Home » 2018 » October » 12

Daily Archives: October 12, 2018

وزیراعظم نے وزارت خزانہ سے 10 سال کے قرضوں کی تفصیلات طلب کرلیں

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے وزارت خزانہ سے گزشتہ 10 سال کے دوران لیے گئے قرضوں کی تفصیلات طلب کرلیں۔

اسلام آباد میں وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں معیشت سمیت مختلف اہم معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اجلاس کے دوران وزیراعظم نے وزارت خزانہ سے گزشتہ 10 سال کے قرضوں کی تفصیلات طلب کرتے ہوئے کہا کہ پچھلی حکومتیں قوم کے اربوں روپے لوٹ کر کھاگئیں، وزارت خزانہ سے 10 سال کے قرضوں کی تفصیلات طلب کی ہیں، تاکہ معلوم ہوسکے کہ گزشتہ حکومتوں نے کیسے ملک پر قرضوں کا بوجھ ڈالا ہے اور قرضوں سے کون سے ڈیم اور بڑے منصوبے بنے۔

عمران خان نے کہا کہ پاکستان پر 10 سال میں قرضوں کا بوجھ 6 سے بڑھ کر 30 ہزار ارب ہوگیا ہے، اس کا تفصیلی تخمینہ چاہیے کہ یہ پیسہ کہاں اور کن منصوبوں پر خرچ ہوا، اس کے نتیجے میں موجودہ حکومت 10 بار سوچے گی کہ اگر ہم قرضے لیں تو اس سے اتنا پیسہ اکٹھا ہو کہ قرضہ واپس کیا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ اپنا گھر اتھارٹی ون ونڈو آپریشن ہوگا جس سے معیشت مضبوط، روزگار میں اضافہ اور نئی تعمیراتی کمپنیاں کھلیں گی۔

کابینہ کی جانب سے ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں مختلف افراد نام ڈالنے اور نکالنے کے معاملے پر غور کیا گیا۔ اجلاس میں مینجنگ ڈائریکٹر پاکستان بیت المال، چیئرمین نجکاری کمیشن، چیئرمین پی آئی اے اور چیئرمین متروکہ وقف املاک بورڈ کے تقرر پر بھی بات چیت ہوئی۔

وفاقی کابینہ نے اقتصادی رابطہ کمیٹی کے فیصلوں کی توثیق کرتے ہوئے ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان کی جانب سے یوریا کی درآمد پر قواعد میں نرمی کا جائزہ لیا۔

سپریم جوڈیشل کونسل کی سفارش پر جسٹس شوکت صدیقی کو عہدے سے ہٹا دیا گیا

اسلام آباد: سپریم جوڈیشل کونسل کی سفارش پر ہائی کورٹ کے جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی کو عہدے سے برطرف کردیا گیا۔

سپریم جوڈیشل کونسل نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے سینئر ترین جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی کو عہدے سے ہٹانے کی سفارش صدر مملکت کو ارسال کی جسے انہوں نے منظور کرلیا جس کے بعد جسٹس شوکت کو عہدے سے ہٹا دیا گیا جب کہ اس حوالے سے وزارت قانون و انصاف نے برطرفی کا نوٹی فکیشن بھی جاری کردیا۔

چیئرمین سپریم جوڈیشل کونسل کی جانب سے صدر مملکت کو ارسال کی گئی سمری میں کہا گیا کہ جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے 21 جولائی کو راولپنڈی بار کی تقریب میں خطاب کرتے ہوئے حساس ادارے کے خلاف بیان دیا، جسٹس شوکت نے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کی جس کے بعد وہ اپنے عہدے پر رہنے کے اہل نہیں رہے۔

واضح رہے کہ ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن راولپنڈی سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس شوکت عزیز صدیقی کا کہنا تھا کہ ملکی خفیہ ایجنسی عدالتی امور میں مداخلت کررہی ہے اور خوف و جبر کی فضا کی ذمہ دار عدلیہ بھی ہے جب کہ میڈیا والے بھی گھٹنے ٹیک چکے ہیں اور سچ نہیں بتا سکتے، میڈیا کی آزادی بھی بندوق کی نوک پر سلب ہو چکی ہے۔

پاکستان نے قرض کے لیے آئی ایم ایف سے باضابطہ درخواست کردی

جکارتہ: پاکستان نے انٹر نیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) سے قرض کے لیے باضابطہ طور پر درخواست کردی ہے۔

عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹین لاگارڈے نے انڈونیشیا میں وفاقی وزیر خزانہ اسدعمر اور گورنر اسٹیٹ بینک سمیت دیگر حکام سے ملاقات کی، اس دوران پاکستان کی جانب سے آئی ایم ایف سے قرض کے لیے باضابطہ طور پر درخواست کی گئی۔

منیجنگ ڈائریکٹر (آئی ایم ایف) کا کہنا ہے کہ پاکستان نے باضابطہ طور پرمالی امداد کے لیے درخواست دی ہے جس کے لیے آئی ایم ایف کا وفد آئندہ ہفتوں میں پاکستان جائے گا اور قرض کے حجم کے حوالے سے بات چیت کی جائے گی۔

واضح رہے کہ چند روز قبل حکومت نے معاشی بحران سے نمٹنے کے لیے آئی ایم ایف سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا جس کے لیے وزیر اعظم نے مذاکرات کی منظوری بھی دے دی ہے۔ اسی حوالے سے وزیر خزانہ اسد عمر ان دنوں انڈونیشیا میں موجود ہیں جہاں آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کا سالانہ اجلاس جاری ہے۔

بھارتی فورسز کی ریاستی دہشت گردی میں پی ایچ ڈی اسکالر سمیت 2 جاں بحق

سری نگر: انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے ضلع کپواڑہ میں بھارتی فورسز نے ریاستی دہشت گردی کے دوران فائرنگ کرکے کشمیری نوجوان اور پی ایچ ڈی اسکالر ڈاکٹر منان وانی اور عاشق حسین زرگر کو قتل کردیا۔

کشمیر میڈیا سروس کی رپورٹ کے مطابق بھارتی فوج، پیرا ملٹری فورسز اور خصوصی آپریشن گروپ کے اہلکاروں نے ہندواڑہ کے علاقے میں مشترکہ سرچ آپریشن کے دوران ڈاکٹر منان وانی اور عاشق حسین کو نشانہ بنایا۔

پی ایچ ڈی اسکالر اور کشمیری نوجوان کی ہلاکت کی اطلاعات سامنے آتے ہی ہندواڑہ اور دیگر اضلاع میں بھارت مخالف مظاہرے کیے گئے، بھارتی فورسز نے مظاہرین پر فائرنگ اور شیلنگ کی، جس کے نتیجے میں متعدد کشمیری نوجوان زخمی ہوگئے۔

مزید مظاہروں کے پیش نظر بھارتی فورسز نے وادئ کے مختلف اضلاع کپواڑہ، باندی پورہ، پٹن، مارہ مولہ، پلوامہ اور دیگر میں انٹرنیٹ سروس اور تعلیمی ادارے بند کروادیئے۔

دوسری جانب ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ پی ایچ ڈی اسکالر ڈاکٹر منان وانی کا تعلق کشمیر کی مسلح تنظیم حزب المجاہدین سے تھا جبکہ عاشق حسین ان کا ساتھی تھا۔

نوجوان کشمیری پی ایچ ڈی اسکالر ڈاکٹر منان وانی — فوٹو بشکریہ کشمیر والا نیوز ویب سائٹ
نوجوان کشمیری پی ایچ ڈی اسکالر ڈاکٹر منان وانی — فوٹو بشکریہ کشمیر والا نیوز ویب سائٹ

بھارتی میڈیا نے دعویٰ کیا کہ دونوں کشمیری نوجوانوں کو بھارتی فورسز نے انسداد دہشت گردی آپریشن کے دوران مقابلے میں ہلاک کیا جبکہ بتایا گیا کہ ڈاکٹر منان وانی نے رواں سال جنوری میں حزب المجاہدین میں شمولیت اختیار کی تھی۔

علاوہ ازیں کشمیر کے مقامی میڈیا نے بتایا گیا کہ شوپیاں کے علاقے میں نامعلوم مسلح افراد نے کشمیری حریت رکن طارق احمد کو فائرنگ کرکے قتل کردیا، جس کے بعد علاقے میں حالات کشیدہ ہوگئے۔

دوسری جانب پلوامہ میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے خصوصی فورس کا پولیس آفسر زخمی ہوگیا۔

ڈاکٹر منان وانی کون تھے؟

کشمیر میڈیا سروس کی رپورٹ کے مطابق بھارتی فورسز کی حالیہ ریاستی دہشت گردی میں جاں بحق ہونے والے 26 سالہ ڈاکٹر منان وانی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے اپلائیڈ جیولوجی میں ریسرچر اسکالر تھے۔

