تازہ ترین
Home » 2018 » August » 02

Daily Archives: August 2, 2018

کور کمانڈرز کانفرنس؛ انتخابی عمل کے دوران شہید و زخمی ہونے والوں کو خراج تحسین

 راولپنڈی:پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاید باجوہ کی زیر صدارت کور کمانڈر کانفرنس میں عسکری قیادت نے انتخابی عمل کے دوران شہید و زخمی ہونے والوں کو خراج تحسین جب کہ انتخابی عمل میں شرکت اور مسلح افواج کی حمایت پر عوام کا شکریہ ادا کیا ہے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی زیر صدارت جنرل ہیڈ کوارٹرز راولپنڈی میں کور کمانڈرز کانفرنس ہوئی۔ جس میں خطے کی تزویراتی صورت حال، علاقائی امن اور ملک کی داخلی سلامتی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ سربراہ پاک فوج نے عسکری قیادت کو ہدایات دیں کہ دہشت گردی کے خلاف کامیابیوں کو مزید تقویت دی جائے، اجلاس میں علاقائی امن بالخصوص ’’پاک افغان ایکشن پلان برائے امن و سلامتی‘‘ کے لئے افغانستان کے ساتھ فوجی تعلات کے فروغ پر اطمینان کا اظہار کیا۔

آئی ایس پی آر کے مطابق اجلاس میں الیکشن کمیشن کی مدد پر آرمی الیکشن سپورٹ سینٹر اور فیلڈ فارمیشنز کو سراہا جب کہ انتخابی عمل کے دوران شہید و زخمی ہونے والوں کو خراج تحسین پیش کیا گیا، کانفرنس کے شرکاء نے الیکشن کے قومی فریضے کی انجام دہی اور مسلح افواج کے ساتھ تعاون پر عوام کا شکریہ ادا کیا۔

پیمرا کا دیامر بھاشا اور مہمند ڈیم کی تعمیر کیلیے رقم کا عطیہ

اسلام آباد: پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) نے دیامر بھاشا اور مہمند ڈیم کی تعمیر کے لیے رقم کا عطیہ دیا ہے۔ 

پیمرا کے چیئرمین سلیم بیگ نے چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار کو عطیہ کردہ رقم کا چیک پیش کیا جس میں پیمرا کے افسران نے اپنی دو دن اور بقیہ ملازمین نے ایک دن کی تنخواہ عطیہ کی ہے۔

اس موقع پر جاری کردہ پریس ریلیز میں کہا گیا کہ پیمرا اس ضمن میں تمام ٹی وی چینلز، ایف ایم ریڈیو اور کیبل نیٹ ورکس کے ذریعے عوامی پیغامات نشر کرنے کے عمل کو یقینی بنارہی ہے  تاکہ عوام میں شعور بیدار ہوسکے کہ وہ اس قومی مشن کے لیے دل کھول کر عطیات دے سکیں۔

اس سے قبل ڈیمز کی تعمیر کے لیے قائم کردہ فنڈ میں  پاکستان کی فضائیہ، بحریہ اوربری افواج کے افسران اپنی دو روز اور سپاہی ایک دن کی تنخواہ عطیہ کرچکے ہیں جب کہ  حکومتِ خیبرپختونخوا اور سپریم کورٹ کا عملہ بھی اس فنڈ میں رقم عطیہ کرچکا ہے۔

واضح رہے کہ ملک میں جاری پانی کے بحران کو حل کرنے کے لیے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کئی بار  نئے ڈیموں کی تعمیر پر زور دیا، اس کے بعد انہوں نے اپنی جانب سے 10 لاکھ روپے کے عطیے کے ساتھ ملک میں دو نئے ڈیموں کے لیے فنڈ کا آغاز کیا جب کہ عوام سے انفرادی اور اجتماعی طور پر اس فنڈ میں رقم عطیہ کرنے کی درخواست بھی کی۔

