Home » 2018 » August

Monthly Archives: August 2018

گستاخانہ خاکوں کے مسئلے پر اقوام متحدہ میں بات کریں گے، عمران خان

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ہالینڈ میں گستاخانہ خاکوں کے مسئلے پر اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے ذریعے اقوام متحدہ میں بات کریں گے۔

ایک ویڈیو پیغام میں ان کا کہنا تھا کہ ساری مسلم امہ او آئی سی کے فورم سے اقوام متحدہ میں بات کرے۔

انہوں نے کہا کہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو اس حوالے سے ہدایات دے دی ہیں، انہوں نے کئی مسلم ملکوں سے رابطے بھی شروع کر دیے ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ وزیر خارجہ اقوام متحدہ میں اس حوالے سے ملاقاتیں کریں گے۔

عمران خان نے کہا کہ انشاء اللہ ہم احتجاج کریں گے، دنیا کو اس مسئلے کے بارے میں سمجھائیں گے، اور انشاء اللہ ہم کامیاب ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ ہالینڈ میں گستاخانہ خاکوں کا مسئلہ ہر مسلمان کا مسئلہ ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسلمانوں کے دل میں رہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جب کوئی نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی شان میں گستاخی کرتا ہے تو تمام مسلمانوں کو تکلیف ہوتی ہے۔

عمران خان نے کہا کہ مسئلہ یہ ہے کہ مغرب کے لوگوں کو اس چیز کی سمجھ نہیں ہے کیوں کہ ہم مسلمانوں نےان کوسمجھایا نہیں۔

انہوں نے کہا کہ جس طرح مغرب کے لوگ اپنے دین کو دیکھتے ہیں وہ بالکل مختلف ہے۔

فوج کو ہرممکن وسائل فراہم کریں گے، وزیراعظم کا جی ایچ کیو کا دورہ

راولپنڈی: وزیر اعظم عمران خان نے وفاقی کابینہ کے ہمراہ جی ایچ کیو کا دورہ کیا جہاں انہیں سیکیورٹی معاملات پر بریفنگ دی گئی.

آئی ایس پی آر کے مطابق وزیر اعظم کے ہمراہ وفاقی کابینہ کے ارکان وزیر دفاع پرویز خٹک، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، وزیر اطلاعات فواد چوہدری ، وزیر خزانہ اسد عمر، وزیر مملکت داخلہ شہریار آفریدی، سیکرٹری دفاع اور دیگر موجود تھے۔ پاک فوج کی جانب سے وزیر اعظم کو گارڈ آف آنر دیا گیا، وزیر اعظم نے یادگار شہدا پر پھولوں کی چادر چڑھائی۔

پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور کے مطابق جی ایچ کیو میں وزیراعظم کو ملکی سیکیورٹی کی صورتحال اور خطرات سے نمٹنے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی، وزیر اعظم کو دہشت گردی کے خلاف مہم، جاری آپریشن ردالفساد ، کراچی کی صورتحال اور خوشحال بلوچستان پروگرام کے بارے میں بتایا گیا، وزیراعظم نے دہشت گردی کے خلاف پاک فوج کی قربانیوں، پیشہ ورانہ صلاحیت اور آپریشنل تیاریوں کو سراہا۔

وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ قوم کی حمایت سے پاکستان کو درپیش اندرونی و بیرونی چیلنجز پر کامیابی سے قابو پالیں گے، حکومت پاک فوج کی صلاحیت کو بر قرار رکھنے کے لیے تمام تر وسائل فراہم اور ضروریات پوری کرے گی، انشاء اللہ پاکستان کی قسمت جاگے گی اور پاکستان مثبت انداز میں خوشحال اقوام میں شامل ہوگا۔

ہر قیمت پر مادر وطن کا دفاع کریں گے، آرمی چیف

آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے جی ایچ کیو کے دورے اور فوج پر اعتماد کرنے پر وزیر اعظم کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ پاک فوج انشاء اللہ قوم کی توقعات پر پورا اترتے ہوئے ہر قیمت پر اور قربانیاں دے کر مادر وطن کا دفاع کرے گی۔

