Home » 2018 » November

Monthly Archives: November 2018

کرپشن کا خاتمہ اولین ترجیح ہے 375 ارب روپے کے جعلی اکاؤنٹس پکڑے گئے، عمران خان

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے کہا  ہے کہ کرپشن کا خاتمہ اولین ترجیح ہےکیونکہ اس پر قابو پائے بغیر ملک ترقی نہیں کرسکتا جب کہ ایف آئی اے نے اب تک 375 ارب روپے کے جعلی اکاؤنٹس کو پکڑلیا ہے۔

تحریک انصاف کی حکومت کی 100 روزہ کارکردگی کے حوالے سے خصوصی تقریب جناح کنونشن سینٹرمیں جاری ہے ، جس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ 22 سال اپوزیشن میں رہ کر خود کو بتانا پڑتا ہے کہ وزیراعظم ہوں۔ انسان کے ہاتھ میں صرف کوشش ہوتی ہے کامیابی اللہ کے ہاتھ میں ہے، مدینہ کی ریاست میں تمام پالیسیاں رحم پر تھیں، غریبوں کو اوپر لانے کیلیے تھیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ تعلیمی نظام میں تین طبقات  بنے ہوئے ہیں  تاہم ملک  بھر میں یکساں نظام تعلیم لانے جارہے ہیں اس سلسلے میں بہترین ماہرین کی کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے جب کہ سرکاری اسپتالوں کا نظام تبدیل کرنے کے لیے اصلاحات کی ہیں، خیبرپختونخوا کی طرح ملک گیر ہیلتھ  کارڈ لانے جارہے ہیں۔

عمران خان نے کہا کہ کرپشن کا خاتمہ کریں گے، کرپشن پر قابو پانے تک ملک کا کوئی مستقبل نہیں ہے، نیب ایک آزاد ادارہ ہےاس لیے جو نیب کرتا ہے اس کے ذمہ دار حکومت نہیں ہے تاہم نیب کو بہتری لانی چاہیے اور نیب سمیت سب کو تنقید برداشت کرنی چاہیے۔

عمران خان نے کہا کہ ایف آئی اے کو مضبوط کیا ہے اور ایف آئی اے نے اب تک 375 ارب روپے کے جعلی اکاؤنٹس پکڑے ہیں ان اکاونٹس میں سے پیسہ آکر گیا ہے، اس کے ذریعے منی لانڈرنگ کی گئی ہےہم نے26 ممالک کے ساتھ مفاہمتی یاد داشتوں پر دستخط کیے ہیں جس کا مقصد منی لانڈرنگ کو روکنے کے لیے اقدامات کرنا ہیں۔

ٹیکس اصلاحات کے حوالے سے وزیراعظم نے کہا کہ 21 کروڑ میں صرف 72 ہزار پاکستانی ہیں جو آمدن 2 لاکھ سے زیادہ بتاتے ہیں،جس کی وجہ سے  اشیا پر ٹیکس لگا نے سے  سارا بوجھ عوام پر پڑھ جاتا ہے،ہم  ٹیکس میں اصلاحات لائیں گے اور ایف بی آر کو ٹھیک کرنے کی بھرپور کوشش ہورہی ہے جب کہ ساتھ ساتھ  اسمگلنگ کو روکنا ہے، وہ کمپنیز جن کا شیئر 60 فیصد ہے وہ 98 فیصد ٹیکس دیتے ہیں جب کہ 40 فیصد شیئرز والی کمپنیاں صرف 2 فیصدٹیکس دیتے ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ اوورسیز پاکستانیز کو پاکستان میں تحفظ کیلیے ایک قانون لارہےہیں اور سمندر پار پاکستانیوں کی جائیداد کے تحفظ کے لیے قانون بنائیں گے جب کہ  ایک لیگل ایڈ اتھارٹی بنارہے ہیں جو غریبوں کو انصاف کی فراہمی کیلیے کام کرے گی، اسی طرح بیواؤں کو انصاف کی جلد فراہمی کیلیے بھی اصلاحات لے کر آرہے ہیں اس ضمن میں بیواؤں کے لیے ایک خاص پرویژن لاء بنایا جائے گا اور  کیس کا فیصلہ کرنے کے لیے زیادہ سے زیادہ ڈیڑھ سال کا عرصہ دیا جائے گا۔

اسد عمر

وزیر خزانہ اسد عمر نے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ جب حکومت ملی تو 23سو ارب روپے کابجٹ خسارہ تھا ، گیس اور بجلی کے نظام میں خسارہ تھا، پانچ سال پہلے جب (ن) لیگ کی حکومت تھی تو ایک ماہ میں دو، دو ارب ڈالر بیرون خسارہ تھا ،بیرون قرضے بڑھ رہے تھے اور زرمبادلہ کے ذخائر کم ہورہے ایسے میں ماہرین کہتے تھے کہ آئی ایم ایف کی شرائط پر آنکھ بند کرکے مان لیں۔

