Home » 2018 » November (page 2)

Monthly Archives: November 2018

محمد عباس نیوزی لینڈ کیخلاف تیسرے ٹیسٹ سے باہر

محمد عباس نیوزی لینڈ کیخلاف تیسرے ٹیسٹ میں شرکت نہیں کرپائیں گے۔

متحدہ عرب امارات میں جاری پاکستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان 3 میچوں پر مشتمل ٹیسٹ سیریز 1-1 سے برابر ہے تاہم تیسرے اور فیصلہ کن میچ سے قبل ہی پاکستان کے لیے بری خبر سامنے آئی ہے، قومی ٹیم کے اہم پیسر محمد عباس انجری کے باعث اگلے میچ سے باہر ہوگئے ہیں۔

پریکٹس سیشن کے دوران کندھے کی انجری کا شکار ہونے والے پیسر نے کیویز کے خلاف دوسرے ٹیسٹ میچ میں بھی دواﺅں کا سہارا لیتے ہوئے شرکت کی تھی، ڈاکٹرز نے رپورٹ سامنے آنے کے بعد محمد عباس کو 3 سے 4 ہفتوں تک آرام کا مشورہ دیا ہے، جس کی وجہ سے ان کی جنوبی افریقہ کیخلاف سیریز میں شرکت بھی مشکوک ہوگئی ہے۔

یاد رہے کہ یو اے ای میں پاکستان اور نیوزی لینڈ کے مابین سیریز میں محمد عباس 4 اننگز میں سے 3 میں کوئی وکٹ نہیں حاصل کرپائے، اس سے قبل آسٹریلیا کیخلاف 2 ٹیسٹ میچز میں 17 شکار کرنے میں کامیاب ہوئے تھے۔

فلم ’’زیرو‘‘ کے ہدایت کار نے شاہ رخ کی تعریفوں کے پل باندھ دیئے

 ممبئی: فلم ’زیرو‘ کے ہدایت کارآنند ایل رائے نے بالی ووڈ کنگ شاہ رخ خان کی تعریفوں کے پل باندھ دیئے۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق فلم ’زیرو‘ کے ہدایت کار آنند ایل رائے کا کہنا تھا کہ شاہ رخ خان ایک کامیاب ترین اداکار ہیں جب کہ ان کی جو فلمیں ناکام ہوئیں اس میں  قصور شاہ رخ کا نہیں بلکہ ہدایت کار کا تھا  جنہوں نے فلموں کو بہتر انداز سے پیش نہیں کیا۔

آنند ایل رائے نے کہا کہ میں اتنا کہہ سکتا ہوں کہ فلم ’زیرو‘ بناتے وقت ہم نے خوب انجوائے کیا کیوں کہ ہم جانتے تھے کہ ہم اس فلم میں کچھ مختلف اور نیا کر رہے ہیں اور جہاں تک شاہ رخ کی بات ہے وہ بہت ہی اعلیٰ شخصیت کے مالک اور بہترین اداکار ہیں اور وہ ہمیشہ الگ ہی کردار کی تلاش میں رہتے ہیں۔

ہدایت کار نے کہا کہ دوسرے اداکاروں کے لئے یہ فلم ایک تجربہ ہوگی لیکن شاہ رخ کے لئے یہ فلم ایک موقع ہے لیکن انہوں نے کبھی نہیں کہا کہ کیوں کہ وہ میرے ساتھ پہلی دفعہ کام کررہے ہیں تو  فلم کو احتیاط سے کریں گے،اُن کا جو مقام ہے اور جس طرح کی اُن کی اداکاری ہے اُن کو احتیاط کی ضرورت ہی نہیں۔

واضح رہے کہ آنند ایل رائے کی ہدایت کاری میں بننے والی کنگ خان کی فلم ’زیرو‘ میں کترینہ کیف اور انوشکا شرما بھی مرکزی کردار کرتی نظر آئیں گی جب کہ فلم 21 دسمبر 2018  میں سینما گھروں کی زینت بنے گی۔

کپتان کا مودی کو پھر صائب مشورہ !

