Home » 2018 » November » 08

Daily Archives: November 8, 2018

چین پاکستان کی ہر طرح سے مدد کرے گا، وزیراعظم

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ چین پاکستان کی ہر طرح سے مدد کرے گا۔

وزیراعظم عمران خان سے اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر، وزیر دفاع پرویز خٹک اور دیگر اراکین قومی اسمبلی نے ملاقات کی۔ خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والے ارکان قومی اسمبلی بھی شریک تھے۔

وزیراعظم اور شرکا کے درمیان خیبر پختونخوا کے ترقیاتی کاموں سے متعلق بات چیت ہوئی اور بلدیاتی نظام سے متعلق وزیر اعظم کو آگاہ کیا گیا۔ وزیر اعظم نے ارکان پارلیمنٹ سے خیبر پختونخوا میں گورننس سے متعلق بھی دریافت کیا۔ عمران خان نے ارکان قومی اسمبلی کو گزشتہ حکومتوں کی ناقص پالیسیاں ایوان میں زیر بحث لانے کی ہدایت کی۔

وزیر اعظم نے دورہ چین سے متعلق بھی آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ چین پاکستان کی ہر طرح سے مدد کرے گا اور شارٹ ٹرم اور لانگ ٹرم معاشی پیکجز دے گا، دورہ چین میں رشکئی میں صنعتی زون کو جلد آپریشنل کرنے کا فیصلہ بھی ہوا ہے۔

علاوہ ازیں وزیر اعظم عمران خان سے قبائلی علاقہ جات کے دو ارکان قومی اسمبلی محسن داوڑ اور علی وزیر نے بھی ملاقات کی جس میں فاٹا کے مسائل پر بات کی گئی۔ وزیر اعظم نے کہا کہ فاٹا میں گڈ گورننس کو یقینی بنائیں گے، قبائلی علاقوں میں ترقیاتی کام حکومت کی اولین ترجیح ہے، فاٹا کے رہائشیوں کو تمام حقوق فراہم کیے جائیں گے، جبکہ نوجوانوں کو ان کی صلاحیتیں بروئے کار لانے کے بھرپور مواقع فراہم کیے جائیں گے۔

