Home » 2018 » October

Monthly Archives: October 2018

حکومت نے ابتدائی دنوں میں ہی درست سمت میں گورننس کی بنیاد رکھی، وزیراعظم

لاہور: وزیر اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ حکومت نے ابتدائی دنوں میں ہی درست سمت میں گورننس کی بنیاد رکھی۔

وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت تحریک انصاف کے ارکان پنجاب اسمبلی کا اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ  تحریک انصاف شفاف حکومت کا ایجنڈا لے کر آگے بڑھ رہی ہے یہی وجہ ہے کہ حکومت نے ابتدائی دنوں میں ہی وفاق اور صوبوں میں درست سمت میں گورنس کی بنیاد رکھی  لیکن ابھی بھی ہمیں طویل المدت اقدامات پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔

عمران خان نے کہا کہ ناداروں کو دو وقت کی روٹی ملے گی،سڑکوں اور فٹ پاتھوں پر سونے والوں کو چھت دیں گے اور  کسانوں کو جدید ٹیکنالوجی اور مالی تعاون فراہم کریں گے، وزیر اعظم  نے ارکان اسمبلی کو حلقوں میں مضبوط رابطوں کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ  ہمیں عوام کو ریلیف فراہم کرنا کے۔

اپنے دورہ چین کے حوالے سے وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ دورے میں زراعت میرے ایجنڈے کا اہم حصہ ہوگا، زراعت کو مینجمنٹ اور فنانس کرنے کی ضرورت ہے جب کہ زراعت کی بہتری تحریک انصاف کی اولین ترجیح ہے۔

نواز اور شہبازشریف کا ’اے پی سی‘ میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ

 اسلام آباد: سابق وزیراعظم نوازشریف اوراپوزیشن لیڈرشہبازشریف نے آل پارٹیزکانفرنس میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

سابق وزیراعظم نوازشریف نے پارلیمنٹ میں اپوزیشن لیڈرکے چیمبرمیں شہبازشریف سے ملاقات کی جس میں سعد رفیق، ایاز صادق، خواجہ آصف، حمزہ شہبازاورمریم اورنگزیب سمیت دیگررہنما شریک ہوئے۔

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ نوازشریف اور شہبازشریف جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کی جانب سے 31 اکتوبرکو بلائی گئی اے پی سی میں شرکت نہیں کریں گے تاہم نوازشریف نے اے پی سی میں شرکت کیلئے پانچ رکنی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔ کمیٹی میں مسلم لیگ (ن) کے رہنما راجہ ظفرالحق کی قیادت میں ایازصادق، احسن اقبال، سعد رفیق اورخواجہ آصف شامل ہیں۔

اس سے قبل نوازشریف پارٹی کے مشترکہ پارلیمانی اجلاس میں شرکت کے لیے پارلیمنٹ ہاؤس پہنچے۔ نوازشریف کا پارلیمنٹ ہاؤس میں شہبازشریف نے استقبال کیا اورگلے لگایا۔ نوازشریف کی آمد پرپارلیمنٹ ہاؤس کے باہر(ن) لیگ کے ارکان اسمبلی اور کارکنوں کی جانب سے ’شیرآیا شیرآیا‘ کے نعرے بھی لگائے گئے۔

قومی اسمبلی؛ اسد عمر کے فضل الرحمن کو گمراہ کہنے پر اپوزیشن کا احتجاج

اسلام آباد: وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر کی جانب سے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کو گمراہ کہنے پر اپوزیشن نے احتجاج کرتے ہوئے قومی اسمبلی سے واک آؤٹ کیا۔

قومی اسمبلی کا اجلاس ہوا جس میں ملک کی معاشی صورت حال پر گفتگو کی گئی۔

وزیر خزانہ اسد عمر نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو 35 ارب ڈالر خسارے کا سامنا ہے، ہمارا دنیا میں سب سے بڑا باہمی تجارتی خسارہ چین کے ساتھ ہے جس میں کمی کا ہدف ہے، پاکستان چین کے ساتھ تجارتی عدم توازن کو ختم کرنے کی کوشش کرے گا، پچھلی حکومتوں نے 1200 ارب کے نئے نوٹ چھاپے اور بجٹ خسارہ 9 سو ارب سالانہ سے بڑھ گیا، ہم آئی ایم ایف پر سو فیصد انحصار نہیں کرنا چاہتے، حکومت کی کوشش ہوگی یہ آخری آئی ایم ایف پروگرام ہو۔

