Home » 2018 » September » 07

Daily Archives: September 7, 2018

سیمنٹ کی کھپت میں کمی، برآمدات 36 فیصد بڑھ گئیں

کراچی: گزشتہ ماہ اگست میں سیمنٹ کی برآمدات میں اضافے کی وجہ سے انڈسٹری کی مشکلات بڑھنے سے محفوظ رہیں کیونکہ مقامی کھپت میں 13.73 فیصد کمی واقع ہوئی جو گزشتہ تین برسوں میں پہلی بار واقع ہوئی ہے۔

گزشتہ برس اگست کے مہینے میں شمالی علاقوں کی کھپت 2.730 ملین ٹن تھی جبکہ جنوبی علاقوں کی کھپت 0.625 ملین ٹن تھی۔ سیمنٹ کی برآمدات میں 35.82 فیصد اضافہ ہوا اور 0.557 ملین ٹن سیمنٹ برآمد کیا گیا جو گزشتہ برس اگست 2017 میں 0.409 ملین ٹن تھا۔

آل پاکستان سیمنٹ مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے ترجمان کے مطابق سیمنٹ کی مقامی کھپت رواں مالی سال کے ابتدائی دو ماہ میں سیمنٹ کی مقامی کھپت میں 5.31 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔ شمالی حصے میں8.80 فیصد کمی واقع ہوئی جبکہ جنوبی حصے میں 10.91 فیصد کمی واقع ہوئی۔ برآمدات کے حوالے سے شمالی علاقے کی برآمدات میں 29.66 فیصد کمی ہوئی جبکہ ملک کے جنوبی زون کی برآمدات میں 158.40 فیصد اضافہ ہوا۔

مقامی کھپت میں کمی انڈسٹری کیلیے باعث حیرت ثابت ہوئی ہے کیونکہ گزشتہ ماہ کم نشور نما کی توقع تھی لیکن کھپت میں کمی کی امید نہیں تھی، اس کی وجہ حکومت کی تبدیلی بھی ہوسکتی ہے کیونکہ جاری ترقیاتی کاموں پر اس کے اثرات مرتب ہوئے ہیں جبکہ پرائیویٹ تعمیراتی صنعت کی سرگرمیاں معمول کے مطابق تھیں، تاہم امید ہے کہ آئندہ نشورنما میں اضافہ ہوگا۔

 

پاکستان اب کسی اور کی جنگ کا حصہ نہیں بنے گا، وزیر اعظم

وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ پاکستان اب کسی کی جنگ میں نہیں پڑے گا اور ملکی خارجہ پالیسی بھی صرف عوام کی بہتری کے لیے ہوگی۔ 

جی ایچ کیو میں یوم دفاع پاکستان کی مرکزی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ پاکستان کسی اور کی جنگ میں نہیں پڑے گا اور خارجہ پالیسی بھی صرف عوام کی بہتری کے لیے ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ سول ملٹری تعلقات میں کوئی مسئلہ نہیں ہے، ہم سب اکٹھے ہیں ہمارا جینا مرنا ایک ہے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان اسلام کے نام پر بنا ہے اور اللہ نے پاکستان کو سب کچھ دیا ہے، جنگ و بمباری کسی ملک کو تباہ نہیں کرتی بلکہ جس ملک کے ادارے تباہ ہوتے ہیں وہ ملک تباہ ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنےادارے مضبوط کرنے ہیں، سیاسی مداخلت سےادارے تباہ ہوجاتے ہیں، پاک فوج ایک مضبوط ادارہ ہے، فوج میں میرٹ کا سسٹم ہے اور کوئی سیاسی مداخلت نہیں، اب باقی کمزور اداروں کو بھی مضبوط بنائیں گے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ آج کے بڑے مسائل پانی وبجلی کے ساتھ ساتھ قرضوں جیسے مسائل ہیں، ملک قرضوں میں ڈوبا ہوا ہے لیکن یہ ملک اٹھے گا، ہم ایک قوم بنیں گے اور ایسا تب ہوگا جب کمزور طبقہ اور پسے ہوئے لوگوں کو برابری کے حقوق ملیں گے۔

