Home » 2018 » December » 01

Daily Archives: December 1, 2018

ہاکی ورلڈ کپ؛ پاکستانی سفر کا آج جرمنی کیخلاف میچ سے آغاز

بھوبینشور:  مینز ہاکی ورلڈ کپ میں پاکستانی سفر کا ہفتے کو جرمنی کیخلاف میچ سے آغازہوگا۔

مجموعی طور پر پاکستان، ڈچ الیون اور جرمنی اب تک منعقدہ 13 ورلڈ کپ ٹرافیز میں سے 9 آپس میں بانٹ چکے ہیں۔ گروپ’جی‘ کا دوسرا مقابلہ نیدرلینڈز اورملائیشیا کے درمیان شیڈول ہے، جرمنی اور نیدرلینڈز جیسی مضبوط ٹیموں کی موجودگی میں اسے گروپ آف ڈیتھ بھی کہا جا رہا ہے۔

کالنگا اسٹیڈیم میں چار بارکی ورلڈ فاتح پاکستانی ٹیم کو 2 بار کی چیمپئن جرمنی کا چیلنج درپیش ہوگا، گرین شرٹس سردست اپنی رینکنگ میں کمترین 13ویں پوزیشن پر ہیں، ورلڈ کپ میں جرمنی سے 8 باہمی مقابلوں میں پاکستان نے 5 فتوحات کے ساتھ برتری لے رکھی ہے۔

ہیڈ کوچ توقیر ڈار نے میگا ایونٹ سے قبل لاہور میں قومی پلیئرز کو بھرپور تیاریاں کرائی ہیں، انھوں نے کہا کہ ہماری ٹیم متحد اور ایک مقصد کیلیے میدان میں اترے گی، پلیئرز نے کئی مشکلات کا سامنا کیا لیکن وہ ورلڈکپ اور مستقبل قریب میں آنے والے دیگر چیلنجز کیلیے بھی تیار ہیں، دوسری جانب جرمنی بھی اپنی ٹاپ پوزیشن واپس پانے کیلیے کوشاں ہے۔

علاوہ ازیں ایونٹ میں جمعے کو گروپ ’ بی ‘ کے ابتدائی میچز میں آسٹریلیا نے آئرلینڈ کو 2-1 سے شکست دے دی، فاتح ٹیم کیلیے گوورز اور برانڈ نے گیند کو جال کے سپرد کیا، آئرش ٹیم کا واحد گول اوڈونگ ہوئے کے نام رہا،انگلینڈ اور چین کا مقابلہ 2-2 سے برابر ہوگیا۔

امریکی سائنسدان پر خواتین کو جنسی ہراساں کرنے کا الزام

دنیا بھر میں دریافت، سائنس اور ماحول کے حوالے سے سب سے زیادہ مستند اور تحقیقاتی رپورٹس نشر کرنے والے امریکی چینل نیشنل جیوگرافک اور ’فاکس‘ نیوز کے سائنسدان میزبان نیل ڈی گریس ٹائسن کے خلاف خواتین کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کی تحقیقات کا آغاز کردیا گیا۔

خیال رہے کہ 60 سالہ نیل ڈی گریس ٹائسن فلکی طبیعات کے ماہر ہونے سمیت فلکیات سے متعلق کتابوں کے لکھاری اور سائنسی پروگرامات خصوصی طور پر فلکیات سے متعلق پروگرامات کے میزبان ہیں۔

وہ نہ صرف لکھاری اور میزبان ہیں، بلکہ وہ کچھ سائنسی تحقیقاتی اداروں کے ساتھ بھی منسلک رہے اور اس وقت بھی وہ امریکا کے فلکی طبیعات سے متعلق کام کرنے والے اداروں کے ساتھ منسلک ہیں۔

نیل ڈی گریس ٹائسن دنیا بھر میں دیکھے جانے والے فلکی طبیعات پر مشتمل سائنسی پروگرام ’کاسموس‘ کے میزبان ہیں، یہ پروگرام ابتدائی طور پر امریکی ٹی وی چینل ’فاکس‘ پر نشر کیا گیا۔

اس پروگرام کا پہلا سیزن 2014 میں ’فاکس‘ پر نشر کیا گیا تھا، جب کہ اس کا دوسرا سیزن آئندہ برس ڈسکوری چینل ’نیشنل جیوگرافک‘ پر نشر کیا جائے گا۔

نیل ڈی گریس متعدد سائنسی اداروں میں اعلیٰ عہدوں پر بھی فائز رہے—فوٹو: پیج سکس
نیل ڈی گریس متعدد سائنسی اداروں میں اعلیٰ عہدوں پر بھی فائز رہے—فوٹو: پیج سکس

امریکی خبر رساں ادارے ’ایسوسی ایٹڈ پریس‘ (اے پی) نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ ایک ویب سائیٹ نے 2 خواتین کے حوالے سے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ نیل ڈی گریس ٹائسن نے انہیں جنسی طور پر ہراساں کیا۔

