Home » 2018 » July » 06

Daily Archives: July 6, 2018

پاکستان کے نظام نے پہلی مرتبہ کسی طاقتور کو سزا دی: عمران خان

لوئردیر/سوات: چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے کہا ہے کہ ہمارے ملک کے نظام میں صرف کمزور پکڑا جاتا تھا لیکن اس نظام نے پہلی بار کسی طاقتور کو سزا دی۔

سوات میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ ان دو بھائیوں نے سیاست میں کرپشن شروع کی، لاہور میں لوگوں کو خریدا اور یہ سب ہمارے سامنے ہوا۔

انہوں نے کہا کہ میں نے سیاست شروع کی تو پہلا شخص تھا جس نے کرپشن کی بات کی، 1998 میں ان کے محلات کے سامنے جاکر احتجاج کیا لیکن کوئی سننے والا نہیں تھا۔

چیئرمین پی ٹی آئی کا کہنا تھاکہ زرداری اور شریفوں نے کرپشن کرنے کے لیے ملک کے ادارے تباہ کیے، ادارے مضبوط ہوتے تو ان کو پکڑے جانا تھا، حکمران ادارے تباہ کرکے کرپشن کرتا ہے کیونکہ جب ادارے مفلوج ہوجائیں تو ملک تباہ ہوجاتا ہے۔

عمران خان نے کہاکہ پاکستان کے پاس وسائل ہیں لیکن کرپشن کی دیمک نے ملک کو کینسر کی طرح کھالیا، آج بچہ بچہ مقروض ہے، یہ چور عوام کا پیسہ چوری کرکے باہر لے گئے۔

آج سے نئے پاکستان کی شروعات ہے: چیئرمین تحریک انصاف

ان کا کہنا تھا کہ اللہ کا شکرگزار ہوں 22 سال پہلے یہ جدوجہد شروع کی، پہلی مرتبہ ایک طاقتور کو ملک کے انصاف کےنظام نے سزا دی، پہلے صرف کمزور لوگ جیلوں میں جاتے تھے اور طاقتور لوگوں کو پاکستان کے ادارے نہیں پکڑ سکتے تھے، آج سارے پاکستانیوں کو شکر ادا کرنا چاہیے کیونکہ یہ نئے پاکستان کی شروعات ہے۔

چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ اب سے بڑے بڑے ڈاکو اسمبلی میں نہیں جائیں گے اور وزیر نہیں بنیں گے، بڑے ڈاکو اب جیلوں میں جائیں گے، انہیں سزائیں ہوں گی، امید ہے 26 جولائی کو پاکستان میں نئے پاکستان کا سورج اگے گا۔

ان کا کہنا تھاکہ مجھے گندا کرنے کے لیے یہ لوگ بہت نیچے تک گئے اور ہماری خواتین کو بھی نہیں چھوڑا، یہ لوگ اتنے گرگئے کہ ایک خاتون سےگندی کتاب لکھوائی تاکہ مجھے گندا کرسکیں۔

عمران خان نے کہا کہ ان لوگوں نے اپنی چوری بچانے کے لیے وہ کام کیا جو دشمن بھی نہیں کرتا، انہوں ںے کہا کہ ممبئی حملے فوج نے کرائے، ساری دنیا میں اس سے فوج کی بے عزتی ہوئی، آج ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کو گرے لسٹ میں ڈال دیا، انہوں نے اپنی چوری بچانے کے لیے ملک کا نقصان کرایا اور ہر سطح پر گئے، نوازشریف نے ثابت کیا کہ پیسہ بچانے کے لیے وہ کچھ بھی کرسکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آج جو فیصلہ ہوا اس پر خاص طور پر اللہ کا شکر ادا کروں گا، انسان صرف کوشش کرتا ہے، 22 سے کوشش کررہا تھا،کامیابی اللہ دیتا ہے۔