لہو جوسرحد پر بہہ رہا ہے اس کا حساب لیں گے، جنگ ابھی جاری ہے، آرمی چیف

راولپنڈی: آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا ہے کہ ملکی ترقی کے لیے جمہوریت کا تسلسل بہت ضروری ہے اور جمہوریت اداروں کی مضبوطی کے بغیر نہیں پنپ سکتی۔ 

پاک فوج کے جنرل ہیڈ کوارٹر (جی ایچ کیو) میں یوم دفاع پاکستان کی مرکزی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا تھا کہ 6 ستمبرملکی تاریخ کا اہم دن ہے، آج کا دن شہدا پاکستان سے یکجہتی کا دن ہے، اس دن پوری قوم نے متحد ہوکر دشمن کے دانت کھٹے کردیے، قوم کا ہر فرد سپاہی کے ساتھ کھڑا رہا، ہمارے جوانوں اور شہریوں نے جنگ میں قربانیاں دیں۔

آرمی چیف نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف ہم نے کامیابیاں حاصل کیں لیکن جنگ ختم نہیں ہوئی بلکہ ابھی جاری ہے، ہماری جنگ اب بھوک افلاس اور ناخواندگی کے خلاف ہوگی جسے جیتنے کے لیے ہمیں متحد ہونے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ 65ء اور 71ء کی جنگوں سے ہم نے بہت کچھ سیکھا، پاک فوج کی دفاعی صلاحیتوں کو بڑھایا، نامساعد حالات اور معاشی مسائل کے باوجود ایٹمی صلاحیت کے حامل ملک بنے، بعدازاں دنیا بھر میں غیر روایتی جنگ کا آغاز ہوا، دہشت گردی کی لہر اٹھی جس میں جنگ کی ساخت اور اس کے انداز بدل گئے

جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا تھا کہ پاکستان بھی اس غیر روایتی جنگ کا نشانہ بنا تاہم ہماری افواج نے قربانیاں دیتے ہوئے اس جنگ سے لڑنا سیکھا، ہماری عبادت گاہوں اور تفریح گاہوں پر حملے کیے گئے مگر سلام ہے ہماری قوم اور فوج پر جو اس جنگ کے آگے ڈٹی رہی اور دہشت گردی کے اس ناسور کا سب نے مل کر مقابلہ کیا اور اس جنگ میں 70 ہزار سے زائد پاکستانی شہید اور زخمی ہوئے جب کہ قومی خزانے پر بوجھ الگ ہے۔

پاک فوج کے سربراہ نے کہا کہ تمام پاکستانیوں کو افواج کا شکر گزار ہونا چاہیے جن کے بغیر یہ جنگ جیتنا ممکن نہیں تھا، قربانیاں دینے والوں میں فوج، پولیس، رینجرز، ایف سی سمیت سویلین بھی شامل ہیں اسی لیے یوم دفاع کے ساتھ آج یوم شہدا بھی مناتے ہیں کیوں کہ جو قومیں شہدا کو بھول جاتی ہیں وہ مٹ جاتی ہیں۔

جنرل قمر باجوہ نے کہا کہ ہم سابقہ دو دہائیوں میں بہت مشکل دور سے گزرے اور کامیابیاں حاصل کیں لیکن جنگ ابھی جاری ہے، ملکی و تعمیر و ترقی کو یقینی بنانا اور ملک کو کسی مقام پرپہنچانے کے لیے دفاعی ترقی کے ساتھ ساتھ ملکی تعمیر ہمارے لیے اہمیت کی حامل ہے، ہماری جنگ بھوک افلاس اور ناخواندگی کے خلاف بھی جاری رہے گی لیکن اس مقصد کو پانے کے لیے متحد ہونے کی ضرورت ہے کیوں کہ اسی صورت میں ہی ہمیں کامیابی ملے گی۔

