Home » 2018 » November (page 20)

Monthly Archives: November 2018

لوئراورکزئی میں مدرسے کے باہر بم دھماکا، 33 افراد جاں بحق اور درجنوں زخمی

ہنگو: کلایا بازار میں واقع مدرسے کے باہر بم دھماکے کے نتیجے میں 33افراد جاں بحق جب کہ 55  سے زائد زخمی ہوگئے۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق لوئراورکزئی کے علاقے کلایا بازار میں واقع مدرسے کے داخلی دروازے کے قریب زوردار دھماکا ہوا، جس کے نتیجے میں 33 افراد جاں بحق اور55 سے زائد افراد زخمی ہوگئے۔ زخمیوں کو طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کردیاگیا جہاں بعض زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے جس کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔

سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات کا آغاز کردیا ہے  تاہم کسی بھی گروپ کی جانب سے دھماکے کی ذمہ داری قبول نہیں کی گئی ہے۔

خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ محمود خان نے دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دشمن قوتیں صوبے کا پرامن ماحول خراب کرنا چاہتی ہیں۔

چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے اورکزئی میں دھماکے کی شدید مذمت کی گئی، انہوں نے کہا کہ بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنانا بزدلانہ عمل ہے اور اس میں ملوث لوگ بھیڑیے ہیں۔ اورکزئی ایجنسی میں دہشت گردی کا واقعہ پوری قوم کے لئے سانحہ ہے، امتحان کی گھڑی میں پوری قوم متحد ہے، دھماکے کے زخمیوں کے بہترین علاج کے لئے فوری اقدامات کئے جائیں۔

سلمان خان کے والد کو دھمکی آمیز پیغام بھیجنے والا شخص گرفتار

ممبئی: بالی ووڈ کے سلطان سلمان خان کے والد سلیم خان کو ’چھوٹا شکیل گینگ‘ سے تعلق رکھنے کی دھمکی دینے والے شخص کو گرفتار کرلیا گیا۔

بھارتی میڈیا کے مطابق ریاست اتر پردیش کے شہر الہ آباد سے تعلق رکھنے والے شہری شاہ رخ غلام نبی نے سلمان کے پرسنل سیکریٹری کا نمبر حاصل کرکے اُن سے رابطہ کرنے کی کوشش کی اور اپنی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اداکار کے ساتھ کام کرنا چاہتا ہے۔

سیکریٹری کی جانب سے انکار کیے جانے کے بعد غلام نبی نے ممکنہ طریقے سے سلمان خان کے والد سلیم خان سے رابطہ کیا اورانہیں دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ اگر سلمان خان کے ساتھ کام کرنے کی اجازت نہیں دی گئی تو انہیں سنگین نتائج بھگتنے پڑیں گے کیوں کہ میرا تعلق ’چھوٹا شکیل گینگ‘ سے ہے۔

اس صوتحال کے مد نظر سیکریٹری نے باندرا کے پولیس اسٹیشن میں دھمکی دینے والے شخص کے خلاف ایف آئی آر درج کرانے کا فیصلہ کیا تاہم پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے نمبر کی مدد سے ملزم کو الہ آباد سے گرفتار کرلیا۔

انسٹاگرام پروفائل ری ڈیزائن ہونے کے قریب

اگر تو آپ فوٹو شیئرنگ کے لیے انسٹاگرام استعمال کرتے ہیں تو بہت جلد یہ اپلیکشن مختلف نظر آئے گی۔

جی ہاں انسٹاگرام میں کافی عرصے سے تبدیلیاں ہورہی ہیں اور اب پروفائل پیج کو بھی بدلا جارہا ہے۔

یہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم آئیکونز، بٹنز اور ٹیبز کے درمیان نیوی گیشن جیسے فیچرز میں تبدیلیاں لانے کا اعلان کرچکی ہے۔

یہ ری ڈیزائن ایکسپلور ٹیب یا الگورتھم فیڈ جیسی ڈرامائی تو نہیں مگر پروفائل پیج بالکل بدل جائے گا۔

انسٹاگرام نے بلاگ پوسٹ پر اعلان کیا کہ تصاویر اور ویڈیوز کا گرڈ انداز تو نہیں بدلے گا مگر اوپر موجود آئیکون الفاظ بدل جائیں گے جیسے گرڈ، پوسٹس، آئی جی ٹی وی اور ٹیگڈ۔