موقع ملا تو مہاتیر محمد جیسا احتساب کروں گا: عمران

عمران خان کا کہنا تھا ان لوگوں کو صرف یہ جواب دینا تھا کہ پیسہ کہاں سے آیا اور ملک سے باہر کیسے گیا، میں تو ایک کرکٹر تھا کوئی وزیر یا وزیراعظم نہیں تھا، 34 سال پہلے فلیٹ لیا، اگر میں دستاویزات دے سکتا ہوں تو ملک کا وزیراعظم نہیں بتاسکتا کہ اربوں کی جائیداد کیسے آئی اور کیسے باہر گئی۔

انہوں نے مزید کہا کہ خیبرپختونخوا میں یہ ہماری پہلی باری تھی جس سے بہت کچھ سیکھا، اب اللہ نے موقع دیا تو عوام سے وعدہ کرتا ہوں ہمیشہ سچ بولوں گا اور پروپیگنڈا نہیں کروں گا، جیسا مہاتیر محمد نے احتساب کیا ایسا احتساب کروں گا، سب الیکشن لرنے سے لڑیں گے۔

لوئر دیر میں خطاب 

اس سے قبل لوئر دیر تیمر گرہ میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ کرپشن تھا اور ہے، سارا پاکستان فیصلے کا انتظار کر رہا ہے، آج پاکستان کی تاریخ کے لیے فیصلہ کیوں ضروری ہے، کیونکہ اب تک طاقتور آتا تھا، پیسے لوٹتا تھا اور کوئی ادارہ کچھ نہیں کہتا تھا، نیب ایف آئی اے سمیت پولیس میں بھی چوروں کو پکڑنے کی جرات نہیں تھی۔

انہوں نے کہاکہ عوام کا پیسا چوری کرکے منی لانڈرنگ سےباہر بھیجا جاتا ہے، کرپشن کے مافیا کے خلاف 22 سال پہلے جنگ شروع کی تھی۔

چیئرمین پی ٹی آئی کا کہنا تھاکہ چھ بار شریف خاندان نے پنجاب میں حکومت کی، قوم کا سب سے بڑا ڈرامے باز شہبازشریف ہے، اب وہ انسانوں پر سرمایہ کرنے کی باتیں کرتا ہے، شہباز شریف کوئی بات تو اپنی عقل سے کرو، جو میں بولتا ہوں، وہ شہبازشریف بولنا شروع ہوجاتے ہیں۔

عمران خان نے کہا کہ جو بھی اقتدار میں آتا ہے فضل الرحمان مقناطیس کی طرح جڑ جاتے ہیں، یہ پہلی باری ہوگی اگر ہماری حکومت آئی تو یہ مقناطیس نہیں جڑے گا۔

انہوں نے اپنی سابق صوبائی حکومت کی اتحادی جماعت اسلامی پر بھی تنقید کی اور کہا کہ آپ کو فضل الرحمان کے علاوہ اتحاد کرنے کے لیے کوئی نہیں ملا؟ جب آپ سے پوچھا جائے گا کہ بطور چیئرمین کشمیر کمیٹی فضل الرحمان نے کشمیریوں کے لیے کیا کیا؟ تو آپ کیا کہیں گے۔

مسلم لیگ (ن) اس فیصلے کو مسترد کرتی ہے، شہباز شریف

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف نے پارٹی قائد نواز شریف کے خلاف عدالتی فیصلے کو مسترد کرنے کا اعلان کردیا۔

مسلم لیگ (ن) کے صدر شہبازشریف نے عدالتی فیصلے کے بعد پریس کانفرنس کی جس میں انہوں نے کہا کہ پاناما، ایون فیلڈ اور آف شور کمپنیوں میں نوازشریف کا نام نہیں، مقدمے میں کوئی ٹھوس قانونی دستاویز مہیا نہیں کی گئی، فیصلے میں بہت قانونی خامیاں ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ احتساب عدالت کا فیصلہ تاریخ میں سیاہ حروف سے لکھا جائے گا۔

شہباز شریف کا کہنا ہے کہ یہ بات دنیا جانتی ہے کہ نواز شریف وہ شخص ہیں جنہوں نے پاکستان کو ایٹمی ملک بنایا اور ایٹمی قوت بناتے وقت خارجی دباؤ، لالچ اور دھمکیوں کو ٹھکرایا، عوام کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے ملک کو ایٹمی قوت بنایا۔

