Home » 2018 » September » 05

Daily Archives: September 5, 2018

وزیراعظم عمران خان کے مشیر برائے پارلیمانی امور بابر اعوان مستعفی

اسلام آباد: وزیر اعظم عمران خان کے مشیر پارلیمانی امور بابر اعوان نے قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے ریفرنس دائر کیے جانے کے بعد اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔

قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور مشیر پارلیمانی امور بابر اعوان کے خلاف نندی پور پاور پروجیکٹ میں تاخیر پر بطور سابق وزیر قانون و انصاف کرپشن کا ریفرنس دائر کیا گیا ہے۔

نیب کے مطابق سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کو بھی بطور سابق وزیر پانی بجلی بابر اعوان کے ساتھ ریفرنس میں نامزد کیا گیا ہے۔ نیب راولپنڈی کی افسر عاصمہ چوہدری نے احتساب عدالت اسلام آباد میں یہ ریفرنس دائر کیا ہے۔

نیب میں ریفرنس دائر ہونے کے بعد بابر اعوان نے وزیر اعظم کے مشیر برائے پارلیمانی امور کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔

Babar Awan

@BabarAwanPK

ابھی وزیرِاعظم ہاؤس پہنچا ہوں، وزراتِ پارلیمانی امور سے استعفٰی دینے کے لئے

انہوں نے ہاتھ سے لکھے گئے استعفیٰ میں کہا ہے کہ عمران خان کی جانب سے قوم سے کیا گیا وعدہ نبھاتے ہوئے مستعفیٰ ہوتا ہوں تاکہ نیب ریفرنس کے بے بنیاد الزامات کو غلط ثابت کرسکوں۔

ان کا کہنا ہے کہ ریفرنس میں تاخیر کا الزام ہے لیکن قانون دان کی حیثیت سے عہدے پر چمٹے رہنا مناسب نہیں سمجھتا اور قانون کی بالادستی کا عمل اپنی ذات سے شروع کررہا ہوں۔

دوسری جانب ذرائع کا کہنا ہے کہ بابر اعوان نے استعفیٰ وزیر اعظم عمران  خان کے کہنے پر دیا جس کے لیے انہیں وزیر اعظم ہاؤس طلب کیا گیا تھا۔

’وزیر اعظم نے بابر اعوان کے مستعفیٰ ہونے کے فیصلے کو سراہا‘

وزیر اعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے میڈیا افتخار درانی کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نے پارٹی کے لیے بابر اعوان کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا ہے اور بابر اعوان کی جانب سے منصب سے علیحدگی کے فیصلے کو بھی سراہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بابر اعوان نندی پور مقدمے میں تحقیقات تک منصب سے الگ رہیں گے اور تحقیقات مکمل ہونے کے بعد دوبارہ منصب سنبھالیں گے۔

شراب برآمدگی کیس، اسسٹنٹ سپریٹینڈنٹ سینٹرل جیل سمیت 4 اہلکار زیر حراست

کراچی: پیپلز پارٹی کے رہنما شرجیل میمن کے کمرے سے شراب برآمدگی کیس میں تحقیقاتی کمیٹی نے اسسٹنٹ سپریٹینڈنٹ سینٹرل جیل سمیت 4 اہلکاروں کوحراست میں لے لیا۔

کراچی پولیس چیف امیر شیخ نے شرجیل میمن کے کمرے سے شراب برآمدگی کیس میں شواہد ضائع کیے جانے کا شبہ ظاہر کرتے ہوئے ٹمپرنگ کا اعتراف کیاہے۔

کراچی پولیس چیف کا کہنا ہے کہ ضیاالدین اسپتال کی قبضے میں لی گئی سی سی ٹی وی فوٹیجز نے کافی بھانڈے پھوڑدیے ہیں مگر جو کچھ بھی ہوا وہ سب جیل قراردیئے گئے شرجیل میمن کے کمرے میں ہوا۔

معاملے کی چھان بین پر مامور کمیٹی نے شرجیل میمن کی میڈیکل رپورٹ پرعدم اطمینان کا اظہارکیا اور بوتلوں کے دوبارہ معائنے کی سیکریٹری صحت سندھ سے درخواست کی ہے اور کہا ہے  کلوز سرکٹ ٹی وی کیمرے نے شرجیل میمن کے ملازمین کی جانب سے ایک مشکوک پیکٹ سب جیل(شرجیل میمن کے کمرے) سے بغیر کسی چیکنگ کے باہر لاتے اور دوبارہ اندر لے جاتے دکھایا ہے۔