asgher ali shad

وزیراعظم عمران خان نے کرتار پور کاریڈور کا افتتاح کرتے ایک بار پھر پاک بھارت تعلقات میں بہتری کی امید کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ماضی صرف سیکھنے کے لیے ہوتا ہے نہ کہ اس میں رہا جائے۔ لیکن پاک بھارت تعلقات کا یہ حال ہے کہ ایک قدم آگے بڑھ کر دو قدم پیچھے چلے جاتے ہیں۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان سب سے بڑا تنازعہ کشمیر کا ہے۔ مبصرین کے مطابق 71 سال گزرنے کے باوجود کشمیر کے مسئلے کو حل نہ کر پانا پورے خطے کے لئے ایک لمحہ فکریہ ہے۔ سبھی جانتے ہیں کہ پاکستان کی جانب سے ہمیشہ کی طرح ایک بار پھر دوستی کا ہاتھ بڑھایا گیا جسے بھارت نے حسب روایت جھٹک دیا ہے۔ دوسری جانب چند روز قبل کراچی کی چینی قونصلیٹ میں جو سانحہ پیش آیا اس کی کڑیاں براہ راست را اور این ڈی ایس سے جا ملتی ہیں۔ مصدقہ ذرائع کے مطابق راء اور NDS نے ہی اس سانحے کی پلاننگ، فنڈنگ اور سہولت کاری کی۔ واضح رہے کہ سانحے میں مرکزی نام حربیار مری اور اسلم بلوچ اچھو کے ہیں ‘ جبکہ باقی سہولت کاروں میں نام نہاد اور خودساختہ ’’کمانڈر‘‘ نور بخش مینگل‘ کریم مری‘ کمانڈر نثار‘ کمانڈر شریف و دیگر شامل ہیں۔ سنجیدہ حلقوں کے مطابق اسلامی تعلیمات کسی بھی طور اس بات کی اجازت نہیں دیتیں کہ مذہب کو بنیاد بنا کر کسی بھی طبقے کے خلاف جبر و استبداد کا طرز عمل اختیار کیا جائے، لہذا ماضی میں اگر کسی بھی جانب سے اس قسم کی روش اپنائی گئی ہے تو اسے کسی بھی طور قابل ستائش نہیں قرار دیا جا سکتا بلکہ ہر سطح پر اس کی حوصلہ شکنی وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ اس ضمن میں یہ بات خصوصی طور پر پیش نظر رہنی چاہیے کہ تمام علمی اور تحقیقی پلیٹ فارم پر شعوری کوشش کی جائے کہ سول سوسائٹی کے تمام حلقوں کی طرف سے قومی سطح پر ایسا بیانیہ تشکیل پا سکے جس کے نتیجے میں باہمی منافرت ، فرقہ وارانہ اور گروہی تعصبات کی حوصلہ افزائی کی بجائے ان کا خاتمہ ممکن ہو سکے ۔ اس حوالے سے ایسا ’’متبادل بیانیہ‘‘ تیار ہونا چاہیے جس کے ذریعے اس امر کو اس کی تمام تر جزئیات کے ساتھ واضح کیا جائے کہ اسلام میں تشدد ، جبر اور انتہا پسندی کسی بھی لحاظ سے قطعاً نا قابل قبول ہیں اور کوئی بھی معاشرہ یا ریاست اس طرز عمل کے فروغ کی اجازت نہیں دے سکتی، کیونکہ یہ قومی ریاست کی تشکیل کے بنیادی اصولوں کے منافی ہے۔ ایسے میں خصوصی طور پر پاکستانی معاشرے کا فرض اولین ہے کہ وہ تمام تر کوششوں کو بروئے کار لاتے ہوئے ’’متبادل بیانیے‘‘ کی تشکیل کو بنیادی ترجیحات میں شریک رکھے۔ انسان دوست حلقوں کے مطابق اسے عالمی امن کی بد قسمتی ہی قرار دیا جانا چاہیے کہ بھارت ، امریکہ اور کابل انتظامیہ تسلسل کے ساتھ وطن عزیز کے خلاف بے بنیاد پراپیگنڈہ کرتی چلی آ رہی ہیں اور یہ سلسلہ ہے کہ رکنے کی بجائے ہر آنے والے دن کے ساتھ دراز سے دراز تر ہوتا چلا جا رہا ہے، ان طبقات کی جانب سے لگاتار پاکستان کے خلاف اس قدر زہریلا پراپیگنڈہ کیا جاتا ہے کہ الامان الحفیظ ۔ اس معاملے کا جائزہ لیتے سنجیدہ ماہرین نے کہا ہے کہ افغانستان پر قابض امریکی افواج نے پچھلے سولہ سال میں افغان عوام اور اس کے سبھی اداروں کا جو حشر کیا ہے وہ افغان تاریخ کا ایسا باب ہے جس پر وہاں کے عوام و خواص میں شاید ہی کسی کو فخر کا احساس ہوتا ہو۔ اس پر طرہ یہ کہ دہلی کی معاونت سے کابل انتظامیہ نے ماضی قریب میں افغانستان کی وہ حالت بنا دی کہ وہ ایک لحاظ سے عبرت کا نشاں بن کر رہ گیا ہے مگر بات یہیں تک محدود رہتی تو شاید پھر بھی غنیمت ہوتا مگر بھارتی خفیہ اداروں ’’را‘‘ اور ’’انڈین آئی بی‘‘ کی شازشوں اور NDS کی کارستانیوں کے نتیجے میں یہ خطہ ارض ٹرمپ، مودی اور اشرف غنی کے گٹھ جوڑ کی جولان گاہ بن کر رہ گیا ہے ۔