اسد عمر نے کہا کہ مولانا فضل الرحمن کو کسی نے کوئی غلط خبر دی اور میرے والد صاحب کے بارے میں گمراہ کیا ہے، میرے والد نے جھنگ پر قبضہ کیا آج بھی تاریخ گواہ ہے، میرے والد 1971 میں جنرل آفیسر کمانڈنگ تھے اور چھمب جوڑیاں میں تعینات تھے، انہوں نے چھمب جوڑیاں پر قبضہ کیا جو آج بھی پاکستان کے پاس ہے، فوج کے سرینڈر سے میرے والد کا کوئی تعلق نہیں تھا، جنرل نیازی کا عمران خان سے کوئی تعلق نہیں، وہ میانوالی سے ضرور تھے لیکن عمران خان کا ان سے کوئی رشتہ نہیں۔

اسد عمر اظہار خیال کرکے ایوان سے چلے گئے، تاہم جے یو آئی ف کے اراکین نے اسد عمر کے الفاظ پر ایوان میں احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ مولانا فضل الرحمن کے بارے میں نازیبا الفاظ استعمال کیے گئے۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ گمراہ کا لفظ غیر پارلیمانی نہیں ہے، مولانا فضل الرحمن اس ایوان کا حصہ رہ چکے ہیں ان کا سب احترام کرتے ہیں، اگر اراکین کی دل آزاری ہوئی تو میں وزیر خزانہ کی جانب سے ان الفاظ کو واپس لیتا ہوں، اس پختہ عمر میں فضل الرحمن کو کوئی گمراہ نہیں کر سکتا۔ تاہم اپوزیشن نے شاہ محمود کی وضاحت قبول نہ کرتے ہوئے وزیر خزانہ کی عدم موجودگی پر قومی اسمبلی سے واک آؤٹ کیا۔

مولانا عبدالواسع نے کہا کہ فضل الرحمن کے خلاف نازیبا گفتگو کی گئی، اسد عمر نے ناقابل قبول بات کی، گمراہ کا لفظ ان کیلئے استعمال ہوتا ہے جو دین سے بھٹکے ہوں، اسد عمر کے والد جنرل نیازی کے ساتھی تھے۔

خورشید شاہ نے کہا کہ ہم صرف وزیر خزانہ کا بھاشن سننے نہیں آئے، وزیر خزانہ نے بھاشن دیا اور چلے گئے، بات کر کے چلا ہی جانا تھا اس ایشو پر بحث کیا ضرورت تھی، ان کے پاس اتنا ٹائم نہیں کہ جس کی وجہ سے وزیر بنے اس ادارے کو ٹائم نہیں دے رہے، اسد عمر کی جانب سے مولانا فضل الرحمن کے بارے میں گمراہ کا لفظ استعمال کرنے کی مذمت کرتے ہیں۔

فواد چوہدری نے کہا کہ جے یو آئی والے پاکستان بنانے کے وقت بھی گمراہ تھے اور کبھی صحیح راہ پر نہیں کھڑے ہوئے،1988 سے کشمیر کمیٹی پر براجمان تھے، نواز شریف اور فضل الرحمن بھارت کے ایجنڈے کو آگے بڑھا رہے تھے، انہوں نے ایک جملہ کشمیر ایشو پر نہیں بولا، جے یو آئی والوں کودن میں تارے اور رات کو اسرائیلی طیارے نظر آتے ہیں، ہم نے سعودی عرب سے پاکستان کے بچوں کے لیے بھیگ مانگی۔

