Home » 2018 » December » 02

Daily Archives: December 2, 2018

خادم رضوی سمیت تحریک لبیک کے رہنماؤں پر بغاوت اور دہشتگردی کے مقدمات

اسلام آباد: حکومت نے تحریک لبیک کے سربراہ خادم حسین رضوی سمیت پارٹی کے اہم رہنماؤں پر بغاوت اور دہشتگردی کے مقدمات قائم کردیے۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری نے بتایا کہ ریاست کے اندر تمام ادارے قانون کی لڑی میں پروئے ہوئے ہیں، کچھ شرپسند عناصر نے نظام کو تہہ و بالا کرنیکی کوشش کی ہے، جو احتجاج قانون کے دائرہ سے باہر ہو اس پر ریاست خاموش نہیں رہ سکتی، تحریک لبیک نے پاکستان کے آئین کو للکارا ہے، بغاوت کیس میں گرفتار لوگوں کو عمرقید کی سزا ہوگی، شہریوں کی جان و مال کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے والوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا، تحریک لبیک کے رہنماؤں کیخلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جارہی ہے۔

فواد چودھری نے کہا کہ خادم حسین رضوی کے خلاف بغاوت اور دہشتگردی کا مقدمہ تھانا سول لائن لاہور میں درج کیا گیا ہے، تحریک لبیک کے دوسرے اہم رہنما پیر افضل حسین قادری کو گجرات میں بغاوت اور دہشتگردی کے الزام میں چارج کردیا گیا ہے، عنایت الحق شاہ کے خلاف تھانہ روات راولپنڈی اور حافظ فاروق الحسن کیخلاف بھی بغاوت اور دہشتگردی کی ایف آئی آرز درج کرلی گئی ہیں۔

وزیر اطلاعات نے کہا کہ دھرنے میں پانچ کروڑ کے نزدیک سرکاری املاک کو نقصان پہنچا جس میں ملوث افراد کو چارج کیا جارہا ہے، انہیں عمر قید تک سزا ہوسکتی ہے، گرفتار افراد کے کیسز انسداد دہشت گردی کی عدالتوں میں چلائے جائیں گے، احتجاج کے دوران لوٹ مار کیساتھ گاڑیاں جلائی گئیں، جلاؤ گھیراؤ، املاک کو نقصان پہنچانے میں ملوث تمام افراد پر مختلف تھانوں میں دہشت گردی کے مقدمات بنائے جارہے ہیں، جو کارکن زیادہ سرگرم نہیں تھے انہیں بھاری ضمانت پر رہا کیا جائے اور ان سے آئندہ کسی بھی تخریبی سرگرمی میں حصہ نہ لینے کے حلف نامے لیے جائیں گے۔

فواد چودھری کا کہنا تھا کہ سیرت النبی ﷺ کانفرنس میں دنیا بھر کے علما نے کہا کہ جو تحریک لبیک نے کیا وہ عاشقان رسول ﷺ نہیں کرسکتے، تحریک لبیک کی سیاست انتہائی نامناسب تھی، دھرنے کے خلاف آپریشن میں ریاست کے تمام ادارے مشترکہ طور پر شریک تھے، اپوزیشن اور میڈیا ریاست کے ساتھ کھڑے ہوئے اور سپورٹ کیا، پنجاب سے 2899، سندھ سے 139، اسلام آباد سے 126 لوگوں کو حفاظتی تحویل میں لیا گیا ہے۔

فواد چودھری نے کہا کہ پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) کے دو ارکان قومی اسمبلی محسن داوڑ اور علی وزیر پر ایف آئی آر درج ہے، انہیں دبئی جانے سے اسی لیے روکا گیا، پی ٹی ایم رہنماؤں کو چاہیے کہ بیرون ملک جانے سے پہلے ضمانت کرائیں، کسی قسم کے دباؤ کو خاطر میں نہیں لایا جائے گا۔

’لعنت ہے تمہارے سیکولرازم پر‘ خواجہ آصف بھارتی آرمی چیف کے بیان پر پھٹ پڑے

لاہور: سابق وزیر خارجہ خواجہ آصف نے بھارتی آرمی چیف کے بیان پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’ لعنت ہو تمہارے سیکولر ازم پر ہو‘۔

مسلم لیگ (ن) کے رہنما خواجہ آصف نے ٹوئٹ میں بھارتی آرمی چیف کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی معاشرہ ذات پات کے نظام میں جکڑا ہوا ہے بھارت میں گائے کی جان تو مقدس لیکن انسانوں کو تشدد کر کے ہلاک کر دیا جاتا ہے۔