وزیراعظم کی زیرصدارت قومی سلامتی کمیٹی کااجلاس اوراہم ملاقاتیں

adaria

وزیراعظم پاکستان نے حالیہ چین کے کامیاب دورے کی واپسی پرقومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں درپیش حالات کا جائزہ لیا، وزیراعظم نے اپنے دورہ چین سے متعلق آگاہ کیا، سلامتی کمیٹی نے واضح کیا کہ پاکستان کی ترقی ،خوشحالی ،امن ،استحکام اور قانون کی بالادستی سب سے بالاتر ہے ۔وزیراعظم عمران خان کے زیر صدارت قومی سلامتی کمیٹی کی جانب سے سے جاری کردہ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ امن و استحکام اور قانون کی بالادستی سے ہی ملک ترقی کرسکتاہے ۔ قومی سلامتی کمیٹی کی اجلاس میں مجموعی ملکی صورتحال پر غور کیا گیا ، وزیراعظم نے اجلاس کے شرکا کو حالیہ دورہ چین سے متعلق بھی بتایا۔ اجلاس میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور وزیر دفاع پرویز خٹک نے بھی شرکت کی۔قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل زبیر محمود حیات اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سمیت دیگر عسکری حکام بھی شریک ہوئے۔ وزیراعظم عمران خان سے آرمی چیف نے ملاقات کی جس میں دورہ چین پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات میں ملک کی سیکیورٹی اور مذہبی جماعت کے احتجاج کے بعد کی صورتحال سمیت دیگر اہم معاملات پر بھی غور کیا گیا۔دوسری جانب ترجمان ایوان صدر کے مطابق صدر مملکت ڈاکٹرعارف علوی سے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے ملاقات کی جس میں قومی سلامتی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔اس موقع پر صدرمملکت نے دہشت گردی اور انتہاپسندی کے خلاف افواج کی قربانیوں کوسراہتے ہوئے کہا کہ مسلح افواج نے انتہا پسندی و دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بڑی قربانیاں دی ہیں۔ملکی حالات کوصحیح سمت میں گامزن کرنے کے لئے سیاسی اور عسکری قیادت ایک صفحے پرہیں اور حکومت نے قطعی طورپراس بات کو واضح کردیا ہے کہ وہ انارکی کو کسی صورت برداشت نہیں کرے گی۔من حیث القوم ہم سب کافرض ہے کہ اس ملک کی آبیاری ہمارے بزرگوں نے اپنا خون دیکر کی ہے تو اگر کبھی بھی کوئی ایسے ناگفتہ بہ حالات درپیش ہوجائیں تو کسی صورت بھی ملکی اور قومی املاک کو نقصان پہنچانا کسی کابھی حق نہیں اس کو ہم نے سنبھال کررکھنا ہے اس کی ترقی اور خوشحالی کیلئے کام کرنا ہے ۔ یہاں ہم حکومت کو ایک مشورہ ضرور دیناچاہیں گے کہ آئے دن ہمارے ملک میں کوئی نہ کوئی ایک ایسا ایشو سامنے آن دھمکتا ہے جس کو بنیاد بناکر مختلف سیاسی ومذہبی قوتیں نہ صرف اسلام آباد کی جانب رخ کرتی ہیں بلکہ اب تو ملک کے دیگر شہروں کے اہم چوراہوں پرہنگامے اور دھرنے دیکر پورے نظام کو مفلوج کردیاجاتاہے ۔اس دھرنا سیاست کی حوصلہ شکنی کی جائے اتنی ہی کم ہے کیونکہ کوئی بھی دھرنا قومی خزانے کواربوں روپے سے کم کانقصان نہیں دیکرجاتا پھر اس کے علاوہ جو الزام تراشیاں اور جس نوعیت کی زبان استعمال کی جاتی ہے اسے تو سن کر صرف انسان الاماں الاماں ہی کرسکتاہے ۔ایسے میں سب سے پہلے وفاقی دارالحکومت یا اس کے قرب وجوار میں لندن کی طرح کا ایک ہائیڈپارک بنایاجائے جہاں پرمظاہرہ کرنے والوں کو ان کے رہنما کم ازکم اتناسبق ضرور دیکر بھیجیں کہ کسی بھی قسم کی توڑ پھوڑ نہیں کرنی جیسا کہ بیرونی دنیا میں احتجاج کیاجاتا ہے کہ لوگ انتہائی اطمینان وسکون سے پلے کارڈز لیکرکھڑے ہوتے ہیں اور ان کااحتجاج ریکارڈ ہوجاتاہے ۔دوسری اہم بات یہ ہے کہ اگر پُرامن احتجاج ہوتا ہے توپھر حکومت کو بھی چاہیے کہ وہ اسے خاطرمیں لائے اور جس حوالے سے مطالبات کئے جارہے ہیں وہ درست ہیں تو ان کو تسلیم بھی کیاجائے۔ اسی طرح بڑے بڑے شہروں میں بھی اسی قسم کے تجربے کے تحت کام کیاجائے کیونکہ جب بھی کوئی ہنگامے پھوٹ پڑتے ہیں تو عوام جس کرب سے گزرتی ہے اس کاکوئی پرسان حال نہیں ہوتا۔ بچے سکول نہیں جاسکتے، کاروبار تباہ ہوجاتے ہیں، بیمارہسپتال جانے سے پہلے خالق حقیقی سے جاملتے ہیں ،سرکاری دفاتربند ہوجاتے ہیں غرضکہ تمام نظام زندگی مفلوج ہوکر رہ جاتاہے۔ اب دیکھنے اور سمجھنے کی بات یہ ہے کہ جو بھی نقصان ہوتا ہے اس کاذمہ دارکون ہے اس بات کاتعین کرنابھی بہت ضروری ہے تب ہی یہ مسائل حل ہوسکیں گے اس سلسلے میں وزیراعظم کی زیرصدارت ہونیوالی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں جن حوالہ جات سے تبادلہ خیال کیاگیا ہے وہ انتہائی اہم ہے اور ان پربھی عمل کرکے بھنورمیں پھنسے حالات کو درست کیاجاسکتاہے۔