وہ پہلی مرتبہ رواں سال میں اس وقت عوامی سطح پر سامنے آئے تھے جب انہوں نے 16 جولائی کو کشمیر پر بھارت کے قبضے کے خلاف ایک خط تحریر کیا تھا۔

انہوں نے انڈیا کی نیشنل کونسل آف ایجوکیشنل ریسرچ اینڈ ٹریننگ کی کتاب کا حوالہ دیتے ہوئے یہ ثابت کیا تھا کہ بھارت ایک ‘دہشت گرد’ ملک ہے جیسا کہ کتاب میں یہ واضح لکھا ہے کہ شہریوں کو نشانہ بنانے والا ‘دہشت گرد’ ہے اور بھارت کشمیر میں نہتے شہریوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔

بعد ازاں کشمیر کی حریت قیادت نے مشترکہ جاری بیان میں پی ایچ ڈی اسکالر کے قتل کے خلاف کل بروز جمعہ وادئ میں مکمل شٹر ڈاؤن احتجاج کا اعلان کیا جبکہ تحریک حریت جموں اور کشمیر کے چیئرمین محمد اشرف سہرائی اور دیگر حریت رہنماؤں نے ڈاکٹر منان وانی اور عاشق حسین کو خراج تحسین پیش کیا۔

دوسری جانب جموں اور کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ٹوئٹ میں پی ایچ ڈی اسکالر کی حزب المجاہدین میں شمولیت اور بھارتی فورسز سے مقابلے میں ہلاکت کو ‘نقصان’ قرار دیا۔

محبوبہ مفتی کا کہنا تھا کہ ‘آج ایک پی ایچ ڈی اسکالر نے موت کا راستہ اختیار کیا اور مقابلے میں جاں بحق ہوگئے، ان کی موت مکمل طور پر ہمارا نقصان ہے، ہم ہر روز اپنے تعلیم یافتہ نوجوان کہو رہے ہیں’۔

انہوں نے ایک مرتبہ پھر بھارت پر پاکستان سمیت تمام اسٹیک ہولڈرز نے مسئلہ کشمیر پر بات چیت کرنے پر زور دیا۔

شہباز شریف کی گرفتاری کیخلاف (ن) لیگ کا قومی اسمبلی کے باہر احتجاج

 اسلام آباد: مسلم لیگ (ن) کے ارکان اسمبلی اور سینیٹرز نے قائد حزب اختلاف شہبازشریف کی گرفتاری کے خلاف قومی اسمبلی کے باہر دھرنا دے دیا۔ 

پارلیمنٹ کے باہر مسلم لیگ (ن) اور اس کی اتحادی جماعتوں نے سیاسی میدان سجا لیا۔  شہبازشریف کے گرفتاری کے خلاف مسلم لیگ (ن) کے  100 سے زائد ارکان نے احتجاج میں شرکت کی جب کہ متحدہ مجلس عمل کے 2 ارکان بھی اظہار یکجہتی کے طور پر شریک ہوئے۔

پارلیمنٹ کے باہر ہونے والے اجلاس کی سربراہی سابق اسپیکر اسمبلی ایاز صادق نے کی، (ن) لیگ کے ارکان سینیٹ اور قومی اسمبلی نے شہبازشریف کی گرفتاری کے خلاف اور قومی اسمبلی اجلاس جلد بلانے کے لئے احتجاج کیا۔ شرکا نے حکومت کے خلاف بینرز اور پلے کارڈ بھی اٹھا رکھے تھے۔ شرکا نے تحریک انصاف کے خلاف شدید نعرے بازی بھی کی اور انہوں نے شہبازشریف کی گرفتاری کو انتقامی کارروائی قرار دیا۔

 

