Home » 2018 » November (page 5)

Monthly Archives: November 2018

ممبئی حملے اور امریکہ کی ہرزہ سرائی

adaria

امریکہ کبھی بھی پاکستان کا دوست اور خیر خواہ نہیں ہوسکتا، ہاں جب تک اس کا مطلب اور مقصد ہو تو اس وقت تک پاکستان سے دوستی کی پینگیں بڑھاتا رہتا ہے اور جیسے ہی مطلب نکلتا ہے تو فی الفور آنکھیں ماتھے پر رکھ لیتا ہے۔ تعلقات کے دوران بھی امریکہ پر کبھی بھی بھروسہ نہیں کیا جاسکتا کہ وہ کسی آڑے وقت میں پاکستان کے کام آسکے گا، خصوصی طورپر جب سے ڈونلڈ ٹرمپ امریکہ کے صدر بنے ہیں اس دن سے لیکر آج تک ٹرمپ نے کوئی ایسا موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا جب پاکستان کو کسی نہ کسی صورت میں کوئی نہ کوئی کچوکا نہ دیا ہو، اس سے قبل بھی ٹرمپ نے ایک عجیب و غریب بیان داغ دیا تھا کہ اس نے پاکستان کی مالی امداد کی مگر پاکستان کی جانب سے ایسا عمل سامنے نہیں آیا جس میں دہشت گردوں کی بیخ کنی کی گئی ہو جبکہ پوری دنیا اس بات کی گواہ ہے کہ دہشت گردی کیخلاف جتنی بڑی قربانیاں پاکستان نے دی ہیں کسی ملک نے بھی نہیں دی اور اس مد میں سب سے زیادہ پاکستان ہی متاثر ہوا ہے۔گزشتہ روز مائیک پومپیو نے بھی تمام ممالک بالخصوص پاکستان پر زور دیتے ہیں کہ لشکر طیبہ سمیت ممبئی حملوں میں ملوث عناصر کے خلاف سلامتی کونسل کی پابندیوں پر عمل درآمد کریں۔ کیا امریکہ کے پاس اس حوالے سے کوئی ایسے ثبوت ہیں کہ اس نے خصوصی طورپر پاکستان پر زور دیا کہ ممبئی حملوں میں ملوث عناصر کیخلاف لاگو پابندیوں پر عملدرآمد کیا جائے یہ کہاں کا انصاف ہے کہ فضا میں تیر چلانے شروع کردئیے جائیں جبکہ ایسے بے سروپا بیانات کے حوالے سے نہ ہی کوئی گراؤنڈ موجود ہو اور نہ ہی کوئی ثبوت ہو پھر موردالزام ٹھہرانا کیا یہ بین الاقوامی قوانین کے تحت ایک قابل سزا جرم نہیں ہے کہ ایک پورے ملک کو جو کہ اس میں ملوث ہی نہیں اس کا بلا جواز نام لے کر کوئی بیان داغا جائے تو یہ کتنا بڑا ظلم ہوگا، ایسے بیانات واضح طورپر پاکستان سے دشمنی ظاہر کرتے ہیں مگر کمال بات یہ ہے کہ ایسی تمام الزام تراشیوں کے باوجود پھر بھی امریکہ دہشت گردی کیخلاف پاکستان سے معاونت کا خواہاں ہے، ہم تو یہاں یہ بات بابانگ دہل کہیں گے کہ اس وقت دنیا میں جو دہشت گردی پھیلی ہوئی ہے اس کا سبب اور موجد امریکہ ہی ہے کیونکہ جب بیگناہ افراد کو مارا جائے گا تو پھر یقینی طورپر کہیں نہ کہیں سے تو انتقامتو سامنے آئے گا۔ اپنی ناکامیاں کسی پر ڈالنا کھسیانی بلی کے کھمبا نوچنے کے مترادف ہے، اب جب کہ امریکہ افغانستان میں بری طرح پھنس چکا ہے ، اپنی ناکامیوں کا ملبہ بھی پاکستان کے سر پر تھوپ رہا ہے جس کا واضح ثبوت امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کا بے سروپا بیان ہے۔ امریکہ کو اچھی طرح معلوم ہے کہ وہ افغان وار میں ناکام ہورہا ہے اور کامیابیاں اس سے بہت دور ہیں ، اسی وجہ سے وہ پاکستان کیخلاف گاہے بگاہے الزام تراشیاں کرتا رہتا ہے۔ ویسے بھی ٹرمپ بنیادی طورپر مسلم امہ کے خلاف ہے، دنیا بھر کے مسلمان ہوں یا امریکہ میں بسنے والے مسلمان ٹرمپ انہیں اپنے عتاب کا نشانہ بناتے رہتے ہیں جس کا واضح ثبوت دنیا بھر میں مسلمانوں کیخلاف مختلف خطوں میں جاری جنگیں ہیں جہاں پر مسلمانوں کا قتل عام کیا جارہا ہے مگر اقوام متحدہ سمیت تمام امن کے داعی اور دعویداروں نے خاموشی اختیار کررکھی ہے اگر اس کو مجرمانہ سراسیمگی کہا جائے تو غلط نہ ہوگا ،اب جبکہ ممبئی حملوں کے حوالے سے نئی تحقیقات سامنے آئی ہیں جس میں یہ بات بھی واضح ہوئی ہے کہ اجمل قصاب کا تعلق انڈیا سے تھا، اس کا ڈومیسائل بھی وہاں کا تھا تو پھر پاکستان پر یہ الزام عائد کرنا کہاں کی منطق ہے، نہ ہی یہ انصاف کی بات ہے اور نہ ہی یہ درست بیانات ہیں لیکن چونکہ ٹرمپ اور مودی نے کوئی وجہ ہو یا نہ ہو پاکستان کی مخالفت کرنا ہی ہے اسی وجہ سے ٹرمپ نے بغیر سوچے سمجھے پھر ایک ٹویٹ داغ دیا جس میں انہوں نے کہاکہ ممبئی حملوں کے حوالے سے امریکہ انصاف کیلئے بھارت کیساتھ کھڑا ہے۔ 26نومبر2008ء کوبھارتی شہر ممبئی میں ہونے والے حملوں کے نتیجے میں 166 افراد ہلاک اور 100سے زائد زخمی ہوئے تھے ۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ٹویٹ بھی اسی زمرے میں نظر آتی ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ امریکہ انصاف کیلئے بھارت کے ساتھ کھڑا ہے، اب ٹرمپ کو یہ بات کون سمجھائے یا وہ خود پاکستان کی دشمنی میں سمجھنا نہیں چاہتے کہ اجمل قصاب پاکستان کا نہیں انڈیا کا شہری تھا کیونکہ اس کا ڈومیسائل برآمد ہوا جوکہ واضح ثبوت ہے کہ اس کا پاکستان سے کوئی تعلق نہیں، اب اگر امریکہ بھارت کے ساتھ انصاف کیلئے کھڑا ہے تو پھر مودی اور اس کی حکومت کیخلاف کارروائی کرے کیونکہ ممبئی حملوں کا اصل ذمہ دار خود بھارت ہی ہے۔ یہ بات بھی روز روشن کی عیاں ہے کہ بھارت خود کارروائی کرکے الزام پاکستان پر عائد کردیتا ہے۔ ماضی میں اُڑی اور پٹھان کوٹ پر ہونے والے بھارتی فرضیحملوں کے بعد اس نے ایک اور شوروغوغا مچایا کہ پاکستان پر سرجیکل سٹرائیک کیا لیکن کہیں سے بھی کوئی ایسا ثبوت نہیں آیا جو اس کے دعویکو ثابت کرسکے۔اس طرح بھارت کے منہ پر پھر خاک پڑگئی اور آج ممبئی حملوں کا جو کہ انڈیا اور امریکہ دونوں مل کر شور مچا رہے ہیں اس میں بھی اجمل قصاب بھارتی ہی شہری نکلا ۔آخر یہ الزام تراشی کا سلسلہ کب تک جاری رہے گا۔ دوسری جانب بھارتی وزیر دفاع نے بھی گیدڑ بھبکی دی ہے کہ وہ پاکستان کی اینٹ سے اینٹ بجا دینگے شاید ان بھارتی گیدڑوں کو 1965ء کی جنگ بھول گئی ہے جس میں ان کی پتلونیں گیلی ہوگئیں تھیں۔ بھارت کسی خام خیالی میں نہ رہے، پاکستان اینٹ کا جواب پتھر سے دینا جانتا ہے، جب بھی بھارت بلا اشتعال کنٹرول لائن پرفائرنگ کرتا ہے تو اس کا مزہ وہ چکھتا رہتا ہے۔

