Home » 2018 » October » 01

Daily Archives: October 1, 2018

وزیراعظم آزاد کشمیر کے ہیلی کاپٹر پر بھارتی چیک پوسٹ سے فائرنگ

 اسلام آباد: وزیراعظم آزاد کشمیر فاروق حیدر کے ہیلی کاپٹر پر بھارتی چیک پوسٹ سے فائرنگ کی گئی ہے۔

وزیراعظم آزاد کشمیر فاروق حیدر سول ہیلی کاپٹر پر لائن آف کنٹرول سے متصل پاکستانی گاوٴں تروڑی میں سفر کر رہے تھے، فاروق حیدر کا ہیلی کاپٹر لائن آف کنٹرول پر طے شدہ حد سے معمولی آگے چلا گیا کہ اسی دوران ہیلی کاپٹر پر بھارتی چیک پوسٹ سے فائر کیا گیا۔

ایل او سی پر تعینات دونوں ملکوں کی افواج کی جانب سے ایک دوسرے کو فضائی نقل و حرکت کی باقاعدہ اطلاع دی جاتی ہے، وزیر اعظم آزاد کشمیر کی فضائی نقل و حرکت کی بھی پیشگی اطلاع دی گئی تھی جب کہ ہیلی کاپٹر کا سفید رنگ ظاہر کرتا تھا کہ وہ سول ہیلی کاپٹر ہے۔

واقعے سے متعلق بھارتی فوج اور میڈیا نے ایک بار پھر پاکستان کے خلاف جارحیت کا جواز پیش کرتے ہوئے ہرزہ سرائی کی ہے کہ پاکستان سے آنے والا سفید سول ہیلی کاپٹر ایل او سی پار کرکے آیا جس پر بھارتی فوج کی اگلی چوکیوں سے ہلکے ہتھیاروں سے فائرنگ کی گئی، فائرنگ کے بعد ہیلی کاپٹر واپس چلا گیا۔

دوسری جانب وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر کا کہنا ہے کہ میرے پاس کوئی گن شپ ہیلی کاپٹر نہیں پرائیویٹ ہیلی کاپٹر تھا جس میں میرے ساتھی وزرا موجود تھے اور ہم اپنی حدود میں ہی تھے کہ بھارتی فوجیوں کی جانب سے فائرنگ کردی گئی۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم خطے میں کوئی جنگی جنون نہیں چاہتے لیکن صاف نظر آرہا ہے کہ بھارت بوکھلاہٹ کا شکار ہے۔

بھارتی فوج کی جانب سے سول ہیلی کاپٹر پر فائرنگ کا واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں بھارت کی ہٹ دھرمیوں اور دہشتگردی کا پردہ چاک کیا۔

پی ٹی آئی والوں نے بدمعاشی کرکے ڈیرے بنا رکھے ہیں، چیف جسٹس

لاہور: چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی والوں نے بدمعاشی کرکے ڈیرے بنارکھے ہیں، یہ لوگ بدمعاشوں کی پیروی کرکے نیا پاکستان بنانے چلے ہیں۔

سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں جوہر ٹاون میں قبضہ مافیا کے سرغنہ منشا بم کے خلاف شہری کی درخواست پر کیس کی سماعت ہوئی۔ کیس کی سماعت چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے کی۔ کیس میں نامزد ملزمان تحریک انصاف کے ایم این اے ملک کرامت کھوکھر، ایم پی اے ندیم عباس بارا اور ایس پی عدالت میں پیش ہوئے۔ عدالت نے ملک کرامت کھوکھر کو ملزم منشا بم کی سفارش کرنے پر طلب کیا تھا۔

دوران سماعت پی ٹی آئی کے ایم پی اے ندیم عباس بارا نے رونا شروع کردیا۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ باہر بدمعاشی کرتے ہو اوراندر آکر رونا شروع کردیتے ہو۔ ایم پی اے ندیم عباس بارا نے استدعا کی کہ کیس شروع ہونے سے پہلے میں کچھ کہنا چاہتا ہوں، میرے خلاف ایس پی نے جھوٹے مقدمات درج کروائے، مقدمات میں میری غلطی ثابت ہوئی تو استعفی دے دوں گا۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ تم پہلے استعفیٰ دو جلدی کرو، تم لوگوں میں اتنی جرات نہیں کہ استعفی دے دو۔