سابق وزیر خارجہ نے کہا کہ بھارت کے نام نہاد سیکولرازم کے پیچھے کٹر انتہا پسند ہندو ذہنیت چھپی ہوئی ہے، بھارت میں اقلیتوں کو زندہ جلایا جاتا ہے جب کہ مقبوضہ کشمیر سے لےکر منی پور اور ناگا لینڈ تک ریاستی دہشت گردی کی جا رہی ہے۔

واضح رہے کہ بھارتی آرمی چیف نے کرتار پور راہداری کے سنگ بنیاد کے مثبت اقدام پر ہرزہ سرائی کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر پاکستان اچھے تعلقات قائم کرنا چاہتے ہے تو اسے سیکولر ریاست بننا ہوگا۔

جنوبی پنجاب صوبے کا قیام آسان نہیں، صدر عارف علوی

پشاور: صدرعارف علوی کا کہنا ہے کہ جنوبی پنجاب صوبے کا قیام آسان کام نہیں جب کہ فاٹا کا انضمام بھی مشکل اقدام تھا جو اب مکمل ہوچکا۔ 

گورنرہاﺅس پشاورمیں گورنر خیبرپختونخوا شاہ فرمان، وزیر اطلاعات شوکت علی یوسفزئی اور وزیر جنگلات اشتیاق ارمڑ کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے صدر مملکت عارف علوی نے کہا کہ صدر کی بنیادی اور آئینی ذمہ داری صوبوں کے مابین روابط قائم کرنا ہے جس کے لیے میں اپنا کردار ادا کررہا ہوں جب کہ اٹھارویں ترمیم کو رول بیک کرنے پر کسی قسم کا کوئی غور نہیں ہورہا تاہم صوبوں کو حاصل اختیارات میں توازن لانے اوران کی استعداد میں اضافے کے لیے مرکز بعض امور پر غور کررہی ہے۔

صدر مملکت نے کہا کہ خیبرپختونخوا نے تعلیم کے شعبے میں ترقی حکومت کو جاتا ہے، فاٹا کو خیبرپختونخوا میں ضم کرنے کے لیے جو آئینی ترمیم کی گئی اس میں میرا بھی کردار تھا، نہ تو فاٹا کا انضمام آسان ہے اور نہ ہی صوبہ جنوبی پنجاب کا قیام تاہم فاٹا کا انضمام تو ہوچکا اور اب مسائل کو ختم کرتے ہوئے وہاں نظام قائم کیا جانا ہے جب کہ ضم شدہ علاقوں میں لیویز اور خاصہ دار اہلکاروں کو فارغ نہیں کیا جارہا بلکہ وہ نئے نظام میں ایڈجیسٹ کرلیے جائیں گے اورمزید 20 ہزار پولیس کے لیے بھرتیاں کی جائیں گے۔

عارف علوی نے کہا ہے کہ وہاں عدالتی نظام بھی قائم کیا جانا ہے اور این ایف سی کا تین فیصد حصہ بھی ان علاقوں کے لیے دیاجائے گا کیونکہ ان لوگوں نے ملک میں قیام امن کے لیے بڑی قربانیاں دیں، فاٹا میں نقصانات کو پورا کرنے کے لیے 10 سالوں تک 100 ارب روپے فراہم کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ مسنگ پرسنز کے حوالے سے وزیراعظم ،آرمی چیف اور عدلیہ مشترکہ طور پر غور کررہی ہے تاکہ مسئلہ بھی حل ہو اور معلوم کیا جاسکے کہ غائب شدہ افراد کہاں گئے۔

بالی ووڈ اداکار راجپال یادیو کو 3 ماہ قید کی سزا

نئی دلی: بالی ووڈ کے مزاحیہ اداکار راجپال یادیو کو قرض کی عدم ادائیگی پر تین ماہ کے لیے جیل بھیج دیاگیا۔

فلم’بھول بھلیاں‘،’ہنگامہ‘ اور چھپ چھپ کے‘ میں اپنی مزاحیہ اداکاری سے لوگوں کو ہنسانے والے بالی ووڈ اداکار راجپال یادیوکو 5 کروڑ روپے کی عدم ادائیگی پر تین ماہ کے لیے جیل بھیج دیاگیا۔ بھارتی میڈیا کے مطابق دلی ہائیکورٹ نے گزشتہ روز ہونے والی سماعت کے دوران فیصلہ سناتے ہوئے اداکار راجپال کو فوری گرفتار کرنے کا حکم دیا بعد ازاں انہیں تین ماہ کے لیے تہار جیل بھیج دیاگیا۔

