Home » 2018 » November (page 3)

Monthly Archives: November 2018

آئی جی اسلام آباد تبدیلی؛ جے آئی ٹی نے اعظم سواتی کو ذمہ دار قرار دے دیا

اسلام آباد: آئی جی اسلام آباد جان محمد کی تبدیلی سے متعلق سپریم کورٹ کے حکم پر تشکیل دی گئی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے وفاقی وزیر برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اعظم سواتی کو ذمہ دار قرار دے دیا ہے۔

سپریم کورٹ میں چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں آئی جی اسلام آباد جان محمد تبادلہ کیس کی سماعت ہوئی جس میں 5 جلدوں پر مشتمل جے آئی ٹی رپورٹ پیش کی گئی۔ رپورٹ میں وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اعظم سواتی کا موقف مسترد کرتے ہوئے کہا گیا کہ اعظم سواتی نے غلط بیانی کی، ان کے لئے خصوصی رویہ اپنایا گیا ہے اور انہوں نے اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کیا۔ جب کہ پولیس نے وقوعہ کے بعد آغاز سے ہی درست انداز میں تحقیقات نہیں کیں، پولیس نے نیاز محمد کے ساتھ لڑائی کے دوران وفاقی وزیر کو خصوصی ترجیح دی۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا متاثرہ فیملی کے نیاز محمد نے بتایا کہ جرگہ کے دباؤ پر راضی نامہ کیا گیا، بطور پشتون وہ جرگے کو انکار نہیں کرسکتا تھا، راضی نامے کے بعد اعظم سواتی کی اہلیہ متاثرہ فیملی کی خواتین کے لئے کپڑے لے کر آئی، اعظم سواتی کی اہلیہ نے بیٹے کو اسکول داخل کروانے کی بھی پیشکش کی جب کہ عثمان سواتی کے ایک ملازم نے معاملہ رفع دفع کرنے کے لئے رقم کی بھی پیشکش کی، تاہم متاثرہ فیملی نے رقم لینے سے انکار کردیا، اعظم سواتی کی فیملی نے راضی نامہ سپریم کورٹ کے از خود نوٹس کے بعد کیا۔

کرتارپور راہداری سے پاکستان اور بھارت میں امن آئے گا، نوجوت سدھو

لاہور: سابق بھارتی کرکٹر نوجوت سنگھ سدھو کا کہنا ہے کہ کرتار پور راہداری کا کھلنا ایک سال میں 100 سال کی ترقی کے مترادف ہے اور اس سے دونوں ممالک میں امن آئے گا۔

بھارت روانگی کے موقع پر واہگہ بارڈر پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے نوجوت سنگھ سدھو کا کہنا تھا کہ کرتارپور راہداری کھلنے سے بہت سے دروازے کھلیں گی، وزیراعظم عمران خان نے برسوں کا کام 3 ماہ میں مکمل کیا، صرف کرتارپور راہداری نہیں بلکہ پاکستان نے پارس کو چھولیا ہے۔ راہداری کا کھلنا ایک سال میں 100 سال کی ترقی کے مترادف ہے، دونوں پنجاب کا آپس میں جڑنا ایک نعمت ہے جب کہ اس سے دونوں ممالک میں امن آئے گا۔

بھارت روانگی سے قبل سابق بھارتی کرکٹر نوجوت سنگھ سدھو پاکستانی بازاروں میں نکل پڑے اور شاپنگ کے لیے مختلف دکانوں کا رخ کیا، نوجوت سدھو نے من پسند سنہری تلے والے جوتے خریدے جب کہ پاکستانی دکاندار نوجوت سندھو پر محبت نچھاور کرنے میں پیش پیش تھے۔

‘وزن بڑھنے پر مجھے فلم سے نکال باہر کیا گیا’

پیڈمین، سیکرڈ گیمز اور اندھا دھن جیسی فلموں سے شہرت حاصل کرنے والی اداکارہ رادھیکا آپٹے بظاہر عروج کی جانب گامزن نظر آتی ہیں مگر اب بھی انہیں جدوجہد کا سامنا ہے۔

ممبئی مررر کو دیئے گئے انٹرویو میں اداکارہ نے بتایا کہ بولی وڈ میں آگے بڑھنے کی جدوجہد کیسی ہوتی ہے۔

انہوں نے تسلیم کیا ‘اب جس طرح کے کرداروں کی پیشکش مجھے کی جارہی ہے، 4 سال قبل میں کبھی مسترد نہیں کرتی مگر نام بنانے کے بعد کرداروں کو چھوڑنا کسی تبدیلی سے کم نہیں’۔