اسد عمر نے مزید کہا کہ چار سال میں 7 لاکھ  تک چھوٹی صنعتوں کو بڑھانا ہے ان صنعتوں کو بینکوں سے قرضے دیے جاتے ہیں جب کہ غریبوں کے لیے پانچ بڑے منصوبوں کا اعلان  جلد کریں گے،بچوں کی غذائی کمی،  وسیلہ تعلیم، صحت کارڈ، غریبوں کے لیے چھت اور روزگار سے متعلق پروگرام ترتیب دیے جاچکے ہیں جس پر آئندہ دنوں پر آغاز ہوجائے گا۔ ہم آئی ایم ایف کے پیچھے نہیں چھپیں گےاگر آئی ایم ایف سے معاہدہ کریں گے تو معیشت  کی بہتری اور عوام کی خوشحالی کو مدنظر رکھتے ہوئے کریں گے جب کہ قوم کی بہتری کے لیے یوٹرن لینا ہو تو وزیراعظم یوٹرن لینے کیلیے تیار ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ  پاکستان میں بڑے بڑے مگرمچھوں نے زمینوں پر ناجائز قبضہ کیا ہوا ہے تاہم  پنجاب سے 88 ہزار ایکڑ اراضی قبضہ مافیا سے واپس لےلی ہےاور قبضہ مافیا سے سی ڈی اے کی ساڑھے 3 سو ارب روپے کی اراضی وگزار کرائی گئی ہے جب کہ تجاوزات کے خلاف ملک گیر مہم جاری ہے۔

انہوں نے بتایا کہ کمزوروں کی دیکھ بھال ریاست کی بنیادی ذمے داری ہےاس لیے غریبوں کےلیے 5ارب روپیہ اخوت فاؤنڈیشن کودےدیاہےجو غریبوں کو بلاسودقرضہ دےگی جب کہ دیہی علاقوں میں غربت کےخاتمے کیلیے کسانوں کیلیے پروگرام لارہےہیں ہم جانوروں کو پالنے کے لیے کسانوں کو پیسے دں گے اور   چھوٹےکسانوں کولیزپرمشینیں دیں گے۔

شاہ محمود قریشی

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی  نے کہا کہ کشمیر ہماری خارجہ پالیسی کا اہم حصہ ہے دنیا کے سامنے مسئلہ کشمیر اجاگر کیا گیا کشمیریوں کو پیغام ہے کہ تم تنہا نہیں ہو ہم تمہارے ساتھ ہیں اور عمران خان ساتھ رہیں گے۔

ارباب شہزاد

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم کے معاون خصوصی ارباب شہزاد نے کہا کہ ہم نے کفایت شعاری کو اپنایا اور نہایت ایمانداری سے شفاف اندازمیں خودکو  قابل احتساب ٹھہرایا جب کہ لوکل حکومتوں کو مکمل با اختیار بنایاجائےگا، دیامر بھاشا اور مہمند ڈیم کو ہنگامی بنیادوں پر تعمیر کیا جائے گا۔

مستقبل کے منصوبوں اور اقدامات سے متعلق ارباب شہزاد نے بتایا کہ خواتین کے لیے انصاف کا حصول آسان کیا جائے گا اور ملک بھر میں یکساں اور معیاری تعلیم کو یقینی بنایا جائے گا جب کہ وزیراعظم ہاؤس کو یونیورسٹی میں تبدیل کیا جارہاہے، اسی طرح پانچ سال میں ملک بھر میں 10 بلین درخت اگائے جائیں گے۔

کشمیری تنہا نہیں ہم ان کے ساتھ ہیں، وزیرخارجہ

اسلام آباد: وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ ہم کشمیر کو بھولے ہیں نہ بھولیں گے، کشمیر ہماری خارجہ پالیسی کا اہم حصہ ہے اور نئی رپورٹوں کو سامنے رکھ کر اس سال پاکستان اور کشمیر کا جھنڈا لیے کشمیر ڈے منائیں گے۔

اسلام آباد میں حکومت کی 100 روزہ کارکردگی پر خصوصی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ حکومت ملی تو ہمیں تنہائی میں ڈالنے کی سازش کی گئی، گزشتہ 5 سال میں ساڑھے 4 سال پاکستان کا مقدمہ پیش کرنے کیلیے وکیل ہی نہ تھا، ہم نے فیصلہ کیا کہ دفترخارجہ کو زیادہ متحرک کریں گے، ہم مزید غلامی کا طوق پہننے کو تیار نہیں لیکن اچھے تعلقات چاہتے ہیں۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ خطے میں امن ہماری ضرورت ہے کیوں کہ ملک میں سرمایہ کاری لانے کے لیے امن کا ہونا ضروری ہے، امن کے لیے افغانستان اور بھارت کے ساتھ تعلقات ضروری ہیں، بھارت سے اتار چڑھاؤ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں لیکن بھارت امن کے لیے ایک قدم بڑھے ہم دو قدم بڑھانے پر تیار ہیں جب کہ افغانستان کو پاکستان کی کسی پالیسی پر اعتراض ہے تو اب بات کرنے کیلیے ایک میکنزم موجود ہے۔