اداکار راجپال یادیو پر الزام ہے کہ انہوں نے اور ان کی اہلیہ رادھا کی کمپنی شری نورنگ گوداویری انٹرٹنمنٹ نے 2010 میں فلم ’اتہ پتہ لاپتہ‘ بنانے کے لیے مرلی پروجیکٹس نامی کمپنی سے 5 کروڑ قرض لیا تھا تاہم وہ یہ قرض چکانے میں ناکام رہے جس پر مرلی پروجیکٹس نے راجپال یادیو کے خلاف شکایت درج کرائی تھی۔

بعد ازاں اگست 2012 میں اداکار راجپال یادیو نے گیارہ کروڑ دس لاکھ ساٹھ ہزار تین سو پچاس روپے کی رقم دینے کے معاہدے پر اتفاق کیا تھا اس میں ادائیگی کی رقم کے علاوہ سود بھی شامل تھا تاہم پھر دونوں پارٹیوں کے درمیان کسی تنازع کے باعث یہ معاملہ ہائی کورٹ چلاگیا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق راجپال یادیو نے 2010 میں قرض لیا تھا اور 8 سال گزر جانے کے باوجود وہ یہ قرض چکانے میں ناکام رہے ہیں۔ راجپال یادیو نے جس فلم کے لیے یہ قرض لیا تھا وہ 2012 میں ریلیز کی گئی تھی اور صرف 38 لاکھ کی کمائی ہی کرسکی تھی یہی وجہ ہے کہ یادیو قرض نہیں چکاسکے۔