ان کا کہنا ہے کہ موٹرویز کا موجد نواز شریف ہے، دیامر بھاشا کو سردخانے سے نکال کر عملی میدان میں لانے والا نواز شریف ہے۔

انہوں نے کہا کہ آج اس قوم کے سپوت کو سزا سنا گئی جنہوں نے اس ملک کی بے پناہ خدمت کی، نواز شریف نے ہمیشہ جبر اور دباؤ کا حوصلے اور خندہ پیشانی سے مقابلہ کیا۔

مسلم لیگ (ن) کے صدر کا کہنا تھا کہ انصاف کے حصول کے لیے وہ 109 مرتبہ احتساب عدالت میں پیش ہوئے اور ملکی 70 سالہ تاریخ میں ایسی کوئی مثال موجود نہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ جنہوں نے پاکستان کی معیشت کو تباہ کیا، اربوں کھربوں سمیٹ کر لے گئے، ان کے بارے میں نیب نے کیا فیصلے کی، نیب عدالت نے اپنا فیصلہ سنا دیا لیکن 25 جولائی کو عوامی عدالت لگنے والی ہے اور وہ عوامی فیصلہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ثابت کرے گا یہ عوامی عدالت کا فیصلہ ٹھیک ہے۔

شہباز شریف کا کہنا تھا کہ میں پاکستان کے کونے کونے میں جاؤں گا اور جاکر اس زیادتی اور ناانصافی سے عوام کو آگاہ کروں گا، 25 جولائی کو فجر کی نماز کے بعد عوامی عدالت میں صحیح معنوں میں گواہی دے گا۔

یاد رہے کہ احتساب عدالت نے ایون فیلڈ ریفرنس میں سابق وزیراعظم نواز شریف کو 10 سال، ان کی صاحبزادی مریم نواز کو 7 سال اور کیپٹن (ر) صفدر کو ایک سال قید کی سزا سنائی ہے۔

احتساب عدالے نے نوازشریف کو 80 لاکھ پاؤنڈ اور مریم نواز کو 20 لاکھ پاؤنڈ جرمانہ بھی کیا ہے اور ایون فیلڈ اپارٹمنٹس کو ضبط کرنے کا بھی حکم دیا ہے جب کہ عدالت نے کیپٹن (ر) صفدر پر جرمانہ نہیں کیا۔

ایون فیلڈ ریفرنس؛ نواز شریف کو 10 اور مریم نواز کو 7 سال قید کی سزا

اسلام آباد: احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے ایون فیلڈ ریفرنس میں نواز شریف کو 10 سال جب کہ مریم نواز کو 7 سال قید کی سزا سنادی ہے ۔

اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے ایون فیلڈ ریفرنس کا فیصلہ سنایا۔ نواز شریف اور مریم نواز لندن جب کہ کیپٹن ریٹائرڈ صفدر مانسہرہ میں موجودگی کی وجہ سے پیش نہیں ہوئے۔ فیصلہ سنائے جانے کے دوران میڈیا نمائندوں اور صحافیوں کو کمرہ عدالت میں آنے کی اجازت نہیں تھی۔

ایون فیلڈ ریفرنس کا تحریری فیصلہ سو صفحات پر مشتمل ہے۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں نواز شریف ، مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر کو مجرم قرار دیا ہے۔ عدالت نے نواز شریف کو 10 سال قید بامشقت اور 80 لاکھ برطانوی پاؤنڈ جرمانہ ، مریم نواز کو 7 سال قید اور 20 لاکھ پاؤنڈ جرمانہ جب کہ کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کو ایک سال قید کی سزا سنائی ہے۔

احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے 9 ماہ 20 دن تک ریفرنس کی سماعت کی اور 3 جولائی کو فیصلہ محفوظ کیا۔ اس دوران مجموعی طور پر 18 گواہوں کے بیانات قلمبند کیے گئے جن میں پاناما جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیاء بھی شامل تھے۔

عدالت کی جانب سے فیصلہ سنائے جانے سے قبل عدالت نے اسے موخر کرنے کے لیے نواز شریف کی درخواست پر سماعت کی۔ فریقین کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے درخواست مسترد کردی تھی۔

