Home » 2018 » September

Monthly Archives: September 2018

بھارت نے حملے کی غلطی کی تو بھرپور جواب ملے گا، وزیر خارجہ

نیویارک: وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ بھارت ہمارے صبر کا امتحان نہ لے بھارت نے اگر پاکستان پر حملے کی غلطی کی تو بھرپور جواب دیا جائے گا، مسئلہ کشمیر میں قتل و غارت پر اقوام متحدہ ایک آزاد کمیشن تشکیل دے۔

اقوام متحدہ کے 73 ویں جنرل اسمبلی اجلاس سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان کے عوام نے موجودہ انتخابات میں تبدیلی کے لیے ووٹ دیا اور اپنی مرضی کی حکومت لائے، عمران خان کی قیادت میں ہم نے نئی پاکستان کی داغ بیل ڈالی، دنیا ایک دوراہے پر کھڑی ہے، پاکستان کو تنہا کرنے کی قوتیں غالب ہوتی نظر آرہی ہیں، پاکستان اپنے قومی مفادات پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ آج دنیا ایک دوراہے پر کھڑی ہے، دنیا کے بنیادی اصول متزلزل دکھائی دے رہے ہیں،برداشت کی جگہ نفرت اور قانون کی جگہ اندھی اور بے لگام طاقیں غلبہ پارہی ہیں، دنیا میں نئی راستوں کی جگہ رکاوٹیں کھڑی کی جارہی ہیں نفرتوں کی فصلیں کھڑی کی جارہی ہیں، سامراجیت کی نئی شکلیں پروان چڑھ رہی ہیں۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ تجارتی جنگ کے گہرے بادل افق پر نمودار ہوچکے ہیں، دوسری جنگ عظیم کے بعد بین الاقوامی اتفاق رائے کی جگہ ایک مبہم عسکری سوچ نے لے لی ہے یہ عمل عالمی امن کے لیے خطرناک ہے،عالمی تنازعات کے ساتھ ساتھ نئے تفرقات جنم لے رہے ہیں، مسئلہ فلسطین آج بھی اپنی جگہ موجود ہے۔

ناموس رسالت کے معاملے پر انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ سب کے سامنے ہے، دیگر مذاہب کی جانب سے جہاں برداشت کے نظریات ہونے چاہئیں وہاں اب نفرتوں نے جنم لیا ہے، ہالینڈ میں گستاخانہ خاکوں کے مقابلوں کا جو منصوبہ بنا اس سے دنیا بھر کے مسلمانوں کی دل آزاری ہوئی، ہم اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم کی مدد سے تہذیبوں کے درمیان تصادم روکیں گے اور اسلام دشمنی کا بھرپور مقابلہ کریں گے۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ بھارت کے ساتھ برابری کی بنیاد پر تعلقات اور سنجیدہ مذاکرات کے ذریعے تمام تنازعات کا حل چاہتے ہیں، اقوام متحدہ کے اس اجلاس میں پاک بھارت متوقع ملاقات ایک اچھا موقع تھا جس میں تمام معاملات پر بات چیت ہوتی لیکن مودی حکومت نے منفی رویے کی وجہ سے موقع تیسری بار گنوا دیا، بھارتی قیادت نے امن پر سیاست کو فوقیت دی، ایک ڈاک ٹکٹ کو بنیاد بنایا جو مہنیوں پہلے جاری ہوا، بھارت جان لے مذاکرات ہی واحد راستہ ہے جس سے دیرینہ مسائل حل ہوسکتے ہیں۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ مسئلہ کشمیر خطے کے امن کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے جسے 70 سال ہوگئے، یہ امن اس وقت تک قائم نہیں ہوگا جب تک اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد نہیں ہوتا، یہ مسئلہ انسانیت کے ضمیر پر ایک بدنما داغ ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کے باشندے 70 سال سے انسانی حقوق کی پامالی سہتے آئے ہیں، یو این او کی حالیہ رپورٹ کا خیر مقدم کرتے ہیں جس میں کشمیر میں ریاستی جبر کا مکروہ چہرہ دکھایا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ کشمیر میں بھارتی فوج نے کیا کیا مظالم ڈھائے۔