ایس کے نیازی کی افغانستان کے حوالے سے اہم گفتگو
چیف ایڈیٹر پاکستان گروپ آف نیوز پیپرز اور سینئر اینکرپرسن ایس کے نیازی نے کہا ہے کہ سی پیک سے ملک دشمن ممالک کو بہت تکلیف ہے ،پاکستان کو افغانستان کیساتھ مذاکرات کا دروازہ کھلا رکھنا چاہئے،چیف جسٹس نے لندن میں ڈیمزفنڈ ریزنگ پروگرام میں بڑا کام کیا۔پاکستان تعلقات کوبہترکرنے کیلئے مثبت قدم ا ٹھاتا رہے گا،چیف جسٹس نے لندن میں ڈیمزفنڈریزنگ پروگرام میں بڑا کام کیا،پاکستان کوافغانستان کیساتھ مذاکرات کا راستہ کھلا رکھنا چاہئیے،سی پیک کوریڈورکی وجہ سے بہت سے لوگوں کو تکلیف ہے،حکومت کو کاروباری طبقے کیلئے اپنی پالیسی پیش واضح کرنی پڑیگی،وزیراعظم عمران خان مثبت اقدامات کررہے ہیں،صحافی و اینکرپرسن نسیم زہرہ کی سچی بات ایس کے نیازی کیساتھ میں گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ کرتارپورکوریڈورکھول کر پاکستان نے بہت اہم کردار ادا کیا ہے،پاکستان نے تعلقات کوبہترکرنے کی جانب اچھا قدم ا ٹھایا ہے،پاکستان کی طرف سے ا ٹھایا گیا قدم سنگ میل ثابت ہوگا،تعلقات کو بہتر کرنے کی جانب اٹھائے گئے چھوٹے قدم اہم ثابت ہونگے،پاکستان کاکرتارپور کوریڈور کھولنے سے دنیا میں مثبت پیغام ملے گا،پاکستان سکھ برادری کا بھرپورخیرمقدم کرتا ہے،جنرل (ر)عنایت اللہ نیازی کی سچی بات ایس کے نیازی کیساتھ میں گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کاکرتارپور کوریڈور کھولنا بڑا اہم قدم ہے، کرتارپورکوریڈور کھلنے سے دنیا میں پاکستان بارے مثبت پیغام جائیگا ،پاکستان نے ہر موقع پر سکھ برادری کا خیال رکھا،پاکستان نے تعلقات کو بہتر کرنے کیلئے بڑا قدم اٹھایا ہے،روزٹی وی نے بہت موقعوں سے اچھا کردار ادا کیا ہے۔