تحقیقاتی کمیٹی نے سینٹرل جیل کے اسسٹنٹ سپریٹینڈنٹ مجاہد خان، نسیم شجرہ اور کورٹ پولیس کے 2 اہلکاروں کو شامل تفتیش کرکے حراست میں لے لیا ہے۔

ن لیگ کا نواز شریف کو انصاف نہ ملنے اور عدالتی عمل میں تاخیر پر اظہار تشویش

شہباز شریف کی صدارت میں مسلم لیگ ن کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس منعقد ہوا جس میں نواز شریف کو انصاف نہ ملنے اور عدالتی عمل میں تاخیر پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔

شہباز شریف کی زیر صدارت ن لیگ کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کا اعلامیہ جاری کردیا گیا جس میں نواز شریف کو انصاف نہ ملنے اورعدالتی عمل میں تاخیر پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے اسے نظام انصاف کے لیے سوالیہ نشان قرار دیا گیا ہے۔

نواز شریف سے مکمل اظہار یکجہتی کرتے ہوئے پارلیمانی پارٹی نے کہا کہ نواز شریف سیاسی قیدی ہیں اور اُن پر کرپشن کا کوئی الزام نہیں، اس کے باوجود انہیں ضمانت نہیں دی جا رہی۔

اعلامیے میں الیکشن میں دھاندلی پر پارلیمانی کمیشن بنانے کے مطالبے سے پیچھے نہ ہٹنے کا فیصلہ کیا گیا اور پارلیمانی کمیشن کے قیام کے لیے حکومت پر دباؤ بڑھانے اور اپوزیشن جماعتوں سے رابطے بڑھانے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔

اجلاس میں وزیر اعظم عمران خان اور چیئرمین نیب کی ملاقات کو مفادات کا ٹکراؤ قرار دیا گیا۔

مسلم لیگ (ن ) نے ای سی سی میں بجلی مہنگی کرنے پر بھی تشویش ظاہرکی جبکہ زرعی ٹیوب ویل اور فرٹیلائزر کی قیمتوں میں اضافے کو عوام دشمنی قراردے دیا۔

پارلیمانی پارٹی نے سی پیک کے فنڈز کی بندش اور مغربی روٹ پر کام روکنے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی سی پیک دشمن پالیسیاں ملک کے لیے نقصان دہ ہیں۔

اعلامیے میں حکومت کی جانب سے بلدیاتی نظام ختم کرنے کی مذمت کی گئی اور خارجہ پالیسی کے معاملے پر حکومتی اقدامات کو مضحکہ خیز قرار دیا گیا۔

نواز شریف کبھی اپوزیشن میں نہیں رہے، آصف زرداری

اسلام آباد: پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ نوازشریف کبھی  حزب اختلاف میں بیٹھے  ہی نہیں۔

صدارتی انتخاب میں ووٹ ڈالنے کے لیے پارلیمنٹ آمد پر سابق صدر آصف زرداری سے صحافی نے سوال کیا کہ (ن) لیگ کا کہنا ہے کہ اپوزیشن کو زرداری صاحب نے توڑ دیا ہے جس پر سابق صدر نے جواب دیا کہ (ن) لیگ یہ کیوں نہیں کہتی کہ میاں صاحب کبھی اپوزیشن میں بیٹھے ہی نہیں۔ صحافی نے پوچھا کہ کیا وزیر اعظم عمران خان کو امریکی وزیر خارجہ مائک پومپیو سے ملنا چاہیے جس پر سابق صدر نے اثبات میں سر ہلا دیا۔

سابق صدر آصف علی زرداری صدارتی انتخاب کے لیے ووٹ کاسٹ کرنے کے لیے ایوان میں پہنچے تو پیپلزپارٹی کے اراکین پارلیمنٹ نے سابق صدر کی نشست پر جاکر مصافحہ کیا، ووٹ ڈالنے کے بعد آصف زرداری کچھ دیر اراکین پارلیمنٹ سے گفتگو بھی کرتے رہے اور پھر واپس روانہ ہوگئے۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما سینیٹر میاں رضا ربانی نے وزیراعظم کو امریکی سیکرٹری خارجہ سے ملاقات نہ کرنے کی تجویز پیش کی تھی۔