وزیرخارجہ نے کہا کہ گزشتہ حکومت کی پالیسی کی وجہ سے سعودی عرب ، امارات سے تعلقات سرد مہری کا شکار ہوئے تاہم ہماری حکومت نے کوشش کی اورتعلقات کو ری سیٹ کرنے میں کامیاب رہے جب کہ عمران خان کا چین کے کامیاب دورے سے آج ہم سی پیک کے اگلے مرحلے میں داخل ہوگئے ہیں، ایران کے ساتھ رابطہ برقرار ہیں۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ یورپی یونین ہمارا بہت بڑا ٹریڈ پارٹنر ہے اور ان کے ساتھ اسٹریٹجک پلان طے کرچکے ہیں جب کہ امریکا فیصلہ کرچکا ہے کہ خطے میں ان کا اسٹریٹیجک پارٹنر پاکستان نہیں بھارت ہے،  ٹرمپ نے پاکستان سے متعلق ٹوئٹ کی جس پر عمران خان نے موثر جواب دیا۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان نے کرتارپور کی صورت میں گگلی پھینکی اور بھارت کو دو وزیروں کو بھیجنا پڑا اور بھارت کے لیے ہمارا رسپانس مثبت اور سنجیدہ تھا لیکن ان کی سیاست آڑے آگئی۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ نئی رپورٹوں کو سامنے رکھ کر اس سال پاکستان اور کشمیر کا جھنڈا لیے کشمیر ڈے منائیں گے، 5 فروری کو سب کو دعوت دے رہا ہوں اور کشمیریوں کو پیغام ہے کہ تم تنہا نہیں، ہم تمہارے ساتھ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گستاخانہ خاکوں کو سامنے رکھتے ہوئے اسلام آباد پر یلغار کی گئی جس کا بھرپور جواب دیا، عشق رسولﷺ اور غلامی رسولﷺ پر کل بھی فخر تھا اور آج بھی ہے۔

وزیراعظم عمران خان کی تاریخی کامیابی اور بھارت کی روایتی ہٹ دھرمی

adaria

71سال سے ایک دیرینہ مسئلہ حل طلب تھا مگر اس دوران بہت سی حکومتیں آئیں سب نے اس حوالے سے مختلف بیانات دئیے، شاید کچھ کاوشیں بھی کی ہونگی لیکن وہ بارآور ثابت نہ ہوسکیں ۔وزیراعظم عمران خان کا خاصہ یہ بتاتاہے کہ انہوں نے ہر ناممکن بات کو ممکن بنایا، کیا کبھی کوئی سوچ سکتا تھا کہ 1992ء میں پاکستان کیلئے ورلڈ کپ جیتنے والا ایک کرکٹ کا کھلاڑی کبھی اس ملک کی قسمت کا بھی والی وارث ہوگا، وقت اسی طرح رواں دواں رہا عمران خان نے تحریک انصاف بنائی، اس سیاسی دشت میں نامعلوم کتنے اتار چڑھاؤ آئے، بھنور آئے مگر عمران خان نے ہمت نہ ہاری اور مصمم ارادے سے اپنی منزل کی جانب گامزن رہے اور آخر کار اقتدار حاصل کرکے وزیراعظم پاکستان بن گئے۔ چونکہ جب پی ٹی آئی کو حکومت ملی تو بہت سارے مسائل انہیں ماضی کی حکومتوں کی طرح ورثے میں ملے۔ ان مسائل کو حل کرنے کیلئے عمران خان نے رات دن ایک کیا، وفاقی کابینہ کے100دن کے اندر اندر ریکارڈ اجلاس کیے، کچھ فیصلے کیے ان پر ابھی مزید عمل ہونا باقی ہے۔ ان 100دنوں کے اندر جو سب سے اہم کامیابی ہم سمجھتے ہیں وہ کرتارپور راہداری کا سنگ بنیاد رکھنا تھا کیونکہ تقریباً 7دہائیوں سے یہ مسئلہ حل نہ ہو پارہا تھا مگر عمران خان نے اپنی صلاحیتوں کو منواتے ہوئے صرف تین ماہ کے اندر اس مسئلے کو اس طرح حل کیا کہ پوری دنیا انگشت بدانداں رہ گئی یہاں پر مخالفین بھی یہ کہنے پر مجبور ہوگئے کہ وزیراعظم عمران خان نے بہت بڑی منزل حاصل کی ہے۔ ترقی یافتہ قوموں اور تعمیری اپوزیشن کرنے والوں کی یہی پہچان ہوتی ہے کہ اگر ملک و قوم کیلئے کوئی اچھا فیصلہ کیا جائے تو اس کا سراہنا چاہیے۔ وزیراعظم نے سنگ بنیاد کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے دوٹوک الفاظ میں کہاکہ پاکستان اور بھارت کو ماضی کی زنجیریں توڑ کر آگے بڑھنا ہوگا۔ اگر فرانس اور جرمنی ایک یونین بنا کر آگے بڑھ سکتے ہیں تو ہم کیوں نہیں۔ دونوں ممالک کے مابین سب سے بڑا مسئلہ مسئلہ کشمیر ہے، انسان چاند پر پہنچ چکا لیکن ہم ابھی تک مسئلہ کشمیر میں ہی پھنسے ہوئے ہیں۔ وزیراعظم کی اس بات سے ہم 100فیصد اتفاق کرتے ہیں کہ پاکستان بھارت کے مابین اصل تنازعہ مسئلہ کشمیر ہی ہے اس کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنا ہوگا پھر یہ بھی کہا کہ اگر بھارت ایک قدم بڑھتا ہے تو ہم دوقدم آگے بڑھیں گے۔ پاکستان نے تو ہمیشہ ہی اپنے دروازے کھلے رکھے لیکن بھارت نے اپنی کوتاہ نظری کی روایت برقرار رکھی ، ابھی ادھر راہداری کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب ختم ہی ہوئی تھی کہ مودی کی حکومت کے پیٹ میں مروڑ اٹھنا شروع ہوگئے، وہاں کا میڈیا بھی سیخ پا ہوگیا اور پاکستان دشمنی شروع کرتے ہوئے بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج نے یہ بیان داغ دیا کہ کرتارپور راہداری کھلنے کا مطلب مذاکرات کا آغاز نہیں اور نہ ہی ہم سارک کانفرنس میں شرکت کرینگے یہ کوئی نئی یاانہونی بات نہیں پہلے بھی اسی بھارتی ہٹ دھرمی کی وجہ سے سارک کانفرنسز سبوتاژ ہوتی رہیں۔تقریب میں آئی ہوئی بھارتی وزیر ہرسمرت کوربادل تقریب سے خطاب کرتے ہوئے آبدیدہ ہوگئیں اور انہوں نے کہاکہ میں نے کبھی زندگی میں بھی نہیں سوچا تھا کہ میں یہاں تک پہنچ جاؤں گی ہماری قوم کیلئے یہ بہت خاص دن ہے، آج ہم مریدوں کی مراد پوری ہونے جارہی ہے، ہم بارڈر سے چارکلو میٹر دور کھڑے ہوکر دیدار کو ترستے رہتے تھے، یہ راہداری دونوں ممالک کے مابین امن کی ضمانت ہوگی، پاکستان کی دھرتی سکھ کمیونٹی کیلئے بہت مقدس ہے جبکہ سابق بھارتی کرکٹر نوجوت سنگھ سدھو نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ عمران خان ایسی چابی بن گئے ہیں جو ہر تالے کو لگ سکتی ہے، کرتاپور صاحب کی جب تاریخ لکھی جائے گی تو سب سے پہلا نام عمران خان کا لکھا جائے گا۔ مگر حیف ہے بھارت پر کہ وہ کوئی ایسا موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتا جس میں وہ پاکستان کیخلاف ہرزہ سرائی نہ کرے۔ انتہا تو اس وقت ہوگئی جب بھارتی میڈیا نے ایک نئی احتراع نکالتے ہوئے یہ الزام عائد کیا کہ پاکستان کرتارپور راہداری کو خالصتان کے معاملے میں استعمال کرے گا، یہ حد ہے بھارت کی اور اس کے گھناؤنے عزائم کی وہ کسی طرح نہیں چاہتا کہ خطے میں امن و امان قائم ہو، وہ پاکستان سے تعلقات ہی نہیں چاہتا، مقبوضہ کشمیر میں کسی طرح ظلم و ستم کی تاریخ کو جاری رکھنا چاہتا ہے ۔ آج بین الاقوامی برادری نے دیکھ لیا کہ پاکستان خطے میں کس قدر قیام امن کا خواہاں ہے۔ عمران خان نے وہ کام کردکھایا جو شاید کوئی خوابوں میں سوچتا ہوگا، ابھی یہ تو بارش کا پہلا قطرہ ہے امید کی جارہی ہے کہ اور بھی دیگر مسائل اسی تیزی سے حل ہونگے کیونکہ حکومت بھی یہ بات کہتی ہوئی نظر آرہی ہے کہ آنے والے دنوں میں بہت زیادہ تبدیلیاں نظر آئیں گی۔ کرتارپور راہداری کا سنگ بنیاد ان ہی مثبت تبدیلیوں کا ثبوت ہے۔