فیصلہ سنائے جانے کے موقع پر عدالت کے باہر سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کئے گئے ہیں۔ اسلام آباد میں دفعہ 144 نافذ ہے۔ احتساب عدالت جانے والے تمام راستے عام ٹریفک کے لیے بند کردیئے گئے ۔

نادیدہ قوتوں کے سامنے ڈٹ جانے کی یہ سزا بہت چھوٹی ہے: مریم

لندن: سابق وزیراعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز کا کہنا ہے کہ پاکستان میں 70 سال سے سرگرم نادیدہ قووتوں کے سامنے ڈٹ جانے کی یہ سزا بہت چھوٹی ہے۔

عدالتی فیصلے کے بعد سماجی رابطے کی سائٹ ٹوئٹر پر اپنے رد عمل میں مریم نواز نے کہا کہ پاکستان میں 70 سال سے سرگرم نادیدہ قووتوں کے سامنے ڈٹ جانے کی یہ سزا بہت چھوٹی ہے، آج ظلم کے خلاف لڑنے کا حوصلہ اور بلند ہو گیا۔

Maryam Nawaz Sharif

@MaryamNSharif

پاکستان میں 70 سال سے سرگرم نادیدہ قووتوں کے سامنے ڈٹ جانے کی یہ سزا بہت چھوٹی ہے۔ آج ظلم کے خلاف لڑنے کا حوصلہ اور بلند ہو گیا۔

انہوں نے کہا کہ شاباش نواز شریف! آپ ڈرے نہیں، آپ جھکے نہیں، آپ نے ذاتی زندگی پر پاکستان کو ترجیح دی،عوام آپ کے ساتھ کھڑی ہے، فتح آپ کی ہو گی۔

Maryam Nawaz Sharif

@MaryamNSharif

شاباش نواز شریف! آپ ڈرے نہیں، آپ جھکے نہیں۔ آپ نے ذاتی زندگی پر پاکستان کو ترجیح دی۔عوام آپ کے ساتھ کھڑی ہے۔ فتح آپ کی ہو گی۔ انشاءالّلہ!

احتساب عدالت کے فیصلے سے قبل اپنے بیان میں مریم نواز نے پارٹی کارکنان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کے شیرو! فیصلہ جو بھی آئے گھبرانا نہیں۔

Maryam Nawaz Sharif

@MaryamNSharif

مسلم لیگ ن کے شیرو یاد رکھنا!فیصلہ جوبھی آئے گھبرانا نہیں!آپکے نواز شریف کے لیے یہ سب نیا نہیں۔وہ پہلےبھی نااہلی عمر قیدجیل جلاوطنی بھگت چکے

مریم نواز نے کہا کہ نواز شریف کے لیے یہ سب نیا نہیں، وہ پہلے بھی نااہلی، عمر قید، جیل اور جلا وطنی بھگت چکے ہیں۔

رہنما (ن) لیگ نے کہا کہ خوشی کی بات یہ ہے کہ کوئی لیڈر ہے جو آپ کی خاطر، وطن عزیز کی خاطر، آپ کے ووٹ کی عزت کی خاطر ڈٹ کر کھڑا ہے اور کوئی بھی قربانی دینے کو تیار ہے۔

Maryam Nawaz Sharif

@MaryamNSharif

فیصلہ تو 25 جولائی کو ہونا ہے۔ ان سازشیوں اور مہروں کے چہرےاس دن یاد رکھنا۔ ابھی نہیں تو کبھی نہیں۔انشاءالّلہ فتح آپ کی منتظر ہے۔

مریم نواز کا کہنا تھا کہ راستہ آسان نہیں، قیمت چکانی پڑے گی، مقابلہ جمہوریت کی آستین میں چھپے سانپوں سے ہے جنہوں نے ووٹ کی حرمت پامال کرنے کا کوئی موقع جانے نہیں دیا۔

مریم نواز نے اپنی ایک اور ٹوئٹ میں کہا کہ فیصلہ تو 25 جولائی کو ہونا ہے، ان سازشیوں اور مہروں کے چہرے اس دن یاد رکھنا، ابھی نہیں تو کبھی نہیں، انشاءالّلہ فتح آپ کی منتظر ہے۔

