Home » 2018 » November » 02

Daily Archives: November 2, 2018

وزیراعظم نے امن وامان کی صورتحال پر کمیٹی تشکیل دیدی

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے امن وامان کی صورتحال پر کمیٹی تشکیل دیدی جس کی سربراہی وہ خود کریں گے۔

عدالت عظمیٰ کی جانب سے آسیہ بی بی کی رہائی کے بعد ملک کے بیشتر حصوں میں احتجاج کیا جارہا ہے جب کہ گزشتہ روز وزیراعظم نے قوم سے خطاب میں بھی شہریوں سے پرامن رہنے کی بھی اپیل کی تھی۔

ذرائع کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے امن وامان کی صورتحال پر کمیٹی تشکیل دیدی جس کی سربراہی وہ خود کریں گے، کمیٹی حکومتی رٹ کو برقرار کرنے کے لیے لائحہ عمل بنائے گی جب کہ کمیٹی میں وزیر مملکت داخلہ شہریار آفریدی، وزیر اطلاعات فواد چوہدری اور وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی شامل ہیں۔

ریاست کو چیلنج کرنا بغاوت کے زمرے میں آتا ہے، فواد چوہدری

 اسلام آباد: وفاقی وزیراطلاعات بیرسٹرفواد چوہدری کا کہناہے کہ ریاست کو چیلنج کرنا بغاوت کے زمرے میں آتاہے، کوئی اس گمان میں نہ رہے کہ ریاست کمزور ہے۔

اسلام آباد میں وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی خسرو بختیار کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے  وزیراطلاعات فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ آسیہ بی بی کے حوالے سے عدالتی فیصلے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال پر پوری طرح نظر رکھے ہوئے ہیں، گزشتہ روز  وزیراعظم عمران خان نے بھی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے خطاب کیا اور ریاست کا مؤقف پیش کیا۔

وزیراطلاعات نے کہا کہ وزیراعظم نے اپوزیشن جماعتوں کو اعتماد میں لینے کا کہا، جس پر حکومتی وفد نے ملک کے بڑے اپوزیشن رہنماؤں سے ملاقاتیں کیں، ہم اس حساس معاملے پر  اپوزیشن پارٹیوں کو ساتھ لے کر چلیں گے اور ہر فیصلے میں پوری پارلیمنٹ کی مشاورت شامل ہوگی۔

فوادچوہدری کا کہنا تھا کہ عشق رسولﷺ ہمارے ایمان کا حصہ ہے اس  کے بغیر مسلمانوں کا ایمان مکمل نہیں۔ ہم کسی کا نقصان نہیں کرنا چاہتے، لیکن کوئی یہ گمان نہ کرے کہ ریاست کمزور ہیں، یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ کوئی بھی اٹھے اور کہے کہ ہم عدلیہ کے فیصلوں کو نہیں مانتے، ریاست کو چیلنج کرنا بغاوت کے زمرے میں آتا ہے، احتجاج کرنے والوں کو یہ پتہ بھی نہیں چلے گا کہ ان کے ساتھ کیا ہوا ہے، قانونی راستے سب کے لئے کھلے ہیں۔

وزیراعظم کے دورہ چین کے حوالے سے وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی خسرو بختیار کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کے دورہ چین کے ساتھ ہماری توقعات نہیں ترجیحات ہیں، وزیراعظم کی شنگھائی ایکسپو میں چینی ہم منصب سمیت  بزنس شخصیات و صنعت کاروں سے ملاقات ہوگی۔ چین نے کرپشن پر بہت پیشرفت کی ہے، دورے پر اس حوالے سے بھی بات ہوگی۔

ان کا کہنا تھا کہ پاک چین تعلقات دہائیوں پر محیط ہے، اور سی پیک اس دوستی کو مزید مستحکم بنانے میں کردار ادا کرے گا، سی پیک کا اسکوپ بڑھانا چاہتے ہیں، اس منصوبے کے تحت جوائنٹ ورکنگ گروپ بنا رہے ہیں۔ سی پیک منصوبہ پاکستان اور چین کے علاوہ پورے خطے کے لیے ہے، اس کے ثمرات جلد عوام تک پہنچیں گے۔