ہالینڈ کے سفیر کی ملک بدری کا فیصلہ نہیں کیا گیا، ترجمان دفتر خارجہ

اسلام آباد: پاکستان نے کہا ہے کہ کرتار پور سرحد کو کھولنا پاک بھارت خلیج ختم کرنے کی کوشش ہے جب کہ گستاخانہ خاکوں پر ابھی ڈچ سفیر کو ملک بدر کرنے کا فیصلہ نہیں کیا گیا۔

ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے ہفتہ وار بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ پاک بھارت تعلقات میں بہت مشکلات ہیں جن کا حل چاہتے ہیں، دو طرفہ تجارت کا معاملہ ایک بڑا مسئلہ ہے، تجارتی راہداری یا پوائنٹ اس معاملے کا ایک چھوٹا حصہ ہیں، پاکستان اور بھارت کے تعلقات میں وسیع خلیج کو پاٹنے کی کوشش کی جا رہی ہے، کرتار پور اسی سلسلے کی ایک کڑی ثابت ہو سکتا ہے۔

سی پیک سے متعلق ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا کہ چاہ بہار اور گوادر اعزازی بندرگاہیں ہیں، ہمیں ایرانی بندرگاہ چاہ بہار میں بھارت کی موجودگی سے فرق نہیں پڑتا، ہمیں وہاں اکٹھے آگے بڑھنا ہے، سرمایہ کاری کے مواقع کا جائزہ لے رہے ہیں۔

وزیر اعظم پاکستان کی حلف کی تقریب کے موقع پر آرمی چیف سے ملاقات کے بعد بھارتی مہمان نوجوت سدھو نے بتایا تھا کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے  سیالکوٹ کی تحصیل نارووال میں کرتارپور راستہ کھولنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔

وزیراعظم اور امریکی وزیر خارجہ گفتگو تنازع

ترجمان دفتر خارجہ نے وزیراعظم عمران خان اور امریکی وزیر خارجہ مائک پومپیو کی گفتگو پر تنازع پر تبصرہ کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ  ہم اس تنازعہ کا خاتمہ چاہتے ہیں،  پاکستان سیاسی طور پر آگے بڑھنا چاہتا ہے،  وزیر خارجہ معاملے پر بات کر چکے ہیں، اس حوالے سے مزید کوئی بات نہیں کریں گے۔

مقبوضہ کشمیر

ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری ہے، گزشتہ ہفتے بھارتی افواج نے 10 بے گناہ کشمیریوں کو شہید کیا، بھارتی افواج کی جانب سے پیلٹ گنز کے استعمال، حریت رہنماؤں کی غیر قانونی نظر بندی کی مذمت کرتے ہیں، رہنماؤں کی بگڑتی صحت کی صورتحال پر بھی تشویش ہے، عالمی برادری مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا نوٹس لے،  بھارت نے کشمیر میں الجزیرہ ٹی وی کی نشریات بھی بند کر دیں کیونکہ اس نے مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے ڈاکیومنٹری نشر کی تھی۔

توہین آمیز خاکوں کا معاملہ

ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا کہ او آئی سی کے اجلاس میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی پاکستان کی نمائندگی کریں گے اور توہین آمیز خاکوں کا معاملہ اٹھائیں گے،  توہین آمیز خاکوں کی نمائش کے خلاف ڈچ پارلیمنٹیرین سے بات کی ہے، جنیوا میں انسانی حقوق کونسل میں اس معاملے کو اٹھائیں گے، ہالینڈ کے سفیر کی ملک بدری کے حوالے سے ابھی کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔

ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے مزید کہا کہ امریکی جیل میں قید ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے بارے میں کوئی معلومات نہیں ہیں۔ سوشل میڈیا پر پابندی سے متعلق ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پورا سوشل میڈیا بلاک کر دینا حل نہیں، کوئی غیر ضروری کام نہیں کریں گے۔

سعید خان نے نیشنل بینک کی صدارت سے ہٹانے کا حکومتی فیصلہ چیلنج کردیا

اسلام آباد: نیشنل بینک کے سابق صدر سعید احمد خان نے صدارت سے ہٹائے جانے کا حکومتی فیصلہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کردیا۔

وفاقی کابینہ نے گزشتہ اجلاس میں منی لانڈرنگ کے الزامات پر نیشنل بینک کے صدر سعید احمد خان کو عہدے سے ہٹانے کی منظوری دی تھی اور ان کی جگہ طارق جمالی کو نیشنل بینک کا قائم مقام صدر مقرر کیا گیا۔

جیونیوز کے مطابق سعید احمد خان نے صدارت سے معطلی کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کردیا اور ان کی درخواست کو سماعت کے لیے مقرر کردیا گیا ہے۔

سعید احمد کی درخواست کواسلام آباد ہائی کورٹ کی ارجنٹ کیسز کی کاز لسٹ میں شامل کیا گیا ہے جس پر اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس اطہر من اللہ کل سعید احمد کی درخواست پر سماعت کریں گے۔

سعید احمد کی جانب سے دائر درخواست میں وزیراعظم، سیکریٹری خزانہ،کابینہ ڈویژن، گورنر اسٹیٹ بینک اور نیشنل بینک کے بورڈ آف ڈائریکٹر کو فریق بنایا گیا ہے۔

درخواست مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ درخواست گزار کنٹریکٹ ملازم ہے، کبھی قوانین وضوابط کی خلاف ورزی نہیں کی، کوئی ڈپارٹمنٹل انکوائری بھی میرے خلاف زیرا التوا نہیں ہے، کوئی چارج فریم ہوا نہ شوکاز کیا گیا، بغیر سنے معطلی غیر قانونی ہے۔

درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ سیکریٹری خزانہ کا نوٹیفیکشن غیر قانونی قرار دے کر کالعدم قرار دیا جائے اور یکم جنوری 2019 تک بطور صدر نیشنل بینک کام کرنے کی اجازت دی جائے۔

ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف کی پاکستان آمد

ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف وزیر اعظم عمران خان، ہم منصب شاہ محمود قریشی اور دیگر اعلیٰ حکام سے ملاقات کے لیے اسلام آباد پہنچ گئے۔

ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل کے مطابق وزارت خارجہ کے سینئر عہدیداران نے ایرانی وزیر خارجہ کا ایئرپورٹ پر استقبال کیا۔

ایران کے وزیر خارجہ، وزیر اعظم اور اپنے ہم منصب سے ملاقات کے علاوہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے بھی ملاقات کریں گے۔

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق ’پاکستان، ایران کے ساتھ باہمی تعلقات کو بہت اہمیت دیتا ہے، جو برادر اسلامی ملک اور ایک اہم پڑوسی ہے۔‘

ایرانی وزیر خارجہ نے اسلام آباد آمد کے بعد پارلیمنٹ ہاؤس کا بھی دورہ کیا اور اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر سے ملاقات کی۔

واضح رہے کہ ایرانی وزیرخارجہ، امریکی سیکریٹری خارجہ مائیک پومپیو کے دورے سے قبل پاکستان آئے ہیں۔

امریکی سیکریٹری خارجہ مائیک پومپیو 5 ستمبر کو پاکستان آئیں گے۔

گستاخانہ خاکوں کے مقابلے کےخلاف ‘ٹی ایل پی’ کا مارچ جہلم پہنچ گیا

ہالینڈ میں گستاخانہ خاکوں کے متنازع مقابلے کے خلاف مذہبی و سیاسی جماعت تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کا لاہور سے اسلام آباد کی طرف مارچ کا قافلہ ضلع جہلم میں سوہاوا کے مقام تک پہنچ گیا ہے۔

