تازہ ترین
Home » 2018 » August » 09

Daily Archives: August 9, 2018

پنجاب کے وزیراعلیٰ کے لیے ایک نوجوان لارہا ہوں، عمران خان

اسلام آباد: چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے کہا ہے کہ پنجاب کے وزیراعلیٰ کے لیے ایک نوجوان لارہا ہوں جو کلین ہوگا اور اس پرکسی قسم کا کوئی سوالیہ نشان نہیں۔ 

تحریک انصاف پنجاب کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس چیئرمین عمران خان کی زیرصدارت ہوا جس میں پنجاب بھر سے نومنتخب اراکین پنجاب اسمبلی سمیت تحریک انصاف میں شامل ہونے والے آزاد امیدوار شریک ہوئے۔ اجلاس میں تحریک انصاف کی مرحوم رہنما سلونی بخاری کو خراج عقیدت پیش کیا گیا۔

ذرائع کے مطابق پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں وزیراعلیٰ پنجاب کی تقرری اور کابینہ امور پر مشاورت ہوئی اور وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی شرکا کو پارلیمانی امور سے متعلق آگاہ کیا۔

بعد ازاں نومنتخب اراکین سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ مشکل الیکشن لڑنے پر سب کو مبارکباد دیتا ہوں، میرے لیے سب سے بڑا عذاب ٹکٹ دینا تھا، ہم نے ٹکٹ دینے کے عمل کو مزید بہتر کرنا ہے اور سب کو پتا تھا کہ اصل پانی پت کی جنگ پنجاب میں لڑی جائے گی جب کہ تمام سروے کہہ رہےتھےخیبرپختونخوا سےتحریک انصاف جیت جائے گی۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ میں لوگوں سے وعدہ کر کے آیا ہوں کہ مدینہ کی ریاست بنانی ہے، انصاف میرٹ پر کرنا ہے، آپ نے عوام کے پیسے کو اللہ کی امانت سمجھنا ہے اور قوم کا پیسا بچانا ہے تاکہ عوام کی فلاح پر خرچ کیا جاسکے جب کہ ہم نے پارٹی کو ایک ادارہ بنانا ہے، سب سے زیادہ ذمے داری پنجاب والوں پر ہے، جہاں ہماری کمزوری ہے اس حلقے میں ابھی سے کام شروع کرنا ہے۔

چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ پنجاب کے وزیراعلٰی کے لیے ایک نوجوان لارہا ہوں، یہ نوجوان کلین ہوگا، اس پرکسی قسم کا کوئی سوالیہ نشان نہیں، آپ سب اس نوجوان کو سپورٹ کریں جب کہ پنجاب میں ہمیں بہت سے چیلنجز کا سامنا ہے، پنجاب کے لوگوں کو ریلیف دینا ہے، وہاں کے لوگ کئی دہائیوں سے مفلسی کی زندگی گزاررہے ہیں۔

عمران خان نے کہا کہ پنجاب پولیس کو غیر سیاسی اور خود مختار بنائیں گے اور کے پی پولیس کے طرز کی اصلاحات لائیں گے، پنجاب کے اسکولوں اور اسپتالوں کو بہتر سے بہتر بنائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ میں آپ سے اس کا تقاضا کبھی نہیں کروں گا جس پر میں خود عمل نہ کروں، میں فیصلے میرٹ پراور قوم کے مفاد کے لیے کروں گا جب کہ ذاتی سیاست نے سیاستدانوں کو ذلت دی ہے، ذاتی سیاست میں عوام کا نام لےکراقتدارمیں آکراپنی ذات کا سوچتے ہیں۔

آصف زرداری کے خلاف سوئس کیسز دوبارہ نہیں کھل سکتے، نیب

نیب کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ سابق صدر آصف زرداری کے خلاف سوئس کیسز دوبارہ نہیں کھل سکتے۔

نیب نے این آر او کیس سے متعلق اپنا جواب سپریم کورٹ میں جواب جمع کرا دیا ہے جس مین کہا گیا ہے کہ آصف علی زرداری کے خلاف سوئس مقدمات کو دوبارہ نہیں کھولا جا سکتا۔

