Home » 2018 » November » 04

Daily Archives: November 4, 2018

وزیر اعظم احتجاج کے دوران توڑ پھوڑ پر برہم، شرپسندوں کو فوری گرفتار کرنے کا حکم

اسلام آباد: وزیر اعظم عمران خان نے دھرنے کے دوران ہنگامہ آرائی کرنے اور توڑ پھوڑ میں ملوث افراد کو گرفتار کرنے کا حکم دے دیا۔

آسیہ کیس کے عدالتی فیصلے کے خلاف ملک بھر میں ہونے والے تین روزہ احتجاج اور دھرنوں کے دوران شرپسند عناصر کی جانب سے عوامی املاک کو نقصان پہنچایا گیا، گاڑیاں جلادی گئیں، سڑکوں پر گاڑیاں لانے والے افراد پر ڈنڈے برسائے گئے اور پتھراؤ کیا گیا۔

ذرائع کے مطابق لوگوں کے اس نقصان پر وزیر اعظم عمران خان نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے شرپسندوں کی گرفتاری کا حکم دیا ہے اور ہدایات دی ہیں کہ وفاقی حکومت صوبائی حکومت کے ساتھ مل کر ایسے عناصر کے خلاف کریک ڈاؤن کرے۔

ذرائع کے مطابق توڑ پھوڑ میں ملوث  افراد کے خلاف ملک بھر میں کریک ڈاؤن کیا جارہا ہے جس سے وزیر اعظم کو مسلسل آگاہ رکھا جارہا ہے۔

خادم حسین رضوی سمیت 400 مظاہرین کےخلاف مقدمات درج

لاہور: پولیس نے آسیہ بی بی بریت کے خلاف ملک بھر میں دھرنا دینے والی مذہبی جماعت تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے سربراہ خادم حسین رضوی سمیت 400 مظاہرین کے خلاف مقدمہ درج کرلیا۔

اس حوالے سے ذرائع نے انکشاف کیا کہ خادم حسین رضوی اور دیگر کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کے بعد اسے سیل کردیا گیا۔

ذرائع نے بتایا کہ مقدمہ لاہور میں تھانہ سول لائنز میں پولیس کی مدعیت میں درج کیا گیا اور ایف آئی آر میں ٹی ایل پی کے خادم حسین رضوی، پیرافضل قادری، پیر ظہیر الحسن، علامہ فاروق الحسن سمیت دیگر قائدین نامزد ہیں۔

علاوہ ازیں مذکورہ افراد کے خلاف دہشت گردی، ملک سے بغاوت، دنگا فساد پھیلانے اور دیگر سنگین دفعات کو مقدمات میں شامل کیا گیا ہے۔

مزید بتایا گیا کہ مقدمے میں ایم پی او اور دفعہ 144کی خلاف ورزی سمیت دیگر دفعات بھی شامل ہیں۔

آئی جی سندھ کا اظہار افسوس

انسپکٹر جنرل آف پولیس سندھ ڈاکٹر سید کلیم امام نے کراچی میں گزشتہ 5 روز کے دوران معمولات زندگی بری طرح متاثر ہونے پر افسوس کا اظہار کردیا۔

سیٹنرل پولیس آفس میں منعقد اجلاس میں آئی جی سندھ نے واضح کیا کہ آئندہ ’غیر قانونی‘ دھرنے، احتجاج اور ریلیز کی وجہ سے مرکزی شاہرواں پر آمد و رفت متاثر ہوئی تو سخت قانونی کارروائی کے ساتھ ایف آئی آر بھی درج کی جائےگی۔

واضح رہے کہ آسیہ بی بی کی بریت کے خلاف ٹی ایل پی نے ملک بھر میں دھرنا دیا جس سے ملک کے بڑے شہروں میں معمولات زندگی بری طرح متاثر ہوئے تھے۔

اس حوالے سے آئی جی سندھ ڈاکٹر سید کلیم امام نے کہا کہ بغیر اجازت دھرنے، ریلی کرنے والوں کے خلاف مقدمات درج کیے جائیں گے اور کسی کو ہرگز شارع فیصل بند کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ کسی سیاسی یا مذہبی جماعت کو ہائی ویز، لیاری ایکسپریس ویز پر احتجاج کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔

آئی جی سندھ نے تسلیم کیا کہ جو کچھ کراچی میں گزشتہ 5 روز میں ہوا اس پر شرمندہ ہوں۔

ان کا کہنا تھا کہ احتجاج، دھرنے اور ریلیز کی وجہ سے دفاتر اور اسکول جانے والے سڑکوں پر پھنس کر پریشان ہوجاتے ہیں، ان کا کہنا تھا کہ ہمارا کام عوام کی خدمت کرنا ہے۔

خیال رہے کہ 30 اکتوبر کو سپریم کورٹ کی جانب سے مسیحی خاتون آسیہ بی بی کے خلاف توہین مذہب کے جرم میں ہائی کورٹ اور سیشن کورٹ کے سزائے موت کے فیصلوں کو کالعدم قرار دینے کے بعد شروع ہونے والے اس ملک گیر احتجاج سے ملک بھر کے تمام بڑے شہروں میں معاشی سرگرمیاں معطل ہوگئی تھیں اور پبلک ٹرانسپورٹ کا نظام بھی بری طرح متاثر ہوا تھا۔

ٹی ایل پی اور دیگر مذہبی جماعتوں کی جانب سے سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف احتجاج کا اعلان کیا گیا تھا جس کے نتیجے میں اسکول اور تعلیمی ادارے بھی کھل نہ سکے تھے اور اس دوران امتحانات کو بھی ملتوی کردیا گیا تھا۔

ملک بھر کریک ڈاؤن کی ہدایت

وزارت داخلہ نے پر امن مظاہرے کی آڑ میں املاک اور نہتے شہریوں کو نقصان پہنچانے والے شرپسند عناصر کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کرلیا۔

ٹی ایل پی کی جانب سے تین روز تک جاری رہنے والے دھرنے سے متعلق وزیر مملکت برائے داخلہ شہریار خان آفریدی کو مختلف اداروں کی جانب سے بریفنگ دی گئی۔

اس حوالے سے اجلاس میں بتایا گیا کہ شرپسندوں کی نشاندہی کے لیے وزارت داخلہ اقدامات اٹھا رہی ہے۔

اجلاس میں شر پسند عناصر کے فرانزک ڈیٹا کو حاصل کرنے کے لیے چیئرمین پی ٹی اے اور سائبر کرائم ونگ کو ہدایت کردی گئیں۔

دوسری جانب وزارت داخلہ کے مطابق وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کا سائبر ونگ اور پی ٹی اے سوشل میڈیا پر شر انگیز مواد کا جائزہ لے رہے ہیں۔

وزارت داخلہ نے کہا کہ علماء کرام نے کہا تھا کہ توڑ پھوڑ میں ہم نہیں شرپسند عناصر ملوث ہیں ان کی بات کا احترام کرتے ہیں۔

علاوہ ازیں وزارت داخلہ نے پنجاب حکومت اور دیگر اداروں سے نقصانات کی تفصیلات بھی طلب کرلیں۔

3 روزہ احتجاج؛ شرپسندوں کے خلاف کریک ڈاؤن شروع، سیکڑوں گرفتار

اسلام آباد: وفاقی حکومت نے آسیہ بی بی کیس کے فیصلے بعد دھرنے کے دوران املاک کو نقصان پہنچانے والے شرپسند عناصرکے خلاف بھرپور کارروائی شروع کرتے ہوئے سیکڑوں افراد کو گرفتار کرکے ان کے خلاف مقدمات درج کرلیے ہیں۔

ملک کی صورت حال پر وزیر مملکت برائے داخلہ شہریار خان آفریدی کو مختلف اداروں کی طرف سے بریفنگ دی گئی۔ شہریار آفریدی نے پر امن مظاہرے کی آڑ میں املاک اور نہتے شہریوں کو نقصان پہنچانے والے شرپسند عناصر کے خلاف ملک بھر میں کریک ڈاون کا فیصلہ کیا ہے۔

وزیر مملکت داخلہ کے مطابق علمائے کرام کی بات کا احترام کرتے ہیں جنہوں نے کہا تھا کہ توڑ پھوڑ میں ہم نہیں بلکہ شرپسند عناصر ملوث ہیں، لہذا شرپسندوں کی نشاندہی کے لئے وزارت داخلہ اقدامات اٹھا رہی ہے۔

