Home » 2018 » November (page 10)

Monthly Archives: November 2018

افغانستان: طالبان کے حملے میں 3 امریکی اہلکار ہلاک

افغانستان کے وسطی شہر غزنی کے قریب بم دھماکے کے نتیجے میں 3 امریکی فوجی اہلکار ہلاک اور 3 زخمی ہوگئے۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کی رپورٹ کے مطابق نیٹو نے بتایا کہ مذکورہ حملے کی ذمہ داری طالبان کی جانب سے قبول کی گئی۔

نیٹو کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ افغان شہر غزنی کے قریب دھماکا خیز مواد پھٹنے سے اہلکار ہلاک ہوئے۔

بیان میں کہا گیا کہ حملے کے نتیجے میں زخمی ہونے والوں میں ایک امریکی کنٹریکٹر بھی شامل ہے۔

نیٹو کے سپورٹ مشن نے ہلاک ہونے والے امریکی اہلکاروں کی شناخت سے متعلق فوری طور پر کوئی تفصیل جاری نہیں کی۔

خیال رہے کہ رواں برس افغانستان میں اب تک مختلف حملوں میں ہلاک ہونے والے امریکی اہلکاروں کی تعداد 12 تک جاپہنچی ہے۔

افغانستان میں طالبان کے خلاف 2001 میں امریکی قبضے سے لے کر اب تک 2 ہزار 2 سو امریکی اہلکار ہلاک ہوچکے ہیں۔

واشنگٹن گزشتہ 17 برس سے مذکورہ تنازع سے باہر نکلنے کے راستے تلاش کررہا ہے۔

نومبر کے آغاز میں افغانستان میں امن عمل کے امریکی نمائندے زلمے خلیل زاد نے کہا تھا کہ آئندہ برس 20 اپریل کو ہونے والے صدارتی انتخاب سے قبل جنگ بندی کے لیے امن معاہدہ طے پانے کے امکانات ہیں۔

ان کے بیان سے وائٹ ہاؤس اور امریکی سفارت کاروں کے درمیان امن معاہدے کے لیے جلد بازی کا عنصر واضح ہوتا ہے۔

رواں ماہ افغان صدر اشرف غنی نے بتایا تھا کہ 2015 سے آغاز سے اب تک 30 ہزار افغان فوجی اور پولیس اہلکار قتل کیے جاچکے ہیں۔

پاکستانی وزیر خارجہ کی مذمت

وزارت خارجہ کے بیان کے مطابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے افغان شہر غزنی میں دھماکے میں امریکی اہلکاروں کی ہلاکت کے واقعے کی شدید مذمت کی ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ ’پاکستان دہشت گردی کی مذمت کرتا ہے اور غم کی اس گھڑی میں امریکی حکومت اور عوام کے ساتھ ہے‘۔

یاسر شاہ نے عمران خان کا ٹیسٹ میں 14 وکٹوں کا ریکارڈ برابر کردیا

دبئی: پاکستانی لیگ اسپنر یاسر شاہ نے عمران خان کا ٹیسٹ میں 14 وکٹوں کا ریکارڈ برابر کردیا۔

قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان عمران خان نے سری لنکا کے خلاف لاہور ٹیسٹ 1982 میں 116رنز دیکر 14شکار کئے تھے اور اب یاسر شاہ نے دبئی میں 184 رنز دیکر اتنے ہی شکار کئے یوں ایک میچ میں بہترین کارکردگی دکھانے والے بولرز کی فہرست میں عمران خان کے بعد یاسر شاہ کا نام بھی درج ہوگیا ہے۔

عبدالقادر لاہور ٹیسٹ 1987 میں انگلینڈ کی 13وکٹیں 101رنز کے عوض حاصل کرچکے، فضل محمود نے کراچی ٹیسٹ 1956 میں آسٹریلیا کے اتنے ہی شکار کرنے کے لیے 114 رنز دیئے،وقار یونس نے کراچی ٹیسٹ1993میں 135رنز کے بدلے میں زمبابوے کی 13وکٹیں گرائیں، فضل محمود 2، عمران خان، وقار یونس اور دانش کنیریا ایک ایک مرتبہ میچ میں 12شکارکرنے میں بھی کامیاب ہوئے، آخری بار یہ کارنامہ دانش کنیریا نے بنگلہ دیش کیخلاف ملتان ٹیسٹ 2001میں سرانجام دیا تھا۔

یاد رہے کہ دبئی ٹیسٹ میں یاسر شاہ 41 رنز کے عوض 8 شکار کرکے ایک اننگز میں کامیاب ترین پاکستانی بولرز کی فہرست میں تیسرے نمبر پر آگئے تھے۔

عبدالقادر نے انگلینڈ، سرفراز نواز نے آسٹریلیا کے 9 بیٹسمینوں کو شکار بنایا تھا، عمران خان ایک اننگز میں 8 وکٹیں دوبار حاصل کرچکے ہیں۔