رپورٹ کے مطابق نیل ڈی گریس ٹائسن پر 2 خواتین نے نامناسب انداز میں چھونے اور ان کے ساتھ زبردستی کیے جانے کا دعویٰ کیا۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ خواتین کی جانب سے الزامات لگائے جانے کے بعد ’کاسموس‘ کے پروڈیوسرز نے اپنے بیان میں بتایا کہ وہ فوری طور پر اس حوالے سے کچھ نہیں کہ سکتے، تاہم وہ ان الزامات کی مکمل تحقیقات کرانے کے بعد ہی کچھ کہیں گے۔

ادھر فاکس اور نیشنل جیوگرافک کی انتطامیہ نے بھی فوری طور پر نیل ڈی گریس ٹائسن کے خلاف لگائے جانے والے الزامات پر کوئی بیان یا رد عمل نہیں دیا۔

علاوہ ازیں خود نیل ڈی گریس ٹائسن نے بھی اپنے اوپر لگائے گئے الزامات کے حوالے سے تاحال کچھ نہیں کہا۔

شوبز ویب سائیٹ ورائٹی نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ نیل ڈی گریس ٹائسن پر الزام لگانے والی امریکی ریاست پنسلوانیا کی بک نیل یونیورسٹی کی ڈاکٹر کیٹالن نے الزام عائد کیا کہ نیل ڈی گریس ٹائسن نے 2009 میں ایک تقریب کے دوران جنسی لذت لینے کے لیے انہیں نامناسب انداز میں چھوا۔

رپورٹ کے مطابق نیل ڈی گریس ٹائسن پر الزام لگانے والی دوسری خاتون ایشلے واٹسن نے دعویٰ کیا کہ نیل ڈی گریس ان کے ساتھ نامناسب انداز اور رویے کے ساتھ پیش آتے تھے، جس وجہ سے انہوں نے ان کی اسسٹنٹ کی ملازمت چھوڑی۔

’گھبرانے کی ضرورت نہیں، روپے کی قدر کچھ دن میں بہتر ہوجائے گی‘

اسلام آباد: وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ روپے کی قدر میں کمی سے گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے کچھ دنوں میں سب ٹھیک ہوجائے گا۔

وفاقی دارالحکومت میں منعقدہ تقریب میں پاکستان میں چین کے اشتراک سے آٹو مینوفیکچرننگ یونٹ کے قیام پر عمران خان نے کہا کہ میں آفریدی برادرز کو مبارک باد پیش کرنا چاہتا ہوں، جنہوں نے قبائلی علاقوں سے اٹھ کر چین کے ساتھ جو شراکت داری کی ہے وہ پاکستان کے لیے آگے جانے کا راستہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ سرمایہ کاری 90 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری نہیں بلکہ پہلی مرتبہ پاکستان میں کار سازی کے مکمل یونٹ لگنے جارہا ہے، جس میں سب کچھ یہاں بنے گا، ابتدائی طور پر 5 ہزار ملازمین کو نوکریاں دی جائیں گی اور آگے جاکر اس مشترکہ منصوبے سے 45 ہزار پاکستانیوں کو نوکریاں ملے گی۔

وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ہمارے ذہن میں تبدیلی کی ضرورت ہے، جو لوگ سرمایہ کاری کرنا چاہتے ہیں ان کے لیے آسانیاں پیدا کرنی ہیں کیونکہ جب سرمایہ کاری ہوتی ہے تو نوکریاں ملتی ہیں اور ملک میں ڈالر آتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت ملک کا سب سے بڑا مسئلہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ ہے، جو 2013 میں ڈھائی ارب ڈالر کا تھا وہ 2018 میں ساڑھے 18 ارب ڈالر تک ہوگیا۔

وزیر اعظم نے کہا کہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کا مطلب، جو اشیا ہم دنیا کو بیچتے اور خریدتے ہیں، اس میں ساڑھے 18 ارب ڈالر کا خسارہ ہے اور حکومت کا سب سے بڑا مسئلہ اس خسارے کو کم کرنا رہا ہے کیونکہ ہم نے درآمدات بھی کرنی ہے اور قرض بھی ادا کرنا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ڈالر پر دباؤ ہو اور ڈالر کم ہو تو روپے کی قیمت گرتی ہے، صبح سے کالیں آرہی ہیں ڈالر اتنا بڑھ گیا لیکن میں بتانا چاہتا ہوں کہ گھبرانے کی ضرورت نہیں۔

انہوں نے کہا کہ جب اتنا بڑا خسارہ ہوتا تو تھوڑے وقت کے لیے مشکل وقت آتا اور آگے جا کر سب ٹھیک ہوگا کیونکہ ہم وہ قدم اٹھا رہے ہیں جس سے ڈالر کی کمی نہیں ہوگی۔

عمران خان نے کہا کہ ہم نے اپنے چین کے دورے میں ٹیکنالوجی کی منتقلی کی کوشش کی لیکن بدقسمتی سے ہمارے ملک کی، کہ اگر قرضہ لائیں تو وہ دورہ کامیاب سمجھا جاتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جب ٹیکنالوجی منتقل ہوتی ہے تو ملک کی ترقی ہوتی ہے اور لوگوں کو تربیت ملتی ہے اور نوکریوں کے مواقع آتے ہیں۔