جرمنی: ریپ میں ملوث شامی پناہ گزینوں کی گرفتاری کے خلاف مظاہرہ

جرمنی میں 18 سالہ لڑکی کے ریپ کے الزام میں 7 شامی پناہ گزینوں کی گرفتاری کے خلاف 5 سو افراد نے مظاہرہ کیا جبکہ صورت حال اس وقت دلچسپ ہوگئی جب ان مظاہرین کے خلاف ایک ہزار 5 سو افراد نے سڑکوں پر نکل کر احتجاج کیا۔

ڈیلی میل کی رپورٹ کے مطابق نائٹ کلب کے باہر 18 سالہ لڑکی کا ریپ کیا گیا تھا اور اس الزام میں پناہ گزین گروہ کو 29 اکتوبر کو گرفتار کیا گیا تھا۔

واقعہ کے بعد جرمنی کی جنوب مغربی ریاست بادن-وورتمبرگ کے علاقے فری برک سے 7 شامی نوجوانوں کو گرفتار کیا گیا تھا جن کی عمریں 19 سے 29 برس کے درمیان تھیں، ان کے ساتھ 25 سالہ جرمن نوجوان کو بھی گرفتار کیا گیا تھا۔

فری برک کے میئر مارٹن ہارن نے آلٹرنیٹوفار جرمنی (اے ایف ڈی) نامی تنظیم کے مظاہرین کو پُرامن رہنے اور تشدد سے گریز کرنے پر زور دیا تھا۔

فری برک کے میئر نے بتایا تھا کہ ’مجھے امید ہے کہ مظاہرہ پُرامن ہوگا اور کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آئے گا‘۔

انہوں نے کہا کہ ’فری برک میں ایسے ہولناک جرائم اور مجرمان کے لیے کوئی جگہ نہیں‘۔

جرمن حکام کا کہنا تھا کہ مشتبہ ملزمان میں سے ایک نے 14 اکتوبر کو لڑکی کو ایک ڈرنک خرید کر دی تھی جس کے بعد نائٹ کلب کے باہر جھاڑیوں میں اس کا ریپ کیا گیا تھا۔

ڈی ڈبلیو کے مطابق اے ایف ڈی کے خلاف تقریباً ایک ہزار 5 سو افراد نے مظاہرہ کیا اور اسے حالیہ حادثے کا فائدہ کرنے کا ذمہ دار ٹہھرایا۔

پولیس کی جانب سے تحقیقات کی جارہی ہیں کہ لڑکی کو دیے گئے مشروب میں کسی نامعلوم اجزا کا اضافہ کیا گیا تھا یا نہیں۔

پولیس ذرائع نے مقامی میڈیا کو بتایا کہ وہ دیگر مجرمان کی تلاش میں ہیں کیونکہ جائے حادثہ پر موجود ثبوت مزید افراد کی موجودگی کو ظاہر کرتے ہیں۔

مقامی اخبار بلڈ نے مرکزی ملزم کی شناخت 21 سالہ ماجد ایچ کے نام سے کی اور اس کے کچھ ساتھیوں کے نام بھی بتائے، جن میں 19 سالہ احمد ال ایچ ، 24 سالہ محمد ال ایچ اور 20 سالہ مہاند ایم شامل ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ماجد ایچ کی سوشل میڈیا پروفائل پر موجود تصویر میں وہ ہاتھ میں مشین گن لیے کھڑے ہیں، یہ 2014 میں جرمنی میں آئے تھے، انہیں ایک اور یورپی ملک نے بھی مجرم قرار دیا تھا جہاں یہ پہلے پناہ گزین تھے۔

اخبار نے ملزم کے والد کا بیان بھی شائع کیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ’جب سے ہم نے ہجرت کی ہے ماجد کا رویہ جارحانہ ہوگیا تھا اور پولیس کے ساتھ مسائل چلتے رہتے ہیں‘۔

انہوں نے بتایا کہ ’اس پر پہلے بھی ایک فردِ جرم عائد کی جاچکی ہے کیونکہ ماجد نے کسی کو زخمی کیا تھا‘۔