آئی ایم ایف بیل آؤٹ پیکیج: وزیرخارجہ نے امریکی بیان مسترد کردیا

نگراں وزیرخارجہ عبداللہ حسین ہارون نے امریکی سیکریٹری آف اسٹیٹ مائیک پمپیو کے عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کو پاکستان کے لیے بیل آؤٹ پیکیج کے حوالے سے خبردار کرنے کے بیان کو مسترد کردیا۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیرخارجہ عبداللہ حسین ہارون نے کہا کہ پاکستانی حکومت پاک-چین اقتصادی راہدار (سی پیک) منصوبے کو مکمل کرنے کے لیے پرعزم ہے اور کسی کو پاک-چین تعلقات کے حوالے سے مداخلت کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔

انھوں نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ آئی ایم ایف اور چین سے متعلق بیان نامناسب ہے اور سی پیک کے منصوبوں میں کوئی تیسرا فریق رکاوٹ نہیں بن سکتا۔

وزیرخارجہ نے کہا کہ ‘یہ حکومت واضح کرتی ہے کہ سی پیک کو آئی ایم ایف کے پیکیج سے ملانا مکمل طور پر غلط ہے’۔

امریکی سیکریٹری کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کے پاس جانا نگران حکومت کا مینڈیٹ نہیں اور منتخب حکومت اس بارے میں اپنی پالیسی وضع کرے گی۔

وزیرخارجہ نے کہا کہ ‘پاکستان نے 17 سال سے جاری جنگ کی بھاری قیمت ادا کی ہے، ہمیں ڈو مور کہنے والے دیکھیں کہ انہوں نے خود کیا کیا ہے’۔

انھوں نے کہا کہ ‘بھارت کو انفرادی لائسنس جاری کیے گئے ہیں تاکہ امریکا، بھارت کے ساتھ دفاعی تعلقات کو بہتر کرے، بھارت کو ہائی ٹیک ہتھیار مہیا کیے جا رہے ہیں اور بھارت-امریکا کے درمیان تجارت 9 ارب 70 کروڑ ڈالر تک پہنچ چکی ہے’۔

نگران وزیرخارجہ کا کہنا تھا کہ یہ اس وقت کیا جارہا ہے جب پاکستان کو بتایا جارہا ہے کہ کوئی پیسہ نہیں ہے جو پیسہ امریکا پر ادھار ہے۔

انھوں نے کہا کہ ایک جانب ایف اے ٹی ایف ہمارا گلہ پکڑ رہا ہے اور دوسری طرف ہر قسم کا دباؤ ہے ایسی صورت حال میں دو طرفہ تعلقات کیسے بہتر ہو سکتے ہیں۔

ہمسایہ ممالک کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ پاکستان علاقائی بہتری کے لیے افغانستان اور بھارت سے بات کرنے کو بھی تیار ہے۔

منتخب وزیراعظم کی حلف برادری پر بات کرتےہوئے عبداللہ حسین ہارون نے کہا دیگر ممالک کے سربراہان کے وزیراعظم کی حلف برداری تقریب میں آنے سے متعلق کچھ نہیں کہہ سکتے تاہم متعلقہ وزارتیں اس معاملے کو دیکھ رہی ہیں۔

نیب نے سابق وزیراعظم کے خلاف کرپشن ریفرنس دائر کرنے کی منظوری دے دی

قومی احتساب بیورو (نیب) نے سابق وزیراعظم یوسف رضاگیلانی سمیت وزارت اطلاعات کے کئی افسران کے خلاف ریفرنس دائر کرنے، سندھ کے سابق وزیراویس مظفر ٹپی اور دیگر کے خلاف تحقیقات جبکہ لاہور ڈیولپمنٹ اتھارٹی (ایل ڈی اے) اور نیسپاک کی اتنظامیہ و دیگر کے خلاف اورنج لائن میٹرو ٹرین پروجیکٹ میں بدعنوانی کے الزام کی انکوائری کی منظوری دے دی۔

اسلام آباد میں چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال کی زیر صدارت ایگزیکٹیو بورڈ کا اجلاس ہوا جہاں ریفرنسز دائر کرنے، تحقیقات اور انکوائری کے فیصلے کیے گئے۔

