Home » 2018 » October » 11

Daily Archives: October 11, 2018

وزیراعظم کا 50 لاکھ گھروں کی تعمیر کیلیے ’’نیاپاکستان ہاؤسنگ اتھارٹی‘‘ قائم کرنے کا اعلان

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے پانچ سالوں  میں  50 لاکھ گھروں کی تعمیر کیلیے ’’نیاپاکستان ہاؤسنگ اتھارٹی‘‘ قائم کرنے کا اعلان کردیا۔

اسلام آباد میں نیا پاکستان ہاؤسنگ منصوبے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ منصوبے پر عملدرآمد کرانے کے لیے ’ نیا پاکستان ہاوسنگ ‘اتھارٹی قائم کی جائے گی جہاں ’ون ونڈو‘ سسٹم کے تحت تمام سہولیات فراہم کی جائیں گی اور اس اتھارٹی کی نگرانی بذات خود کروں گا، یہ اتھارٹی 90 دن میں قائم کی جائے گی تاہم جب تک اتھارٹی قائم نہیں ہوتی اس دوران ٹاسک فورس ہاؤسنگ اسکیم پر کام کرے گی۔

وزیراعظم نے  کہا کہ گھروں کی تعمیر پرائیویٹ ادارے کریں گے جب کہ رکاوٹیں ختم کرنا اور تعاون کرنا حکومت کا کام ہوگا، کنسٹرکشن انڈسٹری کی راہ میں قانونی رکاوٹوں کوبھی دور کریں گے،ہم عام لوگوں کو گھربنا کردیں گے،نوجوان کنسٹرکشن کمپنی خود شروع کریں اور انڈسٹری میں شامل ہوں ہماری کوشش ہے کہ بیروزگار نوجوان ہاؤسنگ اسکیم سے روزگار لیں۔

عمران خان نے کہا  کہ پاکستان کے 7 شہروں میں پائلٹ پراجیکٹ شروع کررہے ہیں، گھروں کے لیے60 دنوں میں رجسٹریشن مکمل کرنی ہے جب کہ اسٹیٹ بینک کے ساتھ مل کر نیشنل فنانشل ریگولٹری باڈی تشکیل دیں گے یہ ریگولٹری باڈی کا قیام 60 دنوں میں ہوجائےگا۔

وزیراعظم نے فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہاؤسنگ اسکیم شروع کرنے کا بھی اعلان کرتے ہوئے کہا کہ کل سے ایک ہاؤسنگ اسکیم سرکاری ملازمین کیلیے شروع کررہے ہیں۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا  کہ  موجودہ بحران سے نکلنے اور قرضے کی قسطیں ادا کرنے کے لیے ہمیں مزید قرضے چاہیئں ،ماضی کی حکومتوں نے بےدردی سے قرضہ لیا اور اس وقت ملکی قرضہ 30ہزار ارب ہے یہ پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا خسارہ ہے  جب کہ ہر سال 10 ارب ڈالر کی منی لانڈرنگ ہوتی ہے اگر منی لانڈرنگ روک دی جاتی تو آج ہمیں ڈالر کی کمی سامنا نہ ہوتا۔

الیکشن کمیشن نے آئی جی پنجاب کا تبادلہ غیر قانونی طور پرروکا، فواد چوہدری

اسلام آباد: وفاقی وزیراطلاعات بیرسٹر فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن نے غیر قانونی طور پر آئی جی کے تبادلے کو روکا۔

اسلام آباد میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے وفاقی وزیراطلاعات و نشریات فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کو جو سہولت دی جاسکتی ہے ان کا ساتھ دے رہے ہیں اور ان کے جائز مطالبات پورے کرنے کے لیے تیار ہیں تاہم ان کے مطالبات کچھ  زیادہ  ہیں، اپوزیشن سے لوٹے ہوئے پیسوں کا نہ پوچھا جائے تو حکومت اچھی ہے، ان کی جمہوریت کا مطلب سب کرپٹ لوگ مل جائیں۔

وفاقی وزیرنے کہا کہ  اپوزیشن کا شور شرابے کا مقصد ہے کہ ان سے پیسوں کے بارے میں نہ پوچھا جائے، لیکن احتساب کا سلسلہ نہیں رکے گا اور اس کو چلنا ہے، تحریک انصاف کو مینڈیٹ اس نظام کےخلاف ملا ہے، عوام سے کئے وعدوں کو پورا کیا جائے گا۔

فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن نے آئی جی پنجاب کے تبادلے کو غیر قانونی طور پر روکا، ضمنی انتخابات محدود حلقوں میں ہو رہے ہیں اس لئے پورے صوبے میں تبادلوں پر پابندی نہیں لگائی جا سکتی ، الیکشن کمیشن کو خط لکھا ہےکہ آئی جی کے تبادلے سے متعلق حکم واپس لیں۔ سانحہ ماڈل ٹاؤن تحقیقات سے متعلق پیش رفت نہ ہونے پرآئی جی کا تبادلہ کیا، سانحہ ماڈل ٹاؤن پر آزادانہ تحقیقات کرائیں گے۔

وزیر اطلاعات نے کہا کہ بیوروکریسی پر منتخب نمائندوں کا احترام لازم ہے، کوئی ایم این اے یا ایم پی اے آپ کو فون کریں، جواباً آپ ان کو فون نہ کریں ایسا نہیں ہو سکتا، بیوروکریسی کا کام پالیسی بنانا نہیں، پالیسی پر عملدرآمد کرنا ہے، جو ہماری پالیسی پر عملدرآمد نہیں کرے گا اس کو گھر جانا ہوگا۔

 

(ن) لیگ کا پنجاب اسمبلی کے باہر شہباز شریف کی گرفتاری کیخلاف دھرنا، شدید احتجاج

لاہور: مسلم لیگ (ن) نے پنجاب اسمبلی کے باہر شہباز شریف کی گرفتاری کیخلاف دھرنا دیا اور شدید احتجاج کیا۔

مسلم لیگ (ن) کے ارکان پنجاب اسمبلی پارٹی کے صدر شہباز شریف کی گرفتاری کے خلاف احتجاج کرنے پنجاب اسمبلی پہنچے تو حکومت نے احتجاج کو ناکام بنانے کے لیے پنجاب اسمبلی کے مرکزی گیٹ کو خاردار تاریں لگا کر مکمل طور پر بند کردیا اور پولیس کی بھاری نفری تعینات کردی۔

لیگی ارکان اسمبلی نے مل کر دروازے کو کھولنے کی کوشش کی تاہم پولیس اہلکاروں نے ان کی کوشش ناکام بنادی۔ لیگی ارکان اسمبلی خاردار تاریں پھلانگ کر اور رکاوٹیں توڑتے ہوئے اسمبلی کے احاطے میں داخل ہوگئے۔PML-N protest outside Punjab assembly pic.twitter.com/Vd0PKg1iza

اپوزیشن رہنماؤں نے اسمبلی کے داخلی دروازے پر دھرنا دے کر احاطے میں ہی اپنی اسمبلی سجالی اور احتجاجی اجلاس منعقد کیا۔ لیگی رہنماؤں نے حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی اور شہباز شریف کی گرفتاری پر سخت احتجاج کیا۔ لیگی ارکان اسمبلی نے پلے کارڈز اٹھا رہے تھے جن پر انتقامی سیاست بند کرو اور شہباز شریف کو رہا کرو کے نعرے درج تھے۔

سعد رفیق

خواجہ سعد رفیق نے احتجاجی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکمرانوں کا جمہوریت سے کوئی تعلق نہیں یہ فسطائی حکمران ہیں، پنجاب اسمبلی کی تاریخ میں پہلی بار اراکین اسمبلی پر دروازے بند کئے گئے ہیں، عمران خان اپوزیشن کے ساتھ گتھم گتھا ہونا چاہتے ہیں اور اسمبلی کے دروازے بند کرنا آمرانہ اقدام ہے۔

حمزہ شہباز

حمزہ شہباز شریف نے احتجاجی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ  عمران خان میں منتخب اراکین اسمبلی کی بات سننے کا حوصلہ نہیں ہے، پنجاب اسمبلی کو نہیں بلکہ جمہوری نظام پر تالہ لگایا گیا ہے، ایسا نیا پاکستان صرف آپ کو مبارک ہو، ہم میدان میں نکلیں گے جلسے کریں گے اور اسمبلیوں کے دروازے بھی کھلیں گے۔

