Home » 2018 » November » 06

Daily Archives: November 6, 2018

سی پیک مشرق وسطیٰ اورخلیجی ممالک سے رابطے بڑھانے کا باعث بنے گا، عمران خان

شنگھائی: وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ سی پیک سے چین اورپاکستان دونوں کومعاشی اور تجارتی فائدہ ہوگا جب کہ  اس سے مشرق وسطیٰ اورخلیجی ممالک کے درمیان رابطے بڑھانے کا باعث بنے گا۔

چین کے شہر شنگھائی میں جاری بین الاقوامی درآمدی نمائش سے خطاب کے دوران  وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ہماری حکومت نئے پاکستان کا نعرہ لگا کرآئی ہے، ہم ہرشعبے میں تبدیلیاں لارہے ہیں، پاکستان ہرلحاظ کے مواقع سے بھر پورملک ہے، سی پیک سے چین اورپاکستان دونوں کو معاشی اور تجارتی فائدہ ہوگا جب کہ پاک چین اقتصادی راہداری مشرق وسطیٰ اور خلیجی ممالک کے درمیان رابطے بڑھانے کا باعث بنے گا۔

وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان میں شاہراہ قراقرم، سی پیک کے جدید ہائی ویز کے نیٹ ورک کا حصہ ہے جو گوادر کی بندرگاہ سے جوڑتے ہیں اور بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کا نقطہ آغاز بھی ہے جس سے خطے کو بھرپور فائدہ ہوگا۔ ہم شفافیت اور احتساب کو بڑھانے کے لیے پرعزم ہیں، کاروبار اور حکومت چلانے کے لیے ٹیکنالوجی کا استعمال کررہے ہیں۔

عمران خان نے کہا کہ پاکستان افرادی قوت میں بھی مالامال ہے، 10 کروڑ پاکستانی 35 سال سے کم عمر ہیں اوراسی طرح نیا پاکستان کاروبار کے لیے اہم اوربہترجگہ ہوگی جب کہ ہم پاکستان میں وسائل سے مالامال ہیں جس میں زرخیززمین، 12 کلامیٹک زونز پر مشتمل ایک زمین ہے۔

چینی صدرشی چن پنگ نے نمائش سے خطاب میں کہا کہ ڈجیٹل ٹیکنالوجی اورمصنوعی ذہانت نے دنیا میں انقلاب برپا کردیا، گلوبلائزیشن نے جنگل کے قانون کا خاتمہ کردیا، چین دیگرممالک کے ساتھ تجارتی فرق ختم کرنا اوردرآمدات بڑھا کرعالمی برادری سے تعلقات مستحکم ترکرناچاہتا ہے۔

چینی صدرنے کہا کہ درآمدات بڑھا کرعالمی برادری سے تعلقات مستحکم ترکرنا چاہتا ہے، چین کے دروازے تمام ممالک کیلیے مزید وسیع کریں گے، تجارت اورسرمایہ کاری کے مواقع بڑھائےجائیں گے، چین آئندہ 15 سال میں 30 کھرب ڈالرکی اشیادرآمد کرے گا جب کہ 15 سال میں 10 کھرب ڈالرکی خدمات بھی درآمد کرے گا۔

اس سے قبل وزیراعظم عمران خان سمیت 30 ممالک کے 130 مندوبین نمائش میں شریک ہوئے۔

قومی اسمبلی میں شدید ہنگامہ آرائی، اسپیکر نے کارروائی معطل کردی

اسلام آباد: قومی اسمبلی کے اجلاس میں پیپلز پارٹی اور حکومتی ارکان کے مابین شدید تلخ کلامی اور مبینہ گالم گلوچ سے ایوان مچھلی بازار بن گیا۔

قومی اسمبلی میں حکومتی اور اپوزیشن بنچوں میں سخت جملوں کے تبادلے اور شور شرابے  سے ایوان مچھلی بازار بنا رہا، جس کی وجہ سے اسپیکر قومی اسمبلی کو مجبوراً اجلاس کی کارروائی کل تک کے لیے معطل کرنا پڑی۔

مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کے بیان کے دوران حکومتی ارکان کی جانب سے جملے کسے گئے جب کہ وفاقی وزیر دفاع پرویز خٹک کے اظہار خیال کے دوران اپوزیشن بنچوں سے جملے بازی کی گئی جس پر پرویز خٹک غصے میں آگئے۔

پرویز خٹک نے کہا کہ میری درخواست ہے کہ اپوزیشن ماحول ٹھیک کرے، آپ کا کوئی رکن ماحول خراب کرے تو اسے روکیں اور ہمارا رکن ماحول خراب کرے تو ہم اسے روکیں گے۔

