Home » 2018 » October » 10

Daily Archives: October 10, 2018

کینیا میں بس حادثے میں 50 افراد ہلاک

کینیا کے مغربی علاقے میں بس کے ایک خوفناک حادثے میں 50 افراد ہلاک ہو گئے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق کینیا کی کریچو کاؤنٹی میں بس ڈھلوان کی طرف جاتے ہوئے بے قابو ہو کر سڑک سے اتر گئی اور کھائی میں جا گری۔

پولیس کے مطابق نیروبی سے کاکا میگا جانے والی مسافر بس میں حادثے کے وقت 52 افراد سوار تھے۔

حکام کے مطابق حادثے میں 50 افراد ہلاک اور دو شدید زخمی ہوئے، زخمیوں کو اسپتال میں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔

حادثے کا شکار ہونے والی بس کی چھت مکمل طور پر الگ ہو گئی۔ فوٹو: رائٹرز

کینیا میں روڈ حادثات میں بڑے پیمانے پر اموات واقع ہوتی ہیں۔

دسمبر 2017 میں بھی کینیا میں بس اور ٹرک میں تصادم کے نتیجے میں 36 افراد ہلاک ہو گئے تھے جب کہ 2016 میں ایک فیول ٹینکر بے قابو ہو کر متعدد گاڑیوں پر چڑھ گیا تھا جس کے نتیجے میں 40 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

حکومتی اعداد و شمار کے مطابق کینیا میں ہر سال 3 ہزار افراد ٹریفک حادثات میں ہلاک ہو جاتے ہیں جب کہ عالمی ادارہ صحت کے مطابق یہ تعداد 12 ہزار کے لگ بھگ ہے۔

ہماری حکومت ہی ملکی معیشت کو دلدل سے نکالے گی، وزیر اعظم

اسلام آباد: وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ عوام کو ریلیف دینا چاہتے ہیں اور یہ واحد حکومت ہوگی جو معیشت کو دلدل سے نکالے گی۔

وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت سینئرپارٹی رہنماؤں کا اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں شاہ محمود قریشی، پرویز خٹک، شفقت محمود، شیریں مزاری، اعظم سواتی، شبلی فراز، علی محمد خان اور عثمان ڈار سمیت دیگرنے شرکت کی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم نے پارٹی رہنماؤں کو آئی ایم ایف سے رجوع کرنے کی وجوہات بتائیں اور معاشی پالیسیوں کے حوالے سے آگاہ کیا۔ وزیر اعظم نے پارٹی رہنماؤں کو حکومتی موقف کے دفاع کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ حکومتی موقف درست انداز میں میڈیا اور عوام کے سامنے پیش کیا جائے۔

وزیر اعظم نے مزید کہا کہ عوام کو ہر معاملے پر اعتماد میں لیں ہم عوام کو ریلیف دینا چاہتے ہیں اور یہ واحد حکومت ہوگی جو معیشت کو دلدل سے نکالے گی۔

 

حکومت انتقامی سیاست کر رہی ہے، نواز شریف

اسلام آباد: سابق وزیراعظم نواز شریف کا کہنا ہے کہ حکومت انتقامی سیاست کر رہی ہے اور اگر اس کو احتساب کہتے ہیں تو بہت افسوس ہے۔

احتساب عدالت میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو میں سابق وزیراعظم نواز شریف نے حکومت اور نیب پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ آمدن سے زائد اثاثوں کے الزام پر کوئی بھی پاکستانی نہیں بچ سکتا، امیر ہو یا غریب، جائیداد بیچنے پر مکمل آمدن ظاہر نہیں کرتا، حکومت انتقامی سیاست کر رہی ہے، ہم نے درگزر کرنے کی اچھی روایات ڈالیں، ہماری حکومت نے کوئی سیاسی انتقامی کارروائی نہیں کی تاہم اگر اس کو احتساب کہتے ہیں تو بہت افسوس ہے۔

50 گرفتاریوں کی باتیں حکومت کو کون بتا رہا ہے

نواز شریف نے کہا کہ وزیراعظم اور وزراء کے منہ سے خود باتیں نکل رہی ہوں تو اس کو کیا کہا جائے، حکومت کے لوگ کہہ رہے ہیں 50 لوگ اور گرفتار ہوں گے، وزیراعظم بھی یہی بات بول رہے ہیں کیا یہ باتیں حکومت کے کہنے کی ہیں، 50 گرفتاریوں کی باتیں حکومت کو کون بتا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فواد حسن فواد کے وعدہ معاف گواہ بننے کی بات معلوم نہیں، نیب میں سلمان شہباز کو بلانے سے بڑا مذاق کیا ہوگا۔