امریکی عزائم

امریکا ماضی میں کبھی فراخ دل رہا نہ ہی حقیقت پسند’ہمیشہ امریکا نے صدیوں کی اپنی تنگ نظری کی پالیسی کل بھی اختیار کیئے رکھی آج جب دنیا انسانی ترقی کی انتہاؤں کوچھورہی ہے امریکا’ بڑی عالمی کرنسی کے اجارہ دار کاعلم تھامے وہیں پہ کھڑا ہے’ڈالرکے استحقاق کے زعم میں وائٹ ہاؤس اپنے آپ کو’عالمی سرمائے’کا جیسے کوئی آقا سمجھتا ہو؟’بہت تکبرہے امریکا کے علاوہ دنیا کی ان چند منہ زور سامراجی چلن رکھنے والی طاقتوں کوجودنیا کے ترقی پذیر ممالک کو زمین پررینگنے والے حشرات الاارض سمجھنے کی عادتوں میں مبتلا ہیں ، جبکہ اصل میں وہ صریحاً غلطی پر ہیں افسوس! اکیسیویں صدی کا دوسرا عشرہ ختم ہونے کو آرہاہے امریکا مگرمکمل انسان پروری کی راہ پرنہیں آیا’ بلیوں’ کتوں’خچروں’پرندوں سے تواس کی محبتیں سنبھالی نہیں جاتیں مگرکمزوراوربے بس انسانوں سے ا مریکا نفرت ہی نہیں کرتا بلکہ ترقی پذیر ممالک کے اقوام کے بنیادی حقوق غصب کرتا ہے، ان کے قدرتی وسائل کومختلف حیلے بہانوں سے لوٹتا ہے اورانکی زیرزمین دولت کوچھینے کے جواز کا متلاشی رہتا ہے ۔پاکستان کی نئی منتخب حکومت کے متوقع سربراہ کے نرم دمِ گفتگو کا نپا تلا اورکچھ کردکھانے کے انداز سے دنیا یہ نتیجہ اخذ کرلے کہ اب اسلام آباد میں وہ ہی کچھ ہوگا جو پاکستان کے کروڑوں عوام چاہیں گے قوموں کی زندگیوں میں اکثروبیشتر ایسے تازہ’جوشیلے اور امیدافزاخوشگوارسیاسی وثقافتی فضاؤں کے مقبولیت کی انتہاؤں کو چھونے والے مواقع آتے ضرور ہیں دیرآید درست آید کے مصداق امریکی حکام کوبہرحال تسلیم کرنا ہوگا کہ ماضی کے برعکس اب پاکستان کے تجارت پیشہ حکمران طبقات میں پروان چڑھنے والی کرپشن آلودہ جمہوریت کے نام پر’جمہوری ملوکیت’کا ناپسندیدہ سلسلہ منقطع ہوچکا ‘ پاکستان چلے گا’ملک میں ترقی ہوگی اور پاکستان میں آج کے بعدخالص عوامی پائیدار جمہوری راج اور زیادہ مستحکم ہوگا جیسا امریکا چاہے گا پاکستان میں ویسا اب نہیں ہوگا امریکا کوپاکستان کی آزادی پاکستان کی خود مختاری کا احترام کرنا ہوگا پاکستان کے فیصلے پاکستان میں ہونگے۔ امریکی کانگریس کے منظورکردہ بل کے تحت پاکستان کو150 ملین ڈالرکی دفاعی امداد کینسل کی گئی۔ واہ سبحان اللہ پاکستان پر مزید اقتصادی پابندیاں عائد کرنے کاعندیہ بھی دیاگیا ، پینٹاگان’وائٹ ہاؤس اورادھرنئی دہلی کے ایوانِ اقتدارمیں نجانے کس مفادی نے اپنے کس مذموم ایجنڈے کے گھناؤنے تصورات کوعملی جامہ پہنانے کی بد نیتی سے مفروضہ پھیلایا تھا کہ پاکستان میں دومخصوص سیاسی پارٹیوں کے بغیرجمہوریت کا سسٹم قائم نہیں رہ سکتا لہٰذاکبھی ‘اے’ اورکبھی’بی’ پارٹی ہی کی حکومتیں جمہوریت کے نام پرچلتی رہیں گی اورعوام کی اکثریت ہرپانچ سال تک اِن ہی کے اشاروں پر ووٹ بکس بھرتے رہیں گے پاکستان میں اعلیٰ عدالتیں کیا متحرک ہوئیں کروڑوں عوام کی سنی گئی، پاکستان کے اقتدار کو جواپنے گھروں کی لونڈی سمجھتے تھے آج کہاں ہیں؟ پاکستان کو اپنی وراثت اور جاگیر سمجھنے والے نشانِ عبرت بن گئے کچھ بننے والے ہیں، اب پکڑ نیچے سے نہیں اوپر سے ہوگی، پاکستانی قوم کی عوامی شعور میں بیداری کی لہر نے جنوبی ایشیا میں امریکی چھتری تلے بھارتی بالادستی کے خواب کے تاروپود کو قوم نے منتشرکرکے رکھ دیا اب افغانستان میں امن ہوگا اور بھارت کو مسئلہِ کشمیر کے پرامن حل کیلئے اپنے قدم بڑھانے ہونگے، حقیقی عوامی طاقت اپنے حکمرانوں کی پشت پر موجود رہے تو سامراجی عزائم کے حامل ممالک ایسی بیدار صفت اقوام کا بال تک بھی بیکا نہیں کرسکتیں ،یقیناًامریکی اور بھارتی فیصلہ ساز جان گئے ہونگے کہ پاکستان میں دوپارٹی سسٹم کی ریت روایت قائم کرنے والے غلط تھے ‘را، موساد اورسی آئی اے’کی مشترکہ پروپیگنڈا مشنری ناکام ہوئی ہے، پاکستانی عوام کے جمہوری شعورکے رجحانات اور میلانات کا متذکرہ بالا تینوں خفیہ ایجنسیوں نے غلط من گھڑت اور بے سروپا مفروضات پر رپورٹیں مرتب کیں ایسی بوگس ڈیسک رپورٹس ٹرمپ اورمودی جیسے ناتجربہ کارجنونی اورانتہا پسندوں نے مان لیں وائٹ ہاؤس اورنئی دہلی سمیت پینٹاگان بھی اِسی فرضی نکتہ نظر کے اسیرمعلوم دئیے ،جنہوں نے پاکستان کی سابقہ کرپٹ حکمران طبقات کے منہ میں اپنے متعصبانہ الفاظ دے کر انہیں انکے انجام تک پہنچا دیا،یوں پاکستان میں حقیقی جمہوریت کا روشن سورج طلوع ہوا اِس میں کوئی شک نہیں ہے کہ منتخب حکمران جماعت کوملک میں درپیش اقتصادی چیلنجز کا سامنا کرنا ہوگا،آئی ایم ایف سے انہیں اپنے محدودمالیاتی انفراسٹرکچرکے دائرے میں اپنی مہارت’ صلاحیت’جرات اورپیشہ ورانہ حکمتِ عملی سے باعزت مذاکرات کرنے ہونگے ‘بیس پچیس برس کی اختیار کردہ گمراہ کن غلط اقتصادی پالیسیوں نے پاکستان پر بیرونی قرضوں کاحجم بڑھا کر قوم اورملک کو آج اِس بد حالی پر لا کھڑا کیا ہے پھر بھی مایوسی کا مقام نہیں آئی ایم ایف کے دیوہیکل قرضوں کی ضمانت اب پاکستان کے بہادر اور محبِ وطن عوام کے علاوہ کوئی اور نہیں دے سکتا، پاکستان کی قیادت اگر جرات مند ہو’بے داغ ہو’صاحبِ کردار ہو’ ایمان داراورصالح ہو’ تویہ کوئی مشکل مرحلہ نہیں عمران خان کی مقبولِ عام شخصیت نے پاکستان کی جمہوری قیادت کی تاریخ میں یقیناًایک نیا باب رقم کیا ہے، عوام نے ان پر بھروسہ کیا خان کہتا ہے کہ وہ سادگی اپنائیں گے قوم سادگی اپنائے’قومی سیاست کے مفلوج زدہ جسم میں عمران خان نے ‘لیکجز’ کا کھوج لگا کر انہیں اگر بند کر دیا لوٹی گئی قومی دولت بیرونِ ملک سے واپسی کیلئے انہوں نے فوری ہنگامی اقدامات اٹھانا شروع کردئیے اور دنیا کے سامنے جرات مندی اور دلیرانہ سچائی سے پاکستان کا مقدمہ پیش کرنے کا تاریخ ساز فیصلہ کرلیا تو بھاڑ میں جائیں امریکی کانگریسی کی بلیک میلنگ اور خطہ میں بھارتی بالادستی کے عزائم جنوبی ایشیا میں پاکستان کی بھی اپنی ایک حقیقی جغرافیائی حیثیت ہے عمران خان نے یہ حقیقت دنیا سے منوانی ہے پاکستان کا مالیاتی بحران چٹکیوں میں حل ہوگا کئی ایشیائی ممالک کی مثال ہمارے سامنے ہے امریکی اور آئی ایم ایف کی مالی مداخلتوں کے بغیر بھی پاکستان ترقی خوشحالی اور امن کی نعمتوں سے مالا مال ہوسکتا ہے ۔