یاد رہے کہ اسلام آباد کی احتساب عدالت میں زیرسماعت رہنے والے ایون فیلڈ ریفرنس میں مریم نواز بھی نامزد ہیں۔

عدالتی فیصلے کے بعد مریم اور کیپٹن (ر) صفدر الیکشن نہیں لڑسکیں گے

اسلام آباد: احتساب عدالت کے فیصلے کے بعد مریم نواز اور ان کے خاوند کیپٹن (ر) محمد صفدر انتخابات میں حصہ نہیں لے سکیں گے۔

اسلام آباد کی احتساب عدالت نے ایون فیلڈ ریفرنس کا فیصلہ سناتے ہوئے مریم نواز کو 7 سال اور ان کے خاوند کیپٹن (ر) صفدر کو ایک سال قید کی سزا کا حکم سنایا جس کے بعد وہ انتخابات میں حصہ نہیں لے سکیں گے۔

مریم نواز دو حلقوں سے انتخاب لڑ رہی تھیں، وہ قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 127 اور پنجاب اسمبلی کی نشست پی پی 173 کے لیے میدان میں تھیں اور عدالتی فیصلے کے بعد اب ان کے کوررنگ امیدوار الیکشن لڑیں گے

مریم نواز کو این اے 127 سے تحریک انصاف کے جمشید اقبال، پیپلز پارٹی کے چوہدری عدنان سروس اور متحدہ مجلس عمل کے راشد احمد خان سمیت 9 امیدواروں سے مقابلہ کرنا تھا۔

اسی طرح کیپٹن (ر) صفدر قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 14 مانسہرہ 2 سے الیکشن لڑ رہے تھے جو اب انتخابی دوڑ سے باہر ہوچکے ہیں، ان کے کورنگ امیدوار اب اس نشست پر انتخاب لڑیں گے۔

اس حلقے پر کیپٹن (ر) محمد صفدر کا مقابلہ تحریک انصاف کے زرگل خان اور متحدہ مجلس عمل کے مفتی کفایت اللہ سے تھا جب کہ مجموعی طور پر اس حلقے سے 11 امیدوار میدان میں ہیں جس میں 4 آزاد امیدوار بھی شامل ہیں۔

12 ماہ کے دوران نواز شریف کے خلاف تیسرا عدالتی فیصلہ

سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ (ن) کے تاحیات قائد نواز شریف کے خلاف 12 ماہ کے دوران تیسرا عدالتی فیصلہ سامنے آیا ہے۔

اسلام آباد کی احتساب عدالت کی جانب سے ایوان فیلڈ ریفرنس میں نواز شریف کو 10 سال قید اور 80 لاکھ پائونڈ جرمانے کی سزا سنائے جانے سے قبل سابق وزیراعظم کے خلاف سپریم کورٹ نے پاناما پیپرز لیکس کیس اور بعد ازاں انتخابی اصلاحات ایکٹ کیس 2017 سے متعلق فیصلہ سنایا گیا تھا۔

خیال رہے کہ 28 جولائی 2017 کو سپریم کورٹ نے شریف خاندان کے خلاف پاناما لیکس کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے وزیراعظم نواز شریف کو نااہل قرار دے دیا تھا۔

ملکی تاریخ کے اس سب سے بڑے کیس کا حتمی فیصلہ عدالت عظمیٰ کے کمرہ نمبر 1 میں جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں جسٹس اعجاز افضل خان، جسٹس شیخ عظمت سعید، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس گلزار احمد پر مشتمل سپریم کورٹ کے 5 رکنی لارجر بینچ نے سنایا۔

25 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلے میں سپریم کورٹ کے 5 جج صاحبان کی جانب سے وزیر اعظم نواز شریف نااہل قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ نواز شریف نے ’کیپیٹل ایف زیڈ ای‘ سے متعلق کاغذات نامزدگی میں حقائق چھپائے، نواز شریف عوامی نمائندگی ایکٹ کی شق 12 کی ذیلی شق ’ٹو ایف‘ اور آرٹیکل 62 کی شق ’ون ایف‘ کے تحت صادق نہیں رہے، نواز شریف کو رکن مجلس شوریٰ کے رکن کے طور پر نااہل قرار دیتے ہیں، الیکشن کمیشن نواز شریف کی نااہلی کا نوٹیفکیشن فوری طور پر جاری کرے، نوٹیفکیشن جاری ہونے کے بعد نواز شریف وزیر اعظم نہیں رہیں گے۔