 

ضمنی انتخابات: شاہد خاقان عباسی اور خواجہ سعد رفیق ایک مرتبہ پھر پُرعزم

ضمنی انتخابات کے لیے امیدواروں کے کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال کا مرحلہ ختم ہوگیا۔

ریٹرننگ افسران نے لاہور سے ضمنی انتخابات میں حصہ لینے والے امیدواروں کے کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال مکمل کرلی۔

پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور میں قومی اسمبلی کی 2 نشستوں پر 56 امیدواروں کے کاغذات نامزگی منظور کیے گئے۔

ان میں چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی خالی کردہ نشست این اے 131 سے خواجہ سعد رفیق، ولید اقبال، ہمایوں اختر سمیت 39 امیدواروں کے کاغذات نامزدگی منظور کیے گئے۔

اس کے علاوہ این اے 124 سے سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی، عابد شیر علی، نعمان قیصر سمیت 17 امیدواروں کے کاغذات جانچ پڑتال کے بعد منظور کر لیے گئے۔

سابق وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کی خالی کردہ صوبائی اسمبلی کی 2 نشستوں پر بھی 69 امیدوار سامنے آگئے۔

صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی پی 164 سے وحید گل، اعجاز ڈیال سمیت 32 امیدواروں کے کاغذات نامزدگی منظور جبکہ پی پی 165 سے 37 امیدواروں کے کاغذات منظور کیے گئے۔

الیکشن شیڈول کے مطابق ضمنی انتخابات میں حصہ لینے والے امیدواروں کی حتمی فہرستیں 16 ستمبر کو جاری کی جائیں گی۔

ادھر شاہد خاقان عباسی، ابرار الحق، عابد شیر علی، خواجہ سعد رفیق ان کی اہلیہ غزالہ سعد، علیم خان کی اہلیہ کرن علیم اور ولید اقبال لاہور سے قومی اور صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر الیکشن لڑنے کے لیے پرعزم ہیں۔

کور کمانڈرز کانفرنس؛ خطے کی جغرافیائی اسٹریٹجک صورتحال پر تبادلہ خیال

 اسلام آباد: پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کی زیر صدارت کور کمانڈرز کانفرنس ہوئی جس میں خطے کی جغرافیائی اسٹریٹجک صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی زیر صدارت جی ایچ کیو میں کور کمانڈرز کانفرنس ہوئی۔ اجلاس میں آپریشن ردالفساد میں پیش رفت کا جائزہ لیا گیا اور خطے کی جیو اسٹریٹیجک صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

کورکمانڈرز نے یوم دفاع پر شہداء کو زبردست خراج تحسین بھی پیش کیا۔ اس موقع پر پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا تھا کہ شہداء کی قربانیوں اور خدمات کا اعتراف کیاجائے، فیلڈ فارمیشنز شہداء کے خاندانوں سے مل کر ان کی قربانیوں کا اعتراف کریں۔

مائیک پومپیو کا دورہ پاکستان، ڈو مور یا کچھ اور؟

امریکی سیکریٹری اسٹیٹ مائیک پومپیو اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل جوزف ایف ڈنفورڈ آج متوقع طور پر پاکستان کا دورہ کریں گے، جس میں وہ وزیر اعظم عمران خان سے بھی ملاقات کریں گے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ پاکستان کے لیے اس کے آگے بھی انتہائی مشکل وقت آسکتا ہے۔

مائیک پومپیو آج متوقع طور پر اسلام آباد پہنچیں گے جس کے بعد وہ اپنے ایک روزہ دورے کے دوران ملک کی اعلیٰ سول و عسکری قیادت سے ملاقاتیں کریں گے جس کے بعد وہ بھارت چلے جائیں گے۔

واضح رہے کہ رواں ہفتے پینٹاگون نے پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فیصلہ کن کارروائی میں ’ناکامی‘ کا الزام لگا کر 30 کروڑ ڈالر کی فوجی امداد روک دی تھی۔