مقامی میڈیا کے مطابق دیگر مشتبہ ملزمان میں سے اکثر سیاسی پناہ لینے والوں کے سینٹرز میں رہائش پذیر تھے اور دیگر جرائم میں بھی ملزمان نامزد تھے۔

اس ہولناک واقع سے جرمن چانسلر انجیلا مرکل کے ناقدین کو تقویت ملے گی کیونکہ ان کے اتحاد کو مہاجرین کے بحران کا سامنا ہے۔

انجیلا مرکل 2005 میں جرمن چانسلر بنیں تھیں اور 2021 میں چانسلر کی مدت مکمل ہونے پر عہدہ چھوڑ دیں گی۔

2015 میں انجیلا مرکل کے اتحاد کو 10 لاکھ پناہ گزینوں کو جرمنی میں قیام کی اجازت کے بعد دباؤ کا سامنا تھا۔

اپوزیشن لیڈرشہبازشریف کوچیئرمین پی اے سی نہ بنانے کافیصلہ

adaria

پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس ہوا، جس میں اپوزیشن اتحاد اوراحتجاج سے متعلق پارٹی لائحہ عمل پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اجلاس میں پی ٹی آئی کا ملک میں اداروں کی مکمل آزادی اوراحتساب کا عمل جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ۔اجلاس کے دوران وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ہم اپوزیشن سے بلیک میل نہیں ہوں گے، شہباز شریف کو کسی صورت بھی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا چیئرمین نہیں بنایا جائے گا، اس عہدے کیلئے مشاورت سے غیرجانبدارشخصیت کا انتخاب کیا جائے گا، اس کیلئے اگر کمیٹیاں بنانی پڑیں توبنائیں گے۔امورحکومت کو بہتر طریقے سے چلانے کیلئے اراکین بھی اپنی تجاویز دیں۔ اس موقع پر پی ٹی آئی کے اراکان پارلیمنٹ کو وزیراعظم آفس تک براہ راست رسائی دینے کا فیصلہ کرتے ہوئے موبائل ایپ بنانے کا فیصلہ کیا ، جس کے بعد ارکان پارلیمنٹ کسی مسئلے کی صورت میں وزیراعظم آفس سے براہ راست رابطہ کرسکیں گے۔ عموماً ماضی میں اسی طرح دیکھاگیا ہے کہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کاچیئرمین اپوزیشن لیڈر ہوتا ہے یہ روایت برقرار رہی تاہم یہ کوئی ایسی آئینی ضرورت نہیں کہ اس کو ہی چیئرمین بنایاجائے جواپوزیشن لیڈرہو۔ پی اے سی کااصل مقصد تو بہ دیگرالفاظ احتساب کرتے ہوئے ماضی کی حکومتوں کے کھاتوں کی جانچ پڑتال ہوتاہے جو بھی کوئی غلط منصوبہ بندی یا سرمایہ کاری یاپھرغلط فیصلے کئے گئے ہوں وہ سارے معاملات پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں آتے ہیں اور پھر چیئرمین اس کے حوالے سے مزید آگے ضروری کارروائی کرتا ہے۔ اس وقت جو پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کو مسئلہ درپیش ہے وہ ملک میں احتساب کاہے۔ احتساب کے سلسلے میں میاں برادران پرمختلف مقدمات زیرسماعت ہیں کچھ کافیصلہ بھی ہوا اور کچھ کے حوالے سے تحقیقات بھی ہورہی ہیں۔ یہاں اگر منطق کے اعتبار سے دیکھاجائے تو وزیراعظم عمران خان درست نظرآتے ہیں کہ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں واضح کردیا ہے کہ وہ اپوزیشن لیڈرشہبازشریف کو کسی صورت پی اے سی کا چیئرمین نہیں بننے دیں گے۔ اس سلسلے میں وہ اس بات کے متمنی ہیں کہ اپوزیشن کسی اور کانام دے۔اب جبکہ حکومت کا سب سے اہم اور بالاترنکتہ احتساب ہے تو شہبازشریف کے خلاف مختلف تحقیقات نیب کے تحت چل رہی ہیں ایسے میں اگر وہ پی اے سی کے چیئرمین بن جاتے ہیں تو ان کی جو گزشتہ عرصہ حکومت رہی تو اگر اس کے کوئی سکینڈل سامنے آتے ہیں تووہ کیونکراس کااحتساب کرسکیں گے۔ یہ وہ خلافت راشدہ کا زمانہ تونہیں ہے جہاں پرخلیفہ اپنے تمام معاملات کاجوابدہ قاضی کے سامنے ہوتاتھا اور بھرے دربار میں بھی اگر کسی کے ساتھ کوئی زیادتی ہوئی ہوتی حتیٰ کہ وہ خلیفہ کی جانب سے ہی کیوں نہ ہو تی وہ اس سے سوال کرسکتاتھا اور خلیفہ جواب دینے کاپابند ہوتاتھا اگر سزا و جزا کا موقع آن پہنچے تو قاضی کی خلیفہ کو دی ہوئی سزا پر بھی عملدرآمد ہوتاتھا ۔اب تو یہ زمانہ ہے کہ’’ اندھابانٹے ریوڑیوں والی صورتحال ہے‘‘ اگر خود کوئی غلط کام کرلیا ہے تو کسی قانون کااطلاق نہیں البتہ دوسری کی آنکھ کابال بھی نظرآنا شروع ہوجاتا ہے۔ ایسے میں وزیراعظم بالکل درست ہیں بلکہ ہم یہاں یہ ضرور کہیں گے کہ پی اے سی کاچیئرمین اس شخص کو ہوناچاہیے جس کا دامن بالکل صاف ہو ہرقسم کے دباؤ سے آزاد ہو اور چاہے حکمران طبقہ یااپوزیشن جس کی بھی بدعنوانی پکڑی جائے اس کے ساتھ بلاتفریق سلوک ہوناچاہے اسی طرح دیگراداروں کی آزادی بھی ضروری ہے کیونکہ ابھی حکومت کے سودن پورے نہیں ہوئے تو ان سودنوں میں پنجاب کے ایک ڈی پی او کو ذاتی معاملات کی وجہ سے عتاب کانشانہ بننا پڑا ۔ابھی یہ مسئلہ چل ہی رہاتھا کہ وزیراعظم کی جانب سے پنجاب پولیس کاقبلہ درست کرنے والے ناصردرانی نے استعفیٰ دے دیا ان کی جگہ ابھی تک عمران خان نے کسی شخص کو تعینات نہیں کیا ابھی اس کی دھول اڑ ہی رہی تھی کہ اسلام آباد کے آئی جی کو وفاقی وزیراعظم خان سواتی کی شکایت پرمعطل کیاگیا جسے سپریم کورٹ نے بحال کردیا۔اس کے علاوہ وزیرمملکت شہریارآفریدی کی جانب سے بھی کچھ اس طرح کاقدم اٹھایا گیا جس پرعملدرآمدنہ ہوسکا جبکہ عمران خان نے وزارت عظمیٰ میں آنے سے قبل واضح طورپر کہہ دیاتھا کہ وہ پولیس کوآزاد بنائیں گے اب یہ جو اوپردوتین مثالوں کاذکر کیاگیا ہے یہ اس بات کی غمازی کرتی ہیں کہ اداروں میں کہیں نہ کہیں مداخلت جاری ہے ایسے میں وزیراعظم کو اس جانب خصوصی طورپرتوجہ دینا ہوگی اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ ادارے آزاد ہیں پولیس قانون کے مطابق جو بھی فرائض انجام دے رہی ہے اس میں قطعی طورپر کوئی بھی رکاوٹ نہیں ڈالی جاسکتی جب تک ہرشخص قانون وآئین کی نظرمیں برابر نہیں ہوگا اس وقت تک مسائل حل نہیں ہوسکتے چاہے حکومت پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کاچیئرمین کسی فرشتے کو بھی کیوں نہ تعینات کردے۔یہاں صرف مسئلہ پی اے سی کاہی نہیں دیگراداروں کابھی ہے چونکہ بقول حکومت ہم اس وقت ایک نئے پاکستان میں داخل ہورہے ہیں اور وزیراعظم کی خواہش ہے کہ وہ وطن عزیز کو مدینہ پاک جیسی ریاست بنائیں تو پھر اس مدینہ کی ریاست میں تو سب برابر ہوتے ہیں وہاں ایسا نہیں ہوتا کہ اگر کسی کے محل کے آگے پیچھے کوئی جھونپڑی بنی ہے تو اسے مسمارکردیاجائے بلکہ غریب اوربے آسرا لوگوں کی آواز کو سنناچاہیے تب ہی انصاف کابول بالا ہوگا ترجیحی سلوک سے مسائل حل نہیں ہوں گے تمام ترذاتی مفادات کو بالائے طاق رکھ کرفیصلے کرنے ہونگے احتساب شفاف بنانا ہے تو اقرباء پروری کو بھولنا ہوگا تب ہی جاکر ہم اس ملک کو مدینہ منورہ جیسی ریاست بناسکیں گے ۔اگر اسی طرح ذاتی پسندوناپسند پرفیصلے ہوتے رہے توپھر حالات مشکل سے مشکل ہوتے چلیں جائیں گے۔