حکومت کا تندور صارفین کیلئے گیس کی پرانی قیمت بحال کرنے کا فیصلہ

اسلام آباد: وفاقی حکومت نے تندوروں کے لیے گیس کی پرانی قیمت بحال کرنے کا فیصلہ کر لیا۔

وزیر خزانہ اسد عمر کی زیر صدارت اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کے اجلاس میں گیس کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کا اطلاق روٹی کے تندوروں پر نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا، جس کے بعد نان بائی گیس کے بل پرانے نرخ کے حساب سے ادا کریں گے۔

کمیٹی نے یہ فیصلہ گیس کی قیمت میں اضافے سے تندور کی روٹی اور نان کی قیمتوں میں اضافے کے خدشے کے پیش نظر کیا۔

موسم سرما میں گیس کی لوڈشیڈنگ نہ کرنے کا فیصلہ

اقتصادی رابطہ کمیٹی نے موسم سرما میں گیس کی لوڈشیڈنگ نہ کرنے کا بھی فیصلہ کیا۔

ای سی سی کے اجلاس میں یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ گیس کی کمی کو پورا کرنے کے لیے نظام میں 150 سے 200 ایم ایم سی ایف ڈی ری گیسیفائیڈ لیکویفائیڈ نیچرل گیس (آر ایل این جی) شامل کی جائے گی۔

اراکین کمیٹی نے یہ فیصلہ بھی کیا کہ توانائی ڈویژن کو اسلامی فنانس کے ذریعے 38 ارب روپے وصول کرنے کی اجازت دی جائے گی۔

خیال رہے کہ موسم سرما کے دوران ملک کے بیشتر علاقوں میں گیس کی لوڈشیڈنگ ایک معمول ہے اور کئی سالوں سے موسم سرما کے دوران گیس کی کمی شہریوں کے لیے ایک مسئلہ بن جاتی ہے۔