مسئلہ کشمیر حل طلب ، بھارت کو مثبت انداز میں آگے بڑھنا ہوگا

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ دنیا میں کچھ بھی ناممکن نہیں، مسئلہ کشمیر حل ہوسکتا ہے مگر اس سلسلے میں بھارت صحیح طرح کردارادا نہیں کررہا، پاکستان اور بھارت دونوں ایٹمی قوتیں ہیں اور یہ کسی صورت بھی جنگ کی متحمل نہیں ہوسکتیں۔ وزیراعظم کی یہ بات بالکل درست ہے کیونکہ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے پاکستان نے ہمیشہ مثبت اقدامات کیے ہیں، پوری دنیا جانتی ہے کہ اگر بھارت ایک قدم آگے بڑھا تو پاکستان نے دو قدم بڑھائے لیکن بھارت کی جانب سے کبھی بھی کوئی ایسا بڑا بریک تھرو سامنے نہیں آیا جو قابل تعریف ہو۔ وزیراعظم نے بھارتی صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہاکہ ، ہم ہر وقت مودی سے بات چیت کیلئے تیار ہیں لیکن انہیں بھی نیک نیتی سے آگے بڑھنا ہوگا، کم ازکم مقبوضہ کشمیر میں جو مظالم ہورہے ہیں انہیں تو بھارت روکے ، روزانہ معصوم کشمیریوں کو شہید کیا جارہا ہے ۔ عمران خان نے کہاکہ کرتارپور بارڈر کھلنے سے سکھ برادری بہت زیادہ خوش ہے۔ آج میں جو کچھ بھی کہہ رہا ہوں اس حوالے سے ہماری سیاسی و عسکری قیادت ایک پیج پر ہیں اور سب اس بات پر متفق ہیں کہ مسائل کو مذاکرات کے ذریعے حل کیا جائے۔ انہوں نے کہاکہ میں ماضی کا جوابدہ نہیں مجھ سے معاہدہ کریں میں پیچھے نہیں ہٹوں گا۔ خطے میں قیام امن مسئلہ کشمیر سے منسلک ہے، اس کے حل ہونے میں بھارت ہر قدم پر رکاوٹ پیدا کرتا ہے ۔ ادھر کرتارپوربارڈر کا وزیراعظم پاکستان نے سنگ بنیاد رکھا ادھر بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج نے تمام کیے دھرے پر پانی پھیر دیا۔ ترجمان دفتر خارجہ نے بھی یہی بات کہی کہ مسئلہ کشمیر کا حل کشمیریوں کی منشا کے مطابق ہونا ہے کیونکہ اس میں تیسرا اور اصل فریق کشمیری ہی ہیں۔ وہاں پر ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی برطانوی پارلیمنٹ نے بھی تصدیق کی۔ پھر مقبوضہ کشمیر میں ووٹرز کا کم ٹرن آؤٹ ثابت کرتا ہے کہ وہ لوگ بھارت سے حد درجہ تنگ ہیں۔ آج مقبوضہ کشمیر میں ظلم کی انتہا ہوچکی ہے، نہ وہاں کوئی بچہ محفوظ ہے نہ جوان اور نہ ہی کوئی بزرگ حتیٰ کہ خواتین کے احترام کو بھی روند کر رکھ دیا گیا ہے۔ ترجمان نے کہاکہ کشمیری اپنے خون سے تاریخ لکھ رہے ہیں مگر نامعلوم کیوں عالمی برادری کی آنکھیں بند ہیں۔ ادھر دوسری جانب وزیراعظم نے ایک اور تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈالر کی اونچی پرواز کے حوالے سے کہاکہ ہمارا روپیہ جلد مضبوط ہوگا، ڈالرز کی کمی نہیں ہوگی ، اس حوالے سے زیادہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ اب حکومت کو چاہیے کہ وہ ایسے اقدامات کرے جس سے فی الوقت کم ازکم ڈالر کی بڑھتی ہوئی قیمت پر قابو پایا جاسکے کیونکہ جب ڈالر مہنگا ہوتا ہے تو پھر لامحالہ مہنگائی بھی آسمان تک جا پہنچتی ہے ، وقت اتنا سخت ہے کہ دو وقت کی روٹی پوری کرنا بہت مشکل ہے، حکومت اس جانب زیادہ توجہ مبذول کرے تاکہ عوام سکھ کا سانس لے سکے ۔کیونکہ حکومت کے سو دن پورے ہوچکے ہیں اور اب جو جو بھی انہوں نے منصوبے بنائے ہیں ان پر جلد ازجلد عملدرآمد بھی نظر آنا چاہیے۔ نشستاً برخاستاً معاملات نہیں حل ہوسکتے ، جو بھی لائحہ عمل طے کیا ہے اس کے نتائج ملنا بہت ضروری ہیں۔ حکومت نے ایک اور بھی ایسا قدم اٹھایا ہے جس سے امید کی جارہی ہے کہ ممکنہ طورپر عوام کو کچھ نہ کچھ ریلیف ضرور ملے گا ، وہ یہ ہے کہ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں دو ، دو روپے کمی کردی گئی ہے لیکن یہ کمی اونٹ کے منہ میں زیرے کے مترادف ہے۔ بین الاقوامی مارکیٹ میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بہت زیادہ کم ہوئی ہیں لیکن اس کی نسبت سے عوام کو ثمرات کم فراہم کیے گئے ہیں، اگر حکومت پٹرول فی لیٹر55 روپے سے لیکر65 روپے تک فروخت کرے تو یہ کوئی اتنا نقصان دہ اقدام نہیں ہے۔ عوام کی بھی یہی خواہش ہے کہ اصل ثمرات اس تک لازمی پہنچنے چاہیے اور یہ سب کچھ اس وقت حکومت کے ہاتھ میں ہے کہ وہ اپنی پالیسی کو مزید کس طرح بہتر بناتی ہے۔