ان کا کہنا تھا ‘یہاں کچھ درست یا غلط نہیں مگر جو کچھ آپ کرتے ہیں اس کا ایک نتیجہ ہوتا ہے اور آپ کو اس کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہونا پڑتا ہے۔ آپ کو لگتا ہے کہ آپ جانتے ہیں کہ چیزیں کس طرح کام کرتی ہیں مگر ایسا کچھ نہیں ہوتا’۔

رادھیکا نے انکشاف کیا کہ وہ بچپن سے ہی اداکاری کے شعبے میں جانا چاہتی تھیں اور آغاز میں انہیں تھیٹر میں جدوجہد کا سامنا ہوا اور طالبعلمی کے قرضے چکانے کے لیے فلمیں کیں اور پھر انہیں بریک ملا۔

وہ ہمیشہ سے جانتی تھیں کہ مین اسٹریم سینما میں کام کا اکثر صلاحیت سے کچھ زیادہ لینا دینا نہیں ہوتا ‘آپ بہت خوش قسمت ہوتے ہیں جب آپ ایسے نظر آئیں جیسے پروڈیوسرز تلاش کررہے ہوتے ہیں’۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ کچھ عرصے پہلے انہیں ایک کردار کے لیے منتخب کرلیا گیا مگر کنٹریکٹ پر دستخط کے دوران مسترد کردیا گیا ‘ ان کا کہنا تھا کہ میں نے بہت زیادہ وزن بڑھا لیا ہے اور مجھے نکال باہر کیا گیا، میں نے انہیں کہا کہ میرے پاس شوٹنگ کے لیے 2 ماہ ہیں جس کے دوران میں وزن کم کرلوں گی مگر وہ انتظار نہیں کرنا چاہتے تھے’۔

اب بھی رادھیکا کو آڈیشن کے عمل سے گزرنا پڑتا ہے اور غیرملکی پراجیکٹس کے لیے مسترد کرنے کے عمل سے بھی گزرنا پڑتا ہے۔

تاہم وہ کہتی ہیں ‘مجھے اب بھی اکثر مسترد کیا جاتا ہے مگر آپ اس کے عادی ہوجاتے ہیں، آپ کا غصہ ختم ہوچکا ہوتا ہے اور آپ کو احساس ہوتا ہے کہ یہ ذاتی معاملہ نہیں’۔

رادھیکا کے خیال میں یہ اچھا ہے کہ اب بھی آڈیشن کے لیے ان کے نام پر غور کیا جاتا ہے۔

