Home » 2018 » November » 03

Daily Archives: November 3, 2018

سربراہ جمعیت علمائے اسلام (س) مولانا سمیع الحق قاتلانہ حملے میں شہید

راولپنڈی: جمعیت علمائے اسلام (س) کے سربراہ مولانا سمیع الحق قاتلانہ حملے میں شہید ہوگئے۔ 

راولپنڈی کے علاقے تھانہ ائیرپورٹ کے علاقے میں جمعیت علمائے اسلام (س) کے سربراہ مولانا سمیع الحق قاتلانہ حملے میں شہید ہوگئے ہیں۔

مولانا سمیع الحق کے قریبی ساتھی اور واقعے کے وقت ان کے ساتھ موجود مولانا احمد شاہ نے ایکسپریس نیوز سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ مولانا سمیع الحق آج ہی نوشہرہ سے راولپنڈی اور اسلام آباد کے سنگم پر واقع نجی ہاؤسنگ سوسائٹی ( کے سفاری ون) آئے تھے اور حملے کے وقت سوسائٹی  کے اندر ہی موجود تھے کہ چند نامعلوم افراد نے مولانا پر چاقوؤں سے حملہ کردیا ، انہیں فوری طور پر قریبی نجی اسپتال پہنچایا گیا تاہم وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے۔

والد کو افغان حکومت سے خطرہ تھا، بیٹا مولانا حامدالحق

مولانا سمیع الحق کے بیٹے مولانا حامد الحق نے ایکسپریس نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ مولانا سمیع الحق نجی ہاوسنگ سوسائٹی میں واقع اپنے گھر میں موجود تھے اور کچھ دیر بعد ہی راولپنڈی سے اکوڑہ خٹک روانہ ہو نے والے تھے، مولانا پر حملہ گھر کے اندر ہی کیا گیا، حملہ آوروں نے چاقوؤں سے کئی وار کئے اور اسپتال انتطامیہ نے بھی تصدیق کی ہے کہ مولانا کے سر اور چھاتی پر چاقوؤں سے گہرے وار کئے گئے۔

ان کا کہنا تھا کہ والد صاحب کو افغان حکومت اور مختلف طاقتوں کی جانب سے خطرہ تھا، کیوں کہ وہ افغانستان کو امریکا کے تسلط سے آزاد کرانا چاہتے تھے، جب کہ ہمیں ملکی خفیہ اداروں نے بھی کئی بار بتایا تھا کہ مولانا سمیع الحق بین الاقوامی خفیہ اداروں کے ہدف پر ہیں۔

وزیراعظم کا قتل کی فوری تحقیقات کا حکم

وزیراعظم عمران خان نے مولانا سمیع الحق پر قاتلانہ حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔ وزیر اعظم  نے مولانا سمیع الحق پر حملے کے افسوس ناک واقعے کی آئی جی پنجاب امجد جاوید سلیمی سے رپورٹ طلب کرتے ہوئے فوری تحقیقات کرنے اور ذمہ داران کا تعین کرنے کی ہدایت کردی۔

صدر،وزیراعظم اورآمی چیف سمیت دیگر کی مذمت

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے جمعیت علمائے اسلام (س) کے سربراہ مولانا سمیع الحق پر قاتلانہ حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے بھی مولانا سمیع الحق پرحملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ مولانا سمیع الحق کی سیاسی اور دینی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے مولانا سمیع الحق پر حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہید کے اہلخانہ سے تعزیت کا اظہار کیا ہے۔

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے مولانا سمیع الحق کے قتل پر دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ مولانا سمیع الحق کے درجات بلند اور اہل خانہ کو صبر و جمیل عطا فرمائے۔

مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قائد حزب اختلاف شہبازشریف نے مولانا سمیع الحق کے قتل کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ان کی شہادت پاکستان میں فساد پیدا کرنے کی مذموم سازش ہے، پہلے ہی ملک میں نہایت مشکل صورتحال ہے، ایسے میں دشمنوں نے مولانا سمیع الحق کو نشانہ بنا کر پاکستان کے استحکام پر کاری وار کرنے کی مذموم حرکت کی گئی ہے۔