آرمی چیف نے مزید کہا کہ ملکی ترقی کے لیے جمہوریت کا تسلسل بہت ضروری ہے اور جمہوریت اداروں کی مضبوطی کے بغیر نہیں پنپ سکتی، آج ہم اس مقام پر موجود ہیں کہ جمہوریت میں ہر مکتبہ فکر کے نمائندے موجود ہیں۔

اس سے قبل پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ اپنی اہلیہ کے ہمراہ پولیس لائنز راولپنڈی میں شہید سب انسپکٹر میاں عباس کے گھر گئے۔ آرمی چیف نے شہید سب انسپکٹر کی اہلیہ اور بیٹے سے ملاقات کی۔ اس موقع پر آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے شہید کی قربانی کو سراہتے ہوئے ان کے بیٹے سے کہا کہ آپ کے والد نے ملک کے لئے جان کا نذرانہ پیش کیا، زندگی سے زیادہ بڑی کوئی قربانی نہیں اور ہماری جانیں ملک و قوم کے لیے وقف ہیں۔

آرمی چیف نے شہید سب انسپکٹر عباس اور تمام شہداء کی قوم کے لئے عظیم قربانی کو خراج عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے شہید میاں عباس کے بیٹے کو مکمل تعاون کی یقین دہانی بھی کرائی۔

منی لانڈرنگ کیس، سپریم کورٹ نے جے آئی ٹی تشکیل دے دی

سپریم کورٹ آف پاکستان نے سابق صدر آصف زرداری اور ان کی بہن فریال تالپور کی جانب سے مبینہ طور پر جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے اربوں روپے منی لانڈرنگ کے مقدمے کی تحقیقات کے لیے جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم(جے آئی ٹی) تشکیل دے دی ہے۔

2015 کے جعلی اکاؤنٹس اور فرضی لین دین کے مقدمے کے حوالے سے پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری، ان کی بہن فریال تالپور اور ان کے کاروباری شراکت داروں سے تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

یونائیٹڈ بینک لمیٹیڈ، سندھ بینک اور سمٹ بینک میں موجود ان 29 بے نامی اکاؤنٹس میں موجود رقم کی لاگت ابتدائی طور پر 35ارب روہے بتائی گئی تھی۔

 

ایف آئی اے کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل احسان قریشی کو اعلیٰ عدلیہ نے جے آئی ٹی کا سربراہ مقرر کردیا ہے۔

جے آئی ٹی کے دیگر اراکین میں آئی ایس آئی کے بریگیڈیئر شاہد پرویز، سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کے محمد افضل، نیب اسلام آباد کے ڈائریکٹر نعمان اسلم، اسٹیٹ بینک کے ماجد حسین اور ٹیکس کمیشن کے عمران لطیف منہاس شامل ہیں۔

جی آئی ٹی اور اس کے اراکین کے ساتھ ساتھ ایف آئی اے کے اراکین کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ تحقیقات کے متعلق کوئی بھی بات میڈیا کو فراہم نہ کریں۔

اس کے ساتھ ساتھ رینجرز کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ جے آئی ٹی کو مناسب سیکیورٹی فراہم کرے کیونکہ ڈی جی ایف آئی اے نے جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم کے اراکین کو سیکیورٹی فراہم کرنے کی درخواست کی تھی۔

سپریم کورٹ نے جے آئی ٹی کو جو مینڈیٹ دیا ہے اس کے تحت وہ درج ذیل کام سرانجام دے گی۔

۔ جے آئی ٹی کسی مناسب مقام پر اپنا سیکریٹریٹ قائم کرے گی۔

۔ جے آئی ٹی کو انکوائری اور اور تفتیش کے حوالےسے تمام تر اختیارات حاصل ہوں گے جن میں کوڈ آف کرمنل پراسیجر1908، قومی احتساب آرڈیننس1999، فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی ایکٹ 1974 اور اینٹی کرپشن قانون جیسے دیگر قوانین کے تحت اختیارات شامل ہیں۔