بعد ازاں 21 فروری 2018 کو سپریم کورٹ نے انتخابی اصلاحات ایکٹ کیس 2017 کے خلاف دائر درخواستوں کا فیصلہ سنایا تھا جس کے نتیجے میں سابق وزیر اعظم نواز شریف مسلم لیگ (ن) کی صدارت کے لیے بھی نااہل ہوگئے تھے۔

انتخابی اصلاحات ایکٹ کیس کا متفقہ فیصلہ چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے سنایا تھا ،جس میں کہا گیا تھا کہ آئین کے آرٹیکل 62 اور 63 پر پورا نہ اترنے والا یا نااہل شخص پارٹی صدارت کا عہدہ نہیں رکھ سکتا، جبکہ اس فیصلے کا اطلاق اس وقت سے ہوگا جب اسے نااہل قرار دیا گیا ہو۔

نواز شریف کے خلاف پاناما پیپرز لیکس کیس کا فیصلہ سنائے جانے کے 11 ماہ اور 7 روز بعد اسلام آباد کی احتساب عدالت نے نواز شریف کے خلاف 6 جولائی 2018 کو نیب کی جانب سے دائر ایون فیلڈ ریفرنس کا فیصلہ سنایا۔

پاناما انکشاف

پاناما لیکس کے معاملے نے ملکی سیاست میں اُس وقت ہلچل مچائی، جب گذشتہ سال اپریل میں بیرون ملک ٹیکس کے حوالے سے کام کرنے والی پاناما کی مشہور لا فرم موزیک فانسیکا کی افشا ہونے والی انتہائی خفیہ دستاویزات سے پاکستان سمیت دنیا کی کئی طاقت ور اور سیاسی شخصیات کے ‘آف شور’ مالی معاملات عیاں ہو گئے تھے۔

پاناما پیپرز کی جانب سے انٹرنیشنل کنسورشیم آف انویسٹی گیٹو جرنلسٹس (آئی سی آئی جے) کی ویب سائٹ پر جاری ہونے والا یہ ڈیٹا ایک کروڑ 15 لاکھ دستاویزات پر مشتمل ہے، جس میں روس کے صدر ولادی میر پوٹن، سعودی عرب کے فرمانروا شاہ سلمان، آئس لینڈ کے وزیر اعظم، شامی صدر اور پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف سمیت درجنوں حکمرانوں کے نام شامل تھے۔

ویب سائٹ پر موجود ڈیٹا کے مطابق، پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف کے بچوں مریم، حسن اور حسین ’کئی کمپنیوں کے مالکان ہیں یا پھر ان کی رقوم کی منتقلی کے مجاز تھے‘۔

موزیک فانسیکا کے نجی ڈیٹا بیس سے 2.6 ٹیرا بائٹس پر مشتمل عام ہونے والی ان معلومات کو امریکی سفارتی مراسلوں سے بھی بڑا قرار دیا جا رہا ہے۔

ان انکشافات کے بعد اپوزیشن جماعتوں بالخصوص پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے وزیراعظم نواز شریف سے استعفیٰ کا مطالبہ کیا گیا اور بعدازاں اس حوالے سے سپریم کورٹ سے رجوع کیا گیا۔

سپریم کورٹ نے ان درخواستوں پر سماعت کے بعد رواں سال 20 اپریل کو وزیراعظم نواز شریف کے خلاف پاناما کیس کی مزید تحقیقات کے لیے فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کے اعلیٰ افسر کی سربراہی میں مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دی تھی۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 5 رکنی بینچ نے جے آئی ٹی کو حکم دیا تھا کہ وہ 60 روز کے اندر اس معاملے کی تحقیقات مکمل کر کے اپنی رپورٹ پیش کرے جس کی بنیاد پر حتمی فیصلہ سنایا جائے گا۔