چیف جسٹس نے ایس ایس پی سے استفسار کیا کہ منشا بم کون ہے؟۔ جس پر ایس پی پولیس نے عدالت کو بتایا یہ جوہر ٹاؤن کا بہت بڑا قبضہ گروپ ہے، منشا بم اپنے بیٹوں کے ساتھ جوہر ٹاؤن میں زمینوں پر قبضے کرتا ہے اور اس کے خلاف 70 سے زائد مقدمات درج ہیں عدالت کے حکم پر کارروائی کی تو سفارشیوں کے فون آنا شروع ہوگئے۔ چیف جسٹس نے ایس پی سے استفسار کیا کہ سفارش کے لیے کس کا فون آیا؟۔ جس پر ایس پی پولیس نے بتایا کہ منشا بم کی گرفتاری روکنے کی درخواست پی ٹی آئی کے ایم این اے ملک کرامت کھوکھر نے کی۔

چیف جسٹس نے ملک کرامت کھوکھر سے مکالمہ کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ پی ٹی آئی والوں نے کب سے بدمعاشی شروع کردی، کیا لوگوں نے آپ کو بدمعاشی کرنے کے لیے ووٹ دئیے ہیں، پی ٹی آئی والوں نے بدمعاشی کرکے ڈیرے بنا رکھے ہیں، یہ لوگ بدمعاشوں کی پیروی کرکے نیا پاکستان بنانے چلے ہیں، میں کسی بدمعاش کو پاکستان میں نہیں رہنے دوں گا۔ چیف جسٹس نے ایم این اے کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آج انکوائری میں قبضہ گروپ کی پیروی ثابت ہوئی تو ملک کرامت کھوکھر تم اپنے گھر بطور ایم این اے واپس نہیں جاؤ گے۔

ملک کرامت کھوکھر نے مؤقف پیش کیا کہ میں کسی منشا بم کو نہیں جانتا، میں نے ایس پی کو نہیں ڈی آئی جی کو فون کیا تھا۔ چیف جسٹس نے ایک بار پھر مکالمہ کرتے ہوئے ملک کرامت کھوکھر سے کہا کہ ملک کرامت کھوکھر تم نے جھوٹ بولا تو یہاں سے ایم این اے کی حیثیت سے واپس نہیں جاؤ گے، اس ڈی آئی جی آپریشنز کو بلائیں جس نے سفارش کی۔ چیف جسٹس نے ساڑھے 3 بجے ڈی آئی جی آپریشنز کو طلب کرلیا۔

عمران خان گھیرا تنگ کرنے کی کوشش نا کریں یہ وقت ان پر بھی آسکتا ہے: سعد رفیق

لاہور: مسلم لیگ (ن) کے رہنما خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان گھیرا تنگ کرنے کی کوشش نا کریں یہ وقت ان پر بھی آسکتا ہے۔

قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 131 لاہور میں پارٹی کارکنان سے خطاب کے دوران خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ حکومت کو پتہ چل گیا ہے صاف شفاف انتخابات سے ضمنی الیکشن نہیں جیتا جا سکتا اسی وجہ سے حکومت ہمارے گرد گھیرا تنگ کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان صاحب الیکشن لڑیں اور انتقام نہ لیں، حکومت اور مدمقابل کو پتہ ہے کہ وہ الیکشن نہیں جیت سکتے۔

خواجہ سعد رفیق کا کہنا تھا کہ ووٹوں کی دوبارہ گنتی کی اجازت مل جاتی تو ضمنی الیکشن نہ ہوتا، حکومت کی پوری کوشش ہے کہ سازش کر کے ضمنی الیکشن جیت جائے۔

سابق وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ ‘میرا مدمقابل امیدوار مہینہ بھر پہلے میری پارٹی میں تھا، لوگوں کو پتہ ہےاس نے ایک دھیلے کا کام نہیں کیا’۔