وزیرخزانہ اسدعمرکا خوش آئنددعویٰ
پاکستان اب معاشی اعتبار سے مالی بحران سے نکلتا ہوا نظرآرہاہے، وزیراعظم عمران خان کی کاوشیں بارآورثابت ہورہی ہیں ۔اس سلسلے میں وزیرخزانہ اسد عمر اوروزیرخارجہ شاہ محمودقریشی نے مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ادائیگیوں کے توازن کا اب کوئی بحران نہیں، وہ ختم ہو چکا،12ارب ڈالر کا خلاتھاسعودی عرب نے 6 ارب ڈالر فراہم کیے اور باقی کچھ رقم چین سے ملی ہے ،ہم نے نہ صرف پرانے معاہدوں پر نظرثانی کی ہے بلکہ نئے معاہدوں پر بھی دستخط کیے گئے ہیں سی پیک سے متعلق غلط فہمیوں کو دور کرنے کابھی موقع ملا ہے ہماری توجہ طویل المیعاد استحکام پر مرکوز ہے مستقل توازن کیلئے برآمدات میں اضافہ ضروری ہے ہر دورے پر صرف یہ سوال نہیں ہونا چاہیے کہ ملا کیا ہے؟ دوروں میں کچھ اور بھی حاصل کیا جاتا ہے دورے سے پاک چین اسٹرٹیجک تعلقات کو مزید مستحکم اور اقتصادی پارٹنرشپ میں تبدیل کرنے کا موقع ملا ہے۔ وزیراعظم کادورہ چین انتہائی مفید رہا چینی قیادت کے ساتھ ملاقاتوں کے دوران غربت میں کمی، کرپشن کی روک تھام، پیداواری، زرعی اور برآمدی قوت میں اضافہ، پاکستان میں صنعتوں اور سرمایہ کاری کا فروغ، جوائنٹ وینچرز اور روزگار کے مواقع میں اضافہ سے متعلق امور پر تفصیلی بات چیت ہوئی جبکہ بھارت کے ساتھ بامعنی مذاکرات، افغانستان میں امن و استحکام، انسداد دہشت گردی، سیکورٹی، دفاع اور کثیر الجہتی فورمز پرتعاون کے حوالے سے بھی بات چیت ہوئی۔ چین کیساتھ ایف ٹی اے کے دوسرے مرحلے سے متعلق بات چیت کو اگلے سال اپریل تک حتمی شکل دیدی جائے گی۔ سعودی عرب کی جانب سے فوری امدادی پیکیج اور اب چین کی جانب سے امداد سے ادائیگیوں کی توازن کا اب کوئی بحران نہیں یہ مستقل حل نہیں ملکی معیشت کو مستحکم بنیادوں پر استوار کرنے کیلئے پیداواری قوت اور برآمدات میں اضافے کیلئے کوششیں کر رہے ہیں۔اب حکومت کو چاہیے کہ وہ مزید دیگرممالک جن سے رابطہ کرناتھاان کی جانب تیزی سے کام کرے تاکہ آئی ایم ایف کے پاس جانے کی ضرورت ہی نہ پڑے کیونکہ حکومت کو جتنی رقم درکار تھی اس میں سے تقریباً75سے80فیصد رقوم کابندوبست ہوچکا ہے ۔اب جو باقی رہ گئی ہے اس جانب توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔نیزقطر سے بھی جوایک لاکھ ملازمتوں کی بات چلی تھی اس کو بھی عملی جامہ پہناناچاہیے۔

حکومت کے پاس خارجہ یا معاشی نہیں صرف بھیک مانگنے کی پالیسی ہے، بلاول

 اسلام آباد: پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ حکومت کے پاس نہ توخارجہ پالیسی ہے اور نہ ہی کوئی معاشی پالیسی، ان کے پاس صرف بھیک مانگنے کی پالیسی ہے۔

پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ بد قسمتی سے ایوان میں کبھی قومی معیشت پر بات نہیں ہوئی، گیس اور تیل کی قیمتیں بڑھا کرحکومت نے عوام پر مہنگائی کا بوجھ ڈال دیا ہے، ایسا لگ رہا ہے کہ آئندہ آنے والے دنوں میں مہنگائی کا مزید طوفان آئے گا۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ درحقیقت وزیراعظم کہتے کچھ ہیں اور کرتے کچھ اور ہیں، ہم تحریک انصاف کی انتخابی منشور سے واقف ہیں، عمران خان نے کہا تھا کہ ہم بھیک نہیں مانگیں گے، وہ کہتے تھے کہ بھیک مانگنے سے خودکشی کرنا بہتر ہے لیکن ابھی تک ان کی حکومت نے بھیک مانگنے کے علاوہ کوئی قابل ذکر کام نہیں کیا۔

