Home » 2018 » September » 02

Daily Archives: September 2, 2018

پنجاب حکومت کی کارکردگی قابل تقلید ہونی چاہیے، وزیراعظم کی صوبائی کابینہ کو ہدایت

لاہور: وزیراعظم پاکستان عمران خان نے پنجاب کابینہ کے ارکان سے ملاقات کی اور اس موقع پر کہا کہ پنجاب میں بدعنوانی کا خاتمہ سب سے بڑا چیلنج ہے۔

عمران خان نے پنجاب کابینہ کے ارکان سے ملاقات میں کہا کہ پنجاب حکومت کی کارکردگی دوسرے صوبوں کے لیے قابل تقلید ہونی چاہیے، پنجاب کابینہ کے ارکان بدعنوانیوں کی نشاندہی کو اپنی پہلی ترجیح بنائیں۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پنجاب کابینہ کے ارکان بدعنوان عناصر کے خلاف سخت کارروائی کریں۔

ملاقات کے دوران وزیراعظم نے پنجاب میں زمینوں پر قبضے اور تجاوزات پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ زمینوں پر قبضے اور تجاوزات میں مافیاز اور بڑے گروپس ملوث ہیں، زمینوں پر قبضے اور تجاوزات کرنے والے مافیاز اور بڑے گروپوں کے خلاف کارروائی کی جائے۔

وزیراعظم عمران خان نے وزیراعلیٰ ہاؤس لاہور میں پودا لگایا — فوٹو: پی آئی ڈی

وزیراعظم عمران خان نے وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کو ہدایت کی کہ پنجاب میں تجاوزات کے خلاف فوری مہم شروع کی جائے، پنجاب میں زمینوں پرقبضے کرنےوالوں کے خلاف بھی فوری کارروائی کی جائے، تجاوزات کے خلاف کارروائی میں صوبائی حکومت کی بھرپور مدد کی جائے گی۔

عمران خان نے کہا کہ کفایت شعاری اور سادگی کو اختیار کرنے کی ضرورت ہے، پنجاب کابینہ کے ارکان ٹیکس دہندگان کا پیسہ بچاتے ہوئے مثال قائم کریں، ہمیں اپنے اخراجات معقول رکھتے ہوئے انسانی ترقی پر سرمایہ کاری کرنی ہے، پاکستان کا خطے میں سب سے کم ہیومن ڈیویلپمنٹ انڈیکس ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے پنجاب کابینہ کے ارکان کو ہدایت کی کہ 100 روزہ ایجنڈے پر عمل درآمد کے لیے انتھک کام کریں، پنجاب کا وقتاً فوقتاً دورہ کروں گا اور سو دن کے ایجنڈے کا جائزہ لوں گا۔

عمران خان نے بعد ازاں گرین پاکستان مہم کا بھی آغاز کیا اور وزیراعلیٰ ہاؤس لاہور میں پودا لگا لگایا۔

بیوروکریسی کےکام میں مداخلت نہیں کی جائے گی، وزیراعظم

بعد ازاں وزیراعظم عمران خان نے ایوان وزیراعلیٰ میں صوبائی سیکرٹریز سے بھی ملاقات کی۔

اس موقع پر وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ملک کو مشکل حالات سے نکالنے میں بیوروکریسی کا اہم کردار ہے، ملک کو چلانے کیلئے بیوروکریسی کا کردار ہمیشہ اہم رہا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ مشکل حالات میں ملک چلانےکیلئے اہم فیصلے کرنا پڑتے ہیں، ہماری حکومت کاایجنڈا ہے ملک کو بہتر انداز میں چلانے کیلئے سب مل کر کام کریں۔

عمران خان نے کہا کہ ہم آپ کو کارکردگی دکھانے کیلئے بھرپور مواقع دیں گے، بیوروکریسی کےکام میں کسی قسم کی مداخلت نہیں کی جائے گی، امید ہے بیورکریسی عزم اور تندہی سے کام کرے گی۔

وزیراعظم نے صوبائی سیکریٹریز کو ہدایت کی کہ شفافیت، نتائج اور میرٹ کو اپنی ترجیحات بنالیں۔