سرمایہ کاری کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ جب سرمایہ کاروں کے لیے آسانیاں پیدا کرتے ہیں تو دیگر لوگ اسی چیز کو دیکھ کر آگے آتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ چین اور ملائیشیا سے پاکستان میں سرمایہ کاری چاہتے ہیں، جس سے ٹیکنالوجی منتقل ہو اور سرمایہ کار کے لیے جتنی آسانیاں کریں گے، اتنا ہی سرمایہ آئے گا۔

وزیر اعظم نے کہا کہ روپے کی قدر نیچے جانے کی وجہ ڈالر کی کمی ہے لیکن ڈالر بڑھانے کا طریقہ سرمایہ کاری ہے اور اس شراکت داری سے 90 کروڑ ڈالر آئیں گے جبکہ مزید سرمایہ کاری سے ڈالر کی کمی کم ہوجائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم نے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے ترسیلات زر کے لیے آسانیاں کردی ہیں اور قانونی طریقے سے پیسے بھیجنے سے 10 ارب ڈالر پاکستان میں آئیں گے۔

عمران خان نے کہا کہ ہر سال 10 ارب ڈالر کی منی لانڈرنگ ہوتی جسے ہم روکنے لگے ہیں۔

وزیر اعظم نے کہا کہ لوگ گھبرائے نہیں، یہ مشکل وقت ہے انشاء اللہ روپے کی قدر بہتر ہوگی۔

ڈپریشن کی دوائیں بھی بیکٹیریا میں اینٹی بایوٹکس کے خلاف مزاحمت بڑھا رہی ہیں

برسبین: آسٹریلوی سائنسدانوں نے دریافت کیا ہے کہ ڈپریشن کے علاج میں عام استعمال ہونے والی دوائیں بھی جرثوموں میں اینٹی بایوٹکس کے خلاف مزاحمت بڑھا کر انہیں غیرمعمولی طور پر مضبوط بنا رہی ہیں۔ اگرچہ ماضی میں ڈپریشن کی دواؤں (اینٹی ڈپریسینٹس) کے مختلف منفی اثرات سامنے آتے رہے ہیں مگر اِن کا تعلق انسان کی دماغی اور جسمانی صحت ہی سے تھا۔ لیکن یہ پہلا موقعہ ہے کہ جب ان کا تعلق جرثوموں (بیکٹیریا) میں اینٹی بایوٹکس کے خلاف مزاحمت سے بھی دیکھنے میں آیا ہے۔

برسبین، آسٹریلیا کی یونیورسٹی آف کوینزلینڈ میں ’’ایڈوانسڈ واٹر مینیجمنٹ سینٹر‘‘ سے وابستہ جیانہوا گوو اور ان کے ساتھیوں نے ’’ای کولائی‘‘ نامی جرثومے پر تحقیق کے دوران یہ تشویشناک دریافت کی ہے۔ کئی ماہ تک جاری رہنے والی اس تحقیق سے معلوم ہوا کہ ڈپریشن کی عام اور مقبول دواؤں میں شامل ایک اہم مرکب ’’فلوکسیٹائن‘‘ (fluoxetine) سے صرف تیس دن تک سامنا ہونے پر جرثوموں میں انتہائی مؤثر اینٹی بایوٹکس کے خلاف مزاحمت میں 5 کروڑ گنا تک اضافہ ہوسکتا ہے۔ یقیناً یہ بہت خطرے کی بات ہے۔

البتہ، تجربہ گاہ کے ماحول میں یہ تحقیق صرف ای کولائی بیکٹیریا پر کی گئی ہے جبکہ ابھی اسے دیگر اقسام کے جرثوموں پر، خاص کر بیماریاں پھیلانے والے جراثیم پر آزمایا جانا باقی ہے۔

واضح رہے کہ قبل ازیں ماہرین کی یہی ٹیم ہینڈ واش اور ٹوتھ پیسٹ کے ایک عام جزو ’’ٹرائی کلوسان‘‘ پر تحقیق کرکے ثابت کرچکی ہے کہ اس کے باقاعدہ استعمال سے جراثیم میں اینٹی بایوٹکس کے خلاف مزاحمت بڑھ جاتی ہے۔ البتہ، تازہ تحقیق کہیں زیادہ تشویشناک ہے کیونکہ اس سے ایک طرف تو یہ پتا چلتا ہے کہ فلوکسیٹائن کی حامل 11 فیصد دوائیں ہمارے جسم میں پہنچنے کے بعد بالکل بھی تبدیل نہیں ہوتیں تو دوسری جانب یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ جتنے لمبے عرصے تک جرثوموں کا سامنا فلوکسیٹائن سے رہے گا، جرثوموں میں اینٹی بایوٹکس کے خلاف مزاحمت بھی اسی قدر بڑھتی جائے گی۔

اس تحقیق کی تفصیلات ریسرچ جرنل ’’اینوائرونمنٹ انٹرنیشنل‘‘ کے تازہ شمارے میں شائع ہوئی ہیں۔

Google Analytics Alternative