اسمبلی کا ماحول اس وقت مزید خراب ہوگیا جب پیپلز پارٹی کی رکن شازیہ مری کی تقریر کے دوران تحریک انصاف کے ارکان  نے شدید نعرے بازی کی اور عبدالمجید نیازی نے مبینہ طور پر گالیاں بھی دیں، جس پر شازیہ مری نے کہا کہ آپ مجھ سے ایسے بات نہ کریں ایسے بات کرنی ہے تو دھرنے والوں سے کریں۔

دوسری جانب عبدالمجید نیازی کی جانب  سے مبینہ گالیوں پر پیپلز پارٹی کے رہنما رفیع اللہ شدید غصے میں آگئے اور پی ٹی آئی رہنما کو مارنے کے لیے دوڑے تاہم حکومتی اور اپوزیشن ارکان رفیع اللہ کو پکڑتے رہے۔ اسپیکر کی وارننگ کے باوجود صورتحال کنٹرول نہ ہوئی تو اجلاس ملتوی کردیا گیا۔

پاک چین مشترکہ اعلامیہ خوش آئنداقدام

adaria

پاکستان کو اس وقت معاشی اعتبار سے ڈالر کے اتارچڑھاؤ پرمشکل حالات کاسامنا ہے، ڈالر ہے کہ قابو میں نہیں آرہا اسی وجہ سے ملک میں مہنگائی کا بھی اضافہ ہوتارہتا ہے جس کابراہ راست عوام پر اثر پڑتا ہے۔ چونکہ خطے میں پاکستان اور چین کی دوستی ایک مثال رکھتی ہے اور دونوں ممالک ہمیشہ مشکل وقت میں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہوئے نظر آئے ہیں، اب جبکہ پاکستان کو درپیش دگرگوں حالات میں چین نے پھرحسب روایت اس مشکل سے نکالنے کے لئے آگے نہ صرف ہاتھ بڑھایا ہے بلکہ عملی طورپراس بات کو ثابت کیا ہے کہ چین ہمیشہ پاکستان کے ساتھ ہے اور دونوں کی دوستی اٹوٹ انگ رشتے میں بندھی ہوئی ہے۔ اسی سلسلے میں معیشت کو سہارا دینے کے لئے پاکستان اور چین نے اپنی اپنی کرنسی میں باہمی کاروبار کرنے کافیصلہ کیاہے جوکہ خوش آئند ا قدام ہے اس سے کم ازکم ڈالر کچھ نہ کچھ اوقات میں ضرور آجائے گا۔ وزیراعظم کے دورہ چین پر جاری مشترکہ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ چین پاکستان کو معاشی بحران سے نمٹنے اور کرپشن کے خاتمے کا فارمولا پاکستان کو دیگا، دونوں ملک ڈالر کے بجائے اپنی کرنسی میں تجارت کرینگے، سیاسی تعلقات اوراسٹریٹجک کمیو نیکیشن مضبوط بنائی جائیگی ،عالمی دہشت گردی سے متعلق جامع کنونشن کا اتفاق رائے سے مسو دہ تیارکیا جانا چاہیے، عالمی، خطے اور مقامی حالات جیسے بھی رہے ، مستقبل میں پاک چین کمیونٹی کی سطح پرتعلقات کو مستحکم کیا جائیگا، پاکستان میں معاشی ترقی اور روزگار پیدا کرنے کے لیے ورکنگ گروپ تشکیل دیئے جائیں گے،دونوں ممالک نے سی پیک کی جلد تکمیل کیلئے بھی عزم کا اظہار کیا۔ چین ادارہ جاتی کرپشن اور وائٹ کالر کرائم پر قابو پانے کا آزمودہ ماڈل بھی پاکستان کو دینے پر آمادہ ہوگیا ہے۔ پاکستان اور چین نے تجارتی سرگرمیوں کیلئے باہمی کرنسی کا حجم دگنا کردیاہے جس میں چینی کرنسی میں تجارتی حجم 10 ارب سے بڑھا کر 20 ارب یوان کردیا گیا ہے جبکہ پاکستانی کرنسی میں تجارت کا حجم 165 ارب سے بڑھا کر 351 ارب روپے کردیا گیا ہے،دونوں ملکوں کابنکوں اور دیگر فنانشل اداروں کے درمیان لین دین کا آسان اور مربوط نظام بنانے اور دونوں ملکوں کا سرکاری بنکو ں کی مزید برانچیں کھولنے پر بھی اتفاق کیا گیا ہے ۔ گزشتہ دو دہائیوں کے دوران چین میں سخت نگرانی کے اقدامات اور کڑی سزاؤں کے عمل سے ہرقسم کی کرپشن کا گراف مسلسل نیچے گرا ہے ، عمران خان نے اسی سلسلے میں چینی صدر سے خصوصی معاونت کی بات کی تھی ، توقع ہے کہ ماہرین کا اعلیٰ سطح وفد جلد پاکستان بھی آئیگا۔ چین کی قیادت نے اس عزم کااظہار کیا کہ پاکستان کے ساتھ تعلقات کو ان کی خارجہ پالیسی میں ہمیشہ اولین ترجیح دی گئی ہے ۔ چین نے بین الاقوامی امور پر پاکستان کے مسلسل اور مستحکم تعاون سمیت چین کی خود مختاری ، آزادی ، علاقائی سلامتی اور سکیور ٹی سمیت مختلف اہم امور پر ساتھ دینے پر اظہار مسرت کیا اور چین نے علاقائی امن و سلامتی ، ترقی اور خوشحالی سمیت ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات کی بہتری کے حوالے سے پاکستان کے اہم کردار کو بھی سراہا ۔ پاکستان اور چین نے سی پیک کی جلد تکمیل اور توانائی سمیت مختلف شعبوں میں ہونے والی سرگرمیوں پر بھی اطمینا ن کا اظہار کیا ۔ سی پیک کے تحت تعاون میں مزید اضافہ کیلئے دونوں ممالک نے اعلان کیا کہ پاکستان میں لوگوں کے معیار زندگی میں بہتری ، اقتصادی و معاشرتی ترقی کیلئے ایک ورکنگ گروپ بھی قائم کیا جائے گا۔ہمارے لئے مغرب کے برعکس چین کا ماڈل بنیادی اہمیت کا حامل ، ادارے مضبوط و بدعنوانی کا خاتمہ کرینگے، ریاستی اداروں کا استحکام اور غربت کا خاتمہ اولین ترجیح ہے، وائٹ کالر کرائم سے نمٹنا انتہائی اہم ہے اس حوالے سے چین کے تجربات سے استفادہ کرنا چاہیے ۔ بدعنوانی کے خاتمہ سے ہی اہداف کے حصول کو یقینی بنایا جاسکتا ہے، 1960کی دہائی میں پاکستان کی ترقی شاندار تھی لیکن بدعنوانی نے ترقی کی رفتار کو بری طرح متاثر کیا، حکمران طبقے اور ارباب اختیار کی بدعنوانی سے ملک متاثر ہوا ، اربوں روپے کی منی لانڈرنگ کے باعث قرضوں کے بوجھ میں اضافہ ہوا اور قومی ترقی متاثر ہوئی ۔پاکستان تحریک انصاف کی حکومت قومی اداروں کے استحکام کو اولین ترجیح دیتی ہے کیونکہ اداروں کے استحکام سے ہی بدعنوانی پر قابو پایا جاسکتا ہے ۔ معاشرے سے عدم مساوات کے خاتمہ سے غربت کا خاتمہ ہوگا۔ بڑے شہروں کے مسائل کے خاتمہ کیلئے بھی چین کے تجربات سے استفادہ کیا جائے ۔چائنا کے ساتھ طے ہونے والے معاہدوں پر عمل درآمد ہو گیا تو پاکستان میں خوشحالی اور ترقی کے دروازے کھل جائینگے اور پاکستانی قوم کو نہ صرف لوشیڈنگ بلکہ بے روزگاری سے بھی نجات مل جائیگی اور ملکی معیشت بھی مضبوط ہوگی۔چین نے اپنی مضبوط دوستی کا ثبوت دیتے ہوئے پاکستان کی نیوکلیئرسپلائرگروپ میں شمولیت کی حمایت کی ہے۔ یہ حمایت اس بات کو واضح کرتی ہے کہ چین بھی اس خطے میں طاقت کے حوالے سے تواز ن برقراررکھنے کا حامی ہے ۔چین نے دہشت گردی کے خاتمے کیلئے پاکستان کی کاوشوں کی حمایت کرتے ہوئے پاکستان کو مکمل تعاون کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے ۔چین کاکہناتھا کہ پاکستان نے دہشت گردی کیخلاف اقدامات کے ذریعے علاقائی اوربین الاقوامی سطح پرقیام امن کے لئے اہم خدمات سرانجام دی ہیں۔