پیپلز پارٹی کے رہنما کا کہنا تھا کہ حکومت کے پاس نہ توخارجہ پالیسی ہے اور نہ ہی کوئی معاشی پالیسی، ان کے پاس صرف بھیک مانگنے کی پالیسی ہے، حکومت کے 100 روزہ پلان میں صرف 10 روز باقی ہیں لیکن حکومت کی جانب سے کیا گیا ایک وعدہ بھی تاحال پورا نہیں ہوسکا۔

چیئرمین پیپلز پارٹی کا کہنا تھا کہ حکومت کے پاس خارجہ اور معاشی پالیسی پر کوئی جواب نہیں، وزیراعظم کےدورہ چین پرتحفظات کو دور نہیں کیا گیا، سعودی عرب نے کن شرائط پر بیل آوٴٹ پیکج دیا، حکومت کے پاس کوئی جواب نہیں ہے، ریاست کی رٹ قائم کرنے پر بھی یوٹرن لیے جارہے ہیں، وزیر اعظم اپنی تقریر میں کچھ کہتے ہیں اور ان کے وزراء ملاقاتوں میں کوئی اور موٴقف اپناتے ہیں، پاکستان اور چین کے مابین مقامی کرنسی میں تجارت کی پالیسی آصف زرداری کی کہی ہوئی بات تھی تاہم حکومت اگر سابق صدر کی کہی ہوئی بات کوہی آگے بڑھاتی ہے تو اچھی بات ہے۔

پاک چین تعلقات نہ صرف اچھے بلکہ مزید بہتری کی جانب گامزن ہیں، وزیرخارجہ

اسلام آباد: وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ چین سے ہمارے تعلقات نہ صرف اچھے ہیں بلکہ مزید بہتری کی جانب گامزن ہیں۔

اسلام آباد میں وزیرخزانہ اسد عمر کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ اعتماد کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ وزیر اعظم عمران خان کا دورہ چین اچھا اور مثبت تھا، دورے کا مقصد عالمی برادری کو واضح پیغام دینا تھا کہ پاک چین تعلقات گہرے، دیرینہ اور باہمی اعتماد پر مبنی ہیں، چین سے تعلقات اچھے تھے اور ہمیشہ رہیں گے۔

وزیرخارجہ کا کہنا تھا کہ گزشتہ دنوں چین سے دوستی سے متعلق غلط تاثر دینے کی کوشش کی گئی، لیکن ہم واضح کردینا چاہتے ہیں کہ پاک چین تعلقات نہ صرف اچھے بلکہ مزید بہتری کی جانب گامزن ہیں، ہم نے چینی قیادت میں پہلے سے زیادہ گرم جوشی دیکھی۔

شاہ محمود قریشی نے بتایا کہ دورے میں 15 کے قریب معاہدے اور اہم یادداشتوں پردستخط کیے گئے، دورے سے پاک چین اسٹریٹجک تعلقات کو معاشی تعلقات میں بدلنے اور اقتصادی جہت کوفروغ دینے میں مدد ملی، اسٹریٹجک ڈائیلاگ کو وزرا خارجہ کی سطح پر لے جانے پر اتفاق ہوا، اور یہ بھی طے ہوا کہ دونوں اطراف سزا شدہ قیدیوں کو اپنے اپنے ملکوں میں سزا مکمل کرائی جائے گی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم نے چین سے معاشی استحکام لانے کے لیے کافی کچھ سیکھنا ہے، برآمدات دُگنا کرنے سے متعلق اقدامات کا جائزہ لیا جا رہا ہے امید ہے کہ ہم اپنی برآمدات دُگنا کرنے کی پوزیشن میں آجائیں گے، چین کے پاس غربت کے خاتمے کے لیے وسیع تجربہ ہے ہم غربت کے خاتمے سےمتعلق چین کے تجربات سے فائدہ اٹھاسکتے ہیں، غربت کے خاتمے کے لیے کیا گیا معاہدہ بھی اہمیت کا حامل ہے۔