ایس کے نیازی کی تعمیری صحافت،ہرکوئی معترف
پاکستان گروپ آف نیوز پیپرز کے چیف ایڈیٹر اور روز نیوز کے چیئرمین ایس کے نیازی کا ہمیشہ سے یہ طرہ امتیاز رہا کہ انہوں نے جب سے صحافت میں قدم رکھا تو ہمیشہ معیاری اور صاف ستھری صحافت کے علمبردار نظر آئے۔ روز نیوز پر ان کا نشر ہونے والا پروگرام’’سچی بات‘‘ آج اپنی بلندیوں کو چھو رہا ہے، اس پروگرام میں انہوں نے ہمیشہ عوامی مسائل کی جانب توجہ مبذول کرائی۔ بہت سارے ایسے ایکشن ہوئے جن کی نشاندہی سچی بات میں کی گئی اور حکومت نے اس مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا ۔گزشتہ روز سچی بات کے پروگرام میں وزیراعظم کے مشیر برائے موسمیاتی تبدیلی ملک امین اسلم مدعو تھے۔ انہوں نے حکومت کی جانب سے متعین کردہ مختلف چھ نکات کا ذکر کیا لیکن جب ایس کے نیازی نے ان کی توجہ ایک ایسے اہم نکتے کی جانب مبذول کرائی تو انہوں نے بھی اس سے اتفاق کیا۔ ایس کے نیازی نے کہاکہ جہاں تک ماحول کی بات ہے تو آپ اس کے انچارج مشیر ہیں کیا قومی اسمبلی کے ماحول کی جانب کبھی آپ نے توجہ دی ہے۔ قومی اسمبلی کے اجلاس پر لاکھوں کروڑوں روپے کے اخراجات آتے ہیں ، وہاں پر قوم نے آپ کو قانون سازی اور مسائل حل کرنے کیلئے بھیجا ہے لیکن افسوس کیساتھ کہنا پڑتا ہے کہ وہاں پر تو کچھ اور ہی دیکھنے اور سننے کو ملتا ہے، ذاتیات کی سیاست اور اخلاقیات کا تیاپانچہ کیا جاتا ہے، نہ کوئی روکنے والا ہے ، نہ کوئی وہاں پر ایس او پی دینے والا ہے ، یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ ایوان کے ماحول کو مثبت انداز میں رواں دواں رکھے۔ ملک امین اسلم نے اس سے بالکل اتفاق کرتے ہوئے کہاکہ نیازی صاحب آپ بالکل صحیح فرمارہے ہیں آپ نے جو نکتہ اٹھایا ہے یہ بہت اہم ہے اور انشاء اللہ ہم اس پر عمل بھی کرینگے۔ ایس کے نیازی نے ماحو ل کے حوالے سے گاڑیوں کے دھوئیں کا معاملہ بھی اٹھاتے ہوئے کہاکہ ہر گاڑی کی ایک خاص عمر ہوتی ہے اور اس کی چیکنگ ہونی چاہیے جس پر امین اسلم نے کہاکہ بالکل ہم اس حوالے سے بھی کام کررہے ہیں اور گاڑی کی صحت بھی ضروری ہے، برطانیہ کے تعاون سے ہم مختلف ایسے سینٹرز قائم کررہے ہیں جہاں پر باقاعدہ گاڑیوں کی چیکنگ کی جائیگی۔ آج اسی وجہ سے ایس کے نیازی کی تعمیری صحافت کا ہر کوئی معترف ہے کیونکہ سچی بات میں پوائنٹ سکورنگ نہیں اصل مسائل کی جانب توجہ مبذول کرائی جاتی ہے ۔وزیراعظم سے لیکر کابینہ کے وفاقی وزراء ، اپوزیشن کے اہم رہنما، سیاسی و سماجی شخصیات سب اس پروگرام میں شرکت کرچکی ہیں، صحت کا مسئلہ ہو، پانی کا مسئلہ ہو، ڈیم کی تعمیرات کا مسئلہ ہو، ملکی معیشت کا مسئلہ ہو،خارجہ و داخلی امور ہوں،دفاع اور سرحد کا معاملہ ہوغرض کہ ہر جانب ایس کے نیازی ان تمام چیزوں کے ساتھ ساتھ پاکستان کے نظریات کا تحفظ کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔

کیا یہ ہے دنیا کا پہلا ‘حقیقی’ بیزل لیس اسمارٹ فون؟

ویوو وہ چینی کمپنی نے جس نے حقیقی معنوں میں پہلا بیزل لیس اسمارٹ فون نیکس متعارف کرایا تھا جس میں متاثکن 91.24 فہصد اسکرین ٹو باڈی ریشو، پوپ اپ کیمرہ اور ڈسپلے میں نصب فنگرپرنٹ اسکینر جیسے فیچرز دیئے تھے۔

اور اب ویوو نیکس 2 بھی سامنے آنے کے لیے تیار ہے جس میں یہ کمپنی آگے اور پیچھے ڈسپلے یعنی ڈوئل اسکرین دینے والی ہے۔

اس فون کی تصاویر لیک ہوکر سامنے آئی ہیں اور ممکنہ طور پر ویوو نیکس 2 کو دسمبر میں متعارف کرایا جاسکتا ہے۔

نوبیا ایکس کی طرح نیکس 2 ڈوئل اسکرین ڈیزائن دیا جائے گا جس کا مقصد فرنٹ ڈسپلے میں اسکرین ٹو باڈی ریشو کو ہر ممکن حد تک بڑھایا جاسکے۔

یعنی پوپ اپ سیلفی کیمرے کو ختم کردیا گیا ہے بلکہ فون کو پلٹ کر سیکنڈ اسکرین کو سیلفی یا ویڈیو کال کے لیے استعمال کرنا ہوگا اور اس طرح فرنٹ کیمرے کے لیے نوچ یا بیزل کی ضرورت ہی ختم کردی گئی ہے۔

فون کے بیک پر ایک ایل ای ڈی دائرہ بھی موجود ہے جس میں 3 کیمرے دیئے گئے ہیں۔

اس رنگ کا ایک مقصد تو نوٹیفکیشنز پر جگمگانا ہے تاہم کیمروں کی تفصٰلات فی الحال سامنے نہیں آئی مگر مختلف اطلاعات کے مطابق اس میں ٹام آف فلائٹ اسکینر نامی فیچر دیا جارہا ہے جو کہ فوٹوگرافی اور اگیومینٹڈ رئیلٹی کے لیے استعمال کیا جائے گا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ویوو نیکس کو رواں سال جون میں ہی فروخت کے لیے پیش کیا گیا تھا اور صرف 6 ماہ بعد ہی اس کا اپ ڈیٹ ورژن بھی متعارف ہونے والا ہے۔

کابینہ اجلاس؛ گلگت بلتستان کو عبوری صوبے کا درجہ دینے کا فیصلہ موخر

اسلام آباد: وزیراعظم کی زیرصدارت کابینہ اجلاس میں گلگت بلتستان کو صوبے کا درجہ دینے کا فیصلہ موخر کردیا گیا ہے۔ 

وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں 100 روزہ پلان پرعمل درآمد رپورٹ کی منظوری دے دی۔ ذرائع کے مطابق وفاقی کابینہ کے اجلاس میں 8 نکاتی ایجنڈا زیر غور آیا، اجلاس میں وزارتوں اور وزراء کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا اور گلگت بلتستان میں اصلاحات کا معاملہ بھی زیر غور آیا۔

اجلاس میں امن وامان اور معاشی صورتحال پر غور کیا گیا جب کہ پاک افغان سرحد پر باڑ اور لائٹنگ کے توسیعی مرحلے اور وزارت تجارت کی نئے نیشنل ٹیرف پالیسی کی منظوری بھی دی گئی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی کابینہ کو 100 روزہ پلان کے اہداف کے حصول پر بریفنگ دی گئی جس پر کابینہ نے 100 روزہ پلان پرعمل درآمد رپورٹ کی منظوری دے دی۔