حالانکہ یہ امر کسی تعارف کا محتاج نہیں کہ پاکستان نے افغان عوام کی خاطر مدد اور ایثار کی جو تاریخ رقم کی وہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں البتہ اسے اس خطے کی بد قسمتی سے ہی تعبیر کیا جا سکتا ہے کہ مملکت خداداد پاکستان کی تمام تر کوششوں کا ثمر اسے یہ دیا جا رہا ہے کہ دہلی کے ایما پر ایک جانب سی پیک کے خلاف سازشوں کا لامتناہی سلسلہ جاری ہے تو دوسری طرف بلوچستان، فاٹا اور کراچی سمیت پاکستان کے کئی علاقوں میں بھارتی دہشتگردی کا عفریت منہ کھولے کھڑا ہے اور وطن عزیز کی بابت ہر قسم کی کہانیاں اور افسانے تراشے جا رہے ہیں اور امریکی حماقتوں کو چھپانے کیلئے ’’ڈو مور‘‘ کا بے سروپا راگ بند ہونے کا نام نہیں لے رہا۔ اس صورتحال کا جائزہ لیتے سنجیدہ مبصرین نے رائے ظاہر کی ہے کہ سبھی جانتے ہیں کہ اصل حقائق اس بھارتی، امریکی اور بعض دیگر طاقتوں کے پراپیگنڈے سے مختلف ہی نہیں بلکہ قطعاً متضاد ہیں اور اصل حقیقت تو یہ ہے کہ را، این ڈی ایس اور سی آئی اے پاکستان کے اندر تخریب کاری کو ہر ممکن ڈھنگ سے فروغ دینے کے لئے کوشاں ہیں اور اس ضمن میں ہر وہ حربہ آزمایا جا رہا ہے جس کا تصور بھی کسی مہذب معاشرے میں نہیں ہونا چاہیے۔ اسی تناظر میں بلوچستان میں دہشتگردی کی نئی لہر گذشتہ چند مہینوں سے جاری ہے اور اسی کے ساتھ ساتھ پاکستان کے دیگر علاقوں میں بھی اسی سلسلے کو پھیلایا جا رہا ہے۔ہندوستان نے ہتھیار اور اسلحہ کی خریداری کے جو بڑے بڑے معائدے کیے ہیں ان کا سیدھا مقصد ہی بھارت کے جنگی عزائم کی معاونت ہے۔ حالانکہ یہ امر بھی کسی سے پوشیدہ نہیں کہ پاکستان کی جری افواج نے بیتے چند برسوں میں دہشتگردی کے خاتمے کے حوالے جو کارنامے انجام دیئے۔ ان کا معترف ہر ذی شعور کو ہونا چاہیے ۔ اس بدیہی حقیقت سے بھی کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ 7000 سے زائد افسر و جوان اپنی جانیں وطن کی حفاظت کے لئے نثار کر چکے ہیں اور ان کے ساتھ لگ بھگ 65000 سویلین پاکستانی شہری لقمہ اجل بنے۔ ایسے میں ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ پوری عالمی برادری اس امر کا اعتراف کرتی اور وطن عزیز کے کردار کو خاطر خواہ ڈھنگ سے سراہا جاتا مگر عملاً اس کے الٹ ہو رہا ہے اور الٹا پاکستان کو ہی موردِ الزام ٹھہرایا جا رہا ہے۔ یہ امر بھی پیش نظر رہنا چاہیے کہ ٹرمپ، مودی اور کابل انتظامیہ نے ڈو مور کی گردان کو اپنا دُم چھلا بنا رکھا ہے اور اٹھتے بیٹھتے اسی کا ورد کرتے رہتے ہیں۔ حالانکہ ’’کلبھوشن یادو ‘‘ جیسے دہشتگرد کی گرفتاری کے بعد بھی اگر دہلی اور این ڈی ایس اپنی پارسائی کے دعوے سے باز نہ آئیں تو اسے جنوبی ایشیاء کی بد قسمتی کے علاوہ بھلا دوسرا نام کیا دیا جا سکتا ہے مگر آفرین ہے بھارتی حکمرانوں اور کابل انتظامیہ پر کہ اپنی شرانگیزیوں پر بجائے نادم ہونے کے وہ اپنی چالبازیوں سے باز آنے کا نام ہی نہیں لے رہے۔ ایسے میں دعا ہی کی جا سکتی ہے کہ خدا وطن عزیز کو دہشتگردانہ ذہنیت کے حامل گروہوں کے شر سے محفوظ رکھے۔ البتہ یہ بات کسی حد تک اطمینان بخش ہے کہ کچھ روز قبل یو این سیکرٹری جنرل نے خطے میں امن کے قیام کی ضرورت پر زور دیا ۔ ایسے میں امید کی جانی چاہیے کہ اس ضمن میں عالمی برادری اپنی وقتی مصلحتوں کو خیرباد کہہ کر اپنا انسانی فریضہ نبھائے گی ۔ علاوہ ازیں قوم کے سبھی سوچنے سمجھنے والے حلقے اپنی قومی ذمہ داریوں کا بروقت احساس کرتے ہوئے نئے سرے سے قومی شیرازہ بندی کو ایک مضبوط و مربوط مہم کی شکل دیں گے۔ اس امر سے بھی سبھی آگاہ ہیں کہ بھارت اور چند دیگر ہمسایہ ممالک کی معاونت سے پاکستان میں بعض حلقے بھی اپنے مخصوص ایجنڈے کے تحت بلوچستان اور دیگر پاک علاقوں میں فرقہ وارانہ بنیادوں پر نسلی و لسانی تعصبات کو ابھار کر باہمی منافرت کو پھیلانے میں عرصہ دراز سے سرگرم ہیں۔ اگرچہ پاک افواج ردالفساد اور ضرب عضب کے ذریعے اس کے تدارک میں بڑی حد تک کامیاب رہی ہیں مگر اس کے باوجود مخالفین اپنے مکروہ عزائم میں کبھی کبھار بوجوہ کامیاب بھی ہو جاتے ہیں ۔