بی جے پی ۔ہندوتوا کے نعرے لگانا چھوڑ دے

’انصاف‘ کے ساتھ دنیا میںجہاں کہیں بے ا نصافی کاغیرانسانی رویہ جب بھی برتا گیا یا آئندہ کبھی برتا جائے گا ایک اٹل اورطے شدہ اصول ہرکسی کے پیش نظررہنا چاہیئے بے انصافی کے جبر و قہر کے ایسے گھٹن زدہ معاشرے میں انصاف کبھی مٹا نہیں کبھی مغلوب ہوا نہیں‘ بلکہ اورزیادہ سچائی کے ساتھ اپنی مظلومیت کی طاقت کومجتمع کر کے ظالم ‘سفاک طاقتور اورباطل قوتوں کی بہیمانہ روش کو ’انصاف‘ نے للکاراضرور ہے ،مطلب یہ کہ’ بے انصافی’کبھی مہربہ لب نہیں رہی، اگر کبھی’خاموش رہی بھی ہے تواْس کے سا تھ روا رکھی جانے والی ہر بے انصافیوں کی روح فرسا روداد ہرزما نے تک پہنچی ہے، یہ فطرت کا قانون ہے یہی ہیں حقائق کہ جب تک انصاف کے ساتھ’حقیقی اورقرارواقعی انصاف‘ہونہیں گیا ’انصاف‘ مسلسل احتجاج میں رہا وقت نے ثابت کردیاکہ’انصاف کے ساتھ ہونے والی بے انصافیوں کی مضطربانہ’خاموشی’ کی آہیں تاریخ نے انصاف کے دشمنوں کے چہروں کوبے نقاب کرنے کیلئے رقم کیئے تاکہ ہرزمانے کے لوگوں تک اصل سچائی پہنچ سکے’یادر ہے کہ انصاف ایک بڑی نمایاں حقیقی سچائی ہے جواپنے موجود ہونے کا ایک حوالہ بن کر ازل سے اب تک ہمیشہ سے کائنات کی تاریخ کے صفحات میں زندہ وتابندہ ہے، آ ج تک’ انصاف‘ کوکوئی شکست نہیں دے سکا، دنیا میں ہمیشہ انصاف کا ہی بول بالاہوا ہے جن معاشروں میں انصاف اورحق کی شنوائی وقتی طورپرریاستی طاقت کے زورپردبادی گئی ہو کئی اقسام کی اخلاقی’سیاسی’سماجی اورثقافتی بداعمالیوں میں گھرے ایسے معاشرے تاریخ میں ہمیشہ بیمارمعاشرے‘ کہلائے گئے جہاں کمزورمزید کمزور ہو جاتے ہیں’طاقت وروں کا ظلم بڑھتا جاتا ہے ا نسانوں کے بنیادی حقوق اْن جیسے عام انسان خود سلب کرلیتے ہیں، انسانوں میں جب سے ‘میں’ آئی ہے انسان بڑامتکبر ہوگیا ہے زیادہ تمحیدی گفتگو سے پہلوبچاتے ہوئے راقم کا اشارہ وطن عزیز پاکستان کے پڑوسی ملک بھارت کی جانب اس وجوہ سے ہوا ہے کہ بھارتی پریس نے اپنی نمایاں خبروں کا رخ اچانک پاکستانی معاشر ے کی جانب کرلیااورپاکستانی سماج کونشانہ بناتے ہوئے نسلی وفرقہ ورانہ منافرت سے تشبیہ دی جانے لگی ان بھارتیوں کا کاواویلا ہے کہ پاکستانی سماج اقلیتوں کوبرداشت نہیں کرتا؟بھارتی پریس کہتا ہے کہ پا کستان میں خواتین کے حقوق امتیازی سلوک سے دوچارہیں؟اس پر بحیثیت پاکستانی ہم بات کرنا چاہیں گے حالیہ دنوں میں پاکستانی سپریم کورٹ کے ایک اہم فیصلہ جس میں’آسیہ بی بی کیس‘ میں پا ئے جانے وا لے ناکافی اور کمزورشہادتوں کی بنیاد پرآسیہ بی بی کی بریت پر ہونے والے چند ‘احتجاجی مظاہروں’ کی آڑ لے کراسٹوریاں گھڑی جارہی ہیں اوراپنے دیش کے گریبانوں میں جھانکنا اْنہیں زیب کیوں نہیں دے رہا ؟