ذرائع کے مطابق وفاقی کابینہ نے گلگت بلتستان کو صوبے کا درجہ دینے کا فیصلہ موخر کردیا، جب کہ گلگت بلتستان کو صوبہ بنانے کے معاملہ پر مزید مشاورت کی جائے گی، وفاقی وزیر علی امین گنڈا پور کی سربراہی میں اصلاحاتی کمیٹی کام کر رہی ہے۔

ذرائع نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے حکومتی کارکردگی پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے پہلے سو روز میں بھر پور کام کیا ہے، مالی مشکالات پر قابو پا لیا ہے جب کہ کابینہ پاکستان کو آگے لے کر جانے کے لیے ایسے ہی محنت جاری رکھے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے پاکستان کی سمت طے کر دی ہے، پاکستان کی خود مختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا، کرتار پور سرحد کھول کر ہم نے پرامن ملک ہونے کا ثبوت دیا ہے ۔

ذرائع کے مطابق کابینہ اجلاس میں وزارت خارجہ کی 100 روزہ کارکردگی رپورٹ جاری کی گئی جس میں کہا گیا کہ پاک چین اسٹریٹیجک تعلقات میں استحکام آیا اور سعودی عرب سے قابل زکر اقتصادی پیکج اور سرمایہ کاری تعاون ملا۔

دوسری جانب کابینہ اجلاس کا اعلامیہ جاری کردیا گیا ہے، جس کے مطابق کابینہ نے پاک افغان سرحد پر باڑ لگانے کے لئے 20 ارب روپے اور پاکستان براڈکاسٹنگ کارپوریشن کے لیے 4 سو ملین روپے کی گرانٹ کی منظوری دے دی جب کہ کابینہ نے وزارت تجارت کی نیشنل ٹیرف پالیسی کی بھی منظوری دے دی۔

کابینہ نے شہید ذوالفقارعلی بھٹو میڈیکل یونیورسٹی کے وائس چانسلر کے لئے سرچ کمیٹی کی منظوری دے دی، وفاقی وزیرڈاکڑ شیریں مزاری سرچ کمیٹی کی سر براہ مقرر کیا گیا۔

حکومت کے 100 دن ملک کیلیے بدنامی اورشرمندگی کے دن تھے، مریم اورنگزیب

لاہور: ترجمان (ن) لیگ مریم اورنگزیب کا کہنا ہے کہ حکومت کے اولین 100 دن ملک کے لیے کیلیے بدنامی اورشرمندگی کے دن تھے۔

تحریک انصاف کی حکومت کے اولین 100 دن کی کارکردگی پر رد عمل دیتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ حکومتی وزرا میں جھوٹ بولنے کا سخت مقابلہ جاری ہے، جو وزیر سب سے بڑا جھوٹ بولے گا، وہ عمران خان سے سب سے بڑا میڈل لے گا، عوام حکومت کی 100 دن کی کارکردگی جاننے کیلیے گوگل پر تلاش جاری رکھیں۔

مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ حکومت کے اولین 100 دن ملک کیلیے بدنامی اورشرمندگی کے دن تھے، حکومت کو اپنے 100 دن کی کارکردگی دکھانے کے لیے ہمارے منصوبوں کا سہارا لینا پڑرہا ہے، عمران خان کے جھوٹ اور ناکامی کے’سچ‘ کو چھپانے کے لیے 100 ’جھوٹ‘ گھڑے جارہے ہیں۔

ترجمان مسلم لیگ (ن) نے کہا کہ حکومت نے سرکاری خرچ پر اپنے جھوٹ کی تشہیر شروع کردی ہے، حکومت کو ’ہم مصروف تھے‘ کی جگہ ’ہم نالائق ہیں‘ کا اشتہار دینا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے 100 دن عوام کے لیے 100 اذیت ناک دن تھے، مسلم لیگ (ن) 100 دن کی حکومتی نااہلی، جھوٹ، ناکامیوں اور ’یوٹرنز‘ پر جلد حقائق نامہ دے گی۔