انہوں نے کہا کہ اللہ تعالی نے ریلوے کا مردہ گھوڑا ہمارے ہاتھ سے زندہ کروانا تھا لیکن ہم اپنے دور میں جو ادارے ٹھیک کر کے گئے تھے حکومت انہیں خراب کررہی ہے۔

خواجہ سعد رفیق کا کہنا تھا کہ ریلوے کے موجودہ وزیر جہالت کا ثبوت دے رہے ہیں، دیانتدار افسروں کو رگڑا لگایا جا رہا ہے، ان حالات میں کوئی سول سرونٹ کسی فائل پر دستخط نہیں کرے گا۔

انہوں نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ نئے پاکستان میں بجلی ، گیس ہر چیز مہنگی کردی گئی، ان سے حکومت سنبھالی نہیں جا رہی ، ناتجربہ کاری اور نااہلی سے کام لیا جا رہا ہے۔

خواجہ سعد رفیق کا کہنا تھا کہ خارجہ امور میں بھی ان کی نااہلی صاف نظر آ رہی ہے،حکومت سی پیک کے منصوبے کو بھی سبو تاژ کررہی ہے،  حکومت اپنی اس کوشش کو ترک کردے، بھارت اپنی مہم جوئی سے باز نہیں آرہا ، افغانستان سے بھی تعلقات نارمل ہیں۔

فوج اور عدلیہ حکومت کی پشت پر کھڑے ہیں، فواد چوہدری

لاہور: وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ فوج اورعدلیہ حکومت کی پشت پر کھڑے ہیں جب کہ ادارے اور کابینہ ایک دوسرے کے ساتھ نہ ہوں تو معاملات میں بہتری مشکل ہے۔

لاہور میں میڈیا سے گفتگو میں وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ ہماری سیاست پر تنقید بھی بہت ہوگی اور تعریف بھی، ہم تبدیلی کے عمل کے ذریعے یہاں تک پہنچے ہیں، تبدیلی کے لیے پی ٹی آئی حکومت نے کام شروع کردیا اور عمران خان کی ذات خود تبدیلی کا بہت بڑا استعارہ ہے، عمران خان کی تصویر کے بغیر تحریک انصاف کے ارکان اسمبلی تک نہیں پہنچ سکتے تھے۔

فواد چوہدری نے کہا کہ ہمارے ملک کا متوسط طبقہ صحت، تعلیم اور سیکیورٹی کے موجودہ نظام سے مطمئن نہیں ہے، کرپشن کو ہمارا معاشرہ تسلیم کر چکا تھا جس کے خلاف عمران خان نے آواز اٹھائی۔ ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف نے اقتدار چھوڑا تو قرضہ 28 ٹریلین تک پہنچا ہوا تھا، ہم بھی اسی تناسب سے قرضہ لیں تو یہ 40 سے 45 ہزار کروڑ تک پہنچ جائے گا تاہم وزیراعظم نے عوام کو بتایا ہے کہ پہلی قربانی میں نے دی۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ سارک کانفرنس کے لئے 33 گاڑیاں 98 کروڑ کی منگوائیں اور کانفرنس ہی نہیں ہوئی، پی آئی اے 45 ارب روپے کا  نقصان کررہا ہے، پی ٹی وی اور ریلوے سمیت دیگر ادارے بھی خسارے میں ہیں جب کہ اب وزیراعظم ہاؤس کا خرچہ ایک ارب سے کم ہو کر چند لاکھ تک رہ گیا ہے۔

فواد چوہدری نے کہا کہ ہم نے دیگر ممالک کو سرمایہ کاری کی دعوت دی ہے جس سے نوکریاں پیدا ہوں گی اور لوگوں کو روزگار ملے گا، ہم نیک نیتی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ فوج اور عدلیہ حکومت کی پشت پر کھڑے ہیں جب کہ ادارے اور کابینہ ایک دوسرے کے ساتھ نہ ہوں تو معاملات میں بہتری مشکل ہے۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے وزیرخارجہ کا شاندار خطاب