مسلم لیگ (ن) کے قائد اور محمد نواز شریف نے بھی جمعیت علمائےاسلام (س) کے سربراہ مولانا سمیع الحق کے قتل کی مذمت کرتے ہوئے گہرے رنج وغم کا اظہارکیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مولانا سمیع الحق کی شہادت کی خبر سن کر مجھے بہت دکھ ہوا، میری دعا ہے کہ اللہ تعالی پاکستان پر رحم فرمائے اور مرحوم کو اپنے جوار رحمت میں اعلیٰ مقام عطا فرماتے ہوئے پسماندگان کو صبرجمیل دے

مولانا سمیع الحق کی زندگی پر ایک نظر

مولانا سمیع الحق 18 دسمبر 1937 کو نوشہرہ کے علاقہ اکوڑہ خٹک میں پیدا ہوئے، مولانا سمیع الحق مذہیبی اسکالرا ور جے یو آئی (س) کے مرکزی صدر اور قائد تھے۔ وہ 1985 سے 1991 تک ممبر سینیٹ رہے اور 1991 سے 1997 تک دوسری بارسینیٹ کے ممبر رہے۔ مولانا سمیع الحق دفاع پاکستان کونسل کے چیئرمین، متحدہ مجلس عمل کے بانی رکن اور حرکت المجاہدین کے بانی بھی تھے

‘اللہ پاکستان پر رحم کرے’، مولانا سمیع الحق کی شہادت پر سیاسی و مذہبی رہنماؤں کی مذمت

جمعیت علمائے اسلام سمیع کے سربراہ و سابق سینیٹر مولانا سمیع الحق قاتلانہ حملے میں شہید ہوگئے۔ ان کی شہادت پر ملک بھر سے سیاسی و مذہبی رہنماؤں کی جانب سے شدید مذمت کی جارہی ہے۔

سابق وزیراعظم میاں محمد محمد نواز شریف نے مولانا سمیع الحق کے قتل کی مذمت اور گہرے رنج وغم کا اظہار کیا ہے۔

نواز شریف نے اپنے مذمتی بیان میں کہا کہ مولانا سمیع الحق کی شہادت کی خبر سن کر بہت دکھ ہوا، دعا ہے کہ اللہ تعالی پاکستان پر رحم فرمائے۔

سابق وزیراعظم نے کہا کہ اللہ مرحوم کو جوار رحمت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور پسماندگان کو صبر جمیل دے۔

شہباز شریف

صدر مسلم لیگ(ن) اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہبازشریف نے بھی مولاناسمیع الحق کی شہادت کی مذمت کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ مولانا سمیع الحق کا قتل پاکستان میں فساد پیدا کرنے کی سازش ہے، قوم اس مشکل وقت میں اتحاد اور یکجہتی کامظاہرہ کرے۔

وزیر اطلاعات فواد چوہدری

وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے مولانا سمیع الحق پر قاتلانہ حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ قاتلانہ حملہ پاکستان کو عدم استحکام سے دو چار کرنے کی مذموم سازش ہے۔

انہوں نے کہا کہ قوم اپنے اتحاد اور یکجہتی سے دشمن کی گھناؤنی سازش کو ناکام بنائے گی، مولانا سمیع الحق پر حملہ کرنے والوں کو قانون کے کٹہرے میں لائیں گے۔

فواد چوہدری نے کہا کہ مولانا سمیع الحق ممتاز عالم دین اور اعلیٰ پائے کے سیاستدان تھے، مولانا سمیع الحق کی خدمات کو تا دیر یاد رکھا جائے گا۔

شاہ محمود قریشی

وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کی جانب سے مولانا سمیع الحق پر قاتلانہ حملے کی مذمت کی گئی ہے۔

اپنے بیان میں شاہ محمود قریشی نے کہا کہ مولانا سمیع الحق کی شہادت بڑا قومی سانحہ ہے، مولانا کی شہادت سے قوم ایک زیرک مذہبی و سیاسی رہنما سے محروم ہوگئی۔