یہ ہمارے کالم کا موضوع ہے پہلا سچ یہ ہے دنیا مانتی ہے کہ بھارت کی بہ نسبت پاکستان میں خواتین ملک کے تقریبا تمام اہم شعبوں میں امتیازی صنف جیسے سلوک کا شکار نہیں ‘ ملک کے بالاتراہم عہدوں پر پاکستانی خواتین فائز ہیں اعلی عدلیہ ہویاماتحت عدلیہ کے ادارے خواتین ججز کے باوقار عہدوں پر متمکن ہیں تینوں مسلح افواج میں خواتین افسروں کی تعداد نمایاں ہے ملکی اسٹبلیشمنٹ میں اعلی آخری گریڈ میں خواتین موجود ہیں ملک بھر میں خواتین مختلف شعبہ ہائے زندگی میں اپنی کارکردگیوں کو بروئے کار لارہی ہیں بہرحال بھارت سے پاکستان میں خواتین زیادہ متحرک ہیں پاکستانی اقلیت خواتین اپنی علمی قابلیت اور ہنرمندی کی صلاحیتیوں کے بل بوتے پر وقت کے ساتھ ساتھ ا جتماعی لحاظ سے امتیازی سلوک سے دوچار نہیں ہیں اب بھارتی ذرا سوچیں توسہی بھارت میں کمزورناتواں اورمالی بدحالی سے تنگ روزگار کی تلاش میں دیش کے بڑے شہروں کا رخ کرنے والی خواتین کے ساتھ آر ایس ایس اور اْس کی 10۔9 متشدد تنظیموں کے چھٹے ہوئے غنڈے بد معاش سرعام کیا اْن کی عزتیں لوٹتے نہیں جو بھری بسوں سے مردمسافروں کو اتار کر نوعمر خواتین کے ساتھ اجتماعی زیادتی کررہے ہیں، سماجی ظلم وزیادتی کا یہ ایک مسئلہ’جبکہ چارمنقسم ذاتوں کا پورا بھارتی معاشرہ اپنے دامن پر لگے ہوئے قبل ازمسیح کی اپنی تاریخی ناانصافیوں کو انصاف دینے پر شائد کبھی نہ آئے گا یہ بڑا کڑوا سچ ہے کہ بھارت میں صرف ‘براہمن’چھتری’ ویش’اورشودر چارذاتیں بستی ہیں؟ بھارت کی واضح اکثریت کیا پرلے درجے کی جانورقوم ہے جنہیں چار نام نہاد بڑی ذاتوں کے ہم پلہ جینے کا بھی حق نہیں ہے ‘براہمنوں’ چھتریوں’ ویشوں’اورشودروں کے وسطی ایشیائی ریاستوں سے آئے ہوئے ہمارے سوال کا کیا اُن کے بزرگ جواب دیں گے یا آج کی نسلیں بتائیں گی کہ یہ ارض ہند ان کے باپوں کی ازلی و ابدی سرزمین تھی ؟بھارت میں آج جنہیں ’دلت‘کہہ کر’دلت‘ کا نام دے کر صدیوں سے مسلسل تذلیل کیا جارہا ہے، اصل سرزمین ہند کے وارث یہی ‘دراوڑ’نسل ہے جس نے تم ‘پناہ گزینوں آریاؤں‘ کو پناہ دی اورتم براہمن ‘چھتری’ ویش اور شودر اپنی مکارانہ چالبازیوں اور عیارانہ حیلے بازیوں کے کرتوتوں کے سبب اصل سرزمین ہم وطنوں کو اپنا محکوم وغلام بنانے میں کیسے کامیاب رہے ؟یہ سب تاریخ ہند کے صفحات میں رقم ہے اب بھارت میں کئی صدیوں قبل وسطی ایشیائی وایران سے واردہونے والوں نے ہندوستان کو اپنی دھرتی ماں بنالیا بھارت کی سرزمین براہمنوں ‘ چھتریوں‘ ویشوں اور شودروں کی سرزمین کیسے مان لی جائے بھارتی سماج نے کل انصاف نہیں کیا تھا جنوبی ہند کے عوام جو اصل ہندوستان کے وارث ہیں ’ائے باہر سے آئے ہوئے آریاؤں! اب بہت ہوگئی ہندوستان کے اصل وارث ’دراوڑنسل اب تم سے بیزار ہو چکی ہے جنوبی ہند میں نئی دہلی کا ظلم اب اور زیادہ دیر تک نہیں چلے گا اب فیصلہ ہونا ہے نسلی ناانصافی کا ایک ایک واقعہ تاریخ نے بطورگواہ لکھ دیا ہے ہند میں باہر سے آئی ہوئی چاروں ذاتوں کے لوگوں کو اْن نام نہاد براہمن پنڈتوں کے گرد گھیرا تنگ کرنا پڑے گا، جنہوں نے کل بھی سچ نہیں بتایا، آج بھی وہ اپنا پورا سچ بولنے پرتیارنہیں ہورہے کل کہیں ایسا نہ ہو کہ جنوبی ہند سے ‘انصاف’انصاف’ کے فلک شگاف نعرے لگاتا ہوا ایسا تباہ کن طوفان اْٹھے جو نئی دہلی کے تخت وتاج کا تاراج کرکے رکھ دے ۔