کیا ایسا منفرد ڈوئل اسکرین اسمارٹ فون کبھی دیکھا؟

اس وقت بیشتر کمپنیاں اسمارٹ فونز کے فرنٹ پر بیزل ختم کرنے کے لیے بیزل کا سہارا لے رہی ہیں مگر ایک چینی کمپنی نے اس کا ایک انتہائی منفرد حل ڈیوائس کے بیک پر ایک ڈسپلے کی شکل میں پیش کردیا ہے۔

نوبیا نامی کمپنی نے اپنا نیا فلیگ شپ فون ‘نوبیا ایکس’ متعارف کرایا ہے جو کہ اپنی طرز کا دنیا کا پہلا فون ہے جس کے فرنٹ پر 6.26 انچ کی ایچ ایچ ڈی پلس ایل سی ڈی اسکرین دی گئی ہے جو کہ لگ بھگ بیزل لیس ہے، جبکہ بیک پر 5.1 انچ کا او ایل ای ڈی ڈسپلے موجود ہے۔

کمپنی نے فون میں 2 ڈسپلے دے کر فرنٹ کیمرے کی ضرورت ہی ختم کردی ہے کیونکہ بیک پر موجود مین کیمرے ہی سیلفی لینے کا کام کریں گے۔

فوٹو بشکریہ نوبیا
فوٹو بشکریہ نوبیا

اور سب سے متاثرکن بات یہ ہے کہ بیک پر موجود ڈسپلے کو سوئچ آف کیا جائے تو رنگا رنگ گلاس بیک نمایاں ہوجاتی ہے، جس کا مظاہرہ آپ نیچے دیکھ سکتے ہیں۔

جیسا اوپر ذکر کیا جاچکا ہے کہ بیک ڈسپلے کا مقصد سیلفی لینے میں مدد دینا ہے اور اس کے لیے 16 میگا پکسل اور 24 میگا پکسل کیمرے دیئے گئے ہیں۔

کمپنی کا دعویٰ ہے کہ کیمرہ کا پورٹریٹ موڈ اے آئی ٹیکنالوجی سے چہرے کے فیچرز، عمر، جلد کی رنگت اور دیگر خصوصیات کا تجزیہ کرکے بہترین سیلفی لینے میں مدد دیتا ہے۔

فوٹو بشکریہ نوبیا
فوٹو بشکریہ نوبیا

ویسے سیلفی سے ہٹ کر بیک پر موجود او ایل ای ڈی ڈسپلے سے دیگر ایپس یا روزمرہ کے کام بھی ویسے کیے جاسکتے ہیں جیسے فرنٹ اسکرین پر کیے جاتے ہیں، جس کے لیے ڈیوائس کے دونوں اطراف پر فنگرپرنٹ ریڈر موجود ہیں جو اسکرینز سوئچ کرنے کا کام بھی کرتے ہیں۔

اسی طرح او ایل ای ڈی پینل میں ٹچ اسکرین کو گیمز کھیلتے ہوئے 2 اضافی بٹنز کے طور پر بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔

فوٹو بشکریہ نوبیا
فوٹو بشکریہ نوبیا

اس سے ہٹ کر فون میں 6 سے 8 جی بی ریم، 256 جی بی تک اسٹوریج، اسنیپ ڈراگون 845 پراسیسر اور 3800 ایم اے ایچ بیٹری دی گئی ہے۔

یہ ڈوئل نان سم سپورٹ والا فون ہے جس میں اینڈرائیڈ اوریو 8.1 آپریٹنگ سسٹم دیا گیا ہے۔

یہ فون فی الحال چین میں فروخت کے لیے پیش کیا گیا ہے اور اس کا سکس جی بی ریم اور 64 جی بی اسٹوریج والا ماڈل 470 ڈالرز (50 ہزار پاکستانی روپے سے زائد) جبکہ 8 جی بی ریم اور 256 جی بی اسٹوریج والا ورژن 620 ڈالرز (70 ہزار پاکستانی روپے سے زائد) میں دستیاب ہوگا۔

افغان جنگ: ‘حکومت، طالبان کے مقابلے میں زمینی کنٹرول کھونے لگی’