مولانا فضل الرحمان کا اظہار یکجہتی

مولانا فضل الرحمان نے مولانا سمیع الحق کے جاں بحق ہونے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ان کے خاندان کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ 8 سال دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک میں پڑھا ہوں، وہاں سے دیرینہ ایک تعلق ہے، اس رشتے کو کبھی بھلا نہیں سکتا۔

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ نے کہا کہ اختلاف کے باوجود ان کے ساتھ ایک محبت کا رشتہ قائم تھا اور ان کے خاندان کے ساتھ بھی یہ تعلق قائم رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس غم میں ہم سب برابر کے شریک ہیں۔

حکومت دہشت گردوں کو فوری گرفتار کرے، سراج الحق

امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے مولانا سمیع الحق کے جاں بحق ہونے پر دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مولانا سمیع الحق کی شہادت نے سیکیورٹی صورتحال کی قلعی کھول دی ہے۔

انہوں نے کہا کہ مولانا سمیع الحق بلا شبہ ایک مدبر سیاستدان اور عالم دین تھے، ان کی دینی اور سیاسی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔

سراج الحق کا کہنا تھا کہ حکومت مولانا سمیع الحق کو شہید کرنے والے دہشت گردوں کو فوری گرفتار کرے۔

انہوں نے کہا کہ مولانا سمیع الحق کی شہادت کسی سازش کا شاخسانہ لگ رہی ہے۔

احسن اقبال و قمر زمان کائرہ کی مذمت

مسلم لیگ ن کے رہنما احسن اقبال اور پیپلز پارٹی کے رہنما قمر زمان کائرہ نے بھی مولانا سمیع الحق کی حملے میں شہادت پر افسوس کا اظہار کیا۔

قمر زمان نے کہا کہ مولانا سمیع الحق کے نظریات سے تو اختلاف ہو سکتا ہے لیکن ان کے کردار سے کوئی انکار نہیں کر سکتا۔

رہنما پیپلز پارٹی نے کہا کہ مولانا سمیع الحق پر پہلے بھی حملے ہو چکے ہیں، ان کا سیکیورٹی لیپس کیسے ہوا، اس کی تحقیقات ہونی چاہیے۔

اس کے علاوہ چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے بھی مولانا سمیع الحق کے قتل پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔

ادھر شیعہ علماء کونسل پاکستان کی جانب سے مولانا سمیع الحق کے قتل کی مذمت کی ہے۔ سیکرٹری جنرل علامہ عارف واحدی نے کہا کہ مولانا سمیع الحق کی مذہبی، سیاسی خدمات قابل تحسین ہیں۔

مولانا سمیع الحق کو افغان حکومت سے خطرہ تھا، بیٹا مولانا حامد الحق

نوشہرہ: مولانا سمیع الحق کے صاحبزادے مولانا حامد الحق نے کہا ہے کہ افغان حکومت اور مختلف طاقتوں کی جانب سے والد کو خطرہ تھا کیوں کہ والد صاحب افغانستان کو امریکا کے تسلط سے آزاد کرانا چاہتے تھے۔

مولانا حامد الحق کا کہنا تھا کہ والد صاحب کو افغان حکومت اور مختلف طاقتوں کی جانب سے خطرہ تھا، کیوں کہ وہ افغانستان کو امریکا کے تسلط سے آزاد کرانا چاہتے تھے، جب کہ ہمیں ملکی خفیہ اداروں نے بھی کئی بار بتایا تھا کہ مولانا سمیع الحق بین الاقوامی خفیہ اداروں کے ہدف پر ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں مولانا حامد الحق کا کہنا تھا کہ ہم نے پولیس اور سیکیورٹی اداروں کو دھمکیوں کے حوالے سے آگاہ کردیا تھا، جب کہ دارالعلوم اکوڑہ خٹک میں بھی سیکیورٹی سخت کردی گئی تھی تاہم مولانا صاحب سیکیورٹی کو پسند نہیں کرتے تھے اس لیے سفر میں ان کے ساتھ  دوستوں کے علاوہ کوئی سیکیورٹی اہلکار نہیں ہوتا تھا۔

