Home » 2018 » December » 03

Daily Archives: December 3, 2018

‘مستقبل میں یو اے ای سے دوطرفہ تعاون اور حمایت مضبوط ہوگی’

متحدہ عرب امارات (یو اے ای) آج بروز اتوار (2 نومبر) کو بطور قومی دن کے طور پر منا رہے ہیں، اس موقع پر وزیراعظم عمران خان نے پاکستان اور یو اے ای کے تعلقات کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان موجود دو طرفہ حمایت اور تعاون مستقبل میں مزید مضبوط ہوگا۔

یو اے ای کے 47 ویں قومی دن کے موقع پر وزیراعظم عمران خان کی جانب سے جاری پیغام میں کہا گیا کہ 47 سالہ مختصر مدت میں یواے ای کی ترقی، سالمیت اور بہترین طرز حکمرانی ایک مثال ہے۔

ریڈیو پاکستان کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ یہ معاملہ ‘اعتماد کا ہے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات اب طویل دورانیے کے اسٹرٹیجک معاشی شراکت داری میں تبدیل ہوگئے ہیں’۔

خیال رہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت نے اپنی 100 روزہ کارکردگی، جو انہوں نے 26 نومبر کو عوام کے سامنے پیش کی تھی، میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے درمیان تعلقات کو نئے سرے سے استوار کرنے کا ذکر بھی کیا تھا۔

وزیراعظم کا عہدہ سنبھالنے کے بعد عمران خان نے دو مرتبہ یو اے ای کا دورہ کیا۔

اس سے قبل 18 ستمبر 2018 کو وزیراعظم عمران خان نے اپنے پہلے غیرملکی سرکاری دورے میں سعودی عرب کے فرماں روا شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد محمد بن سلمان سے جدہ میں ملاقات کی، جہاں انہیں گارڈ آف آنر پیش کیا گیا جس کے بعد وہ وفد کے ہمرا متحدہ عرب امارات پہنچے تھے۔

24 اکتوبر کو وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے یقین دلایا تھا کہ سعودی عرب نے بیل آؤٹ پیکج کی مد میں پاکستان پر کوئی شرط عائد نہیں کیں۔

سعودی عرب کے دورے کے حوالے سے انہوں نے کہا تھا کہ سعودی عرب کے ساتھ تعلقات میں اتار چڑھاؤ رہا لیکن تعلقات برقرار رہے تاہم سردمہری کی کئی وجوہات تھیں جنہیں درست کرنے کی کوشش کی گئی۔

وزیراعظم اور ان کا وفد متحدہ عرب امارات کے امیر کی دعوت پر ابو ظہبی روانہ ہوا تھا اور ولی عہد محمد بن زید النیہان نے ائرپورٹ پر ان کا استقبال کیا تھا، جہاں متحدہ عرب امارات کے حکام سے ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور پر گفتگو ہوئی تھی۔

بعد ازاں 18 نومبر 2018 کو وزیراعظم عمران خان ایک روزہ سرکاری دورے پر متحدہ عرب امارات (یو اے ای) پہنچے تھے جہاں ان کی ہم منصب شیخ محمد بن راشدالمختوم سے ملاقات ہوئی تھی۔

شاہ محمود قریشی کا بھارتی وزیر خارجہ کو کرارا جواب

اسلام آباد: وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے دو ٹوک انداز میں بھارتی حکومت پر واضح کیا  ہے کہ سکھ برادری کو پاکستان سے متنفر کرنے کی مذموم سازش کامیاب نہیں ہوگی۔ 

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے ایک پیغام میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے  بھارتی ہم منصب سشما سوراج کی ہرزہ سرائی کا مدلل اور جامع جواب دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان دو طرفہ مذاکرات کے حوالے سے میرے بیان کو سکھ برادری سے منسوب کرنے کی کوشش کامیاب نہیں ہوگی۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ کرتار پور بارڈر کے کھلنے پر بھارتی وزیر خارجہ کے بیان پر میرے ردعمل کو سوچی سمجھی سازش کے تحت توڑ مرورڑ کے پیش کیا جا رہا ہے تاکہ سکھ بھائیوں کے جذبات کو مجروح کر کے پاکستان سے متنفر کیا جا سکے