*****

سپریم کورٹ کو قوانین اور اداروں کے فیصلوں کے جائزہ کا اختیار ہے، چیف جسٹس

اسلام آباد: چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کو قوانین اور ریاستی اداروں کے فیصلوں کے جائزہ کا اختیار ہے۔

سپریم کورٹ اعلامیہ کے مطابق نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کے200 سے زائد ممبران پر مشتمل وفد نے چیف جسٹس آف پاکستان سے سپریم کورٹ میں ملاقات کی، ڈیفنس یونیورسٹی کے وفد کی سربراہی میجر جنرل عاصم ملک نے کی۔

چیف جسٹس نے شرکاء کو ملک میں انصاف کی فراہمی کے لئے سپریم کورٹ، ہائی کورٹس اور ضلعی عدالتوں کی کار کردگی ، عدالتی نظام اور آئینی اختیارات سے متعلق بریف کیا۔

چیف جسٹس آف پاکستان نے وفد کے شرکاء کو پاکستان کے 1973 کے آئین سے متعلق بنیادی معلومات دیتے ہوئے بتایا کہ پاکستان کے آئینی ڈھانچے میں ملک کے تین ستونوں کو اختیارات تقویض کیے گئے ہیں۔ ریاست کے تینوں ستون مقننہ، انتظامیہ اور عدلیہ کے اختیارات اور اہمیت اپنی جگہ اہم ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ آئینی اختیارات کے تحت سپریم کورٹ مقننہ اور انتظامی اداروں کی کارکردگی کا جائزہ لینے کا خصوصی اختیار رکھتی ہے، متاثرین کو تیز تر انصاف دلانے کے لئے ملک میں قدیم قوانین میں عہد حاضر کے مطابق تبدیلی لانے کی ضرورت ہے۔

پارٹی کوقبضہ مافیا سے آزاد کرائیں گے، فاروق ستار

حیدرآباد: ایم کیوایم پاکستان کے رہنما ڈاکٹرفاروق ستارکا کہنا ہے کہ پارٹی کوقبضہ مافیا سے آزاد کرائیں گے۔

حیدرآباد میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے ایم کیوایم تنظیم بحالی کمیٹی کے سربراہ ڈاکٹرفاروق ستار کا کہنا تھا کہ پارٹی میں دوتہائی اکثریت سے نہیں بلکہ چند لوگ فیصلے کررہے ہیں، عام انتخابات میں پارٹی ٹکٹوں کو ریوڑیوں کی طرح بانٹا گیا، میرٹ کے بجائے دوستوں، رشتہ داروں اور من پسند افراد کو نوازا گیا، پارٹی کو بچانا ہے تو انٹراپارٹی الیکشن کرانا ہوں گے۔