مولانا حامد الحق نے مزید کہا کہ ایسی قوتیں جو ملک میں اسلام کا غلبہ نہیں چاہتیں، جو جہاد مخالف ہیں، جو مدرسوں اور خانقاہوں کی مخالفت کرتے ہیں وہی طاقتیں اس قتل میں ملوث ہیں۔ میں اس موقع پر مولانا سمیع الحق کے چاہنے والے کارکنان اور عوام سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ  صبر کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں اور دشمن قوتوں کو تنقید کا موقع نہ دیں۔

حکومت اور تحریک لبیک کے درمیان معاہدہ طے پا گیا

اسلام آباد: حکومت اور تحریک لبیک کے درمیان مذاکرات کامیاب ہوگئے جس میں طے پایا ہے کہ آسیہ مسیح کا نام فوری طور پر ای سی ایل میں شامل کرنے کے لیے قانونی کارروائی کی جائے گی جب کہ تحریک لبیک آسیہ مسیح کیس میں قانونی راستہ اختیار کرے گی۔

حکومت اور تحریک لبیک کے مابین مذاکرات کامیاب ہوگئے ہیں اور معاہدہ بھی طے پا گیا ہے، وزارت مذہبی امور اور تحریک لبیک نے معاہدے کی تصدیق کر دی ہے اور دونوں فریقین کے درمیان ہونے والے معاہدے کی کاپی میڈیا کو فراہم کردی گئی ہے۔

معاہدے کی شق نمبر 1 کے مطابق آسیہ مسیح کے مقدمے میں نظرثانی اپیل دائر کردی گئی ہے جو کہ مدعا علیہان کا قانونی حق و اختیار ہے جس پر حکومت کو کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔

شق نمبر 2 میں تحریر ہے کہ آسیہ مسیح کا نام فوری طور پر ای سی ایل میں شامل کرنے کے لیے قانونی کارروائی کی جائے گی۔

شق نمبر 3 میں لکھا ہے کہ آسیہ مسیح کی بریت کے خلاف تحریک میں اگر کوئی شہادت ہوئی ہے تو اس کے بارے میں فوری قانونی  چارہ جوئی کی جائے گی۔

شق 4  کے مطابق آسیہ مسیح کی بریت کے خلاف 30 اکتوبر اور اس کے بعد گرفتار ہونے والے افراد کو فوری رہا کیا جائے گا جب کہ شق 5 میں تحریر ہے کہ مظاہروں اور دھرنوں کے دوران کسی کی دل آزاری یا تکلیف ہوئی ہے تو تحریک لبیک معذرت خوا ہے۔

غربت اور کرپشن کے خلاف چین کے تجربے سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں، وزیراعظم

بیجنگ: وزیراعظم عمران خان نے چینی صدر شی جن پنگ سے ملاقات کی جس میں دو طرفہ امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق وزیراعظم عمران خان کابینہ کے دیگر ارکان کے ہمراہ چین میں موجود ہیں جہاں ان کی چین کے صدر شی جن پنگ سے چین کے گریٹ ہال میں ملاقات ہوئی جس میں دو طرفہ امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات میں پاک چین اقتصادی راہداری سمیت دو طرفہ تعلقات مضبوط کرنے کے امور پر بھی بات ہوئی۔

وزیراعظم عمران خان گزشتہ رات چینی قیادت کی دعوت پر اپنے چین کے پہلے سرکاری دورے پر بیجنگ پہنچے، ان کے ہمراہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی ، وزیر خزانہ اسد عمر، وزیرریلوے شیخ رشید، وزیر منصوبہ بندی خسرو بختیار، وزیراعظم کے مشیرعبدالرزاق داؤد اور وزیراعلی بلوچستان جام کمال بھی ہیں۔

