Home » 2018 » July » 04 (page 5)

Daily Archives: July 4, 2018

سام سنگ کا ایک اور مڈرینج فون فروخت کے لیے پیش

سام سنگ نے اپنا ایک نیا اسمارٹ فون گلیکسی آن 6 متعارف کرا دیا ہے۔

انفٹنی ڈسپلے اور چیٹ اوور ویڈیو فیچر کے ساتھ یہ فون سب سے پہلے بھارت میں فروخت کے لیے پیش کیا جارہا ہے۔

یہ فون 5.6 انچ کے ایس 8 یا 9 جیسے انفٹنی ایچ ڈی پلس ڈسپلے کے ساتھ ہے جس میں 15:5:9 اسکرین اسپیکٹ ریشو دیا گیا ہے۔

فون میں کمپنی کا اپنا ایکسینوس 7870 پراسیسر دیا گیا ہے جس کے ساتھ 4 جی بی ریم اور 64 جی بی اسٹوریج ہے، جس میں مائیکرو ایس ڈی کارڈ کی مدد سے 256 جی بی تک اضافہ کیا جاسکتا ہے۔

فون کے بیک پر 13 میگا پکسل جبکہ فرنٹ پر 8 میگا پکسل کیمرہ دیا گیا ہے اور دونوں میں ایف 1.9 آپرچر موجود ہے، جس کے بارے مین کمپنی کا دعویٰ ہے کہ یہ کم روشنی میں بہترین کارکردگی دکھاتا ہے۔

3000 ایم اے ایچ بیٹری کے ساتھ اس میں ایک نیا فیچر چیٹ اوور ویڈیو بھی دیا گیا ہے جو پہلے گلیکسی جے 6 اور اے سکس سیریز میں نظر آتا تھا۔

اس فیچر کی بدولت صارف ویڈیوز کو دیکھتے ہوئے بھی دوستوں سے ویڈیو چیٹ کرسکتا ہے، جس کے لیے کمپنی نے مائی گلیکسی ویڈیو ایپ دی ہے۔

اینڈرائیڈ اوریو آپریٹنگ سسٹم کے ساتھ یہ فون بھارت میں 5 جولائی سے 14 ہزار 990 بھارتی روپے (26 ہزار پاکستانی روپے سے زائد) میں صارفین کو بلیک اور بلیو رنگوں میں دستیاب ہوگا۔

تھائی لینڈ کی غار میں پھنسے 12 بچوں کا سراغ لگا لیا گیا

تھائی لینڈ کی غار میں پھنسے 12 لڑکوں اور ان کے فٹبال کوچ کے حوالے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ وہ سب زندہ ہیں اور ایک غار میں صحیح حالت میں موجود ہیں۔

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق تھائی لینڈ کی فوج کا کہنا تھا کہ غار میں پھنسے تمام لوگ زندہ ہیں لیکن انہیں واپسی کے لیے غوطہ خوری سیکھنا ہوگی یا پھر مہینوں سیلاب کے کم ہونے کا انتظار کرنا پڑے گا۔

خیال رہے کہ 12 نوجوانوں اور ان کے فٹبال کوچ پر مشتمل یہ گروپ 9 روز قبل لاپتہ ہوگیا تھا، جن کی نشاندہی کرنے کے لیے برطانیہ کے 2 غوطہ غوروں نے اہم کردار ادا کیا۔

تاہم اس وقت گروپ کو بچانے والوں کے لیے سب سے اہم چیز ان تک رسد پہنچانا ہے کیونکہ ان کے لیے سب سے بڑا مسئلہ پانی کا بڑھنا ہے۔

لاپتہ افراد کا سراغ کیسے لگایا گیا؟

غار میں پھنسے افراد کی تلاش کے لیے تھائی نیوی کے خصوصی دستے نے گزشتہ رات آپریشن کا آغاز کیا، جس میں 2 برطانوی غوطہ خوروں نے بھی حصہ لیا۔

اس حوالے سے تھائی نیوی کی جانب سے فیس بک پر ایک ویڈیو پوسٹ کی گئی، جس میں لڑکوں کو پانی کے اوپر مٹی کے ٹیلے پر بیٹھا ہوا دکھایا گیا اور وہ غوطہ خوروں کو جواب دے رہے ہیں کہ وہ سب یہاں موجود ہیں اور انہیں بہت بھوک لگی ہے۔