جے آئی ٹی نے 2 ماہ کی تحقیقات کے بعد رواں ماہ 10 جولائی کو سپریم کورٹ میں اپنی حتمی رپورٹ جمع کروائی تھی، 10 جلدوں پر مشتمل اس رپورٹ میں وزیراعظم سمیت شریف خاندان پر کئی الزامات لگاتے ہوئے مختلف شواہد سامنے لائے گئے تھے۔

جانئے آج آپ کا دن کیسا رہے گا

حمل:

21 مارچ تا 21 اپریلبزرگان روحانی سے خصوصی فیض حاصل ہو سکے گا بسلسلہ تعلیم کامیابی تو ہوگی مگر اس کے ساتھ ساتھ آپ پر تعلیمی بوجھ بھی ضرورت سے کچھ زیادہ ہی رہیگا لہٰذا ہمت سے کام لیجیے۔

ثور:
22اپریل تا20 مئی

آپ کا تعلق گارمنٹس کے شعبے سے ہے تو خاطر خواہ آمدنی میں اضافہ ہونے کی توقع ہے ،بہترین مواقع میسر آ سکتے ہیں نزدیکی سفر کے چانسز ہیں۔

جوزا:
21مئی تا 21 جون

مایوسی کے خود ساختہ خول سے باہر آکر دیکھیں ایک نئی دنیا آپ کی منتظر ہے آج کے دن کاروباری سلسلے میں کیا جانے والا سفر فائدہ مند ثابت ہو گا۔

سرطان:
22جون تا23جولائی

آپ کے بعض اہم کام التواء میں پڑ سکتے ہیں مالی مشکلات سے بھی دوچار ہونا پڑ سکتا ہے لہٰذا ہمارا مشورہ تو یہ ہے کہ آپکے پاس اگر کچھ رقم ہے تو اسے فضول کاموں کی نذر نہ کیجیے بلکہ حفاظت سے رکھ لیں۔

 

اسد:
24جولائی تا23اگست

نئی ملازمت کے متمنی حضرات اگر صحیح معنوں میں جدوجہد کرلیں تو کامیابی ہوسکتی ہے غیرشادی شدہ افراد کا رشتہ مرضی کے مطابق طے پا سکتا ہے۔

سنبلہ:
24اگست تا23ستمبر

سیاست دان افراد اہم امور طے کرنے میں ناکام رہیں گے اہم پارٹیز کیساتھ معاہدے طے نہ پا سکیں گے جس کے سب آپ کی طبیعت بوجھل رہے گی۔

میزان:
24ستمبر تا23اکتوبر

دوستوں کی کسی غلطی کا خمیازہ آپ کو بھگتنا پڑ سکتا ہے سفر کا ارادہ عملی شکل اختیار کر سکتا ہے کسی مخالف سے بھی صلح کا امکان ہے لیکن احتیاط کی بھی ضرورت ہے۔

عقرب:
24اکتوبر تا 22نومبر

دلی طور پر آج کے دن آپ کافی خوش دکھائی دیں گے بس ایک احتیاط کریں کہ اپنے دوست نما دشمنوں سے احتیاط برتیں یہ آستین کا سانپ ثابت ہو سکتے ہیں۔

قوس:
23نومبر تا22دسمبر

زیادہ نہ سوچیں اس طرح تو مسائل حل نہ ہو سکے گے راہ چلنے اور گاڑی چلاتے ہوئے محتاط رہ لیں والدین سے تعلقات بہتر ہو سکے گے لہٰذا ہمت سے کام لیجیے۔

جدی:
23دسمبر تا20جنوری

اپنے دل کا راز آج آپ کسی سے بھی نہ کہیں چاہے یہ آپ کا کتنا ہی بھروسے مند ساتھی ہی کیوں نہ ہو لہٰذا اگر آپ نے ایسا کیا تو بہت ساری پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

دلو:
21جنوری تا19فروری

ہر ایرے غیرے کو اپنا سمجھنے کی پرانی عادت کو بدل ڈالیں ماضی میں آپ کی زندگی میں زہراں لوگوں نے گھولا جن پر آپ کو بہت ناز تھا لہٰذا محتاط رہیں۔