کرتارپور بارڈر اور بھارت کا افسوس ناک رویہ

یہ بات تو طے ہے کہ بھارت نے ہمیشہ ہر کام میں پاکستان کی مخالفت کرنی ہے۔ آج تک خطے میں قیام امن کیلئے نہ خود کوئی کوشش کی اور نہ ہی پاکستانی کوششوں کوشرف قبولیت بخشا۔ مسئلہ کشمیر پر مذاکرات کو ہمیشہ بھارت نے سبوتاژ کیا۔ سارک تنظیم جو خطے کے ممالک کی ترقی اور باہمی تجارت و امن کے فروغ کیلئے بنائی تھی، اسے بھی بھارت نے متنازعہ بنایا۔ ابھی چند ماہ پیشتر اقوام متحدہ کے اجلاس کے موقع پر وزرائے خارجہ کی ملاقات کی پاکستانی پیشکش کو پہلے قبول کر کے بعد میں انکار کر دیا ۔ اور اب کرتار پور بارڈر کھولنے کے پاکستانی فیصلے پر رضامند ہونے کے باوجود اس تقریب میں شرکت نہ کر کے دنیا کو قیام امن کے مخالف پیغام دیا گیا۔ کرتارپور کی تاریخی اہمیت یہ ہے کہ جب سکھ مذہب کے بانی گرو نانک دیو کا 1539 میں انتقال ہوا تو روایت ہے کہ مقامی مسلمان، سکھ اور ہندو آبادی میں ان کی آخری رسومات کے حوالے سے تفرقہ پڑ گیا۔ ہر طبقہ اپنی اپنی مذہبی روایات کے مطابق ان کی میت کو دفنانا اور آڑہتی کو جلانا چاہتی تھی۔ کہا جاتا ہے کہ اس موقع پر بابا گْرو نانک کی میت چادر کے نیچے سے غائب ہو گئی اور اس کی جگہ مقامی افراد کو محض پھول پڑے ملے۔ ان پھولوں کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا۔ ایک حصہ مسلمانوں نے اپنی روایت کے مطابق دفنایا تو پاس ہی دوسرا ہندوؤں اور سکھوں نے احتراق کیا۔ لگ بھگ اسی مقام پر آج گردوارہ دربار صاحب کرتارپور کی عمارت کھڑی ہے۔ 1947 کی تقسیم کے بعد یہ علاقہ پاکستان کے حصے میں آیا ۔یہ مقام سکھ برادری کے لیے مقدس ترین مقامات میں سے ایک ہے۔ لیکن دنیا میں بسنے والے تقریباً تین کروڑ سکھوں کی اکثریت گذشتہ 71 برس سے اس کی زیارت سے محروم ہے۔ اس کی وجہ شروع دن سے دونوں ممالک کے درمیان پائی جانے والی کشیدگی ہے۔ ایک معاہدے کے مطابق ننکانہ صاحب کی زیارت پر آنے والے بھارتی سکھوں میں سے چند کو کرتار پور پر ویزا ملنا شروع ہوا لیکن ان سکھوں کی تعداد بھی چند سو سے زیادہ نہیں تھی۔ اب تک بھارتی سکھ چار کلومیٹر دور سرحد کے اْس پار سے کرتار پور گوردوارہ کو دیکھ سکتے تھے ۔ انڈین بارڈر سکیورٹی فورس نے سرحد پر ایک ‘درشن استھل’ قائم کر رکھا ہے جہاں سے وہ دوربین کی مدد سے دربار صاحب کا دیدارکیا جا سکتا تھا۔ راستے میں دریائے راوی اور نالہ بئیں پڑتے ہیں۔ پاکستان میں کے صوبہ پنجاب کے ضلع نارووال میں شہر سے تحصیل شکر گڑھ کی جانب جاتی شاہراہ سے دربار صاحب کی عمارت میلوں دور سے نمایاں نظر آتی ہے۔سکھوں کی اس مقام سے مذہبی عقیدت اور بے بسی دیکھتے ہوئے پاکستانی حکومت نے کرتار پور بارڈر کھولنے کا عندیہ دیا۔ اس کے بعد انڈیا میں مقیم سکھ برادری کو یہ امید ہو چلی ہے کہ شاید عنقریب وہ اپنے مقدس ترین مذہبی مقام کی زیارت کر پائیں گے۔وزیر اعظم عمران خان کی تقریب حلف برداری سے واپسی پر سابق انڈین کرکٹر اور وزیر نوجوت سنگھ سدھو کا بیان سامنے آیا تھا کہ پاکستانی فوج کے سربراہ نے ان سے کرتارپور سرحد کھولنے کے امکانات کے حوالے سے بات کی تھی۔ اس کے بعد چند روز بعد پاکستان میں بھارتی سفیر نے کرتارپور کا دورہ بھی کیا۔ بہر حال پاکستان نے خطے میں قیام امن اور سکھ قوم کی مذہبی رسوم کی ادائیگی کی خاطر کرتار پور بارڈر کھولنے کا فیصلہ کیا اور اس ضمن میں ایک تقریب کا اہتمام بھی کیا گیا جس میں وزیر اعظم عمران خان نے سنگ بنیاد رکھنا تھا۔اس تقریب میں شرکت کیلئے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی، وزیر خارجہ سشما سوراج ، بھارتی پنجاب کے وزیر اعلیٰ اور دیگر حکومتی عہدیداروں کو دعوت دی مگر میں نہ مانوں کی رٹ لگائے بھارتی قیادت کا انکار سامنے آیا۔ بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج کے کرتارپور بارڈر پر راہداری کھولنے کی سنگ بنیاد کی تقریب میں شرکت سے انکار کے بعد بھارتی پنجاب کے وزیراعلی امریندر سنگھ نے بھی پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو شرکت سے انکار کر تے ہوئے کہا کہ سکھ برادری کیلئے اقدام قابل ستائش ہے تاہم تقریب کا حصہ نہیں بن سکتا۔ پاکستان بھارت صورتحال تبدیل ہونے پر گردوارہ کرتارپور حاضری دوں گا۔ کہا جا رہا ہے کہ بھارت میں ہونے والے الیکشن کی وجہ سے سشما سوراج کو کرتار پور راہداری منصوبہ کی سنگ بنیاد کی تقریب میں شرکت کا فیصلہ واپس لینا پڑا ۔وزیراعظم عمران خان نے کرتارپور راہداری کے سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور بھارت کو ایک دوسرے سے سیکھنا چاہیے۔ بھارت ایک قدم آگے بڑھائے گا ہم دو قدم آگے بڑھائیں گے۔ ماضی کی زنجیرجب تک توڑیں گے نہیں،آگے نہیں بڑھیں گے۔ ہمیں اچھے ہمسائیوں کی طرح رہنا ہے۔ کئی جنگیں لڑنے والے فرانس اورجرمنی ملکرآگے بڑھ سکتے ہیں توہم کیوں نہیں۔ عمران خان کا کہناتھا کہ سدھوجب پاکستان آئے توان پربھارت میں بڑی تنقید ہوئی،سدھودوستی اورمحبت کا پیغام لے کرآئے پھرتنقید کیوں؟اس موقع پر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان اور بھارت خطے کے اہم ملک ہیں۔ ماضی کوبھول کر مسائل کے حل کیلئے آگے بڑھنا ہوگا ۔ پاکستان 70سال سے دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہاہے ۔ دہشتگردی کے خاتمے کیلئے مشترکہ کوششیں ضروری ہیں۔حقیقت ہے کہ بھارت کے انکار کے بعد بہت سخت مایوسی ہوئی۔ بھارت اندر سے کچھ اور باہر سے کچھ اورہے۔ بھارت اپنے ہی شہریوں کو کوئی خوشی دے کر راضی نہیں ، صرف اس لئے کہ ان کا تعلق ایک اقلیتی جماعت سے ہے۔ یہ بھارت کا سیکولر ازم کا بھانڈا پھوڑنے کیلئے کافی ہے۔ بھارت میں اپریل میں انتخابات ہیں۔ وہاں مذہبی کارڈ کھیلا جا رہا ہے۔ بھارتی وزیرِ اعظم مودی مذہبی کارڈ شدت سے کھیل رہے ہیں لیکن مذہبی کارڈ کے نتائج خطرناک ثابت ہوتے ہیں۔ کرتار پور بارڈ کھولنے کے حوالے سے ایک تجویز یہ بھی ہے کہ سکھوں کو کرتارپور تک رسائی دینے کے لیے ایک ویزہ فری کاریڈور تعمیر کیا جائے۔ یعنی سکھ یاتری صرف دربار صاحب تک آ پائیں گے اور انھیں اس کے لیے ویزے کی ضرورت نہیں ہو گی۔تاہم پاکستان اور بھارت کی حکومتیں اس پر راضی ہوتی ہیں یا نہیں ،یہ دیکھنا باقی ہے۔اس میں کچھ وقت بھی لگ سکتا ہے۔ اس کے علاوہ دریائے راوی اور نالہ بئیں پر پل بھی تعمیر کئے جانے ہیں جس میں ظاہر ہے وقت تو لگے گا ہی۔