اب سب کو ہوش کے ناخن لینے چاہئیں

صحافی کی جانب سے سوال پر کہ ڈالر 136 کا ہوگیا ہے، نواز شریف نے کہا کہ اب سب کو ہوش کے ناخن لینے چاہئیں اور نیب سمیت مشرف دور کے تمام کالے قانون ختم ہونے چاہئیں، ابھی میرا بات کرنے کا دل نہیں کرتا، بولوں گا لیکن ابھی نہیں۔

شہباز شریف نے محنت اور جاں فشانی سے کام کیا

نواز شریف نے کہا کہ شہباز شریف نے دیانت داری پر کسی کو انگلی نہیں اٹھانے دی، شہباز شریف نے محنت اور جاں فشانی سے کام کیا، صبح دیکھی نہ شام، دن رات کام کیا، انہوں نے خود کو بیمار کرلیا اور کینسر میں مبتلا ہوگئے۔ انہوں نے کہا کہ جس کمپنی کو شہباز شریف نے ٹھیکا دینا مناسب نہیں سمجھا، کے پی حکومت نے اس کو ٹھیکا دیا، کے پی حکومت نے ٹھیکا کیوں دیا نیب کو تحقیقات کرنی چاہیے، ایسے کاموں پر ریفرنس دائر ہونا چاہیے۔

سابق وزیراعظم نے کہا کہ پاکستانی اور غیر ملکی شہباز شریف کے کام کی تعریف کرتے ہیں، موجودہ حکومت کے کچھ لوگوں نے شہباز شریف پر الزام لگایا، چینی حکومت کی وضاحت پر شہباز شریف پر الزام لگانے والوں کو منہ کی کھانا پڑی، ایسے لوگوں کے ساتھ ایسا سلوک دکھ کی بات ہے۔

ملک آگے بڑھانے کیلئے در گزر سے کام لینا ہوگا

نواز شریف کا کہنا تھا کہ ملک آگے بڑھانے کیلئے در گزر سے کام لینا ہوگا، یہ ملک پہلے ہی بیٹھ چکا ہے، ایسا ہوتا رہا تو اور بیٹھ جائے گا اور نظام درست ہونے میں وقت لگے گا۔

اپوزیشن جماعتوں نے قومی اسمبلی کے باہر احتجاجی اجلاس طلب کرلیا

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کی گرفتاری کے خلاف ان کی جماعت نے قومی اسمبلے کے گیٹ کے باہر اپوزیشن جماعتوں کا اجلاس طلب کر لیا۔

مسلم لیگ (ن) کی جانب سے جاری ہونے والے اعلامیے کے مطابق اپوزیشن جماعتوں کا اجلاس جمعرات، 11 اکتوبر کی سہ پہر 3 بجے قومی اسمبلی کے گیٹ نمبر ایک پر ہو گا۔

اعلامیے کے مطابق اپوزیشن جماعتوں کا یہ اجلاس سابق اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے طلب کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ اجلاس کو اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کی گرفتاری کے خلاف طلب کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اپوزیشن نے قومی اسمبلی اجلاس طلب کرنے کی ریکوزیشن بھیجی تھی جسے حکومت نے قبول نہیں کیا گیا جس کی وجہ سے اپوزیشن نے احتجاجی اجلاس بلا یا جارہا ہے۔

اجلاس میں قومی اسمبلی و سینیٹ کے حزب اختلاف کے اراکین شریک ہوں گے۔

واضح رہے کہ 6 اکتوبر کو اپوزیشن جماعتوں نے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف کی گرفتاری پر اسپیکر اسد قیصر سے ایوانِ زیریں کا اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا تھا۔

اپوزیشن اراکین نے اسپیکر قومی اسمبلی سے اپوزیشن لیڈر کی گرفتاری پر ایوان کا اجلاس بلانے اور ان کے حفاظتی احکامات جاری کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

اسپیکر قومی اسمبلی نے اپوزیشن اراکین کو یقین دلایا کہ آئندہ 14 روز میں اپوزیشن لیڈر کی گرفتاری پر ایوان کا اجلاس بلایا جائے گا جبکہ اس معاملے میں حفاظتی احکامات بھی جاری کیے جائیں گے۔