شاہ محمود قریشی نے بھارتی ہم منصب کا نام لیے بغیر کہا کہ میرا بیان پاکستان اور بھارت کے درمیان دو طرفہ مذاکرات کے تناظر میں تھا اور صرف پاک بھارت مذاکرات کے لیے ہی مخصوص تھا لیکن اس بیان کو سکھ برادری سے منسوب کرنے کی کوشش کی گئی۔

وزیرخارجہ نے کہا کہ پاکستان سکھ برادری کی دل کی گہرائیوں سے قدر کرتا ہے اور سکھ برادری کے جذبات کا بے حد احترام کرتا ہے اور کوئی بھی پروپیگنڈا اس رشتے کو نہ تو توڑ سکے گا اور نہ ہی متنازعہ بنا سکے گا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے احترام کے اسی کے رشتے کے تحت سکھ برادری کی برسوں پرانی دلی خواہش کو پورا کرنے کے لیے کرتار پور راہداری کو کھولا،  ہم نے یہ تاریخی اقدام نیک نیتی سے اُٹھایا ہے اور نیک نیتی کے ساتھ یہ سفر آگے بھی جاری رہے گا۔

واضح رہے کہ بھارتی وزیرخارجہ سشما سوراج نے اپنے پاکستانی ہم منصب کے گگلی والے بیان کو سکھ برادری سے نتھی کرنے کی کوشش کی تھی۔ شاہ محمود قریشی نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ عمران خان نے کرتارپور کی گگلی پھینکی تو بھارت کو اپنے وزیر بھیجنے پڑے تھے۔

مجھے نہیں لگتا کپتان زیادہ دن حکومت سنبھال سکے گا، آصف زرداری

رحیم یار خان: پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کا کہنا ہے کہ حکومت نے کام نہیں کیا تو گھر جانا پڑے گا اور مجھے نہیں لگتا عمران خان زیادہ دیر حکومت سنبھال سکے گا۔ 

رحیم یار خان میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے سابق صدر نے کہا کہ  ہر دور میں سیاسی مخالفین جیلوں میں رہے لیکن پیپلزپارٹی کے دور میں ایک بھی سیاسی قیدی نہیں تھا، ہم نے مخالفین کو جیلوں میں رکھا نا کسی کا احتساب کرنے کا سوچا، جب کہ جمہوریت کے لیے بھٹو اور بی بی نے شہادت پائی اور ہم نے جیلیں کاٹیں۔

آصف زرداری کا کہنا تھا کہ ہر کوئی یہ سمجھتا ہے وہ ہم سے زیادہ ہوشیار ہے، میں نے بطور صدر اپنے اختیارات پارلیمنٹ کو واپس کیے اگر اختیارات پارلیمنٹ کو نہ دیتا تو کوئی ڈینٹسٹ یا پکوڑے والا آج صدر نہ ہوتا لیکن یہ سمجھتے ہیں کہ 18ویں ترمیم ہم اپنے لیے لائے تھے، یہ صوبوں کے لیے لائی گئی تھی تاکہ نچلی سطح تک اختیارات منتقل کیے جائیں۔

پی پی کے شریک چیئرمین نے کہا کہ کپتان نے جھوٹے وعدے کیے اور یوٹرن لیے، ان سے نہ معیشت سنبھالی جاتی ہے اور نہ ہی ملک سنبھالا جارہا ہے، اگر انہوں نے کام نہیں کیا تو ان کو گھر جانا پڑے گا اور مجھے نہیں لگتا کہ کپتان زیادہ دن حکومت سنبھال پائے گا۔