امریکی واچ ڈاگ ایجنسی کا کہنا ہے کہ امریکی حمایت یافتہ افغان حکومت ملک کے بیشتر علاقے طالبان کے حق میں کھو چکی ہے جبکہ جنگ میں سیکیورٹی فورسز کی ہلاکتوں کی شرح میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے۔

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق اسپیشل انسپکٹر جنرل برائے افغانستان تعمیر نو (سیگار) کی سہ ماہی رپورٹ میں کابل حکومت کو درپیش بھارتی دباؤ کی نشاندہی کی گئی ہے جبکہ اسی دوران امریکا نے طالبان سے ابتدائی مذاکرات کے لیے رابطہ کیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ‘اس سہ ماہی میں افغانستان کے مختلف اضلاع، عوام اور علاقوں پر کنٹرول کے لیے شدید مقابلہ دیکھا گیا’۔

اس میں بتایا گیا کہ رواں سال طالبان ملک کے مغربی صوبوں فارہ اور غزنی کے اضلاع پر مکمل کنٹرول حاصل کرنے میں ناکام رہے لیکن انہوں نے ملک کے دیگر علاقوں پر واضح برتری ظاہر کی۔

واچ ڈاگ ایجنسی کے مطابق افغانستان کے لیے نیٹو کے ریزولٹ سپورٹ مشن کے اعداد وشمار بتاتے ہیں کہ حکومتی فورسز ‘اس سہ ماہی کے دوران ملک کے بیشتر اضلاع، شہریوں پو اپنا اثر و رسوخ برقرار رکھنے میں ناکام رہی ہیں’۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ ستمبر میں حکومت کا اثر ورسوخ 65 فیصد عوام پر تھا جو اکتوبر 2017 سے مستحکم تھا اور ایسا فارہ اور غزنی کے ساتھ ساتھ فاریاب اور باغلان میں ایک سال تک جاری رہنے والی لڑائی کے بعد ہوا تھا۔

تاہم رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ افغانستان کے 407 اضلاع میں سے 55.5 فیصد پر حکومت کا کنٹرول ہے یا حکومت کا اثر و رسوخ موجود ہے جو 2015 سے اب تک میں سب سے کم ہے۔

واضح رہے کہ رپورٹ میں اس بات کی نشاندہی کی گئی کہ ملک میں صدارتی انتخابات سے 6 ماہ قبل اس طرح کے اعدادوشمار ملک کی تشویشناک سیکیورٹی صورت حال کی جانب اشارہ کرتے ہیں، اس کے باوجود کہ امریکا کے خصوصی مشیر زالمے خلیل زاد نے امن مذاکرات کے لیے طالبان حکام سے ملاقات کی ہے۔

جیسا کہ طالبان، افغان حکومت پر دباؤ برقرار رکھے ہوئے ہیں، سیگار نے اپنی رپورٹ میں ریزولٹ سپورٹ مشن کے حوالے سے بتایا کہ یکم مئی سے یکم اکتوبر کے دوران افغان سیکیورٹی فورسز کی ہلاکتوں میں ‘گزشتہ سالوں کے اسی عرصے کے مقابلے میں اضافہ ہوا ہے’۔

واضح رہے کہ یکم جنوری 2015 سے نیٹو کی انٹرنیشنل سیکیورٹی اسسٹنس فورس (ایساف) کو ٹریننگ اینڈ سپورٹ مشن سے تبدیل کردیا گیا تھا، جس کے تحت تقریباً 13 ہزار نیٹو فوجیوں کو افغانستان میں قیام کی اجازت ملی۔

طالبان کے خلاف جنگ کے باعث پورے ملک میں تشدد کی فضا پروان چڑھ چکی ہے اور سال 2014 میں تقریباً 3 ہزار ایک سو 88 افغان شہری جاں بحق ہوچکے ہیں، جو اقوام متحدہ کے مطابق سب سے بدترین سال رہا۔