گزشتہ روز پاکستان مسلم لیگ (ن) کی سینٹرل کمیٹٰ کے اجلاس میں پارٹی صدر اور سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کی گرفتاری کے خلاف ملک گیر احتجاج کا اعلان کیا گیا تھا۔

اجلاس کے بعد رانا ثنااللہ نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ اگر کل (منگل) تک قومی اسمبلی اور پنجاب اسمبلی کا اجلاس نہیں بلایا جاتا تو بدھ کے روز دونوں عمارتوں کے باہرشہباز شریف کی گرفتاری کے خلاف اپوزیشن احتجاج کرے گی۔

پاکستان اور چین کے درمیان 20 کروڑ ڈالر کے 11 معاہدوں پر دستخط

اسلام آباد: پاکستان اور چین کے درمیان 20کروڑ ڈالر کے 11 معاہدوں پر دستخط کیے گئے ہیں۔

پاکستان اور چین کے درمیان معاہدوں پر دستخط چینی خریدار کمپنیوں کے وفد کے دورہ پاکستان کے موقع پر کئے گئے۔

چینی سفارتخانے کے کمرشل اتاشی کے مطابق سی فوڈ، اسٹیل اور زراعت کے شعبوں میں سرمایہ کاری کے معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کئے گئے ہیں۔

کمرشل اتاشی کا کہنا  تھا کہ چینی حکومت پاکستان اور چین کے درمیان غیر متوازن تجارتی حجم سے آگاہ ہے اور پاکستان کے ساتھ غیر متوازن تجارتی حجم کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔

حکومت کاآئی ایم ایف سے رجوع کرنے کافیصلہ

adaria

عمران خان نے حکومت میں آنے سے قبل قوم سے یہ وعدہ کیاتھا کہ وہ آئی ایم ایف کسی صورت نہیں جائیں گے لیکن اقتدار میں بیٹھ کراوراقتدار سے باہر رہ کر بالکل مختلف حالات کاسامنا ہوتا ہے۔اس وجہ سے کچھ کٹھن فیصلے کرناپڑتے ہیں مگر ان فیصلوں کو کرتے وقت ہرحکومت کو ایک بات ملحوظ خاطررکھناچاہیے کہ آیا جو وہ فیصلے کرنے جارہی ہے وہ عوام کے مفاد میں ہیں بھی یانہیں ۔اول تو یہ روایت آج تک ختم ہی نہ ہوسکی کہ ہرآنیوالی حکومت سابقہ حکومت کو روتی پیٹتی رہتی ہے کہ اسے خزانہ خالی ملا ہے۔سواب بھی یہی تاریخ دہرائی جارہی ہے یاتو بلندوبانگ دعوے نہیں کرنے چاہئیں اوراگر کئے جائیں تو پھر اس کامتبادل حل لازمی ہوناچاہیے۔ یہ بات درست ہے کہ آئی ایم ایف سے رجوع کئے بغیر حکومت شدید ترین معاشی بحران کاشکار ہوجائے گی مگر آئی ایم ایف نے جو شرائط عائد کی ہیں جن میں اس نے ڈالر کی قیمت میں اضافہ پندرہ روپے فی ڈالر اور بجلی کے فی یونٹ میں اکیس روپے تک رکھاہے ۔ کیا حکومت نے حساب کیاہے کہ اگر ڈالر ڈیڑھ سو روپے کاہوگیا تو قرضے کہاں تک جائیں گے اور بجلی کے یونٹ میں متعلقہ اضافہ کردیاگیا تو عوام کتنا کسمپرسی کی شکارہوگی۔پہلے ہی مہنگائی کی وجہ سے پوری قوم جکڑی ہوئی ہے دووقت کی روٹی مشکل ہوتی جارہی ہے ۔حکومت کوچاہیے کہ وہ اپنے عنان اقتدار کے معاملات ضرور چلائے مگرجن لوگوں نے انہیں ووٹ دیئے ہیں ان کی زندگی کو بھی سہل بنانے کے لئے اقدامات کرے۔وزیراعظم نے آئی ایم ایف جانے کی منظوری دیدی ہے ان کی شرائط پر غوروخوض جاری ہے۔ عالمی بنک اور آئی ایم ایف کا سالانہ اجلاس رواں ہفتے کے آخر میں شروع ہو رہا ہے۔ حکومت نے اقتدار سنبھالنے کے فوری بعد ملک کی معاشی صورتحال پر سنگین تشویش ظاہر کی تھی اور اس پر قابو پانے کیلئے تمام دستیاب آپشن کا جائزہ لیا جا رہا تھا۔ حکومت کو 6.6فیصد مالی خسارہ ورثہ میں ملا ہے۔ ایک ہزار ارب روپے سے زائد توانائی سیکٹر کے نقصانات کو حسابات میں لیا ہی نہیں گیا تھا، کرنٹ اکانٹ کا خسارہ 2ارب ڈالر ماہانہ ہے۔ حکومت نے معاشی میکرو اکنامک استحکام کیلئے منی بجٹ منظور کرایا اور سٹیٹ بینک نے پالیسی ریٹ میں اضافہ کیا۔ حکومت نے اس حوالے سے دوست ممالک سے بھی صلاح مشورہ کیا۔ دوست ممالک سے انگیجمنٹ بھی جاری رکھی جائے گی۔ نئی حکومت آئی ایم ایف سے رجوع کرنے کیلئے مجبور ہو رہی ہے۔ پاکستان کو 8سے 10ارب ڈالر کے پروگرام کی ضرورت ہے۔پروگرام پر بات چیت مکمل ہونے میں 8 سے 10ہفتے لگیں گے۔پاکستانی قوم نے ہمیشہ ملک حالات کا کامیابی سے مقابلہ کیا مشکل معاشی حالات کا پوری قوم کو ادراک ہے۔ ہمیشہ سابق حکومتیں نئی حکومت کیلئے معاشی بحران چھوڑ کر گئیں۔دوسری جانب آئی ایم ایف نے قرضے کیلئے پاکستان کے سامنے 20 شرائط رکھ دیں ،روپے کی قدرمیں کمی اور ڈالر کی قیمت میں اضافہ کرنے کی شرط سرفہرست ہے۔ آئی ایم ایف کی شرط ہے کہ ڈالر کی قیمت میں 15 فیصد تک اضافہ کیا جائے۔ اضافے سے ڈالر کی قیمت 150 روپے تک پہنچ جائے گی۔ آئی ایم ایف نے بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافے کا مطالبہ کیا ہے اور شرط رکھی ہے کہ بجلی کی فی یونٹ قیمت 21 روپے تک کی جائے۔ مطالبہ پورا کرنے کیلئے چار روپے یونٹ تک اضافہ کرنا ہو گا۔ آئی ایم ایف کی شرط ہے کہ دیا گیا قرض سرکلر ڈیٹ کی ادائیگی میں استعمال نہیں ہو گا۔ اس وقت سٹاک ایکسچینج میں شدید مندی کابحران ہے سوانڈیکس میں 1328پوائنٹس کی کمی ہوگئی جس کی وجہ سے سرمایہ کاروں کے 238ارب ڈوب گئے ہیں روپے کی قدر میں بھی کمی ہوئی ہے۔ایسے اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے کہ ملک معاشی طورپراپنے پیروں پرکھڑا ہوسکے اور عوام کو بھی ریلیف ملے۔