۔ ملک کے تمام اعلیٰ حکام اور ادارے مکمل تعاون کریں گے اور ضرورت پڑنے پر جے آئی ٹی کے کام میں مکمل معاونت کریں گے۔

۔ جے آئی ٹی کی رپورٹ کا عدالت ہر 15دن بعد معائنہ کرے گی جو وہ ایک بند لفافے میں جمع کرائی جائے گی البتہ انویسٹی گیشن ٹیم کو ہدایت کی گئی ہے وہ وقتاً فوقتاً اپنی پیشرفت سے آگاہ کرتی رہے۔

۔ جے آئی ٹی کے سربراہ ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے کسی بھی ایسے ماہر کی خدمات حاصل کر سکتے ہیں جو ان کے خیال میں تفتیش کی موثر اور بروقت تکمیل میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔

۔ جے آئی ٹی کی پہلی رپورٹ آج سے 15دن بعد جمع کرائی جائے گی۔

عدالت نے فی الحال یہ تفتیش اسلام آباد منتقل کرنے کی درخواست مسترد کر دی ہے تاہم اگر ضرورت محسوس ہوئی تو اس درخواست پر دوبارہ غور کی گنجائش اب بھی موجود ہے۔

اس کیس کی اب سپریم کورٹ میں سماعت 24ستمبر کو ہو گی۔

عدالتی حکم کے مطابق جے آئی ٹی کے قیام کی وجہ مقدمے کی کمزوری اور سست رفتاری کے ساتھ ساتھ یہ اطلاعات سامنے آنا بھی تھیں کہ تفتیش میں رکاوٹ ڈالی جا رہی ہیں۔

ایف آئی اے کے ڈائریکٹر جنرل نے عدالت کو یہ بھی بتایا تھا کہ مہارت نہ ہونے کے سبب تفتیش کا عمل سست روی کا شکار ہے جبکہ مبینہ طور پر مقدمے میں ملوث اعلیٰ شخصیات اور سیاسی اور کاروباری حلقوں کی جانب سے تفتیش کی راہ میں روڑے بھی اٹکائے جا رہے ہیں۔

ایف آئی اے نے اربوں روپے منی لانڈرنگ کے حوالے سے سپریم کورٹ میں پیش اپنی رپورٹ میں زرداری گروپ سے منسلک مزید دو کمپنیوں کی شناخت کا دعویٰ کیا تھا جن کے نام ایم ایس لینڈ مارک اور نیشنل گیسز پوائیویٹ لمیٹیڈ بتائے گئے تھے۔

فیڈریل انویسٹی گیشن ایجنسی نے کہا تھا کہ انہیں گزشتہ ہفتے اومنی گروپ کی زیر ملکیت کھوسکی شوگر مل پر مارے گئے چھاپے کے دوران قبضے میں لی گئی ہارڈ ڈسک سے ان دو کمپنیوں کے بارے میں پتہ چلا تھا، اس شوگر مل کے مالک زرداری کے قریبی دوست انور مجید ہیں۔

منی لانڈرنگ کیس

واضح رہے کہ وفاقی تحقیقاتی ادارے کی جانب سے 6 جولائی کو حسین لوائی سمیت 3 اہم بینکرز کو منی لانڈرنگ کے الزامات میں حراست میں لیا گیا تھا۔

حسین لوائی اور دیگر کے خلاف درج ایف آئی آر میں اہم انکشاف سامنے آیا تھا جس کے مطابق اس کیس میں بڑی سیاسی اور کاروباری شخصیات کے نام شامل تھے۔

ایف آئی آر کے مندرجات میں منی لانڈرنگ سے فائدہ اٹھانے والی آصف علی زرداری اور فریال تالپور کی کمپنی کا ذکر بھی تھا، اس کے علاوہ یہ بھی ذکر تھا کہ زرداری گروپ نے ڈیڑھ کروڑ کی منی لانڈرنگ کی رقم وصول کی۔

ایف آئی آر کے متن میں منی لانڈرنگ سے فائدہ اٹھانے والی کمپنیوں اور افراد کو سمن جاری کیا گیا جبکہ فائدہ اٹھانے والے افراد اور کمپنیوں سے وضاحت بھی طلب کی گئی تھی۔