حوت:
20 فروری تا 20 مارچ

تمام حسابات کا جائزہ لینے کے بعد آپ کو یہ تلقین ضرور کریں گے کہ حالات خواہ کتنے ہی خلاف منشاء کیوں نہ ہو جائیں آپ ضرور برداشت کار اس ہاتھ سے نہ چھوڑیں۔

‘کوک اسٹوڈیو ایکسپلورر’ پاکستان کی مدھر آوازوں کی تلاش میں مصروف

پاکستان میں ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں، جس کی کھوج  کوک اسٹوڈیو نے بھی شروع کر رکھی ہے اور اس مقصد کے لیے ‘کوک اسٹوڈیو ایکسپلورر’ کے نام سے ایک نیا پروگرام لانچ کیا گیا ہے۔

کوک اسٹوڈیو کے نئے پروڈیوسرز زوہیب قاضی اور علی حمزہ نے اس پروگرام کے ذریعے پاکستان کی خوبصورت وادیوں اور پہاڑی علاقوں کی آوازوں کو پیش کرنے کا عزم کیا ہے۔

اس مقصد کے لیے وہ پاکستان کے خوبصورت شمالی علاقوں کا دورہ کر رہے ہیں اور وہاں کی منفرد ثقافت کے رنگ اور زبان کی مٹھاس کو گانوں کے ذریعے پیش کر رہے ہیں۔

پروڈیوسرز زوہیب قاضی اور علی حمزہ—.فوٹو انسٹاگرام 

کوک اسٹوڈیو ایکسپلورر کا آغاز پاکستان کے خوبصورت ضلع چترال کی وادی کیلاش سے کیا گیا، جہاں کی دو بچیوں آریانا اور آمرینا نے گیت ’پاریک‘ یعنی ’چلو ‘ گایا۔

یہ ان دونوں کا کوک اسٹوڈیو کے لیے ڈیبیو گانا ہے اور دونوں نے پہلی مرتبہ باقاعدہ موسیقی کے تمام آلات کے ساتھ کوئی گانا گایا ہے۔

آریانا اور آمرینا کو گائیکی کا بے حد شوق ہے، جس کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے آریانا نے امریکی گلوکارہ آریانا گرینڈ سے متاثر ہوکر  اپنا نام فارسی گل سے آریانا رکھ لیا۔

گانے کے بول جہاں کانوں میں رس گھول دیتے ہیں، وہیں ویڈیو میں وادی کیلاش کے حسین مناظر سب کی توجہ اپنی جانب مبذول کرلیتے ہیں۔

ویڈیو میں وادی کیلاش کے خوبصورت پہاڑ، برف سے ڈھکے راستے اور چہکتے ہوئے بچوں کی میٹھی مسکان کو دیکھا جاسکتا ہے۔

سندھ کا لوک گانا ’فقیرا‘

اس کے ساتھ ساتھ کوک سٹوڈیو ایکسپلورر نے اپنا دوسرا گانا ’’فقیرا‘‘ بھی ریلیز کر دیا ہے جسے دیہی سندھ تعلق رکھنے والے دو بہن بھائیوں وشنو اور شموبائی نے گایا ہے۔

14 سالہ وشنو اور ان کی 21 سالہ بہن شمو بائی کی سریلی آوازوں کو جدید دور کے صوتی آلاتوں کے ساتھ ساتھ روایتی ڈھولک لوک سندھ گانے ’فقیرا‘ کو منفرد بناتا ہے۔

زوہیب قاضی اور علی حمزہ  کا اہم مقصد پاکستان کی موسیقی کی کہانیوں کو پیش کرنا ہے۔

واضح رہے کہ کوک اسٹوڈیو کے ابتدائی 6 سیزن معروف میوزک پروڈیوسر روحیل حیات نے پروڈیوس کیے تھے جس کے بعد ساتویں سیزن سے یہ ذمہ داری اسٹرنگز نے نبھائی تھی اور اب اس کے پروڈیوسرز زوہیب قاضی اور علی حمزہ ہیں۔

Google Analytics Alternative