سوشل میڈیا پر شرانگیز اور نفرت انگیز مواد پھیلانے والوں کے خلاف بھی کارروائی ہوگی۔ شر پسند عناصر کے فرانزک ڈیٹا کو حاصل کرنے کے لیے چیئرمین پی ٹی اے  اور سائبر کرائم ونگ کو احکامات جاری کردیے گئے ہیں۔ ایف آئی اے کے سائبر ونگ اور پی ٹی اے کی جانب سے سوشل میڈیا پر شر انگیز مواد کا جائزہ لیا جارہا ہے۔

وزارت داخلہ نے پنجاب حکومت اور دیگر اداروں سے نقصانات کی تفصیل طلب کرتے ہوئے شرپسندی میں ملوث افراد کی فوٹیجز بھی منگوا لی ہیں۔ ملزمان کی نشاندہی کرکے ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

فیصل آباد میں پولیس نے احتجاج کرنے والے 3000 افراد کے خلاف 29 مقدمات درج کرکے ضلع بھر میں 218 افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔  چنیوٹ میں احتجاجی مظاہرین کے خلاف 3 مقدمات درج کرکے 13 افراد کو حراست میں لے لیا گیا۔ سرگودھا میں 300 افراد کے خلاف 2 مقدمات درج کرلئے گئے۔ جھنگ میں 150 افراد کے خلاف 2 مقدمات درج کرکے 12 سے زائد افراد کو گرفتار کرلیا گیا۔

کراچی کے علاقے گلستان جوہر اور پہلوان گوٹھ میں فائرنگ کرنے اور زبردستی دکانیں بند کرانے پر تین ملزمان کو گرفتار کرکے مقدمہ درج کرلیا گیا۔ پولیس کے مطابق دکان بند نہ کرنے پر پستول،اور ڈنڈوں سے لیس ملزمان نے دکان میں موجود افراد پر حملہ کردیا جس سے چار دکاندار زخمی ہوگئے۔ ملزمان کے خلاف مقدمے میں جان سے مارنے کی کوشش اور نقصان پہنچانے کی دفعات شامل ہیں۔

علاوہ ازیں وزیرِ مملکت مواصلات مراد سعید نے نیشنل ہائی ویز اور موٹر ویز کی املاک کو نقصان پہنچانے والوں کو کٹہرے میں لانے کا فیصلہ کیا ہے۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ملک بھر میں بنائے جانے والی ویڈیوز اورتصاویرکا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا، جس کے لیے وزارت داخلہ سمیت وفاقی حکومت کے دیگرمحکموں سے توڑ پھوڑ کرنے والے شرپسندعناصر کی نشاندہی کیلئے معاونت مانگ لی۔

وفاقی وزیرمراد سعید کا کہنا ہے کہ احتجاج کا فائدہ اٹھا کر قومی خزانے کو اربوں کا نقصان دینے والوں کا محاسبہ کریں گے، آئین پاکستان پرامن احتجاج کی اجازت دیتا ہے، دوروزہ احتجاج کے دوران ملک بھر میں نیشنل ہائی ویزکی قیمتی املاک کو نقصان پہنچایا گیا ہے۔

مراد سعید نے کہا کہ احتجاج کی آڑمیں سرکاری ونجی املاک کے نقصان کی کسی طور اجازت نہیں دی جاسکتی ہے، ان املاک کی تعمیرومرمت پراربوں کے اخراجات اٹھیں گے جب کہ شرپسند عناصر کی نشاندہی کرکے انہیں کٹہرے میں لائیں گے۔

دریں اثنا اوکاڑہ میں سڑک کی بندش اور امن و امان کی صورتحال خراب کرنے پر درج مقدمات میں گرفتار 22 ملزمان کی ضمانتیں منظور ہوگئیں اور انہیں رہا کردیا گیا، یہ مقدمات اوکاڑہ اور حجرہ شاہ مقیم کے تھانوں میں درج ہوئے تھے۔ اوکاڑہ میں درج مقدمات میں 200 سے زائد افراد نامعلوم بھی ہیں۔