پچاس لاکھ گھروں کی تعمیر۔۔۔نیاپاکستان ہاؤسنگ اتھارٹی قائم

adaria

چھت اورروزگارہماراہمیشہ سے سب سے بڑا مسئلہ رہاہے ،نوجوان تعلیم تو حاصل کرلیتے ہیں لیکن روزگار کے لئے دربدردھکے کھاتے رہے ہیں اوراگر روزگارمل بھی جائے توساری عمراپنی سرکے اوپرایک چھت قائم کرنے کے لئے اپنی زندگی تیاگ دیتے ہیں۔پاکستان تحریک انصا ف کی حکومت نے جہاں 100دن کے اندر دیگراعلانات کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کاوعدہ کیاتھا وہاں پربغیر چھت کے شہریوں کے سرپرچھت دینے کابھی وعدہ کیاتھا ،سو اسی وعدے کونبھاتے ہوئے وزیراعظم پاکستان عمران خان نے گزشتہ روز پچاس لاکھ گھروں کے منصوبے کاافتتاح کرتے ہوئے نیاپاکستان ہاؤسنگ اتھارٹی کے نام سے ادارہ قائم کردیا ہے، اس کے سات اضلاع میں پائلٹ پروجیکٹ کی ابتداء ہوگی، 60دن میں رجسٹریشن بھی مکمل کرلی جائے گی۔ وزیراعظم نے اس منصوبے کو بذات خود مانیٹرکرنے کی ذمہ داری لی ہے تاکہ صحیح طرح یہ منصوبہ پایہ تکمیل تک پہنچ سکے۔ منصوبے کی افتتاحی تقریب سے خطا ب کرتے ہوئے عمران خان نے کہاکہ گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے ،حوصلہ رکھیں قوموں کی زندگی میں اونچ نیچ آتی رہتی ہے ان مشکل حالات سے قوم وملک کو انشاء اللہ نکال لوں گا۔ انہوں نے کہاکہ آئی ایم ایف کے پاس جانے سے کوئی قیامت نہیں آگئی، جہاں تک پچاس لاکھ مکانوں کی تعمیر کامعاملہ ہے تو اگر دیکھاجائے تو وزیراعظم کے ماضی کاجائزہ لیتے ہوئے یہ کہاجاسکتا ہے کہ ان کاعزم ہمیشہ مصمم رہا اور ہر اس ناممکن چیز کو ممکن کرکے دکھایا جس کے بارے میں لوگ انہیں مشورہ دیتے رہے کہ یہ کام نہ کریں نہ ہوسکے گا۔زندگی میں جب وہ کرکٹربننے نکلے تو اس میں رکاوٹیں آئیں ،جہد مسلسل رکھی ،پختہ عزم کے ساتھ آگے بڑھتے رہے تو صرف بہترین کرکٹر ہی نہیں قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان بنے اوراس کے بعدپاکستان کو ورلڈچمپئن بنایا، شوکت خانم کاپراجیکٹ شروع کیاتو اس میں بھی دوستوں نے کوئی مثبت مشورہ نہ دیالیکن پھر کچھ کرنے کی امید لیکر عمران خان آگے بڑھے اور ایک دن ایسا آیا کہ پاکستان شوکت خانم ہسپتال بھی بن گیا۔ یہ سفر یہاں نہیں رکتا سیاست کے میدان میں آئے تو دہائیوں کاسفرطے کرتے ہوئے اس ملک میں دوپارٹی سسٹم توڑ کروزیراعظم بنے، جیسے ہی وہ وزیراعظم بنے تو انہیں مسائل درپیش ہوناشروع ہوگئے لیکن ابھی تک ان کایقین محکم مضبوط ہے اور وہ پُرامید ہیں کہ انشاء اللہ کامیاب ضرور ہوجائیں گے ۔یہ پچاس لاکھ مکان عوام کو دینے سے صرف چھت ہی نہیں ملے گی اس میں نوجوانوں کو روزگار کے مواقع ملیں گے، شرح نمو میں اضافہ ہوگا غرض کہ ایک مکان کی تعمیر میں بہت سارے شعبے شامل ہوتے ہیں ان سب کے کاروبار کو فروغ ملے گا ،غریب کو چھت میسر ہوگی او رحکومت آسان اقساط پریہ مکان دے گی۔وفاقی دارالحکومت کا جوہمیشہ سے دیرینہ مسئلہ رہا ہے کہ کچی آبادیوں کو مالکانہ حقوق ملیں تووزیراعظم نے یہ بھی کہہ دیا کہ انہیں مالکانہ حقوق دیئے جائیں گے۔وزیراعظم نے کہاکہ فنانسنگ سے متعلقہ رکاوٹیں دور کرنے کے لئے 60روز میں نیشنل فنانشل ریگولیٹری ادارہ بھی قائم کیاجارہاہے۔ یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ پاکستان میں گھر بنانے کی سکیم اس لئے ناکام ہوتی آئی ہے کہ پہلے گھربنائے جاتے ہیں اور پھرلوگوں کو ٹھہرایاجاتا ہے لیکن ہم پہلے ساٹھ روز میں رجسٹریشن کے عمل سے گزریں گے اور طلب کے مطابق گھرتعمیر کئے جائیں گے۔یہ بات بھی انتہائی اہم ہے کہ پہلے اندھادھندپراجیکٹ بناکر پھران کو فلوٹ کیاجاتاتھا لیکن یہ اقدام احسن ہے کہ جس حساب سے ڈیمانڈ آئے گی اس حساب سے حکومت مکان بناکردیناشروع ہوجائے گی۔اس منصوبے کو کامیابی سے ہمکنارکردیاگیاتو یقینی طورپرحکومت کانام سنہری حروف میں لکھاجائے گا۔