پارٹی کا مطالبہ ہے کہ متنازع مقابلے کے خلاف احتجاج کے طور پر حکومت، پاکستان میں تعینات ڈچ سفیر کو ملک بدر کرے۔

مذہبی و سیاسی جماعت کے لاہور سے شروع ہونے والے مارچ میں اس کے سیکڑوں حامی شریک ہیں، جو بذریعہ جی ٹی روڈ اسلام آباد پہنچے گا۔

مارچ کی وجہ سے اسلام آباد جانے والی سڑکوں پر مسافروں کو شدید ٹریفک جام کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

جڑواں شہروں میں سیکیورٹی، انتظامی معاملات

اسلام آباد کی انتظامیہ نے مظاہرین کے شہر میں پہنچنے سے قبل ہی کنٹینرز رکھ کر ریڈ زون کو بلاک کرنا شروع کردیا ہے۔

— فوٹو: شکیل قرار
— فوٹو: شکیل قرار

اسلام آباد پولیس کی جانب سے فرنٹیئر کور (ایف سی) کے 2 ہزار اہلکاروں کی درخواست کی گئی ہے، تاہم اب تک سیکیورٹی معاملات میں ان کی معاونت کے لیے ایف سی کے 700 اہلکار دارالحکومت پہنچے ہیں۔

دارالحکومت کی پولیس نے کشیدہ سیکیورٹی صورتحال میں معاونت کے لیے رینجرز کے ایک ہزار اہلکاروں کی بھی درخواست کی ہے۔

ڈان نیوز کے ذرائع کے مطابق اسلام آباد پولیس نے اعلیٰ سطح کے اجلاس کے بعد مارچ کو ریڈ زون میں داخلہ نہ دینے کے حوالے سے ہدایات جاری کردی ہیں۔

دوسری جانب راولپنڈی کے ہسپتالوں کو ضلعی انتظامیہ کی جانب سے ہائی الرٹ کردیا گیا ہے۔

ملک گیر احتجاج کی کال واپس

تحریک لبیک پاکستان نے قبل ازیں معاملے پر ملک گیر احتجاج کا اعلان کیا تھا۔

تاہم بعد ازاں اس نے یہ کال واپس لے لی اور پارٹی کے ترجمان پیر اعجاز اشرفی نے کہا کہ ‘ملک گیر احتجاج کی کال جہلم جانے کے دوران ہمارا راستہ بلاک کرنے پر دی گئی تھی، لیکن راستہ کلیئر کیے جانے کے بعد یہ کال واپس لے لی گئی۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘اگر ہمارے راستے میں رکاوٹ ڈالی گئی تو ملک گیر احتجاج کا راستہ اب بھی کھلا ہے۔’

امریکا اور برطانیہ کی اپنے شہریوں کو تنبیہ

ادھر تحریک لبیک پاکستان کے مارچ کے سبب امریکی سفارت خانے و برطانوی ہائی کمیشن نے اپنے شہریوں کے لیے سفری ہدایات جاری کرتے ہوئے غیرضروری طور پر اسلام اباد کے سفر سے منع کر دیا ہے۔

دونوں ملکوں کی جانب سے سفری ہدایت نامہ جاری کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ تحریک لبیک کے کارکنان 30 اور 31 اگست کو جی ٹی روڈ کے ذریعے جہلم سے اسلام آباد میں داخل ہونے کا ارادہ رکھتے ہیں جس کے سبب اسلام آباد میں مظاہروں کا آغاز ہو سکتا ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ مظاہرے کل یا پھر طویل مدت تک جاری رہنے کا اندیشہ ہے لہٰذا امریکی شہری اور سفارت خانے کے ملازمین مظاہروں کے مقام سے دور رہیں۔