جعلی اکاؤ نٹس پر گرفتار کرنا ہے تو بسم اللہ کریں، آصف زرداری

اسلام آباد: سابق صدر مملکت اور پیپلز پارٹی  کے شریک چیئرمین آصف زرداری کا کہنا ہے کہ جعلی اکاؤ نٹس پر گرفتار کرنا ہے تو بسم اللہ کریں، میں گرفتار ہوکر دوبارہ مشہور ہونا چاہتا ہوں۔

نجی ٹی وی کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے سابق صدر آصف زرداری کا کہنا تھا کہ پہلی دفعہ ہوا ہے کہ وزارت داخلہ کا قلمدان وزیراعظم کے پاس ہے، سمجھ نہیں آتی کہ عمران خان کو کس نے وزارت داخلہ کا قلمدان رکھنے کا کہا؟ وزارت داخلہ کو ہی مذاکرات اور ایکشن کرنا ہوتا ہے، لیکن موجودہ صورتحال میں وزیر اعظم نے خود کو ہٹالیا اور دوسروں کو سامنے کردیا ہے۔

آصف زرداری نے کہا کہ وزیر اعظم کو چاہیے کہ وہ آسیہ مسیح کے فیصلے بعد پیدا ہونے والی پیچیدہ صورتحال کو خود حل کرائیں، جنگ مائنڈ سیٹ کے خلاف لڑی جاتی ہے، ہم بھی نئی صورتحال میں وزیراعظم سے لازمی تعاون کریں گے۔

سابق صدر کا کہنا تھا کہ اگر میں نے فالودے والے، رکشے والے کے اکاؤنٹ میں پیسے رکھوائے ہیں تو میری مرضی جب کہ انہیں پہلے یہ ثابت کرنا ہوگا کہ اکاؤنٹ میں نے کھلوایا اور پیسے میں نے رکھوائے، پھر اگر رکھوائے بھی ہیں تو بینک والا پھنسے گا، جعلی اکاؤ نٹس پر گرفتار کرنا ہے تو بسم اللہ کرلیں، گرفتار ہو کر دوبارہ مشہور ہونا چاہتا ہوں۔

آسیہ بی بی کی بریت کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر

لاہور: آسیہ بی بی کی بریت کے فیصلے پر نظر ثانی کے لیے سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں اپیل دائر کردی گئی۔

توہین رسالتﷺ کے الزام میں بری ہونے والی آسیہ بی بی کی بریت کے فیصلے پر نظر ثانی کے لیے شہری قاری سلام نے ایڈووکیٹ اظہر صدیق اور غلام مصطفی چوہدری کی وساطت سے درخواست دائر کی ہے۔

درخواست میں موقف اپنایا گیا ہے کہ آسیہ بی بی نے تفتیش کے دوران جرم کا اعتراف کیا اس کے باوجود ملزمہ کو بری کردیا گیا، اپیل میں سپریم کورٹ سے استدعا کی گئی ہے کہ آسیہ بی بی سے متعلق بریت کے فیصلے پر نظر ثانی کی جائے اور نظر ثانی اپیل کے فیصلے تک  آسیہ بی بی کا نام ای سی ایل میں ڈالا جائے۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز سپریم کورٹ نے توہین رسالتﷺ کیس میں آسیہ بی بی کی سزائے موت کو کالعدم قرار دیتے ہوئے اسے بری کرنے کا حکم دیا تھا۔

آسیہ بی بی پرالزام تھا کہ انہوں نے جون 2009ء میں ایک خاتون سے جھگڑے کے دوران نبی آخر الزماں حضرت محمد ﷺ کی شان میں توہین آمیز جملے استعمال کیے تھے۔

آسیہ بی بی کو توہین رسالتﷺ کے الزام میں 2010ء میں لاہور کی ماتحت عدالت نے سزائے موت سنائی تھی، لاہور ہائی کورٹ نے بھی آسیہ بی بی کی سزائے موت کے خلاف اپیل خارج کر دی تھی جس کے بعد ملزمہ نے عدالت عظمیٰ میں درخواست دائر کی تھی۔