سپریم کورٹ میں جمع کرائے گئے جواب میں کہا گیا ہے کہ حکومت پاکستان نے سوئس مقدمات میں قانونی میعاد کے دوران اپیل دائر نہیں کی، حکومت پاکستان کی سوئس کیسز میں اپیل زائد المیعاد تھی۔

نیب کی جانب سے سپریم کورٹ میں جمع کرائے گئے جواب میں کہا گیا ہے کہ آصف علی زرداری کے خلاف کیسز نیب عدالت میں زیر التواء ہیں۔

نیب کے جواب میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ انکوائری میں سابق اٹارنی جنرل ملک قیوم کے خلاف اختیارات کا ناجائز استعمال ثابت نہیں ہوا اور ملک قیوم کے خلاف انکوائری ستمبر 2012 میں بند کر دی تھی۔

سپریم کورٹ میں جمع کرائے گئے نیب کے جواب میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ این آر او قانون کے اجراء سے نقصان کی تفصیل دستیاب نہیں، این آر او سے نقصان کے تعین کے بعد عدالت جو حکم دے گی اس پر عمل کریں گے۔

این آر او کیا ہے؟

سابق صدر پرویز مشرف نے 5 اکتوبر 2007 کو قومی مفاہمتی آرڈیننس جاری کیا جسے این آر او کہا جاتا ہے، 7 دفعات پر مشتمل اس آرڈیننس کا مقصد قومی مفاہمت کا فروغ، سیاسی انتقام کی روایت کا خاتمہ اور انتخابی عمل کو شفاف بنانا بتایا گیا تھا جب کہ اس قانون کے تحت 8 ہزار سے زائد مقدمات بھی ختم کیے گئے۔

این آر او سے فائدہ اٹھانے والوں میں نامی گرامی سیاستدان شامل ہیں جب کہ اسی قانون کے تحت سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو شہید کی واپسی بھی ممکن ہوسکی تھی۔

این آر او کو اس کے اجراء کے تقریباً دو سال بعد 16 دسمبر 2009 کو سپریم کورٹ کے 17 رکنی بینچ نے کالعدم قرار دیا اور اس قانون کے تحت ختم کیے گئے مقدمات بحال کرنے کے احکامات جاری ہوئے۔

عمران خان نے محمود خان کو وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نامزد کر دیا

پشاور: چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے محمود خان کو وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نامزد کردیا۔

تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے پی کے 9 سوات سے منتخب ہونے والے رکن  محمود خان کو خیبرپختونخوا کا وزیراعلیٰ نامزد کردیا۔

محمود خان 1972 میں سوات کے علاقے مٹہ میں پیدا ہوئے اور انہوں نے ابتدائی تعلیم پشاور سے حاصل کی جب کہ انہوں نے 2007 میں عملی سیاست کا آغاز کیا اور تحریک انصاف کے گزشتہ دور حکومت میں وزیرکھیل رہ چکے ہیں۔

محمود خان ارب پتی نکلے 

نامزد وزیراعلی محمود خان کی جانب سے الیکشن کمیشن میں جمع کروائی گئی دستاویزات کے مطابق ان کے پاس 2 ارب 51 کروڑ 67 لاکھ کے مکمل اثاثہ ہیں جن میں 4 کروڑ نقدی بینک میں ہے اور 87 کنال زرعی اراضی اور 55 کمرشل دکانوں کے مالک ہیں۔

خیال رہے کہ تحریک انصاف کے گزشتہ دور حکومت میں اسپیکر کے فرائض انجام دینے والے اسد قیصر، سابق وزیراعلی پرویز خٹک، وزیرتعلیم عاطف خان اور صوبائی وزیراطلاعات شاہ فرمان وزارت اعلیٰ کی دوڑ میں شامل تھے تاہم عمران خان عاطف خان کو وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا بنانا چاہتے تھے لیکن پرویز خٹک نے نہ صرف ان کی مخالفت کی بلکہ اس حوالے سے خود محمود خان کا نام بھی دیا جسے چیئرمین پی ٹی آئی نے اب باضابطہ طور پر وزیراعلیٰ کا امیدوار نامزد کردیا ہے۔