چیف جسٹس کا نجی اسپتال میں شرجیل میمن کے کمرے پرچھاپہ، شراب ومنشیات برآمد

کراچی: چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثارکوکراچی کےاسپتالوں میں سیاسی قیدیوں کے کمروں پرچھاپوں کے دوران شرجیل میمن کے کمرے سے شراب کی بوتلیں، منشیات اور سگریٹ کے پیکٹ ملے ہیں۔

چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے کراچی کے 3 اسپتالوں کا دورہ کیا۔ پہلے وہ ڈاکٹر عاصم کے نجی اسپتال پہنچے جہاں شرجیل میمن زیرعلاج ہیں۔ وہ صرف وہاں زیر علاج شرجیل میمن کے کمرے میں گئے، انہوں نے شرجیل میمن سے انتہائی مختصر ملاقات کی۔ شرجیل انعام میمن کے کمرے میں علاج نام کی کوئی چیز نہیں تھی۔ اس موقع پر وہاں انہیں شراب کی بوتلیں، سگریٹ کے پیکٹ اور دیگر منشیات ملیں جن کی انہوں نے خود تصاویر اتاریں۔

نجی اسپتال کے بعد چیف جسٹس نے جناح اسپتال اور این آئی سی وی ڈی میں بھی چھاپے مارے جہاں انور مجید اور حسین لوائی زیرعلاج ہیں۔ چیف جسٹس نے انورمجید کے کمرے میں مختلف اشیا کا جائزہ لیا اورکچھ ریکارڈ بھی تحویل میں لیا۔

اسپتالوں میں چھاپوں کے بعد چیف جسٹس کراچی رجسٹری پہنچے جہاں انہوں نے اٹارنی جنرل آف پاکستان انور منصور کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے بہت اچھے کام کیے مگر یہ دیکھیں، ذرا اس طرف بھی توجہ دیں ، شرجیل میمن کے کمرے سے تین شراب کی بوتلیں ملیں، جب شرجیل سے پوچھا تو کہا کہ یہ میری نہیں۔

چیف جسٹس کے چھاپے کے بعد ضیاالدین اسپتال میں شرجیل میمن کا کمرہ سیل کردیا گیا ہے، شرجیل میمن کو اسپتال سے جیل منتقل کردیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ پولیس نے دو ملزمان کو حراست میں بھی لے لیا ہے جن میں سے ایک ملزم جام محمد نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ میں کسی اور کی ڈیوٹی پر آیا تھا، شرجیل میمن کے کمرے میں شراب کہاں سے آئی مجھے علم نہیں،  مجھے نہیں معلوم کہ وہ شراب کی بوتلیں ہیں، ان بوتلوں میں تو شہد تھا۔

دریں اثنا شراب ملنے پر شرجیل میمن کے خلاف انسداد منشیات ایکٹ کے تحت جیل سپرنٹنڈنٹ مجاہد خان کی مدعیت میں بوٹ بیسن تھانے میں مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔ مقدمے میں شرجیل میمن اور ان کے 3 ملازمین مشتاق، محمد جام اور شکر دین کو نامزد کیا گیا ہے۔

چیف جسٹس کے چھاپوں پر کیا کہیں، مقدمات پر زور دینا چاہیے، آصف زرداری

کراچی: پیپلز پارٹی کے شریک چیرمین اور سابق صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ جس ملک میں چیف جسٹس چھاپے مارے اس پر ہم کیا کہیں گے۔

کراچی کی بینکنگ کورٹ میں آصف زرداری پیش ہوئے اور جعلی اکاؤنٹس کیس میں 20 لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے جمع کروائے۔ اس موقع پر میڈیا سے مختصر گفتگو کرتے ہوئے سابق صدر نے چیف جسٹس کے دوروں پر اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ چیف جسٹس کو سپریم کورٹ میں زیر التوا ہزاروں مقدمات پر توجہ دینی چاہیے۔

اسپتال میں چیف جسٹس کے شرجیل میمن کے کمرے پر چھاپے اور شراب برآمدگی سے متعلق سوال کے جواب میں آصف زرداری نے کہا کہ ’’جس ملک میں چیف جسٹس چھاپے مارے، اس پر کیا کہیں گے، سپریم کورٹ میں 5 ہزار یا لاکھ مقدمات زیر التوا ہیں ان پر زور ہونا چاہیے‘‘۔