آصف زرداری نے عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے جنوبی پنجاب صوبے کا اعلان کیا لیکن نعرہ ہمارا لیا اور یہ کہتے ہیں کہ نپولین نے یوٹرن نہیں لیا حالانکہ تاریخ میں نپولین اور ہٹلر کو ہیرو تسلیم نہیں کیا گیا، ہٹلر نے 55 ملین افراد کو قتل کیا۔

پریانکا چوپڑا شادی کے بندھن میں بندھ گئیں

بولی وڈ پگی چوپس پریانکا چوپڑا اور امریکی گلوکار نک جونس نے بھارتی ریاست راجستھان کے شہر جودھپور میں عیسائی رسومات کے تحت شادی کرلی۔

جوڑے کی شادی کی تقریبات کا آغاز 30 نومبر سے شروع ہو چکا تھا، گزشتہ شب کو جودھپور کے تاریخی امید بھگوان پیلس ہوٹل میں جوڑے کی شادی کی سنگیت کی تقریب بھی منقد کی گئی تھی۔

دونوں کی شادی کے لیے 29 نومبر کی شام سے مہمان جودھپور پہنچنا شروع ہوگئے تھے، جب کہ 30 نومبر کو امریکا سے بھی کئی مہمان جودھپور پہنچے تھے۔

مہمانوں کی آمد سے قبل ہی دولہا نک جونس گزشتہ ماہ 25 نومبر کو بھارت پہنچے تھے۔

امریکی میگزین پیپلز نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ دونوں نے امید بھگوان پیلس ہوٹل میں عیسائی رسومات کے تحت شادی کی، اس دوران دونوں نے انٹرنیشنل ڈیزائنر رالف لورین کے سفید رنگ کے عروسی جوڑے پہن رکھے تھے۔

رپورٹ میں نک جونس کے والد کے قریبی شخص کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ جوڑے نے یکم دسمبر کو عیسائی رسومات کے تحت شادی کی۔

یہ پہلے ہی کہا جا رہا تھا کہ پریانکا اور نک جونس بھی دپیکا اور رنویر سنگھ کی طرح 2 رسومات کے تحت شادی کریں گے۔

گزشتہ ماہ نومبر میں رنویر سنگھ اور دپیکا پڈوکون نے بھی اٹلی میں کونکنی اور سندھی رسومات کے تحت 2 شادیاں کی تھیں۔

پیپلز میگزین نے اپنی رپورٹ میں مزید بتایا کہ پریانکا چوپڑا اور نک جونس 2 دسمبر تک ہندی رسومات کے تحت دوسری شادی کریں گے۔

پاکستانی وزیر خارجہ کے گگلی والے بیان نے انہیں بے نقاب کر دیا، سشما سوراج

نئی دلی: بھارتی وزیرخارجہ سشما سوراج کا کہنا ہے کہ پاکستانی وزیر خارجہ کے گگلی والے بیان نے انہیں بے نقاب کر دیا۔  

سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ہرزہ سرائی کرتے ہوئے بھارتی وزیرخارجہ سشما سوراج نے کہا کہ پاکستانی وزیرخارجہ کے گگلی والی بیان سے کسی کا کچھ نہیں گیا، بلکہ وہ خود ہی بے نقاب ہوئے، ان کا بیان ظاہر کرتا ہے کہ آپ سکھ برادری کے جذبات کا احترام نہیں کرتے بلکہ آپ صرف گگلیاں کھیلتے ہیں۔

سشما سوراج نے کہا کہ میں واضح کرنا چاہتی ہوں کہ ہم آپ کی گلگی کے جال میں نہیں پھنسے جب کہ دو بھارتی وزیر کرتارپور کے گردوارے میں حاضری کیلئے آئے تھے۔

واضح رہے کہ وزیر خارجہ شاہ محمود نے گزشتہ روز کہا تھا کہ نیویارک میں پاک بھارت وزراء خارجہ کی ملاقات ہوجاتی تو اچھا تھا لیکن سشما سوراج اندرونی سیاسی مجبوری کی وجہ سے ملنے سے انکاری ہیں جب کہ عمران خان نے کرتارپور کی گگلی پھینکی تو بھارت کو اپنے وزیر بھیجنے پڑے۔