نیب کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق اجلاس میں سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی، فاروق اعوان اور سابق سیکریٹری وزارت اطلاعات وٹیکنالوجی، محمد سلیم سابق پی آئی او، سیدحسن شیخ، سابق کمپنی سیکریٹری یونیورسل سروس فنڈ، سی ای او میسرز مڈاس پرائیویٹ لمیٹڈ سمیت دیگر افسران اور اہلکاروں کے خلاف بدعنوانی کا ریفرنس دائر کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔

اعلامیے کے مطابق ان ملزمان کے خلاف اختیارات کا ناجائز استعمال اور قواعد کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اشتہاری مہم کے ٹھیکوں کے ذریعے قومی خزانے کو 12 کروڑ 80 لاکھ اور 70 ہزار روپے نقصان پہنچانے کا الزام ہے۔

نیب اجلاس میں سندھ کے سابق صوبائی وزیربلدیات اویس مظفر ٹپی، سابق چیف سیکریٹری سندھ راجا محمد عباس سمیت دیگر کے خلاف 4 مختلف الزامات پر تحقیقات کی منظوری دے دی گئی ہے۔

ملزمان پر مبینہ طورپر اختیارات کا غلط استعمال کرتے ہوئے ملیر ریور کی سیکڑوں ایکڑ اراضی کو غیرقانونی الاٹ کرنے کا الزام ہے جس سے قومی خزانے کو 33 ہزار ملین نقصان پہنچا۔

نیب کے ایگزیکٹو بورڈ نے (ایل ڈی اے) کے افسران و اہلکاروں اور نیسپاک کی انتظامیہ اور دیگر کے خلاف انکوائری کی منظوری دے دی۔

ملزمان پر اورنج لائن میٹرو ٹرین پروجیکٹ میں بدعنوانی کا الزام ہے جہاں مبینہ طور پر قومی خزانے کو تقریباً 4 ارب روپے کا نقصان پہنچا۔

نیب کے اجلاس میں سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کراچی کے سابق ڈی جی منظور کاکا اور دیگر کے خلاف بدعنوانی اور مبینہ طور پر اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے سرکاری کاغذات میں پیر پھیر کرنے کا الزام ہے۔

اعلامیے کے مطابق ملزمان کی مبینہ ہیر پھیر سے قومی خزانے کو تقریباً3 ارب روپے کا نقصان پہنچا۔

نیب کے ایگزیکٹیو اجلاس میں وفاقی اردو یونیورسٹی آرٹس، سائنس وٹیکنالوجی کراچی کے وائس چانسلر اور دیگر کے خلاف بھی انکوائری کی منظوری دی گئی۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ وائس چانسلر و دیگر کے خلاف مبینہ طور پر قواعد کے خلاف من پسند اساتذہ و طلبا کو پی ایچ ڈی کرنے کے لیے تعلیمی وظائف دینے کا الزام ہے جس سے قومی خزانے کو 11 کروڑ 56 لاکھ 73 ہزار روپے کا نقصان ہوا۔

اجلاس میں لیڈی ریڈنگ ہسپتال پشاور کے افسران اور اہلکاروں سمیت دیگر خلاف بھی انکوائری کی منظوری دے دی گئی جن پر غیر قانونی تقرریوں اور سرکاری فنڈز میں خردبرد کا الزام ہے۔

نیب کی جانب سے وضاحت کی گئی ہے کہ تمام شکایات کی جانچ پڑتال، انکوائری اور تفتیش مبینہ الزامات کی بنیاد پر شروع کی گئی ہیں جو حتمی نہیں ہیں تاہم نیب تمام افراد سے قانون کے مطابق کارروائی کرے گا۔

چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال نے افسران کو تمام شکایات کی جانچ پڑتال، انکوائریاں اور تفتیش کو قانون، میرٹ، شفافیت اور ٹھوس بنیادوں پر منطقی انجام تک پہنچانے کی ہدایت کی۔

نیب نے آشیانہ اقبال ہاؤسنگ کیس میں شہبازشریف کو پھر طلب کرلیا

لاہور: نیب نے آشیانہ اقبال ہاؤسنگ کیس میں مسلم لیگ (ن) کے صدرشہبازشریف کو ایک بار پھر طلب کرلیا۔