اس دوران گروپ کی جانب سے غوطہ خوروں سے سوال کیا گیا کہ انہیں کب تک یہاں رہنا پڑے گا اور آیا وہ یہاں سے واپس جا پائیں گے؟ جس پر غوطہ خور انہیں کہتے ہیں کہ وہ انتظار کریں لوگ انہیں واپس لے جانے کے لیے آئیں گے۔

لاپتہ بچوں کے حوالے سے سامنے آنے والی ویڈیو نے قوم میں ایک امید کی کرن پیدا کردی جبکہ بچوں کے اہل خانہ بھی خوش ہیں کیونکہ اس سے قبل یہ واضح نہیں تھا کہ یہ لوگ کہاں ہیں اور آیا زندہ بھی ہیں یا نہیں۔

غار میں پھنسے افراد کس طرح واپس لایا جاسکتا ہے؟

تھائی لینڈ کی موجودہ صورتحال میں غار میں پھنسے ہوئے بچوں کو بحفاظت وہاں سے نکالنا سب سے خطرناک کام ہے۔

شمالی تھائی لینڈ میں تھم لوانگ غار کو بارش کے سیزن میں سیلابی صورتحال کا سامنا کرنا پڑتا ہے جو ستمبر یا اکتوبر تک جاری رہتا ہے۔

تاہم حکام کے مطابق اگر بچے اس وقت سے قبل واپس آنا چاہتے ہیں تو انہیں غوطہ خوری کی بنیادی تربیت سیکھنی ہوگی لیکن ماہرین کا کہنا ہے غیر تربیت یافتہ غوطہ خوروں کے لیے کیچڑ اور گندے پانی میں تیرنا انتہائی خطرناک ہوسکتا ہے۔

دوسری جانب اگر یہ بچے پانی کے کم ہونے تک انتظار کرتے ہیں تو اس کے لیے انہیں مہینوں انتظار کرنا پڑے گا اور اس دوران انہیں مسلسل خوراک اور دیگر چیزیں فراہم کرنی ہوں گی۔

یہ بچے کون ہیں؟

غار میں پھنسے 12 بچے مقامی فٹبال ٹیم کے کھلاڑی ہیں اور ان کے کوچ کبھی کبھار اس طرح کے دوروں پر انہیں لے جایا کرتے تھے۔

اس بارے میں ایک پھنسے ہوئے بچے کی والدہ کا کہنا تھا کہ وہ یہ سن کر بہت خوش ہیں کہ یہ لوگ محفوظ ہیں لیکن میں انہیں جسمانی اور دماغی طور پر ٹھیک دیکھنا چاہتی ہوں۔

فنچ کی ریکارڈ ساز اننگز، آسٹریلیا کی 100 رنز سے فتح

ہرارے: ایرون فنچ کی ریکارڈ ساز اننگز کی بدولت آسٹریلیا نے سہ ملکی سیریز میں زمبابوے کو یکطرفہ مقابلے کے بعد 100 رنز سے شکست دے کر مسلسل دوسری کامیابی حاصل کر لی۔

زمبابوے میں جاری سہ ملکی سیریز میں منگل کو کھیلے گئے سیریز کے تیسرے ٹی20 میچ میں زمبابوین کپتان ہملٹن مسکڈزا نے ٹاس جیت کر پہلے باؤلرز کو آزمانے کا فیصلہ کیا جو ان کے لیے مہنگا ثابت ہوا۔

آسٹریلیا نے پہلے کھیلتے ہوئے مقررہ اوورز میں صرف 2 وکٹوں کے نقصان پر 229 رنز کا مجموعہ ترتیب دیا۔

فنچ اور ڈی آرسی شارٹ نے انتہائی شاندار بلے بازی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اوپننگ شراکت میں 223 رنز کی شراکت قائم کر کے نیا عالمی ریکارڈ قائم کردیا۔