برطانوی ہائی کمیشن نے بھی انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ مظاہرین نیدر لینڈز میں گستاخانہ خاکوں کی نمائش کے خلاف اپنی آواز بلند کر رہے ہیں لہٰذا برطانوی شہریوں اور ہائی کمیشن کے ملازمین مظاہرین اور عوامی اجتماعات سے دور رہیں۔

قافلے میں حادثہ، 2افراد ہلاک

تحریک لبیک پاکستان کے اسلام آباد کی جانب مارچ کے دوران ٹریفک حادثہ پیش آنے سے کم از کم دو افراد ہلاک اور 4زخمی ہو گئے۔

تحریک لبیک کا قافلہ اسلام آباد کی جانب رواں دواں تھا کہ اس دوران قافلے میں شامل ایک ٹریلر کے بریک فیل ہو گئے جس کے نتیجے میں دو افراد ہلاک اور 4زخمی ہو گئے جن میں سے ایک کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔

مارچ کا آغاز

— فوٹو: اے پی
— فوٹو: اے پی

ٹی ایل پی کے مارچ کا آغاز گزشتہ روز سہ پہر میں لاہور کے داتا دربار سے ہوا۔ نعت خوانی کے بعد مارچ آگے بڑھا اور مختلف مقامات پر مذہبی نعرے لگاتے ہوئے رات گئے جی ٹی روڈ پر کالا شاہ کاکو کے مقام پر پہنچا۔

گجرانوالہ سے 25 کلومیٹر کے فاصلے پر کامونکے پہنچنے پر حامیوں نے خادم حسین رضوی کی زیر قیادت ریلی کا استقبال کیا۔

ٹی ایل پی کارکنان نے رات گجرات میں گزاری جبکہ جمعرات کی رات یا جمعہ کی صبح مارچ کے اسلام آباد پہنچنے کا امکان ہے۔

ٹی ایل پی کے ترجمان پیر زبیر احمد نے ڈان کو بتایا تھا کہ 100 سے زائد بسیں، لاتعداد گاڑیاں اور پِک اپ وینز مارچ میں شریک ہیں۔’

معاملے کے حل کیلئے کمیٹی کا قیام

وزیراعظم عمران خان نے ٹی ایل پی سے مذاکرات کے لیے 4 رکنی اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی جس میں وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی، وزیر برائے مذہبی امور صاحبزادہ نورالحق قادری، وزیر اطلاعات فواد چوہدری اور پنجاب کے صوبائی وزیر قانون راجہ بشارت شامل ہیں۔

نورالحق قادری کا کہنا تھا کہ 4 رکنی کمیٹی، تحریک لبیک پاکستان کے قائدین سے ملاقات کرکے گستاخانہ خاکوں کے خلاف اقدامات سے آگاہ کرے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ کمیٹی کی تشکیل کے لیے وزیر اعظم عمران خان کو تجویز دی تھی اور انھوں نے کمیٹی قائم کرنے کا حکم دیا۔

وزیر اطلاعات فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ پرامن انداز میں بات چیت سے معاملات کے حل کے خواہشمند ہیں، اعلیٰ سطحی کمیٹی تحریک لبیک پاکستان کے رہنماؤں کو ہالینڈ میں گستاخانہ خاکوں کے خلاف حکومتی اقدامات سے آگاہ کرے گی، گستاخانہ خاکوں کے خلاف تمام مسلمانوں کے جذبات یکساں ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ناموس رسالت پاک کے دفاع کے لیے اتحاد لازم ہے جس کے لیے مشترکہ لائحہ عمل بنانے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ اس مسئلے سے موثر انداز میں نمٹا جا سکے۔

وفاقی وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ شاہ محمود قریشی اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کی سطح پر رابطوں کے بارے میں آگاہ کریں گے۔

یاد رہے کہ رواں سال جون میں ہالینڈ کے متنازع سیاستدان گیرٹ ولڈرز نے پارلیمنٹ میں گستاخانہ خاکوں کے مقابلے کا قبیح اعلان کیا تھا۔