بے انصافی غیر انسانی رویہ

انصاف‘ کے ساتھ دنیا میں جہاں کہیں بے ا نصافی کاغیرانسانی رویہ جب بھی برتا گیا یا آئندہ کبھی برتا جائے گا ایک اٹل اورطے شدہ اصول ہرکسی کے پیش نظررہنا چاہیئے بے انصافی کے جبر و قہر کے ایسے گھٹن زدہ معاشرے میں انصاف کبھی مٹا نہیں کبھی مغلوب ہوا نہیں‘ بلکہ اورزیادہ سچائی کے ساتھ اپنی مظلومیت کی طاقت کومجتمع کر کے ظالم ‘سفاک طاقتور اورباطل قوتوں کی بہیمانہ روش کو ’انصاف‘ نے للکاراضرور ہے ،مطلب یہ کہ’ بے انصافی’کبھی مہربہ لب نہیں رہی، اگر کبھی’خاموش رہی بھی ہے تواْس کے سا تھ روا رکھی جانے والی ہر بے انصافیوں کی روح فرسا روداد ہرزما نے تک پہنچی ہے، یہ فطرت کا قانون ہے یہی ہیں حقائق کہ جب تک انصاف کے ساتھ’حقیقی اورقرارواقعی انصاف‘ہونہیں گیا ’انصاف‘ مسلسل احتجاج میں رہا وقت نے ثابت کردیاکہ’انصاف کے ساتھ ہونے والی بے انصافیوں کی مضطربانہ’خاموشی’ کی آہیں تاریخ نے انصاف کے دشمنوں کے چہروں کوبے نقاب کرنے کیلئے رقم کیئے تاکہ ہرزمانے کے لوگوں تک اصل سچائی پہنچ سکے’یادر ہے کہ انصاف ایک بڑی نمایاں حقیقی سچائی ہے جواپنے موجود ہونے کا ایک حوالہ بن کر ازل سے اب تک ہمیشہ سے کائنات کی تاریخ کے صفحات میں زندہ وتابندہ ہے، آ ج تک’ انصاف‘ کوکوئی شکست نہیں دے سکا، دنیا میں ہمیشہ انصاف کا ہی بول بالاہوا ہے جن معاشروں میں انصاف اورحق کی شنوائی وقتی طورپرریاستی طاقت کے زورپردبادی گئی ہو کئی اقسام کی اخلاقی’سیاسی’سماجی اورثقافتی بداعمالیوں میں گھرے ایسے معاشرے تاریخ میں ہمیشہ بیمارمعاشرے‘ کہلائے گئے جہاں کمزورمزید کمزور ہو جاتے ہیں’طاقت وروں کا ظلم بڑھتا جاتا ہے ا نسانوں کے بنیادی حقوق اْن جیسے عام انسان خود سلب کرلیتے ہیں، انسانوں میں جب سے ‘میں’ آئی ہے انسان بڑامتکبر ہوگیا ہے زیادہ تمحیدی گفتگو سے پہلوبچاتے ہوئے راقم کا اشارہ وطن عزیز پاکستان کے پڑوسی ملک بھارت کی جانب اس وجوہ سے ہوا ہے کہ بھارتی پریس نے اپنی نمایاں خبروں کا رخ اچانک پاکستانی معاشر ے کی جانب کرلیااورپاکستانی سماج کونشانہ بناتے ہوئے نسلی وفرقہ ورانہ منافرت سے تشبیہ دی جانے لگی ان بھارتیوں کا کاواویلا ہے کہ پاکستانی سماج اقلیتوں کوبرداشت نہیں کرتا؟بھارتی پریس کہتا ہے کہ پا کستان میں خواتین کے حقوق امتیازی سلوک سے دوچارہیں؟اس پر بحیثیت پاکستانی ہم بات کرنا چاہیں گے حالیہ دنوں میں پاکستانی سپریم کورٹ کے ایک اہم فیصلہ جس میں’آسیہ بی بی کیس‘ میں پا ئے جانے وا لے ناکافی اور کمزورشہادتوں کی بنیاد پرآسیہ بی بی کی بریت پر ہونے والے چند ‘احتجاجی مظاہروں’ کی آڑ لے کراسٹوریاں گھڑی جارہی ہیں اوراپنے دیش کے گریبانوں میں جھانکنا اْنہیں زیب کیوں نہیں دے رہا ؟یہ ہمارے کالم کا موضوع ہے پہلا سچ یہ ہے دنیا مانتی ہے کہ بھارت کی بہ نسبت پاکستان میں خواتین ملک کے تقریبا تمام اہم شعبوں میں امتیازی صنف جیسے سلوک کا شکار نہیں ‘ ملک کے بالاتراہم عہدوں پر پاکستانی خواتین فائز ہیں اعلی عدلیہ ہویاماتحت عدلیہ کے ادارے خواتین ججز کے باوقار عہدوں پر متمکن ہیں تینوں مسلح افواج میں خواتین افسروں کی تعداد نمایاں ہے ملکی اسٹبلیشمنٹ میں اعلی آخری گریڈ میں خواتین موجود ہیں ملک بھر میں خواتین مختلف شعبہ ہائے زندگی میں اپنی کارکردگیوں کو بروئے کار لارہی ہیں بہرحال بھارت سے پاکستان میں خواتین زیادہ متحرک ہیں پاکستانی اقلیت خواتین اپنی علمی قابلیت اور ہنرمندی کی صلاحیتیوں کے بل بوتے پر وقت کے ساتھ ساتھ ا جتماعی لحاظ سے امتیازی سلوک سے دوچار نہیں ہیں اب بھارتی ذرا سوچیں توسہی بھارت میں کمزورناتواں اورمالی بدحالی سے تنگ روزگار کی تلاش میں دیش کے بڑے شہروں کا رخ کرنے والی خواتین کے ساتھ آر ایس ایس اور اْس کی 10۔9 متشدد تنظیموں کے چھٹے ہوئے غنڈے بد معاش سرعام کیا اْن کی عزتیں لوٹتے نہیں جو بھری بسوں سے مردمسافروں کو اتار کر نوعمر خواتین کے ساتھ اجتماعی زیادتی کررہے ہیں، سماجی ظلم وزیادتی کا یہ ایک مسئلہ’جبکہ چارمنقسم ذاتوں کا پورا بھارتی معاشرہ اپنے دامن پر لگے ہوئے قبل ازمسیح کی اپنی تاریخی ناانصافیوں کو انصاف دینے پر شائد کبھی نہ آئے گا یہ بڑا کڑوا سچ ہے کہ بھارت میں صرف ‘براہمن’چھتری’ ویش’اورشودر چارذاتیں بستی ہیں؟ بھارت کی واضح اکثریت کیا پرلے درجے کی جانورقوم ہے جنہیں چار نام نہاد بڑی ذاتوں کے ہم پلہ جینے کا بھی حق نہیں ہے ‘براہمنوں’ چھتریوں’ ویشوں’اورشودروں کے وسطی ایشیائی ریاستوں سے آئے ہوئے ہمارے سوال کا کیا اُن کے بزرگ جواب دیں گے یا آج کی نسلیں بتائیں گی کہ یہ ارض ہند ان کے باپوں کی ازلی و ابدی سرزمین تھی ؟بھارت میں آج جنہیں ’دلت‘کہہ کر’دلت‘ کا نام دے کر صدیوں سے مسلسل تذلیل کیا جارہا ہے، اصل سرزمین ہند کے وارث یہی ‘دراوڑ’نسل ہے جس نے تم ‘پناہ گزینوں آریاؤں‘ کو پناہ دی اورتم براہمن ‘چھتری’ ویش اور شودر اپنی مکارانہ چالبازیوں اور عیارانہ حیلے بازیوں کے کرتوتوں کے سبب اصل سرزمین ہم وطنوں کو اپنا محکوم وغلام بنانے میں کیسے کامیاب رہے ؟یہ سب تاریخ ہند کے صفحات میں رقم ہے اب بھارت میں کئی صدیوں قبل وسطی ایشیائی وایران سے واردہونے والوں نے ہندوستان کو اپنی دھرتی ماں بنالیا بھارت کی سرزمین براہمنوں ‘ چھتریوں‘ ویشوں اور شودروں کی سرزمین کیسے مان لی جائے بھارتی سماج نے کل انصاف نہیں کیا تھا جنوبی ہند کے عوام جو اصل ہندوستان کے وارث ہیں ’ائے باہر سے آئے ہوئے آریاؤں! اب بہت ہوگئی ہندوستان کے اصل وارث ’دراوڑنسل اب تم سے بیزار ہو چکی ہے جنوبی ہند میں نئی دہلی کا ظلم اب اور زیادہ دیر تک نہیں چلے گا اب فیصلہ ہونا ہے نسلی ناانصافی کا ایک ایک واقعہ تاریخ نے بطورگواہ لکھ دیا ہے ہند میں باہر سے آئی ہوئی چاروں ذاتوں کے لوگوں کو اْن نام نہاد براہمن پنڈتوں کے گرد گھیرا تنگ کرنا پڑے گا، جنہوں نے کل بھی سچ نہیں بتایا، آج بھی وہ اپنا پورا سچ بولنے پرتیارنہیں ہورہے کل کہیں ایسا نہ ہو کہ جنوبی ہند سے ‘انصاف’انصاف’ کے فلک شگاف نعرے لگاتا ہوا ایسا تباہ کن طوفان اْٹھے جو نئی دہلی کے تخت وتاج کا تاراج کرکے رکھ دے ۔