چیف آف آرمی سٹاف کا عزم لائق تحسین
چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کے عزم کو ہم سلام پیش کرتے ہیں کیونکہ انہوں نے دوٹوک انداز میں واضح کہہ دیا ہے کہ کسی بھی روایتی خطرے کا جواب دینے کیلئے تیار ہیں۔ چونکہ بھارت گزشتہ دنوں سے گیدڑ بھبکیاں دے رہا ہے وہ بالکل اس طرح کررہا ہے جیسے کہ کھسیانی بلی کھمبا نوچے کیونکہ کرتارپور بارڈر کے سنگ بنیاد کے بعد پوری دنیا کے سامنے بھارت کا مکروہ چہرہ مزید سامنے آگیا ہے۔آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ مجھے اس فوج کی کمان پر فخر ہے جس نے اللہ کے فضل سے دہشتگردی کے خلاف جنگ لڑ کر قوم کی خدمت کی،آئی ایس پی آرکی جانب سے جاری بیان کے مطابق جنرل قمر جاوید باجوہ نے گزشتہ روز سیالکوٹ کور فارمیشن کا دورہ کیا، انفینٹری ڈویژن کی آپریشنل مشق کے آخری مرحلے کا معائنہ کیا اور شرکا کے جنگی طریقہ کار اور آپریشنل صلاحیت کو سراہا۔جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا تھا کہ آپریشن ردالفساد جاری رہنے کے باوجود روایتی جنگوں کے ردعمل کی تیاریوں کو نظر انداز کرنے کے متحمل نہیں ہو سکتے۔سب کنوینشنل آپریشنز کا ہمارا تجربہ جنگی اہلیت کی طرف ایک اضافہ ہے، پروفیشنل آرمی کو لڑائی کیلئے بہترین تربیت اور اسلحے سے لیس کیا جا رہا ہے۔
عامر محمود کی پروگرام سچی بات میں صحت کے حوالے سے گفتگو
کسی بھی ترقی یافتہ قوم کیلئے ضروری ہے کہ وہ صحت مند ہو اور حکومت عوام کی صحت کی جانب سے بھی خصوصی توجہ دے رہے ہے۔ اس سلسلے میں وفاقی وزیر صحت عامر محمود کیانی کی خدمات لائق تحسین ہیں۔ گزشتہ روز وہ روز نیوز کے پروگرام ’’سچی بات ‘‘ میں تشریف لائے اور صحت کے حوالے سے سیر حاصل گفتگو کی۔ انہوں نے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ این آئی ایچ میں نرسنگ یونیورسٹی کیلئے جگہ دیدی ہے،دو کروڑ لوگوں کو ہیلتھ انشورنس کارڈ دینے جا رہے ہیں،8دسمبر کو ہیلتھ کارڈ کی بولی شروع ہو گی۔ 8دسمبر کو ہیلتھ کارڈ کی بولی شروع ہورہی ہے،عام آدمی پر صحت کا ایشو آتا ہے تو اس کا دیوالیہ نکل جاتا ہے،دسمبر سے2کروڑ لوگوں کو ہیلتھ انشورنس دینے جارہے ہیں،ہیلتھ انشورنس کارڈ میں زیادہ تر بیماریوں کا علاج ہوجاتا ہے،پمز اسپتال میں کاؤنٹرز کی جگہ ٹوکن مشینیں لگادی ہیں،دل لگی اور دلجمعی سے کام کیا جائے تو کام ہو جاتا ہے،عام عوام زیادہ تر سرکاری اسپتالوں میں جاتے ہیں،اورنج ٹرین کی لاگت اربوں ڈالر،اسپتالوں کا بیڑہ غرق ہے،ای پی آئی کی پوری اسکیم کو اپ گریڈ کررہے ہیں،انوائرمنٹ پر10ارب روپے کا پراجیکٹ شروع ہوگیا ہے،اسلام آباد کے بنیادی مرکز صحت میں بجلی نہیں ہے،اسپتالوں میں بہت برا حال ہے،لوگ بیماریاں لیکر جاتے ہیں،اسپتال کے باہر گندگی پر چیئرمین سی ڈی اے سے بات کرونگا،خیبرپختونخوا کے اسپتالوں میں ڈاکٹرز کی تنخواہیں دوگنی ہیں،پنجاب کی نسبت خیبرپختونخوا کے ڈاکٹرز کی تنخواہیں زیادہ ہیں،پہلے بات چیت کرتا ہوں اس کے بعد سختی کی طرف جاتا ہوں،10ارب کی نرسنگ یونیورسٹی کی زمین پر قبضہ ہوا ہے،این آئی ایچ کے اندر نرسنگ یونیورسٹی کیلئے جگہ دیدی ہے،پی ایم ڈی سی کا کیس سپریم کورٹ میں چل رہا ہے،پی ایم ڈی سی کے حوالے سے ڈرافٹ تیار کرلیا گیا ہے،وزیراعظم عمران خان اور چیف جسٹس بہت ایکٹو ہیں،کسی بھی وزیر نے ان3ماہ میں کوئی چھٹی نہیں کی،میں نے اپنی وزارت سے کسی بندے کو نہیں بدلا،جب آپ صحیح کام کریں گے تو کوئی کچھ نہیں کہے گا،جب آپ کام کرنے کی نیت کریں تو اللہ کی مدد آتی ہے۔