شرپسندعناصرکے خلاف گھیراتنگ
ملک میں جہاں تک امن وامان کامسئلہ ہے اور اگر کوئی فساد فی الارض کاسبب بنتا ہے تو اس کے خلاف کارروائی ضروری ہے جو بھی شرپسند عناصر ہوں انہیں پابندسلاسل کرنا بھی وقت کی اہم ضرورت ہے ۔اصل بات دیکھنے کی یہ ہے کہ کسی بھی قسم کااحتجاج ہو اس میں جو عوامی املاک کو نقصان پہنچانے والے مذموم عناصرہوتے ہیں انہیں قرار واقعی سزاملنی چاہیے کیونکہ جس نے بھی مظاہرہ کیا وہ کبھی بھی نہیں کہتا کہ اس کے ورکرکسی قسم کے فساد کاسبب بنیں اورنہ ہی وہ اس بات کی ذمہ داری لیتا ہے کہ توڑ پھوڑ کرنے والوں کاتعلق اس کی جماعت سے تھا لہٰذا یہ بات روزروشن کی طر ح عیاں ہے کہ کچھ مخصوص قسم کے شرپسند عناصر ہوتے ہیں جو اپنے مذموم عزائم کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کیلئے جان بوجھ کرپرامن جلسے جلوسوں کاسہارا لیتے ہوئے انارکی پھیلاتے ہیں ایسے افراد کی سرکوبی انتہائی ضروری ہے جب ان کی بیخ کنی ہوگی تو پھرکوئی بھی ایسی حرکت کرنے کی جرات نہیں کرسکے گا۔کراچی میں مختلف تقریبات سے خطاب ، میڈیاسے بات چیت اور پینل ڈسکشن میں گفتگو کر تے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہاہے کہ احتساب پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوسکتا ،ہزاروں جھوٹے اکاؤنٹس سے غلط خبریں اور جعلی نوٹیفکیشن سامنے آتے ہیں اس کو قا نو نی دائرے میں لانا ایک چیلنج ہے۔کسی کو غلط فہمی نہیں ہونی چاہیے کہ ریاست اس رویے کو معاف کرے گی ۔احتجاج میں فوج، عدلیہ اور حکومت کو نشانہ بنایا گیا، ریاست اسے نظرانداز نہیں کرے گی۔ ریاست کی جانب سے ایسااقدام قابل تحسین ہے کم ازکم عوام کو یہ تو پتہ چل سکے گا کہ اصل شرپسندعناصر کون سے ہیں جو ملک کے حالات خراب کرنے کے درپے ہیں۔

پاک روس مشقیں فوجی تعلقات مضبوط بنانے کا بہترین ذریعہ ہیں، آرمی چیف

راولپنڈی: آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا ہے کہ پاک روس مشقیں دونوں ممالک کے درمیان فوجی تعلقات مضبوط بنانے کا بہترین فورم ہیں۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے قومی انسداد دہشت گردی سینٹر پبی کا دورہ کیا۔ آرمی چیف نے پاک روس مشترکہ مشقوں کا معائنہ کیا اور شریک دستوں کے عزم ، مہارت اور پیشہ ورانہ معیار کی تعریف کی۔

آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ نے دورے کے دوران کہا کہ پاک روس مشقیں فوجی تعلقات کو مضبوط بنانے کا بہترین فورم ہیں۔

انٹربینک اور اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قدر میں اتار چڑھاؤ

کراچی: انٹربینک اور اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قدر میں اتار چڑھاؤ دیکھا گیا۔

کاروباری ہفتے کے پہلے روز انٹربینک میں ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں استحکام نظر آیا اور کاروبار کے دوران ڈالر کم سے کم 9 پیسے سستا ہوکر 132 روپے 45 پیسے پر فروخت ہوا۔

جب کہ اوپن مارکیٹ میں ڈالر 60 پیسے مہنگا ہوا ور 132 روپے میں فروخت ہوا۔

کاروبار کے اختتام پر ڈالر کی قدر میں 7پیسے کمی واقع ہوئی اور ڈالر 132 روپے 47 پیسے پر بند ہوا جب کہ اوپن مارکیٹ میں ڈالر 60 پیسے مہنگا ہوا اور فروخت 132 روپے رہی۔

لوگوں کی رائے کوکارکردگی سے غلط ثابت کیا، محمد حفیظ

آل راؤنڈرمحمد حفیظ کا کہنا ہے لوگوں کی رائے کو کارکردگی سے غلط ثابت کیا، جو رویہ اختیار کیا جا رہا تھا وہ قابل قبول نہیں تھا۔