ممبئی حملے، امریکہ بھارت ایکا پر ہمیں تشویش ہے

بھارت کے ساتھ امریکی مشفقانہ رویے کی ایک مثال سامنے آگئی کہ ممبئی میں ہونے والے سلسلہ وار بم دھماکوں کے دس برس مکمل ہونے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹوئٹ کیا کہ ممبئی دہشت گردحملے کے دس برس مکمل ہونے پر امریکابھارت کے عوام کے ساتھ کھڑا ہے اور انصاف کا خواہاں ہے۔ اس حملے میں 166بے گناہ معصوم افراد ہلاک ہوئے تھے جن میں 6امریکی بھی شامل تھے۔ ہم کبھی بھی دہشت گردوں کو جیتنے نہیں دیں گے اور نہ ہی وہ کبھی جیتنے کے قریب آئیں گے۔26نومبر 2008کو بھارتی شہر ممبئی میں ہونے والے حملوں کے نتیجے میں 166افراد ہلاک جبکہ 100سے زائد شہری زخمی ہوئے تھے۔ اس واقعے میں ہلاک ہونے والے افراد میں ممبئی پولیس کے ایک درجن سے زائد اہلکار بھی شامل تھے۔ 10سال مکمل ہونے پر امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے بھی پاکستان پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ حملوں میں ملوث عناصر کو اب تک سزا نہیں ملی جو ممبئی حملوں میں ہلاک ہونے والوں کے ورثا کی توہین ہے۔ وہ تمام ممالک بالخصوص پاکستان پر زور دیتے ہیں کہ لشکر طیبہ سمیت ممبئی حملوں میں ملوث عناصر کے خلاف سلامتی کونسل کی پابندیوں پر عمل درآمد کرے۔ 26 نومبر، 2008ء کو بھارت کے معاشی دارالحکومت اور سب سے بڑے شہر ممبئی کی مختلف جگہوں پربم دھماکوں اور حملوں کم از کم 166افراد بشمول 22غیر ملکیوں کے جاں بحق اور100سے زائد افراد زخمی ہوئے۔ دہشت گردی کی آٹھ کاروائیاں ممبئی کے جنوبی حصے میں ہوئیں، جن میں ہجوم کے لحاظ سے مصروف ترین چھتر پتی شیواجی ٹرمینس نامی ریلوے اسٹیشن، دو فائیو اسٹار ہوٹل جن میں مشہورِ زمانہ اوبرائے ٹرائیڈینٹ اور ممبئی گیٹ وے کے نزدیک واقع تاج محل پیلیس اینڈ ٹاورز شامل ہیں۔ لیوپولڈ کیفے جو سیاحت کے لیے ایک معروف ریسٹورنٹ ہے، کاما اسپتال، یہودیوں کے مرکز نریمان ہاؤس، میٹرو ایڈلبس مووی تھیٹر اور پولیس ہیڈ کوارٹرز، جہاں پولیس کے تین کلیدی منصب دار بشمول انسدادِ دہشت گردی کے سربراہ، کو فائرنگ کرکے قتل کر دیا گیا جبکہ دہشت گردی کا نواں واقعہ ولے پارلے میں ہوائی اڈے کے قریب ایک ٹیکسی میں بم دھماکا تھا۔یہ چند دہشت گردوں کا کام نہیں بلکہ ان کاروائیوں میں تقریباًً پچاس سے ساٹھ دہشت گرد ملوث ہیں۔بھارت نے حسب معمول بغیر دیکھے سمجھے سوچے اس دہشت گردی کا الزام پاکستان ، جہادی تنظیموں، پاک فوج اور آئی ایس آئی پر عائد کر دیا۔ جبکہ ایک غیر معروف تنظیم بنام دکن مجاہدین نے اعتراف کیاکہ یہ کارروائی دکن مجاہدین نے کی اور وہ اس کی مکمل ذمہ داری قبول کرتے ہیں۔28 نومبر کی صبح ممبئی پولیس نے دعوی کیا کہ تاج محل پر حملہ کرنے والے تین دہشت گردوں کو گرفتار کرلیا اور انہوں نے اقرار کیا کہ اْن کا تعلق پاکستانی جہادی تنظیم لشکرطیبہ سے ہے۔بھارتی فوج کے اس وقت کے حاضر سروس کرنل سرکانت پرساد کے خلاف دہشت گردی میں ملوث ہونے کی تحقیقات کر رہے تھے ۔ کچھ عرصہ قبل جرمن مصنف ڈیوڈسن نے لندن انسٹی ٹیوٹ آف ساؤتھ ایشیا میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ممبئی حملے بھارت کا خود ساختہ ڈرامہ تھا۔ ڈیوڈسن نے بھارت کے مکروہ پروپیگنڈے کو بے نقاب کر دیا۔” دی بیٹرائل آف انڈیا ” کے مصنف کی لندن میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا بھارت نے ممبئی حملے کا ڈرامہ پاکستان کو بدنام کرنے کیلئے رچایا تھا۔ ممبئی حملوں سے متعلق ہوش ربا انکشافات اور حقائق پر مبنی تجزیے پر مشتمل یہ کتاب بھارتی پبلشر فروز میڈیا، نیو دہلی کی شائع کردہ ہے۔ مصنف معروف تحقیقاتی صحافی ایلیس ڈیوڈسن کی، جن کا تعلق یہودی مذہب اور جرمنی سے ہے، غیرجانبداری نے سامنے لائے گئے حقائق کو مصدقہ اور قابل بھروسہ بنا دیا ہے۔2017 میں سامنے آنے والی اس کتاب میں یہ ثابت کیا گیا ہے کہ دہلی سرکار اور بھارت کے بڑے اداروں نے حقائق مسخ کیے۔ بھارتی عدلیہ انصاف کی فراہمی اور سچائی سامنے لانے کی اپنی ذمہ داری پوری کرنے میں ناکام رہی۔ ممبئی حملوں کے مرکزی فائدہ کار ہندو انتہا پسندو قوم پرست رہے کیوں کہ ان حملوں کے نتیجے میں ہیمنت کرکرے اور دوسرے پولیس افسران کو راستے سے ہٹایا گیا۔ انتہا پسند تنظیموں کے ساتھ ساتھ نہ صرف بھارت بلکہ امریکا اور اسرائیل کے کاروباری، سیاسی اور فوجی عناصرکو بھی اپنے مقاصد پورے کرنے کیلئے ان حملوں کا فائدہ پہنچا جب کہ صحافی ایلیس ڈیوڈسن اپنی تحقیقات میں اس نتیجے پر بھی پہنچا کہ ممبئی حملوں کا پاکستانی حکومت اور فوج کو کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ مذہبی و سیاسی جماعتوں کے قائدین اور دانشور حضرات نے کہا ہے کہ ممبئی حملوں کا ڈرامہ وطن عزیز پاکستان، فوج اور آئی ایس آئی کو بدنام کرنے کیلئے رچایا گیا۔ حافظ محمد سعید اور جماعۃالدعوۃ کیخلاف ممبئی حملوں کا کوئی الزام آج تک ثابت نہیں کیا جا سکا۔ پاکستان نے پوری دنیا کو سکون دینے کیلئے دہشت گردی کیخلاف جنگ لڑی اور ہم نے یہ قربانیاں دیں پھر بھی ڈونلڈ ٹرمپ اٹھ کر کہے کہ پاکستان نے کچھ نہیں دیا اور بعض پاکستانی سیاستدان را کے ایجنڈے پر چلتے ہوئے پاکستان کی فوج اور اداروں کو بدنام کرنے کی کوشش کریں تو ایسانہیں ہونے دیں گے۔ دفاع پاکستان کونسل اور جماعۃالدعوۃ کے مرکزی رہنما پروفیسر حافظ عبدالرحمن مکی نے کہاکہ ممبئی حملوں کا کوئی الزام پاکستان اور جماعۃالدعوۃ کیخلاف ثابت نہیں کیا جا سکا۔ گزشتہ دنوں لاہور میں ممبئی حملوں کے حوالہ سے جرمن صحافی Elias Davidssonکی کتاب کا ترجمہ کرنے والے معروف صحافی طارق اسماعیل ساگر کی کتاب ’’26/11ممبئی حملہ ، ہوشربا انکشافات‘‘ کے اعزاز میں ایک تقریب منعقد ہوئی جس میں صوبائی وزیر اطلاعات فیاض الحسن چوہان، پروفیسر حافظ عبدالرحمن مکی، لیاقت بلوچ، اوریا مقبول جان، طارق اسماعیل ساگر، ایثار رانا،سہیل وڑائچ، منیر احمد بلوچ، بشریٰ نوازودیگر نے خطاب کیا۔ صوبائی وزیر اطلاعات فیاض الحسن چوہان نے اپنے خطاب میں کہاکہ ممبئی حملوں کا ڈرامہ پاکستانی فوج، آئی ایس آئی اور ملک کو بدنام کرنے کیلئے رچایا گیا۔ بھارتی اداروں نے اجمل قصاب نامی ایک شخص کو گرفتار پکڑا اور دنیا بھر میں ہرزہ سرائی شروع کر دی کہ یہ آئی ایس آئی کا ایجنٹ ہے لیکن حقائق اس کے بالکل برعکس ہیں۔اب بھارتی میڈیا بھی ثابت کر رہا ہے کہ وہ ہندوستانی شہری تھا۔ممبئی حملوں کا یہ ڈرامہ دیکھیں، دس لوگ ایک چھوٹی سی کشتی میں اسلحہ کا انبار لیکر کیسے پہنچے کہ بھارتی ایجنسیوں اور اداروں کو خبر تک نہ ہوئی۔یہ بھی کہا گیا کہ اس سامان پر سٹیکرز پاکستان کے لگے ہوئے تھے۔ یہ افسانہ چلایا گیا ۔سارا ملبہ حافظ محمد سعید اور جماعۃالدعوۃ پر ڈال دیا گیا۔ حافظ محمد سعید پاکستانی شہری ہیں۔ ان پر الزام پاکستان پر الزام ہے۔ جہاں تک اجمل قصاب کے پاکستانی ہونے کا تعلق ہے تو اب خود بھارتی اداروں نے اس کی تصدیق کر دی ہے کہ اجمل قصاب بھارتی شہری تھا۔بھارتی افسر پرویندرا کْمار نے کیس کی تفتیش کے دوران اس بات کی تصدیق کی کہ نامعلوم افراد کی جانب سے جعلی دستاویزات جمع کروانے پر اجمل قصاب کا ڈومیسائل جاری کیا گیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ کچھ نامعلوم افراد نے تحصیل بدھونا میں دہشتگرد اجمل قصاب کی تصویر کے ساتھ اکتوبرمیں ڈومیسائل کے لیے درخواست جمع کروائی،جس کے بعد متعلقہ حکام نے دستاویزات اور کوائف کی تصدیق کیے بغیر ہی 21 اکتوبر کو ڈومیسائل جاری کر دیا۔اس ڈومیسائل میں اجمل قصاب کی جائے پیدائش بدھونا تحصیل درج ہے۔ ڈومیسائل میں اجمل قصاب کے والد کا نام محمد عامر جبکہ والدہ کا نام ممتاز بیگم درج ہے۔ اس سرٹیفیکیٹ کا رجسٹریشن نمبر 181620020060722 ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس ضمن میں تحقیقات کا آغاز کردیا ہے۔ حکومت پاکستان کو چاہیے کہ وہ بھارتی دہشت گردی کو بھرپور انداز میں بے نقاب کرے۔ کتاب کے یہودی مصنف نے بہت محنت سے حقائق جمع کئے ہیں اور طارق اسماعیل ساگر نے ترجمہ کر کے پاکستانی قوم کیلئے بہت سہولیت پیدا کر دی ہے۔اس کتاب میں بہت سے حقائق منظر عام پر لائے گئے ہیں۔ اس کتاب کا ہر کسی کو مطالعہ کرنا چاہیے۔