ہیئر کلر کے استعمال نے خاتون کو موت کے منہ میں پہنچادیا

آج کل نوجوانوں میں بالوں کو رنگنا بہت عام ہوچکا ہے مگر کبھی کبھار اس کا انجام کافی برا بھی ہوسکتا ہے جیسا فرانس سے تعلق رکھنے والی 19 سالہ طالبہ کے ساتھ ہوا۔

ایسٹیلا نامی طالبہ کو ہیئر کلر میں پائے جانے والے ایک جز paraphenylenediamine سے ہونے والی شدید الرجی کے باعث ہسپتال میں داخل ہونا پڑا جبکہ اس کا چہرہ غبارے کی طرح پھول کر کسی فٹبال جیسا ہوگیا۔

درحقیقت بالوں کو کلر کرانے کے باعث اسٹیلا موت کے منہ میں پہنچ گئی تھی اور جس جز کی وجہ سے یہ حال ہوا وہ لگ بھگ تمام ہیئر کلرز میں موجود ہوتا ہے، جس کے بعد سے اس لڑکی نے ان مصنوعات کے استعمال کے حوالے سے مہم شرع کی ہے۔

اب بھی اس کے چہرے پر الرجی کے آثار موجود ہیں اور وہ کافی حد تک پھولا ہوا ہے۔

اسٹیلا کے مطابق ‘آپ میرے چہرے پر اس کا اثر دیکھ سکتے ہیں’۔

اسٹیلا نے ایک سپرمارکیٹ سے معروف برانڈ کا ہیئر کلر خریدا تھا اور اسے بالوں پر استعمال کیا۔

اس نے بتایا کہ کلر لگانے کے چند گھنٹے بعد ہی خارش شروع ہوگئی مگر اس وقت طالبہ نے زیادہ پروا نہیں کی اور اس کے لیے بازار سے چند کریمیں لے آئی، مگر بدترین صورتحال تو اس کے بعد سامنے آئی۔

2 دن بعد جب اس نے آئینے میں خود کو دیکھا تو اسے جو نظر آیا وہ کسی دھچکے سے کم نہیں تھا، اس کا سر پھول چکا تھا اور چہرہ ناقابل شناخت ہوگیا تھا۔