میں ڈیم کیلئے 10 ارب اکٹھے نہ کرسکا، پی کے ایل آئی پر 34 ارب لگادیے گئے، چیف جسٹس

لاہور: چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیے ہیں کہ پی کے ایل آئی پر 34 ارب لگادیے گئے اور میں ڈیم کیلئے 10 ارب اکٹھے نہ کرسکا۔

چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 2 رکنی بنچ نے لاہور رجسٹری میں پاکستان کڈنی اینڈ لیور ٹرانسپلانٹ انسٹی ٹیوٹ (پی کے ایل آئی) میں بچوں کے جگر کی پیوند کاری سے متعلق از خود نوٹس کی سماعت کی۔ پی کے ایل آئی کی کمیٹی کے رکن ڈاکٹر جواد ساجد نے کہا کہ اسپتال میں فوری طور پر بچوں کے جگر کی پیوند کاری ممکن نہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ہمیں قوم سے کیا گیا وعدہ واپس لینا پڑے گا، بھارت ویزا نہیں دے گا اور چین جانے کی استطاعت نہیں ہے، 70 سال ہو گئے ڈاکٹر ایسی سہولیات پیدا نہیں کر سکے، پی کے ایل آئی پر عوام کے 34 ارب روپے لگا دیئے مگر علاج کی سہولت میسر نہ آ سکی، اتنے پیسے میں 4 اسپتال بن جانے تھے، میں ڈیم کیلئے 10 ارب روپے اکٹھے نہیں کر سکا، ان کو 34 ارب روپیہ مل گیا۔

سربراہ ڈاکٹر جواد ساجد نے کہا کہ پی کے ایل آئی میں سہولیات تو موجود ہیں، مگر ماہرین کی ٹیم کا فقدان ہے، بڑوں کے جگر کی پیوند کاری پی کے ایل آئی میں مئی میں ممکن ہو سکے گی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہم نے پی کے ایل آئی کے سابق سربراہ ڈاکٹر سعید اختر سے سوالات کئے تو سوشل میڈیا پر سپریم کورٹ کیخلاف مہم شروع کر دی گئی، اوورسیز ڈاکٹر خالد شریف اپنی خدمات دینے کو تیار ہیں مگر آپریشن کہاں پر کروائیں۔

چیف جسٹس نے ڈاکٹر سعید اختر سے پوچھا کہ پی کے ایل آئی کا آئیڈیا کہاں سے آیا؟ ڈاکٹر سعید اختر نے جواب دیا کہ سابق وزیراعلی پنجاب شہباز شریف نے نیویارک اسپتال کی مثال دے کر اس جیسا کام کرنے کو کہا تھا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ وزیراعلی نے اپنا علاج خود وہاں کروایا اس لئے اس کی مثال دی، مجھے سب معلوم ہے، کس نے آئیڈیا دیا اور کہاں بیٹھ کر میٹنگ ہوتی رہی۔ سپریم کورٹ نے کیس کی سماعت کل تک ملتوی کردی۔