پاکستان کی فتوحات میں اہم کردار ادا کرنے پر خوش ہوں،فارم کے ساتھ اعتماد کا بحال ہونا بھی ضروری ہے،کئی معاملات کیریئر پر اثر انداز ہوتے ہیں،کم بیک کو آخری موقع سمجھ کر سخت محنت کی اور صلہ پایا،اس طرح کی صورتحال کا ماضی میں بھی کئی بار سامنا کرچکا ہوں،ہمیشہ اپنی کارکردگی سے رائے تبدیل کرنے کی کوشش کرتا ہوں،اس بار بھی ایسا ہی کیا، میری ترجیح پاکستان کیلیے کھیلنا تھی اور رہے گی۔

دلبرداشتہ ہوکر ریٹائرمنٹ کی باتیں کرنے کے سوال پر انھوں نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ میرے ساتھ جو رویہ رکھا گیا، قابل قبول نہیں تھا، مشکل وقت میں فیملی اور دوستوں نے ہمت بندھائی،خود کو سنبھالا اورمتحرک کیا، محنت کرتا رہا، اللہ تعالیٰ نے میرے لیے آسانیاں پیدا کیں،کارکردگی سے رائے تبدیل کرنے کا عزم کیا اور آج ملک کیلیے پرفارم کررہا ہوں، اب ماضی کی باتوں کو بھول کر مستقبل کے بارے میں سوچنے اور اپنی اہلیت منوانے کا وقت ہے۔ شعیب ملک کی طرح ریٹائرمنٹ پلان کے سوال پر محمد حفیظ نے کہا کہ یہ موقع ہر کھلاڑی کی زندگی میں آتا ہے، چاہتا ہوں کہ عزت کیساتھ جاؤں،جب تک لڑنے کی طاقت اور قومی ٹیم کے معیار پر پورا اترنے کی ہمت ہو ملک کیلیے کھیلنا چاہتا ہوں،جگہ لینے کیلیے کوئی نوجوان کرکٹر ہو تو چلا جاؤں گا۔

اگر میری جگہ ہے تو محنت اور فٹنس کیساتھ اس کو برقرار رکھنے کی کوشش کروں گا،تینوں طرز کی کرکٹ کا دباؤمحسوس کرنے کے سوال پر آل راؤنڈر نے کہا کہ اگر میں کسی بھی فارمیٹ کیلیے موزوں ہوں تو کھیلوں گا،سوچ رہا ہوں کہ اپنے اوپر دباؤ تھوڑا کم کروں،اس کیلیے مناسب وقت کا انتظارکررہا ہوں، کسی بھی فارمیٹ میں اپنے سے بہتر متبادل نوجوان کرکٹر نظر آئے تو فیصلہ کرنے میں آسانی اور خوشی محسوس کروں گا۔ ایک سوال پر انھوں نے کہا کہ کپتان سرفرازاحمد مجھ سے میدان میں مشورے کرتے اور نوجوانوں سے بات کرنے کی اجازت بھی دیتے ہیں،ضروری ہے کہ اپنا تجربہ دوسروں تک منتقل کیا جائے،نوجوان کرکٹرز سے بات کرتے ہوئے ان کی تکنیک یا مہارت سے چھیڑ چھاڑ نہیں کرتا بلکہ صرف صورتحال کے مطابق حوصلہ جوان رکھنے کی کوشش کرتا ہوں۔

ایکشن میں تبدیلی،پہلے جیسا بولر نہیں رہا

محمد حفیظ نے کہا کہ ایکشن کی اصلاح کے بعد بولنگ مہارت میں کمی آگئی، پٹھوں کونئے زاویے کا عادی بنانا مشکل کام ہے، کئی چیزوں میں محدود ہوگیا، پہلے جیسا بولرنہیں ہوں، پابندی ختم کروانے کیلیے 8 ماہ سخت محنت کی،اب بھی اپنے بولنگ کوچ اور بائیو مکینک ایکسپرٹ کیساتھ رابطے میں رہتا ہوں،خود بھی اپنے ایکشن کا جائزہ لیتا رہتا ہوں،چاہتا ہوں کہ بطور آل رائونڈر کھیلوں اور جب بھی ٹیم کو ضرورت ہو بولنگ کروں، ظاہر سی بات ہے کہ مسلز کو نئے ایکشن کا عادی بنانے کے بعد پہلے جیسا بولر نہیں،کئی چیزوں میں محدود ہونا پڑا،اس کے باوجود خود کو ذہنی طور پر تیار کیا، محنت کی،تجربہ بھی استعمال کررہا ہوں لیکن ظاہر ہے کہ اسکلز میں کمی آئی ہے۔