حمزہ شہباز نے کہا کہ عمران خان پہلے بنی گالا کی تجاوزات کا حساب دو پھر غریب ریڑھی والوں کے خلاف کارروائی کرنا ، آپ کے سینئر وزیر نے اربوں کا غبن کیا، اسپیکر پنجاب اسمبلی کا بیٹا این آئی سی ایل کیس میں اندر رہا، وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے قتل کے مقدمے میں پیسے دے کر جان چھڑوائی ، کیا پاکپتن کیس نیا پاکستان کی مثال ہے۔

مریم اورنگزیب

مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب نے اپنے بیان میں صوبائی حکومت کی جانب سے پنجاب اسمبلی کے باہر رکاوٹیں کھڑی کرکے راستے بند کرنے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ
ارکان پارلیمان کو روکنا حکومت کی گھبراہٹ اور غیرجمہوری رویے کا واضح ثبوت ہے، کسی بھی منفی صورتحال کے ذمہ دار اسپیکر پنجاب اسمبلی اور حکومت ہوگی۔

سعد رفیق، اسحاق ڈار، انوشہ رحمان اورمنظوروسان کیخلاف نیب انکوائریوں کی منظوری

قومی احتساب بیورو(نیب ) نے سعد رفیق، اسحاق ڈار، انوشہ رحمان، ثناء اللہ زہری اور منظور وسان سمیت دیگر کے خلاف باقاعدہ تحقیقات کی منظوری دے دی۔

نیب سے جاری اعلامیے کے مطابق چیئرمین جسٹس(ر) جاوید اقبال کی زیرصدارت نیب ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس ہوا جس میں کرپشن کے 22 مقدمان کی باقاعدہ تحقیقات کی منظوری دی گئی۔

اجلاس میں  اسحاق ڈار، انوشہ رحمان، خواجہ سعد رفیق،سلمان رفیق، منظور وٹو، منظور وسان، نواب وسان اور سابق وزیراعلیٰ بلوچستان ثناء اللہ زہری کے خلاف باقاعدہ تحقیقات کی منظوری دی گئی۔

اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ ایگزیکٹو بورڈ نے 5 مقدمات کے باقاعدہ ریفرنسز احتساب عدالتوں میں دائر کرنے کی منظوری دی جب کہ سابق وفاقی سیکرٹری شہزاد ارباب اور عمران چوہدری کے خلاف انکوائری بند کرنے کی منظوری دی گئی۔

اجلاس میں چیئرمین نیب کا کہنا تھا کہ احتساب سب کے لیے کی پالیسی پر سختی سے عمل جاری رہے گا اور بلاتفریق و امتیاز کارروائی کی جائے گی۔

قومی اسمبلی نے شہباز شریف کے پروڈکشن آرڈر جاری کر دیے

 اسلام آباد: اسپیکر قومی اسمبلی نے 17 اکتوبر کے اجلاس کے لیے شہباز شریف کے پروڈکشن آرڈر جاری کر دیے۔     

قومی اسمبلی نے 17 اکتوبر کو ہونے والے اجلاس میں شہباز شریف کو طلب کرتے ہوئے قائد حزب اختلاف کے پروڈکشن آرڈر جاری کردیے ہیں جس کے بعد شہباز شریف بطور اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کریں گے۔

پروڈکشن آرڈر ایڈیشنل سیکرٹری قومی اسمبلی محمد مشتاق نے جاری کیے جس میں کہا گیا ہے کہ قومی اسمبلی کا اجلاس 17 اکتوبر دن 11 بجے بلایا گیا ہے اور اسپیکر اجلاس میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف کی شرکت ضروری سمجھتے ہیں لہذا شہباز شریف کی اجلاس میں شرکت یقینی بنائی جائے۔

پروڈکشن آرڈر کی نقل چیئرمین نیب، ڈی جی نیب لاہور، وفاقی سیکرٹری داخلہ، چیف سیکرٹری و آئی جی پنجاب کو بھی بجھوائی گئی ہے۔

واضح رہے کہ چند روز قبل نیب نے آشیانہ ہاؤسنگ کرپشن کیس میں قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف کو گرفتار کیا جب کہ احتساب عدالت نے سابق وزیراعلیٰ پنجاب کو 10 روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے کردیا تھا۔