پی ٹی آئی پنجاب کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس

دوسری جانب تحریک انصاف پنجاب کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس چیئرمین عمران خان کی زیرصدارت ہوا جس میں پنجاب بھر سے نومنتخب اراکین پنجاب اسمبلی سمیت تحریک انصاف میں شامل ہونے والے آزاد امیدوار شریک ہوئے۔ اجلاس میں تحریک انصاف کی مرحوم رہنما سلونی بخاری کو خراج عقیدت پیش کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں وزیراعلیٰ پنجاب کی تقرری اور کابینہ امور پر مشاورت ہوئی اور وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی شرکا کو پارلیمانی امور سے متعلق آگاہ کیا۔

مشکل الیکشن لڑنے پر سب کو مبارکباد دیتا ہوں

بعد ازاں نومنتخب اراکین سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ مشکل الیکشن لڑنے پر سب کو مبارکباد دیتا ہوں، میرے لیے سب سے بڑا عذاب ٹکٹ دینا تھا، ہم نے ٹکٹ دینے کے عمل کو مزید بہتر کرنا ہے اور سب کو پتا تھا کہ اصل پانی پت کی جنگ پنجاب میں لڑی جائے گی جب کہ تمام سروے کہہ رہےتھے خیبرپختونخوا سے تحریک انصاف جیت جائے گی۔

انصاف میرٹ پر کرنا ہے

عمران خان کا کہنا تھا کہ میں لوگوں سے وعدہ کر کے آیا ہوں کہ مدینہ کی ریاست بنانی ہے، انصاف میرٹ پر کرنا ہے، آپ نے عوام کے پیسے کو اللہ کی امانت سمجھنا ہے اور قوم کا پیسا بچانا ہے تاکہ عوام کی فلاح پر خرچ کیا جاسکے جب کہ ہم نے پارٹی کو ایک ادارہ بنانا ہے، سب سے زیادہ ذمے داری پنجاب والوں پر ہے، جہاں ہماری کمزوری ہے اس حلقے میں ابھی سے کام شروع کرنا ہے۔

پنجاب کے وزیراعلٰی کے لیے ایک نوجوان لارہا ہوں

چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ پنجاب کے وزیراعلٰی کے لیے ایک نوجوان لارہا ہوں، یہ نوجوان کلین ہوگا، اس پرکسی قسم کا کوئی سوالیہ نشان نہیں، آپ سب اس نوجوان کو سپورٹ کریں جب کہ پنجاب میں ہمیں بہت سے چیلنجز کا سامنا ہے، پنجاب کے لوگوں کو ریلیف دینا ہے، وہاں کے لوگ کئی دہائیوں سے مفلسی کی زندگی گزاررہے ہیں۔

عمران خان نے کہا کہ پنجاب پولیس کو غیر سیاسی اور خود مختار بنائیں گے اور کے پی پولیس کے طرز کی اصلاحات لائیں گے، پنجاب کے اسکولوں اور اسپتالوں کو بہتر سے بہتر بنائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ میں آپ سے اس کا تقاضا کبھی نہیں کروں گا جس پر میں خود عمل نہ کروں، میں فیصلے میرٹ پراور قوم کے مفاد کے لیے کروں گا جب کہ ذاتی سیاست نے سیاستدانوں کو ذلت دی ہے، ذاتی سیاست میں عوام کا نام لےکراقتدارمیں آکراپنی ذات کا سوچتے ہیں۔

انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف اپوزیشن جماعتوں کا احتجاج

 اسلام آباد: 2018 کے عام انتخابات میں دھاندلی کیخلاف اسلام آباد میں الیکشن کمیشن کے دفتر کے سامنے اپوزیشن جماعتوں نے احتجاجی مظاہرہ کیا جس میں پیپلز پارٹی اور ایم ایم اے سمیت 7 جماعتوں نے شرکت کی۔

انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف تمام اپوزیشن جماعتوں نے الیکشن کمیشن اسلام آباد کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا جس میں پیپلز پارٹی اور ایم ایم اے سمیت 7 جماعتیں شریک تھیں۔ انتخابات میں دھاندلی کے خلاف احتجاجی ریلی بھی نکالی گئی جس میں راجا ظفرالحق، محمود خان اچکزئی، مولانا عبدالغفور حیدری، مشاہداللہ خان، افرا سیاب خٹک سمیت دیگر رہنماؤں نے شرکت کی جب کہ الیکشن کمیشن کے باہر مظاہرین نے جعلی الیکشن کے نعرے لگائے۔