صدر مملکت عارف علوی کا دورہ خیبر پختونخوا ہ

adaria

عہدہ صدارت سنبھالنے کے بعد صدر مملکت عارف علوی نے گزشتہ روز خیبر پختونخواہ کا پہلا سرکاری دورہ کیا جہاں انہیں مختلف ایشوز بریفنگ دی گئی۔بعدازاں گورنر خیبرپختونخوا کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے فاٹا کے انتظامی معاملات کے بارے میں صدر مملکت نے کہا کہ فاٹا میں پاکستانی قانون کے نفاذ کے بعد اب وہاں عدالتوں کا قیام، مجسٹریٹ مقرر کرنا اور انکے دفاتر قائم کرنے کیلئے کے پی حکومت وفاقی حکومت سے مدد چاہتی ہے تو وفاق ان کی مکمل مدد کرے گا۔انہوں یہ عندیہ بھی دیا کہ این ایف سی ایوارڈ میں فاٹا کیلئے خیبر پختونخوا کی گرانٹ میں 3 فیصد اضافہ کرنے پر غور کیا جارہا ہے۔بلاشبہ اس امر کی ضرورت ہے کہ کے پی کے کو مزید وسائل فراہم کرنا ہوں گے تاکہ فاٹا کے ضم ہونے کے بعد صوبائی حکومت اضافی بوجھ کو احسن طریقے سے نمٹ سکے۔صدرمملکت نے خیبر پختونخوا کو تعلیمی اصلاحات کے اعتبار سے دیگر صوبوں سے بہتر قرار دیا اور بتایا کہ مدرسے کے طلبا کیلئے ایک جدید ہم آہنگی سے مزین نصاب کی تشکیل بھی زیر غور ہے۔صدر مملکت کا کہنا تھا کہ صحت و صفائی ، شجر کاری اور بطور خاص آبادی کنٹرول کرنے کے حوالے سے بہت کام کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے بتایا کہ آئین کے مطابق فاٹا میں 25 جولائی تک صوبائی انتخابات کرانے ہونگے۔ فاٹا کے مسائل حل اولین ترجیح ہے، قبائلی علاقوں کا انضمام ہو چکا، اب تعمیر نو پر10 سال میں ایک ہزار ارب روپے خرچ کرنے کا پروگرام ہے،لیویز اور خاصہ دار فورس کے حوالے سے انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ ان کو کسی صورت بیروز گار نہیں کریں گے،بلکہ انہوں نے خوشخبری سنائی کہ فاٹا کے مزید 30 ہزار لوگوں کو روزگار دیا جائیگا، کے پی اور پاکستان کا قانون سابق فاٹا میں پہنچانا ارجنٹ کام ہے،اسی طرح پشاور ریپڈ بس منصوبہ (بی آر ٹی) کافی تاخیر کا شکار چلا آ رہا ہے اور اپوزیشن کی طرف سے کافی تنقید کی جاتی ہے، اسے جون تک مکمل کرنے کا عندیہ ہے،یہ بھی بتایا کہ بی آرٹی میں چارلاکھ لوگ بھرتی کیے جائینگے۔اس منصوبے کی تکمیل سے جہاں عوام کو سفری سہولیات میسر ہوں گی وہاں اس منصوبے کے تعمیراتی کام سے جو کاروباری مسائل پیدا ہو چکے ہیں ان کا بھی خاتمہ ہو گا۔صوبائی حکومت اس منصوبے کو جلد از جلد پایہ تکمیل تک پہنچائے۔صدرمملکت عارف علوی نے صوبوں کے درمیان ہم آہنگی اور روابط کے بارے میں بھی بتایاکہ تمام صوبوں کے درمیان تعلق پیدا کرنا میری ذمے داری ہے۔اس میں کوئی دو آراء نہیں کہ صدر مملکت کا عہدہ فیڈریشن کی علامت ہے اور چاروں اکائیاں اس عہدے سے جڑی رہتی ہیں۔صدر مملکت عارف علوی نے اپنی ذمہ کو دوہراتے ہوئے اس بات کا عزم کیا کہ وہ تمام صوبوں میں سے روابط قائم رکھیں گے۔اس موقع پرانہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ 18ویں ترمیم کا معاملہ فیڈریشن کا کام ہے،18 ویں ترمیم ختم کرنے پربات کہیں نہیں ہورہی۔صدر نے جنوبی پنجاب صوبہ کے قیام پر بھی بات چیت کی بتایا کہ نیا صوبہ بننا آسان کام نہیں ہے، وہاں مشکلات ہیں، اثاثوں کو تقسیم کرنا، پانی کے حصے کا تعین کرنا سمیت دیگر مشکلات ہیں، مسائل کاسامنا ہے لیکن مسائل جلد حل ہو جائیں گے اور نئے صوبے کے قیام کے حوالے آئینی رکاوٹیں دور کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان اور ناران میں احساس ہوا کہ اگر بغیر منصوبہ بندی کے تعمیرات ہونگی تو خوبصورتی ماند پڑ جائیگی، بے ہنگم تعمیرات نے مری کو بھی تباہ کیا، قدرتی ماحول متاثر کیے بغیر سیاحت کے فروغ کی کوششیں کرینگے۔ملک میں سیاحوں کی تعداد 15 لاکھ سے 22 لاکھ تک پہنچ گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بزنس ویزے پر آنیوالے کو سیاحت کی اجازت نہیں ہوتی، نتھیا گلی میں پلاننگ کر نے سے سیاحوں کی تعدادبڑھ گئی ہے، ماحولیات کے لئے بلین ٹری سونامی غیرسیاسی پروگرام ہے۔ صدر مملکت نے اپنی بات چیت میں تمام امور پر سیر حاصل گفتگو کی اور یقین دلایا کہ وہ بحیثیت صدر تمام صوبوں کے مسائل کو حل کرنے کے لیے وفاقی حکومت اور صوبوں میں پل کا کام کریں گے۔