پاک فوج میں تقرریاں وتبادلے
پاک فوج میں سا ت اعلیٰ ترین عہدوں پر تقرریاں اورتبادلے کئے گئے ہیں جس میں لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر کو ڈی جی آئی ایس آئی تعینات کر دیا گیا ہے۔ فرنٹیئر فورس رجمنٹ کے لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر ڈائریکٹر جنرل ملٹری انٹیلی جنس (ایم آئی) رہ چکے ہیں اور اس سے پہلے انہوں نے سیاچن میں ڈویژن کمانڈ کی اور وہ آپریشنل ایریا میں بریگیڈ کی کمان بھی سنبھال چکے ہیں۔عاصم منیر پاکستان ملٹری اکیڈمی یعنی پی ایم اے کے فارغ التحصیل نہیں بلکہ انہوں نے آفیسرز ٹریننگ اسکول سے فوج میں کمیشن حاصل کیا تھا۔ لیفٹیننٹ جنرل ندیم ذکی کور کمانڈر منگلا ، جبکہ لیفٹیننٹ جنرل عبدالعزیز ملٹری سیکرٹری جی ایچ کیو تعینات کیے گئے ہیں ۔لیفٹیننٹ جنرل اظہر صالح عباسی چیف آف لاجسٹکس، لیفٹیننٹ جنرل محمد عدنان وائس چیف آف جنرل اسٹاف اور لیفٹیننٹ جنرل شاہین مظہر کور کمانڈر پشاور تعینات کیا گیا ہے۔پا ک فوج کی تقرریوں پرروزنیوز کے پروگرام سچی بات میں چیف ایڈیٹر پاکستان گروپ آف نیوز پیپرز اور سینئر اینکرپرسن ایس کے نیازی نے کہا ہے کہ پاک فوج میں مکمل نظام ہے وہاں میرٹ پر تقرریاں ہوتی ہیں،لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیرپہلے ڈی جی ایم آئی رہ چکے ہیں انکی بطور ڈی جی آئی ایس آئی تعیناتی سے بہترین رزلٹ آئیں گے۔ڈی جی آئی ایس آئی عاصم منیرکی تعیناتی کو انتہائی احسن اقدام دیاجارہاہے ۔ پاک فوج نے ہمیشہ وطن عزیز کے لئے گرانقدر خدمات انجام دی ہیں اورآئی ایس آئی ہماری فوج کے ماتھے کاجھومرہے ہم سب اس پرفخر کرتے ہیں پوری دنیا اس کی کارکردگی کی معترف ہے لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیرکی تعیناتی کے بعد اورمزیدبہتری آئے گی۔
غیرملکی سرمایہ کاروں کے لئے ون ونڈوآپریشن ہوناچاہیے
پاکستان میں ا س وقت غیرملکی سرمایہ کاری کی ضرورت ہے ،وقت کابھی یہ تقاضا ہے کہ معیشت کو مضبوط کرنے کے لئے غیرملکی سرمایہ کار ہمارے وطن میں آئیں اور مختلف منصوبوں میں سرمایہ کاری کریں اس سلسلے میں انڈونیشیا کے شہر بالی میں وزیر خزانہ اسد عمر نے انڈونیشیا کے ہم منصب سری مالیانی اداوتی سے ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران دونوں ممالک کے مابین تجارت کوفروغ دینے پر تبادلہ خیال کیاگیا۔اس موقع پروزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان اور انڈونیشیا کے تجارتی تعلقات کو مزید بڑھنا چاہیے۔ انڈونیشیا پاکستان کے ساتھ تجارتی تعلقات کو وسیع کرنا چاہتا ہے اور انڈونیشیا پاکستان کو مکمل سپورٹ کرنے کیلئے تیار ہے۔ ملاقات میں دونوں ملکوں نے ترجیحی تجارت کے معاہدے کا ازسر نو جائزہ لینے پر بھی اتفاق کیا جبکہ وزیر خزانہ اسد عمر نے عالمی بینک کے صدر جم یانگ کم سے بھی ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران پاکستان اور عالمی بنک کے مابین اشراک پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیر خزانہ اور عالمی بینک کے صدر کی ملاقات میں حکومتی وژن اور ترجیحات پر بات چیت ہوئی۔امیدواثق کی جاتی ہے کہ حکومتی کاوشوں کی وجہ سے غیرملکی سرمایہ کاری ہمارے ملک میں آئے گی اس کے لئے ضروری ہے کہ امن وامان قائم رہے اور ہمارے ملک سے بیرو ن دنیا کے لئے ہرجانیوالاپیغام مثبت ہوناچاہیے اور جو بھی غیرملکی سرمایہ کار آئیں حکومت کافرض بنتا ہے کہ ان کے لئے سہولیات فراہم کرے اور ممکن ہوسکے توون ونڈو آپریشن ہوناچاہیے تاکہ وہ دربدرخوارنہ ہوتے پھریں۔