***

کرتارپورتقریب؛ پاک فوج نے آرمی چیف کی ملاقاتوں سے متعلق بھارتی پروپیگینڈا مسترد کردیا

راولپنڈی: پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور کا کہنا ہے کہ بھارتی میڈیا آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے گوپال چاولہ کی ملاقات کوغلط رنگ دے رہا ہے۔

کرتار پور راہداری کے سنگ بنیاد کی تقریب میں بھارت سے آئے سکھ یاتریوں اور صحافیوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی، اس موقع پر پاکستان کی جانب سے وزیراعظم عمران خان، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار اور دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔

بھارتی سکھ یاتریوں نے موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے پاک فوج کے سربراہ جنرل قمرجاوید باجوہ سے ہاتھ ملائے اور شکریہ ادا کیا تاہم دوسری جانب بھارتی میڈیا تاریخی تقریب کی تعریف کے بجائے روایتی تعصب اورہٹ دھرمی میں مگن رہا، خصوصاً آرمی چیف اورخالصتان تحریک کے کارکن گوپال چاولہ سنگھ کے مصافحہ میں بھارتی میڈیا کی دلچسپی رہی اور اس مصافحہ کو بھی منفی رنگ دے دیا گیا۔

بھارتی میڈیا کی ہٹ دھرمی پر پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل آصف غفور نے بیان جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ بھارتی میڈیا گوپال چاولہ کی آرمی چیف سے ملاقات کوغلط رنگ دے رہا ہے، آرمی چیف نے شناخت کی پرواہ کئے بغیر سب مہمانوں سے ملاقات کی، امن کی کوشش کو پروپیگینڈا نہ بنایا جائے۔

کرتارپور کوریڈور کھلنے سے دوطرفہ مذاکرات کا آغاز نہیں ہوگا، بھارت

نئی دہلی: بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج کا کہنا ہے کہ کرتار پور کوریڈور کھلنے کا مطلب یہ نہیں کہ اب پاکستان سے دوطرفہ مذاکرات کا آغاز ہو جائے گا۔

نئی دہلی پریس بریفنگ کے دوران بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج کا کہنا تھا کہ دوطرفہ بات چیت اور کرتار پور بارڈر دونوں مختلف معاملات ہیں، گزشتہ 20 سالوں سے بلکہ کئی سالوں سے بھارت پاکستانی حکومتوں سے کرتارپور کوریڈور کھولنے کا مطالبہ کر رہا ہے، پہلی بار کسی پاکستانی حکومت نے اس معاملے پر مثبت جواب دیا ہے تاہم بارڈر کھلنے کا مطلب یہ نہیں کہ اب دوطرفہ تعلقات کا آغاز ہو جائے گا۔

بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج نے پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کرتے ہوئے کہا کہ ہم سارک کانفرنس میں شرکت کے لیے پاکستان کی جانب سے دعوت نامے پر کوئی مثبت جواب نہیں دیں گے، جب تک پاکستان بھارت میں دہشت گرد کارروائیاں بند نہیں کرتا بھارت پاکستان سے کوئی بات چیت نہیں کرے گا اور نہ ہی سارک کانفرنس میں شرکت کرے گا۔

واضح رہے کہ کرتارپور کوریڈو کے سنگ بنیاد کی تقریب کی تیاریاں مکمل کرلی گئی ہیں، وزیراعظم عمران خان آج کرتارپور کوریڈور کا سنگ بنیاد رکھیں گے جب کہ تقریب میں پاک بھارت سمیت دنیا بھر سے سکھ یاتری شرکت کریں گے۔

تنوشری دتہ ہراسانی کیس میں ڈیزی شاہ بھی پھنس گئیں

ممبئی: پولیس نے نانا پاٹیکر کے خلاف جنسی ہراسانی کیس میں اداکارہ ڈیزی شاہ کو بھی بیان ریکارڈ کرانے کے لئے طلب کرلیا۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ممبئی کے اوشی ویرا پولیس اسٹیشن کی جانب سے ڈیزی شاہ کو تحریری طور پر ہدایت کی گئی ہے کہ وہ تنوشری دتہ کی جانب سے نانا پاٹیکر کے خلاف جنسی ہراسانی کیس میں بیان ریکارڈ کرائیں کیونکہ واقعے کے وقت وہ بھی سیٹ پر موجود اور بطور اسسٹنٹ کوریوگرافر کام کر رہی تھیں۔

دوسری جانب ڈیزی شاہ کا کہنا ہے کہ میں فلمی سیٹ پر صرف اسسٹنٹ کوریو گرافر تھی اور میرا کام ڈانس کے اسٹیپ سکھانا تھا، میں وہاں ہونے والے کسی بھی عمل کا حصہ نہیں تھی، اس وقت  وہاں جو کچھ بھی ہوا میں اُس بارے میں کچھ نہیں جانتی۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ہم اُن تمام افراد کا بیان ریکارڈ کریں گے جو اُس وقت سیٹ پر موجود تھے اور اسی حوالے سے ڈیزی شاہ کو بھی طلب کیا گیا ہے، وہ اپنی سہولت کے مطابق جب چاہیں بیان ریکارڈ کراسکتی ہیں۔

واضح رہے کہ اداکارہ تنوشری دتہ نے نانا پاٹیکر پر جنسی ہراسانی کے الزامات عائد کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہوں نے 10 سال قبل فلم ’ہارن اوکے پلیز‘ کے گانے کی شوٹنگ کے دوران انہیں جنسی طور پر ہراساں کیا تھا۔

ایمرٹس کے لیے دنیا کی بہترین ایئرلائن کا ایوارڈ

کراچی: ایمرٹس نے دنیا بھر اور یو ایے ای کی بہترین ایئرلائن ہونے کا ایوارڈ اپنے نام کرلیا۔

ایمرٹس نے دنیا بھر اور یو ایے ای کی بہترین ایئرلائن ہونے کا ایوارڈ حاصل کرلیا۔ یہ ایوارڈ ’’دی ٹیلی گراف‘‘ کے لگژری ٹریول میگزین الٹرا ٹریول یو کے اور الٹرا ٹریول مڈل ایسٹ کے 5 لاکھ قارئین کی ووٹنگ سے دنیا کی بہترین لگژری ٹریول کی خدمات پیش کرنے کے ضمن میں تفویض کیا گیا۔

ایمرٹس کے صدر سر ٹم کلارک نے گزشتہ شب دبئی میں گلوبل ٹریول انڈسٹری کے اہم ارکان پر مشتمل تقریب میں وصول کیا۔

امریکہ اب ناگزیر نہیں!