غوری میزائل کا کامیاب تجربہ
پاکستان نے غوری میزائل سسٹم کا کامیاب تجربہ کیا جس میں غوری میزائل روایتی اور جوہری ہتھیاروں کے ساتھ1300کلو میٹر تک ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے، پاکستان کے اس کامیاب تجربے سے دشمن کی نیندیں اڑ گئیں ہیں چونکہ گزشتہ دنوں بھارت اور روس کے مابین جدید ترین میزائل کا معاہدہ ہوا جس کے تحت خطے میں امن و امان کی صورتحال ڈنواڈول ہونے کا خدشہ تھا، روس نے ایک دفعہ پھر بھارت کی جانب اپنے جھکاؤ کا اظہار کیا ہے لیکن پاکستان بھی کسی طرح کسی سے پیچھے نہیں ، جوہری صلاحیت کے اس میزائل کے تجربے سے ملکی استحکام کو مزید مضبوطی ملی ہے، صدر، وزیراعظم اور مسلح افواج کی قیادت نے آرمی اسٹرٹیجک فورسزکمانڈ کو سراہا اور مبارکباد پیش کی۔ پاکستان ٹیکنالوجی کے اعتبار سے بہت زرخیز ملک ہے اور ہر قیمت پر خطے میں امن و امان کے قیام کا داعی ہے لیکن ملکی استحکام پر کسی بھی قسم کی سودے بازی نہیں کی جاسکتی۔
سچی بات میں ایس کے نیازی کے بے لاگ تبصرے
شہبازشریف کی گرفتاری کابغورجائزہ لیاجائے تو پتہ چلتا ہے کہ آشیانہ ہاؤسنگ سکیم کاکیس سابقہ دور حکومت میں ہوا البتہ اداروں نے اب ان پرہاتھ ڈالا ہے اس گرفتاری سے قبل رانامشہود کاخود ساختہ بیان جس میں انہوں نے کہاتھا کہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ معاملات طے ہوگئے ہیں اورآئندہ جلدآنیوالے وقت میں پنجاب میں مسلم لیگ نون کی حکومت ہوگی۔ ایک تو وہ میڈیا سے کچھ دور تھے اس لئے انہوں نے ایک ایسا بے سروپابیان داغ دیا جس کو خودنون لیگ نے بھی تسلیم نہیں کیا۔شہبازشریف کی گرفتاری کے حوالے سے روز نیوز کے پروگرام سچی بات میں گفتگو کرتے ہوئے چیف ایڈیٹر پاکستان گروپ آف نیوز پیپرز اور سینئر اینکر پرسن ایس کے نیازی نے کہا کہ آشیانہ ہاؤسنگ اسکیم کیس پی ٹی آئی حکومت سے پہلے کا ہے،انتقامی کارروائی تب ہوتی اگر اس حکومت میں کیس شروع ہوتا،رانا مشہود نے جان بوجھ کر ایک شوشہ چھوڑا،شہباز شریف نے کتنے کا کام کتنے میں کیا سوال یہ ہے۔چیئرمین نیب سوچ سمجھ کر کام کرتے ہیں،،نیب ریفرنس پر بابر اعوان کو بھی اپنا عہدہ چھوڑنا پڑا،بلوچستان میں پانی کا بہت مسئلہ ہے،پینے کا صاف پانی نہیں،بلوچستان توجہ طلب معاملہ ہے،وہاں بہت معدنیات ہیں۔سچی بات میں اس موضوع پرسیرحاصل گفتگو کی گئی کہ شہبازشریف کی گرفتاری کوئی انتقامی کارروائی نہیں اورحقیقت بھی یہی ہے اس میں انتقام کہاں سے،اگرکرپشن کی ہے تو سزالازمی ملناچاہیے صرف شہبازشریف ہی نہیں تحریک انصاف کو اپنی صفوں میں بھی اس حوالے سے آپریشن کرناہوگا جب تمام ترمفادات ،تعلقات اوراقرباپروری سے بالاترہوکرکرپٹ افراد کے خلاف گھیراتنگ کیاجائے گا تب ہی نظام ٹھیک ہوگا۔ جب اس ملک کے ادارے آزاد ہوں گے تو پھر نظام خود بخود ٹھیک ہونا شروع ہو جائے گا، حکومت نے اس جانب قدم اٹھانا شروع کردئیے ہیں، امید واثق ہے کہ بہتر نتائج برآمد ہوں گے،ایس کے نیازی کایہ خاصا رہا ہے کہ انہوں نے ہمیشہ ان موضوعات کوزیربحث رکھا جوکہ وقت کی ضرورت ہو اور عوامی مسائل کوحل کرنے کا بھی خاطرخواہ ذکرکیا،پانی کامسئلہ ہویاملک میں کرپشن کا،ایس کے نیازی کاہمیشہ بے لاگ اورسچے تبصرے زبان زدعام رہے۔