بلوچستان بے پناہ وسائل سے مالامال

بلوچستان پاکستان کاسب سے بڑا اور اہم صوبہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے بلوچستان بے پناہ وسائل اور بلوچ نوجوانوں کو صلاحیتوں سے نوازا ہے۔ افواج پاکستان نے محدود وسائل کے باوجود ملک کے دیگر اداروں کے ساتھ ملکر ہمیشہ کوشش ہے کہ معاشی اور معاشرتی ترقی کیلئے اپنا مثبت کردار ادا کرے۔ بلوچستان کی ترقی اصل میں پاکستان کی ترقی ہے اور پاک فوج اس حقیقت سے بخوبی واقف ہے۔بلوچستان میں پاک فوج کے مثبت اقدامات سے نہ صرف بلوچ عوام فائدہ اٹھا رہے ہیں بلکہ باغی بلوچی بھی یہ سوچنے پر مجبو ر ہوگئے ہیں کہ ہمارا مستقبل پاکستان ہی سے وابستہ ہے۔ پاک فوج میں بلوچستان سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کی شمولیت بلوچستان کی غیور عوام کی دفاع پاکستان سے گہری وابستگی کا مظہر ہے۔ افواج پاکستان نے قوانین میں نرمی کرکے بلوچستان کے نوجوانوں کو پاک میں بھرتی کرنے کیلئے خصوصی اقدامات کئے۔ یہ امر ہمارے لئے حوصلہ افزا ہے کہ 2010 سے لے کر اب تک 20 ہزار کے قریب بلوچ نوجوانوں نے پاک فوج میں شمولیت جب کہ 2 ہزار نوجوانوں نے پاک فوج کی سرپرستی میں آئی ایس ایس بی کی تربیت بھی حاصل کی۔ پاک فوج کی جانب سے بلوچستان میں تعلیمی ترقی اور پسماند گی کو دور کرنے کیلئے مختلف منصوبوں پر بڑی تیزی سے کام جاری ہے۔ ان منصوبوں میں ملٹری کالج سوئی، بلوچستان پبلک سکول سوئی کوئٹہ، انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز، گوادر انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی، چاما لنگ بینیفشر ایجوکیشن پروگرام، بلوچستان انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنیکل ایجوکیشن، آرمی انسٹیٹوٹ ان مینرولوجی، اسسٹنس ٹو منسٹری آف ایجوکیشن، بلوچ یوتھ انوائرمنٹ ان آرمی، ڈیرہ بگٹی ڈویلپمنٹ پروجیکٹ، ڈویلپمنٹ پروجیکٹ کوہلو اینڈ ناصر آباد ڈویژن اور پاکستان آرمی اسٹنس ان ڈویلپمنٹ آف روڈ نیٹ ورک جس میں اسٹنس ٹو منسٹری آف ایجوکیشن بلوچستان، گیس اور پانی کی مفت فراہمی ، سوئی میں پچاس بیڈوں پر مشتمل ہسپتال کی تعمیر، چامالانگ کول مائین، کھجور کی کاشتکاری، آرمی کی جانب سے امداد اور بحالی کی کوششوں اور اسی طرح کے دیگر منصوبوں پر کام تیزی سے جاری و ساری ہے۔ گوادر ڈیپ سی پورٹ اور چین کے تعاون سے اقتصادی راہداری کے عظیم منصوبے بھارت کی آنکھ میں کانٹے کی طرح کھٹک رہے ہیں۔ مقام تشکر ہے کہ وہ تمام سیاسی جماعتیں اور قوتیں جو ہمیشہ ملک و قوم کے مفاد کو اولین ترجیح دیتی ہیں اور افادہ رساں منصوبوں پر حکومتوں کیساتھ اختلاف رکھنے کے باوجود پاک چین اقتصادی راہداری کے منصوبہ کی تکمیل کیلئے سنجیدگی سے حکومت کے ساتھ تعاون کر رہی ہیں۔پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کی ہر صورت اور ہر قیمت پر حفاظت کرینگے۔ پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کی حفاظت کیلئے 2 ڈویژن فوج کو خصوصی تربیت دی جا رہی ہے۔ ایک ڈویژن فوج خنجراب سے راولپنڈی تک سکیورٹی فرائض سرانجام دیگی جبکہ دوسری پنڈی سے گوادر تک حفاظتی ذمہ دار یا ں ادا کریگی۔ دہشت گردی کیخلاف جنگ کے ساتھ ساتھ ملکی سرحدوں کی حفاظت اور اب سی پیک کی سکیورٹی بھی فوج کریگی۔سی پیک یا پاک چین اقتصادی راہداری کی افادیت سب پر عیاں ہے اور اسکی اہمیت کا اندازہ اس سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ یہ پروجیکٹ پاکستان دشمنوں کی آنکھوں میں کھٹک رہا ہے۔بالخصوص پہلے تجارتی قافلے کی گوادر سے مشرق وسطیٰ، افریقہ روانگی نے ان کی نیند اڑا دی ہے کہ وہ رکاوٹیں ڈالنے کی سوچ رہے تھے یہاں تجارت بھی شروع ہوگئی۔ اب یہ فضا بنائی جارہی ہے کہ یہ منصوبہ پورے پاکستان کیلئے نہیں ہے حالانکہ بلوچستان میں ژوب کا روٹ ہو یا خیبر پی کے، سندھ ا ور گلگت بلتستان و آزاد کشمیر سب اس سے مستفید ہوں گے۔ خصوصی اکنامک زون معاشی ترقی اور خوشحالی لائیں گے اور بے روزگاری کا خاتمہ ہوگا توانائی کے بحران سے نمٹنے میں بھی مدد ملے گی۔پاکستان کے مخالف نہیں چاہتے کہ سی پیک مکمل اور فعال ہو کہ پاکستان کی خوشحالی انہیں ایک آنکھ نہیں بھاتی لیکن وہ آگاہ نہیں کہ پاکستان کی مسلح ا فواج عوام اور حکومت اس معاملے پرایک پیج پر ہیں کیونکہ سی پیک خطے کی خوشحالی اوراس وژن کا عکاس ہے جو ترقی وخوشحالی کی نئی راہیں کھولے گا اور گوادر کی بندر گاہ تجارتی اور معاشی سرگرمیوں کامرکز بن جائے گی اور اس کے ثمرات پاکستان کے چاروں صوبوں اور آزاد کشمیر و گلگت بلتستان کا مقدر بنیں گے۔ ایشین ہیومن رائٹس کمیشن نامی ایک تنظیم بلوچستان میں نفرت کے بیج بو رہی ہے۔ پاک فوج اور بلوچ عوام کے درمیان جھوٹ بول کر غلط فہمیاں پیدا کی جا رہی ہیں۔ سیاسی حکومت کے خلاف بغاوت پر اکسایا جا رہا ہے۔ اے ایچ آر سی باغی بلوچوں کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے اور پاکستان کی سالمیت کو نقصان پہنچا رہی ہے۔ اس تنظیم کے پاکستان دشمن ممالک سے بھی رابطے ہیں ۔ وہ بلوچستان میں ترقیاتی کاموں اور سی پیک کی مخالفت کر رہے ہیں۔ اے ایچ آر سی کے مطابق پاکستان آرمی 52 ٹارچر چلا رہی ہے۔ بلوچستان میں جبری گمشدگیاں فوجی آپریشن کے نام پر شہری آبادیوں پر بمباری ،گھروں اور مال مویشیوں کو تباہ و مسمار کرنے میں تیزی آئی۔ بلوچوں کی سیاسی اور معاشی جبر کو حل کرنے کی بجائے ان کے سیاسی رہنماؤں اور کارکنوں کو جبری طور پر غائب کرکے اور قتل کرکے زخموں پر نمک چھڑکا جارہا ہے۔ نواب اکبر بگٹی کی فوج کے ہاتھوں قتل نے بلوچ قوم کی کی وفاق سے نفرت کو بڑھا دیا ہے۔ ملٹری گورنمنٹ سیاسی کارکنوں اور رہنماؤں کی ہزاروں کی تعداد میں گرفتار جن میں طالب علم، سیاسی ورکرز، ڈاکٹرز، جرنلسٹ اور یہا ں تک دکاندار بھی شامل ہیں انہیں خوفزدہ کرنے کیلئے گرفتار کرنا، تشدد کرنا، جبری طور پر لاپتہ کرنا اور ماورائے عدالت قتل کرنے کے حربے استعمال کررہی ہے۔سابق سربراہ پاک فوج نے بھارت کو انتباہ کرتے ہوئے کہا کہ ’مودی ہو یا ’’را‘‘ یا کوئی اوردشمن‘ ہم ان سب کی سازشوں اور چالوں کو اچھی طرح سمجھ چکے ہیں۔ سب سن لیں پاک فوج ملکی سلامتی کو یقینی بنانے کیلئے کسی بھی حدتک جائے گی۔ فوج اور عوام ایک ہیں اور فوج جو کچھ کر رہی ہے وہ ملک و قوم کی بھلائی کیلئے کر رہی ہے۔