پروگرام سچی بات میں ایس کے نیازی کی گفتگو
نوازشریف کی خاموشی کے حوالے سے ایس کے نیازی نے واضح طورپر کہا ہے کہ یہ کسی سمجھوتے کانتیجہ ہے اس بات میں کوئی دوسری رائے بھی نہیں کہ جب سے نوازشریف جیل سے باہرآئے ہیں اس دن سے لیکرآج تک ان کاکوئی ایسا قابل ذکربیان سامنے نہیں آیا جو میڈیا کی ہیڈلائنوں کاسہرا بنا ہو اس لحاظ سے یہ بات درست ہے کہ ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی بتادیاکہ وزیراعظم عمران خان کیخلاف مہم جوئی سے نقصان ہوگا یہ بات بھی بالکل درست معلوم ہوتی ہے کہ کوئی بھی ایسا اقدام اٹھانے سے عوامی سطح پربھی کوئی خاص پذیراتی نہیں ہوگی اس وجہ سے نون لیگ کو ویسے ہی محتاط ہوکر چلناچاہیے ۔ایس کے نیازی نے مزید کہا کہ نواز شریف کی فطرت میں خاموشی نہیں ہے،نواز شریف کی خاموشی کسی سمجھوتے کا نتیجہ ہے،عمران خان ذاتی مفاد یا ذاتی آرام کیلئے کام نہیں کررہا،عمران خان کیخلاف مہم جوئی سے نقصان ہوگا۔ بیگم کلثوم نواز کی وفات قومی نقصان ہے۔نواز شریف کا کوئی بیان نہ دینا این آر او کی کڑی ہے،نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکال دیا جائے گا،نواز شریف علاج کے بہانے باہر چلے جائیں گے،نیب کا ادارہ بنا ہی احتساب کیلئے ہے،آصف زرداری پر کئی عرصے سے کیسز چل رہے ہیں،آصف زرداری اور نواز شریف اندر سے ایک ہیں،چوہدری نثار نے ساری عمر سیاست کی،آگے بھی کریں گے،چوہدری نثار کو دونوں حلقوں میں بری طرح شکست ہوئی،چوہدری نثار کو حلقوں میں اپنی کریڈیبلٹی بڑھانا ہوگی،چوہدری نثار کو ان کے بیانات کی وجہ سے نقصان پہنچا۔مجھے لگتا ہے کہ نیب پہلے بڑے لوگوں کا احتساب کرنا چاہتی ہے،عمران خان نے کبھی پولیس کے معاملات میں مداخلت نہیں کی۔عمران خان نے پہلے پولیس میں مداخلت نہیں کی اب کیوں کرینگے۔