غلام ذہنیت والےمرغی کے ذریعےغربت کےخاتمے کی بات پرمذاق اڑاتے ہیں، وزیراعظم

وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ دیسی لوگ مرغی کے ذریعےغربت کے خاتمے کی بات کریں تو غلامانہ ذہنیت والے مذاق اڑاتے ہیں۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹوئٹ کرتے ہوئے وزیراعظم عمران کان نے اپنے مرغی کے فارمولے پر وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ جب ایشائی لوگ پولٹری کے ذریعے غربت کا خاتمہ کرنے کی بات کریں تو غلامانہ ذہنیت والے ان کا مذاق اڑایا جاتا ہے لیکن یہی بات جب مغرب میں سے کوئی کرے تو اسے دانشمندانہ سوچ قرار دیا جاتا ہے۔

دوسری جانب وزیر توانائی عمر ایوب نے وزارت کی کارکردگی رپورٹ وزیراعظم کو پیش کردی، وزیراعظم عمران خان نے ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا کہ بجلی چوری، لائن لاسز پر قابو پانے پر وزیر توانائی کو مبارکباد پیش کرتا ہوں، بجلی چوری ہونا لوڈشیڈنگ اور مہنگی بجلی کی ایک اہم وجہ ہے۔

واضح رہے وزیراعظم عمران خان نے تحریک انصاف کی حکومت کے 100 دن مکمل ہونے پر خصوصی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے غریب عوام کو مرغی کے فارم بناکر غربت ختم کرنے کا مشورہ دیا تھا۔

ایران امریکہ بڑھتے اختلافات خطے کیلئے خطرہ

ایران امریکہ جوہری معاہدے پر اختلافات کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات کافی حد تک بگڑ چکے ہیں۔ وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ اس دفعہ ایران پر جو پابندیاں عائد کی جا رہی ہیں وہ 2015 کی پابندیوں سے زیادہ سخت ہوں گی۔ ان پابندیوں کا اطلاق نہ صرف ایران پر بلکہ ان تمام ممالک پر بھی ہوگا جو ایران سے تجارت کرتے ہیں۔ 2015 کے جوہری معاہدے کے بعد جو پابندیاں ختم ہو گئی تھیں وہ دوبارہ عمل میں آجائیں گی۔ امریکہ نے واضح کیا ہے کہ وہ ایرانی تیل کی فروخت پر بتدریج پابندیاں لگائے گا۔ ایک دم سے ایرانی تیل بند کرنے کی صورت میں عالمی منڈی میں تیل کی قیمت میں بہت زیادہ اضافہ ہو جائے گا جو کہ معیشت کیلئے کافی نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ ٹرمپ کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر غور کریں تو ایرانی تیل کی کھپت آدھی رہ گئی ہے کیونکہ پابندیوں کے ڈر سے بہت سے ممالک نے ایران سے تیل لینا بند کر دیا ہے۔ تاہم امریکہ نے بھارت سمیت آٹھ ممالک ایران سے تیل خریدنے کی چھوٹ دی ہے۔ ان آٹھ ممالک میں امریکی اتحادی اٹلی ، جاپان، جنوبی کوریا اور ترکی بھی شامل ہیں۔ بھارت بھی ان چھوٹ حاصل کرنے والے ممالک میں شامل ہے مگر بھارت امریکہ کا اتحادی دوست نہیں۔ گو کہ بھارتی میڈیا ایڑی چوٹی کا زور لگا کر بھارت امریکہ دوستی اور اتحادی ہونے کا واویلا کرتے ہیں مگر ابھی تک امریکہ نے اسے باضابطہ طورپر شرف قبولیت نہیں بخشا۔ ایران پر امریکی پابندیوں کے اثرات گو بھارت پر بھی ہوں گے کیونکہ اعراق اور سعودی عرب کے بعد بھارت کو تیل فراہم کرنے والا تیسرا بڑ ا ملک ایران ہے۔ بھارت کی نیشنل آئل کمپنی اور ایم آر پی ایل کمپنی بھارت کی دو اہم کمپنیاں ہیں جو ایران سے زیادہ تیل درآمد کرتی ہیں جنہیں امریکہ کی جانب سے ایران مخالف پابندیوں سے چھوٹ ملنا یقیناًبڑی خوشخبری ہوگی۔متوقع پابندیوں کی وجہ سے ان کمپنیوں نے جولائی میں ایران سے بہت بڑی مقدار میں تیل خرید لیا تھا۔ اب تک تو بھارت نے ایران پر امریکی پابندیوں کے اثرات سے بچنے کیلئے کچھ انتظامات کر رکھے تھے جیسے ڈالر کی بجائے ریال اور روپے میں تجارت کا معاہدہ۔ اس کے تحت تیل کی قیمت بھارتی روپے میں بھی ادا کی جا سکتی تھی۔ اس کے علاوہ بارٹر سسٹم کے تحت تجارت ہورہی تھی۔ ایران بعض اجناس کے بدلے بھارت کو تیل فراہم کرتا تھا۔ 4 نومبر سے ایران پر لگنے والی پابندیوں کے باوجود بھارت ایران سے تیل درآمد کر رہا ہے۔ اس ضمن میں امریکہ نے بھارت کو خصوصی چھوٹ دی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ امریکہ بھارت پر دباؤ بھی ڈال رہا ہے کہ ایران سے تیل کی درآمد ختم کر دے۔ ا مریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایرانی جوہری معاہدے سے الگ ہونے کے اعلان کے چند ہفتے بعد بھارتی وزیر خارجہ نے کہا تھا کہ بھارت کسی کی پابندی کو تسلیم نہیں کرتا اور وہ صرف اقوام متحدہ کے ذریعے منظور کی گئی پابندیوں کے نفاذ کا پابند ہے۔یہ بھی حقیقت ہے کہ سابق امریکی صدر براک اوباما نے بھارت کو ایران سے تیل درآمد کرنے اور چاہ بہار کی تعمیر کے سلسلے میں استثنیٰ دے رکھا تھا۔چاہ بہار بندرگاہ کی تعمیر اور بھارتی کنٹرول صرف اور صرف گوادر بندرگاہ اور چینی اجارہ داری کی مخالفت کی وجہ سے امریکہ نے دیا۔ امریکہ نہیں چاہتا تھا کہ چین کی رسائی بحیرہ عرب تک ہو۔ افغانستان میں امریکی اقتدار میں بھارتی موجودگی اور پاکستان و چین کے خلاف اس کی کارروائیوں کو امریکہ کی تائید حاصل رہی ہے۔ اصل میں بھارت امریکہ گٹھ جوڑ پاکستان اور چین اور سی پیک کے خلاف ہے۔ اس وقت پاک امریکہ تعلقات سرد مہری کا شکار ہیں۔ دونوں کے درمیان افغانستان سے متعلق پالیسی پر اختلافات ہیں۔ امریکہ پاکستان سے مطالبہ کرتا رہا ہے کہ وہ طالبان پر اپنے اثرورسوخ کو بروئے کار لاتے ہوئے انہیں افغانستان سے مذاکرات پر آمادہ کرے۔ گو کہ پاکستان نے اس سلسلے میں کئی بار امریکہ کی مدد کی مگر امریکہ میں نہ مانوں کی رٹ لگائے ہوئے ہے۔ امریکہ جانتا ہے کہ بھارت دنیا میں سب سے زیادہ اسلحہ خریدنے والا ملک ہے۔ بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی کے جنگی جنون نے امریکہ کے لیے کئی آسانیاں پیدا کر دی ہیں۔ نریندر مودی کو افغانستان میں وسیع اور اہم کردار دینے کے وعدوں کے بدلے امریکہ کئی ارب ڈالر کے معاہدے کر چکا ہے۔ انہی معاہدوں اور خصوصی تعلقات کی بناپر بھارت اپنے آپ کو امریکی اتحادی گردانتا ہے۔ جب بھی پاک بھارت تعلقات کشیدگی کا شکار ہوتے ہیں امریکہ بھی پاکستان پر دباؤ بڑھانا شروع کردیتا ہے جس کا مقصد بھارت کو خوش کرنا ہے۔ امریکہ بھارت کو اپنے مفادات کے حصول کیلئے استعمال کر رہا ہے ۔وہ بھارت کو خوش کر کے چین کے ساتھ جنگ کی صورت میں بھارت کے اڈے استعمال کرنے کی راہ ہموار کر رہا ہے۔ جنگ کی صورت میں ملکوں کو فوجی معاونت کی ضرورت بھی ہوتی ہے اسی لئے دونوں ملکوں نے فوجی نظام کو بروئے کار لانے کا معاہدہ بھی کرلیا ہے ۔بہر حال بھارتی حکومت نے یہ فیصلہ کیا ہے امریکی پابندیوں کو ایک طرف رکھتے ہوئے نومبر میں ایران سے 9 ملین بیرل تیل خریدے گی۔اس لئے 4 نومبر سے ایرانی تیل کی خرید پر لگنے والی امریکی پابندی کے باوجود بھارت اسلامی جمہوریہ ایران سے خام تیل کی خرید کا سلسلہ جاری رکھے گا۔