طالبہ نے فرانسیسی سائٹ لی پراسین کو بتایا ‘ میرا سر لائٹ بلٹ جیسا ہوچکا تھا’۔

اسٹیلا نے اس کے بعد ہسپتال کا رخ کیا اور ڈاکٹروں نے دریافت کیا کہ اسے paraphenylenediamine کے باعث الرجی ری ایکشن کا سامنا ہوا ہے اور یہ ایسا جز ہے جو کہ 90 فیصد ہیئر کلرز میں پایا جاتا ہے اور الرجی کا خطرہ بڑھانے کی وجہ سے بھی جانا جاتا ہے۔

اس الرجی کے نتیجے میں طالبہ کے سر کا گول دائرہ 22 سے 24 انچ تک سوج گیا تھا۔

ڈاکٹروں نے اسٹیلا کو ہسپتال میں داخل کرلیا اور اسے لگا کہ وہ مرنے والی ہے ‘ ہسپتال پہنچنے سے قبل آپ اندازہ نہیں کرسکتے کہ مجھے دم گھونٹنے کی کیسی تکلیف کا سامنا ہوا’۔

طالبہ نے اپنے چہرے کے پھولنے کی تصاویر فیس بک پر اس انتباہ کے ساتھ پوسٹ کیں کہ دیگر اس طرح کی مصنوعات کے استعمال سے گریز کریں ‘ اب میں ٹھیک ہوں، بلکہ اپنے چہرے کی عجیب ساخت پر ہنستی ہوں’۔

اس کا مزید کہنا تھا ‘ مگر میرا لوگوں کے لیے پیغام ہے کہ وہ ایسی مصنوعات کے حوالے سے بہت زیادہ احتیاط کریں کیونکہ نتائج جان لیوا بھی ثابت ہوسکتے ہیں، اور میں چاہتی ہوں کہ ایسی مصنوعات فروخت کرنے والی کمپنیاں وارننگ کو زیادہ واضح کریں’۔

امریکی سینیٹ کی یمن جنگ میں سعودی عرب کی امداد ختم کرنے کی حمایت

واشنگٹن: امریکی سینیٹرز نے یمن جنگ میں سعودی اتحاد کی حمایت ختم کرنے کیلئے ایوان میں قرارداد لانے کی حمایت کردی۔

یمن جنگ میں سعودی عرب کی امداد روکنے کے حوالے سے قرارداد پیش کرنے اور اس پر بحث کیلئے امریکی سینیٹ میں ووٹنگ ہوئی۔ 63 سینیٹرز نے بحث کے حق میں جبکہ 37 نے مخالفت میں ووٹ کاسٹ کیا۔

اب اس حوالے سے سینیٹ میں ایک حتمی قرارداد پیش کیے جانے کا امکان ہے۔ دوسری جانب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی دی ہے اگر کانگریس نے یمن جنگ کی حمایت ختم کرنے کی حتمی قرارداد منظور کی تو وہ اسے ویٹو کردیں گے۔

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ قرارداد لانے کیلئے یہ مناسب وقت نہیں، کیونکہ اس سے خطے میں ہماری امن کی کوششیں متاثر ہوں گی، جبکہ حوثی باغیوں اور ایرانیوں کی حوصلہ افزائی ہوگی۔

ترکی میں سعودی قونصل خانے میں صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے بعد سے امریکا سمیت دنیا بھر میں سعودی حکومت اور ولی عہد محمد بن سلمان کی مخالفت میں شدید اضافہ ہوا ہے اور امریکا پر سعودی عرب کی غیر مشروط حمایت سے دستبردار ہونے کے لیے کافی دباؤ ہے۔

دوسری طرف ٹرمپ انتظامیہ نے دو ٹوک الفاظ میں موجودہ سعودی حکومت کی حمایت سے دست بردار ہونے سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل کا ذمہ دار ولی عہد محمد بن سلمان کو قرار نہیں دیا جاسکتا۔

ہر طرح کے مسائل اور مشکلات کے باوجود کائنات پھیل کیوں رہی ہے؟

ہماری کائنات پھیل رہی ہے، یہ بات تو بہت سے لوگوں نے سنی ہوگی لیکن 1990 کی دہائی میں ماہرین ایسی دریافت کرنے کو تھے جس کے بعد فلکیاتی میدان میں ایک انقلاب برپا ہوجاتا۔