adaria

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 73ویں سالانہ اجلاس سے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بھارتی الزام تراشیوں اور اس کی امن دشمن پالیسی کا پردہ چاک کرتے ہوئے کہا ہے کہ کشمیر کے مسئلے کا حل نہ ہونا خطے میں امن کے حصول میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے جبکہ منفی رویے کی وجہ سے مودی حکومت نے تیسری مرتبہ امن کے حصول کے لیے موقع گنوادیا ہے۔انھوں نے کہا کہ پاکستان اقوام متحدہ کی اس رپورٹ کا خیر مقدم کرتا ہے جس میں مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی کی نشاندہی کی گئی ہے ۔ پاکستان اس پر عمل کا مطالبہ کرتا ہے اور مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے آزاد کمیشن کے قیام کو خوش آمدید کرے گا۔قبل ازیں بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج نے جنرل اسمبلی سے خطاب میں وہی گھسا پٹا راگ الاپا اور وزرائے خارجہ کی ملاقات کی منسوخی کا ذمہ دار الٹا پاکستان کو ٹھہراتے ہوئے کہا کہ یہ کہنا سراسر جھوٹ ہے کہ یہ ہماری وجہ سے ہوا ہے۔سشما سوراج نے ایک بار پھر نجانے کس منہ سے یہ دعویٰ کر ڈالا کہ مختلف بھارتی حکومتوں نے امن کے لیے قدم اٹھائے لیکن ہر بار پاکستان کے رویے کی وجہ سے یہ عمل آگے نہ بڑھ سکا، حالانکہ ابھی ایک ہفتہ قبل ہی بھارت ایک دن’’ ہاں‘‘ اور دوسرے دن’’ ناں‘‘ کر کے رسوا ہوا ہے۔اپنی تقریر میں سشما سوراج نے ایک دفعہ بھی کشمیر کا ذکر نہیں کیا جو کہ اس ریجن کا کور ایشو ہے۔وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اسی لیے اپنی تقریر کا فوکس مسئلہ کشمیر رکھا اور کہا کہ بھارت نے اقوام عالم کے سامنے کشمیر میں ریاستی دہشت گردی کو فروغ دیا ہے جس کے سبب سات دہائیوں سے مقبوضہ کشمیر کے عوام انسانی حقوق کی پامالی سہتے آرہے ہیں۔انہوں نے لائن آف کنٹرول پر بھارت کی مسلسل خلاف ورزیوں کا ذکر کرتے ہوئے دنیا اور بھارت کو آگاہ بھی کیا کہ اگر اس نے اسے عبور کرنے کی کوشش کی تو پاکستان اس کا بھرپور جواب دے گا۔ہم سمجھتے ہیں کہ اتنے بڑے پلیٹ فارم یہ بھارت کو مسکت جواب دیا گیاہے۔شاہ محمود قریشی کا پورا خطاب قوم کی آواز ثابت ہوا کہ پہلی بار ایک بین الاقومی پلیٹ فارم پر سانحہ اے پی سی میں دہشت گردی اور کلبھوش یادیو کو کھل کر دنیا کے سامنے پیش کیا۔انھوں نے دو ٹوک الفاظ میں بتایا کہ پاکستان میں حالیہ برسوں میں ہونے والے بڑے دہشت گردی کے واقعات جیسے پشاور میں آرمی پبلک سکول پر حملہ اور مستونگ میں بم دھماکے کے تانے بنانے بھارت سے ملتے ہیں۔اسکا جیتا جاگتا ثبوت پاکستان کے زیر حراست انڈین نیوی کا اہلکار کلبھوشن یادیو بھی ہے جس نے ایسے شواہد فراہم کیے ہیں جس سے واضح ہو گیا ہے کہ انڈیا کا پاکستان میں دہشت گردی کے پیچھے مکمل ہاتھ ہے۔ساتھ ساتھ شاہ محمود قریشی نے یہ بھی کہا کہ بھارت بین الاقوامی برداری کے سامنے کشمیر اور ملک کے دیگر حصوں میں بھی دہشت گردی کھلے عام کر رہا ہے اور یہ بات تمام عالمی برادری کے لیے باعثِ تشویش ہونی چاہیے کہ وہ کس طرح انسانی حقوق سلب کر رہا ہے۔دوسری جانب شاہ محمود قریشی نے مسئلہ افغانستان پر بھی سیر حاصل گفتگو کی اور کہا افغانستان اور پاکستان کافی عرصے سے بیرونی قوتوں کی غلط فہمیوں کا نشانہ بن رہے ہیں۔انھوں نے ایک بار پھر اس عزم کو دوہرایا کہ اسلام آباد امن عمل کے لیے کابل میں ہونے والی کوششوں کی حمایت کرتا رہے گا۔وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ پاکستان طویل عرصے سے غیرملکی پناہ گزینوں کو پناہ دیتا آ رہا ہے جبکہ دوسری جانب دیگر ممالک پناہ گزینوں کو قبول کرنے سے انکار کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان افغان پناہ گزینوں کی وطن واپسی کا خواہاں ہے۔اس سلسلے میں دنیا کو پاکستان کی مدد کرنی چاہیے کیونکہ پاکستان ہمیشہ یواین کا ممد و معاون رہا ہے۔پاکستان اقوام متحدہ کے سب امن مشن دستے حصہ لیتا ہے۔آزادی سے لے کر اب تک اقوام متحدہ کے منشور کا پاسدار اور فعال رکن ہے ۔عالمی حالات کے بدلتے تناظر میں شاہ محمود قریشی نے نہایت جامع اور فکر انگیز تقریر کی،خصوصاً بھارت کے جارحانہ رویے اور اسکے جنوبی ایشیاء پر پڑنے والے منفی اثرات سے عالمی برادری کو بروقت آگاہ کیا ہے۔