وقت نازک ہے، جوش نہیں ہوش سے کا م لیا جائے

adaria

پاکستان کو ایک بار پھر نازک صورتحال درپیش ہے۔ ہوش کی بجائے جوش کا غلبہ ہے۔ آسیہ بی بی کیس کے سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ملک بھر میں صورتحال خاصی کشیدہ ہے اور جلاؤ گھراؤ سے کاروبارِ زندگی معطل ہو کر رہ گئی ہے۔اس پس منظر میں وزیراعظم عمران خان نے سپریم کورٹ آف پاکستان کے آسیہ بی بی کیس کے فیصلہ کے بعد سڑکوں پر آنے احتجاج کرنے والوں سے اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی کے اکسانے میں نہیں آنا ہے، یہ کوئی اسلام کی خدمت نہیں ہو رہی ہے انہوں نے یہ اپیل بھی کی کہ ریاست سے نہ ٹکرائیں،ورنہ ریاست اپنی ذمہ داری پوری کرے گی اور لوگوں کے جان و مال کی حفاظت کی جائے گی، ہم توڑ پھوڑ اور سڑکیں بند نہیں کرنے دیں گے، ریاست کو اس سطح پر نہ لے جائیں کہ وہ ایکشن لینے پر مجبور ہو جائے۔ وزیراعظم نے آسیہ مسیح کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے کو ملکی آئین وقانون کے مطابق قرار دیا اور کہا کہ اس فیصلہ کے بعد ردعمل میں جس طرح کی زبان استعمال کی ہے وہ ناقابل برداشت ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان وہ ملک ہے جو مدینہ کی ریاست کے بعد اسلام کے نام پر بنا ہے، اسلام کے نام پر بننے کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان میں کوئی قانون قرآن و سنت کے خلاف نہیں بنایا جا سکتا، سپریم کورٹ کے ججز نے جو فیصلہ دیا وہ آئین کے مطابق ہے اور ملک کا آئین قرآن و سنت کے تحت ہے۔انشااللہ جب پاکستان عظیم ملک بنے گا تو وہ مدینہ کی ریاست کے اصولوں پر چل کر بنے گا۔ جس مقصد کیلئے پاکستان بنا اور جب تک وہ فلاحی ریاست نہیں بنتا اس کا کوئی مستقبل نہیں۔ موجودہ حکومت نے عملی طور پر وہ کام کیا جو آج تک کسی حکومت نے نہیں کیا۔ جب ہالینڈ کے رکن پارلیمنٹ نے حضورﷺ کی شان میں گستاخی والے خاکے بنوائے تو پاکستان وہ واحد ملک تھا جس نے فارن منسٹرز سے بات کی اور اس ڈچ رکن پارلیمنٹ سے خاکے واپس کرائے۔ پاکستان نے پہلی مرتبہ او آئی سی میں جا کر اس مسئلے کو اٹھایا اور ملک کے وزیرخارجہ نے پہلی بار اس ایشو کو اٹھایا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ہیومن رائٹس کورٹ نے قرار دیا کہ حضورﷺ کی شان میں گستاخی کرنا آزادی اظہار رائے کے زمرے میں نہیں آتا۔ ہم باتیں نہیں کرتے ہم نے عملی طور پر کام کر کے دکھایا۔ ہم واقعی نبی ﷺکی شان میں کسی قسم کی گستاخی نہیں دیکھ سکتے ۔وزیراعظم نے یہ یقین بھی دلایاکہ ہم مشکل معاشی بحران سے نکل سکتے ہیں، میں اور میری کیبنٹ نے ایک دن کی بھی چھٹی نہیں کی، مسلسل کوشش کر رہے ہیں کہ اپنی قوم کو بحران سے نکالیں، پسے ہوئے غریب آدمی کے لئے حالات کو بہتر کریں، دوست ممالک سے بھی بات کر رہے ہیں کہ یہاں سرمایہ کاری کریں، مقصد یہ ہے کہ یہاں بے روزگاری کم ہو۔ سڑکیں بند کرنے کا نقصان غریبوں کو ہے، میں اپنے عوام سے کہنا چاہتا ہوں کہ کسی صورت میں آپ کو ان عناصر کے اکسانے میں نہیں آنا ہے، یہ ملک سے دشمنی ہو رہی ہے۔ عوام سے درخواست ہے انتشار پھیلانے والوں کے فریب میں نہ آئیں۔ فوج نے ہمیں دہشتگردی کی مشکل جنگ سے نکالا ہے، انہوں نے قربانیاں دی ہیں، نقصان کس کا ہے اس سے فائدہ دشمنوں کا ہے۔ وہ عوام سے اپیل کرتے ہیں کہ ملک کی خاطر ان عناصر کی باتوں میں نہیں آئیں ، میں ان عناصر سے بھی اپیل کرتا ہوں کہ ریاست سے نہ ٹکرانا، اپنی سیاست چمکانے اور اپنا ووٹ بینک بڑھانے کیلئے اس ملک کو نقصان نہ پہنچائیں آگے اچھا وقت آ رہا ہے۔ درپیش حالات کا یہ تقاضا ہے کہ ریاست بھی سوجھ بوجھ سے کام لے ایسے میں ذرا سا بھی کوئی غلط اقدام خدانخواستہ کسی بڑے سانحے کا پیش خیمہ ہوسکتا ہے، حکومت اور دوسرے فریق کیلئے ضروری ہے کہ معاملات کو سڑکوں کے بجائے آپس میں بیٹھ کر حل کریں۔