ماہرین کو اس دریافت سے پہلے یہ معلوم تھا کہ یہ کائنات بگ بینگ یعنی نقطہ آغاز سے مادے اور توانائی کے تیز پھیلاؤ کے بعد وجود میں آئی ہے اور یہ خیال کیا جاتا تھا کہ آج 13 ارب سال سے زائد کا عرصہ گزر جانے کے بعد اس کے پھیلاؤ میں کمی دکھائی دینی چاہیے، لیکن نتائج تو کچھ اور ہی بتا رہے ہیں۔

1998میں ہونے والی اس دریافت میں ماہرین فلکیات کی بین عالمی ٹیم نے حصہ لیا جس میں امریکی آسٹرو فزسسٹ ڈاکٹر آدم ریس، آسٹریلیوی آسٹرو فزسسٹ ڈاکٹر برائن شمٹ اور ڈاکٹر سول پرلمٹر شامل تھے.

یہ سائنسدان ایک قسم کے سپرنووا، جسے سپرنووا ٹائپ ون اے کہتے ہیں، سے آنے والی روشنی کا جائزہ لے رہے تھے.

جب ایک بڑا ستارہ اپنی آخر عمر کو پہنچ جاتا ہے تو وہ زوردار دھماکے کی صورت میں پھٹ جاتا ہے اور خلاء میں اپنے اندر موجود مادے کو پھیلا دیتا ہے، جس کے بعد اسی مادے سے نئے ستارے جنم لیتے ہیں اور اس دھماکے کو فلکیاتی اصطلاح میں سپرنووا کا نام دیا جاتا ہے.

اس کی 2 اقسام ہوتی ہیں، جن میں ٹائپ ون اے اور ٹائپ 2 شامل ہیں، سپرنووا ٹائپ 2 میں ہمارے سورج سے 8 گنا بڑا ستارہ پھٹتا ہے اور بعد میں نیوٹران ستارہ یا بلیک ہول بن جاتا ہے، جبکہ ٹائپ ون اے میں ستاروں کا جوڑا موجود ہوتا ہے، جن میں ایک بونا ستارہ ہوتا ہے جبکہ اس کا ساتھی کوئی بھی دوسرا ستارہ ہوسکتا ہے۔

جب دوسرا ستارہ اپنی آخر عمر کو پہنچ جاتا ہے تو بونا ستارہ اس کی سطح سے مادہ اپنی جانب کھینچنے لگتا ہے اور جب اس بونے ستارے میں موجود مادے کی مقدار ہمارے سورج سے 1.4 گنا زیادہ ہوجاتی ہے تو یہ بونا ستارہ زوردار دھماکے کی صورت میں پھٹ جاتا ہے.

خیال رہے کہ سب سے پہلے 1929 میں مشہور سائنسدان ایڈون ہبل نے یہ دریافت کی تھی کہ کائنات پھیل رہی ہے اور اس کے بعد بہت سے مذہبی و سائنسی نظریات غلط ثابت ہوئے، اسی کائناتی پھیلاؤ کو مدنظر رکھتے ہوئے اس عالمی ٹیم میں موجود ماہرین نے اس کے بارے میں تین طرح کے خیالات پیش کئے جو مندرجہ ذیل ہیں۔

1-کائنات کے پھیلنے میں کمی: اگر کائنات کے پھیلاؤ میں وقت کے ساتھ کمی واقع ہورہی ہے تو ریاضی کی مدد سے حاصل شدہ اس سپرنووا کی روشنی میں زیادتی ہوگی۔

2-کائنات کا مخصوص رفتار سے پھیلاؤ: اگر کائنات کسی مخصوص رفتار سے پھیل رہی ہے تو سپرنووا کی روشنی حساب سے حاصل شدہ روشنی کے برابر ہوگی۔

3- کائنات کے پھیلاؤ میں تیزی: اگر کائنات کے پھیلاؤ میں تیزی واقع ہورہی ہے تو سپرنووا کی روشنی حساب سے حاصل شدہ روشنی سے کم ہوگی۔

کائنات کے پھیلنے پر تحقیق کرنے والے سائنسدان خود حیران ہیں—فوٹو: پی سی او جی ڈاٹ او آر جی
کائنات کے پھیلنے پر تحقیق کرنے والے سائنسدان خود حیران ہیں—فوٹو: پی سی او جی ڈاٹ او آر جی