بھارت میں تنگ نظری انتہا،سدھو کیلئے نئی مشکل
پاکستان کو سیکولرازم اپنانے کا مشورہ دینے والے بھارتی حکام کے اپنے ملک میں تنگ نظری اور جنونی پن کا یہ عالم ہے کہ نجوت سنگھ سدھو کو ایک بار پھر سینگھوں پر رکھ لیا گیا ہے اس بار انوکھا کام یہ ہوا ہے کہ پاکستان آنے والی بھارتی یونین وزیر برائے خوراک ہرسمرت کور بادل جو کرتارپور راہداری کی افتتاحی تقریب میں بڑھ چڑھ کرحصہ لے رہی تھیں اور پرجوش انداز میں کی جانے والی تقریر میں سکھ برادری کی طرف سے پاکستان کے اس اقدام کو خراجِ تحسین پیش کررہی تھیں انہوں نے وطن واپس پہنچتے ہی نوجوت سنگھ سدھو کے خلاف ایک محاذ کھول دیا ہے اور انہیں نہ صرف پاکستانی ایجنٹ قرار دے دیا ہے بلکہ پاکستان میں ان کی سرگرمیوں کو بھی مشکوک قرار دیا ہے ۔ بھارت سے یہ اطلاعات سامنے آ رہی ہیں کہ ہرسمرت کور بادل نے کانگریس کے لیڈر راہول گاندھی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس حوالے سے اپنی پوزیشن واضح کریں اور نوجوت سنگھ سدھو کی سرگرمیوں کا نوٹس لیں جبکہ اس سے پہلے انہوں نے وطن واپسی پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے نوجوت سنگھ سدھو کے تین دن پاکستان میں گز ارنے پر بھی انہیں شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ وہ گوپال چاولہ کے ساتھ اپنی تصویر کا حساب دیں۔ انہوں نے یہ سوال بھی اٹھا دیا ہے کہ سدھو کو بھارت سے زیادہ پاکستان میں پیار کیوں ملتا ہے ۔ اس ساری صورتحال پر سوائے افسوس کے اور کیا کیا جا سکتا ہے،پاکستان کی نیک خواہشات پر طوفان اٹھانا کم ظرفی اور تنگ نظری کے سوا کچھ نہیں ہے، افسوسناک پہلو یہ ہے کہ ایک بھارتی خاتون وزیر جو افتتاح کے موقع پر خوشی سے پھولے نہیں سما رہی تھی اس نے بھی سدھو پر الزام تراشی کر کے اپنی سطحی سوچ کی عکاسی کی ہے،یہ منفی اظہار اور الزام تراشی امن دشمنی ہے،اس طرح تو دونوں ممالک کے درمیان امن کے خواب کو تا ابد تعبیر نہیں مل سکے گی،یہ ایک ایسا موقع ہے کہ بھارت کے ذی ہوش حلقے آگے بڑھیں اور انتہا پسند سوچ کے تدراک کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔
انسداد منی لانڈرنگ قانون جلد متعارف کرایا جائے
لاہور چیمبرز آف کامرس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے اس بات کا عندیہ دیا ہے کہ انسداد منی لانڈرنگ کا قانون اگلے ہفتے متعارف کرا دیں گے جبکہ سرمایہ کار کی حوصلہ افزائی کے لیے ہر ممکن سہولیات فراہم کی جائیں گی۔انہوں نے بڑے ٹیکس دہندگان کے خلاف ریاستی اداروں کے منفی ردعمل کو انتہائی مایوس کن قرار دیا۔انہوں نے بتایا کہ ملک میں سالانہ 10 ارب روپے کی منی لانڈرنگ ہوتی ہے جس کے سدباب کے لیے اگلے ہفتے تک قانون متعارف کرائیں گے، تاکہ منی لانڈرنگ کے ملزمان کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔ان کا یہ کہنا تھا کہ 1970کی دہائی میں شروع ہونے والی قومیاتی پالیسی کے نتیجے میں ملک تنزلی کی طرف گامزن ہوا اور اس کے ثمرات آج بیوروکریٹس اور سیاسی جماعتوں کے سرمایہ کاروں سے عدوات کی صورت میں نظر آتے ہیں۔بلاشبہ پاکستان میں بیرونی سرمایہ کاری کی صورتحال کسی دور حکومت میں تسلی بخش نہیں رہی ہے،اس کی بنیادی وجوہات وہی ہیں جن کی طرف وزیر اعظم نے اشارہ کیا ہے،خوش آئند امر یہ کہ اب حکومت وجوہات کے تدارک کے لیے کوشاں ہے اور نئے قوانین بھی بنانے کی خواہش مند ہے،اگر انسداد منی لانڈرنگ کا قانون بن جاتا ہے تو اسکے مثبت نتائج برآمد ہونے کی توقع ہے امید ہے جلد اس قانون متعارف کرادیا جائے گا۔