جے یو آئی (ف) کے مختلف شہروں میں مظاہرے؛

دوسری جانب مبینہ دھاندلی کے خلاف جے یوآئی کی جانب سے بلوچستان اور کے پی کے مختلف شہروں میں بھی مظاہرے کئے گئے، بنوں، مستونگ اور کوئٹہ  سمیت مختلف شہروں میں کارکنوں نے احتجاج کیا اور اس دوران انڈس ہائی وے،  کوئٹہ کراچی ہائی وے، اور تفتان سمیت زیارت قومی شاہراہ بند کردی گئیں۔

پی پی کا الیکشن کمیشن سے مستعفیٰ ہونے کا مطالبہ؛

اس موقع پر پیپلزپارٹی کی رہنما شیریں رحمان نے الیکشن کمیشن سے مستعفیٰ ہونے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم سب کو پارلیمان میں حلف لینے پر آمادہ کریں گے اور پارلیمنٹ میں جاکر سیاسی جماعتوں کو متحد کریں گے۔ سابق وزیراعظم اور رہنما پیپلزپارٹی یوسف رضاگیلانی نے کہا کہ، 2018 کے انتخابات میں تاریخ کی بدترین دھاندلی ہوئی، پاکستان کی تمام سیاسی جماعتیں اس انتخابات کو مسترد کرتی ہیں۔

پیپلزپارٹی کے رہنما خورشید شاہ نے کہا کہ ہم عمران خان کو موقع دے رہے ہیں کہ وہ لوگوں سے کیے گئے وعدے 100 دنوں میں پورے کریں، ملکی مسائل کو درست کریں جب کہ ہم ہر مسئلہ پارلیمنٹ میں اٹھائیں گے۔

ن لیگی رہنما راجہ ظفرالحق؛

مسلم لیگ (ن) کے رہنما راجا ظفرالحق نے کہا کہ الیکشن کے نتائج عوام یا ووٹرز کی رائے نہیں، ہم دنیا کو بتانا چاہتے ہیں کہ عوام اس الیکشن کو مسترد کرتے ہیں، الیکشن کمیشن کو اس کی زمہ داری پوری نہیں کرنے دی گئی جب کہ ووٹ کو عزت نہ دینے والوں نے پاکستان کا نقصان کیا۔

سابق وزیر داخلہ احسن اقبال نے کہا کہ دوبارہ کاونٹنگ ہمارا بنیادی حق ہے، جسے ہم سے دور کیا جا رہا ہے، ثابت ہو رہا ہے کہ عمران خان جعلی مینڈیٹ پر حکومت میں آ رہے ہیں، وہ ملک کی نمائندگی کیسے کریں گے۔

سیکیورٹی انتظامات؛

اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے احتجاجی کال کے پیش نظر وفاقی دارالحکومت میں سیکورٹی کے خصوصی انتظامات کیے گئے، اراکین پارلیمنٹ کے علاوہ کسی کو بھی الیکشن کمیشن کے سامنے جانے کی اجازت نہیں تھی۔

الیکشن کمیشن نے عمران خان کو کل طلب کرلیا

اسلام آباد: الیکشن کمیشن آف پاکستان نے ووٹ کی رازداری کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کوکل طلب کرلیا۔

الیکشن کمیشن آف پاکستان نے تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کو حالیہ عام انتخابات میں ووٹنگ کے دوران ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کرنے پر کل طلب کرلیا، الیکشن کمیشن نے عمران خان کو بذات خود یا بذریعہ وکیل پیش ہونے کی ہدایت کی ہے۔

اس سے قبل عمران خان کی جانب سے ان کے وکیل بابراعوان پیش ہوئے تاہم الیکشن کمیشن نے عمران خان سے ووٹ کی رازداری نہ رکھنے پر تحریری جواب طلب کرتے ہوئے سماعت 16 اگست تک ملتوی کردی تھی۔

واضح رہے 25 جولائی کو ہونے والے انتخابات میں چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے ووٹنگ کے دوران ووٹ کی رازداری کا خیال نہ رکھتے ہوئے کیمروں کی موجودگی میں بلے کے انتخابی نشان پر مہر لگائی تھی۔