پروفائل تصویر دائیں کونے میں چلی جائے گی، جبکہ یوزر نیم زیادہ بڑے الفاظ میں پیج کے اوپر منتقل ہوجائے گا جبکہ فالورز اور فالونگ کے سیکشن پہلے سے کم نمایاں ہوجائیں گے جبکہ پوسٹ کی جانے والی تصاویر کی تعداد غائب کردی جائے گی۔

اسی طرح فالو اور میسج بٹن بھی پروفائل پیجز پر ٹیسٹ کیے جارہے ہیں جبکہ بزنس پیجز میں اسٹار آرڈر کا آپشن بھی دیا جائے گا۔

کمپنی کے مطابق ہم ان تبدیلیوں پر کام کررہے ہیں اور ان کو مختلف انداز سے لوگوں میں آئندہ چند ہفتوں کے دوران ٹیسٹ کیا جائے گا، ان کے فیڈبیک کے مطابق اس کو مزید بہتر کیا جائے گا۔

انسٹاگرام کے شریک بانیوں کی جانب سے کمپنی کو الوداع کہنے کے بعد سے اس ایپ میں کافی تبدیلیاں کی گئی ہیں۔

اکتوبر اور نومبر کے دوران اس پلیٹ فارم میں روزانہ گزارے جانے والے وقت کو جاننے کے لیے یور ایکٹیویٹی کا فیچر متعارف کرایا گیا، نئے نئے شاپنگ فیچرز جبکہ ایک نیا نیم ٹیگ فیچر بھی دیا گیا ہے۔

اسی طرح جعلی لائیکس اور فالورز کے خلاف بھی کارروائی شروع کی گئی ہے اور تھرڈ پارٹی ایپس کی مدد سے حاصل کیے جانے والے فالورز، لائیکس اور کمنٹس کو ہٹایا جارہا ہے۔

پی ایس ایل 4 میں 44 سالہ مصباح الحق منتخب، کئی نوجوان منہ دیکھتے رہ گئے

لاہور: پی ایس ایل فورکے ڈرافٹ میں 44سالہ مصباح الحق منتخب جبکہ کئی نوجوان کرکٹر منہ دیکھتے رہ گئے۔

اسلام آباد میں ہونے والے پی ایس ایل فور ڈرافٹ میں تمام فرنچائز ٹیموں نے اپنے 16رکنی اسکواڈز مکمل کرتے ہوئے سپلیمنٹری کھلاڑی بھی منتخب کرلیے، اسلام آباد یونائیٹڈ کا مینٹور بننے کے بجائے بطور پلیئر کھیلنے کیلیے بے تاب مصباح الحق کو حیران کن طور پر پشاور زلمی نے اپنی ٹیم میں شامل کرلیا۔

انٹرنیشنل کرکٹ سے ریٹائرڈ 44سالہ کھلاڑی گزشتہ سیزن میں اسلام آباد کی جانب سے کھیلتے ہوئے اچھی فارم میں نظر نہیں آئے تھے۔ ڈیرن سیمی کی موجودگی میں پشاور زلمی کے پاس قیادت کا فقدان بھی نہیں تھا، اس کے باوجود مصباح الحق کو منتخب کیا گیا۔

دوسری جانب ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ کا تقاضا ہونے کے باوجود کئی نوجوان کرکٹرز کو کسی ٹیم نے بھی منتخب نہیں کیا،اظہر علی اور اسد شفیق جیسے سینئرزکو نظر انداز کردیا گیا، عبدالرزاق نے کم بیک کیلیے رواں سال ڈومیسٹک کرکٹ بھی کھیلی،ان سمیت عمران نذیر کی بھی پی ایس ایل کھیلنے کی خواہش پوری نہیں ہوسکی۔

ماضی میں عالمی ٹی ٹوئنٹی رینکنگ میں سر فہرست رہنے والے عمرگل،اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل 2010  میں سزا پانے والے سلمان بٹ اور محمد آصف بھی کسی ٹیم میں جگہ نہیں بنا سکے، ،فواد عالم کو بھی کسی نے منتخب نہ کیا۔

کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے عمراکمل کو منتخب کیا، ساتھ احمد شہزاد کو بھی سپلیمنٹری کیٹیگری میں لے لیا،اوپنر کو بوقت ضرورت ہی طلب کیا جائے گا۔

کیموتھراپی کے بغیر کینسر کے علاج کا انقلابی طریقہ دریافت

روزانہ ہمارے جسم میں لاکھوں خلیات ‘خود کو مار دیتے’ ہیں اور جلد ہی خارج ہوجاتے ہیں۔