وزیراعظم نے چیئرمین پی سی بی کو فری ہینڈ دے دیا

لاہور: وزیراعظم عمران خان نے احسان مانی کو فری ہینڈ دے دیا جب کہ پی سی بی کے معاملات میں ایک بار بھی مداخلت کی ضرورت محسوس نہیں کی۔

وزیراعظم اور پی سی بی کے چیف پیٹرن عمران خان دنیائے کرکٹ کا بہت بڑا نام اورکھیل کی باریکیوں کو بہت اچھی طرح سمجھتے ہیں، انھوں نے گورننگ بورڈ میں آئی سی سی کے سابق صدر احسان مانی کو نامزد کیا جو پی سی بی کی کمان سنبھال چکے ہیں، ابھی تک بہت بڑی تبدیلی تو دیکھنے میں نہیں آئی لیکن بتدریج معاملات پر غور کرتے ہوئے پاکستان کرکٹ کو درست سمت میں گامزن کرنے کیلیے کام ضرور ہورہا ہے۔

ذرائع کے مطابق احسان مانی کو ذمہ داری سونپتے ہوئے عمران خان نے اپنے ویژن پر بات ضرور کی تھی لیکن بعدازاں انتظامی امور اور تقرریوں کے معاملے میں انھوں نے کبھی فون پر بھی مداخلت کی ضرورت محسوس نہیں کی، چیف پیٹرن نے بھرپور اعتماد کا اظہار کرنے کے بعد احسان مانی کو فری ہینڈ دے رکھا ہے۔

عمران خان کے ویژن کو پیش نظر رکھتے ہوئے پی سی بی میں شفافیت کا نعرہ لگانے والے چیئرمین خود کو بھی احتساب سے بالاتر نہیں سمجھتے، وہ اپنے اثاثہ جات کی تفصیل بورڈ کی ویب سائٹ پر ڈالنے کی تیاری کر رہے ہیں۔

یاد رہے کہ انھوں نے پہلی پریس کانفرنس میں کیے گئے وعدے کے مطابق پی سی بی کی آمدنی اور اخراجات کی مکمل تفصیل ویب سائٹ پر جاری کر دی تھی، شاہ خرچیوں کی تفصیل سامنے لائے جانے پر سابق چیئرمین نجم سیٹھی نے قانونی محاذ بھی کھول رکھا ہے۔

