیا کے امن کو تباہ کرنے کے درپے ہے اسے ہوش کے ناخن لینے ہوں گے بصورت دیگر صورتحال ساحر کے اس شعر سے مختلف نہ ہوگی۔
گزشتہ جنگ میں گھر ہی جلے مگر اس بار
عجب نہیں کہ یہ تنہائیاں بھی جل جائیں
گزشتہ جنگ میں پیکر جلے مگر اس بار
عجب نہیں کہ یہ پرچھائیاں بھی جل جائیں
ادیب پر ایک بہت بڑی ذمہ داری آ پڑی ہے۔ آج ادیب اپنے کردار اپنے عمل اور قلم کے ذریعے زندگی کے دھارے کو پلٹ سکتا ہے۔ ادب چونکہ زندگی کا آئینہ ہے اور زندگی کے ساتھ جتنے بھی المیے جڑے ہوئے ہیں وہ اس آئینے میں منعکس ہوتے ہیں ۔ ادب شدت پسندی اور جذباتیت سے گریز کا نام ہے اور یہی سلیقہ دراصل ادیب کو زندگی کا وہ چہرہ دکھاتا ہے جہاں جمال و شعور و آگہی کے آب و رنگ میں ڈوبی فطرت کی تصویریں ہیں۔یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ ہم جس خطے میں زندگی سے نبرد آزما ہیں وہ مدتوں سے جنگ و جدل اور مختلف قسم کی محاذ آرائیوں کا مرکز رہا ہے اور جس کا براہ راست نشانہ ہمیں بنایا جا رہا ہے لیکن نائن الیون کے بعد ہر گزرتا ہوا لمحہ ہمارے مسائل میں اضافہ کر تا چلا آ رہا ہے آج یہ سوال دور حاضر کے ہر حساس ذہن کے لیے سوہان روح ہوا ہے کہ س عہد کے بڑھتے ہوئے انتشار کا انجام کیا ہوگا؟ تہذیبوں کے تصادم میں بڑی سیاسی طاقتوں اور اتحادیوں نے دنیا کو تباہی کے دہانے پر لاکھڑا کیا ہے۔
عصر حاضر میں کچھ لوگ خطے کو جنگ کی طرف لے جارہے ہیں لیکن نہ تو جنگ کا جواب جنگ ہے اور نہ ہی جنگ مسائل کا حل ہے۔ سرد جنگ ہو ، کورین وار ہو ویت نام کی جنگ ہو یا افغانستان پر حملہ دنیا غیر محفوظ ہوتی جارہی ہے۔ ابتداء ہی سے سامراجی اور استعماری قوتوں نے نوآبادیاتی نظام کو اپنی ہوس کا نشانہ بنایا ہے۔ اایسے حالات میں کتاب سے دوستی کرکے اور قلم کو رفیق بنا کے ارتقاء کے سفر کو جاری رکھنا ہوگا۔ اگر ہم تاریخ کے اوراق کا زینہ زینہ پلٹتے جائیں تو معلوم ہوگا کہ جنگ نے انسان تباہی کے علاوہ کیا دیا ہے؟پہلی جنگ عظیم میں انسانیت کس قتل ہوا کونسی خوشی حاصل کی گئی؟ ہیروشیما ، عراق، لیبیا، اور افغانستان میں کھوپڑیوں کے مینار بنانے سے انسان کو کس بات کی تسلی ہوئی۔
اس وقت میڈیا مغرب کے زیر اثر ہے اور اس پرکچھ مخصوص طبقوں کا تسلط ہے جو نہیں چاہتے کہ حالات بہتر ہو جائیں۔ خاص کر بھارتی میڈیاکا کام سوائے اشتعال پھیلانے کے اور کچھ نہیں یہ ادیب کی زمہ داری ہے اس منفی امیج کو مثبت رخ دینے کے لیے مل کر صحت مند ادب تخلیق کرے کیوں کہ ادب کی دنیا میں صرف ان لوگوں کو زندہ رہنا ہے جو زندگی کے نغمہ گر ہیں نہ کہ موت کے سودا گرتاریخ کا سبق یہ ہے کہ ادیب نے ہمیشہ محبتوں کا سفر جاری رکھا اور انسان کو کائنات کی روح کو سمجھنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کی۔ ۔ آج ہم جس جنگی صورتحال سے دوچار ہیں اس سے نمٹنے کے لیے جہاں علما کرام، شاعروں ، ادیبوں اور سیاستدانوں پر ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں وہیں تحریر و تقریر سے جڑے ہر شخص کا یہ فریضہ بنتا ہے کہ اپنا مثبت کردار ادا کرکے آگے بڑھے اور معاشرے کو نئی منزلوں کے راستے دکھا دے!!!۔

 

Google Analytics Alternative