ویسے تو یہ میکنزم پڑھنے میں ڈرامائی لگتا ہے مگر حقیقت میں ہماری صحت کے لیے فائدہ مند ہے کیونکہ اس سے مضر صحت خلیات خود کو ختم کرلیتے ہیں اور ہم امراض سے بچتے ہیں۔

مگر جب بات کینسر زدہ خلیات کی ہو وہ جسم کے مدافعتی نظام کے خودکار طور پر ختم ہونے کے سگنلز کو نظرانداز کرکے خود کو بچاتے ہیں اور یہی چیز انہیں جان لیوا بناتی ہے۔

موجودہ عہد میں طب کا شعبہ بہت ترقی کرچکاہے اور اس کے ساتھ ساتھ کینسر کے کیسز کی تعداد بھی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔

کچھ عرصے پہلے انٹرنیشنل ایجنسی فار کینسر ریسرچ نے ایک تخمینہ پیش کیا تھا کہ رواں سال ایک کروڑ 80 لاکھ افراد میں کینسر کی تشخیص ہوگی جبکہ ایک کروڑ افراد اس مرض کے نتیجے میں ہلاک ہوگئے، جو کہ اس مرض سے ہلاکتوں کی سب سے بڑی تعداد بھی ہوگی۔

مگر اب سائنسدانوں نے کینسر سے نمٹنے کا ایک انقلابی طریقہ علاج دریافت کرلیا ہے۔

امریکا کی نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی نے خلیات کے خاتمے کا ایک ‘جینیاتی کوڈ’ دریافت کیا ہے جسے کیموتھراپی کے بغیر کینسر کے علاج کے لیے استعمال کیا جاسکے گا۔

گزشتہ سال تحقیق میں سائنسدانوں نے دریافت کیا کہ جسم میں تمام خلیات کا ایک کوڈ ہوتا ہے جو کہ اس کی موت کا پروگرام حرکت میں لاتا ہے مگر اس وقت وہ اسے کوڈ کے میکنزم کو حرکت میں لانے کا طریقہ تلاش کرنے میں ناکام رہے۔

مگر اب محققین نے نئے مقالے میں بتایا گیا کہ وہ اس بات کو جاننے میں کامیاب ہوگئے ہیں کہ یہ کوڈ کس طرح کام کرتا ہے۔

اس کوڈ سے کینسر زدہ خلیات کو کیمیائی مادے کے استعمال کے بغیر ہی کمزور بنانے میں مدد ملے گی۔

اس نئی تحقیق کے مطابق یہ کوڈ ریبونیوکلورک ایسڈ (آر این اے) اور مائیکرو آر این ایز میں دستیاب ہوتا ہے، آر این اے مالیکیولز کی معمولی مقدار موثر طریقے سے کینسر کے خلیات کو مار کستی ہے، یہ وہ طریقہ کار ہے جو عام طور پر کیموتھراپی میں استعمال کیا جاتا ہے۔

محققین نے دریافت کیا کہ کینسر زدہ خلیات ان مالیکیولز کے خلاف مزاحمت کرنے سے قاصر رہتے ہیں اور یہ میکنزم ممکنہ طور پر رسولی کے خلاف اچھا طریقہ علاج ثابت ہوسکتا ہے۔

محققین نے بتایا کہ جب ہم اس قاتل کوڈ کے بارے میں جانتے ہیں، ہم اس طریقہ کار کو کیموتھراپی کے بغیر حرکت میں لاسکتے ہیں اور اس سے جینوم کو نقصان بھی نہیں پہنچے گا۔

آسان الفاظ میں کینسر کے خلاف طاقتور ترین ہمارے ہمارے خلیات میں ہی موجود ہے بس اسے حرکت میں لانے کی ضرورت ہے۔

کیموتھراپی کے جسم پر انتہائی نقصان دہ اثرات مرتب ہوتے ہیں اور محققین کی ٹیم ایسا طریقہ کار تشکیل دینے کی کوشش کررہی ہے جو قدرتی طور پر کینسر زدہ خلیات کے خاتمے کے میکنزم کو حرکت میں لاسکے۔

محققین کے مطابق پہلے جانوروں پر اسے آزمایا جائے گا اور پھر انسانوں کی باری آئے گی، یعنی کچھ برس لگ سکتے ہیں مگر یہ کینسر کے خلاف جنگ میں ایک انقلابی قدم ضرور ثابت ہوگا۔