فنچ کی اننگز زمبابوین ٹیم کے لیے کسی تباہی سے کم نہ تھی جنہوں نے تمام زمبابوین باؤلرز کو تختہ مشق بناتے ہوئے 76 گیندوں پر 10 چھکوں اور 16 چوکوں کی مدد سے 172 رنز کی اننگز کھیلی۔

تاہم ان کی اس شاندار اننگز کا اختتام مایوس کن انداز میں ہوا اور وہ 172 کے انفرادی اسکور پر ہٹ وکٹ ہو گئے۔

دوسرے اینڈ پر موجود ڈی آرسی شارٹ اننگز کے 20ویں اوور میں آؤٹ ہوئے لیکن جہاں فنچ نے جارحانہ اننگز کھیلی وہیں شارٹ نے صرف 42 گیندوں پر 46 رنز بنائے۔

آسٹریلیا نے مقررہ اوورز میں دو وکٹوں کے نقصان پر 229 رنز کا مجموعہ اسکور بورڈ کی زینت بنایا اور زمبابوے کی جانب سے دونوں وکٹیں موزرابانی نے حاصل کیں۔

جواب میں زمبابوین ٹیم مطلوبہ ہدف کے تعاقب میں مقررہ اوورز میں 9 وکٹوں پر 129 رنز تک محدود رہی اور میچ میں 100 رنز کی بدترین شکست دے دوچار ہو گئی۔

زمبابوے کا کوئی بھی کھلاڑی کینگروز باؤلرز کا ڈٹ کر مقابلہ نہ کر سکا، چبابا 18، سولومون میر 28، کپتان ہملٹن مساکاڈزا 12، موساکانڈا 10، پیٹر مور 19 ایلٹن چیگمبرا 7، چیسورو 6، ریال برل 10 اور کرس موفو 3 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔

آسٹریلیا کی جانب سے اینڈریو ٹائی نے 3 جبکہ ایشٹن ایگار نے دو وکٹیں حاصل کیں۔

ایرون فنچ میچ کے بہترین کھلاڑی قرار پائے۔

گزشتہ حکومت نے گردشی قرضے کا بوجھ بجلی کے بلوں میں ڈال دیا

اسلام آباد: گزشتہ حکومت نے گردشی قرضے کی ادائیگی کے 150 ارب روپے کا بوجھ عوام پرڈال دیا۔

جیونیوز کے مطابق گزشتہ حکومت نے گردشی قرضے کا بوجھ کے الیکٹرک سمیت ملک بھر کے صارفین پر ڈالا ہے جس کے بعد عوام سے بجلی ٹیکس کی مد میں 150 ارب روپے کی وصولی شروع کردی گئی ہے جس کا اعتراف وزارت خزانہ کے حکام نے سینیٹ کی خصوصی کمیٹی کے اجلاس میں کیا۔

وزارت خزانہ کے حکام نے بتایا کہ دسمبر 2017 تک گردشی قرض 514 ارب روپے تھا، حکومت نے ماضی میں بھی گردشی قرض ادائیگی کیلئے 180 ارب قرض لیا اور یہ رقم بھی صارفین سے بجلی کے بلوں کے ذریعے وصول کی گئی۔

وزارت خزانہ کے حکام کا کہنا تھا کہ حکومت نے گزشتہ سال بجلی پر 118 ارب روپے سبسڈی ادا کی۔

ذیابیطس کا باعث بننے والا ایک حیرت انگیز عنصر دریافت

عام طور پر سمجھا جاتا ہے کہ زیادہ میٹھا کھانے کا شوق ذیابیطس ٹائپ ٹو کا شکار بناتا ہے مگر آج کے دور میں فضائی آلودگی بھی اس خاموش قاتل مرض کا باعث بن رہی ہے۔

یہ انکشاف امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آیا۔

واشنٹگٹن یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ فضائی آلودگی ذیابیطس ٹائپ ٹو کو پھیلانے میں اہم کردار ادا کررہی ہے، یہاں تک کہ اس سطح پر بھی یہ لوگوں کو مریض بناسکتی ہے، جسے انسانی صحت کے لیے محفوظ سمجھا جاتا ہے۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ ایسے انتہائی چھوٹے اجزا جو انسانی آنکھ سے اوجھل ہوتے ہیں، ہر سال ذیابیطس کے 14 فیصد کیسز کی وجہ بنتے ہیں، یا یوں کہہ لیں کہ فضائی آلودگی ہر سال 30 لاکھ سے زائد افراد کو ذیابیطس ٹائپ ٹو کا شکار بنادیتی ہے۔