مسلم لیگ (ن) کے صدرشہبازشریف کونیب لاہورنے آشیانہ اقبال ہاؤسنگ کیس میں تحقیقات کیلیے 20 اگست کوطلب کرلیا جب کہ پاورکمپنی کیس میں بھی شہبازشریف کو20 اگست کوطلب کررکھا ہے۔ نیب لاہورنے شہبازشریف کی طلبی کا نوٹس ان کی رہائش گاہ پربھجوادیا ہے۔

واضح رہے کہ صاف پانی سمیت پنجاب کمپنیزمیں مبینہ کرپشن کی تحقیقات میں شہبازشریف 2 مرتبہ نیب میں پیش ہوچکے ہیں جب کہ پنجاب پاور کمپنی کرپشن کیس میں اپنا بیان بھی ریکارڈ کراچکے ہیں۔

برطانوی ہائی کمشنر کی عمران خان سے ملاقات، انتخابات میں جیت پر مبارکباد

برطانوی ہائی کمشنر تھامس ڈریو پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان کو انتخابات میں جیت پر مبارک باد پیش کرنے ان کی رہائش گاہ بنی گالہ پہنچے۔

تحریک انصاف کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی سفیر اور ان کے وفد نے عمران خان اور ان کی جماعت کو عام انتخابات 2018 میں جیت پر مبارک باد پیش کی۔

اس موقع پر عمران خان کا کہنا تھا کہ پاک برطانیہ تعلقات نہایت اہمیت کے حامل ہیں، پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد برطانیہ میں مقیم ہے۔

انہوں نے کہا کہ منی لانڈرنگ کے ذریعے برطانیہ منتقل کی گئی دولت کی وطن واپسی ہمارا عزم ہے۔

واضح رہے کہ 25 جولائی کو عام انتخابات میں تحریک انصاف کی جیت کے بعد سے برطانوی سفیر کے علاوہ چینی، سعودی، اور متحدہ عرب امارات کے سفیر بھی عمران خان سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کر چکے ہیں۔

اس کے علاوہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی عمران خان کو ٹیلی فون پر مبارک باد پیش کی تھی اور کہا تھا کہ بھارت پاکستان سے تعلقات میں نئے دور کے آغاز پر تیار ہے۔

خیال رہے کہ عمران خان کا کہنا تھا کہ وہ وزیر اعظم کے عہدے کا حلف 11 اگست کو اٹھائیں گے۔

دریں اثناء تحریک انصاف کے ترجمان فواد چوہدری نے تصدیق کی ہے کہ ان کی جماعت نے وزیر اعظم کی حلف برداری کی تقریب میں سربراہان مملکت کو مدعو کرنے کے لیے دفتر خارجہ سے بات کی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ عامر خان، کپیل دیو، سنیل گاوسکر سمیت کئی نامور ستاروں کو بھی عمران خان کی تقریب حلف برداری کے لیے مدعو کیا گیا ہے۔

11 سال میں پہلی مرتبہ آئی فون میں اہم تبدیلی؟

رواں سال ایپل آئی فون میں ایسا فیچر متعارف کرانے کا ارادہ رکھتی ہے جو اینڈرائیڈ ڈیوائسز میں تو برسوں سے ہے مگر 11 برسوں میں پہلی بار اسے آئی فون کا حصہ بنایا جائے گا۔

جی ہاں آئی فون میں رواں سال پہلی بار ڈوئل سم کارڈ سپورٹ دیئے جانے کا امکان ہے، جس کی افواہیں تو اپریل میں سامنے آئی تھیں مگر اب ایپل کے اپنے آئی او ایس 12 کے بیٹا ورژن نے اس کی ‘تصدیق’ کردی ہے۔

نائن ٹو فائیو میک کی رپورٹ کے مطابق آئی او ایس 12 کے بیٹا ورژن 5 میں ڈوئل سم سپورٹ کا حوالہ موجود ہے جو کہ آئی فون ایکس پلس میں دیئے جانے کا امکان ہے۔

6.5 انچ کا یہ او ایل ای ڈی ڈسپلے والا آئی فون مخصوص علاقوں میں ڈوئل سم سپورٹ کے ساتھ متعارف کرایا جاسکتا ہے۔