انتقال اقتدار کیلئے حتمی نتائج

adaria

الیکشن کمیشن نے عام انتخابات میں کامیاب ہونے والے امیدواروں کی کامیابی کے نوٹیفکیشن جاری کردئیے تاہم 27 قومی و صوبائی حلقوں کے نوٹیفکیشن روک دئیے گئے، چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی کامیابی والے دو حلقوں این اے 53اور این اے 131 کے نتائج روک دئیے گئے جبکہ تین حلقوں کے مشروط نوٹیفکیشن جاری کیے گئے ۔ ترجمان الیکشن کمیشن کے مطابق 2 حلقوں میں عمران خان کی کامیابی کے نوٹیفکیشن روک لئے گئے ہیں، جن حلقوں میں چیئرمین تحریک انصاف کی کامیابی کے نوٹیفکیشن روکے گئے ان میں این اے 53 سے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر اور این اے 131 میں ان کے مدِمقابل مسلم لیگ(ن)کے سعد رفیق کی جانب سے دوبارہ گنتی کی درخواست کا فیصلہ آنے تک روکا گیا ہے۔عمران خان نے 25 جولائی کو عام انتخابات کے روز ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ووٹ کی رازداری کا خیال نہیں رکھا تھا اور سب کے سامنے بلے کے انتخابی نشان پر مہر لگائی جس پر الیکشن کمیشن نے نوٹس لیا تھا اور ان کا کیس زیر سماعت ہے۔ تاہم الیکشن کمیشن نے عمران خان کے دیگر 3 حلقوں سے کامیابی کے مشروط نوٹیفکیشن جاری کردیے ہیں۔چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کیخلاف انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کا کیس زیر سماعت ہے جس کے فیصلے سے مشروط تین حلقوں سے کامیابی کے نوٹیفکیشن جاری کیے گئے تاہم اگر فیصلہ عمران خان کے خلاف آیا تو تینوں نوٹیفکیشنز منسوخ کر دئیے جائیں گے۔ عدالتی فیصلوں کے باعث 840 میں سے 26 قومی و صوبائی اسمبلی کے حلقوں کے نوٹیفکیشن روکے گئے ہیں، قومی اسمبلی کے جن 9 حلقوں کے نوٹیفکیشن روکے گئے ان میں این اے 53 اسلام آباد، این اے 90 اور این اے 91 سرگودھا، این اے 108 فیصل آباد، این اے 112 ٹوبہ ٹیک سنگھ ،این اے 131 لاہور، این اے 140 قصور، این اے 215 سانگھڑ اور این اے 271 شامل ہیں۔ ایک طرف حکومت سازی کا عمل تیزی سے جاری ہے تو دوسری طرف الیکشن کمیشن کی طرف سے نوٹیفکیشن روکنے کا عمل کامیاب امیدواروں کیلئے پریشان کن بنا ہوا ہے،الیکشن کمیشن کی طرف سے نوٹیفکیشن روکنے سے انتقال اقتدار سوالیہ نشان بنتا جارہا ہے، الیکشن سے متعلقہ کیسوں کو التواء میں ڈالنے کی بجائے ان کو جلدازجلد نمٹانا ہی بہتر قرار پاسکتا ہے، الیکشن پر متحدہ اپوزیشن اپنے تحفظات کا اظہار کررہی ہے اور اس نے مبینہ دھاندلی کیخلاف احتجاج کا سلسلہ شروع کررکھا ہے حالانکہ غیر ملکی مبصرین کی نظر میں انتخابات کا مرحلہ صاف و شفاف قرار پایا تاہم معمولی بے ضابطگیاں دیکھنے میں آئیں جن کا دھاندلی سے کوئی تعلق نہیں بنتا، ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ جب بھی الیکشن ہوتے ہیں ہارنے والے اپنی شکست کے محرکات ڈھونڈنے کی بجائے اس کو دھاندلی سے مشروط کردیتے ہیں جس سے الیکشن متنازع بن جاتے ہیں، حالیہ الیکشن کو بھی متنازع بنانے کی کوشش کی جارہی ہے حالانکہ حقائق یہ ہیں کہ مسلم لیگ(ن) کو انتخابات میں ناکامی درحقیقت سابق وزیراعظم محمد نواز شریف کا عدلیہ کیخلاف بیانیہ ہے جس نے عوام کو متنفر کیا اور عوام نے پی ٹی آئی کے حق میں فیصلہ دیا ، اپوزیشن کو مثبت کردار ادا کرنا چاہیے ، احتجاجی سیاست جمہوریت کیلئے سودمند قرار نہیں پاتی ، ماضی کے دریچوں میں جھانکا جائے تو دھاندلی کا شورشرابا اور اس کے اثرات جمہوریت پر ہی کاری ضرب کا باعث بنے۔جمہوری تسلسل کو جاری رکھنے کیلئے الیکشن میں ہارنے والی پارٹیوں کو اپوزیشن بنچوں پر بیٹھ کر اپنا کردار ادا کرنا چاہیے، دھاندلی دھاندلی کی گردان ملک و قوم کیلئے درست نہیں ہے، آخر کب تک ہم دھاندلی کے چکروں میں پڑے رہیں گے،ہار کو تسلیم کرلینا ہی سیاسی تدبر اور بصیرت کا حامل قرارپاتا ہے، الیکشن کمیشن کو چاہیے کہ وہ روکے گئے حلقوں کے نوٹیفکیشن جلد جاری کرے تاکہ انتقال اقتدار کا مرحلہ بروقت انجام پائے۔ انتخابی نتائج کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کو بھانپتے ہوئے الیکشن کمیشن اور عدالتوں کو فوری فیصلے دینے چاہیے تاکہ حکومت سازی کا مرحلہ مکمل ہو پائے۔ الیکشن میں آر ٹی ایس سسٹم کی ناکامی الیکشن کمیشن کے لئے سوالیہ نشان ہے جس کے بارے میں گزشتہ روز چیف جسٹس نے ایک کیس کے دوران ریمارکس میں کہا ہے کہ انتخابات کے روز میں نے چیف الیکشن کمشنر سے تین دفعہ رابطہ کیا لیکن انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا میرے خیال سے شاید وہ اس دن سو رہے تھے۔چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اچھا بھلا انتخابی عمل جاری تھا لیکن الیکشن کمیشن نے مہربانی فرما دی، میں نے چیف الیکشن کمشنرسے تین دفعہ رابطہ کیا کوئی جواب نہیں آیا، میرے خیال سے شاید وہ اس دن سو رہے تھے، اس روز تو ان کاسسٹم ہی نہیں چل رہا تھا۔ یہ عدالتی ریمارکس الیکشن کمیشن کیلئے توجہ طلب ہیں۔الیکشن کمیشن کو چاہیے کہ وہ آر ٹی ایس سسٹم کی ناکامی کے بارے میں فوری تحقیقات کرے تاکہ سیاسی جماعتوں میں پایا جانے والا ابہام ختم ہو، الیکشن کمیشن کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ بروقت نتائج اور کامیاب امیدواروں کے نوٹیفکیشن جاری کرے تاکہ حکومت سازی کا مرحلہ آگے بڑھ پائے۔
آرمی چیف سے روسی نائب وزیر دفاع کی ملاقات
آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور روسی نائب وزیر دفاع کی ملاقات نہایت اہمیت کی حامل قرار پائی ، ملاقات میں دوطرفہ تعلقات پر گفتگو کی گئی اور خطے کی سلامتی کی صورتحال اور باہمی دلچسپی کے امور بھی زیر غور آئے ، وزیر دفاع نے دہشت گردی کیخلاف جنگ میں پاک فوج کی کاوشوں کو سراہا ہے۔ روس اور پاکستان کے درمیان دوستانہ تعلقات وقت کی ضرورت ہے، پاکستان پڑوسی ممالک کے ساتھ خوشگوار تعلقات کا خواہاں ہے،پاکستان چاہتا ہے کہ اڑوس پڑوس کے ملکوں سے اچھے تعلقات رہیں، پاکستان حق ہمسائیگی سے بے نیاز نہیں ہے تاہم پاکستان کے ساتھ چند ممالک کا رویہ مخاصمانہ اور متعصبانہ ہے لیکن پاکستان پھر بھی دوستی کا ہاتھ بڑھائے ہوئے ہے، پاک فوج کی دہشت گردی کیخلاف قربانیوں کو روسی نائب وزیردفاع کا خراج تحسین اس امر کا عکاس ہے کہ پاک فوج کی کارکردگی کو عالمی سطح پر سراہا جارہا ہے یہ حقیقت ہے کہ پاک فوج نے دہشت گردی کیخلا ف جو قربانیاں دیتی چلی آرہی ہے وہ تاریخ کے سنہری اوراق میں لکھے جائیں گے، دہشت گردی کی جنگ میں پاک فوج کا کردار ملک اور غیر ملکی سطح پر لائق ستائش ہے اور یہ عالمی سطح پر بھی قابل تقلید ہے۔ دہشت گرد مشترکہ دشمن ہیں ان کیخلاف مل جل کرلڑنا ہی دنیا کے امن کیلئے ضروری ہے۔
العزیزیہ اسٹیل ملز و فلیگ شپ ریفرنسز کی دوسری عدالت منتقلی
اسلام آباد ہائیکورٹ نے سابق وزیراعظم نواز شریف ،مریم نواز اور کیپٹن(ر)صفدر کیخلاف احتساب عدالت میں زیر سماعت العزیزیہ اسٹیل ملز اور فلیگ شپ ریفرنسز کی دوسری عدالت میں منتقلی کی درخواست منظور کرتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ریفرنسز کا ٹرائل یہی سے آگے بڑھایا جائے گا۔ احتساب عدالت کے جج محمد بشیر اب دونوں ریفرنسز کی سماعت نہیں کرینگے۔ نواز شریف کی درخواست منظوری کے بعد مسلم لیگ(ن) کو اب اطمینان کرلینا چاہیے کہ عدالتیں جو فیصلہ کرتی ہیں وہ آئین اور قانون کے تناظر میں کرتی ہیں، نواز شریف کیلئے یہی سودمند قرارپاسکتا ہے کہ وہ اپنے خلاف دائر ریفرنسز کا دفاع قانونی لحاظ سے کریں، یہی ان کی سیاسی ساکھ اور وقار کیلئے بہتر ہے۔