سارہ خان کی ڈیبیو فلم ’کیدر ناتھ ‘ کا ٹیزر سوشل میڈیا پر مقبول

ممبئی: بالی ووڈ کے چھوٹے نواب سیف علی خان کی بیٹی سارہ علی خان کی ڈیبیو فلم ’کیدر ناتھ‘ کے پہلے ٹیزر نے ریلیز ہوتے ہی سوشل میڈیا پر مقبولیت حاصل کرلی۔بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق بالی ووڈ کے اداکار سیف علی خان کی بیٹی سارہ علی خان کی ڈیبیو فلم  ’کیدرناتھ‘ کا پہلا ٹیزر اور پوسٹر جاری کردیا گیا جس میں اُن کے مد مقابل سوشانتھ سنگھ راجپوت مرکزی کردار ادا کرتے دکھائی دیں گے۔

ایک منٹ اور 39 سیکنڈ کے ٹیزر میں دونوں اداکاروں کو حادثاتی ملاقات، بڑھتی ہوئی قربت بعدازاں مذہب کی وجہ سے پیش آنے والی پریشانیوں کا سامنا کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

فلم کی جاندار کہانی اور دونوں اداکاروں کی شاندار اداکاری سے بھرپور فلم کے ٹیزر کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ صرف ایک دن میں یوٹیوب پر اس ٹیزر کو 38 لاکھ سے زائد بار شائقین کی جانب سے دیکھا جا چکا ہے۔

واضح رہے کہ ابھیشیک کپور کی ہدایت کاری میں بننے والی فلم ’کیدر ناتھ‘ میں سارہ علی خان  ’مکو‘ اور سوشانت سنگھ راجپوت ’منصور‘ کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ یہ فلم 7 دسمبر کو سنیما گھروں کی زینت بنے گی۔

سعودی عرب کا ترقی پذیر ممالک کے 6 ارب ڈالر کے قرضے معاف کرنے کا فیصلہ

ریاض: سعودی عرب نے ترقی پذیر ممالک کے 6 ارب ڈالر کے قرضے معاف کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

عرب میڈیا کے مطابق منگل کو ہونے والے وزراء پر مشتمل کابینہ کے اجلاس نے مملکت کے اس اہم فیصلے کی توثیق کردی ہے۔ فیصلے کے مطابق سعودی عرب ترقی پذیر ممالک پر واجب الادا 6 ارب ڈالر کی خطیر رقم کو معاف کردے گا۔

سعودی حکام نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اس اقدام کا مقصد اقوام متحدہ سمیت بین الاقوامی برادری کے ترقی، سیکیورٹی  اور ان کے دیگر منصوبوں میں معاونت کے ساتھ ساتھ ان ممالک میں استحکام کو برقرار رکھنے کے عمل میں تعاون کرنا ہے۔

سعودی حکام نے مزید کہا کہ اس اقدام سے ظاہر ہے کہ سعودی عرب اپنے انسانی، سیاسی اور معاشی کردار کے حوالے سے ذمہ داریاں احسن انداز میں انجام دے رہا۔

وزیراعظم آئی جی کو بھی معطل نہیں کرسکتا تو الیکشن کا کیا فائدہ، وزیراطلاعات

اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ اگر وزیراعظم آئی جی کو بھی معطل نہیں کرسکتا تو پھر وزیراعظم منتخب کرنے اور الیکشن کرانے کا کیا فائدہ ہے۔

وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایک آئی جی کس طرح یہ کرسکتا ہے کہ وفاقی وزیر کا فون نہ سنے اور واپس فون کرنے کی زحمت بھی نہ کرے، اگر صرف بیوروکریٹس کے ذریعے ہی حکومت چلانی ہے تو پھر الیکشن نہ کراتے، اگر وزیراعظم آئی جی کو بھی معطل نہیں کرسکتا تو پھر وزیراعظم منتخب کرنے اور الیکشن کرانے کا کیا فائدہ، بیورو کریٹس کے ذریعے ہی حکومت چلالیتے۔