سچی بات یہ ہے کہ آج تک امریکہ نے ہمیں جھوٹ اور دھوکے کے سوا کچھ نہیں دیاہے۔ حال ہی میں امریکی میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کی روکی جانیوالی امداد کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ امریکا نے پاکستان کو ایک ارب 30 کروڑ ڈالر سالانہ امداد دی، مگر اب ہم پاکستان کو امداد نہیں دینگے کیوں کہ پاکستان نے ہمارے لئے کچھ بھی نہیں کیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹوئٹس میں کہا کہ پاکستان کو اربوں ڈالرز نہیں دیے جائیں گے، پاکستان ان ممالک میں سے ہے جو امریکہ سے لیتا تو بہت کچھ ہے مگر امریکہ کے لیے کچھ نہیں کرتا۔اس سے قبل بھی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کو آیندہ سے کسی بھی قسم کی امداد نہ دینے کی دھمکی دی ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے لکھا کہ گذشتہ پندرہ برسوں میں ہم نے پاکستان کو 33 ارب ڈالرز کی امداد دی جو بے وقوفی تھی۔ اب پاکستان کو کوئی امداد نہیں ملے گی۔انہوں نے الزام عاید کیا کہ ہم پاکستان کو بھاری امداد دیتے رہے لیکن دوسری جانب سے ہمیں جھوٹ اور فریب کے سوا کچھ نہیں دیا گیا۔حالانکہ پاکستان میں دہشت گردی کے مرتکب عناصر کو امریکہ نے افغانستان میں بھیٹایا ہوا ہے اور ان کی افغانستان میں محفوظ پناہ گاہیں فراہم کیں ہیں۔پاکستان نے امریکہ کو دو ٹوک جواب دیا ہے پاکستانی آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے واضح کیا ہے کہ پاکستان نے خطے کے امن کیلئے کام کرتے ہوئے دہشتگردی کیخلاف جنگ بھی کامیابی سے لڑی ہے اور افغان امن کیلئے وہ کچھ کیا ہے جو دنیا کے کسی اور ملک نے نہیں کیا۔انہوں نے واضح کیا کہ عسکری، معاشی، سیاسی اور سماجی لحاظ سے سب سے زیادہ قیمت بھی پاکستان نے ہی چکائی ہے جس کا اعتراف کیا جانا چاہئے۔اس سے قبل وزیراعظم عمران خان نے امریکی صدر کے پاکستان پر الزامات کا جواب دے دیا، کہتے ہیں کہ ڈونلڈ ٹرمپ اپنا ریکارڈ درست کریں، دہشت گردی کیخلاف جنگ میں پاکستان نے 75 ہزار جانوں کی قربانی دی، 123 ارب ڈالر کا نقصان اٹھایا، امریکا نے صرف 20 ارب ڈالر دیئے، امریکا اپنی ناکامیوں پر پاکستان کو قربانی کا بکرا نہ بنائے۔ عراق ، افغانستان ، شام ، یمن اور لیبیا میں امریکی پالیسیوں کی ناکامی سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ مشرق وسطی کے واقعات میں بڑی طاقتوں کے سیاسی فیصلوں کی اب کوئی وقعت نہیں رہی ہے۔ تجزیہ کار کہتے ہیں کہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی انسان دشمن پالیسیاں اور جمہوریت کے نام پر فوجی دھمکیاں اور اپنی معیشت کے حوالے بلند بانگ دعوے سب کھوکھلے ثابت ہو رہے ہیں۔جب سے امریکہ نے اپنے آپ جمہوریت کے نام پر بین الاقوامی جنگوں میں الجھایا ہے اس کی معیشت تباہی کے دھانے پر ہے جبکہ اس کے مقابل چائنا نے اپنے آپ کو جنگوں سے بچایا ہے تو چائنا کی معاشی ترقی دنیا کیلئے اچھی مثال ہے جبکہ امریکہ اپنی غلط حکمت عملیوں اور جنگوں میں الجھنے کی وجہ امریکہ دنیا کی سب سے بڑی فوجی اقتصادی اور سیاسی پاور ہونے کے ساتھ ساتھ دنیا کاسب سے بڑا مقروض ملک بن گیا ہے امریکی قرضے143 کھرب ڈالر سے تجاوز کرچکے ہیں حتیٰ کہ جب تک امریکی حکومت کو قرض لینے کی حد میں اضافے کی منظوری نہیں ملتی تو امریکی وزارت خزانہ کے پاس ادائیگیوں کے لیے رقم تک نہ ہوتی یہی وجہ ہے کہ عراق، لیبیا اور افغانستان میں بے مقصد لڑنے والے فوجیوں کو تنخواہوں کی ادائیگی بھی مشکل سے ہوتی ہے۔‘‘۔ امریکی اقتصادی بحران کا اندازہ اسی بات سے لگایاجاسکتا ہے کہ دنیا کی سب سے بڑی اقتصادی طاقت مانے جانے والے امریکہ پر فی سیکنڈ40ہزار ڈالر کاقرض بڑھ رہا ہے ۔امریکی وزارت خزانہ کی ایک رپورٹ کے مطابق حکومتی خزانے میں نقد رقم صرف 73ارب 70کروڑ ڈالر رہ گئی ہے اوراگر قرض لینے کی حد میں اضافہ کی منظوری نہیں دی گئی ہوتی تو حکومت کو اپنے واجبات کی ادائیگی کے لیے رقم کی شدید کمی کا سامنا ہو سکتا ہے اور اس کے نتیجے میں حکومت دیوالیہ ہوکردھندہ ہوسکتی ہے۔ایک رپورٹ میں یہ ایک دلچسپ خبر ہے کہ دنیا کے امیر ترین ملک امریکہ کے خزانے میں اتنے ڈالر بھی نہیں ہیں جتنے ایپل کمپنی کے پاس ہیں۔ امریکی ریزروبینک میں 73.76ارب ڈالر رہ گئے ہیں جب کہ ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک بڑا نام ایپل کمپنی کی تجوری میں نقد رقم 75.87ارب ڈالر جاپہنچی ہے۔