چین کا امریکہ کو صائب مشورہ
چینی وزیرخارجہ وانگ ای نے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اجلاس کی سائیڈ لائنز پر کونسل آن فارن ریلیشنز سے خطاب کے دوران امریکہ صائب مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ کچھ امریکی سمجھتے ہیں کہ چین عالمی تسلط قائم کرنے جا رہا ہے، وہ امریکہ کی جگہ لے گا یا اسے چیلنج کرے گا، یہ سنگین غلطی ہے جو امریکی مفادات کو شدید نقصان پہنچائے گی۔چینی وزیر خارجہ نے مغرب کی سطحی اور فاسد سوچ سے پردہ اٹھاتے ہوئے درست کہا کہ پچھلے چندسو برسوں کے دوران مغرب میں ہوتا یہ رہا ہے کہ جو ملک مضبوط ہو جاتا ہے، وہ دوسرے ملکوں پر تسلط جمانے کی کوشش کرتا ہے، اب امریکی دوست بھی یہ سمجھتے ہیں کہ چین بھی ایسا ہی کرے گا، وہ امریکی طاقت کو ہٹا دے گا یا اسے چیلنج ضرور کرے گا۔انہوں نے اس سوچ اور نظریے کو قطعی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ نظریہ ایک سنگین اسٹریٹیجک غلطی ہے، انہوں نے کہا کہ یہ گمراہ کن قیاس آرائی امریکی مفادات اور خود امریکہ کے اپنے مستقبل کے لیے انتہائی نقصان دہ ہوگی۔چینی وزیرخارجہ نے کہا کہ افسوس ہے کہ یہ خودساختہ اندیشہ پھیلایا جا رہا ہے اور اسے تقویت بھی دی گئی ہے، اس سے نئے شکوک و شبہات جنم لے سکتے ہیں اور اہم مسائل کے حل میں مزید مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔یہ بات سو فیصد درست ہے کہ عالم مغرب برس ہا برس سے اسی غاصبانہ پالیسی پر کار بند رہا ہے کہ جس ملک نے معاشی طور طاقت حاصل کی اس نے خطے کے پڑوسی ممالک میں مداخلت کی اور اسے عدم استحکام سے دوچار کردیا۔اس کی بیسیوں مثالیں موجود ہیں۔بلاشبہ چین معاشی استحکام حاصل کرچکا ہے مگر اس کی پالیسی نہ جارحانہ نہ غاصبانہ، جو یورپ اور مغرب کا طرہ امتیاز ہے۔چین چاہتا ہے کہ اس کے اقتصادی استحکام کے فوائد خطے کے دیگر ممالک تک بھی پہنچیں ،یہی وجہ ہے کہ وہ ون بیلٹ ون روڈ کے ذریعے ریجن کو ایک لڑی میں پَرو رہا ہے۔یہ بات بھی درست ہے اس گیم چینجر منصوبے کے دور رس نتائج سے امریکہ اور اس کے حواری ملک خصوصاً بھارت کی نیندیں حرام ہو چکی ہیں اور وہ منفی پروپیگنڈہ میں مصروف ہیں،چین نے بے بنیاد خدشات کی نفی کر کے امریکہ کو صائب مشورہ دیا ہے کہ گمراہ کن قیاس آرائیاں خود امریکہ کے مفاد میں نہیں ہیں۔
پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں نہ بڑھانے کا احسن فیصلہ
حکومت نے اکتوبر میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں نہ بڑھا کر ایک اچھا فیصلہ کیا ہے جبکہ اوگرا نے تو پٹرولیم ڈویژن کو پٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں4روپے فی لیٹر اضافے کی سمری بھیجی تھی ۔گزشتہ روز وزیر خزانہ اسد عمر نے اعلان کیا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کوئی تبدیلی نہیں کی جارہی ہے۔ قبل ازیں وزیراعظم عمران خان نے وزیر خزانہ اسد عمر سے ملاقات کی اور انہیں ہدایت کی کہ پٹرولیم مصنوعات کی موجودہ قیمتیں برقراررکھی جائیں تاکہ عوام پر بے جا بوجھ نہ پڑے،تیل مصنوعات میں جب بھی اضافہ ہوتا ہے اسکا براہ راست اثر عام آدمی پر پڑتا۔پی ٹی آئی حکومت سے یہی توقع ہے کہ وہ اپنی پالیسیوں کو عوامی مفاد کے مطابق ڈھالے گی۔