عالمی ٹیم نے پہلے ریاضی کی مدد سے یہ معلوم کیا کہ اس وقت یہ سپرنووا زمین سے جتنی دوری پر ہے اس حساب سے کتنی روشنی زمین تک پہنچنی چاہیے، ساتھ ہی جب اس کو بڑی دوربینوں سے دیکھا گیا تو آنے والی روشنی کی مقدار حساب لگائی گئی مقدار سے کم تھی. یہ دیکھ کر ماہرین بہت حیران ہوئے اور سوچا کہ شاید دوربین میں کسی طرح کی خرابی ہے، جس وجہ سے ڈیٹا غلط آرہا ہے، لیکن جب دوربین کا رخ اسی قسم کے دوسرے سپرنووا کی جانب گھمایا گیا تو یہ معلوم ہوا کہ یہ ڈیٹا دوربین میں موجود خراب کی نہیں بلکہ کسی حیران کر دینے والی دریافت کی نوید سنا رہا ہے.

جی ہاں! اس وقت ان ماہرین کو اس بات کا علم ہی نہیں تھا کہ انہوں نے ایک ایسی دریافت کرلی ہے جو فلکیات کے شعبہ میں تہلکہ مچا دے گی، اس تجربے کے بعد ان 3 خیالات میں سے تیسرا خیال ثابت ہوا، جس کے مطابق کائنات کے پھیلنے میں وقت کے ساتھ ساتھ تیزی آرہی ہے، لیکن اب یہ بات قابل غور تھی کہ عام طور پر تو ہم دیکھتے ہیں کہ اگر کوئی دھماکا ہو تو وقت کے ساتھ بکھرتے مادے کی رفتار میں کمی آتی ہے اور اگر بگ بینگ کے نظریے جس کے حق میں سائنسدانوں کی اکثریت پائی جاتی ہے کو دیکھا جائے تو اس کے مطابق بھی بگ بینگ نقطہ آغاز سے کائنات کے زوردار پھیلاؤ (دھماکے) کو کہا جاتا ہے تو آج تقریبا 13 ارب سال سے زائد کے بعد تو کائنات کے پھیلاؤ میں بھی کمی واقع ہونی چاہیے جبکہ ایسا دیکھنے میں نہیں آیا.

تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایسی کیا چیز ہے جو کائنات کے پھیلاؤ میں تیزی لارہی ہے؟

اس کو سمجھنے کے لیے ان ماہرین نے ایک اور اصطلاح پیش کی، جسے فلکیات میں “ڈارک انرجی” کا نام دیا گیا.

13 ارب سال گزرنے کے باجود کائنات کا پھیلاؤ جاری ہے—فوٹو: نیو ایٹلس
13 ارب سال گزرنے کے باجود کائنات کا پھیلاؤ جاری ہے—فوٹو: نیو ایٹلس

واضع رہے کہ فلکیات میں اگر کسی بھی چیز کے ساتھ “ڈارک” کا لفظ استعمال کیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ سائنس اس چیز کے بارے میں زیادہ کچھ نہیں جانتی اور نہ ہی اس کا کبھی مشاہدہ کیا گیا ہے، لیکن اس کے اثرات کائنات میں ہر جگہ دیکھنے کو ملتے ہیں.

ڈارک انرجی کے اثرات ہمیں کائنات کے پھیلاؤ کی تیزی میں نظر آتے ہیں، اس دریافت کے تقریبا 13 سال بعد، 2011 میں ان تینوں سائنسدانوں کو اس دریافت پر نوبل انعام سے نوازا گیا.

یہ سب پڑھنے کے بعد ایک سوال ذہن میں آتا ہے کہ اگر ڈارک انرجی موجود ہے اور کائناتی پھیلاؤ جاری ہے تو پھر اربوں سالوں میں سورج زمین سے دور کیوں نہیں چلا گیا؟ یا پھر ستارے ابھی تک کہکشاؤں میں موجود کیوں ہیں؟ ہمیں یہ بھی ہمیں سننے کو ملتا ہے کہ ہماری مِلکی وے کہکشاں اور ہمسایہ کہکشاں اندرومیڈہ قریب آرہی ہیں، تو اس میں کتنی سچائی ہے؟

اس کا آسان جواب یہ ہے کہ اندرومیڈہ کا ہماری کہکشاں کے قریب آنے والی بات بھی اتنی ہی حقیقی ہے جتنی ڈارک انرجی سے کائناتی پھیلاؤ والی بات ہے، کائنات میں ازل سے کشش ثقل اور کائناتی پھیلاؤ کے درمیان “رسہ کشی” چلتی آ رہی ہے.