آئی او ایس 1 بیٹا آپریٹنگ سسٹم میں سیکنڈ فزیکل سم ٹرے تک کا ذکر ہے جس سے عندیہ ملتا ہے کہ ڈوئل سم سپورٹ سنگل سم ٹرے اور ای سم سپورٹ تک محدود نہیں ہوگی۔

اگر یہ بیٹا سافٹ وئیر درست ثابت ہوتا ہے تو یہ پہلی بار نہیں ہوگا کہ ایپل نے مستقبل کے ہارڈوئیر یا سافٹ وئیر سپورٹ کو بیٹا آپریٹنگ سسٹم میں ظاہر کیا ہو۔

اس سے قبل ایپل کے ہوم پوڈ فرم وئیر میں آئی فون ایکس اسکرین ڈیزائن کا انکشاف ہوا تھا جبکہ آئی او ایس 11 کے بیٹا ورژن میں فیس آئی ڈی، اینی موجی اور اپ ڈیٹڈ ائیرپوڈز ایپل کے اعلان سے پہلے ہی سامنے آگئے تھے۔

ایپل کی جانب سے ستمبرمیں 3 نئے آئی فونز متعارف کرائے جانے کا امکان ہے۔

آئی فون ایکس پلس کا ذکر تو اوپر ہوچکا، اس سے ہٹ کر 6.1 انچ کا ایل سی ڈی ماڈل جبکہ 5.8 انچ کے اپ ڈیٹڈ آئی فون ایکس سامنے آسکتے ہیں۔