آصف زرداری کی حکومت کو پیشکش
آصف علی زرداری جنہیں مفاہمت کا بادشاہ کہا جاتا ہے قومی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے واضح طورپر کہہ دیا کہ ہم حکومت سے تعاون کرنے کیلئے تیار ہیں ان کا یہ بیان نہایت خوش آئند ہے کیونکہ جمہوریت کے دور میں ہی ملک اور قوم پھلتے پھولتے ہیں، یہ الزام تراشیوں کی سیاست جو دہائیوں سے ہم وراثت میں لیکر چلتے آرہے ہیں اس کو ختم کرنا ہوگا ، آخر کوئی تو ہوگا کہ جو پہلا قدم بڑھائے گا ، حکومت کی جانب سے بھی زرداری کے بیان کو سراہا گیا ہے انہوں نے قومی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے حکومت کو ساتھ مل کر کام کرنے کی پیشکش کردی ۔قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے آصف زرداری نے کہا کہ ہم حکومت کے ساتھ کام کرنے کو تیارہیں، 5 سال کے دوران ہم حکومت کے ساتھ تعاون کریں گے، میاں صاحب کے ساتھ بھی کام کرنے کو تیارتھے بالکل اسی طرح اس حکومت کے ساتھ بھی تیارہیں لیکن شرط یہ ہے کہ جوکام کا پیمانہ ہووہ صرف انصاف پرمبنی ہو۔ہم ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی کوشش کرتے ہیں، جمہوریت میں کمزوریاں ضرورہیں، سب بیٹھ کرایک حل تجویزکریں جس سے ہم پاکستان کومسائل سے نکال سکیں، اگرہم توجہ نہیں دیں گے تومسائل بڑھتے جائیں گے۔ میں نے سی پیک کا نظریہ سوچا، اگرگوادرپورٹ کونکال دیں تو آگے سی پیک کیا بنتا ہے، پاکستان کی ترقی کا سب سے چھوٹا راستہ سی پیک ہے، ہمیں پاکستان کو مضبوط بنانا ہے لیکن شارٹ ٹرم ٹرانزیشن سے نہیں۔ پانی کا مسئلہ بنیادی طور پر انسانی حقوق کا معاملہ ہے، کراچی کی آبادی 3 کروڑ ہے، جس میں ایک کروڑ بہاری، بنگالی اور خیبر پختونخوا سے آنے والے دوست ہیں۔ پیپلزپارٹی کی حکومت آئی تو گندم اور چینی درآمد کی جارہی تھی، ہم نے سندھ میں دراوڑ ڈیم بنایا، ایک ایکڑ پر تقریباً ایک لاکھ 24 ہزار گیلن پانی ہر فصل کو دیتے ہیں، اگر اتنا پانی فصل کو دیا جاتا ہے تو کتنا پانی بچایا جاسکتا ہے، ملک کو درپیش مسائل کے حل کیلئے بہترین فارمولا آپس میں مفاہمت ہی ہے اور مل جل کر ہی مسائل کا حل نکالا جاسکتا ہے۔
تیل مصنوعات کی قیمتوں میں نا مناسب اضافہ
حکومت نے دگرگوں حالات کے دوران ہی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کردیا، عوام پہلے ہی مہنگائی کے بوجھ تلے دبتی جارہی ہے مگر چونکہ حکومت نے کہا ہے کہ مزید مہنگائی ہوگی سو وہ اسی فارمولے پر گامزن ہے، دوسری جانب وزیراعظم آئی ایم ایف جانے کے بجائے دیگر ممالک سے رابطے میں ہیں جن سے مالی امداد کیلئے مذاکرات جاری ہیں ، سعودی عرب نے تو قابل ذکر مدد کردی ہے دیگر ملکوں کی جانب سے ابھی جواب آنے کا انتظار ہے ، حکومت ایسے میں مزید مہنگائی کرنے کی بجائے اسے کنٹرول کرنے کی منصوبہ بندی کرے کیونکہ صرف ایک پٹرولیم مصنوعات مہنگی ہونے سے دیگر تمام زندگی سے متعلق ضروری اشیاء مہنگائی کے آسمان چھونے لگتی ہیں ایسے میں جب عوام کو دووقت کی روٹی اور بچوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنا مشکل ہو تو ہوشربا مہنگائی کی وجہ سے مزید مشکلات پیدا ہو جاتی ہیں۔