گیرٹ ولڈرز وہی شخص ہے جس نے پارلیمنٹ میں قرآن مجید کی ترسیل روکنے کا بل پیش کیا تھا، اس کے علاوہ یہ ہالینڈ میں خواتین کے پردے پر پابندی کا بل بھی پیش کرچکے ہیں۔

19 اگست 2018 کو پنجاب اسمبلی کے نومنتخب اراکین نے حلف اٹھانے کے فوری بعد ہالینڈ میں گستاخانہ خاکوں کے حوالے سے صوبائی اسمبلی میں مذمتی قرار داد متفقہ طور پر منظور کی تھی۔

20 اگست کو گستاخانہ خاکوں کے مقابلے کے انعقاد کے معاملے پر ہالینڈ کے ناظم الامور کو دفتر خارجہ طلب کرکے شدید احتجاج کیا گیا تھا۔

24 اگست 2018 کو ہالینڈ کے وزیر اعظم نے دنیا بھر کے مسلمانوں کے شدید احتجاج پر گستاخانہ خاکوں کے مقابلے سے اپنی حکومت کو الگ کر لیا تھا۔

27 اگست 2018 کو وزیر اعظم عمران خان نے اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہالینڈ میں گستاخانہ خاکوں کے مقابلے کا معاملہ اقوام متحدہ اور او آئی سی میں اٹھایا جائے گا۔

ی ٹی آئی قیادت کیخلاف بیان بازی، عامر لیاقت اور آفتاب جہانگیر سے وضاحت طلب

کراچی: پارٹی قیادت اور پالیسیوں کے خلاف بیان بازی پر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کراچی ڈویژن نے اپنے دو اراکین قومی اسمبلی عامر لیاقت حسین اور آفتاب جہانگیر سے وضاحت طلب کرلی۔

دونوں اراکین اسمبلی کو ڈسپلینری کمیٹی کے روبروپیش ہوکر تحریری جواب جمع کرانے کی ہدایت کی گئی ہے۔

خیال رہے کہ گزشتہ چند روز کے دوران عامر لیاقت حسین اور آفتاب جہانگیر کی جانب سے پارٹی مخالف بیانات سامنے آئے تھے۔

آفتاب جہانگیر نے آڈیو پیغام کے ذریعے پی ٹی آئی سے احساس محرومی کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ ہم بھی کراچی سے منتخب ہوئے ہیں لیکن افسوس ہےکہ چاہے اسلام آباد ہو یا کراچی ہمیں نظر انداز کیا جارہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم سے ملاقات ہو یا ادارہ نورحق کا دورہ ہمیں نظر انداز کیا جارہا ہے ہم سے پوچھا نہیں جارہا ہے۔

آفتاب جہانگیر نے پی ٹی آئی کے صدارتی امیدوار ڈاکٹرعارف علوی سے مطالبہ کیا کہ ‘آپ کراچی کے بڑے ہیں یہ معاملات دیکھیں’۔

دو روز قبل عامر لیاقت نے بھی گورنر سندھ عمران اسماعیل کی حلف برداری کی تقریب کے بعد عشائیے میں مدعو نہ کرنے پر شدید غصے کا اظہار کیا تھا اور انہوں نے سندھ کی پارلیمانی پارٹی کا واٹس ایپ گروپ بھی چھوڑ دیا تھا۔

پروگرام ’آپس کی بات‘میں گفتگو کرتے ہوئےپی ٹی آئی کے ایم این اے نجیب ہارون نے بتایا کہ عامر لیاقت حسین سے رابطہ ہو گیا ہے، صدارتی انتخاب میں عارف علوی کو ہی ووٹ دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ گورنر ہاؤس کراچی میں ملاقات کی دعوت کی اطلاع انہیں فون اورواٹس ایپ پر دی گئی۔