گیس کی لوڈشیڈنگ سے جہاں صنعتی صارفین کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے وہیں گھریلو صارفین بھی پریشان نظر آتے ہیں۔

گیس کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے گھریلو صارفین کو جہاں کھانا بنانے کے ساتھ ساتھ روز مرہ کے دیگر امور کو نمٹانے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے وہیں اس مسئلے کی وجہ سے ہوٹلوں کی انتظامیہ کو بھی شہریوں کی طلب کو پورا کرنے میں مشکلات پیش آتی ہیں۔

ایک امرود کے لاتعداد فوائد

امرودوں کا موسم اب شروع ہوچکا ہے، جن پر چاٹ مصالحہ چھڑک کر کھانا تقریباً ہر ایک کو ہی پسند ہوتا ہے۔

مگر یہ صرف منہ کا ذائقہ ہی دوبالا نہیں کرتے بلکہ اس میں ان میں اجزاء بھی موجود ہوتے ہیں جو اس پھل کو صحت کے لیے بہترین بناتے ہیں۔

وٹامن سی سے بھرپور یہ پھل کتنے فوائد کا حامل ہے، وہ درج ذیل ہے:

کینسر کا خطرہ کم کرے

امرود میں موجود وٹامن سی، لائیکو پین اور دیگر اجزاء ایسے اینٹی آکسائیڈنٹس کا کام کرتے ہیں جو جسم میں نقصان دہ اجزاء کی سطح کم کرتے ہیں، جس سے کینسر زدہ خلیات کی نشوونما نہیں ہوتی۔

ذیابیطس کے مریضوں کے لیے بہتر

فائبر سے بھرپور ہونے کی وجہ سے امرود ذیابیطس کو بڑھنے سے روکتا ہے اور بلڈ شوگر کی سطح کو ریگولیٹ کرتا ہے۔

دل کو صحت مند بنائے

امرود کھانے سے جسم میں نمک یا سوڈیم اور پوٹاشیئم کے توازن میں بہتری آتی ہے جس سے بلڈ پریشر کنٹرول میں آتا ہے، یہ پھل صحت کے لیے نقصان دہ کولیسٹرول اور دیگر عناصر کی سطح بھی کم کرتا ہے جو کہ امراض قلب کا باعث بنتے ہیں۔

قبض کشا

اس میں غذائی فائبر کی مقدار کافی زیادہ ہوتی ہے اور ایک امرود ہی فائبر کی روزانہ کے لیے ضروری مقدار کا 12 فیصد حصہ جسم کو فراہم کردیتا ہے جو کہ نظام ہضم کے لیے بہت زیادہ فائدہ مند ہے، امرود کے بیج بھی قبض کو ختم کرنے میں مدد دیتے ہیں۔

بینائی بہتر کرے

امرود میں وٹامن اے پایا جاتا ہے جو کہ آنکھوں کی صحت کے لیے بہترین ہے، یہ پھل نہ صرف عمر بڑھنے کے ساتھ بینائی میں آنے والی تنزلی سے تحفظ دیتا ہے بلکہ اسے بہتر بھی کرتا ہے۔ یہ موتیے کے مرض کی رفتار کو بھی سست کرتا ہے۔

حاملہ خواتین کے لیے بہتر

اس پھل میں فولک ایسڈ موجود ہوتا ہے جو حاملہ خواتین کو استعمال کرنے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔

دانتوں کے درد کو کم کرے

امرود میں ورم کش خصوصیات بھی ہوتی ہیں اور جراثیم کش ہونے کی وجہ سے بھی یہ انفیکشن کے خلاف جدوجہد کرتا ہے جبکہ جراثیموں کو مارتا ہے، اس لیے اسے کھانا دانت کے درد کے لیے اچھا گھریلو ٹوٹکا ثابت ہوتا ہے۔

تناﺅ کم کرے

امرود میں موجود میگنیشم، مسلز اور اعصاب کو پرسکون کرتا ہے، لہذا دن بھر کے کاموں کے بعد اسے کھانے سے مسلز کو سکون ملتا ہے، ذہنی تناﺅ کم ہوتا ہے جبکہ جسمانی توانائی بڑھتی ہے۔

دماغی پھل

اس پھل میں وٹامن بی تھری اور بی سکس بھی موجود ہے جو کہ دماغ کی جانب خون کی فراہمی کو بہتر کرتے ہیں اور ذہنی افعال کو تحریک دینے کے ساتھ اعصاب کو بھی سکون پہنچاتے ہیں۔

موٹاپے سے تحفظ

اگر آپ جسمانی وزن میں کمی لانا چاہتے ہیں تو امرود کھانا شروع کردیں، جس سے آپ کو اپنی غذا میں پروٹینز، وٹامنز اور فائبر میں کمی نہیں لانا پڑے گی جو کہ اس پھل میں موجود ہے جبکہ یہ میٹابولزم کو بھی بہتر کرتا ہے اور ہاں اسے کھانے سے جلد پیٹ بھرنے کا احساس بھی ہوتا ہے۔

جھریوں سے بچائے

وٹامن اے، وٹامن سی اور اینٹی آکسائیڈنٹس جیسے کیروٹین اور لائیکوپین کی وجہ سے امرود جلد کو جھریوں سے بچاتا ہے، یعنی ایک امرود روزانہ جھریوں کو کافی عرصے تک دور رکھتا ہے۔