وزیراعظم عمران خان اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان وفود کی سطح پر بھی ملاقات ہوئی۔ اس موقع پر وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ آپ کا گرمجوش استقبال کا بے حد ممنون ہوں، ہمارا ملک چین کی ترقی سے بہت متاثر ہے، چینی صدر کا ویژن اور قیادت رول ماڈل ہے، چین جس طرح غربت اور کرپشن سے نمٹا ہے کسی اور ملک نے نہیں کیا، پاکستان غربت اور کرپشن کے خاتمے کے لیے چین کے تجربے سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہے۔

دوسری جانب چینی صدر شی جن پنگ کا کہنا تھا کہ پاک چین تعلقات سے خطے کو ثمرات مل رہے ہیں اور دونوں ممالک کے تعلقات مظبوط ہیں اب ان میں نئی جہت آرہی ہے، دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات نہ صرف باہمی بلکہ خطے کے دیگرممالک کے لیے بھی فائدہ مند ہیں۔ بعد ازاں وزیراعظم عمران خان نے چینی صدر کو دورہ پاکستان کی دعوت بھی دی۔

’زندگی کاٹنی کسے تھی؟ ہمیں تو جینی تھی‘

بولی وڈ بادشاہ شاہ رخ خان کی رواں سال ریلیز ہونے والی فلم ’زیرو‘ یقیناً باکس آفس پر بلاک بسٹر ہٹ ثابت ہوگی، جس کی ایک وجہ یہ ہے کہ اس فلم کا پہلا ٹریلر بھی سامنے آتے ہی بلاک بسٹر ہٹ ثابت ہوگیا۔

شاہ رخ خان نے اپنی 53ویں سالگرہ کے موقع پر تحفہ لینے کے بجائے مداحوں کو اپنی اس فلم کے ٹریلر کو ریلیز کرکے تحفہ دیا، جس کا شائقین کو بےصبری سے انتظار تھا۔

فلم ’زیرو‘ میں شاہ رخ خان کے ساتھ ساتھ انوشکا شرما اور کترینہ کیف نے اہم کردار ادا کیا ہے۔

اس فلم میں شاہ رخ خان نے ایک چھوٹے قد کے آدمی (بونے) کا کردار ادا کیا، کترینہ کیف فلم میں کامیاب اداکارہ بنی جبکہ انوشکا شرما کو امیر گھرانے سے تعلق رکھنے والی معذور لڑکی کے روپ میں دکھایا گیا۔

فلم کے 3 منٹ 14 سیکنڈ دورانیے پر مبنی ٹریلر میں شاہ رخ خان کو ایک 38 سالہ بونے کے کردار میں دکھایا گیا جو اپنے لیے ایک دلہن کی تلاش میں سرگرم ہیں، جس کے بعد ایک میٹریمنی آفس میں انہیں انوشکا کی تصویر پسند آجاتی ہے تاہم وہ یہ نہیں جانتے کہ انوشکا معذور ہیں اور دماغی فالج کا شکار ہیں۔

شاہ رخ اور انوشکا ایک دوسرے کو پسند تو کرتے ہیں تاہم بعدازاں ٹریلر میں کترینہ کیف کی انٹری ہوتی ہے جو فلم اسٹار بنی ہیں، جنہیں دیکھ کر شاہ رخ کو ان سے بھی محبت ہوجاتی ہے، تاہم یہ محبت بھی کامیاب نہیں ہوتی ٹریلر کے آخر میں یہ بھی دکھایا کہ شاہ رخ ایک اسپیس شٹل میں چاند پر بھی جائیں گے، جب ان کا یہ ڈائیلاگ ’کہانیوں میں سنا تھا عاشق محبت میں چاند تک لے آتے ہیں، ہم نے یہ بات سنجیدگی سے لے لی‘، سنایا گیا۔

فلم میں شاہ رخ خان باؤا سنگھ، انوشکا شرما آفیہ اور کترینہ کیف اپنا ہی کردار نبھاتی نظر آئیں گی۔

زیرو کے ٹریلر لانچ کی شاندار تقریب ممبئی میں منعقد ہوئی، جہاں فلم کے مرکزی اداکار شاہ رخ خان، کترینہ کیف اور انوشکا شرما نے میڈیا سے بات چیت کی۔