****

سردیوں میں خشک جلد سے چھٹکارہ پانے کا آسان سا نسخہ

موسمِ سرما کا آغاز ہوتے ہی جلد کی خشکی میں بہت زیادہ اضافہ ہوجاتا ہے بعض حالات میں جلد پر پپڑیاں سی بھی جمنے لگتی ہیں, خاص کر خشک جلد والوں کو سخت پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

جس کا نتیجہ مہنگے ترین موئسچرائزر، کریم اورلوشن کی صورت میں نکلتا ہے لیکن وہ بھی بعض حالات میں وقتی اثر انگیز ثابت ہوتے ہیں۔

ایسی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ہم آپ کو آسان سا نسخہ بتا رہے ہیں جس سے سردیوں میں بھی آپ کی جلد نرم و ملائم رہے گی اور آپ کی جیب پر غیر ضروری بوجھ بھی نہیں پڑے گا۔

زیتون کے تیل کا استعمال

منفرد اور اہم خصوصیات کے حامل زیتون کے تیل کے بیش بہا فائدے ہیں، اسے نہ صرف کھانوں میں استعمال کیا جاتا ہے بلکہ درد کی شکایت میں اس کا مساج بھی آرام پہنچاتا ہے۔

لیکن یہاں ہم نرم و ملائم اور چمکدار جلد کے حصول کے لیے اس تیل کے استعمال کے بارے میں بتا رہے ہیں، اس کے لیے آپ کو صرف ایک سے 2 چائے کے چمچ زیتون کے تیل کی ضرورت پڑے گی۔

رات میں سونے سے قبل ہلکے سے نیم گرم زیتون کے تیل سے روزانہ اپنے چہرے اور ہاتھ پیروں پر مساج کرنے کی عادت بنالیں آپ کی سردیاں جلد کی خشکی کے مسائل کے بغیر آرام سے گزر جائیں گی۔

اس کے علاوہ آپ نہانے سے قبل زیتون کے تیل سے کمر اور جسم کے دیگر حصوں کا مساج بھی کرسکتے ہیں جس سے نہ صرف خون کی روانی بہتر ہوگی بلکہ سردیوں میں جلد کی نمی بھی برقرار رہے گی۔

لیکن اگر آپ کی جلد زیادہ خشک ہے تو زیتون کے تیل میں تھوڑا سا کھوپرے کا تیل شامل کرلیں اور کچھ دن تک روزانہ اپنی جلد پر استعمال کریں اس سے جلد کو بہتر نمی ملے گی۔

موسم سرما میں چہرے کی جلد مرجھا سی جاتی ہے، اس مرجھائی ہوئی جلد کو ترو تازہ بنانے کے لیے تھوڑا سا زیتون کا تیل اور کافی کے بیجوں کا پاؤڈر لےکر پیسٹ بنالیں اور دائرے میں اس کا مساج کریں، اس سے نہ صرف مرجھائی ہوئی جلد نکھر جائے گی بلکہ جلد میں قدرتی نمی بھی بحال رہے گی۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

Google Analytics Alternative