شاہ محمود قریشی نے بھارت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کی آڑ میں اب بھارت کشمیر میں منظم قتل و غارت کا سلسلہ جاری نہیں رکھ سکے گا، ہم کشمیر میں قتل و غارت پر ایک آزاد تحقیقاتی کمیشن کے قیام کا مطالبہ کرتے ہیں جو ذمہ داروں کا تعین کرے، اب یہ عمل ناگزیر ہوگیا ہے، امید کرتے ہیں کہ بھارت بھی کمیشن کو تسلیم کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر میں قابض افواج کی درندگی سے نظر اٹھانے کے لیے بھارت ایل او سی پر فائرنگ کرتا ہے، بھارت کو ہمارے صبر کا امتحان نہیں لینا چاہیے، اگر وہ ہم پر حملے کی غلطی کرتا ہے تو اسے پاکستان کی جانب سے بھرپور رد عمل کا سامنا کرنا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں کچھ طاقتوں کی جانب سے اسلحے کی غیر منصفانہ فروخت جاری ہے لیکن ہم اسلحے کی دوڑ کی روک تھام کے لیے تیار ہیں، جنوبی ایشیا میں ایک ملک کی وجہ سے سارک کی تنظیم کو غیر فعال کردیا گیا ہے لیکن ہم سارک کو فعال کرنا چاہتے ہیں تاکہ جنوبی ایشیا میں غربت کے خاتمے کے لیے اقدمات کیے جائیں۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ہم 17 سال سے دہشت گردی کی جنگ سے نبرد آزما ہیں، دو لاکھ افواج کی مدد سے دنیا کا سب سے بڑا آپریشن کیا، آج بھی ہمارا مشرقی ہمسایہ دہشت گردوں کی مالی مدد اور معاونت کررہا ہے اور ہزاروں جانوں کا ضیاع اس کا نتیجہ ہے، ہم پاکستان میں ہونے والے حملوں میں ہندوستان کی معاونت، سمجھوتہ ایکسپریس اور دیگر حملوں کو نہیں بھولیں گے، سانحہ اے پی ایس اور سانحہ مستونگ کے ذمہ داروں کو بھارتی پشت پناہی حاصل تھی، اقوام متحدہ کو شواہد دے چکے ہیں، ہماری تحویل میں کلبھوشن یادیو کی موجودگی اور اس کی فراہم کردہ تفصیلات اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاکستان میں دہشت گردی کو ہندوستان کی پشت پناہی حاصل ہے۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ افغانستان داعش کی بڑھتی ہوئی عمل داری ہے، پاکستان اور افغانستان نے ایکشن پلان کو عملی جامہ پہنایا ہے، پاکستان پناہ گزینوں کی سب سے بڑی آماجگاہ ہے جس کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی، پاکستان کی قربانی کا اندازہ لگایا جائے کہ اس سے زیادہ وسائل کے ممالک پناہ گزینوں کو پناہ نہیں دیتے، ہم افغان پناہ گزینوں کی جلد اور رضاکارانہ واپسی کے خواہش مند ہیں۔

نواز شریف کے منصوبوں پر آڈٹ کیلئے شہباز شریف کو کیسے بٹھادیں؟ فواد چوہدری

وفاقی وزیراطلاعات فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ شہباز شریف کو چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی بنانے پر تحفظات ہیں۔

اسلام آباد میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ چیئرمین پی اے سی کیلیے اپوزیشن کا حق نہیں بنتا، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی وطن واپس آئیں گے تو پارٹی اس حوالے سے فیصلہ کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ نواز شریف کے منصوبوں پر آڈٹ کے لیے شہباز شریف کو کیسے بٹھا دیں، یہ تو ایسے ہی ہے جیسے دودھ کی رکھوالی پر بلا۔

وفاقی وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ موجودہ بیورو کریسی کی اخلاقی تربیت نواز شریف اور آصف علی زرداری نے کی ہے، ہم جو بیوروکریسی لائیں گے وہ آپ سب دیکھیں گے۔

مسلم لیگ ن کے سینیٹر مشاہد اللہ خان کی جانب سے سینیٹ اجلاس میں کی جانے والی تقریر پر ردعمل دیتے ہوئے فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ مشاہد اللہ خان نے سینیٹ میں اس وقت بات کی جب میں وہاں نہیں تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ سینیٹ میں ہی جا کر بات کروں گا تاکہ مشاہد اللہ خان کی طبیعت اپنی جگہ آ جائے۔

فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ آج عمران خان سے ضمنی انتخابات کے امیدواروں کا اجلاس تھا جس میں امیدواروں کا تعارف کرایا گیا، ان شاء اللہ پی ٹی آئی کے امیدوار ضمنی انتخابات میں جیت جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ن لیگ نے جیسے ضمنی انتخابات کرائے ہم اس جیسے انتخابات نہیں کرا رہے، پنجاب میں وہی انتظامیہ ہے جو ن لیگ کے دور میں تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ ضمنی انتخاب میں کوئی سرکاری افسر مداخلت نہیں کرے گا اور وزیراعظم خود کسی انتخابی مہم میں نہیں جا سکتے۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ آج سیاحت سے متعلق بھی اجلاس ہوا، سیاحت سے متعلق جلد منظم مہم شروع کی جا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ سرسبزوشاداب پاکستان کی بنیاد رکھنےجا رہےہیں۔

کراچی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ کراچی میں صفائی ایک بہت بڑا مسئلہ ہے، کراچی سے صفائی کی ایک بڑی مہم شروع کرنے جا رہے ہیں۔

حکومت کا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ نہ کرنے کا اعلان

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت نے آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کی تجویز کے باوجود اکتوبر کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کی موجودہ قیمتیں برقرار رکھنے کا اعلان کردیا۔

وزیراعظم عمران خان کی جانب سے یہ فیصلہ کیا گیا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ نہیں کیا جائے گا۔

وزیراعظم نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا بوجھ عوام پر نہ ڈالا جائے۔

ڈان نیوز کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات پر سیلز ٹیکس کم کر کے ریلیف دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

قبل ازیں اوگرا نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 4 روپے فی لیٹر اضافے کی تجویز پر مبنی سمری وزارتِ خزانہ کو ارسال کردی تھی۔

اوگرا حکام کا یہ بھی کہنا تھا کہ ستمبر کے مہینے میں عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے جبکہ کرنسی تبادلے کی شرح مستحکم رہی۔

سیلز ٹیکس اور پیٹرولیم لیوی کو مدِ نظر رکھتے ہوئے اوگرا نے ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 4 روپے فی لیٹر اضافے اور پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے فی لیٹر اضافے کی سمری بھیجی تھی۔

اس کے ساتھ ساتھ مٹی کے تیل اور لائٹ ڈیزل کی قیمتوں میں بھی اضافے کا امکان ظاہر کیا تھا اور ان دونوں مصنوعات کے لیے 3 روپے فی لیٹر اضافے کی تجویز دی گئی تھی۔

وزارت خزانہ کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم کی ہدایت پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں نہ بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا۔

وزارت خزانہ کا کہنا تھا کہ اوگرا نے ہائی اسپیڈ ڈیزل 4 روپے 41 پیسے فی لیٹر مہنگا کرنے، پیٹرول 4 روپے 10 پیسے، مٹی کا تیل 3 روپے 66 پیسے مہنگا کرنے اور لائٹ ڈیزل 3 روپے 39 پیسے فی لیٹر مہنگا کرنے کی سفارش کی گئی تھی۔

اسٹیٹ بینک نے شرح سود میں ایک فیصد اضافہ کردیا

کراچی: اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے شرح سود میں ایک فیصد اضافہ کردیا جس کے بعد شرح سود 8.5 فیصد ہوگئی۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے مانیٹری پالیسی کا اعلان کردیا گیا ہے جس کے مطابق شرح سود میں ایک فیصد اضافہ کیا جارہا ہے شرح سود 7.5 سے بڑھا کر 8.5 فیصد کردی گئی ہے جس کا اطلاق یکم اکتوبر سے ہوگا۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ خام تیل کی قیمتوں کی وجہ سے جاری خسارے میں اضافہ ہوا، ملک میں مہنگائی بڑھنے سے حقیقی شرح سود کم ہوئی، عالمی معاشی حالات سے نمٹنا پاکستان کے لیے چیلنج ہے۔

اللہ نے مجھے وردی میں بندے مارنے والوں کاحساب لینے کے لئےعہدہ دیا ہے، چیف جسٹس

لاہور: چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کا کہنا ہے کہ جو پولیس وردی میں بندے مارتے ہیں ان کا حساب لینے کے لیے اللہ نے مجھے عہدہ دیا۔

سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں  اکبری اسٹور کی اراضی اونے پونے داموں فروخت کرنے کے خلاف کیس کی سماعت ہوئی۔  سماعت چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے کی۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ مالدار شخص مرا تو سارے مامے چاچے اور کزن بن کر مال کھانے کے لیے گدھ بن گئے کیا یہ انصاف ہو رہا ہے اس ملک میں جس کے ہاتھ جو آیا لوٹ کے کھا گیا۔

چیف جسٹس نے سابق ایس پی سی آئی اے عمر ورک کو مخاطب کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ شہر کے ہر بڑے تنازعے میں عمر ورک کا ہی نام کیوں آتا ہے؟ آپ ابھی تک میری ڈکیتی کا ملزم تو پکڑ نہیں سکے، مجھے معلوم ہے آپ کن وجوہات کی بنا ہر اس مقام تک پہنچے۔ عمرورک نے عدالت کو بتایا کہ اکبری اسٹور میں سی سی پی او امین وینس کے کہنے پر مداخلت کی۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ لوگ کہتے ہیں عمر ورک بندے مار دیتا، جو پولیس وردی میں بندے مارتے ہیں ان کا حساب لینے کے لیے اللہ نے مجھے عہدہ دیا۔ عدالت نے سابق سی سی پی او امین وینس اور عمر ورک کے خلاف انکوائری کا حکم دیتے ہوئے دونوں کو انکوائری تک معطل کردیا۔

عدالت نے اکبری اسٹور کی اراضی اونے پونے داموں فروخت کرنے کے معاملے پر اکبری اسٹورز کی 4 برانچوں اور اسٹور کے شئیر ہولڈر سابق چیف انجینئر شوکت شاہین سمیت دیگر کے اثاثوں کا ریکارڈ طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت ملتوی کردی۔

وزیراعظم کےخلاف ہرجانے کا مقدمہ: شہباز شریف سے متعلق دستاویزات کا مطالبہ

لاہور: وزیراعظم عمران خان کے وکیل بابراعوان نے اپنے موکل کے خلاف ہتک عزت کے مقدمے میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف سے متعلق اہم دستاویزات کے حصول کے لیے درخواست جمع کروادی۔

یاد رہے کہ عمران خان نے اپریل 2017 میں الزام لگایا تھا کہ شہباز شریف نے پاناما لیکس کے معاملے پر چپ رہنے اور موقف سے پیچھے ہٹنے کے لیے انہیں 10 ارب روپے کی پیشکش کی۔

10 ارب روپے کی پیشکش کے اس الزام پر ہتک عزت کا دعوی دائر کرتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب نے پی ٹی آئی چیئرمین کے خلاف 10 ارب روپے ہرجانے کا کیس دائر کیا تھا۔

عمران خان کے وکیل بابراعوان ایڈیشنل سیشن جج انجم مماز کی عدالت میں پیش ہوئے اور شہباز شریف کے کاموں کی تفصیلات طلب کرنے کی استدعا کی۔

انہوں نے کہا کہ قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے شہباز شریف کو بھجوائے گئے نوٹسز کی تفصیلات دی جائیں۔

بابر اعوان نے کہا کہ وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) اور محکمہ انسداد کرپشن سمیت دیگر اداروں میں سابق وزیراعلیٰ پنجاب کے خلاف زیرالتواء تحقیقات کی تفصیلات فراہم کی جائیں۔

سیشن عدالت میں پیش کی گئی درخواست میں شہباز شریف کے خلاف درج فوجداری مقدمات کا ریکارڈ دینے کا مطالبہ کیا گیا۔

درخواست میں کہا گیا کہ سانحہ ماڈل ٹاون کا ریکارڈ مہیا کیا جائے جس میں بیگناہ شہریوں کا قتل عام کیا گیااور لیپ ٹاپ کی تقیسم کا تمام ریکارڈ اور نیب کی جانب سے دیے جانے والے نوٹس کی نقول دی جائیں۔

علاوہ ازیں سستی روٹی، آشیانہ ہاؤسنگ اور کمپنیز کا ریکارڈ بھی فراہم کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔

بعدازاں بابراعوان نے عدالت سے باہر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ مذکورہ ریکارڈ شہباز شریف کی حقیقت سمجھنے میں معاون ثابت ہو گا کیونکہ وہ بہترین شہرت اور ساکھ رکھنے کا بھی دعویٰ کرتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ میٹروز اور اورنج لائین ٹرین کے حقیقی معاہدوں اور نیب نوٹسز کی نقول کا تقاضہ بھی درخواست میں شامل ہے۔