یہ بھی پیشنگوئی ہے کہ امریکہ چھ خود مختار ریاستوں میں تبدیل ہوسکتاہے اگر سویت یونین ٹوٹ سکتا ہے تو امریکہ کیوں نہیں امریکہ کا جنگوں میں الجھنے کا سب سے ذیادہ فائدہ روس اور چین نے اٹھایا ہے اور اب یہ دنیا کی بڑی معاشی قوتیں ہیں اور لگتا یہ ہے کہ چین اور امریکہ مستقبل میں دنیا کے نئے مگر اہم کھلاڑی ہوں گے اور ناقص حکمت عملیوں کی وجہ سے سویت یونین کی طرح امریکہ کی بھی ٹوٹ پھوٹ شروع ہوجائے گی اور اس کے دیوالیہ ہونے کا قوی اندیشہ ہے۔ امریکہ میں قرضوں کے بحران کی وجہ سے دیوالیہ ہونے کا خطرہ پہلی بار نہیں ہوا ایسا اس سے قبل 1790پھر1933پھر ایک جزوی بالی بحران 1979اور پھر سابق صدر جارج بش کے آخری دور2008میں اقتصادی بحران اپنے پنجے گاڑ چکا ہے اس بحران نے تو امریکی ٹیکس دہندگان کو گھروں سے بے گھر کر کے فٹ پاتھ پر لابٹھایا تھا لیکن جارج بش نے دنیا کو جنگوں کی �آگ میں جھونکے رکھا یہی وجہ ہے کہ آج خود امریکی سیاستداں اپنے ملک کی ان جنگ جو قسم کی پالیسیوں سے بے زاری کا کھلم کھلا اظہار کررہے ہیں۔ امریکہ کے سابق انٹلی جینس چیف ونس بلیئر نے کہا ہے کہ محض 4ہزار دہشت گردوں کی پکڑ دھکڑکے لیے سالانہ 80ارب ڈالر خرچ کیے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 9/11کا واقعہ گویا امریکہ نے اپنے پاؤں پر خود کلھاڑی سے وار کیا ہے اور اس واقعہ کے بعد اربوں ڈالر جنگوں میں جھونک دئے گئے ہیں جس کے نتائج سب کے سامنے ہیں اور لاکھوں بے گناہ انسانوں کا خون بھی اس کے ذمہ ہے ۔اور یہ امراب کسی سے پوشیدہ نہیں رہا ہے کہ امریکہ دہشتگردوں کو اپنے سیاسی ہتھکنڈے کے طور پر استعمال کرتا ہے امریکہ دہشتگرد گروہوں کو اپنی مخالف حکومتوں کے خلاف استعمال کررہا ہے اور اس وقت شام کی حکومت امریکہ کے حمایت یافتہ دہشتگردوں کے حملوں کا نشانہ بن رہی ہے۔ اس روسی رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ داعش جیسے خطرناک دہشتگرد گروہ امریکہ کی حمایت سے وجود میں آئے ہیں وہایٹ ہاوس خاصؒ خاص کر افغان جنگ کے دوران اور اس کے بعد دہشتگردوں کی بھرپور مالی اور سیاسی حمایت کی ہے جوامریکہ نے عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے اور اسی پالیسیوں پر وہ اب بھی گامزن ہے اور امریکہ کی یہ روش امن عالم کے لئے شدید خطرہ ہے اور اس کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے ۔ایک امریکی رپورٹ کے مطابق ا گر سابق امریکی جنگجو صدر جارج بش غور وفکر اور تدبر وفراست اور صحیح انتظامی حکمت عملی سے کام لیتے تو7.3 ٹریلین ڈالر یعنی قرض کے ایک تہائی حصے کو تو بچایا جاسکتے تھے۔ امریکہ کی عراق، لیبیا اورافغانستان میں ’جنگ بازی‘ سے نہ صرف اس کی معیشت تیزی سے تباہی کی طرف گامزن ہے بلکہ اس کے منفی اثرات لگ بھگ پچاس امریکی ریاستوں اور ان کے اتحادیوں پر بھی مرتب ہوں رہے ہیں اور اس کی بنیادی وجہ اس کا قرض ہے اسی قرض کی وجہ سے بدانتظامی اور غلط طرز عمل کا اختیار کرنا اور فوجی کارروائیوں کو اپنی خارجہ پالیسی کا محور بنالینا ہے جس نے اس کے سینکڑوں ٹریلین سرمایہ کو بغیر ڈکارمارے ہضم کرلیااور دنیا کو وہ جنگوں میں اس لئے الجھا رہا ہے کہاسلحہ فروخت کر کے کمزور معیشت کو سہارا دے سکے اور ممالک کو کمزور کر کے ان کے وسائل پر قبضہ کر سکے جیسے عراق اور لیبیا میں کر رہا ہے صدر صدام اور کرنل معمر کی پالیسیاں وہاں کی قومی مفاد میں تھیں اس لئے امریکہ نے اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر ان کو منظر نامے سے ھٹایا اور ایسے کرداروں کو سامنے لایا مگر ان دو ممالک اب تک حالات بد سے بدتر ہوتے جارہے ہیں اس لئے کہا جاتا ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام کی نحوست جاتی ہے وہاں کی معیشت اور عوام کی حالت کو تباہ کر دیتی ہے۔امریکہ کے زوال سے اس کے اتحادی ممالک کی معیشت کی تباہی کا بھی قوی امکان ہے کیونکہ سرمایہ دارانہ نظام کی تباہ کاریاں تیزی سے سامنے آرہی ہیں اگر موجودہ حالات میں اس پر ناگفتہ بہ معیشت کو قابو نہیں کیاگیا تو اس آگ کی چنگاریاں دور دور تک پہنچیں گی اور اس کے اثرات پوری دنیا کی معیشت پر مرتب ہونگے اور جن ممالک کی معیشت کا دارومدار امریکی اور ورلڈبینک اور آئی ایم ایف کے قرضوں پر ہے وہ ممالک بری طرح متاثر ہونگے ۔