رہنما ایم کیوایم کا کہنا تھا کہ رابطہ کمیٹی عوام اورکارکنان کا اعتماد کھو چکی ہے، رابطہ کمیٹی کی نام نہاد اکثریت کے رویے سے لگتا ہے کہ آئندہ الیکشن میں انہیں کراچی سے 4 کے بجائے ایک،  دو سیٹیں بھی نہیں ملیں گی،  ہم پارٹی کو بچانے اوراس کی بحالی کے لیے نکلے ہیں، پارٹی کو قبضہ مافیا سے آزاد کرائیں گے اور پارٹی کے بیرونی مخالفین کی طرح تنظیم کے اندر قبضہ مافیا اورمفاد پرستوں سے بھی سیاسی لڑائی لڑیں گے۔

فاروق ستار نے کہا کہ احتساب کے بغیر پارٹی میں کرپشن کاخاتمہ نہیں ہوسکتا، میں خود کوکارکنان کی عدالت میں پیش کرنے کے لیے تیار ہوں، عامر خان اورکنورنوید جمیل بھی  خود کو کارکنان کی عدالت میں پیش کریں۔ عامرخان اور کنورنوید جمیل کارکنوں کے سامنے اپنے گوشوارے پیش کریں اورکارکنان کو بتایا جائے کہ ان کے پاس 1986 میں کتنی پراپرٹی اور بینک بیلنس تھا اورآج کیا ہے؟ کنور نوید کے دور نظامت میں حیدرآباد کو اربوں روپے ملے تھے ان کا حساب بھی دیں۔

 

 

امریکی مڈٹرم الیکشن میں ڈونلڈ ٹرمپ کو دھچکا، ڈیموکریٹس کامیاب

واشنگٹن: امریکا میں مڈٹرم الیکشن میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی جماعت کو ری پبلکن پارٹی کو بڑا جھٹکا لگا ہے کیونکہ ڈیموکریٹس کو نمایاں کامیابی حاصل ہوئی ہے۔

امریکا میں وسط مدتی انتخابات کے نتائج آنا شروع ہوگئے ہیں۔  امریکی عوام کی اکثریت نے صدر ٹرمپ کی پالیسیاں رد کرتے ہوئے ڈیموکریٹ پارٹی کو ووٹ دیئے جس نے ایوان نمائندگان میں اکثریت حاصل کر لی ہے۔ ڈیموکریٹ پارٹی نے ایوان نمائندگان میں ری پبلکنز سے 26 نشستیں چھین لی ہیں اور ری پبلکنز کا آٹھ سالہ راج ختم کرکے اپنی حکمرانی قائم کرلی ہے۔

ایوان نمائندگان میں ڈیموکریٹک پارٹی کو 213 اور ری پبلکن کو 196 نشستوں پر برتری مل گئی ہے۔ دوسری طرف امریکی سینیٹ میں ری پبلکنز کا راج برقرار رہا جہاں ری پبلکن پارٹی کو 51 جبکہ ڈیموکریٹس کو 46 سیٹیں حاصل ہوئیں۔ ریاستوں کے 36 گورنرز کے انتخابات میں ری پبلکنز کو 25 اور ڈیموکریٹس کے 21 نشستوں پر کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ گورنرز کے الیکشن میں بھی ری پبلکنز کی 6 نشستیں ڈیموکریٹس کے پاس چلی گئی ہیں۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے الیکشن میں پارٹی کی خراب کارکردگی کے باوجود ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا کہ آج رات شاندار فتح حاصل ہوئی، آپ سب کا شکریہ۔

ڈیموکریٹس رہنما نینسی پلوسی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عوام کی آوازسنی گئی، آپ کے ووٹ سے تبدیلی آئی، کل ایک نیا امریکا ہوگا، صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے ہر فیصلے پر جواب دہ ہوں گے، عوام کے درمیان تقسیم ختم کریں گے اور ایک ہونے کا وقت آگیا ہے۔

امریکی میڈیا کے مطابق ووٹ کے حق سے متعلق 10 ہزار شکایات موصول ہوئی ہیں جو کسی بھی مڈٹرم الیکشن میں شکایات کی سب سے بڑی شرح ہے۔ ڈیموکریٹک پارٹی نے مینی سوٹا، نیو میکسیکو، نیویارک اور پنسلوانیا میں میدان مار لیا۔  تین عشروں میں پہلی بار امریکی ریاست فلوریڈا میں ڈیموکریٹک پارٹی کے حق میں رجحان دیکھا گیا۔

Google Analytics Alternative