’میں اور کم جونگ ان محبت میں مبتلا ہیں‘

امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ اور شمالی کوریا کے سپریم لیڈر کم جونگ ایک دوسرے کے ساتھ محبت میں مبتلا ہوگئے ہیں اور اس محبت کو کم جونگ ان کے خطوط نے مزید بڑھا دیا۔

فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ روز کو ورجینیا کے مغربی علاقے میں ری پبلکن پارٹی کے مقامی امیدواروں کی حمایت کے موقع پر کم جونگ ان کی تعریف کو نئی بلندیوں تک پہنچادیا۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے عوام کو بتایا کہ ‘اور پھر ہم محبت میں مبتلا ہوگئے؟ کم جونگ ان نے مجھے خوبصورت خط لکھے اور وہ اعلیٰ خطوط ہیں، جن کی وجہ سے ہمیں محبت ہوگئی‘۔

چند روز قبل اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں خطاب کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ نے کم جونگ کو طاقت ور شخص قرار دے دیا تھا جنہیں اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی دیگر تنظیموں کی جانب سے کئی جرائم کا ذمہ دار ٹھہرا گیا تھا۔

ڈونڈ ٹرمپ نے 26 ستمبر کو کہا تھا کہ انہیں کم جونگ ان کی جانب سے ایک غیر معمولی خط موصول ہوا جس میں دونوں سربراہان کے درمیان دوسرے معاہدے کا تذکرہ کیا گیا تھا۔

خیال رہے کہ رواں سال 12 جون کو سنگاپور کے ایک شاندار ہوٹل میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے شمالی کوریا کے سپریم لیڈر کم جونگ ان نے ملاقات کی تھی۔

اس ملاقات کے بعد شمالی کوریا کے 70 ویں یوم آزادی کے موقع پر جوہری تنصیبات کی نمائش سے گریز کیا گیا تھا۔

خیال رہے کہ گزشتہ برس ڈونلڈ ٹرمپ نے کِم جونگ اُن کے قد اور وزن کا مذاق اڑاتے ہوئے انہیں ’چھوٹا راکٹ مین‘ قرار دیا، جس کے جواب میں شمالی کوریا کے رہنما نے امریکی صدر کو ’پاگل‘ اور ’احمق‘ قرار دیا تھا۔