چیف الیکشن کمشنر کے استعفے کا مطالبہ مسترد

adaria

الیکشن کمیشن نے چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمیشن کے ارکان کے استعفے کا مطالبہ مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ الیکشن شفاف ہوئے ہارنے والے عوامی رائے کا احترام کریں شکایات دور ہوں گی ، کمیشن کے ارکان استعفے نہیں دیں گے، سیکرٹری الیکشن کمیشن بابر یعقوب نے پریس کانفرنس میں مزید کہا ہے کہ فافن اور یورپی مبصرین نے الیکشن کو آزادانہ، منصفانہ اورغیر جانبدارانہ قرار دیا ہے، یہ قوم کی جمہوری فتح اور اعزاز کی بات ہے سیاسی جماعتیں انتخابی نتائج تسلیم کرکے آئینی اداروں پر بلا جواز تنقید سے گریز کریں، نتائج میں تاخیر پر صوبائی کمشنرز ، ڈسٹرکٹ ریٹرننگ افسران اور ریٹرننگ افسران سے وضاحت طلب کرلی ہے۔ آر ٹی ایس کے حوالے سے تفصیلی تجزیہ اور محاسبہ کیا جائے گا ، دھاندلی کی کوئی شکایت نہیں اے پی سی رہنماؤں کے بیانات قابل مذمت ہیں، عوامی مینڈیٹ کا احترام نہ کرنا جمہوری اصولوں کے منافی ہے، انتخابات کے دوران عوام نے آزادانہ ماحول میں اپنا حق رائے دہی استعمال کیا کسی امیدوار کو شکایت ہے تو قانون راستہ اختیار کیا جائے ۔ سیکرٹری الیکشن کمیشن نے بجا فرمایا ہے ، عوامی مینڈیٹ کا احترام نہ کرنا جمہوری اصولوں کے منافی ہے۔ ہمارے سیاسی رہنماؤں میں برداشت کے جمہوری کلچر کا فقدان ہے اور ہار کو تسلیم نہ کرنا ان کا وطیرہ بن چکا ہے ہارنے والے اپنی ہار کو تسلیم کریں اور جیتنے والے عوامی مینڈیٹ کا خیال کرتے ہوئے ملک کی تعمیروترقی پر اپنی توجہ مرکوز رکھیں۔ دھاندلی کی رٹ لگانے والوں کو چاہیے وہ اپنی شکایات کے ازالے کیلئے قانونی راستہ اختیار کریں اور ثبوت دیں خواہ مخواہ دھاندلی دھاندلی کا شور مچانا بے معنی ہے دنیا جانتی ہے کہ حالیہ انتخابی عمل صاف و شفاف ہوا اور الیکشن کمیشن نے تمام تر انتظامات مکمل کیے فوج کی زیر نگرانی انتخابات پر انگلی اٹھانا قطعاً درست نہیں مسلم لیگ(ن) اور دیگر پارٹیوں کو اپنی شکست پر غور کرتے ہوئے ناکامی کے اسباب و محرکات تلاش کرنے چاہئیں آخر عوام نے ان کو کیوں مسترد کیا۔ سابق وزیراعظم محمد نواز شریف کے عدلیہ مخالف بیانیہ کو عوام نے ووٹ کے ذریعے مسترد کردیا اور ثابت کیا کہ عدلیہ فوج اور دیگر ادارے پر تنقید بلاجواز ہے ۔ ان اداروں کی ساکھ کو خراب کرنے کی کوشش ناکام ٹھہری، عوام نے انتہائی آزادانہ اور خوشگوار ماحول میں اپنا حق رائے دہی استعمال کیا اور ووٹ کا صحیح استعمال کرکے تبدیلی کو اپنی منزل قرار دیا ۔ سابق حکمرانوں نے ملک کو دیوالیہ کرکے رکھ دیا۔ معیشت کی زبوں حالی کے باعث ہمیں بیرونی قرضوں پر انحصار کرنا پڑ رہا ہے حالانکہ ہم قدرتی وسائل سے مالا مال ہیں لیکن ناقص حکومتی پالیسیوں کے باعث وطن عزیز مسائل کی دلدل میں پھنستا چلا گیا حکمرانوں نے ذاتی مفادات کو ترجیح دی اور قومی مفاد کو تار تار کیا جس کی وجہ سے کرپشن نے فروغ پایا اور کوئی ادارہ اس ناسور سے نہ بچ سکا ۔ عوام نے کرپشن کیخلاف عمران خان کی آواز میں اپنی آواز شامل کرتے ہوئے تحریک انصاف کو مینڈیٹ دیا جس کو تسلیم نہ کرنا جمہوری اصولوں کے برعکس ہے ۔ الیکشن کمیشن کی طرف سے کل جماعتی کانفرنس کی طرف سے کیا جانے والا مطالبہ مسترد کرنا درست اقدام ہے ،ہارنے والی جماعتوں اور اے پی سی کے رہنماؤں کو چاہیے کہ وہ عوامی مینڈیٹ کا احترام کریں اوردھاندلی کا راگ الاپنے کے بجائے شکایات کے ازالے کیلئے قانونی راستہ اختیار کریں یہی ان کیلئے بہتر ہے۔الیکشن کمیشن کی طر ف سے چیف الیکشن کمشنر سے استعفے کامطالبہ مسترد کرنادرست اقدام ہے۔ کل جماعتی کانفرنس نے جو مطالبہ کیا ہے وہ درست نہیں ہے عالمی سطح پرالیکشن کوآزادانہ اورمنصفانہ قرار دیاجارہاہے جبکہ ہماری سیاسی پارٹیاں اس الیکشن کودھاندلی زدہ قراردینے میں کوشاں ہیں جوکہ جمہوریت کیلئے نیک شگون نہیں ہے۔