***

کیا یاسر تیسرے ٹیسٹ میں 82سال پرانا عالمی ریکارڈ توڑ پائیں گے؟

نیوزی لینڈ کے خلاف دوسرے ٹیسٹ میچ میں عمدہ کارکردگی کی بدولت 82سال سے قائم عالمی ریکارڈ یاسر شاہ کی دسترس میں آ گیا اور وہ نیوزی لینڈ کے خلاف تیسرے ٹیسٹ میچ میں نیا عالمی ریکارڈ قائم کر سکتے ہیں۔

نیوزی لینڈ کے خلاف دوسرے ٹیسٹ میچ میں 14وکٹوں کی بدولت یاسر شاہ کی 32 ٹیسٹ میچوں میں وکٹوں کی تعداد 195 ہو گئی اور انہیں 200وکٹوں کا سنگ میل عبور کرنے کے لیے محض پانچ وکٹیں درکار ہیں۔

اس کے ساتھ ہی تیز ترین 200وکٹیں لینے کا عالمی ریکارڈ یاسر کی دسترس میں آ گیا ہے اور وہ اگلے ٹیسٹ میچ میں یہ ریکارڈ اپنے نام کر سکتے ہیں۔

ٹیسٹ کرکٹ میں تیز ترین 200وکٹیں لینے کا عالمی ریکارڈ جنوبی افریقہ کے لیگ اسپنر کلیری گریمیٹ کے پاس ہے جنہوں نے 1936 میں صرف 36 ٹیسٹ میچوں میں یہ کارنامہ انجام دیا تھا۔

اگر یاسر اگلے ٹیسٹ میچ میں یہ ریکارڈ نہ بھی توڑ سکے تو بھی یہ ریکارڈ توڑنے کے لیے ان پاس مزید دو ٹیسٹ میچ ہوں گے۔

تاہم دلچسپ امر یہ کہ جب یاسر شاہ اس ریکارڈ کے حوالے سے بات کی گئی تو انہوں نے کہا کہ میں یہ تو جانتا ہوں کہ ریکارڈ میری دسترس میں ہے لیکن مجھے نہیں پتہ کہ یہ ’گریمیٹ‘ کون ہے۔

یاسر شاہ نے کہا کہ میں یہ ریکارڈ توڑنا چاہتا ہوں لیکن میں گریمیٹ کے بارے میں زیادہ نہیں جانتا۔ وہ کافی سال پہلے کھیلے تھے لیکن میں ریکارڈ کے بارے میں جانتا ہوں کیونکہ جب کبھی بھی میں ریکارڈ کی فہرست دیکھتا ہوں تو ان کا نام سب سے پہلے نظر آتا ہے۔

یاد رہے کہ ٹیسٹ کرکٹ میں تیز ترین 100 وکٹوں لینے والوں میں یاسر شاہ دوسرے نمبر پر موجود ہیں جہاں انہوں نے 17 ٹیسٹ میچوں میں یہ کارنامہ انجام دیا تھا۔

تیز ترین 100وکٹیں لینے کا عالمی ریکارڈ انگلیش کے جیارج لومین کے پاس ہے جنہوں نے 1896 میں 16ٹیسٹ میچوں میں 100وکٹیں مکمل کی تھیں۔

یاسر شاہ نے کہا کہ میں اپنی ٹیم کی فتح میں کردار ادا کرنے پر بہت خوش ہوں، یہ میرا کام اور ذمے داری ہے کہ میں زیادہ سے زیادہ وکٹیں لے کر اپنی ٹیم کو فتح سے ہمکنار کراؤں۔

یاسر شاہ نے میچ میں 14وکٹیں لے سابق کپتان اور موجود وزیر اعظم پاکستان عمران خان کا 36سال پرانا قومی ریکارڈ برابر کردیا جنہوں نے 1982 میں سری لنکا کے خلاف میچ میں 116رنز کے عوض 14وکٹیں لی تھیں۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان کا ریکارڈ برابر کرنا میرے لیے بہت اعزاز کی بات ہے، ان کے ساتھ میرا نام آنا بڑی بات ہے اور میں اس حوالے سے ان کے پیغام کا منتظر ہوں۔

یاسر نے تسلیم کیا کہ نیوزی لینڈ کے خلاف سیریز سے قبل والدہ کے انتقال کے سبب وہ بہت فکرمند اور بے چین تھے۔

لیگ اسپنر نے کہا کہ میرے لیے یہاں آنا بہت مشکل تھا۔ میں شدید تناؤ کا شکار تھا کیونکہ ماں کے بغیر ہم کچھ بھی نہیں۔ میں جب بھی میچ کھیلنے جاتا تو والدہ سے کہتا کہ وہ دعا کریں کہ میں میچ میں 5وکٹیں لوں جس پر وہ کہتیں کہ صرف پانچ کیوں؟ 10 یا 15 کیوں نہیں؟۔

’میں یہ کارکردگی اور اعزاز اپنی والدہ کے نام کرتا ہوں‘۔

Google Analytics Alternative