اسمارٹ فون کے 5 حیرت انگیز فیچر جو اگلے سال پیش کئے جائیں گے

لندن:اسمارٹ فون ہر روز جدت سے گزررہے ہیں اور اب خیال یہ ہےکہ 2019 کا سال اس ضمن میں کئی اختراعات سے بھرپور ہوگا۔

اسمارٹ فون  کے تجزیہ کاروں کے مطابق اگلے برس اسمارٹ فون حیرت انگیز جدتوں سے مرصع ہوں گے اور ان میں زائد لینس اور کیمروں کی پیشگوئی بھی کی جارہی ہے۔ لیکن سب سے پہلے ’’ففتھ جنریشن‘‘ کا احوال سن لیجئے۔

فائیوجی فون

اگلے سال فائیوجی فون عام ہوں گے جبکہ موٹرولا نے اپنے بعض اسمارٹ فون کو فائیو جی موڈ کے ساتھ پیش کرنے کی منصوبہ بندی کرلی ہے۔ اگرچہ فائیو جی انفراسٹرکچر پوری دنیا میں ابتدائی مراحل میں ہے لیکن اسمارٹ فون بنانے والی کمپنیون نے اس کی تیاری شروع کردی ہے۔

اگلے 12 ماہ میں فائیو جی سروس جاری ہونے کا امکان تو ہے اسی بنا پر اس عرصے میں ون پلس، سام سنگ، سونی اور ہواوے نے ایسے فون لانچ کرنے کی تیاری شروع کردی ہے ۔ تاہم ایپل اور گوگل نے اب تک خاموشی نہیں توڑی ہے۔ فائیو جی سروس کے بعد فون میں ڈیٹا کی رفتار کئی گنا بڑھ جائے گی اور لوگ اس حیرت انگیز خوبی کو بہتر طور پر محسوس کریں گے۔

فولڈ ہونے والے فون

ایک ماہ قبل چین کی غیرمعروف کمپنی رویول نے فلیکس پائی کے نام سے دنیا کے پہلے فولڈ ہوجانے والے فون کی تفصیلات دیتے ہوئے دسمبر 2018 میں اس کی فروخت کا اعلان کیا تھا۔

اس کے بعد سام سنگ نے اپنے فولڈ ہوجانے والے فون کی تفصیلات جاری کیں اور اگلے برس کئی کمپنیاں ایسے اسمارٹ فون پیش کریں گی جو کھل کر ٹیبلٹ اور بند ہوکر ایک فون کے برابر رہ جائیں گے۔ ہواوے کے سی ای او رچرڈ یو نے بھی کہا ہے کہ وہ 2019 میں اپنا پہلا تہہ ہوجانے والا اسمارٹ فون فروخت کریں گے۔

کناروں تک ڈسپلے اور نوچ کا ارتقا

قارئین کو یاد ہوگا کہ ایک سال قبل بیزل لیس اسمارٹ فون کا بہت چرچا تھا یعنی فون کے ڈسپلے میں کم سے کم جگہ رکھی جائے اور اوپر تھوڑی سی جگہ پر سینسرز اور فرنٹ کیمرہ لگادیا جائے لیکن وہ بہت کامیاب نہ ہوا ۔ اس کے بعد ایپل نے ایک آپشن متعارف کرایا جس میں اسکرین ڈسپلے کو بڑھایا گیا اور اوپر تھوڑی سی جگہ پر سارے سینسر اور کیمرے سمودیئے گئے۔ ایپل نے اسے نوچ کا نام دیا۔

نوچ ایپ ایک طرح کا وال پیپر ہی ہے اور اس کی مقبولیت کے بعد پورا فون قریباً اسکرین ہی دکھائی دیتا ہے۔ اس کی مقبولیت کے بعد اینڈرائڈ فون میں بھی نوچ کے آپشن شامل کئے گئے۔ اب ہر جدید اینڈرائڈ فون میں بھی نوچ دیکھا جاسکتا ہے۔ اگلے سال اس نوچ مزید فیشن میں شامل ہوگا۔ اس کا ذیادہ تعلق ڈسپلے سے ہے جس سے اسمارٹ فون فل اسکرین دکھائی دیتا ہے۔

اس ضمن میں تمام کمپنیاں کوشش کررہی ہیں جبکہ ون پلس سکس ٹی کمپنی کے فون میں نوچ نہ ہونے کے برابر ہے۔ ہواوے بھی اس دوڑ میں شامل ہے اور اگلے برس نوچ کا رحجان برقرار رہے گا۔ دوسری جانب فرنٹ کیمرے کو بھی چھپانے کی کوشش کی جارہی ہے اور اس میں کچھ کامیابی ملی ہے۔