مولاناسمیع الحق کی شہادت پاکستان اورعالم اسلام کے لئے ناقابل تلافی نقصان

adaria

مولاناسمیع الحق ایک جیدعالم اوردارالعلوم حقانیہ کے مہتمم اعلیٰ تھے، مولانافضل الرحمان نے بھی ان کے مدرسے میں آٹھ سال تک تعلیم حاصل کی، اس طرح فضل الرحمان کاشمار بھی ان کے شاگردو ں میں ہوتا ہے۔مولاناسمیع الحق کوفادرآف طالبان سمجھاجاتاتھا وہ افغانستان سے غیرملکی فوج کے انخلاء کے حامی تھے انہوں نے کبھی بھی پرتشدد کارروائیوں کی حمایت نہیں کی اور جب بھی پاکستان پر کوئی ایساوقت آیا تو ہمیشہ انہوں نے امن ہی کی بات کی اور پاکستان کی حمایت میں بولے ۔تحریک طالبان پاکستان اور افغانستان میں انہیں انتہائی قدرومنزلت سے دیکھاجاتاتھا۔ گزشتہ تین پشتوں سے ان کاخاندان پارلیمنٹ میں نمائندگی کررہاتھا مولاناسمیع الحق کے والدمحترم عبدالحق قومی اسمبلی کے رکن رہے بعدازاں 1985ء سے 1991 اور 1991 سے 1997تک مولاناسمیع الحق سینیٹ کے رکن رہے ان کے صاحبزادے حامدالحق بھی قومی اسمبلی کے رکن رہے ۔مولاناسمیع الحق کو پاکستان میں امریکہ مخالف تصور کیاجاتاتھا وہ ساری عمرکسی نہ کسی صورت میں دینی جماعتوں سے وابستہ رہے ،متحدہ مجلس عمل کے قیام میں ان کابڑاعمل دخل تھا وہ دفاع پاکستان کونسل کے سربراہ تھے ۔مولاناسمیع الحق ایک ایسی آواز تھی جس کو امن کاداعی کہاجائے توغلط نہ ہوگا ۔ایسے وقت میں ان کی شہادت جب ملکی حالات نا گفتہ بہ تھے بہت سے معنی خیزسوال چھوڑ جاتی ہے۔ گزشتہ روز راولپنڈی میں وہ اپنی رہائش گاہ میں مقیم تھے کہ نامعلوم افراد نے انہیں چھریوں کے وارکرکے شہید کردیا اور قاتل موقع واردات سے فرار ہوگئے ۔ کمال حیرانگی کی بات یہ ہے کہ جہاں پر مرحوم قیام پذیرتھے وہاں پر سیکیورٹی کا انتہائی اعلیٰ انتظام ہے لیکن تاحال کوئی ایسی بات سامنے نہیں آسکی جس سے پتہ چل سکے کہ ان کے قتل میں کون ملوث تھا البتہ وقوعہ کے روز مولاناسمیع الحق اپنی رہائش گاہ پرآرام کررہے تھے کہ دو افراد ان سے ملاقات کرنے کے لئے آئے ۔مولانانے خود ہی اپنے خدمت گار اورگن مین کومہمانوں کے لئے سوداسلف لینے کے واسطے باہربھیجا جب یہ واپس آئے تومولاناسمیع الحق بیڈ پرشدید زخمی حالت میں پڑے ہوئے تھے انہیں فوری طورپر قریبی نجی ہسپتال پہنچایاگیا لیکن زخم اتنے شدید تھے کہ وہ راستے ہی میں شہید ہوگئے اور جانبرنہ ہوسکے۔ پولیس نے ذاتی ملازمین کو حراست میں لے لیا ہے کہاجارہاہے کہ مبینہ قاتل پہلے بھی ملنے کے لئے آتے رہتے تھے۔وزیراعظم عمران خان نے فوری تحقیقات کاحکم دیتے ہوئے رپورٹ طلب کرلی ہے مولاناکی شہادت کے بعد مثبت سیاست کاایک باب بن ہوگیا ہے ان کی آواز کو کس نے اور کیوں دبایا اس کے بارے میں قبل ازوقت کہنا کچھ بھی درست نہیں یہ تو ابھی تحقیقات ہوں گی ،ملازمین سے تفتیش ہوگی اس کے بعد پتہ چلے گا کہ کون سی قوتیں ان کے قتل میں ملوث ہیں۔