دونوں ممالک کے سربراہان کے درمیان گزشتہ برس سے چند ماہ قبل تک لفظی جنگ جاری رہی جس میں دونوں رہنماؤں نے ایک دوسرے کی تضحیک بھی کی اور جنگ کی دھمکیاں بھی دیں۔

شمالی کوریا اور امریکا کے درمیان تناؤ گزشتہ برس اس وقت شدید ہوگیا تھا جب شمالی کوریا نے امریکی علاقے گوام کو میزائل حملے کا نشانہ بنانے کی دھمکی دی تھی۔

واضح رہے کہ رواں سال مارچ میں ڈونلڈ ٹرمپ نے شمالی کوریا کے سپریم لیڈر کِم جونگ اُن سے پہلی تاریخی ملاقات کرنے پر رضامندی ظاہر کی تھی۔

یاد رہے کہ 27 اپریل کو شمالی کوریا کے سپریم لیڈر کم جونگ اُن ڈمارکیشن لائن عبور کرکے پہلی مرتبہ جنوبی کوریا پہنچے تھے جہاں انہوں نے شمالی و جنوبی کوریا کی سربراہی کانفرنس میں شرکت کی تھی۔

بعدِ ازاں 29 اپریل کو جنوبی کوریا کے صدر مون جے اِن نے دعویٰ کیا تھا کہ رواں برس مئی میں شمالی کوریا کی جوہری ہتھیاروں کے تجربات کرنے والی سائٹ بند ہوجائے گی۔

سندھ اسمبلی نے رواں مالی سال کے9 ماہ کے بجٹ کی منظوری دیدی

 کراچی: سندھ اسمبلی نے رواں مالی سال کے باقی 9 ماہ کے بجٹ کی منظوری دے دی۔

اسپیکر آغا سراج درانی کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں بحث مکمل ہونے کے بعدآئندہ 9 ماہ  کا  8 کھرب 51 ارب 90 کروڑ روپے سے زائد کا بجٹ منظور کرلیا گیا۔

بجٹ کی منظوری کے وقت حکومت کی جانب سے 153مطالبات زر پیش کئے گئے جن کی ایوان نے مرحلہ وار کثرت رائے سے منظوری دی ۔ اپوزیشن کے مختلف ارکان نے کٹوتی کی مجموعی طور پر 113تحاریک پیش کی تھیں جنہیں ایوان کی جانب سے کثرت رائے سے رد کیاگیا، بجٹ کی منظوری کے وقت قائد حزب اختلاف فردوس شمیم نقوی نے بھی کٹوتی کی کئی تحاریک پیش کی تھیں لیکن انہوں نے اچانک اپنی تمام تحاریک واپس لینے کا اعلان کردیا۔اپوزیشن ارکان کی کٹوتی کی یہ تحاریک مختلف حکومتی اخراجات سے متعلق تھیں۔

چترال میں دہشت گردوں کا اسکول پر حملہ، عمارت تباہ

چترال: پاک افغان بارڈر ارندو گول میں دہشت گردوں نے گورنمنٹ پرائمری اسکول پر حملہ کردیا تاہم خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

چترال میں پاک افغان بارڈر ارندو گول میں واقع گورنمنٹ پرائمری اسکول پر دہشت گردوں نے حملہ کردیا۔   دہشت گردوں نے اسکول میں گھس کر فائرنگ کی اور دستی بموں سے حملہ کیا جس سے اسکول کی عمارت تباہ ہوگئی۔

واقعے کی اطلاع ملنے کے بعد پولیس کی بھاری نفری متاثرہ اسکول کا معائنہ کرنے گئی تو دہشت گردوں نے پولیس پارٹی پر بھی فائرنگ شروع کردی، پولیس کی جوابی فائرنگ پر جنگل میں چھپے دہشت گرد فرار ہو گئے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ اسکول کی چھٹی ہونے کی وجہ سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، تاہم اسکول کی عمارت مکمل طور پر تباہ ہو گئی ہے۔

Google Analytics Alternative