پینٹاگون کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ’جنوبی ایشیاء سے متعلق نئی حکمت عملی میں پاکستان اپنا فیصلہ کن کردار ادا نہیں کرسکا اس لیے 30 کروڑ ڈالر روک دیئے گئے ہیں‘۔

اس سے قبل 14 اگست کو ایک سینئر امریکی عہدیدار نے پاکستان کو باور کرایا تھا کہ اب وقت آگیا کہ افغانستان میں 17 سال سے جاری جنگ کو پُرامن طریقے سے ختم کردیا جائے، اس عمل میں پاکستان کا کردار اہم ہوسکتا ہے۔

امریکا یہ بھی چاہتا ہے کہ پاکستان کابل میں ایک ایسا سیاسی سیٹ اپ قائم کرنے میں مدد کرے جس کے ذریعے امریکی فوج کے دستے پُرامن طریقے سے افغانستان سے واپس روانہ ہوجائیں۔

یاد رہے کہ پاکستان میں نئی حکومت بننے پر امریکی محکمہ خارجہ نے حالیہ انتخابات میں عمران خان کی کامیابی سے متعلق امریکا کے ناخوش ہونے کے تاثر کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہم پاکستان کے نئے وزیراعظم کو تسلیم کرتے ہیں اور انہیں خوش آمدید کہتے ہیں۔

انہوں نے کہا تھا کہ ’گزشتہ 70 سال سے پاکستان اور امریکا کے تعلقات بہت اہمیت کے حامل رہے ہیں، امریکا پاکستان کی نئی حکومت کے ساتھ کام کرنے اور پاکستان سمیت خطے بھر میں امن اور ترقی کو فروغ دینے کا خواہاں ہے’۔

پاکستان اور امریکا کے تعلقات میں تناؤ اس وقت آیا تھا جب گزشتہ سال امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان پر امریکی فوجیوں پر دہشت گرد حملوں میں ملوث افغانیوں کو محفوظ پناہ گاہیں دینے کا الزام لگایا تھا اور امریکا سے اربوں ڈالر امداد لینے پر تنقید کی تھی۔

وزیراعظم نے پی ٹی آئی ارکان اسمبلی کو انتظامیہ میں سیاسی مداخلت سے روک دیا

 اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے پی ٹی آئی ارکان اسمبلی کو انتظامیہ میں سیاسی مداخلت سے روک دیا ہے۔

گزشتہ روز چکوال کے ڈپٹی کمشنر غلام صغیر شاہد نے چیف سیکرٹری پنجاب کو خط لکھ کر تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی ذوالفقار علی خان پر سرکاری کاموں میں مداخلت کا الزام لگایا تھا۔

ذرائع کے مطابق اس معاملے پر وزیراعظم کو غیر رسمی رپورٹ موصول ہوگئی ہے۔ رپورٹ میں ڈی سی غلام صغیر شاہد کو مسلم لیگ (ن) کا ہمدرد قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ڈی سی کو پہلے بھی سیاسی جانبداری کا مظاہرہ کرنے پر وارننگ دی جا چکی ہے۔

تاہم عمران خان نے اپنے ارکان قومی اسمبلی کو انتظامیہ میں سیاسی مداخلت سے روک دیا ہے۔ وزیراعظم نے وزیر اطلاعات فواد چوہدری کو ارکان قومی اسمبلی کو متنبہ کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ تمام ارکان کو انتظامی معاملات سے دور رہنے کی ہدایت کی جائے۔ ذرائع کے مطابق باقاعدہ رپورٹ موصول ہونے کے بعد ڈی سی غلام صغیر شاہد کے خلاف محکمانہ کارروائی کا فیصلہ کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ ڈپٹی کمشنر چکوال غلام صغیر شاہد نے الزام لگایا ہے کہ 31 اگست کو ذوالفقار علی خان نے انہیں محکمہ مال کے 17 اہلکاروں کی فہرست بھیجی اور ان کی من پسند تقرریوں اور تبادلوں کا کہا۔  دوسری جانب ذوالفقار علی خان نے اعتراف کیا کہ انہوں نے  ڈپٹی کمشنر کو فون کرکے صرف ایک پٹواری کا تبادلہ نہ کرنے کا کہا تھا تاہم 17 افسروں کے تبادلے کا حکم دینے کے الزام کی تردید کی۔

Google Analytics Alternative