اس نئی تحقیق کے نتائج جریدے جرنل نیچر کمیونیکشن میں شائع ہوئے۔

افغان آرمی بیس کی مسجد میں خود کش دھماکا، 26 اہلکار ہلاک

کابل: افغانستان کے فوجی اڈے کی مسجد میں نماز جمعہ کے دوران حملہ آور نے خود کو دھماکے سے اُڑا لیا جس کےنتیجے میں 26 اہلکار ہلاک اور 25 زخمی ہوگئے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق افغانستان کے صوبے خوست میں واقع ایک فوجی اڈے کی مسجد میں نماز جمعہ کی ادائیگی کے لیے بڑی تعداد میں افسران اور سپاہی موجود تھے کہ زوردار دھماکا ہوگیا۔

خود کش دھماکے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 26 ہوگئی ہے، سرکاری میڈیا کے مطابق 25 اہلکار زخمی ہیں تاہم آزاد ذرائع زخمیوں کی تعداد 50 سے زائد بتا رہے ہیں۔ زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کردیا گیا جہاں 6 کی حالت نازک ہونے کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔

افغان آرمی کی سیکنڈ رجمنٹ کے ترجمان کیپٹن عبداللہ کا کہنا ہے کہ ہلاک اور زخمی ہونے والے اہلکاروں کا تعلق ضلع مندوزئی کی سیکنڈ رجمنٹ سے ہے۔ خود کش دھماکے کی ذمہ داری تاحال کسی شدت پسند گروہ نے قبول نہیں کی ہے۔

واضح رہے کہ ماہ ربیع الاول کی مناسبت سے سیرت النبیﷺ کی ایک تقریب میں خود کش دھماکے میں درجنوں افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