ابھی موٹاپے کی بڑھتی شرح اور غیر صحت مند طرز زندگی کو ذیابیطس ٹائپ ٹو کو دنیا بھر میں وبا کی طرح پھیلانے والے اہم عنصر سمجھے جاتے ہیں۔

مگر اب پہلی بار یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ فضائی آلودگی بھی انسولین بننے کے عمل میں کمی لانے میں اہم کردار ادا کررہی ہے۔

یہ پہلی بار ہے کہ ذیابیطس اور فضائی آلودگی کے درمیان تعلق کو دریافت کیا گیا ہے۔

محققین کا کنا تھا کہ فضائی آلودگی کے نتیجے میں انسولین کی شرح میں کمی اور ورم پیدا ہوتا ہے، جس سے جسم بلڈ گلوکوز کو توانائی میں تبدیل کرنے سے قاصر ہونے لگتا ہے۔

انہوں نے مختلف ڈیٹا کا جائزہ لینے کے بعد بتایا کہ فضائی آلودگی کے نتیجے میں 2016 میں دنیا بھر میں ذیابیطس ٹائپ ٹو کے 32 لاکھ نئے کیسز سامنے آئے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم نے دریافت کیا کہ کم سطح پر فضائی آلودگی بھی جسے ابھی عالمی ادارہ صحت کی جانب سے محفوظ سمجھا جاتا ہے، ذیابیطس کا خطرہ بڑھانے کے لیے کافی ہے۔

تحقیق میں یہ دریافت بھی کیا گیا کہ فضائی آلودگی سے پسماندہ اور ترقی پذیر ممالک کے افراد میں ذیابیطس کا خطرہ سب سے زیادہ ہے۔

افغانستان میں امریکی فوجی قافلے پر کار بم حملے میں 5 افراد ہلاک

کابل:افغانستان کے صوبہ لوگر میں امریکی فوجی قافلے پر کار بم حملے میں 5 افراد ہلاک ہوگئے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق لوگر کے علاقے پلِ عالم میں خود کش حملہ آور نے بارود سے بھری گاڑی امریکی فوجی قافلے سے ٹکرادی۔ دھماکے میں 5 افراد ہلاک اور 3 زخمی ہوگئے۔ طالبان نے حملے کی ذمہ داری قبول کرلی۔ ترجمان طالبان کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا کہ اس حملے میں غیر ملکی جارح افواج کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں 5 امریکی فوجی مارے گئے۔

افغان حکام نے واقعے کے تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ حملے میں 5 افراد ہلاک ہوئے جن میں خواتین اور بچے شامل ہیں۔ افغانستان میں تعینات امریکی و نیٹو افواج نے تاحال اپنے فوجیوں کی ہلاکت کی تصدیق یا تردید نہیں کی۔

لوگر پولیس کے ترجمان شاہ پور عرب نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حملے میں امریکی فوجی قافلے کو تھوڑا بہت نقصان پہنچا تاہم کسی فوجی کی ہلاکت کی اطلاع نہیں ملی۔ صوبائی کونس کے سربراہ حسیب ستانکزئی نے بتایا کہ امریکی فوجی دستہ عسکریت پسندوں کے خلاف ایک آپریشن کرکے واپس اپنے بیس آرہا تھا کہ راستے میں اسے نشانہ بنایا گیا۔