کیمرہ لینسوں کی بھرمار

سام سنگ اے نائن نے اپنے فون میں چار لینس لگادیئے ہیں اور اگلے سال ان کی تعداد بڑھتی جائے گی بلکہ شاید آپ 12 یا 16 لینس والے فون بھی دیکھ سکیں گے۔ ایل جی نے بھی 16 لینس والے کیمرے کی خبر دی ہے۔

لیکن اتنے لینس والے فون کس کام کے ہیں؟ اس کا سادہ سا جواب یہ ہے کہ لینس کے اضافے سے تصویر میں گہرائی پیدا ہوتی ہے اور نئے زاویوں سے تھری ڈی ویڈیو اور تصاویر بنانے میں بہت مدد مل سکتی ہے۔ اسمارٹ فون سے سیلفی اور تصاویر کا رحجان اب بھی تازہ ہے اور اسی بنا پر اگلے برس بہت سے لینس والے فون عام ہوں گے۔

مصنوعی ذہانت میں اضافہ

آئی فون میں اے 12 بایونک چپ کے اضافے سے مصنوعی ذہانت یا آرٹیفشل انٹیلی جنس (اے آئی) کا عنصر اسمارٹ فون میں شامل ہوگیا ہے۔

اگلے سال ایسے فون بازار میں مل سکیں گے جو تصویر دیکھ کر ایک کتے یا بلی کے درمیان تمیز کرسکیں گے اور یہ سب کچھ مصنوعی ذہانت کی بدولت ممکن ہوگا۔ اسی طرح آگمینٹیڈ ریئلٹی کے فیچرز بھی بہت بہتر ہوتے جائیں گے۔ اسی طرح گوگل اسسٹنٹ اور دیگر سافٹ ویئر بھی بہتر ہوں گے۔

عمران خان اسلامی جمہوریہ پاکستان کو انتشار سے بچائیں!