اداکاری کے ساتھ ساتھ مہوش حیات ویب سیریز میں گلوکاری کیلئے بھی تیار

نامور پاکستانی اداکارہ مہوش حیات اب ویب سیریز کے لیے گلوکاری بھی کر رہی ہیں۔

فلم ’کراچی سے لاہور‘ اور ’لاہور سے آگے‘ جیسی کامیاب فلمیں بنانے والے وجاہت رؤف ویب سیریز بنانے جا رہے ہیں، جس کے مرکزی کردار کے لیے انہوں نے اداکارہ مہوش حیات اور اداکار اسد صدیقی کا انتخاب کیا ہے۔

وجاہت رؤف نے ویب سیریز میں اہم کردار ادا کرنے والے اداکاروں کے حوالے سے تو پہلے ہی سوشل میڈیا پر اعلان کردیا تھا تاہم اب انہوں نے آگاہ کیا ہے کہ مہوش حیات ویب سیریز کے لیے گلوکاری بھی کر رہی ہیں۔

وجاہت رؤف نے انسٹاگرام پر مہوش حیات کے ساتھ ایک تصویر شیئر کرتے ہوئے آگاہ کیا کہ ’ویب سیریز کے گانے کی ریکارڈنگ ہورہی ہے، جسے مہوش حیات گا رہی ہیں‘۔

مہوش حیات اس وقت سیریز کی عکس بندی میں مصروف ہیں، جس میں ان کے ساتھ پہلی مرتبہ مرکزی کردار میں اسد صدیقی جلوہ گر ہوں گے۔

فی الحال اس ویب سیریز کے ٹائٹل کے حوالے سے تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں تاہم امکان ہے کہ جلد ہی اس کے ٹائٹل کا اعلان کردیا جائے گا۔

یاد رہے کہ مہوش حیات نے کوک اسٹوڈیو سیزن 9 میں ڈیبیو گانا ’تو ہی تو‘ گایا تھا۔

علاوہ ازیں انہوں نے امریکی ریاست ایریزونا میں ایک کانسرٹ کے دوران پاپ کوئن نازیہ حسن کو خراج عقیدتبھی پیش کیا تھا۔

بنگلا دیش میں خالدہ ضیاء کے بیٹے کو عمر قید، 19 سیاسی مخالفین کو سزائے موت

ڈھاکا: بنگلا دیش میں اپوزیشن جماعت کے 19 افراد کو سزائے موت جب کہ اپوزیشن رہنما خالدہ ضیاء کے بیٹے کو عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق بنگلا دیش کی عدالت نے حکمراں جماعت کے سیاسی جلسے میں گرنیڈ حملے میں ملوث 19 افراد کو سزائے موت سنائی ہے۔ ان افراد پر 2004 میں ڈھاکا میں سیاسی جلسے پر ہونے والے گرنیڈ حملے کی منصوبہ بندی اور معاونت کا الزام تھا۔

سزائے موت پانے والوں میں موجودہ اپوزیشن جماعت بنگلا دیش قومی پارٹی کے دو سابق وزراء بھی شامل ہیں جو 2004 میں موجودہ حکمراں جماعت عوامی لیگ کے جلسے پر گرنیڈ حملے کے وقت وزیر داخلہ اور نائب وزیر کے عہدے پر فائز تھے۔

عدالت نے اپوزیشن جماعت بنگلا دیش نیشلسٹ پارٹی کے نگراں سربراہ طارق الرحمان کو بھی عمر قید کی سزا سنائی ہے ۔ خود ساختہ جلا وطن رہنما طارق الرحمان پارٹی کی چیئرمین خالدہ ضیاء کے صاحبزادے ہیں۔

اپوزیشن رہنما خالدہ ضیاء پہلے ہی مقامی جیل میں مقید ہیں جہاں وہ رواں برس فروری سے کرپشن کے الزام میں 5 سال قید کی سزا کاٹ رہی ہیں۔ اُن کی غیر موجودگی میں اُن کے بیٹے طارق الرحمان لندن سے پارٹی کا نظم ونسق سنبھالے ہوئے تھے۔

وزیر قانون انیس الحق کا کہنا تھا کہ طارق الرحمان کی عمر قید کی سزا کو سزائے موت میں تبدیل کرانے کے لیے اعلیٰ عدالت سے رجوع کریں گے اور انہیں لندن سے گرفتار کرنے کے لیے تمام تر سفارتی اقدامات بروئے کار لائیں گے۔