عالمی طاقتیں انتخابات کو سبوتاژکرناچاہتی ہیں

وطن عزیز میں ہونے والے عام انتخابات میں فسادات پھیلانے کیلئے را، موساد، این ڈی ایس اور سی آئی اے نے باقاعدہ منصوبہ بندی کر رکھی تھی۔ جس کے تحت پاکستان کے اندر مذہبی اور سیاسی لیڈروں کو نشانہ بنایا جانا تھا۔ اور جلسے جلوسوں میں ٹارگٹ کلنگ کی جانی تھی۔ اس کے علاوہ سیاسی جماعتوں کے درمیان لڑائی جھگڑے کروانے کا منصوبہ بھی بنایا گیا تھا۔ اس مقصد کیلئے سندھ کے اندر ایم کیو ایم لندن جب کہ بلوچستان اور خیبر پختونخواہ میں منظور پشتین گروپ سے فسادات برپا کروانے تھے۔ جب کہ پنجاب کے اندر اس حوالے سے کالعدم تنظیموں کو متحرک کیا گیا تھا۔ اس تمام مقصد کیلئے فنڈنگ بھی کی گئی تھی۔ را اور موساد سمیت دیگر غیر ملکی ایجنسیوں کی طرف سے 3 ارب روپے کی فنڈنگ کی گئی تھی۔ تاکہ پاکستان کے اندر لاقانیت پیدا کی جائے۔ اس بات کا ثبوت سیکریٹری الیکشن کمیشن کا بیان ہے جس میں انہوں نے کہاکہ عالمی طاقتیں عام انتخابات کو سبوتاژ کرناچاہتی ہیں۔ عام انتخابات کے موقع پر بڑے پیمانے پر سیکیورٹی خطرات ہیں جو الیکشن کمیشن کیلئے پریشانی کاباعث ہیں۔پولیس کی سیکیورٹی ناکافی ہے۔ صوبوں کی طرف سے پاک فوج کی خدمات کامطالبہ آرہاہے۔ غور کیاجارہاہے کہ پاک فوج کو صرف حساس پولنگ اسٹیشنوںیاتمام اسٹیشنوں پر تعینات کریں۔ ایک تجویز ہے کہ تمام پولنگ اسٹیشنوں پرفوج تعینات کی جائے۔ملک میں 20ہزار پولنگ اسٹیشن حساس قرار دیدیے گئے۔ حساس پولنگ اسٹیشنوں میں کیمرے لگائے جائیں گے۔ کیمرے سے سیکیورٹی اور الیکشن عملے کے نظم و نسق کوبھی مانیٹر کیاجاسکے گا۔ نگراں وزیرداخلہ نے کہا کہ ملک کے حالات پہلے سے بہتر ہوئے ہیں تاہم اب بھی عام انتخابات کے دوران کسی بھی سیاسی جماعت کی ریلی یا جلوس کو نشانہ بنانے کا خدشہ موجود ہے کیونکہ افغانستان سے 35 سال سے چلنے والا مسئلہ سب کے سامنے ہے۔ چند ملکی اور بیرونی عناصر انتخابات کے موقع پر نمایاں سیاست دانوں کی ٹارگٹ کلنگ کر سکتے ہیں جس کے نتیجے میں ملک میں بڑے پیمانے پر سیاسی تشدد کا خدشہ ہے۔ دہشت گرد انتخابی عملہ کو بھی نشانہ بنا سکتے ہیں اور نتیجتاً خوف کی ایسی فضا قائم ہو سکتی ہے کہ انتخابات کا انعقاد ممکن نہ رہے۔پاکستان میں سکیورٹی امور کے ماہرین کے مطابق آئندہ عام انتخابات میں بڑے پیمانے پر دہشت گردی، ٹارگٹ کلنگ اور سیاسی تشدد کا خدشہ ہے۔ اس ضمن میں ملکی اور غیر ملکی عناصر کے مبینہ گٹھ جوڑ کی بات کی جا رہی ہے۔ لہٰذا بھارت، داعش، امریکہ اور طالبان کے مبینہ منصوبوں اور انکے ممکنہ نتائج کے تجزیے کیے جا رہے ہیں۔ اس حوالے سے جہاں بہت دور کی کوڑیاں ملائی جا رہی ہیں، وہیں بعض ذمہ دار سکیورٹی ماہرین اور سیاسی و سماجی امور کے ماہرین بھی علاقائی اور عالمی طاقتوں کے مبینہ گٹھ جوڑ کا حوالہ دے رہے ہیں۔ عام خیال یہ ہے کہ حال ہی میں طالبان لیڈر ملا ٰفضل اللہ کی ہلاکت کے ردعمل کے لیے انتخابی ماحول سے زیادہ بہتر موقع کیا ہو سکتا ہے؟ دوسری طرف افغان طالبان کی جانب سے دہشت گردی کے مسلسل واقعات کا پاکستان کے اندر ردعمل متوقع ہے۔ 2013ء کے انتخابات کا حوالہ بھی دیا جا رہا ہے کہ تب طالبان کی جانب سے دو سیاسی جماعتوں کو نشانہ بنایا گیا۔ خیبر پختونخواہ میں عوامی نیشنل پارٹی کے ایک سو پچاس سے زائد کارکنوں کو ہلاک کیا گیا اور پیپلزپارٹی کو پنجاب میں انتخابی مہم چلانے کی اجازت نہیں دی گئی۔ سکیورٹی ماہرین اور سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس مرتبہ یہی صورتحال پنجاب میں بھی پیدا ہو سکتی ہے۔ اس حقیقت کو نظر انداز کرنا بھی ممکن نہیں کہ عملی طور پر دہشت گردی اور انتہا پسندی کے واقعات روکے نہیں جا سکے۔ مثال کے طور پر خیبر پختونخواہ میں معروف سکھ راہنما چرن جیت کا قتل، سابق وزیر داخلہ احسن اقبال پر قاتلانہ حملہ، ڈیرہ مراد جمالی سے ہندو تاجر کا اغوا، اور سیالکوٹ میں احمدیوں کی عبادت گاہ کا انہدام ایسے واقعات ہیں جنہوں نے ‘پیغام پاکستان’ کے متوقع مثبت اثرات پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ پھر بھارت اور داعش نے پاکستان کے خلاف گٹھ جوڑ کر رکھا ہے۔ بھارت کو یہ بات تکلیف پہنچا رہی ہے کہ پاکستان اور روس کے باہمی تعلقات مضبوط سے مضبوط تر ہو رہے ہیں۔عام انتخابات 2018 میں حصہ لینے والی ترقی پسند اور جمہوریت نواز جماعتیں، قومی و بین الاقوامی میڈیا اور سول سوسائٹی مسلسل تشویش کا اظہار کر رہے ہیں کہ انتخابی مہموں کے دوران مذہب کو بطور نعرہ استعمال کرنے کا رجحان خطرناک حد تک بڑھ چکا ہے۔ سکیورٹی امور پر گہری نگاہ رکھنے والے تجزیہ نگاروں کے مطابق،دہشت گردوں کو معلوم ہے کہ سیاست دان انتخابی مہموں میں ضرور شامل ہوں گے۔ دوسری اعلیٰ عدلیہ نے بلٹ پروف گاڑیوں کی ممانعت اور سیاست دانوں کو پولیس سکیورٹی فراہم کرنے پر پابندی لگا کر سیاست دانوں کو مزید خطرے سے دوچار کر دیا ہے۔ مثال کے طور پر میاں افتخار حسین دہشت گردوں کی ہٹ لسٹ پر ہیں لیکن اپنے وسائل سے اپنی سکیورٹی کا بندوبست نہیں کر سکتے۔اس مرتبہ تشدد کی لہر خیبر پختونخواہ تک محدود نہیں رہے گی۔ اس بات کے امکانات موجود ہیں کہ پنجاب بھی تشدد کی لہر کی لپیٹ میں آ جائیگا۔ سابق وزیر داخلہ احسن اقبال پر قاتلانہ حملوں جیسے واقعات مزید ہوسکتے ہیں اور سوشل میڈیا پر نظر ڈالی جائے تو محسوس ہوتا ہے کہ اس مرتبہ الزامات، جوابی الزامات، مذہبی تعصب پر مبنی نفرت انگیزی، کردار کشی، مغلضات اور فتووں کا ریکارڈ ٹوٹ جائے گا۔آئندہ انتخابات میں وہ تنظیمیں بھی امیدوار کھڑے کر رہی ہیں جن پر اندرون ملک اور بیروں ملک دہشت گردی کے الزامات لگائے جاتے رہے ہیں۔ دوسری جانب علامہ خادم رضوی کی جماعت ‘تحریک لبیک یا رسول اللہ’ ختم نبوت کا نعرہ لے کر انتخابی میدان میں اتری ہے۔ حتیٰ کہ پاکستان تحریک انصاف بھی ختم نبوت کے مسئلہ کو انتخابی نعرہ بنا رہی ہے۔ پی ٹی آئی کے عامر لیاقت حسین کراچی میں خود کو احمدی مخالف اور ختم نبوت کے محافظ کے طور پر پیش کر رہے ہیں جبکہ لاہور میں پی ٹی آئی کی یاسمین رشید بھی اپنے پوسٹرز میں سوال کر رہی ہیں کہ کیا انکے حلقے کے ووٹر شاتم رسول، سلمان تاثیر کو قتل کرنے والے ‘عاشق رسول’، ممتاز قادری کوپھانسی دینے والی مسلم لیگ ن کو ووٹ دیں گے؟ اطلاع کے مطابق الیکشن کمیشن کی درخواست پر وزارت دفاع نے عام انتخابات کیلئے تین لاکھ فوجی تعینات کرنے پر رضامندی ظاہر کر دی ہے۔ اس مقصد کیلئے تینوں مسلح افواج کے ریٹائرڈ فوجیوں کو بھی طلب کر لیا گیا ہے۔