ہم بڑے ڈاکوؤں سے پیسہ نکلوانے کی کوشش کر رہے ہیں، فواد چوہدری

اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ ہم بڑے ڈاکوؤں سے پیسہ نکلوانے کی کوشش کر رہے ہیں اور 10 سال کی پرانی کرپشن پر کمیشن بنانے کا بل اسمبلی میں دوں گا۔

اسلام آباد میں وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد میڈیا بریفنگ کے دوران فواد چوہدری نے کہا کہ اپوزیشن ارکان رات کو میڈیا پر آکر ہمیں بتاتے ہیں کہ کیا کرنا چاہیے، اپوزیشن شور مچانے کے بجائے الزامات کا جواب دے، ہم بڑے ڈاکوؤں سے پیسہ نکلوانے کی کوشش کر رہے ہیں جب کہ 10 سال کی پرانی کرپشن پر کمیشن بنانے کا بل اسمبلی میں دوں گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کو مکمل معاشی طور پر مستحکم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جب کہ چینی سرمایہ کاری سے ہمارے تعلقات مزید مضبوط ہوں گے۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ نیا پاکستان ہاؤسنگ اسکیم مکمل محفوظ اسکیم ہے، غریب عوام کو صحت کی سہولت دینے کے لئے ہیلتھ کارڈ کا اجرا کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیب کی کارکردگی مزید بہتر بنانے کی ضرورت ہے جب کہ کابینہ نے وزیرمملکت برائے داخلہ شہریار آفریدی کی کارکردگی کو سراہا ہے۔

فواد چوہدری نے کہا کہ اسلام آباد ایئرپورٹ کا جامع آڈٹ کرایا جائے گا، نیواسلام آباد ایئرپورٹ کی لاگت 38 ارب سے بڑھ کر 100 ارب کیسے ہوگئی، اس کا حساب کون دے گا، سگریٹ مافیا کے خلاف بھی بڑے کریک ڈاؤن کا فیصلہ کیا ہے، سگریٹ پر ٹیکس نہ دینے والی کمپنیوں کے خلاف سخت ایکشن ہوگا جب کہ اس سال کے اختتام تک غیر قانونی موبائل فون ملک میں کام نہیں کر سکیں گے۔

فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ پی آئی اے 406 ارب کی مقروض ہے، پی آئی اے ہر ماہ آپریشن اخراجات کیلئے 2 ارب خسارہ کرتی ہے تاہم پی آئی اے کا ری اسٹرکچرنگ پلان کابینہ کو پیش کیا ہے۔ ائیر وائس مارشل ارشد ملک کو چیئرمین پی آئی اے لگانے کا فیصلہ کیا گیا ہے، چیرمین پی آئی اے کو کہا گیا ہے کہ ادارے کی مالی مشکلات کو فوری حل کریں۔

Google Analytics Alternative