تجربے سے دیگر کو مستفید کرتاہوں اسی لیے ساتھی پروفیسرکہتے ہیں

پروفیسر پکارے جانے کے سوال پر محمد حفیظ نے کہا کہ کرکٹ کی معلومات کوبہتر سمجھتا اور دوسروں کو بتاتا رہتا ہوں، بہتری کیلیے اپنا تجزیہ بھی کرتا رہتا ہوں کہ کس طرح کے حالات میں کیا کرنا بہتر ہوگا، میچ کی صورتحال کو بھی اسی انداز میں دیکھتے ہوئے اپنی سوچ سے ساتھی کھلاڑیوں کو آگاہ کرتا ہوں، شاید اسی لیے پروفیسر کہتے ہیں۔

ٹیسٹ کرکٹ میں تفریحی عنصرشامل کیا جائے، تجاویز ذہن میں ہیں

محمد حفیظ نے ٹیسٹ کرکٹ کو تبدیل کرتے ہوئے اس میں تفریحی عنصر شامل کرنے کی تجویز پیش کردی،ان کا کہنا ہے کہ ٹی ٹوئنٹی میچز کو شائقین پسند کرتے اوراسپانسرز بھی اسی کی جانب راغب ہوتے ہیں، پرفارمنس پر ملنے والی پذیرائی کرکٹرز کا بھی حوصلہ بڑھاتی ہے،ایک، دوملکوں کے سوا شائقین ٹیسٹ کرکٹ دیکھنے اسٹیڈیم میں نہیں آتے جبکہ ٹی ٹوئنٹی میں میدان بھر جاتے ہیں،میرے خیال میں ٹیسٹ کرکٹ کو بدلنا اور اس میں تفریحی عنصر لانا چاہیے،اس حوالے سے تجاویز کے سوال پر انھوں نے کہا بہت سی چیزیں ذہن میں ہیں، وقت آنے پر بتائوں گا۔

پاک بھارت مقابلے دنیائے کرکٹ کیلیے بھی سودمند ہیں، آل راؤنڈر

محمد حفیظ نے پاک بھارت مقابلوں کو دنیائے کرکٹ کے لیے بھی سودمند قرار دیتے ہوئے کہا کہ کھیل کو سیاست سے الگ رکھنا چاہیے، جو مزا روایتی حریفوں کا میچ کھیلنے اور دیکھنے میں آتا ہے، وہ کسی اور مقابلے کا خاصا نہیں، ہم بھارت کھیلنے جائیں، وہ سیریز کے لیے پاکستان آئیں تونہ صرف دونوں ملکوں بلکہ دنیائے کرکٹ کے بھی مفاد میں ہے۔

بیٹا ہی میرا کوچ اور ناقد ہے

محمد حفیظ نے بیٹے کو ہی اپنا کوچ قرار دیدیا، آل رائونڈر نے کہا کہ کھیلوں کے معاملے میں اپنے بچوں کی بھرپور حوصلہ افزائی کرتا ہوں، میرا بیٹا تمام کرکٹرز کے بارے میں جانتا ہے، وہی میرا کوچ اور سب سے بڑا ناقد ہے، آؤٹ ہونے کے بعد جائوں تو پوچھتا ہے کہ بابا کس طرح کی شاٹ کھیلی ہے آپ نے۔اس کی باتیں سن کر کبھی حوصلہ شکنی نہیں کرتا، بچوں کو جسمانی اور ذہنی طور پر مضبوط بنانے کی بھرپور کوشش کرنا چاہیے۔