ٹریلر کو اب تک 4 لاکھ 57 ہزار 933 ویوز مل چکے ہیں۔

یاد رہے کہ یہ تینوں اس سے قبل ایک ساتھ فلم ’جب تک ہے جاں‘ میں کام کرچکے ہیں۔

گزشتہ ماہ 31 اکتوبر کو شاہ رخ خان نے فلم کے چند نئے پوسٹرز بھی ریلیز کیے تھے جن میں انوشکا اور کترینہ کے کرداروں کو متعارف کروایا گیا تھا۔

یاد رہے کہ فلم کے ہدایات آنند ایل رائے دے رہے ہیں۔

فلم زیرو کے گزشتہ سال سامنے آئے ٹیزر کو بھی شائقین کی جانب سے خوب پسند کیا گیا تھا۔

ٹیزر کی ویڈیو کے آغاز میں تیز میوزک کے ساتھ ماضی کی کئی بولی وڈ فلموں کا نام ایسے پیش کیا گیا، جیسے فلم میں یہ سب شاہ رخ کے کردار کو کہا جارہا ہو‘۔

وقت نازک ہے، جوش نہیں ہوش سے کا م لیا جائے

adaria

پاکستان کو ایک بار پھر نازک صورتحال درپیش ہے۔ ہوش کی بجائے جوش کا غلبہ ہے۔ آسیہ بی بی کیس کے سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ملک بھر میں صورتحال خاصی کشیدہ ہے اور جلاؤ گھراؤ سے کاروبارِ زندگی معطل ہو کر رہ گئی ہے۔اس پس منظر میں وزیراعظم عمران خان نے سپریم کورٹ آف پاکستان کے آسیہ بی بی کیس کے فیصلہ کے بعد سڑکوں پر آنے احتجاج کرنے والوں سے اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی کے اکسانے میں نہیں آنا ہے، یہ کوئی اسلام کی خدمت نہیں ہو رہی ہے انہوں نے یہ اپیل بھی کی کہ ریاست سے نہ ٹکرائیں،ورنہ ریاست اپنی ذمہ داری پوری کرے گی اور لوگوں کے جان و مال کی حفاظت کی جائے گی، ہم توڑ پھوڑ اور سڑکیں بند نہیں کرنے دیں گے، ریاست کو اس سطح پر نہ لے جائیں کہ وہ ایکشن لینے پر مجبور ہو جائے۔ وزیراعظم نے آسیہ مسیح کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے کو ملکی آئین وقانون کے مطابق قرار دیا اور کہا کہ اس فیصلہ کے بعد ردعمل میں جس طرح کی زبان استعمال کی ہے وہ ناقابل برداشت ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان وہ ملک ہے جو مدینہ کی ریاست کے بعد اسلام کے نام پر بنا ہے، اسلام کے نام پر بننے کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان میں کوئی قانون قرآن و سنت کے خلاف نہیں بنایا جا سکتا، سپریم کورٹ کے ججز نے جو فیصلہ دیا وہ آئین کے مطابق ہے اور ملک کا آئین قرآن و سنت کے تحت ہے۔انشااللہ جب پاکستان عظیم ملک بنے گا تو وہ مدینہ کی ریاست کے اصولوں پر چل کر بنے گا۔ جس مقصد کیلئے پاکستان بنا اور جب تک وہ فلاحی ریاست نہیں بنتا اس کا کوئی مستقبل نہیں۔ موجودہ حکومت نے عملی طور پر وہ کام کیا جو آج تک کسی حکومت نے نہیں کیا۔ جب ہالینڈ کے رکن پارلیمنٹ نے حضورﷺ کی شان میں گستاخی والے خاکے بنوائے تو پاکستان وہ واحد ملک تھا جس نے فارن منسٹرز سے بات کی اور اس ڈچ رکن پارلیمنٹ سے خاکے واپس کرائے۔ پاکستان نے پہلی مرتبہ او آئی سی میں جا کر اس مسئلے کو اٹھایا اور ملک کے وزیرخارجہ نے پہلی بار اس ایشو کو اٹھایا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ہیومن رائٹس کورٹ نے قرار دیا کہ حضورﷺ کی شان میں گستاخی کرنا آزادی اظہار رائے کے زمرے میں نہیں آتا۔ ہم باتیں نہیں کرتے ہم نے عملی طور پر کام کر کے دکھایا۔ ہم واقعی نبی ﷺکی شان میں کسی قسم کی گستاخی نہیں دیکھ سکتے ۔وزیراعظم نے یہ یقین بھی دلایاکہ ہم مشکل معاشی بحران سے نکل سکتے ہیں، میں اور میری کیبنٹ نے ایک دن کی بھی چھٹی نہیں کی، مسلسل کوشش کر رہے ہیں کہ اپنی قوم کو بحران سے نکالیں، پسے ہوئے غریب آدمی کے لئے حالات کو بہتر کریں، دوست ممالک سے بھی بات کر رہے ہیں کہ یہاں سرمایہ کاری کریں، مقصد یہ ہے کہ یہاں بے روزگاری کم ہو۔ سڑکیں بند کرنے کا نقصان غریبوں کو ہے، میں اپنے عوام سے کہنا چاہتا ہوں کہ کسی صورت میں آپ کو ان عناصر کے اکسانے میں نہیں آنا ہے، یہ ملک سے دشمنی ہو رہی ہے۔ عوام سے درخواست ہے انتشار پھیلانے والوں کے فریب میں نہ آئیں۔ فوج نے ہمیں دہشتگردی کی مشکل جنگ سے نکالا ہے، انہوں نے قربانیاں دی ہیں، نقصان کس کا ہے اس سے فائدہ دشمنوں کا ہے۔ وہ عوام سے اپیل کرتے ہیں کہ ملک کی خاطر ان عناصر کی باتوں میں نہیں آئیں ، میں ان عناصر سے بھی اپیل کرتا ہوں کہ ریاست سے نہ ٹکرانا، اپنی سیاست چمکانے اور اپنا ووٹ بینک بڑھانے کیلئے اس ملک کو نقصان نہ پہنچائیں آگے اچھا وقت آ رہا ہے۔ درپیش حالات کا یہ تقاضا ہے کہ ریاست بھی سوجھ بوجھ سے کام لے ایسے میں ذرا سا بھی کوئی غلط اقدام خدانخواستہ کسی بڑے سانحے کا پیش خیمہ ہوسکتا ہے، حکومت اور دوسرے فریق کیلئے ضروری ہے کہ معاملات کو سڑکوں کے بجائے آپس میں بیٹھ کر حل کریں۔
آصف زرداری کی حکومت کو پیشکش
آصف علی زرداری جنہیں مفاہمت کا بادشاہ کہا جاتا ہے قومی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے واضح طورپر کہہ دیا کہ ہم حکومت سے تعاون کرنے کیلئے تیار ہیں ان کا یہ بیان نہایت خوش آئند ہے کیونکہ جمہوریت کے دور میں ہی ملک اور قوم پھلتے پھولتے ہیں، یہ الزام تراشیوں کی سیاست جو دہائیوں سے ہم وراثت میں لیکر چلتے آرہے ہیں اس کو ختم کرنا ہوگا ، آخر کوئی تو ہوگا کہ جو پہلا قدم بڑھائے گا ، حکومت کی جانب سے بھی زرداری کے بیان کو سراہا گیا ہے انہوں نے قومی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے حکومت کو ساتھ مل کر کام کرنے کی پیشکش کردی ۔قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے آصف زرداری نے کہا کہ ہم حکومت کے ساتھ کام کرنے کو تیارہیں، 5 سال کے دوران ہم حکومت کے ساتھ تعاون کریں گے، میاں صاحب کے ساتھ بھی کام کرنے کو تیارتھے بالکل اسی طرح اس حکومت کے ساتھ بھی تیارہیں لیکن شرط یہ ہے کہ جوکام کا پیمانہ ہووہ صرف انصاف پرمبنی ہو۔