اس معاملے پر پی ٹی آئی کراچی کے صدر فردوس شمیم نقوی کا کہنا تھا کہ اگر گروپ پر عامر لیاقت نے میسیجز نہیں دیکھے یا غلط نمبر دیا تواس میں پارٹی کا کیا قصور؟ اور جب عشائیہ ہوا ہی نہیں تو کسی کو بلانا نہ بلانا کیسا؟

چیف جسٹس نے ڈی پی او پاک پتن معاملے کا نوٹس لے لیا

اسلام آباد: چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے پاک پتن واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے آئی جی پی پنجاب، ایڈیشنل آئی جی پی پنجاب ابوبکر خدا بخش (انکوائری افسر)، آر پی او ساہیوال اور ڈی پی او پاک پتن رضوان گوندل کو طلبی کے نوٹسز جاری کر دیئے۔

پنجاب پولیس کے تمام افسران کو جمعہ کو صبح ساڑھے 9 بجے انکوائری رپورٹ کے ساتھ طلب کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ تین روز قبل خاتون اول بشریٰ بی بی کے سابقہ شوہر خاور فرید مانیکا کو مبینہ طور پر روکنے والے ڈسٹرکٹ پولیس افسر (ڈی پی او) رضوان گوندل کا تبادلہ کردیا گیا تھا۔

پولیس ذرائع کے مطابق 23 اگست کو پولیس نے پیر غنی روڈ پر خاور مانیکا کو روکنے کا حکم دیا تھا تاہم وہ نہیں رکے تھے۔

بعد ازاں خاور فرید مانیکا نے غصے میں ایلیٹ فورس کے خلاف گندی زبان استعمال کی اور ڈی پی او رضوان عمر گوندل کو ڈیرے پر آکر معافی مانگنے کا کہا جس پر انہوں نے انکار کرتے ہوئے کہا کہ ’اس میں پولیس کی کوئی غلطی نہیں ہے۔

ڈی پی او رضوان عمر گوندل نے وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کو بھی خاور فرید مانیکا سے معافی مانگنے سے انکار کے اپنے موقف سے آگاہ کردیا تھا، جس کے بعد 27 اگست کو پنجاب پولیس کی جانب سے نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے ان کا تبادلہ کردیا گیا۔

بعد ازاں انسپیکٹر جنرل (آئی جی) پنجاب ڈاکٹر سید کلیم امام نے معاملے پر وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ ڈی پی او کا تبادلہ کسی دباؤ پر نہیں بلکہ واقعے کے متعلق غلط بیانی کرنے پر کیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ڈی پی او کا تبادلہ شہری سے پولیس اہلکاروں کی بدتمیزی کے واقعے پر غلط بیانی سے کام لینے پر کیا ہے۔

آئی جی پنجاب کا کہنا تھا کہ شہری سے اہلکاروں کی بدتمیزی پر ڈی پی او نے غلط بیانی سے کام لیا، ٹرانسفر آرڈر کو غلط رنگ دینے، سوشل میڈیا پر وائرل کرنے پر رضوان گوندل کے خلاف انکوائری کا حکم دے دیا گیا ہے۔

دو روز قبل تنازع کے خلاف مسلم لیگ (ن) کی رکن حنا پرویز بٹ نے پنجاب اسمبلی میں مذمتی قرارداد جمع کرائی تھی۔

قرار داد میں کہا گیا کہ پولیس کو غیر سیاسی کرنے کا نعرہ لگانے والی حکومت نے قانون کی دھجیاں اڑا دی ہیں اور پولیس کے نظام میں سیاسی مداخلت کے دعوے دھرے رہ گئے۔

ماریہ محمود ڈی پی او پاک پتن تعینات

دوسری جانب پنجاب پولیس نے سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس ماریہ محمود کو ڈی پی او پاک پتن تعینات کر دیا۔

ماریہ محمود، ڈی پی او بہاولنگر عمارہ اطہر کے بعد ڈی پی او تعینات ہونے والی دوسری خاتون پولیس افسر ہیں۔

Google Analytics Alternative