مثلا نظام شمسی میں سیارے، سورج سے جس فاصلے پر ہیں اس پر کشش ثقل کا اثر ڈارک انرجی کے اثر سے کہیں زیادہ ہے، جس کی وجہ سے یہاں ہمیں کائناتی پھیلاؤ نظر نہیں آتا جبکہ اگر ہم دور کہکشاؤں کا بغور جائزہ لیں تو یہ بات واضع ہوجاتی ہے کہ یہ کہکشائیں ہم سے اتنا دور ہیں کہ اتنی دوری پر کشش ثقل سے زیادہ ڈارک انرجی کا اثر دکھائی دیتا ہے، جس وجہ سے یہ کہکشائیں ہم سے دور جاتی دکھائی دیتی ہیں.

آخر میں میں بس یہی کہوں گا کہ سائنسدان ابھی کائنات کے سربستہ رازوں سے پردے اٹھانا شروع ہوئے ہیں اور آنے والے قابل سائنسدانوں کے پاس سنہری موقع ہے کہ وہ بھی کائنات کے چھپے راز سے دنیا کو آشکار کروائیں اور خلائی تسخیر میں اپنا حصہ ڈالیں۔

لیکن ساتھ ہی یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ کیا کبھی سائنسدان کائنات کے سر بستہ رازوں سے پردہ اٹھانے کے قابل ہو پائیں گے؟

جارجیا کی تاریخ میں پہلی بار خاتون صدر منتخب

تبلسی: جارجیا کے عوام نے صدارتی انتخابات میں پہلی بار ایک خاتون سالومے زور بیشویلی کو صدر منتخب کرلیا ہے جن کا تعلق حکمراں جماعت سے ہے۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق  جارجیا کے الیکشن کمیشن نے بدھ کے روز ڈالے گئے ووٹوں کی گنتی مکمل کرنے کے بعد اعلان کیا کہ سالومے زور بیشویلی قریباً 59 فیصد ووٹ حاصل کرکے صدارتی انتخاب جیت گئی ہیں جب کہ ان کے مدمقابل حزب اختلاف کے امیدوار قریباً 40 فیصد ووٹ حاصل کرسکے۔

صدارتی انتخاب میں کامیابی حاصل کرنے والی سالومے زور بیشویلی نے ملک کی پہلی خاتون صدر بننے کا اعزاز بھی حاصل کرلیا ہے وہ  16 دسمبر کو منصب کا حلف اٹھائیں گی۔

سالومے زور بیشویلی بطور سفارت کار بھی ذمہ داریاں ادا کرچکی ہیں اور حکمران جماعت نے ان کی ذہانت اور صلاحیتوں کے سبب ملک کے اہم ترین عہدے کے لیے اپنا امیدوار نامزد کیا تھا۔

دوسری جانب ہارنے والے امیدوار نے الیکشن میں بے ضابطگیوں کا الزام عائد کیا ہے اور حزب اختلاف کی 11 جماعتوں پر مشتمل اتحاد نے نتائج پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 10 روپے تک اضافے کی سفارش

اوگرا نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 10 روپے تک اضافے کی سفارش کی ہے۔

ذرائع کا بتانا ہے کہ اوگرا کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات میں اضافے کی سمری پیٹرولیم ڈویژن کو ارسال کر دی گئی ہے۔

پیٹرولیم ڈویژن کو بھیجی گئی سمری میں پیٹرول کی قیمت میں 6 روپے 21 پیسے فی لیٹر اضافے کی سفارش کی گئی ہے۔

اس کے علاوہ اوگرا کی جانب سے ڈیزل کی قیمت میں 2 روپے فی لیٹر، مٹی کے تیل کی قیمت میں 9 روپے 91 پیسے فی لیٹر اور لائٹ ڈیزل آئل کی قیمت میں 7 روپے 79 پیسے فی لیٹر اضافے کی سفارش کی گئی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین 17 فیصد جی ایس ٹی کی بنیاد پر کیا گیا، ایف بی آر نے اوگرا کو 17 فیصدجی ایس ٹی کی بنیاد پر قیمتوں کا تعین کرنےکو کہا۔

ذرائع کے مطابق اس وقت پیٹرول پر جی ایس ٹی کی شرح 4.5 فیصد اور ڈیزل پر 12 فیصد ہے جب کہ مٹی کے تیل پر جی ایس ٹی کی شرح 1.5 فیصد ہے۔

خیال رہے کہ گزشتہ ماہ بھی وفاقی حکومت کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا تھا۔

Google Analytics Alternative