ہم ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی کوشش کرتے ہیں، جمہوریت میں کمزوریاں ضرورہیں، سب بیٹھ کرایک حل تجویزکریں جس سے ہم پاکستان کومسائل سے نکال سکیں، اگرہم توجہ نہیں دیں گے تومسائل بڑھتے جائیں گے۔ میں نے سی پیک کا نظریہ سوچا، اگرگوادرپورٹ کونکال دیں تو آگے سی پیک کیا بنتا ہے، پاکستان کی ترقی کا سب سے چھوٹا راستہ سی پیک ہے، ہمیں پاکستان کو مضبوط بنانا ہے لیکن شارٹ ٹرم ٹرانزیشن سے نہیں۔ پانی کا مسئلہ بنیادی طور پر انسانی حقوق کا معاملہ ہے، کراچی کی آبادی 3 کروڑ ہے، جس میں ایک کروڑ بہاری، بنگالی اور خیبر پختونخوا سے آنے والے دوست ہیں۔ پیپلزپارٹی کی حکومت آئی تو گندم اور چینی درآمد کی جارہی تھی، ہم نے سندھ میں دراوڑ ڈیم بنایا، ایک ایکڑ پر تقریباً ایک لاکھ 24 ہزار گیلن پانی ہر فصل کو دیتے ہیں، اگر اتنا پانی فصل کو دیا جاتا ہے تو کتنا پانی بچایا جاسکتا ہے، ملک کو درپیش مسائل کے حل کیلئے بہترین فارمولا آپس میں مفاہمت ہی ہے اور مل جل کر ہی مسائل کا حل نکالا جاسکتا ہے۔
تیل مصنوعات کی قیمتوں میں نا مناسب اضافہ
حکومت نے دگرگوں حالات کے دوران ہی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کردیا، عوام پہلے ہی مہنگائی کے بوجھ تلے دبتی جارہی ہے مگر چونکہ حکومت نے کہا ہے کہ مزید مہنگائی ہوگی سو وہ اسی فارمولے پر گامزن ہے، دوسری جانب وزیراعظم آئی ایم ایف جانے کے بجائے دیگر ممالک سے رابطے میں ہیں جن سے مالی امداد کیلئے مذاکرات جاری ہیں ، سعودی عرب نے تو قابل ذکر مدد کردی ہے دیگر ملکوں کی جانب سے ابھی جواب آنے کا انتظار ہے ، حکومت ایسے میں مزید مہنگائی کرنے کی بجائے اسے کنٹرول کرنے کی منصوبہ بندی کرے کیونکہ صرف ایک پٹرولیم مصنوعات مہنگی ہونے سے دیگر تمام زندگی سے متعلق ضروری اشیاء مہنگائی کے آسمان چھونے لگتی ہیں ایسے میں جب عوام کو دووقت کی روٹی اور بچوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنا مشکل ہو تو ہوشربا مہنگائی کی وجہ سے مزید مشکلات پیدا ہو جاتی ہیں۔

مقبوضہ کشمیر: بھارتی فوج کے ہاتھوں ایک اور کشمیری نوجوان شہید

سری نگر: مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج نے ایک اور کشمیری نوجوان کو شہید کردیا۔

مقبوضہ وادی میں بھارتی فوج کے مظالم میں ہر گزرتے دن کے ساتھ اضافہ ہورہاہے اور قابض فوج نہتے کشمیریوں پر وحشیانہ طاقت کا استعمال کررہی ہے۔

کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارتی فوج نے ضلع کپواڑہ کے علاقے ہند واڑہ کا محاصرہ کیا اور اس دوران فائرنگ سے ایک کشمیری نوجوان کو شہید کردیا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق وادی میں قابض انتظامیہ نے سوپور اور دیگر علاقوں میں پابندیاں لگادی ہیں، متاثرہ علاقوں میں تعلیمی ادارے بند اور انٹرنیٹ سروس بھی معطل کردی گئی ہے۔

Google Analytics Alternative