ہیلی کاپٹر تنازع سے متعلق سوال کے جواب میں آصف زرداری نے کہا کہ ہیلی کاپٹر کی بات ہو رہی ہے دیکھیں کب ملتا ہے، سن رہا ہوں پچاس پچپن روپے میں سفر ہوتا ہے۔

صدارتی الیکشن میں پی پی پی امیدوار اعتزاز احسن کی ممکنہ دستبرداری سے متعلق سوال کے جواب میں آصف زرداری نے کہا کہ ہوسکتا ہے مولانا فضل الرحمن ہی دستبردار ہوجائیں۔

واضح رہے کہ منی لانڈرنگ کیس میں عدالت نے آصف علی زرداری کی 20 لاکھ روپے کی عبوری ضمانت منظور کی ہے۔

ریکوڈک کا مسئلہ حل کرنے کی کوشش کریں گے، وزیراعلیٰ بلوچستان

وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال نے کہا ہے کہ ریکوڈک کا مسئلہ بات چیت سے حل کرنے کی کوشش کریں گے ورنہ 10ارب ڈالر جرمانہ لگ گیا توادا کرنا بلوچستان اور وفاق کے لیے مشکل ہوگا۔

ڈان نیوز کو خصوصی انٹرویو میں جام کمال کا کہنا تھا کہ ریکوڈک کیس میں بلوچستان حکومت نے صرف وکلا کو ساڑھے 3 ارب روپے ادا کردیے ہیں۔

ریکوڈک کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ اگر10ارب ڈالر جرمانہ ہوا تو اس صورت میں بلوچستان اور وفاق دونوں کے لیے اس کو ادا کرنا مشکل ہوگا۔

وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ کوشش کریں گے کہ ریکوڈک کا مسئلہ بات چیت سے ہی حل ہوجائے۔

واضح رہے کہ بلوچستان میں افغانستان اور ایران کی سرحد کے قریب مشہور علاقے چاغی میں سونے اور تانبے کے ذخائر کونکالنے کے منصوبے کا نام ریکوڈک ہے۔

ریکوڈک دنیا میں سونے اور تانبے کے پانچویں بڑے ذخائر کے حوالے سے جانا جاتا ہے۔

جولائی 1993میں اس وقت کے وزیراعلیٰ بلوچستان نواب ذوالفقار علی مگسی نے ریکوڈک منصوبے کا ٹھیکا آسٹریلوی کمپنی پی ایچ پی کودیا تھا۔

بلوچستان کے 33 لاکھ 47 ہزار ایکڑ پر واقع اس منصوبے کا معاہد ہ صرف ڈرلنگ کے لیے ہواتھا لیکن آسٹریلوی کمپنی نے حکومت بلوچستان کو اعتماد میں لیے بغیر مزید کام کرنے کے لیے اطالوی کمپنی ٹیتھیان سے معاہدہ کر لیا تھا۔

آسٹریلوی کمپنی نے کوشش کی تھی کہ گوادر پورٹ کے ذریعے ریکوڈک کا سونا اور تانبا کینیڈا، اٹلی اور برازیل کو فروخت کرے جس سے بلوچستان کو کل آمدنی کا صرف 25 فیصد حصہ ملنا تھا۔

بلوچستان حکومت نے پی ایچ پی کی طرف سے بے قاعدگی کے بعد معاہدہ منسوخ کردیا تھا۔

بلوچستان حکومت نے 2010 میں یہ بھی فیصلہ کیا کہ صوبائی حکومت اس منصوبے پرخود کام کرے گی۔

بعد ازاں جنوری 2013 میں اُس وقت کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے بلوچستان حکومت اور آسٹریلوی مائننگ کمپنی کے درمیان ریکوڈک معاہدے کو ملکی قوانین کے منافی قرار دیتے ہوئے کالعدم قرار دے دیا تھا۔

جس کے بعد آسٹریلین کمپنی نے اپنے حصص ٹی سی سی کو فروخت کردیے تھے اور ٹی سی سی نے عالمی ثالثی ٹربیونل میں ریکوڈک منصوبے کے لائسنس میں 40 کروڑ ڈالر سرمایہ کاری کے نقصان کا دعویٰ کیا تھا۔

’سب سے بـڑا مسئلہ افغان سرحد’

وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں دہشت گردی کے پیچھے مقامی، علاقائی اور عالمی عناصر ہیں اور سب سے بڑا مسئلہ افغان سرحد ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ روزانہ ڈیڑھ کلو میٹرسرحد پر باڑ کا کام مکمل کیاجاتا ہے، افغانستان میں 40 سالہ جنگ کے اثرات پاکستان پر پڑے۔

انھوں نے کہا کہ بلوچستان میں فرقہ وارانہ، مذہبی، قبائلی، ریاست مخالف اوردیگر اقسام کی بدامنی رہی ہے تاہم اس کو حل کرنے کی بھرپور کوشش کریں گے۔

’ڈاکٹر مالک اور زہری نے وقت ضائع کیا، مسائل حل نہیں کے’

جام کمال نے کہا کہ سابق وزرا اعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک اور ثنااللہ زہری نے مذاکرات پر وقت ضائع کیا اور مسائل حل نہیں کیے لیکن ہم بات چیت صرف پاکستان اور آئین کو ماننے والوں سے کریں گے۔

انھوں نے کہا کہ خارجی ایجنڈے پر کام کرنے والوں سے بات نہیں کریں گے۔

وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ بیرون ملک بیٹھ کر بلوچستان کی محرومیوں پرسیاست کرنے والوں نے عملی طور پرکچھ نہیں کیا اس لیے ایسے لوگوں سے مذاکرات کے بجائے بلوچستان کے حقیقی مسائل کو حل کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان کی محرومیوں پرسیاست کرنے والوں نےعملی طور پرکچھ نہیں کیا۔

‘بلوچستان کا مسئلہ گورننس’

جام کمال کا کہنا تھا کہ بلوچستان کا سب سے بڑا مسئلہ گورننس ہے، اچھے افسران تعینات کرکے نظام میں بہتری لائیں گے۔

انھوں نے کہا کہ کرپشن میں ملوث افراد کے بارے میں تحقیقات کررہے ہیں جبکہ ہائی کورٹ نے پی ایس ڈی پی میں 1600 نئی اسکیموں پر بھی نوٹس لیا ہے۔

اسکیموں کے حوالے سے انھوں نے کہا کہ یہ اسکیمیں غیر قانونی طورپر پی ایس ڈی پی میں شامل کی گئی تھیں۔

وزیراعلیٰ ہاؤس کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ موجودہ وزیر اعلی ہاوس کے پچھلے حصے میں 65 کروڑ روپے سے 16 کمروں کا دوسرا وزیرا علی ہاوس بن رہا ہے۔

انھوں نے کہا کہ کوئٹہ اور ہنہ اوڑک میں بنائے گئے وزیراعلیٰ ہاؤس کو استعمال نہیں کروں گا۔

ان کا کہنا تھا کہ رہائش گاہوں پر ایک ارب روپے سے زائد خرچہ آتاہے اس پیسے کو عوام کے لیے استعمال کریں گے۔

یاد رہے کہ 2013 کے انتخابات میں قومی اسمبلی کا رکن منتخب ہونے کے بعد جام کمال نے پاکستان مسلم لیگ (ن) میں شمولیت کرکے وفاقی حکومت میں وزارت حاصل کی تھی۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) سے علیحدگی تک وہ وفاقی وزیر رہے لیکن بلوچستان میں مسلم لیگ (ن) کے وزیراعلیٰ ثنااللہ زہری سے بغاوت کرکے اپنی الگ حکومت بنانے والے بلوچستان اسمبلی کے اراکین کے گروپ میں شامل ہو کر بلوچستان عوامی پارٹی کے نام سے نئی جماعت بنائی تھی اور جام کمال کو اس کا صدر بنایا گیا تھا۔

بلوچستان عوامی پارٹی نے 25 جولائی 2018 کے انتخابات میں صوبے میں سب سے زیادہ نشستیں حاصل کی تھیں جس کے بعد جام کمال کو وزیراعلیٰ اور سابق وزیراعلیٰ عبدالقدوس بزنجو کو اسپیکر منتخب کیا گیا۔

نواز شریف نے العزیزیہ ریفرنس میں واجد ضیا کے بیان میں تبدیلی کو چیلنج کردیا

اسلام آباد: سابق وزیراعظم نوازشریف نے العزیزیہ ریفرنس میں نیب کے گواہ اور پاناما جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیا کے بیان میں تبدیلی کو چیلنج کردیا۔