ڈھاکا میں پاکستانی ہائی کمیشن میں چوری اور توڑ پھوڑ کی واردات

ڈھاکا: بنگلہ دیش میں نامعلوم شرپسند عناصر نے پاکستان ہائی کمیشن میں گھس کر توڑ پھوڑ کی اور کمپیوٹر چوری کرکے لے گئے جس پر پاکستانی حکام نے بنگلہ دیش سے شدید احتجاج کیا ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکا میں پاکستانی ہائی کمیشن کے قونصلر سیکشن سے چور قیمتی کمپیوٹر چوری کرکے لے گئے اور توڑ پھوڑ بھی کی، اس معاملے کو بنگلادیش کے اعلیٰ حکام کے ساتھ اٹھایا ہے جب کہ بنگلہ دیش پولیس کے پاس واقعے کی ایف آئی آر بھی درج کروا دی گئی ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے پاکستانی ہائی کمیشن اور عملے کو مکمل سیکیورٹی فراہم کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بنگلہ دیشی حکومت پاکستانی ہائی کمیشن میں چوری کی تحقیقات کرکے ملزمان کو کٹہرے میں لائے اور قرار واقعی سزا دے۔

نئے کلو گرام میں اب کوئی چیز کتنی کم یا زیادہ ملے گی؟

بچپن سے گھر میں امی سے سنتے آئے ہیں کہ ایک کلو دہی یا 5 کلو چینی لادو۔ لیکن یہ کلو کیا ہے؟ اس بارے میں بچپن میں کبھی سوچا ہی نہیں، لیکن جیسے جیسے فزکس سے تعلق جڑا تو یہ پڑھ کر معلوم ہوا کہ کلو گرام دراصل ماس کی اکائی ہے جو 7 بنیادی اکائیوں کے ایک نظام کا حصہ ہے اور یہ ساتوں اکائیاں دنیا بھر میں ناپ تول، تجارت، صنعت و حرفت ہر جگہ یکساں استعمال کی جاتی ہیں۔

پیمائش و ناپ تول خاص کر وزن اور لمبائی کی پیمائش کے لیے کسی مخصوص اکائی کا تصور نیا نہیں ہے۔ تاریخی حوالہ جات کے مطابق 12ویں صدی تک ان دونوں مقداروں کے لیے کوئی باقاعدہ اکائی موجود نہیں تھی اور ہر علاقے کے حکمران کی ذاتی پسند کے مطابق ناپ تول کا پیمانہ مقرر کیا جاتا تھا۔

سب سے پہلے 1215ء میں میگنا کارٹا میں یہ تصور پیش کیا گیا کہ پوری سلطنت میں شراب، گندم اور مکئی وغیرہ جیسی روز مرہ کی استعمال کی اشیا کو ناپنے کے لیے وزن اور کپڑے کی پیمائش کے لیے ایک ہی پیمانہ ہونا چاہیے۔

میگنا کارٹا کو انسانی تاریخ کا اہم اور پہلا تحریری دستاویز مانا جاتا ہے، جو 1215ء میں عوام کے پُرزور مطالبے کے بعد برطانیہ کے بادشاہ کی ایما پر جاری کیا گیا۔

اگرچہ اس قانونی دستاویز میں بھی انسانی حقوق کی کئی خلاف ورزیاں تھیں، تاہم اس دستاویز کے ذریعے بادشاہ نے تسلیم کیا کہ وہ قانون سے بالاتر نہیں اور پھر اس معاہدے نے انسانی تاریخ کو بدلنے میں اہم کردار ادا کیا۔

پھر جب رفتہ رفتہ ذرائع آمد و رفت بہتر ہونے اور آبادی کے پھیلنے کے ساتھ دنیا کے مختلف خطوں میں باقاعدہ لین دین اور بڑے پیمانے پر تجارت کا آغاز ہوا تو مختلف علاقوں میں رائج متفرق اوزانِ پیمائش کے باعث پیچیدگیاں بڑھنے لگیں۔

سائنسدانوں نے محسوس کیا کہ یہ مسئلہ انسانی ترقی میں ایک بڑی رکاوٹ بن رہا ہے۔

پیرس میں محفوظ کیا گیا ایک کلو کا باٹ—فوٹو: 702 ڈاٹ کام
پیرس میں محفوظ کیا گیا ایک کلو کا باٹ—فوٹو: 702 ڈاٹ کام

اس سلسلے میں پہلی باقاعدہ پیش رفت فرانس میں ہوئی اور وہاں کی قومی آئینی اسمبلی نے ملک بھر میں رائج بے شمار اکائیوں کو ختم کرتے ہوئے پورے ملک میں لمبائی کی پیمائش کے لیے ایک اکائی مقرر کی، جسے میٹر کا نام دیا گیا جو خط استوا سے شمالی قطب کے کل فاصلے کا 10 لاکھ حصے کے برابر تھا۔

جسے بعد ازاں فرانسیسی ریاضی دان اور ماہرِ فلکیات جین بیپٹسٹ کی مزید تحقیقات کے بعد 1789ء میں اپ ڈیٹ کیا گیا۔ اس میٹرک سسٹم کے مطابق میٹر ایک بنیادی اکائی تسلیم کی گئی، جس سے لیٹر اور کلو گرام اخذ کیے گئے۔