افغانستان کا غیر دوستانہ رویہ؟

یہ ایک حقیقت ہے کہ افغانستان قیام پاکستان کے بعد روز اول سے ہمارا پڑوسی ملک ہونے کے باوجود غیر دوستانہ رویہ اختیار کئے ہوئے ہے۔ اسے یو این او میں پاکستان کی ممبر شپ کے خلاف واحد ووٹ دینے کا بھی شرف حاصل ہے۔ اس کے برعکس افغانستان پر جب بھی کوئی مشکل وقت آیا ہے پاکستان کی حکومت اور عوام نے دل کھول کر افغانستان کی مدد کی ہے۔ سوویت یونین کی طرف سے جب افغانستان پر فوج کشی کی گئی تو چالیس پینتالیس لاکھ سے زائد افغان مہاجرین کی صورت میں پاکستان کے مہمان بن گئے اور اہل پاکستان نے ہر طرح سے ان کی مہمانداری اور دلجوئی کی۔ ان میں سے آج بھی پاکستان کے مختلف شہروں میں کوئی تیس لاکھ افغان مقیم ہیں مگر اس کے بدلے میں پاکستان کے عوام کو کیا ملا؟ کلاشنکوف کلچر اور منشیات۔پاکستان اگر سوویت افواج کے خلاف کھڑا نہ ہوتا تو آج افغانستان سوویت روس کی ایک ذیلی اور کٹھ پتلی ریاست بن چکا ہوتا اور اس ملک کا اسلامی تشخص، اس کی ثقافتی روایات اور اس کا تاریخی ورثہ سب کچھ تہس نہس ہو چکا ہوتا۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان نے سوویت جارحیت کے فوری ردعمل میں اپنے وسائل سے مزاحمت کو منظم کیا۔ بعد میں امریکہ اور ساری دنیا سوویت جارحیت کو شکست دینے کیلئے ضرور سرگرم عمل ہوگئی لیکن ان کو بھی زمینی راستہ اور افرادی قوت پاکستان ہی نے فراہم کی۔ پاکستان کے اس عظیم الشان کردار کی وجہ سے ہی افغانستان سوویت یونین کے چنگل میں آنے سے بچ گیا لیکن خود پاکستان نے ان گنت مصائب مول لے لئے۔ افغان حکومت کی طرف سے پاکستان پر بے بنیاد الزامات کوئی نئی بات نہیں۔ افغان اس قسم کے الزامات عائد کرتے رہتے ہیں اور امن و امان کو درپیش چیلنجوں سے نمٹنے میں اپنی ناکامی کی خفت مٹانے کیلئے پاکستان کو مورد الزام ٹھہرا کر گویا خود کو بری الزمہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں حالانکہ اپنے ملک میں امن و سلامتی کو یقینی بنانا کابل حکومت کے فرائض میں شامل ہے جس سے انحراف نہیں کیا جا سکتا۔ اپنی ناکامیوں کو چھپانے کیلئے دیگر ممالک پر کیچڑ اچھالنا خود کو اور اپنی قوم کو فریب دینے کے مترادف ہے۔ افغان وزیر خارجہ اور کابینہ کے متعدد ممبرز بار بار پاکستان کے خلاف بیان بازی کرتے ہیں۔ خود صدر اشرف غنی پاکستان کے خلاف کئی جارحانہ نوعیت کے بیانات اور دھمکیاں دے چکے ہیں جبکہ حکومت پاکستان کی طرف سے جواب میں افغان حکومت کو کئی بار مالی امداد بھی دی گئی ہے۔پاکستان برادر اسلامی ملک ہونے کے ناطے افغان حکومت کی مشکلات میں اضافہ نہیں کرنا چاہتا مگر افغان حکومت جو کہ امریکی و اتحادی افواج کیلئے کٹھ پتلی سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتی پاکستان کی قومی سلامتی اور داخلی استحکام کیلئے شدید ترین مسائل پیدا کررہی ہے۔ جس میں سب سے زیادہ اہم افغانستان میں بھارتی سفارتخانہ اور متعدد قونصل خانے ہیں جہاں بلوچ نوجوانوں کو دہشت گردی اور تخریب کاری کی تربیت دی گئی انہیں روپیہ اور اسلحہ دیکر پاکستان بھیجا گیا۔ اس لئے صدر مشرف بار ہا کہہ چکے یں کہ ایسے ٹھوس ثبوت حکومت پاکستان کے موجود ہیں اور افغانستان کی راہ سے بلوچستان آنے والے بھارتی جاسوس اور سفارتخانے کے ملازمین بھی گرفتار کئے گئے ہیں۔ بھارت کو یہ علم ہے کہ سینٹرل ایشیا کے وسائل تک رسائی افغانستان کے زمینی راستے کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ ساتھ ہی بھارتی تعمیراتی کمپنیوں کیلئے افغانستان بہترین مواقع فراہم کرتا ہے۔ ماضی میں بھارت کی ہمدردیاں واضح طور پر شمالی اتحاد سے وابستہ تھیں اور یہ وہ عناصر تھے جنہیں طالبان کا نام تک سننا گوارا نہ تھا۔ اب بھارت کی سرتوڑ کوشش یہ ہے کہ وہ افغانستان میں اپنا اثرو رسوخ مزید بڑھائے۔ اسی خیال کے پیش نظر وہ حامد کرزئی کے ساتھ بڑھ چڑھ کر تعاون کر رہا ہے۔ یہ اطلاعات بھی ملی ہیں کہ بھارت کی وزارت دفاع افغانستان میں کچھ تعمیرات کرنا چاہتی ہے ان میں سڑکیں اور عمارات شامل ہیں۔ ان تعمیرات کے لئے سازو سامان بھارت سے آتا ہے جس کی آڑ میں بھارت سے تباہ کن مواد بھی یہ کہہ کر لایاجاتا ہے کہ یہ سڑکوں کی تعمیرات کیلئے پہاڑیوں کو توڑنے کیلئے استعمال کیا جائے گا لیکن یہ مواد افغانستان اور پاکستان میں دہشت گردی میں استعمال کیا جاتا ہے۔ افغانستان میں یہ تباہ کن مواد مختلف اہم تنصیبات کو تباہ کے کام آتا ہے اور بعد میں اس واقعے پر پاکستان کا نام لگا دیا جاتا ہے۔ اس طرح افغانی عوام کو یہ باور کرایا جاتا ہے کہ پاکستان ان کے ملک میں دہشت گردی کر رہا ہے۔ بلوچستان میں حالیہ فوجی آپریشن کے نتیجہ میں بہت بھاری تعداد میں اسلحہ برآمدکیا گیا ہے جس میں راکٹ اورمیزائل بھی شامل ہیں۔