ترقی وخوشحالی کے عملی اقدامات

پاکستان ایک زرعی ملک ہے اور اس ملک کو قائم ہوئے ستر سال ہونے کو ہیں لیکن ان ستر سالوں میں ہم نے یہ دیکھا ہے کہ دنیا کے دیگر ممالک کی طرح پاکستان نے ترقی کرنے کے بجائے تنزلی کا سفر کیا ہے اس کی بنیادی وجہ ہے کیا؟یہ وہ بنیادی سوال ہے جس کا جواب ہر کوئی جاننا چاہتا ہے ہر آنے والی حکومت خزانہ خالی دیکھاتی ہے اور اس کو بھرنے کی کوشش میں لگ جاتی ہے ایسے میں چھریاں ایک بار پھر عوام پر ہی چلائی جاتی ہیں اور عوام بے چارے بڑی آسانی سے قربان ہوتے جاتے ہیں لیکن یہاں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ آخر یہ خزانہ خالی کرتا کون ہے ؟اس بات کا اگر جواب ڈھونڈا جائے تو کھرا زیادہ تر حکمران طبقے تک جاتا ہی نظر ااتا ہے پچھلے سترسالوں میں سب سے زیادہ پاکستان کو نقصان پہنچا بھی اسی حکمران طبقے کی وجہ ہے موجود حکومت کو عوام نے مینڈیٹ اس لئے دیا تھا کہ وہ تبدیلی لائیں گے اور اس ملک کے پسی ہوئی عوام کو اس مہنگائی بے روزگاری،دہشت گردی سے نکال کر اس کی مشکلات کو کم کریں گے مگر سابقہ حکومتوں کی طرح آتے ہی خزانہ خالی اور دیگر مجبوریوں کو سامنے لا کر ایک بار پھر عوام سے قربانی مانگی گئی جو کہ حسب سابق عوام نے دی مگر یہ قربانی اب بہت زیادہ ہو چکی ہے عوام اس سیے زیادہ کی استطاعت نہیں رکھتے شاید یہی وجہ ہے کہ عوام اب حکومت کے سو دن مکمل ہونے کے بعد اس سے اچھے کی توقع کی آس لگائے بیٹھے ہیں حکومت اگر باقی اشیاء پر جو مرضی ٹیکس لگائے مگر کھانے پینے کی اشیاء کو ٹیکس فری کر کے عوام کو ریلیف دے تو کوئی وجہ نہیں کہ عوام اس حکومت کے گھن گھانے لگے اپوزیشن میں بیٹھ کر جب عمران خان صاحب کھانے پینے کی اشیاء کو ٹیکس فری کرنے کی بات کرتے تھے تو انھیں آتے ہی یہ اقدام سب سے پہلے اٹھانا چاہیے تھا لیکن اس کے بر عکس تیل ،پانی، بجلی، گیس اور سیمنٹ کی قیمتوں میں ہونے والے ہوش ربااضافے نے تو عوام کی چینخیں نکال د ی ہیں جب بھی پاکستان میں گیس و بجلی اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمیتوں میں اضافہ ہوتا ہے تو مہنگائی کا ایک لامتناہی طوفان برپا ہو جاتا ہے جس کو روکنے میں ادارے بھی ناکام ہو جاتے ہیں ذخیرہ اندوز اس بہتی گنگال میں خوب ہاتھ دھوتے ہیں پچھلے 4 سالوں کی نسبت افراط زر میں دگنا اضافہ ہوا ہے، جس کی وجہ سے مہنگائی بھی قابو سے باہر ہوگئی ہے، افراط زر کو کنٹرول کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے، ایسی پالیسیاں بنانے کی ضرورت ہے جس سے افراط زر میں اضافے کو روکا جاسکے، کیونکہ اگر پاکستان کا پسا ہوا غریب طبقہ مزید پسے گا تو ایک اور بحران جنم لے سکتا ہے، جسے حکومت کیلئے قابو کرنا مشکل ہو جائے گاعام آدمی کے مسائل کا حل صرف اشیاء ضروریہ کو سستا کرنے میں ہے آج کے دور میں دو دو نوکریاں کرکے بھی لوگوں کا گزارہ مشکل ہوگیا ہے، پاکستانی کرنسی کی قدر میں گراوٹ بھی مہنگائی کا سبب بنتی ہے، اس لئے ایسے معاشی اقدامات اٹھانے کی اشد ضرورت ہے جن سے روپے کی ساکھ مضبوط ہو سکے، اس کے علاوہ ملک میں کرپشن بھی اقتصادی مسائل میں اہم کردار ادا کرتی ہے، حکومت اسے کنٹرول کرنے کی ہر ممکن کوشش میں لگی ہوئی ہے عوام امید کرتے ہیں کہ اس پر جلد قابو پالیا جائے گا کیونکہ جب تک معاشرہ کرپشن فری نہیں ہوتا، تب تک کوئی قوم ترقی نہیں کرسکتی۔حکومتوں کا فرض ہوتا ہے کہ اپنی عوام کو ضرورت زندگی کی اشیاء سستے داموں مہیا کریں لیکن ایسا نہیں ہورہا ہے، کھانے پینے کی اشیاء سے لے کر عام مصنوعات تک مہنگی ہوگئی ہیں اگر بڑھتی قیمتوں کو کنٹرول نہ کیا گیا تو آنے والے دنوں میں مزید مہنگائی ہوسکتی ہے، اس لئے ابھی سے کام شروع کرنے کی ضرورت ہے، قیمتوں پر قابو پانے کیلئے ذخیرہ اندوزوں کیخلاف کارروائی بھی کرناہوگی، ان کے گوداموں پر چھاپے مارے جائیں جن کی وجہ سے مصنوعی قلت پیدا کی جاتی ہے، ایک صورت یہ ہو سکتی ہے کہ مہنگائی کے ساتھ ساتھ عام عوام کی آمدن میں بھی اضافہ کیا جائے تاکہ اس پر مہنگائی کا بوجھ نہ پڑے لیکن فی الحال حکومت کیلئے ایسا کرنا ممکن نظر نہیں آتا کیونکہ اگر آمدن سے زیادہ اخراجات ہوں گے تو مزید مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔پاکستان ایک زرعی ملک ہے، ہمیں اس کی زراعت پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے تاکہ ملک خوراک میں خود کفیل ہوسکے، غذائی قلت اور ضروری اشیاء کی برآمدات سے بھی معیشت پر بوجھ پڑتا ہے، اس لئے ضروری ہے کہ کسانوں کوسہولیات فراہم کی جائیں ان کی بنیادی ضروریات کو سستا کیا جائے اور ایسے اقدامات کیے جائیں جس سے کسان خوشحال ہو سکے اس کے لئے اقدامات میں تسلسل لانے کی ضرورت ہے اگر پاکستان تحریک انصاف اپنے دیے گئے منشور کے مطابق کام کرتی رہی تو کوئی وجہ نہیں کہ یہ اپنے پانچ سال پورے کر لے لیکن ساتھ ہی اگر اس نے اپنی لائن تبدیل کی اور سیاسی انتقام یا دیگر سیاسی بھکیڑوں کی طرف جانے کی کوشش کی مشکلات کا سامنا بھی کر سکتی ہے اس ملک میں بے روزگاری کی بڑی وجہ دولت کی غیرمساوی تقسیم بھی ہے ملک کی دولت کا بڑا حصہ صرف چند خاندانوں کے ہاتھوں میں جس سے غریب غریب تر اور امیر امیر تر ہوتا جا رہا ہے اس دولت کی غیر مساوی تقسیم پر قابو پانے کیلئے حکومت کو کوئی لائحہ عمل اختیار کرنا ہوگا، ذاتی مفادات کو بالائے طاق رکھ کر عوامی مفادات کے حل کیلئے کوشش کرنا ہوگی، اگر پی ٹی آئی اپنے دور اقتدار میں عام آدمی کیلئے ترقی اور خوشحالی جیسے عملی اقدامات لانے میں کامیاب ہوجاتی ہے تویہ اس کی بہت بڑی کامیابی ہو گی جس کا کریڈٹ وہ اگلے انتخابات میں بھی لے سکتی ہے دوسری صورت میں عوام کا فیصلہ حتمی ہو تا ہے ۔