حکومت اورتحریک لبیک کے مابین کامیاب معاہدہ
آسیہ ملعونہ کے حوالے سے ملک بھرمیں جو احتجاج چل رہاتھا اور سارا ملک بند پڑا ہواتھا، دھرنوں کی وجہ سے نظام زندگی مفلوج تھی دھرنا دینے والے اس بات پر بضد تھے کہ آسیہ ملعونہ کو پھانسی دی جائے اس کے بغیر وہ کسی نکتے پررضامندنہیں ہونگے،حکومت نے اس سلسلے میں اہم کردارادا کرتے ہوئے ایک کمیٹی تشکیل دی جس نے جاکر دھرنے والوں سے کامیاب مذاکرات کئے اوراس کے نتیجے میں دھرناختم ہوگیا باقاعدہ معاہدہ طے کیاگیاجس میں کہاگیا کہ حکومت نظرثانی درخواست پراعتراض نہیں کرے گی،نام ای سی ایل میں ڈالنے کے لئے کارروائی کی جائے گی اس موقع پرتحریک لبیک کی جانب سے جو بیانات دیئے گئے جن سے کسی کی دل آزاری ہوئی اس پرمعذرت بھی کی گئی، معاہدے پر حکومتی ٹیم کے نورالحق قادری، راجہ بشارت، تحریک لبیک کے پیرافضل قادری اور وحیدنور نے دستخط کئے،یہ پانچ نکاتی معاہدہ ہے جس کے تحت آسیہ بی بی کے مقدمے میں نظرثانی کی اپیل دائرکردی گئی ہے جو مدعاعلیہان کا قانونی حق واختیار ہے جس پرحکومت اعتراض نہیں کرے گی ،آسیہ مسیح کانام فوری طورپر ای سی ایل میں شامل کرنے کیلئے قانونی کارروائی کی جائے گی، آسینہ کی بریت کے خلاف تحریک میں اگرکوئی شہادتیں ہوئی ہیں ان کے بارے میں فوری قانونی چارہ جوئی کی جائے گی، آسیہ کی بریت کے خلاف تیس اکتوبر اور اس کے بعد جوگرفتاریاں ہوئیں ان افراد کو رہا کردیاجائے گا، معاہدے میں آخری اورپانچواں نکتہ یہ ہے کہ اس واقعہ کے دوران جس کسی کی بلاجواز دل آزاری یاتکلیف ہوئی تو تحریک لبیک معذرت خواہ ہے۔یہ ایک انتہائی خوش آئند اقدام ہے اور حکومت نے جو بھی اس حوالے سے قدم اٹھایا وہ لائق تحسین ہے کیونکہ کسی بھی ناخوشگوارواقعہ کے پیش آنے سے قبل ہی اس مسئلے کو انتہائی خوش اسلوبی سے حل کرلیاگیاہے اور اب امید کی جارہی ہے کہ آنے والے دنوں میں بھی انتہائی زیرک انداز سے اس مسئلے کو حل کیاجائے گا اورآئندہ کے لئے ایسا لائحہ عمل طے کیاجائے کہ کوئی بھی شخص آپﷺ کی شا ن میں گستاخی کرنے کی جرات نہ کرسکے ۔
عمران خان کی چین کے صدر سے ملاقات
وزیراعظم عمران خان چین کے دورے پر موجود ہیں جہاں انہوں نے چینی صدر شی جن پنگ سے علیحدہ اور وفود کی سطح پر مذاکرات کیے۔ وزیراعظم عمران خان نے چینی صدر کو دورہ پاکستان کی دعوت دی جو انہوں نے قبول کرلی، اس موقع پر وزیراعظم نے کہا کہ آپ کا ویژن اور قیادت رول ماڈل ہے، غربت اور کرپشن جیسے مسائل سے جس طرح چین نے نمٹا یہ اپنی مثال آپ ہے۔ چینی صدر کا بات چیت کے دوران کہنا تھا کہ پاکستان اور چین کے درمیان مضبوط تعلقات مزید مستحکم ہورہے ہیں، دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات نہ صرف باہمی بلکہ خطے کے دیگر ممالک کیلئے بھی فائدہ مند ہیں۔ دونوں رہنماؤں نے سٹرٹیجک تعلقات مزید بڑھانے پر اتفاق کیا۔ وفود کی سطح پر ہونے والی ملاقات کے دوران دونوں ممالک نے پاکستان کو ملنے والے مالیاتی پیکج پر بات چیت کی۔چونکہ اقتدار میں آنے سے قبل پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ اورموجودہ وزیراعظم عمران خان نے دوٹوک الفاظ میں قوم سے کہاتھا کہ وہ آئی ایم ایف کے پاس نہیں جائیں گے اس سلسلے میں وہ سرگرداں ہیں اور اس وقت وہ اس ملک کے دورے پرہیں جس کی دوستی ہمالیہ سے بلند اور سمندر سے زیادہ گہری ،شہدسے زیادہ میٹھی ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ ہرمشکل وقت میں چین پاکستان کے ہم قدم نظرآیا ہے جہاں پاکستان نے چین کاساتھ دیاہے اور سب سے پہلے دنیا میں چین کے معر ض وجود کوپاکستان نے ہی تسلیم کیاتھا یہ وہ لمحہ تھا جس وقت دونوں ممالک کے درمیا ن دوستی اورمحبت کی داغ بیل پڑی اورآج وہ اپنے مکمل عروج پرہے ۔سی پیک کامعاہدہ گوادر بندرگاہ اور دیگرمعاہدات اس بات کاثبوت ہیں ۔اب جبکہ وزیراعظم وہاں دورے پرموجود ہیں تو ایسے میں واضح طورپر یہ امید کی جاسکتی ہے کہ چین پاکستان کو کسی صورت بھی مایوس نہیں کرے گا اور وہ ایک بھاری امداد فراہم کرے گا جس سے پاکستان معاشی طورپراپنے قدموں پرکھڑاہونے کے قابل ہوجائے گا پھر سی پیک کا منصوبہ بھی پاکستان کو مزید چارچاندلگادے گا اس کی پایہ تکمیل تک پہنچنے کے بعد ہمارے معاشی زون میں دن دگنی را ت چوگنی ترقی ہوگی معاشی اعتبار سے ہٹ کردفاعی حوالے سے بھی ہمیشہ چین پاکستان کے ہم قدم ہی رہا اور بین الاقوامی سطح پربھی اس نے کھل کرپاکستان کی حمایت کی ہے۔