سابق وزیراعظم نوازشریف نے العزیزیہ ریفرنس میں جے آئی ٹی سربراہ واجد ضیاء کے بیان میں مبینہ تبدیلی کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کردیا ہے۔ درخواست میں مؤقف پیش کیا گیا ہے کہ 30 اگست کو احتساب عدالت میں کیس کی سماعت میں جرح کے دوران واجد ضیاء نے بیان تبدیل کیا۔

درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ  30 اگست کو ریکارڈ کیے گئے واجد ضیاء کے بیان کو ختم کردیا جائے اور ان پر دوبارہ جرح کا حق دیا جائے۔ درخواست میں جج احتساب عدالت  ارشد ملک کو فریق بنایا گیا ہے۔

اسپتال میں زیرعلاج شرجیل میمن کے کمرے سے شراب برآمدگی کا مقدمہ درج

کراچی: ڈاکٹر عاصم حسین کے نجی اسپتال میں زیرعلاج پیپلز پارٹی کے رہنما شرجیل میمن کے کمرے سے شراب برآمدگی کا مقدمہ درج کرلیا گیا۔

شرجیل میمن کے خلاف مقدمہ انسداد منشیات ایکٹ کے تحت جیل سپرنٹنڈنٹ مجاہد خان کی مدعیت میں بوٹ بیسن تھانے میں درج کیا گیا ہے جس میں شرجیل میمن اور ان کے 3 ملازمین مشتاق، محمد جام اور شکر دین کو نامزد کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے ڈاکٹر عاصم کے نجی اسپتال کا دورہ کیا تھا جہاں زیر علاج شرجیل میمن کمرے سے شراب کی بوتلیں، منشیات اور سگریٹ کے پیکٹ ملے ہیں۔

دبئی سے پاکستانیوں کے اثاثے پہلے مرحلے میں واپس لانے کا فیصلہ

پاکستانی شہریوں کے بیرون ممالک میں موجود اثاثوں کو واپس لانے کے لیے قائم کمیٹی نے کارروائی کے حوالے سے اپنی ابتدائی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرا دی جس میں کہا گیا ہے کہ سب سے پہلے دبئی سے اثاثوں کی واپسی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

گورنراسٹیٹ بینک طارق باجوہ کی سربراہی میں قائم کمیٹی نے پاکستانیوں کے اثاثے بیرون ملک سے واپس لانے کے لیے طریقہ کار (ٹی او آرز) پر مبنی رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش کر دی۔

کمیٹی نے فیڈرل انوسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے)، فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) اور قومی احتساب بیورو (نیب) پر مشتمل ایک جوائنٹ ٹاسک فورس (جے ٹی ایف) تشکیل دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایف آئی اے کے پاس متحدہ عرب امارات (یو اے ای) میں پاکستانیوں کے اثاثوں کے حوالے سے کافی معلومات ہیں اس لیے سب سے پہلے دبئی میں موجود پاکستانیوں کے اثاثوں کو واپس لانے کے لیے کارروائی کا فیصلہ کیا گیا ہے جس کے لیے کمیٹی کام کرے گی۔

سپریم کورٹ میں پیش کردہ رپورٹ کے مطابق کمیٹی پاکستانیوں کے برطانیہ میں موجود اثاثوں سے متعلق ایف بی آر کے پاس معلومات کا بھی جائزہ لے گی۔

کمیٹی کا کہنا ہے کہ جوائنٹ ٹاسک فورس بیرون ملک اثاثے رکھنے والوں کو طلب کرے گی اور پیش نہ ہونے والوں کے نام مناسب اقدامات کے لیے سپریم کورٹ کے سامنے رکھے جائیں گے۔

ان کا کہنا ہے کہ کمیٹی میں پیش ہونے والے پاکستانیوں سے غیر ملکی اثاثوں کے متعلق وضاحت اور بیان حلفی طلب کیا جائے گا اوربیرون ملک اثاثوں کی ملکیت تسلیم کرنے والوں سے منی ٹریل کی وضاحت بھی مانگی جائے گی۔