سیف علی خان کی بیٹی کی خواتین ماڈلز میں دلچسپی؟

بولی وڈ کے چھوٹے خان سیف علی خان کی بیٹی سارہ علی خان کی پہلی فلم یوں تو رواں ماہ ریلیز ہوگی، تاہم وہ پہلی فلم کی ریلیز سے قبل ہی اسٹار بن گئی ہیں۔

سارہ علی خان کی پہلی فلم ’کیدر ناتھ‘ رومانٹک ٹریولنگ فلم ہے، جس میں ان کے ساتھ سشانت سنگھ راجپوت رومانس کرتے دکھائی دیں گے۔

ان دنوں سارہ علی خان اپنی اسی فلم کی تشہیر میں مصروف ہے، جسے رواں ماہ 7 دسمبر کو ریلیز کیے جانے کا امکان ہے۔

فلم کی تشہیر کے سلسلے میں سارہ علی خان شوبز صحافی انوپما چوپڑا کے شو ’فلم کمپینین‘ میں شریک ہوئیں، جہاں انہوں نے اپنی ذاتی اور پروفیشنل زندگی سے متعلق کھل کر باتیں کیں۔

انٹرویو میں سارہ اپنی والدہ کی تعریف کرتی نظر آئیں—اسکرین شاٹ
انٹرویو میں سارہ اپنی والدہ کی تعریف کرتی نظر آئیں—اسکرین شاٹ

اگرچہ سارہ علی خان اس سے قبل بھی کرن جوہر کے شو ’کافی ود کرن‘ میں کھل کر باتیں کر چکی ہیں۔

تاہم اب انہوں نے انوپما چوپڑا سے گفتگو کے دوران اپنے کئی رازوں سے پردہ اٹھایا اور بتایا کہ ان کے سوشل میڈیا پر جعلی اکاؤنٹس ہیں۔

لوگ میرے اسٹائل اور لباس پر بھی نظر رکھتے ہیں، اداکارہ—فائل فوٹو: ہندوستان ٹائمز
لوگ میرے اسٹائل اور لباس پر بھی نظر رکھتے ہیں، اداکارہ—فائل فوٹو: ہندوستان ٹائمز

سارہ علی خان کا کہنا تھا کہ وہ بھی عام انسانوں کی طرح عام زندگی گزارنا چاہتی ہیں، ساتھ ہی وہ لوگوں کے لیے اہمیت بھی رکھتی ہیں۔

سیف علی خان کی بیٹی اس انٹرویو میں بھی اپنی والدہ امریتا سنگھ کی تعریفیں کرتی نظر آئیں اور انہوں نے اپنی بہتر پرورش اور کامیابی کا کریڈٹ کسی حد تک اپنی والدہ کو ہی دیا۔

سارہ علی خان کا کہنا تھا کہ اسٹارز کے گھر میں پیدا ہونے کی وجہ سے لوگ ان پر گہری نظر رکھتے ہیں اور انہیں لوگوں کی جانب سے عجب عجب باتیں سننے کو ملتی ہیں۔

مختصر کپڑے پہنوں یا شلوار قمیض لوگ تنقید کرتے ہیں، اداکارہ—فائل فوٹو: ووگ انڈیا
مختصر کپڑے پہنوں یا شلوار قمیض لوگ تنقید کرتے ہیں، اداکارہ—فائل فوٹو: ووگ انڈیا

انہوں نے اپنی ڈریسنگ کے حوالے سے بتایا کہ لوگوں انہیں ہر طرح کے ڈریسنگ میں تنقید کا نشانہ بناتے ہیں۔

سارہ علی خان کے مطابق جب وہ مختصر کپڑے پہننے کے بعد شلوار قمیض پہنتی ہیں تو لوگ انہیں پیغام بھجواتے ہیں کہ یا تو وہ ننگی ہوتی ہیں یا پھر شلوار قمیض پہنتی ہیں۔

انسٹاگرام پر جعلی اکاؤنٹ ہے، سارہ علی خان—فوٹو: انسٹاگرام
انسٹاگرام پر جعلی اکاؤنٹ ہے، سارہ علی خان—فوٹو: انسٹاگرام

اداکارہ نے لوگوں کے کمنٹس اور جوابات پر مسکراتے ہوئے کہا کہ اگر وہ سوشل میڈیا پر کوئی کمنٹس کرتی ہیں تو لوگ اس کا اسکرین شاٹ لے کر اسے شیئر کرتے رہتے ہیں۔

ساتھ ہی سارہ علی خان نے انکشاف کیا کہ ان کا انسٹاگرام پر جعلی اکاؤنٹ ہے، جب کہ ان کا ٹوئٹر پر بھی کوئی اکاؤنٹ نہیں، تاہم وہ جلد ہی ٹوئٹر پر اکاؤنٹ بنانے کا ارادہ رکھتی ہیں۔

جعلی اکاؤنٹ سے خواتین ماڈلز کو فالو کرتی ہوں، اداکارہ—فوٹو: انسٹاگرام
جعلی اکاؤنٹ سے خواتین ماڈلز کو فالو کرتی ہوں، اداکارہ—فوٹو: انسٹاگرام

سارہ علی خان نے مسکراتے ہوئے کہا کہ انسٹاگرام پر جعلی اکاؤنٹ سے وہ انتہائی بولڈ اور ہاٹ خواتین ماڈلز کی تصاویر کو پسند کرنے سمیت ان پر کمنٹس بھی کرتی ہیں۔

تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ وہ بولڈ خواتین ماڈلز کی تصاویر کو ہی کیوں پسند کرتی ہیں؟

Google Analytics Alternative