ایک لیٹر ایک ہزار کیوبک سینٹی میٹر کے برابر جبکہ ایک کلو گرام ایک لیٹر پانی کے ماس کے برابر رکھا گیا۔

اس کے تقریباً ایک صدی بعد 1875ء میں 17 ممالک کے نمائندوں پر مشتمل ایک میٹر کنونشن منعقد کیا گیا، جس میں دنیا بھر میں یکساں پیمائش کے معیار مقرر کرنے کے لیے وزن اور پیمائش کی عالمی بیورو قائم کی گئی، جس میں وزن اور لمبائی کے پیمانے مختص کیے گئے اور ایک پلاٹینم، اریڈیم بھرت سے بنے ہوئے سیلنڈر کے ماس کو معیاری کلوگرام قرار دیا گیا جو عام درجۂ حرارت اور دباؤ پر پیرس کے قریب سیورز میں انٹرنیشنل بیورو میں محفوظ کردیا گیا تھا۔ مگر 20ویں صدی میں پلانک اور آئن اسٹائن کی جدید تحقیقات کے بعد ایک دفعہ پھر پیمائشی نظام میں تبدیلی شدت سے محسوس کی جانے لگی، کیونکہ صدیوں پرانے نیوٹونین فزکس کے قوانین کی جگہ اب نئے کوانٹم فزکس کے قوانین لینے لگے تھے۔

لہٰذا 1960ء میں دنیا بھر کے ممالک کے اشتراک سے 7 بنیادی اکائیوں پر مشتمل ایک عالمی نظام تشکیل دیا گیا جسے ‘انٹرنیشنل سسٹم آف یونٹس’ یا مختصراً ‘ایس آئی‘ کہا جاتا ہے۔

اس میں میٹر (لمبائی) کلوگرام (ماس) سیکنڈ (وقت) ایمپئیر (کرنٹ) کیلون (درجۂ حرارت) مول (مادے کی مقدار) اور کینڈیلا (روشنی کی شدت) شامل تھے۔

انہی بنیادی اکائیوں سے دیگر ماخوذ مقداروں کی اکائیاں اخذ کی جاتی ہیں۔

نومبر میں فرانس میں ہونے والے اجلاس میں نئے کلو گرام کی منظوری دی گئی—فوٹو: بی آئی پی ایم
نومبر میں فرانس میں ہونے والے اجلاس میں نئے کلو گرام کی منظوری دی گئی—فوٹو: بی آئی پی ایم

اس نظام کے تحت ایک کلوگرام پلاٹینیم–اریڈیم سے بنے ایک سیلنڈر کے ماس کے برابر ہے جو پیرس میں مزید احتیاط کے ساتھ محفوظ کیا گیا۔

کلوگرام کا یہ پروٹو ٹائپ 3 گلاس بیلز میں رکھا گیا ہے جسے کھولنے کے لیے 3 چابیوں کی ضرورت پڑتی ہے، اس طرح اس کے گرد ماحول کو مکمل طور پر محفوظ کردیا گیا، کیونکہ اس میں مائیکرو کی حد تک کسی بھی تبدیلی سے دنیا بھر میں ماس کا معیار تبدیل ہوجائے گا جو عالمی تجارت ہی نہیں سائنسی تحقیقات کے لیے بھی انتہائی نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے۔

دنیا بھر میں ماس کا مساوی معیار رکھنے کے لیے اس سیلنڈر کی ہوبہو نقل تیار کرکے مختلف ممالک کو فراہم کی گئیں، مگر گزرتے برسوں میں مشاہدہ کیا گیا کہ کلوگرام کے اس انٹرنیشنل پروٹو ٹائپ میں تبدیلی آئی ہے اور اس کی بنائی گئی کاپیز کا ماس اصل پروٹوٹائپ سے مائیکرو گرام یا ایک گرام کا دس لاکھواں حصہ سے زیادہ ہوگیا ہے۔

حالانکہ سائنسدان ابھی تک یہ یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ کلوگرام کے اس پروٹو ٹائپ کے ماس میں کمی ہوئی ہے یا اضافہ ہوا ہے، مگر فضا میں موجود سلور کے مادے کی مقدار بڑھنے یا وزن کرنے کے دوران بار بار رگڑ کھانے سے اس میں تبدیلی ضرور آرہی ہے۔

اس کے علاوہ اس سیلنڈر کو ہر 40 برس بعد دھویا بھی جاتا ہے جس سے ماس میں معمولی سی تبدیلی غالب از امکان نہیں۔

7 بنیادی اکائیوں کی ازسرِ نو تعریف کرنے کی ضرورت کافی عرصے سے محسوس کی جارہی تھی اور سائنسدان چاہتے تھے کہ اب اجسام کے بجائے ان کو یونیورسل مستقل مقداروں کی بنیاد پر بیان کیا جائے تاکہ کمی بیشی کے امکان کو ہمیشہ کے لیے ختم کردیا جائے۔

اس عمل کے لیے سب سے پہلے میٹر کی اور اس کے بعد سیکنڈ کی تعریف تبدیل کی گئی۔ ایک میٹر کسی ویکیوم میں روشنی کی رفتار کا 299،792،458/1 واں حصہ قرار دیا گیا۔

نئے کلوگرام سے انسان کے بھوں کے بال کے وزن سے بھی کم فرق پڑے گا—فوٹو: چنائے ٹیلی گرام
نئے کلوگرام سے انسان کے بھوں کے بال کے وزن سے بھی کم فرق پڑے گا—فوٹو: چنائے ٹیلی گرام