فواد چوہدری نے کہا کہ اگر سرکاری افسر حکومت یا اپوزیشن کے ارکان اسمبلی کے فون نہیں اٹھائے گا تو سیاسی نگرانی کیسے ہوگی، پھر جمہوریت نہیں بلکہ اشرافیہ کی حکومت ہوگی، وزیراعظم اور وزیراعلیٰ کو آئی جی جوابدہ ہوتا ہے، بیانیہ بنایا جارہا ہے کہ سرکاری افسر فون نہ اٹھائے تو ہیرو بن جائے گا، لیکن اس سے ملک میں انارکی پھیل جائے گی۔

وزیر اطلاعات نے بتایا کہ وزیر مملکت برائے داخلہ شہریار آفریدی نے پہلے بھی وزیراعظم سے شکایت کی تھی کہ اسلام آباد پولیس تعلیمی اداروں میں منشیات فروشی کے خلاف کارروائی نہیں کررہی اور آئی جی اسلام آباد اس سلسلے میں نہ تعاون کررہے ہیں اور نہ ہی فون اٹھاتے ہیں، شہریار آفریدی نے وزیراعظم سے یہ بھی شکایت بھی کی تھی کہ اسلام آباد پولیس کے تھانوں اور ناکوں پر رشوت وصول کی جاتی ہے، جسے ختم کرنے کےلیے بھی آئی جی تعاون نہیں کررہے۔

فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ ہم نے خیبرپختون خوا میں بھی حکومت کی ہے وہاں اس طرح کی کوئی شکایت نہیں، صرف پنجاب اور اسلام آباد میں ایسا کیوں ہورہا ہے، ن لیگ اتنا زیادہ عرصہ یہاں حکومت میں رہی ہے کہ پھر جمہوریت نہیں رہتی بلکہ بادشاہت بن گئی ہے، بیوروکریسی بعض معاملات میں حکومتی پالیسی پر عملدرآمد نہیں کررہی، جو ہماری پالیسی پر عمل نہیں کرے گا اس کے خلاف کارروائی ہوگی۔

وزیر اطلاعات نے کہا کہ وزیراعظم اور وزیر اعلیٰ اپنے اختیارات استعمال کریں گے، سپریم کورٹ قابل احترام ادارہ ہے جہاں حکومت اپنا موقف پیش کرے گی، یہ ممکن نہیں کہ وزرا اور وزیراعظم کو آئی جی ، ڈی سی اور ایس پی گھاس نہ ڈالے۔

فواد چوہدری نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کا جب بنی گالا میں گھر بنا تو اسلام آباد کی حدود میں نہیں آتا تھا، موڑا نور یونین کونسل کا حصہ تھا، انہوں نے گھر بنانے کی اجازت دی، 30 سال بعد سی ڈی اے نے گھر کو اپنی حدود میں شامل کیا، لیکن وہاں پرانے گھر پچھلے قانون کے تحت بنے ہوئے ہیں جو غیر قانونی نہیں ہیں۔

فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ نواز شریف کی سیاست اتنی ہی رہ گئی ہے کہ وہ دوسروں کو ملنے کےلیے پارلیمنٹ ہاؤس آسکتے ہیں، شہباز شریف اور آصف زرداری میں جھگڑا اس بات کا ہے کہ دونوں میں بڑا کون ہے، این آر او لینے کے لیے اے پی سی ہورہی ہے، فضل الرحمن اور آصف زرداری وزیراعظم سے یقین دہانی چاہتے ہیں کہ ان کے خلاف مقدمات ختم کردیے جائیں تو جمہوریت بحال ہوجائے گی، لیکن کچھ بھی ہوجائے این آر او نہیں ہوگا۔

فواد چوہدری نے مزید کہا کہ شہباز شریف کو پی اے سی کا چیرمین نہیں بناسکتے، وہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) کا اجلاس کیا جیل میں بلائیں گے، اپوزیشن کی کل جماعتی کانفرنس (اے پی سی) صرف این آر او کے لیے ہورہی ہے، حکومت کہہ رہی ہے نہ رو جب کہ اپوزیشن کہہ رہی ہے این آر او۔

Google Analytics Alternative