آسیہ ملعونہ کی قید سے رہائی کے سپریم کورٹ کے فیصلہ کے خلاف ملک میں دینی جماعتوں نے عوام کی ترجمانی کرتے ہوئے بھر پور ملک گیر احتجاج کیا تھا ۔ حکومت نے دانشمندی سے دینی جماعتوں سے مذاکرات اور معاہدہ کر کے ملک میں امن و امان بحال کر دیا۔ملک کے بہی خواہوں نے سکھ کا سانس لیا۔ احتجاج کے دوران ملک میں احتجاج کی آڑ میں کچھ شرپسندوں نے توڑ پھوڑ کی ۔جس سے پاکستان کے عوام اور ملکی املاک کو نقصان پہنچا۔ جو کسی طور پر بھی برداشت نہیں کیا جا سکتا۔اس پر دینی حلقوں نے بھی ناپسندیدگی اظہار کیا۔سپریم کورٹ نے نقصانات کا جائزہ لے کر حکومت کو عوام کے نقصانات کی تلافی کا بھی حکم جاری کیا ۔حسب معمول اس سال بھی ملک میں ربیع اول کے مہینے میں سیرتؐ کے پروگرام ساری دینی جماعتیں پر امن طریقے سے کر رہی ہیں۔تحریک لبیک سے معاہدہ پر عمل درآمند میں اختلافات کے وجہ سے جماعت نے ۲۵؍ تاریخ کو پھر سے احتجاج کی کال دے دی تھی۔ پہلے کے احتجاج کے مزاج کو سامنے رکھتے ہوئے اورملک میں امن امان کی خاطر اس جماعت کے سربراہ کو حکومت نے حفاظتی تحویل میں لے لیا گیا۔ اُسی دن سے ملک بھر میں دینی جماعت کے کارکنوں کی بھی پکڑ دھکڑ شروع ہوئی ہے۔ بے شک جدید جمہوری حکومتوں میں عوام کو پر امن طریقے سے اظہار رائے کی آزادی کی ضمانت دے ہوئی ہے۔ ہمارے آئین بھی اس اظہار کی آزادی ہے۔ مگراس حق کو استعمال کرتے ہوئے عوام اور ان کے نمایندوں کو اس بات کا خیال بھی رکھنا چاہیے کہ ان کا احتجاج پر امن ہو۔ عوام اور ملکی املاک کو نقصان نہ پہنچے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ کسی کو بھی آزادی نہیں کہ ذبردستی راستے بلاک کر کے یا ملک میں افراتفری پھیلا کر ملک کے نظام کو مفلوج کر دے۔ موجودہ حکومت جب سے اقتدار میں آئی ہے بے سکونی کی کیفیت ہے۔ وزیر اعظم صاحب نے چند دن پہلے بین الاقوامی سیرت کانفرنس میں اپنے کلیدی خطاب میں ملک کے مذہبی اسکالر سے درخواست کی تھی کہ ملک کے عوام کی تربیت کریں کہ کسی بھی معاملہ پر احتجاج کریں تو اسے پر امن طور پر کیا جائے۔ جب غیرممالک جب دیکھتے ہیں کہ احتجاج کے دوران پاکستان کے لوگ آپے سے باہر ہو جاتے ہیں۔ توڑ پھوڑ کرتے ہیں جو چیز سامنے آتی ہے اسے نقصان پہنچاتے ہیں۔ پھرغیر ممالک پروپیگنڈہ کرتے ہیں کہ مسلمان انتہا پسند اورمتشدد ہیں۔ان میں برداشت نہیں۔ اس سے ملک کے امیج کو نقصان پہنچتا ہے۔صاحبو۱پاکستان کو دشمنوں نے چاروں طرف سے گھیرے میں لیا ہوا ہے۔ بھارت نے پاکستان کے خلاف جنگ کی سی کیفیت پیدا کی ہوئی ہے۔ بھارت پاکستان کو اشتعال دلانے کے لیے کشمیر کی باڈر پر بلا جواز فائرنگ کر کے بے گناہ سرحدی مسلمانو ں کو شہید کرتا رہتا ہے۔ کشمیر کنٹرول لائن کی بھارتی سائڈ پر مسلمان آبادی کا خیال کرتے ہوئے ہماری فورسز بھارتی بنکرز پر فائرنگ کر کے اپنے شہیدوں کا بدلہ لیتے ہیں اور بھارتی فوجیوں کو جہنم رسید کرتے رہتے ہیں۔ بھارت سفارتی محاذ پر چانکیہ پالیسیوں پر عمل پیرا ہوکر پاکستان سے ازلی دشمنی نباتے ہوئے ہمارے پڑوسی مسلمان ملکوں کو ہمارے خلاف کر لیا ہے۔ بھارت ہمارے ملک میں اعلانیہ دہشت گردی کر رہا ہے۔ کراچی میں چین کے کونصل خانہ پر دہشت گرد خود کش حملہ اسی کی پلائنگ سے ہوا۔ بلوچستان کے باغی بلوچوں کوبھارت میں پناہ دی ہوئی ہے۔ آئے دن افغانستان سے بھارت کی شہ پر پاکستان کے اندر دہشگردانہ کاروائیاں ہوتی رہی ہیں۔ ابھی کچھ ہی دن پہلے فاٹا میں دہشت گردی ہوئی ہے۔ ہمارے ایک پولیس آفیسر کو اسلام آباد سے اغواہ کر کے افغانستان پہنچایا گیا اور وہاں اس کو قتل کر دیا گیا۔ بین الاقوامی اصولوں کی سرے عام خلاف وردی کرتے ہوئے لاش حکومت پاکستان کے نمایندوں کے حوالے کرنے کے بجائے علیحدیگی پسند ،قوم پرست تنظیم کے کارکنوں کے حوالے کی گئی۔ یہ قوم پرست تنظیم بھارت کی شہ پر پاکستان میں نام نہاد حقوق کی تحریک جاری کیے ہوئے ہے۔بھارت میں اس کی اپنی غلط پالیسوں کی وجہ سے کوئی دہشت گردی کا واقع ہو جاتا ہے تو اسے بغیر تحقیق کے فوراً پاکستان کے سر دھوپ دیتا ہے۔ ممبئی حملے کے متعلق بھی دنیا میں کئی کتابیں شائع ہو چکی ہیں کہ بھارت کی خود ترتیب دی ہوئی دہشت گردی تھی۔ مگر بھارت نے اسے پاکستان کے خلاف گیرا تنگ کرتے ہوئے اسے پاکستان کے سر تھونپ دیا۔ ابھی کل ہی اخبارات نے خبریں شائع کی ہیں کہ اجمل قصاب بھارت کا شہری ہے۔ بھارت اسے پاکستان کا شہری ظاہر کرممبئی ہوٹل حملے میں جعلی طور پر ملوث کر کے پھانسی پر چڑھا چکا ہے۔ آج کل دہلی کی دیواروں بھارت حکومت کی طرف سے دو پاکستانی طالب علموں کے فوٹوں کے ساتھ پوسٹر لگا کر بے بنیاد پروپیگنڈہ کر رہا کہ یہ دو دہشت گرد پاکستان سے بھارت میں داخل ہو چکے ہیں۔ بھارتی عوام ہوشیار ہو جائیں۔ بھارتی میڈیا نے بھی اسے خوب اُچھالا۔ جبکہ یہ دونوں طالب علم پاکستان کے شہر فیصل آباد میں موجود ہیں۔ مدرسہ کے مہتمم نے پریس کانفرنس میں ان کوبیٹھا کر دنیا کے سامنے پیش کر دیا۔ در اصل یہ کراچی میں چین کے کونصل خانے پر بھارتی دہشت گردی سے دنیا کی نظریں ہٹانے کی بھونڈی کو شش ہے۔ ان حالات میں پاکستان میں مکمل امن کی ضرورت ہے۔حکومت اور احتجاج کرنے والے صاحبان حوش کے ناخن لیں۔ ملک کی دینی سیاسی پارٹیوں کو آسیہ معلونہ کی رہائی کو بھی ملک کے مفاد کو سامنے رکھتے ہوئے افہام وتفہم سے حل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ ملک میں لا اینڈ آڈر کا مسئلہ نہ بننا چاہیے۔اس میں کوئی شک نہیں آسیہ ملعونہ کا مسئلہ ،پاکستان بلکہ دنیا کے مسلمانوں کے دین و ایمان کا حساس معاملہ ہے۔ مغرب ایک سازش کے تحت اسے پاکستان کے خلاف استعمال کر رہا ہے۔ اس لیے حکومت کو احتیاط برتنی چاہیے۔ وزیر اعظم عمران خان کو چاہیے کہ اپنے وزیروں کو بھی کنٹرول میں رکھے۔ ان کے وزیروں کے اشتعال انگیز بیانات جب میڈیا میں آتے ہیں تو ہر پاکستانی سوچتا ہے کہ یہ بیانات ملک میں امن و امان خراب کرنے کے موجب بنتے ہیں۔عمران خاں کو چاہیے کہ وہ وزیروں کو اشعال انگیز بیانات دینے سے روکے۔پاکستانی عوام اپنی سپریم کورٹ کی کارکردگی سے بہت خوش تھے۔ مگرآسیہ ملعونہ کی رہائی کے فیصلہ سے عوام سپریم کورٹ کے بھی خلاف ہو گئے ہیں۔ اس نازک موقعہ پر دونوں طرف سے صبر و تحمل کے مظاہرے ضرورت ہے۔ دینی پارٹیوں کو چاہیے کہ وہ قانون کو اپنے ہاتھ میں نہ لیں۔عوام کو پر امن رہنے کی تلقین کریں۔ سپریم کورٹ کو لارجر بینچ کے بجائے فل کورٹ یعنی سپریم کورٹ کے سترہ کے سترہ جج صاحبان پر مشتمل بینچ بنا کر درج شدہ ریویو اپیل کو سننا چاہیے۔ ملک کی دینی سکالر اور ساری دینی پارٹیوں کے سربراہوں یا ان کے نمائندوں کو عدالت کی معاونت کے لیے طلب کرناچاہیے ۔ عوام کو چاہیے کہ اس بڑی عدالت سے جو بھی فیصلہ آیا اس کو من و عن تسلیم کریں۔ اس میں ہی ملک کی بہتری ہے۔ حکومت پر یہ ذمہ داوری ہے کہ ملک کے وسیع تر مفاد میں آگے بڑھ کر اپنا فرض ادا کرے۔ عمران خان وزیر عظم صاحب کوچاہیے کہ وہ اپنے اختیار استعمال کر کے اسلامی جمہوریہ پاکستان کو انتشار سے بچائیں۔ اللہ مثل مدینہ مملکت اسلامی جمہوریہ پاکستان کی حفاظت فرمائے ۔آمین۔