 

آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ ملکی معیشت کی بہتری کیلئے کریں گے، اسد عمر

 اسلام آباد: وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ ملکی معیشت کی بہتری کے لئے کریں گے۔

قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے اسد عمر نے کہا کہ میں آج ایوان کو آئی ایم ایف پروگرام پراعتماد میں لینے آیا تھا لیکن اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ وزیر خزانہ سی پیک کے خلاف بات کرتا ہے تو چین کو مثبت پیغام نہیں جائے گا، حالانکہ میں نے آج تک سی پیک کے خلاف بات نہیں کی،سی پیک پر سیاست نہ کی جائے۔

شہباز شریف کی باتوں کے جواب میں اسد عمر نے کہا کہ پہلا این آر او وہ تھا جب ایک ڈکٹیٹر کے ساتھ معاہدہ ہوا اور 7 سال کوئی فیصلے نہ ہوسکے، آپ نے معاہدہ کیا اور پارٹی رہنماؤں کو چھوڑ کرباہر چلے گئے ، آمر کے دور میں جب سب کوڑے کھارہے تھے تب نواز شریف اس کے وزیر تھے، یو ٹرن وہ ہوتا ہے جب آپ زرداری کو سڑکوں پر گھسیٹنے کا اعلان کریں اور بعد میں ان ہی کا سہارا لیں۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ قائد حزب اختلاف کو خدشہ ہے وزیر اعظم کے بیان سے سرمایہ کاروں کے ذہن میں شکوک پیدا ہوں گے، اپوزیشن لیڈر کو یقین دلانا چاہتا ہوں حکومت ایسے فیصلے نہیں کرے گی جیسے مسلم لیگ نون نے کئے،ان کی حکومت نے لوگوں کے اربوں ڈالر منجمد کئے، (ن) لیگ کی حکومت میں ڈیزل پر 101 فیصد ٹیکس تھا جسے ہم نے5 گنا کم کیا۔

شہباز شریف کہتے ہیں کہ قطرہ بھی نظر نہیں آیا کہ بیرونِ ملک پاکستانی پیسہ بھیجیں گے جب کہ حقیقت یہ ہے کہ بیرون ملک پاکستانیوں کی ترسیلات زر میں تین ماہ کے اندرساڑھے پندرہ فیصد اضافہ ہوا، 3 ماہ میں ایک ارب ڈالر اضافی بھیجے جا چکے ہیں، اس ایوان کومحب وطن اوورسیزپاکستانی کوسلام پیش کرنا چاہیے۔

اسد عمر نے کہا کہ ہماری معیشت کو تجارتی خسارہ اور کرنٹ اکاؤنٹ ڈیفیسٹ دو بڑی مشکلات درپیش ہیں، ہم سود کی ادائیگی کیلئے قرضے لے رہے ہیں، چاہتے تو ٹیکس بڑھا کر مہنگائی میں اضافہ کر سکتے تھے، آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ ملکی معیشت کی بہتری کیلئے کریں گے، ہمیں کوئی جلدی نہیں، ہم نے متبادل انتظام کر لیا ہے، آئی ایم ایف کیساتھ جو بھی معاہدہ ہوگا ایوان کو اعتماد میں لیں گے۔

Google Analytics Alternative