دوسری جانب اپوزیشن جماعت بنگلا دیش نیشلسٹ پارٹی نے سزاؤں کو سیاسی فیصلہ قرار دیتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ اپوزیشن جماعت کی آواز کو دبایا جا رہا ہے۔ انصاف کے حصول کے لیے اعلیٰ عدلیہ سمیت ہر آپشن استعمال کریں گے۔

اس سے قبل بنگلا دیش کی موجودہ حکمراں حسینہ واجد کے حکم پر سقوط ڈھاکا کے جعلی مقدمات بھی کھولے گئے تھے اور جنگی جرائم کے جھوٹے الزامات کی آڑ میں متعدد سیاسی مخالفین کو تختہ دار پر لٹکایا جا چکا ہے۔

واضح رہے کہ 2004 میں آج کی حکمراں جماعت عوامی لیگ کے ایک جلسے میں ہونے والے گرنیڈ حملے میں 24 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔عوامی لیگ نے حملے کی ذمہ داری اُس وقت کی حکمراں جماعت بنگلا دیش نیشلسٹ پارٹی پرعائد کی تھی۔

ڈالر کی پرواز روکنے کیلئے منصوبہ بندی کی ضرورت

adaria

پاکستان کی تاریخ میں روپے کی جس انداز میں بے قدری ہوئی ہے اس کی مثال نہیں ملتی ، ڈالر بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ہے اور کہا یہ جارہا ہے کہ ابھی اس میں مزید اضافہ ہوگا، کیونکہ آئی ایم ایف کا وفد جب پاکستان آیا تو اس نے کچھ شرائط عائد کی تھیں یوں تو حکومت نے بہت مصمم ارادے ظاہر کیے تھے کہ وہ کسی صورت آئی ایم ایف کے پاس نہیں جائیں گے مگر مجبوری ایسی آن پڑی کہ جب عنان اقتدار چلانے کیلئے اسباب ہی نہ رہیں ہوں تو پھر آخر کیا کرتے، مجبوراً آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑا ، ڈالر کی اس پرواز کے بعد بیرونی قرضوں میں 902ارب روپے کا اضافہ ہوگیا، زر مبادلہ کے ذخائر میں کمی ہوئی، سونا 62 ہزار روپے فی تولہ ہوگیا، اب اس قدر مہنگائی کا طوفان آنے والا ہے جس کے آگے بند باندھنے کیلئے حکومت کو باقاعدہ منصوبہ بندی کرنا ہوگی، اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت آئی ایم ایف سے کتنا بیل آؤٹ پیکیج لیتی ہے اگر تو یہ 10ماہ تک محیط ہے تو پھر حکومت کو مزید ایک سال قدموں پر کھڑے ہونے کیلئے مل جائے گا اگر اس سے زیادہ عرصہ جو کہ دو یا تین سال پر محیط ہوا تو حکومت کو زیادہ مسائل درپیش ہوں گے، ڈالر کے اضافے کے ساتھ ساتھ دیگر اشیاء کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہونا شروع ہو جائے گا، کہایہ جارہا ہے کہ ڈالر کی پرواز یہاں نہیں رکے گی یہ 140یا 150 تک جاسکتا ہے، آئی ایم ایف کے پاس جانے سے قبل حکومت نے بہت ہاتھ پاؤں مارے کے اسے دائیں بائیں سے امداد مل جائے لیکن کہیں سے بھی خاطر خواہ امید نہ ہوسکی اس کا اظہار وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے ایک نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کیا کہ کچھ ممالک سے ہماری بات چیت چلی ان کی ایسی شرائط تھیں ایک طرف ہمارے اسٹرٹیجک معاملات تھے تو دوسری طرف معاشی، لہٰذا ان تمام چیزوں کو دیکھتے ہوئے ہمیں یہ کڑوا گھونٹ پینا پڑا ہے گو کہ اب حکومت نے ایک سفر شروع کردیا ہے، حکومت کا یہ دعویٰ ہے کہ یہ مشکل وقت زیادہ دیر نہیں رہے گا آنیوالا وقت اچھا ہوگا ، معاشی حالات مضبوط ہونگے، یہ ساری باتیں اپنی جگہ درست ہیں ، حکومت کے دعوے بھی اپنی جگہ ہیں اور جو عوام کو انتخابات سے قبل وعدے وعید کیے ہیں وہ بھی سب کے سامنے ہیں ان کو اب کس طرح پورا کرنا اس کیلئے باقاعدہ منصوبہ بندی کی ضرورت ہے، ہوم ورک اور فائل ورک انتہائی اہم ہے یہ جب تمام چیزیں ہونگی تب ہی منصوبے کامیابی سے ہمکنار ہوسکیں گے۔ ملک میں امیر سے لیکر غریب تک ایک نظام رائج کرنا ہوگا، جب مہنگائی کی صورت میں عوام قربانی دے رہی ہے تو سہولیات دینا بھی اس کا حق ہے یہ نہ ہوکہ کسی امیر زادے یا اقتدار میں بیٹھے ہوئے شخص کو ذرا سا زکام بھی ہو جائے تو وہ لندن یا امریکہ میں جاکر علاج کروائے جبکہ غریب کا بچہ یہی ایڑھیاں رگڑ رگڑ کر اپنی جان جان افرین کے حوالے کردے،اچھے حالات کیلئے ہمیشہ اس عوام نے قربانیاں دی ہیں مگر وہ سبز باغ جو اسے ہر آنے والی حکومت دکھاتی ہے آج تک حاصل نہیں ہوسکے۔ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت سے عوام کو بہت سی امیدیں وابستہ ہیں اگر ان امیدوں کو پورا نہ کیا گیا تو آنے والا وقت مشکلات کا شکار ہوسکتا ہے، ڈالر کی اتنی پرواز آخر کس وجہ سے ہوئی حکومت کو اس چیز کا علم تھا یہ تو ایک روایتی بات ہے کہ سابقہ حکومت نے خزانہ خالی دیا یہ ایک ایسی بلیم گیم ہے جو ہر آنے والی حکومت سابقہ حکومت پر عائد کردیتی ہے۔ اس الزام تراشی کے کھیل سے نکل کر ملک کیلئے کچھ کرنا ہوگا، گو کہ وزیراعظم نے مزیدمہنگائی کی نوید بھی سنا رکھی ہے جب ہر طرف سے شکنجہ سخت ہوتا جائے گا پھر آخر کار اس کا حل کیا ہوگا۔ حکومت باخوشی آئی ایم ایف کے پاس جائے ان کے بیل آؤٹ پیکیج لے مگر جو رقم آئے وہ جہاں جہاں اور جن جن منصوبوں پر خرچ کی جائے اس کا کچھ نہ کچھ مثبت حاصل ہونا چاہیے۔ ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کو بھی کنٹرول کرنا ہوگا جتنی عوام کو سہولیات دی جائیں گی اتنے ہی حالات اچھے اور پرامن رہیں گے نہیں تو اسی طرح حکومت اپنا تمام وقت آئی ایم ایف کے شکنجے سے نہیں نکل سکے گی۔