پنجاب میں خاتون خودکش بمبار کے داخلے کی اطلاع پر سیکیورٹی ہائی الرٹ

لاہور: پنجاب بھر میں دہشت گردی کے خدشے کے پیش نظر سکیورٹی ہائی الرٹ کرنے کا حکم  جاری کیا گیا ہے۔

آئی جی پنجاب نے اسپیشل برانچ اور سی ٹی ڈی سمیت تمام سیکیورٹی اداروں کو مراسلہ جاری کیا ہے جس میں پنجاب بھر میں سکیورٹی ہائی الرٹ کرنے کا حکم  جاری کیا گیا ہے۔

مراسلہ کے مطابق کالعدم بے ایل اے کی خاتون خودکش بمبار کراچی میں چینی قونصل خانے کی طرح حملہ کرسکتی ہے لہذا حساس تنصیبات سمیت حساس عمارتوں پر سکیورٹی کے فول پروف اقدامات کیے جائیں۔

واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے کلفٹن میں پولیس اور سیکیورٹی اہل کاروں نے چینی قونصل خانے پر حملے کا منصوبہ ناکام بناتے ہوئے 3 دہشت گردوں کو ہلاک جب کہ دہشت گردوں کی فائرنگ سے 2 اہل کار اور 2 شہری شہید ہوگئےتھے۔

Google Analytics Alternative