خاشقجی کے قتل کاحکم سعودی اعلیٰ قیادت نے دیا، ترک صدر

 واشنگٹن/ انقرہ: ترک صدر طیب اردگان نے کہا ہے کہ مقتول صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے احکامات سعودی حکومت کی اعلیٰ قیادت کی جانب سے آئے۔

واشنگٹن پوسٹ کے لیے لکھے گئے اپنے کالم میں ترک صدر طیب اردگان نے ایک بار پھر اپنا موقف دہرایا کہ سعودی عرب کے 18 حکام صحافی کے قتل میں ملوث ہیں جنہیں ترکی کی حکومت کے حوالے کیا جانا چاہیے تاکہ مقتول کی لاش کا پتہ لگایا جاسکے۔

ترک صدر نے مزید لکھا کہ صحافی کے قتل کے احکامات سعودی عرب کی اعلیٰ قیادت کی جانب سے دیے گئے جس پر عمل درآمد کرنے کے لیے 15 سعودی حکام استنبول پہنچے اور سعودی قونصل خانے کے 3 حکام کے ساتھ مل کر صحافی کو قتل کرکے لاش کو ٹھکانے لگانے کے لیے مقامی شخص کے حوالے کردی۔

ترک صدر نے اپنے کالم میں مطالبہ کیا کہ جن 18 شہریوں کو سعودی عرب نے حراست میں لیا ہے انہیں قتل کے حکم دینے والے اور لاش سے متعلق تمام معلومات ہیں اس لیے ان 18 سعودی شہریوں کو ترکی کے حوالے کیا جائے۔ ترکی لاش کی حوالگی، قتل کا حکم دینے اور لاش ٹھکانے لگانے والے مقامی شخص سے متعلق سوالات اُٹھاتا رہے گا۔

صحافی کی لاش کو تیزاب میں تحلیل کیا گیا ؟

دوسری جانب ترکی کے ایک اعلی اہلکار اور صدارتی مشیر یاسین اکتے کا کہنا ہے کہ مقتول صحافی جمال خاشقجی کی لاش کے ٹکڑے کر کے تیزاب میں تحلیل کردیے گئے ہیں تاکہ لاش کا کوئی سراغ نہ لگ سکے تاہم تیزاب سے لاش کے ٹکڑوں کو تحلیل کرنے کے فرانزک شواہد نہیں ملے ہیں۔

 