واضح رہے کہ روشنی کی رفتار ایک یونیورسل مستقبل ہے، جس میں تبدیلی ممکن نہیں، اسی طرح سیکنڈ کی پرانی تعریف کے مطابق موجودہ جی پی ایس ٹیکنالوجی کا تصور بھی ممکن نہیں تھا، کیونکہ آئن اسٹائن کے نظریۂ اضافیت کے مطابق زمین کے گرد مدار میں چکر کاٹتے ہوئے وقت کسی حد تک سست ہوجاتا ہے، کیونکہ مدار میں سیٹلائٹ کی رفتار کافی زیادہ ہوتی ہے۔

لہٰذا سیکنڈ کی نئی تعریف سیزیم ایٹم کے 2 ٹرازیشن لیولز کے درمیان ریڈی ایشن پیریڈ کے 9،192،631،770 (کوانٹم نمبر) حصے پر رکھی گئی۔ اس نئی تعریف کے بغیر جی پی ایس، گوگل میپ اور جی پی ایس گائیڈڈ آلات کا تصور بھی ممکن نہیں تھا، جو آج کل ہم روزانہ استعمال کرتے ہیں۔

جی پی ایس اور سیکنڈ کے باہمی تعلق سے سائنسدانوں کو اندازہ ہوا کہ دیگر بنیادی مقداروں کی اکائیوں کی بھی نئے سرے سے تشریح کرنا اشد ضروری ہے۔ مگر کلوگرام کی تعریف تبدیل کرنے میں کافی مزاحمتوں کا سامنا کرنا پڑا اور بالآخر 16 نومبر 2018ء کو اوزان و پیمائش کی ایک جنرل کانفرنس میں 60 ممالک کے نمائندوں نے پلاٹینم اریڈیم کے سلنڈر کے پروٹو ٹائپ کو ہمیشہ کے لیے متروک کرتے ہوئے پلانک کے مستقل پر کلوگرام کی نئی تعریف کو دنیا بھر میں اختیار کرنے کی منظوری دی۔

واضح رہے کہ پلانک کا مستقل ایک مخصوص عدد ہے جس کا تعلق روشنی کی موج کی فریکوئنسی (گردشی تعداد) اور فوٹان کی انرجی سے ہے۔ (فوٹان صفر ماس والے توانائی کے پیکٹس ہیں, جن کی توانائی ریڈی ایشن فریکوئنسی کے براہِ راست متناسب ہوتی ہے)۔ لیکن کلوگرام کو پلانک کے مستقل پر بیان کرنے کے لیے ضروری تھا کہ اس کی قیمت انتہائی درست حد تک معلوم ہو۔

اس کے لیے 2005ء سے کوششیں جاری تھیں، اور اس مقصد کے لیے واٹ بیلنس استعمال کیا جاتا رہا ہے، جسے اب ‘کبل بیلنس’ کہا جاتا ہے۔ کبل بیلنس بھی عام ترازو ہی کی طرح ہے، جو تقریباً 4 ہزار سال سے دنیا بھر میں وزن کرنے کے لیے استعمال ہو رہا ہے، مگر اس میں 2 اجسام کے ماسز کا موازنہ کرکے قوتِ ثقل (گریوی ٹیشنل فورس) کے ذریعے ایک کا ماس معلوم نہیں کیا جاتا، بلکہ اس میں ترازو کے دوسرے پلڑے کے بجائے ایک کوائل لگائی جاتی ہے جس میں سے کرنٹ گزار نے پر ایک مضبوط مقناطیسی فیلڈ بنتی ہے اس مقناطیسی قوت کا ماس سے موازنہ کرکے سائنس دانوں نے پلانک کے مستقل کی جو قیمت معلوم کی وہ آخری حد تک درست تھی۔

اس مقصد کے لیے ایک اور طریقہ کار بھی استعمال کیا جاتا ہے، جس میں سیلیکون 28 جسے اب تک مصنوعی طریقے سے تیار کردہ مکمل کرہ نما سمجھا جاتا ہے کہ ایک سیفئر میں ایٹموں کی کل تعداد معلوم کر کے ایوو گیڈرو نمبر کا پتا لگایا جاتا ہے اور پھر اسے پلانک کے مستقل میں تبدیل کر لیا جاتا ہے۔

نئے کلو سے میڈیسن کمپنیز اور سائنسی اداروں میں کافی فرق آئے گا—فوٹو: مڈ ڈے
نئے کلو سے میڈیسن کمپنیز اور سائنسی اداروں میں کافی فرق آئے گا—فوٹو: مڈ ڈے

ان دونوں طریقوں سے کلوگرام کی جو قیمت سائنسدانوں نے معلوم کی وہ اس حد تک درست ہے کہ اس میں انسانی ابرو کے بال کے وزن کے برابر بھی کمی بیشی نہیں ہے۔ اس میں مزید درستگی کے لیئے 20 مئی 2019 میں منعقد کی جانے والی اوزان و پیمائش کی جنرل کانفرنس میں یہ اصول واضع کیا جائیگا کہ دنیا بھر میں کہیں بھی پلانک کے مستقل کی مقدار معلوم کرنے کے لیے تین تجربات لازمی قرار دیے جائیں گے تاکہ اس میں ایک کروڑ کے 50 ویں حصے کے برابر بھی فرق نہ آسکے۔ مزید یہ کہ ان تین تجربات میں سے ایک کے نتیجے میں لازمی ایک کروڑ کے بیسویں حصے کے برابر بھی فرق نہیں آنا چاہیے، جس کے لیے سیلیکون سفیئر والے طریقے کو آئیڈیل سمجھا جا رہا ہے اور یقیناً ان کوششوں سے دنیا بھر میں استعمال کی جانے والی کلوگرام کی اکائی اب تبدیل ہو جائے گی۔