 

 

پاکستان میں 12 برس بعد ایشین گالف ایونٹ ہوگا

کراچی:  پاکستان میں 12برس کے تعطل کے بعد ایشین ٹور گالف ایونٹ کا انعقاد ہوگا پروفیشنل گالف ایسوسی ایشن کے سرکٹ میں شامل پروفیشنل گالفرز کے اس ایشیائی ایونٹ میں معروف انٹرنیشنل گالفرز شرکت کریں گے۔

اکتوبر میں شیڈول ان مقابلوں کیلیے درکار 6 کروڑ 50 لاکھ روپے کا انتظام کرلیا گیا ہے جبکہ ایونٹ میں شرکت کیلیے آنے والے غیرملکی گالفرز کو بہترین سیکیورٹی فراہم کی جائیگی، اس امر کا اظہار پاکستان گالف فیڈریشن کے نائب صدر اور اور سندھ گالف ایسوسی ایشن کے سیکریٹری اسد آئی اے خان نے  قومی فیڈریشن کی خصوصی کاوشوں اور پاکستان نیوی کی گہری دلچسپی کے نتیجے میں پاکستان میں 12برس کے بعد ایشین ٹور گالف کا انعقاد ممکن ہوگیا، کراچی گالف کلب میں شیڈول چیف آف نیول اسٹاف گالف ٹورنامنٹ کو ایشین ٹور کا نام دیا گیا۔