رجنی کانت اور اکشے کمار کی فلم 2.0 کے ٹریلر نےریلیز ہوتے ہی دھوم مچادی

چنائی: بھارتی سپر اسٹار رجنی کانت اوراکشے کمار کی فلم 2.0 کے ٹریلر نے ریلیز ہوتے ہی دھوم مچادی۔

سپراسٹار رجنی کانت اور ایکشن اسٹار اکشے کمار کی فلم 2.0 کے ٹریلر کا انتظار شائقین طویل عرصے سے کررہے تھے اب یہ انتظار ختم ہوا 2.0 کا ٹریلر ریلیز کردیا گیا جس نے ریلیز ہوتے ہی دھوم مچادی، یوٹیوب پر ٹریلر کو چند ہی گھنٹوں کے دوران لاکھوں بار دیکھاجاچکاہے۔

ٹریلر میں اداکار رجنی کانت ایک بار پھر روبوٹ چٹی کے روپ میں دنیا کو بچاتے ہوئے نظر آرہے ہیں جب کہ اکشے کمار ڈاکٹررچرڈ کے کردار میں ڈراؤنے انداز میں بالکل ہی مختلف لگ رہے ہیں۔ فلم کے ٹریلر میں بہترین وژوئل ایفیکٹس کا استعمال کیاگیا ہے۔

بالی ووڈ فلموں میں ولن کی دھلائی کرتے ہوئے اکشے کمار اس فلم میں خود ولن کے کردار میں نظرآرہے ہیں، اکشے نے ڈاکٹر رچرڈ کے کردار کو اپنے کیریئر کا سب سے چیلنجنگ کردار قرار دیتے ہوئے کہا کہ فلم میں پہلی بار 4 ڈی ساؤنڈ تکنیک استعمال کی گئی ہے۔

فلم کے ہدایت کار اور مصنف ایس شنکر نے فلم میں شامل وژوئل ایفیکٹس کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ فلم میں وی ایف ایکس دو کمپنیوں نے دئیے ہیں کیونکہ ایک کمپنی کام پورانہیں کرپائی تھی لہٰذا ہمیں دوسری کمپنی سے وی ویف ایکس کروانے پڑے اسی وجہ سے فلم کو تیار ہونے میں ایک سال اور لگ گیا۔

فلم 543 کروڑ کے بجٹ کے ساتھ نہ صرف بھارت کی بلکہ دنیابھر کی 10 میگا بجٹ فلموں میں شامل ہوگئی ہے، 2.0، 2010 کی بلاک بسٹر فلم ’روبوٹ‘ کا سیکوئل ہے جس میں رجنی کانت اور ایشوریارائے بچن نے مرکزی کردار ادا کیاتھا۔

فلم2.0 کو29نومبر کو سینما میں 2 ڈی اور 3 ڈی میں پیش کیاجائے گا۔

مولانا سمیع الحق جامعہ حقانیہ اکوڑہ خٹک میں سپرد خاک

پشاور: اکوڑہ خٹک میں جمعیت علمائے (س) کے سربراہ مولانا سمیع الحق کو نماز جنازہ کی ادائیگی کے بعد جامعہ حقانیہ میں سپرد خاک کردیا گیا۔

جمعیت علمائے (س) کے سربراہ مولانا سمیع الحق کی نماز جنازہ ان کے آبائی علاقے اکوڑہ خٹک کے خوشحال خان ڈگری کالج میں ادا کردی گئی۔ مولانا سمیع الحق کی نماز جنازہ ان کے صاحبزادے مولانا حامد الحق نے پڑھائی۔ مولانا سمیع الحق کو جامعہ حقانیہ اکوڑہ خٹک کے احاطے میں ان کے والد مولانا عبدالحق کے پہلو میں سپرد خاک کیا گیا۔

اس موقع پر دارالعلوم حقانیہ کے نئے مہتمم کا اعلان بھی کیا گیا۔ مولانا یوسف شاہ نے نماز جنازہ کے موقع پر اعلان کیا کہ دارالعلوم حقانیہ کے نئے مہتمم مولانا سمیع الحق کے بھائی مولانا انوارالحق ہوں گے جب کہ بیٹے حامد الحق نائب مہتمم ہوں گے۔