اسرائیل کا شام میں فضائی حملے جاری رکھنے کا اعلان

اسرائیل کے وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے روس کی جانب سے شام کو جدید ایئر ڈیفنس سسٹم ( ایس 300) کی ترسیل کے باوجود فضائی حملے جاری رکھنے کا عندیہ دے دیا۔

خبررساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق نیتن یایو نے روس کے وائس پریمئر میکزم ایکی موو کو بتایا کہ وہ شام میں دشمنوں کے ٹھکانوں پر فضائی حملے جاری رکھیں گے۔‘

نیتن یاہو نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ روس کی جانب سے شامی افواج کو ایس 300 میزائل سسٹم کی فراہمی کے باوجود اسرائیل شام میں موجود ایران اور اس کے اتحادیوں کے خلاف اپنا دفاع جاری رکھے گا، جو اسرائیل کو نقصان پہنچانے کی کوشش میں ہیں۔‘

خیال رہے کہ گزشتہ ماہ شام میں روسی طیارے کے حادثے کے بعد سے روس کے اعلیٰ عہدیدار سے نیتن یاہو کی یہ پہلی ملاقات تھی۔

شامی فضائیہ نے روسی فوجی طیارے کو غلطی سے اسرائیل کی جانب سے مبینہ میزائل حملہ تصور کر کے مار گرایا تھا جس میں عملے سمیت 15 افراد سوار تھے۔

تاہم روس کی جانب سے 17 ستمبر کو ہونے والے اس حادثے کا ذمہ دار اسرائیل کو ٹھہرایا گیا تھا۔

روسی فوج کا کہنا تھا کہ ‘اسرائیلی پائلٹس شامی اہداف پر حملے کررہے ہیں اور شامی ائیر ڈیفنس سے ہونے والے فائر کو بے نقاب کرنے کے لیے روسی طیارے کو کور کے طور پر استعمال کیا گیا’۔

اس حملے کے رد عمل میں روس نے شام میں موجود اپنی فوج کے حفاظتی اقدامات کے لیے نئے اقدامات میں دمشق کو ایس 300 نامی میزائل فراہم کرنے کا اعلان بھی شامل تھا۔

تاہم روس کے وائس پریمیئر سے ملاقات نیتن یاہو پُر امید ہیں کہ روس اور اسرائیل کے درمیان جاری حالیہ تنازع جلد حل ہوجائے گا۔

انہوں نے کہا کہ ’ میرا خیال ہے کہ کامن سینس اور نیک خواہشات کے ذریعے ہم ایک ایسا حل نکال سکتے ہیں جو روسی اور اسرائیلی افواج کے درمیان تعاون کو جاری رکھے گا۔‘

اس سے قبل اتوار ( 7 اکتوبر ) کو ہفتہ وار کابینہ کے اجلاس میں نیتن یاہو نے روس کے صدر ولادیمر پیوٹن سے ملاقات کا ارادہ ظاہر کیا تھا۔

واضح رہے کہ ستمبر میں روسی طیارے کے حادثے کے بعد دونوں رہنما ٹیلیفون پر تین مرتبہ گفتگو کرچکے ہیں۔

اسرائیل اب تک شام میں سینکڑوں فضائی حملے کرچکا ہے جن سے متعلق اس کا مؤقف ہے کہ ان کا ہدف ایرانی اور حزب اللہ کے ٹھکانے ہوتے ہیں۔

امیتابھ بچن کا اپنی 76 ویں سالگرہ نہ منانے کا فیصلہ

 ممبئی: بالی ووڈ کے لیجنڈ اداکار امیتابھ بچن نے اپنی 76 ویں سالگرہ نہ منانے کا فیصلہ کیا ہے۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق بچن فیملی کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ فلم نگری کے لیجنڈری اداکار امیتابھ بچن اس بار اپنی 76 ویں سالگرہ نہیں منائیں گے جس کی اصل وجہ اُن کی بیٹی شوئتا کے ساس اور سسر کا رواں سال انتقال ہونا ہے، ساتھ ہی انہیں آنجہانی اداکار راج کمار کی اہلیہ کرشنا راج کپور کے انتقال کا بھی دکھ ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ امیتابھ بچن اپنے ساتھی اداکار رشی کپور کی طبیعت کو لے کر پریشان ہیں جوکہ ان دنوں اپنے علاج کی وجہ سے امریکا میں قیام پذیر ہیں چنانچہ ان تمام باتوں کی وجہ سے امیتابھ بچن کا اپنی سالگرہ کو سادگی کے ساتھ بھی منانے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔

واضح رہے کہ 11 اکتوبر 1942ء کو بھارتی ریاست اترپردیش کے شہر الہٰ آباد میں پیدا ہونے مشہور اداکار امیتابھ بچن نے فلمی کیرئیر کا آغاز 1969ء میں فلم ’’سات ہندوستانی‘‘ سے کیا جب کہ 70 کی دہائی میں ’’اینگری ینگ مین‘‘ کے نام سے مشہور ہونے والے بگ بی 47  سالہ فنی کیریئر میں اب تک 180 سے زائد فلموں میں کام کرکے 12 فلم فیئر ایوارڈز حاصل کرچکے ہیں۔

Google Analytics Alternative