کمیٹی کے مطابق بیان حلفی میں غیرملکی اثاثوں سے انکار پر مناسب کارروائی کی سفارش کی جائے گی اور اثاثوں کی منی ٹریل پیش نہ کرنے پر قانون نافذ کرنے والے ادارے اثاثوں کو ضبط کرنے کے لیے کارروائی کریں گے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ کمیٹی اور جے ٹی ایف معلومات کے حصول کے لیے قومی اداروں اور بیرون ممالک سے رجوع کر سکے گی۔

پاکستانیوں کی بیرون ممالک اثاثوں کی واپسی کے حوالے سے ہونے والی پیش رفت پر کمیٹی اپنی رپورٹ ہر ماہ سپریم کورٹ میں پیش کرے گی۔

قبل ازیں 15 مارچ 2018 کو عدالت عظمیٰ نے بیرون ملک چھپائی گئی غیرقانونی دولت واپس لانے سے متعلق قائم تین رکنی کمیٹی کی سفارشات پرعدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ اور ٹیکس کنسلٹنٹ کو بطور عدالتی معاون مقرر کردیا تھا۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے از خود نوٹس کیس کی سماعت کرتے ہوئے سفارشارت کو غیر موثر قرار دیا اور مذکورہ معاملے میں معروف چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ شبرزیدی اور ٹیکس کنسلٹنٹ محمود مانڈوی والا کو عدالتی معاون تعینات کردیا تھا۔

اس سے قبل عدالت عظمیٰ نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان سے طارق باجوہ، فنانس سیکریٹری عارف احمد خان اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے چیئرمین طارق محمود پاشا کو ہدایت کی تھی کہ عوام کا پیسہ لوٹ کر بیرون ملک اثاثے بنانے والوں کی نشاندہی کی جائے اور اثاثوں کی واپسی کے لیے طریقہ کار وضع کیا جائے۔

وزیراعظم نے پنجاب میں بلدیاتی نظام تبدیل کرنے کا حکم دے دیا

لاہور: وزیر اعظم عمران خان نے پنجاب میں بلدیاتی نظام کو فوری تبدیل کرنے کی ہدایت کردی۔

پنجاب کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِاعظم عمران خان نے حکم دیا کہ 100 دن کے منصوبے پر عمل درآمد تیزی سے جاری رکھا جائے، صحت، تعلیم اور صاف پانی کی فراہمی کے شعبوں میں تبدیلی نظر آنی چاہیے۔

عمران خان نے اورنج لائن بس منصوبے کا فوری آڈٹ کروانے اور پنجاب میں بلدیاتی نظام کو فوری تبدیل کرنے کی ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ تمام  وزرا  اپنے اپنے محکموں میں سادگی کو فروغ دیں۔

بیورو کریسی کے کام میں مداخلت نہیں کریں گے

دریں اثنا وزیر اعظم عمران خان نے وزیر اعلی سیکرٹریٹ میں پنجاب کے مختلف محکموں کے سیکریٹریز سے ملاقات کی۔ ملاقات میں وزیر اعلی پنجاب عثمان خان بزدار بھی شریک تھے۔

موجودہ حالات میں مشکل فیصلے کرنا پڑیں گے

وزیر اعظم نے سیکریٹریز سے کہا کہ موجودہ حالات میں مشکل فیصلے کرنا پڑیں گے، بیورو کریسی کسی بھی ملک کو چیلنج سے نکالنے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے، موجودہ حالات میں ہماری بیورو کریسی کو دلجمعی سے کام کرنا ہوگا ہم بیورو کریسی کے کام میں مداخلت نہیں کریں گے۔

60ء کی دہائی میں سول سروس نے پروفیشنلزم کی مثال قائم کی تھی

وزیراعظم نے مزید کہا کہ 60ء کی دہائی میں سول سروس نے پروفیشنلزم کی مثال قائم کی تھی، بیورو کریسی کو 60 کی دہائی کی طرح بے لوث، پر عزم اور پیشہ ورانہ انداز سے کام کرنا ہوگا، بیورو کریسی میں بہتری لانے پر کے پی کے میں غیر معمولی نتائج سامنے آئے ہیں، گورننس، سروس ڈلیوری، شفافیت اور میرٹ کو ہر سطح پر یقینی بنایا جائے گا۔

Google Analytics Alternative