وزیر اعلی خیبر پختونخوا محمود خان، مسلم لیگ (ن) کے راجا ظفر الحق اور امیر مقام، جماعت اسلامی کے رہنما سراج الحق، لیاقت بلوچ اور جماعۃ الدعوہ کے رہنما حافظ سعید سمیت کئی سیاسی شخصیات نے بھی نماز جنازہ میں شرکت کی۔ اس موقع پر سیکیورٹی کے نہایت سخت انتظامات کیے گئے تھے۔

نامعلوم افراد کیخلاف مقدمہ

دوسری جانب راولپنڈی کے تھانہ ایئر پورٹ میں نامعلوم ملزمان کے خلاف مولانا سمیع الحق کے قتل کا مقدمہ ان کے بیٹے حامد الحق حقانی کی مدعیت میں درج کرلیا گیا ہے۔ مقدمے میں قتل اور اقدام قتل کی دفعات شامل کی گئی ہیں، ایف آئی آر کے مطابق مولانا سمیع الحق پر حملہ شام ساڑھے 6 بجے کے قریب ہوا اور قاتل نے ان کے پیٹ، دل، ماتھے اور کان پر چھریوں کے 12 وار کیے۔

ابتدائی تحقیقات

مولانا سمیع الحق کے قتل کی تحقیقات کرنے والی ٹیم نے واقعے میں دہشت گردی کا عنصر رد کردیا ہے، تفتیش کاروں کے مطابق ابتدائی شواہد سے بظاہر معاملہ دشمنی یا دیرینہ عداوت کا لگتا ہے تاہم صورتحال تفصیلی تفتیش میں واضح ہوگی۔ پولیس نے 2 افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پولیس نے کمرے سے حاصل کئے گئے فنگر پرنٹس نادرا کو جب کہ کمرے سے حاصل کئے گئے خون کے نمونے  کراس میچ کے لئے لیبارٹری بھجوا   دیئے ہیں ، اس کے علاوہ مولانا سمیع الحق کے زیر استعمال موبائل فون کا ڈیٹا اور  گھر کے قریب نصب کلوز سرکٹ کیمروں کی فوٹیج بھی حاصل کرلی گئی ہیں۔ جیو فینسنگ کے لئے متعلقہ اداروں سے بھی معاونت طلب کرلی گئی ہے۔

واضح رہے کہ مولانا سمیع الحق کو گزشتہ روز راولپنڈی میں ان کے گھر پر چاقوؤں کے وار کرکے قتل کردیا گیا تھا۔

سی پیک پاکستان کی ترقی اوراستحکام کیلیے انتہائی اہم ہے، وزیراعظم

وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ پاکستان کی معاشی ترقی اوراستحکام کے لئے سی پیک کی خصوصی اہمیت ہے جب کہ سماجی اور معاشی شعبوں ،روزگار میں اضافہ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔

وزیراعظم عمران خان اور نیشنل پیپلزکانگریس کے چیئرمین لی ژانگ ژو کے درمیان ملاقات ہوئی جس میں باہمی تعلقات کوفروغ دینے پر اتفاق کیا گیا جب کہ وزیراعظم نے چین کی جانب سے مہمان نوازی پر شکریہ ادا کیا۔

وزیراعظم نے غربت کے خاتمے اور کرپشن میں کمی کے لئے چینی حکومت کے اقدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ غربت اور بدعنوانی کے خاتمے، بہترحکمرانی سے ہی چین نے ترقی کی منازل حاصل کیں، اقتصادی اور صنعتی تعاون دونوں ممالک کے لئے ترقی کے لئے اہم ہے جب کہ پاکستان کی معاشی ترقی اوراستحکام کے لئے سی پیک کی خصوصی اہمیت ہے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اقتصادی زونز کے قیام اورصنعتی ترقی کے روزگارکے نئے مواقع پید ا ہوں گے، سماجی اور معاشی شعبوں، روزگار میں اضافہ حکومت کی ترجیح ہے۔

دوسری جانب چیئرمین نیشنل پیپلزکانگریس لی ژانگ ژو کا کہنا تھا کہ چین پاکستان کے ساتھ ہر محاذ پر کھڑا رہے گا، اور تعلقات کی مضبوطی کا خواہاں ہے، دونوں ممالک کے پارلیمانی روابط کے فروغ کے لئے وفود کا تبادلہ ناگزیر ہے، پارلیمانی وفود کے تبادلے دو طرفہ تعلقات کو مزید فروغ دیں گے ، اس سلسلے میں سی پیک منصوبہ انتہائی اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

Google Analytics Alternative