ریاض فتیانہ کی پروگرام سچی بات میں گفتگو
رہنما تحریک انصاف ریاض فتیانہ نے روز نیوز کے پروگروام ’’ سچی بات ‘‘ میں ایس کے نیازی کے ساتھ خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان نے دو نہیں ایک پاکستان کی بات کی ہے ،انصاف ، تعلیم ،صحت کی سہولیات فراہم کرنا چاہتے ہیں،سی پیک کو مکمل پایہ تکمیل تک پہنچانا چاہتے ہیں،سی پیک منصوبہ(ن)لیگ کا نہیں تھا،سی پیک (ن)لیگ کے دور حکومت سے پہلے شروع ہوا،مسلم لیگ(ن)خود مارشل لا کی پیداوار ہے،بیلٹ پیپر پر میرا نام محمد ریاض لکھ دیا گیا،سمجھتا ہوں کہ فوج کی وجہ سے صاف و شفاف الیکشن ہوئے،پی ٹی آئی وفاق،پنجاب اور کے پی میں حکومت بنارہی ہے،جیتنے کے بعد پارٹی کے کسی بھی رہنما سے ملاقات نہیں کی،میں نے کسی قسم کی کوئی وزارت کا مطالبہ نہیں کیا،وزارتیں ہی سب کچھ نہیں ہوتیں،ن لیگ اور پیپلز پارٹی نے اپوزیشن میں بیٹھنے کا فیصلہ کرلیا،سب کو حکومت میں لائیں گے تو اپوزیشن کا رول کون ادا کرے گا،تمام سیاسی جماعتوں کو پاکستان کا حصہ سمجھتے ہیں،کسی جماعت سے اتحاد ہوتا ہے تو یہ ناممکنات میں سے نہیں،ایسے نہیں ہوسکتا کہ کسی بھی جماعت سے بات نہ کریں،کسی بھی جماعت کیلئے ریڈ لائن نہیں لگا سکتے،پی ٹی آئی کی حکومت ماضی کی تمام حکومتوں سے بہتر ہوگی،امن و امان قائم کرنا ہماری ترجیحات میں شامل ہوگا،تعلیم اور صحت کی سہولیات فراہم کرنا بھی ترجیحات میں ہیں،پولیس اور انصاف کے نظام میں بہتری لائیں گے،معاشی صورتحال بہتر کرکے صنعتی علاقے قائم کریں گے،پاکستان کو بہترین خارجہ پالیسی دیں گے،پی ٹی آئی حکومت پاکستان کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرے گی۔ریاض فتیانہ نے درست فرمایا ہے سیاست میں کوئی چیز حرف آخر نہیں ہوا کرتی اور یہ بھی درست ہے کہ ن لیگ خود مارشل لاء کی پیداوار ہے، عمران خان ایماندار ہیں اور نوجوان انہیں پسند کرتے ہیں۔ریاض فتیانہ کی گفتگو بڑی اہمیت کی حامل ہے جو سیاسی منظرنامے کو واضح کرتی ہے۔
دہری شہریت سے متعلق ازخود نوٹس
سپریم کورٹ میں چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے ججز اور سرکاری افسران کی دہری شہریت سے متعلق ازخود نوٹس کی سماعت کی۔سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ کئی افسروں نے تاحال اپنی دوہری شہریت چھپائی ہوئی ہے، اور ان شخصیات کے خلاف کارروائی ہوگی۔چیئر مین نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) عثمان مبین نے عدالت میں پیش ہوکر بتایا کی ایک ہزار ایک سو 16 افسر غیر ملکی یا دوہری شہریت رکھتے ہیں جبکہ ایک ہزار 2 سو 49 افسران کی بیگمات غیر ملکی یا دوہری شہریت کی حامل ہیں۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ قومی مفاد کو مد نظر رکھ کر چلنا ہو گا، قانون سازی اور قانون میں بہتری پارلیمنٹ کا کام ہے، قانون اپ ڈیٹ کرنا عدلیہ کا کام نہیں، ہمیں مجبور نہ کیا جائے کہ خود قانون اپ ڈیٹ کریں۔عدالتی معاون نے کہا کہ حساس عہدوں پر تعیناتیوں کے حوالے سے قانون سازی ہونی چاہیے، چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ قانون میں فی الحال رکن قومی اسمبلی کے لیے دوہری شہریت کی پابندی ہے۔چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا پاک فوج کا سربراہ بھی دوہری شہریت رکھ سکتا ہے جس پر عدالتی معاون نے بتایا کہ دوہری شہریت کے حوالے سے پاک فوج میں پابندی نہیں ہے۔چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیے کہ پاک فوج میں غیر ملکی کی ملازمت پر پابندی ہونی چاہیے، یہ ایک اہم ترین ادارہ ہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ جب سٹیزن شپ ایکٹ بنا تو ملک ایٹمی طاقت نہیں تھا، اس وقت ایٹمی طاقت ہوتے تو شاید یہ قانون غیرملکی شہریت والوں پر پابندی لگاتا۔قانون سازی پارلیمنٹ کا کام ہے پارلیمنٹ کو اس طرف توجہ دینی چاہیے۔

Google Analytics Alternative