ڈاکٹر بابر اعوان کی پیش کردہ درخواست میں گزشتہ 10 برسوں کے دوران قائم کئے گئے وزیر اعلیٰ ہاوسز کی تفصیلات فراہم کرنے کا کہا گیا۔

وکیل عمران خان نے کہا کہ گزشتہ 10 برس کے دوران ماڈل ٹاؤن اور جاتی امرا سڑک اور سیکیورٹی حصار کی تعمیر پر اٹھنے والے اخراجات کا ریکارڈ بھی دیا جائے۔

جعلی بینک اکاؤنٹ؛ کراچی میں فالودہ بیچنے والا ارب پتی بن گیا

راچی: شہر قائد میں فالودہ بیچنے والا شخص بیٹھے بٹھائے 225 کروڑ روپے کا مالک بن گیا۔

جعلی بینک اکاؤنٹ کا ایک اور کیس سامنے آگیا، کراچی کے علاقے اورنگی ٹاؤن کا رہائشی عبدالقادر نامی شخص بیٹھے بٹھائے ارب پتی بن گیا۔

عبدالقادر کے مطابق ایف آئی اے کے طلب کرنے پر علم ہوا کہ میرے نام پر بینک اکاؤنٹ ہے اور اس میں 225 کروڑ روپے کی رقم موجود ہے۔ عبدالقادر کا کہنا ہے کہ میں انگوٹھا چھاپ ہوں اور 40 گز کے مکان میں رہتا ہوں اس رقم سے میرا کوئی تعلق نہیں اور نہ مجھے علم ہے یہ رقم کہاں سے آئی۔

دوسری جانب اورنگی ٹاؤن میں عبدالقادر کے گھر کے اطراف پولیس تعینات کردی گئی ہے۔ اہل کاروں کا کہنا ہے کہ عبدالقادر کے نام پر اکاؤنٹ بنانے والے اسے نقصان پہنچا سکتے ہیں اس لیے ہمیں اس کی حفاظت کے لیے بھیجا گیا ہے۔

کیا چیف جسٹس سیاست کرنا چاہتے ہیں؟ خورشید شاہ

سکھر: پیپلزپارٹی کے رہنما خورشید کا کہنا ہے کہ چیف جسٹس پاکستان سے پوچھا جائے کہ کیا وہ سیاست کرنا چاہتے ہیں۔

سکھرمیں میڈیا سے بات کرتے ہوئے خورشید شاہ نے کہا کہ پیپلزپارٹی نے ہمیشہ لوگوں کو روزگار دیا لیکن موجودہ حکومت روزگاردینے کے بجائے روزگار چھیننے جارہی ہے اورحکومت کے خلاف بولنے والوں پر مقدمات قائم کئے جا رہے ہیں۔ میری زندگی کھلی کتاب ہے، میں عام انتخابات میں 8 مرتبہ کامیاب ہوا ہوں اورمجھ پرعوام کا اعتماد ہے، میں نے یا میرے اہل خانہ نے کسی کی ایک انچ زمین پرقبضہ نہیں کیا، میں نے 10 سے 15 ارب کی زمینی خالی کرائیں، اگرمیں نے کوئی کرپشن کی ہے تو پارلیمنٹ کی کمیٹی بنائیں اورتحقیقات کریں۔

پیپلز پارٹی کے رہنما کا کہنا تھا کہ جوبھی حکومت آتی ہے خود کوتحفظ فراہم کرنے کیلیے سرکلرڈیٹ کا سہارا لیتی ہے، سپریم کورٹ سیاست کا حصہ بننے جارہی ہے، چیف جسٹس صاحب سے پوچھا جائے کہ کیا وہ سیاست کرنا چاہتے ہیں کیا ؟

خورشید شاہ نے کہا کہ ملک میں پانی کے ذخائرنہیں ہیں، پیپلزپارٹی بھاشا ڈیم کی تعمیرکے حق میں ہے لیکن ہم کالا باغ ڈیم کے مخالف ہیں اوراس کو نہیں بننا چاہیے، ڈیم فنڈنگ اورجرمانوں سے نہیں بنیں گے، چیف جسٹس پاکستان وفاقی حکومت کو بجٹ کا 15 فیصد ڈیم کی تعمیر کے لیے مختص کرنے کا حکم دیں۔

Google Analytics Alternative