روز نیوز کی ڈیمز فنڈ میراتھون ٹرانسمیشن قابل تقلید
پاکستان گروپ آف نیوز پیپرز اور روز نیوز کایہ وطیرہ رہا ہے اورتاریخ بھی اس امر کی گواہ ہے کہ ایس کے نیازی کی زیر ادارت شائع ہونے والے اخبارات اور ان کی چیئرمین شپ کے تحت چلنے والے ٹی وی روزنیوز نے ہمیشہ عوامی مسائل کیلئے آواز بلند کی اور اس آواز کو ایوانوں تک پہنچایا جس سے عوام کو اس کے حقوق حاصل ہوسکیں۔ چونکہ اس وقت صرف پاکستان ہی نہیں دنیا بھر میں پانی کا بحران ہے اور آنے والے وقت میں جنگیں بھی پانی ہی کی خاطر ہونگی، پاکستان نے تو پانی کی صورتحال بہت ابتر ہے، ڈیموں کی حالت اتنی تسلی بخش نہیں ، پانی کاذخیرہ نہ ہونے کے برابر ہے، آخر آنے والی نسلوں کو ہم کیا دے کر جائیں گے یہی حالات رہے تو خدانخواستہ خشک پاکستان ہوگا، پاکستان کو سیراب اور سرسبز و شاداب کرنے کیلئے باقاعدہ ایک مہم کی ضرورت تھی اس سلسلے میں پاکستان گروپ آف نیوز پیپرز اور روز نیوز ایک مہم کا آغاز کیا جس میں ڈیمز بناؤ،ملک بچاؤ مہم کیلئے ڈیمز فنڈ ریزنگ کیلئے خصوصی ٹرانسمیشن کا اہتمام کیا جس کا نام ڈیمز فنڈ ریزنگ میراتھون ٹرانسمیشن تھا اس میں دنیا اور ملک بھر سمیت پاکستانیوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور دل کھول کر ڈیمز فنڈ کیلئے عطیات دئیے۔روز نیوز کی ڈیمز فنڈ ریزنگ میراتھون ٹرانسمیشن کے ذریعے جمع ہونیوالی2کروڑ10لاکھ 37ہزار800روپے کی رقم کا چیک گزشتہ روز چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار کوپیش کر دیا گیا،یہ چیک چیف ایڈیٹرپاکستان گروپ آف نیوزپیپرزایس کے نیازی اور سردارگروپ آف کمپنیزکے صدرسردارتنویرالیاس ،سی ای اویاسرالیاس نے چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثارسے ملاقات کے دوران پیش کیا۔چیف جسٹس آف پاکستان نے روزنیوزکی خصوصی نشریات کوخوب سراہا۔چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثارنے روزنیوزکی فنڈریزنگ ٹرانسمیشن کوخوب سراہا اور نیک مشن میں حصہ بننے پرچیف ایڈیٹرپاکستان گروپ آف نیوزپیپرز اورچیئرمین روزنیوزایس کے نیازی کاشکریہ اداکیا۔ خصوصی نشریات کے دوران چیف جسٹس آف پاکستان نے بھی ڈیمزفنڈ میں اپنی جانب سے مزید ایک لاکھ روپے دینے کااعلان کیاتھا۔روز نیوز کی ٹرانسمیشن دیگر میڈیاہاؤسز کیلئے قابل تقلید ہے ہم سب کو مل کر وطن عزیز کیلئے اسی طرح کاوشیں کرنا ہونگی۔
اداروں کو آزاد ہی رہنا چاہیے
الیکشن کمیشن نے 14اکتوبر کے ضمنی انتخابات سے قبل آئی جی پنجاب محمد طاہر کے تبادلے کانوٹس لیتے ہوئے امجد جاوید سلیمی کی آئی جی پنجاب تعیناتی کا نوٹیفکیشن معطل کردیا اور سیکرٹری اسٹیبشلمنٹ ڈویژن سے دو روز میں جواب طلب کیا ہے، حکومت کا موقف یہ ہے کہ آئی جی پنجاب طاہر خان کو حکومت کی جانب سے دی گئی ذمہ داری پوری نہ کرنے پر ہٹایا گیا ۔ ایک جانب حکومت یہ کہتی ہے کہ ادارے آزاد ہیں اور وہ شفافیت پر یقین رکھتی ہے تو ایسے میں یہ تبادلہ بعید از خیال ہے، جب تک ادارے آزاد اور خودمختار نہیں ہونگے اس وقت تک اسی طرح کے حالات پیدا ہوتے رہیں گے۔ ضمنی انتخاب کے باعث آئی جی کی تبدیلی نہیں ہوسکتی، آئی جی پنجاب کا تبادلہ کرکے الیکشن کمیشن کے احکامات کی خلاف ورزی کی گئی۔ دریں اثناچیئرمین پنجاب پولیس ریفارمز کمیشن ناصر درانی نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دیدیا۔ سابق آئی جی خیبر پختونخوا ناصر درانی نے استعفیٰ ممکنہ طور پر آئی جی پنجاب طاہر خان کے تبادلے کے باعث دیا۔ ناصر درانی نے آئی جی پنجاب کے تبادلے پر مایوسی کا اظہار کیا ہے۔ خیال رہے کہ سابق آئی جی کے پی کے ناصر درانی کو پنجاب پولیس میں اصلاحات کا خصوصی ٹاسک دیا گیا تھا۔ وزیراعظم عمران خان نے ناصر درانی کو پولیس میں عدم مداخلت کی یقین بھی دہانی کرائی تھی۔وزیراعظم کو چاہیے کہ وہ اس امر کو یقینی بنائیں کہ ادارے آزاد ہیں اور ان کے فیصلوں میں کوئی مداخلت نہیں کرسکتا۔

Google Analytics Alternative