رنویر اور دیپیکا کی شادی کے کھانوں کا ذائقہ کوئی اور نہیں چکھ سکے گا

بھارتی اداکارہ دیپیکا پڈوکون اور اداکار رنویر کپور اپنی شادی کی خبر کے بعد سے مسلسل خبروں میں ہیں، شادی کارڈ سے لے کر شادی کی تیاریوں، مہمانوں کی فہرست، لباس اور کھانے کا مینیو سب کچھ میڈیا کی زینت بن چکا ہے۔

شادی والے روز بالی وڈ حسینہ کس ڈیزائنز کا ڈریس زیب تن کریں گی اور دلہے راجہ کا لباس کیسا ہو گا، سب چاہنے والوں کو اس کا بے چینی سے انتظار ہے۔

اس کے علاوہ بالی وڈ کی اس نامور جوڑی کی شادی کی تقریب میں مہمانوں کی تواضع کون کون سے کھانوں سے کی جائے گی، پرستار اس بارے میں بھی جاننے کے لیے بیتاب ہیں۔

یقیناً سپر اسٹار جوڑی کی شادی کی تقریب میں مہمانوں کو پیش کیا جانے والا کھانا بھی منفرد اور شاہانہ ہی ہو گا۔

بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ دپیکا پڈوکون اور رنویر سنگھ کی شادی کی تقریب میں کے مینیو میں جو کچھ بھی ہو گا وہ اس دعوت سے پہلے اور اس دعوت کے بعد کوئی بھی نہیں چکھ سکے گا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق اس شادی کی کھانے کی خاص بات یہ ہے کہ دعوت عروسی میں کھانا پکانے والے شیفس سے معاہدہ کیا گیا ہے کہ شادی کے مینیو میں شامل کھانے صرف رنبیر اور دیپیکا کی شادی کے لیے مخصوص ہوں گے، بعد میں یہ کھانے کہیں اور نہیں پکائے جا سکیں گے۔

بھارتی میڈیا کی جانب سے مزید بتایا گیا کہ شادی کے کھانے کی تقریب میں کھانے کے لیے دنیا کی مشہور اور منہگی کٹلری کا استعمال کیا جائے گا۔

بالی وڈ اداکاروں کی شادی کی تقریبات میں صرف قریبی دوست اور خاندان کے افراد ہی مدعو ہیں اور شادی کی تقریب کے دوران موبائل فون کے استعمال پر پابندی ہو گی۔

بالی وڈ کی اس اداکار جوڑی کی شادی کی تقریبات رواں ماہ 14 اور 15 تاریخ کو ہونا طے پائی ہیں، دپیکا اور رنویر اٹلی کی کومو جھیل پر شادی کے بندھن میں بندھ جائیں گے۔

Google Analytics Alternative