پرویز مشرف شب خون مارنے والا آمر تھا، چیف جسٹس

اسلام آباد: چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار نے ایک کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیے کہ سابق صدر و آرمی چیف جنرل (ر) پرویز مشرف شب خون مارنے والا ڈکٹیٹر تھا۔

سپریم کورٹ میں گن اینڈ کنٹری کلب کو غیرقانونی طور پر اراضی لیز پر دینے اور کلب میں شادی ہال کی تعمیر سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔ سپریم کورٹ نے گن کلب میں غیر قانونی تعمیرات دس روز میں گرانے کا حکم دے دیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ گن کلب کا زمین پر قبضہ غیر قانونی ہے، کلب کو اراضی الاٹ ہی نہیں کی گئی، کلب کی درخواست پر سی ڈی اے بورڈ فیصلہ کرے۔

دوران سماعت چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ غیر قانونی تعمیرات کی اجازت کس نے دی۔  کلب کے وکیل نے بتایا کہ اس وقت کے ایڈمنسٹریٹر پرویز مشرف تھے اور انہوں نے ہی تعمیرات کی اجازت دی۔

اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ پرویز مشرف کو تو کھوکھا الاٹ کرنے کی بھی اجازت نہیں تھی، کیا کسی باپ کی جاگیر تھی جو چاہا بانٹ دیا، پرویز مشرف کون ہوتا ہے غیر قانونی تعمیرات کی اجازت دینے والا، مشرف تو شب خون مارنے والا اور ڈکٹیٹر تھا، وہ واپس آئے اور وضاحت دے جو جو اس نے ملک کے ساتھ غلط کیا، وہ وطن واپس آکر ایسے کارناموں کا حساب کیوں نہیں دیتا۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا گن کلب میں شراب بھی سپلائی کی جاتی ہے؟، کلب میں بیٹھ کر لوگ شراب کی کپیاں پی رہے ہوتے ہیں۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے گن کلب میں شراب نوشی کی تصدیق کی۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ کلب میں فیصل سخی بٹ نے 2008 میں شادی ہال بنایا تھا۔

چیف جسٹس نے شادی ہال منہدم کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ کل تک مارکی گرا کر آئیں پھر کیس سنوں گا۔ عدالت نے دانیال عزیز اور فیصل سخی بٹ سمیت گن کلب کے چار سابق ایڈمنسٹریٹر کو بھی طلب کرلیا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ کلب میں تعمیر کردہ کسی سوئمنگ پول اور ٹینس کورٹ کی منظوری نہیں دی گئی، کلب کو زمین کی الاٹ منٹ کا دوبارہ جائزہ لیا جائے گا، کیوں نہ گن کلب کو بند کر کے جگہ پولی کلینک اسپتال کو دے دیتے ہیں۔

عدالت نے سماعت نو جولائی تک ملتوی کردی۔

Google Analytics Alternative