لیکن اس سے عام افراد یا صارفین پر معمولی سے اثرات بھی مرتب نہیں ہونگے، کچن میں کیک، بریانی، کھیر یا پیزا بنانے کے لیے جو ناپ طول کیا جاتا تھا وہ اسی طرح بغیر کسی تبدیلی کے جاری رہے گا، مگر اس سے فارماسیوٹیکل، پرزہ جات کے کارخانوں اور سائنسی تحقیقات میں بڑے پیمانے پر تبدیلی آئے گی۔

کیونکہ سائنسی تحقیق و صنعتوں میں کلوگرام میں ابرو کے بال کے وزن کے برابر فرق بھی کسی بڑے بحران کا سبب بن سکتا ہے۔

اس کے علاوہ مجموعی طور پر پلانک کے مستقل کی ایک بلکل درست مقدار معلوم ہو جانے کے بعد پورا ایس آئی نظام اب از سر نو تشکیل دیا جائےگا۔ آج ہم ایک ایسے دور میں جی رہے ہیں جو ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے عروج کا دور ہے، ہمارے ماہرین فلکیات دوسری کہکشاؤں کے بعد اب نئی کائناتوں کی کھوج میں ہیں۔

لہٰذا وقت کی ضرورت ہے کہ ایک صدی پرانے بنیادی اکائیوں کے اس نظام سے چھٹکارا حاصل کر لیا جائے جس کی بنیاد اجسام پر تھی اور نئے سرے سے اس نظام کی تشکیل کرتے ہوئے ہر اکائی کی یونیورسل مستقل مقداروں سے تشریح کی جائے۔

’معافی مانگتا ہوں، اگلی بار زیادہ محنت کروں گا‘

بولی وڈ مسٹر پرفیکٹشنسٹ عامر خان نے اپنی رواں سال ریلیز ہوئی فلم ’ٹھگس آف ہندوستان‘ کی ناکامی کی پوری ذمہ داری اپنے سر لے لی۔

ہندوستان ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق عامر خان نے اپنے مداحوں سے فلم کی ناکامی پر معافی مانگتے ہوئے کہا کہ انہیں افسوس ہے کہ وہ اس سال اپنی فلم کے ساتھ شائقین کو محظوظ کرنے میں ناکام رہے۔

خیال رہے کہ فلم ’ٹھگس آف ہندوستان‘ رواں ماہ 8 نومبر کو سینما گھروں میں نمائش کے لیے پیش کی گئی تھی۔

اس فلم نے اپنی ریلیز کے پہلے روز اب تک کی سب سے زیادہ پہلے دن کمائی کرنے والی فلم کا ریکارڈ تو حاصل کیا تاہم بعدازاں منفی ریویوز اور شائقین کی برائی کے باعث فلم باکس آفس پر اچھی کمائی کرنے میں ناکام ہوگئی۔

اپنی فلم کی ناکامی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے عامر خان کا کہنا تھا کہ ’میں اس فلم کی ناکامی کی پوری ذمہ داری اپنے اوپر لیتا ہوں، ہم نے اپنی پوری کوشش کی تھی، کچھ لوگوں کو فلم پسند آئی اور میں ان کا شکر گزار ہوں، خوشی ہوئی کہ انہیں فلم پسند آئی، لیکن زیادہ تر افراد کو فلم پسند نہیں آئی، تو یقیناً ہم سے کچھ غلطی ہوئی ہوگی‘۔

اداکار نے مزید کہا کہ ’میں ان تمام ناظرین سے معافی مانگتا ہوں جو ہماری فلم دیکھنے آئے، کیوں کہ میں کوشش کرنے کے باوجود انہیں محظوظ نہیں کرپایا، مجھے ان لوگوں کے لیے بےحد برا لگا جو بہت سی امیدوں کے ساتھ تھیٹر آئے لیکن انہیں فلم پسند نہیں آئی‘۔

عامر خان نے یہ بھی کہا کہ وہ کھل کر فلم کی ناکامی پر بات نہیں کریں گے کیوں کہ ان کی فلم ان کے لیے اولاد جیسی ہے اور کامیابی کی طرح اس کی ناکامی بھی ان کی ہی ہے۔

فلم ’ٹھگس آف ہندوستان‘ جلد چین میں بھی نمائش کے لیے پیش کی جائے گی۔

یاد رہے کہ فلم میں عامر خان کے ساتھ امیتابھ بچن، کترینہ کیف اور فاطمہ ثنا شیخ نے مرکزی کردار ادا کیا۔

فلم کی ہدایات وجے کرشنہ اچاریا نے دی، جس نے اپنی ریلیز کے پہلے روز 50 کروڑ ہندوستانی روپے سے زائد کمائے تھے۔

جبکہ فلم اپنی ریلیز کے اتنے روز بعد اب تک صرف 140 کروڑ ہندوستانی روپے کمانے میںکامیاب ہوئی۔

Google Analytics Alternative