وزیر اعظم عمران خان کے دورہ چین سے حکومت کو کچھ نہیں ملا، شہباز شریف

قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم عمران کے دورہ چین سے حکومت کو کوئی فائدہ نہیں ہوا۔

شہباز شریف جو قومی احتساب ادارے (نیب) کی کسٹڈی میں ہیں، نے پارلیمنٹ ہاؤس میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کی صدارت کی۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر بیان جاری کرتے ہوئے بتایا کہ شہباز شریف کو اجلاس کے دوران گزشتہ دنوں میں امن و امان کی صورتحال بحال رکھنے کے لیے کئے گئے اقدامات کے حوالے سے بریفنگ دی۔

شہباز شریف کا کہنا تھا کہ اپوزیشن نے دھرنوں میں مثبت کردار ادا کیا۔

مسلم لیگ (ن) کے صدر کا کہنا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت نے وزیر اعظم عمران خان کے دورہ چین سے کچھ بھی حاصل نہیں کیا۔

ن لیگ کی ترجمان مریم اورنگزیب کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا کہ اجلاس میں ملک کی تمام سیاسی، معاشی اور داخلی سیکیورٹی کے امور اور مستقبل کے لیے لائحہ عمل تیار کرنے پر بات کی گئی۔

’معاشی نظریات کا بحران‘

اجلاس کے شرکاء نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملک سنگین معاشی گرداب میں ہے جس سے نکلنے کی کوئی صورت دکھائی نہیں دے رہی کیونکہ حکومت کے پاس کوئی معاشی وژن نہیں اور نہ ہی کوئی حکمت عملی موجود ہے۔

مسلم لیگ (ن) کا کہنا تھا کہ ’یہ صورتحال ملک و قوم کے مفاد میں نہیں اور اس کے قومی سلامتی پر بھی سنگین اثرات مرتب ہوسکتے ہیں‘۔

انہوں نے کہا کہ خراب معاشی صورتحال اور گیس، بجلی اور دیگر اشیاء کے بعد پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے معاشی، زرعی، تجارتی، صنعتی سرگرمیوں میں بتدریج کمی آرہی ہے، مہنگائی کے ساتھ ساتھ بیروزگاری میں اضافے نے صورتحال کو بدترین بنادیا ہے اور یہ تمام عوامل مجموعی قومی پیداوار کو بری طرح سے متاثر کریں گے۔

پارلیمنٹ ہاؤس میں شہباز شریف کی آمد

قومی اسمبلی کے اجلاس کے لیے نیب کی ٹیم نے شہباز شریف کو پارلیمنٹ ہاؤس لے کر آئی جہاں انہوں نے سابق اسپیکر اسمبلی ایاز صادق، مسلم لیگ (ن) کے صدر شاہ محمد شاہ اور رکن قومی اسمبلی کھئل داس سے ملاقات کی اور ملک بھر میں پارٹی کی تنظیم نو سے متعلق امور پر بات چیت کی۔

مسلم لیگ (ن) کے ذرائع کا کہنا تھا کہ شہباز شریف سے ان کے وکیل امجد پرویز نے بھی اپنی ٹیم کے ہمراہ ملاقات کی۔

ذرائع کے مطابق ملاقات میں رہنماؤں میں نیب کیسز کی صورتحال اور آئندہ کی حکمت عملی پر مشاورت کی گئی۔

واضح رہے کہ شہباز شریف کا 7 تاریخ کو جسمانی ریمانڈ ختم ہورہا ہے۔

Google Analytics Alternative