ایف آئی آر کے متن میں مزید کہا گیا تھا کہ اربوں روپے کی منی لانڈرنگ 6 مارچ 2014 سے 12 جنوری 2015 تک کی گئی جبکہ ایف آئی اے کی جانب سے آصف زرداری اور فریال تالپور کو مفرور بھی قرار دیا گیا تھا۔

جس کے بعد جعلی اکاؤنٹس کیس اور 35 ارب روپے کی فرضی لین دین سے متعلق کیس میں ایف آئی اے کی درخواست پر آصف علی زرداری اور فریال تالپور کا نام ای سی ایل میں ڈال دیا گیا۔

تاہم چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے اس بات سے انکار کیا تھا کہ پیپلز پارٹی کے دونوں رہنما منی لانڈرنگ کیس میں ملزم ہیں۔

جس کے بعد نگراں حکومت کی جانب سے آصف علی زرداری اور ان کی بہن فریال تالپور کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے نکال دیا گیا تھا۔

بعدازاں فریال تالپور نے لاڑکانہ میں سندھ ہائیکورٹ کے ڈویژن بینچ سے ضمانت قبل از گرفتاری حاصل کرلی تھی۔

طلال چوہدری نے نااہلی کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کرلیا

اسلام آباد: مسلم لیگ کے رہنما طلال چوہدری نے نااہلی کی سزا کے خلاف نظر ثانی کی درخواست سپریم کورٹ میں دائر کردی۔

مسلم لیگ (ن) کے رہنما طلال چوہدری نے سپریم کورٹ میں اپنی سزا پر نظر ثانی کی درخواست دائر کردی ہے۔ طلال چوہدری نے مؤقف اپنایا کہ ان کے خلاف توہین عدالت کا فیصلہ حقائق کے برعکس ہے۔

طلال چوہدری نے کہا کہ انہوں نے ہمیشہ عدلیہ کا احترام کیا اور وہ کبھی توہین عدالت کا سوچ بھی نہیں سکتے۔ درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ فیصلے کے خلاف انٹراکورٹ اپیل سماعت کے لئے مقرر کی جائے۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے  سابق وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کو آرٹیکل 63 (1) جی کے تحت توہین عدالت کا مرتکب قرار دیتے ہوئے عدالت برخاستگی تک قید اور ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی تھی۔ عدالتی فیصلے کے نتیجے میں وہ پانچ سال کے لئے نااہل ہوگئے ہیں۔

یوسف گیلانی کیخلاف قومی خزانے کو نقصان پہنچانے کے الزام میں نیب ریفرنس

 راولپنڈی: نیب نے سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے خلاف نیا ریفرنس دائر کردیا۔

نیب راولپنڈی نے سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی، سابق سیکرٹری وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی فاروق اعوان، ریاض اشعرصدیقی، سی ای او میسرز میڈاس پرائیویٹ لمیٹڈ انعام اکبر کے خلاف مقدمہ درج کرلیا۔ ملزمان پر میڈاس پرائیویٹ لمیٹڈ کے ذریعے غیر قانونی تشہیری مہم چلانے کا الزام عائد ہے۔

نیب حکام کا کہنا ہے کہ یوسف رضا گیلانی نے یو ایس ایف (یونیورسل سروسز فنڈ) سے تشہیری مہم چلانے کی ہدایت کی، سابق سیکرٹری آئی ٹی فاروق اعوان نے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے تشہیری مہم چلائی۔ ملزمان کے اقدام سے قومی خزانے کو 128 ملین روپے کا نقصان ہوا۔

نیب حکام کا مزید کہنا ہے کہ سی ای او میڈاس انعام اکبرنے محکمہ اطلاعات کی ہدایات کونظراندازکیا اور قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کرکے اشتہارات جاری کئے، کیونکہ میڈاس کمپنی یو ایس ایف کے پینل پرنہیں تھی۔