جس میں بھارت سمیت ایشیا کے پروفیشنل گالفرز اپنی صلاحیتوں کا اظہار کریں گے، یہ چوتھا موقع ہے کہ ایشین ٹور کو پاکستان کو میزبانی ملی ہے، پاکستان میں پہلا ایشین ٹور گالف ٹورنامنٹ 1989 میں لاہور میں منعقد ہوا تھا جو فلپائن کے معروف انٹرنیشنل گالفر فرینکی مینوزا نے جیتا تھا، بعدازاں دوسرا ایشین ٹور 2005 میں کراچی میں منعقد ہوا جبکہ اگلے برس 2006 میں ایک مرتبہ پھر پاکستان کو میزبانی کا اعزاز حاصل ہوا، یہ ایونٹ کراچی گالف کلب میں منعقد ہوا تھا، تاہم پاکستان میں دہشت گردی کی لہر میں آنے کے سبب سیکیورٹی وجوہات کی بنیاد پر2008 میں ایونٹ کی میزبانی واپس لے لی گئی تھی، اسد آئی اے خان کے مطابق ملک کے حالات بہتر ہونے کے بعد ٹور کے منتظمین نے پاکستان کی جانب سے دی جانے والی یقین دہانیوں اور پریذینٹیشن کو قبول کرتے ہوئے میزبانی تفویض کی۔

 بوجوہ مؤخر ہونے کے بعد اب ایونٹ اکتوبر میں کراچی گالف کلب میں منعقد ہوگا، اس ایونٹ کے مجموعی اخراجات کی رقم 6 کروڑ 50 لاکھ روپے کے لگ بھگ ہے جس میں 3 کروڑ روپے کی انعامی رقم بھی شامل ہوگی، اس ضمن میں مطلوبہ رقم کا تقریباً اہتمام ہوچکا ہے، ایونٹ کے شایان شان انعقاد کیلیے پاکستان گالف فیڈریشن کے تعاون سے کراچی گالف کلب کی انتظامیہ نے مختلف کمیٹیاں تشکیل دیدی ہیں، ایک سوال کے جواب میں اسد آئی اے خان نے کہا کہ ایشین ٹور میں 40 سے 60 انٹرنیشنل گالفرز شرکت کرینگے جبکہ بہترین سیکیورٹی انتظامات کا اہتمام سب سے زیادہ اہم ہے، اس ضمن میں حکومت پاکستان اور متعلقہ اداروں سے بھرپور رابطے جاری ہیں۔

این اوسی کیلیے متعلقہ وزارتوں سے رجوع کیا گیا ہے، اس حوالے سے جلد مثبت جواب متوقع ہے، اسد آئی اے خان نے کہا کہ پاکستان میں ایشین ٹور گالف ایونٹ کی 12 برس واپسی خوش آئند ہے، یہ ملک میں انٹرنیشنل اسپورٹس کی راہیں کھولنے میں معاون و مددگار ثابت ہوگا، ان مقابلوں کے انعقاد سے ملک میں گالف کو فروغ ملے گا جبکہ پاکستانی گالفرز کو بھی تقویت میسر آئیگی، دریں اثنا ایشین ٹور کے سی ای او جوش براک کا کہنا ہے کہ ہمارے بہترین انٹرنیشنل پاکستان کا رخ کرنے کیلیے بہت پُرجوش ہیں،امید ہے کہ ایونٹ کامیابی سے ہمکنار ہوگا۔

ایرانی صدر کا عمران خان کو ٹیلی فون، دورہ ایران کی دعوت

تہران: ایرانی صدر حسن روحانی نے چیئرمین پی ٹی آئی کو فون کرکے ایران کے دورے کی دعوت دی جسے عمران خان نے قبول کرلی۔

ایران کے صدر حسن روحانی نے وزارت عظمیٰ کے عہدے کیلئے نامزد عمران خان کو ٹیلی فون کرکے پاک ایران تعلقات اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا۔

اس موقع پر ایرانی صدر نے کہا کہ پاکستان اور ایران محض ہمسائے ہی نہیں مذہبی اور ثقافتی بندھن سے جڑے ہیں جب کہ پاک ایران تعلقات میں مزید پختگی اور اضافے کے خواہاں ہیں۔

حسن روحانی کی جانب سے چیئرمین تحریک انصاف کو ایران کے دورے کی دعوت دی گئی جسے قبول کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ انتقالِ اقتدار کا عمل مکمل ہوتے ہی دونوں ممالک کی وزارتِ خارجہ دورے کو حتمی شکل دے گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان ایران سے خصوصی تجارتی تعلقات قائم کرنا چاہتا ہے اور پاکستان ایران کے ساتھ سفارتی تعلقات میں مزید پختگی کا بھی خواہشمند ہے۔

Google Analytics Alternative