واضح رہے کہ اس سے قبل بھی سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی پرنیب کی جانب سے بدعنوانی کے الزام میں ریفرنس دائر ہوچکا ہے۔

پی ٹی آئی اور اس کی قیادت گھناؤنے بین الاقوامی ایجنڈے کا حصہ ہے، مولانا فضل الرحمان

پشاور: جمیعت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف اور اس کی قیادت انتہائی گھناؤنے بین الاقوامی ایجنڈے کاحصہ ہے۔

پشاور میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے جے یو آئی کے سربراہ مولانافضل الرحمان کا کہنا تھا کہ عام انتخابات کے نتائج کو تمام سیاسی جماعتوں نے متفقہ طور پر مسترد کیا، اور سب نے متفقہ طور پر موقف پیش کیا کہ انتخابات میں دھاندلی ہوئی ہے، اس وقت کے وزیر اعظم، وزیر اعلیٰ اور اکثریت کی حکومت جعلی ہے، اب بھی کہتے ہیں چیف الیکشن کمشنر استعفیٰ دیں۔

مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف نے اقتصادی کونسل بنائی اور اس کونسل میں جان بوجھ کر یہودی ایجنٹ میاں عاطف کو رکھا، یہ بات میں 10 سال سے کہتا رہا ہوں اور آج پاکستان میں باقاعدہ یہودی ایجنڈے کا آغاز ہوچکا ہے،حکومت ایسے عزائم سے پسپائی اختیار کرے، عوام کو بیدار کرنے کی مہم چلائی جائے گی۔

سربراہ جے یو آئی نے کہا کہ مدارس میں کوئی طبقاتی فرق نہیں، ہر تعلیمی بورڈ کا اپنا نصاب ہے، ہم سرکاری اور عسکری تعلیمی اداروں کی ضرورت کا بھی انکار نہیں کرتے اور نئی نسل کو جدید علوم سے آراستہ کرنے کا نظریہ رکھتے ہیں، لیکن اگر کوئی بہانہ بنا کر دینی علوم کے مدارس پر شب خون مارنے کی کوشش کی گئی تو سخت مزاحمت کریں گے۔

تحریک انصاف میں شمولیت سے متعلق دوستوں سے مشاورت کر رہا ہوں، فاروق ستار

اسلام آباد: ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا ہے کہ وہ تحریک انصاف میں شمولیت سے متعلق قریبی دوستوں سے مشاورت کر رہے ہیں۔

اسلام آباد میں الیکشن کمیشن کے باہر وزیراعظم عمران خان کیخلاف انتخابی اخراجات سے متعلق درخواست کی سماعت کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے فاروق ستار نے کہا کہ میں گزشتہ 30 برسوں سے ایک جماعت اور ایک منشور سے جڑا رہا ہوں، تحریک انصاف کے بعض ارکان نے مجھ سے پارٹی میں شمولیت کیلئے رابطہ کیا، تحریک انصاف کی خواہش ہے کہ میں قومی اسمبلی میں عارف علوی کی خالی نشست سے الیکشن لڑوں، تحریک انصاف میں شمولیت سے متعلق قریبی دوستوں سے مشاورت کر رہا ہوں۔

فاروق ستار نے کہا کہ میں نے الیکشن کمیشن میں بڑی سیاسی جماعتوں کے بے لگام انتخابی اخراجات پر درخواست دی ہے، تمام امیدواروں کو عام انتخابات میں یکساں مواقع نہیں مل پاتے، سیاسی جماعتیں کروڑوں روپے خرچ کر دیتی ہیں۔

ایم کیو ایم رہنما نے کہا کہ عام انتخابات میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) 2،2  ارب جب کہ تحریک انصاف ایک ارب روپے خرچ کردیتی ہے، ٹی وی پر اشتہارات دے کر انتخابی مہم چلائی جاتی ہے، ان اخراجات کو پارٹی اثاثہ جات میں ظاہر کیا جانا چاہیے۔

Google Analytics Alternative