پریانکا چوپڑا شادی میں پٹاخے جلانے پر تنقید کا شکار

جودھ پور: نامور بالی ووڈ اداکارہ اور سابق ملکہ حسن پریانکا چوپڑا اپنی شادی میں پٹاخے جلانے پر تنقید کا نشانہ بن گئیں۔

اداکارہ پریانکا چوپڑا اورنک جونز گزشتہ روز بھارتی ریاست جودھ میں کرسچن روایات کے مطابق شادی کے بندھن میں بندھے تھے۔ شادی کی خوشی میں امید بھون پیلس میں پٹاخے جلا کرشادی کا جشن منایاگیا تاہم سوشل میڈیا صارفین کو اداکارہ کا پٹاخے جلا کر جشن منانا بالکل بھی پسند نہیں آیا اورصارفین نے انہیں منافق قراردے دیا

کچھ عرصے قبل پریانکا چوپڑا کی دیوالی کے موقع پر ایک ویڈیو منظرعام پر آئی تھی جس میں وہ بھارت میں بڑھتی ماحولیاتی آلودگی کے باعث تمام لوگوں کو دیوالی پر پٹاخے جلانے سے منع کرتی نظر آرہی تھیں تاکہ تمام لوگ اور جانور کُھل کر سانس لے سکیں۔ تاہم پریانکا اپنا دیا ہوا سبق خود ہی بھول گئیں اور گزشتہ روز خوب پٹاخے جلائے۔

سوشل میڈیا صارفین نے پٹاخے جلانے پر غصے کااظہار کرتے ہوئے پریانکا پر خوب تنقید کی اورانہیں منافق قرار دیتے ہوئے کہا دیوالی پر پٹاخے جلانا مناسب نہیں لیکن آپ اپنی شادی میں جلائیں تو کوئی بات نہیں، یہ منافقت نہیں تو اور کیا ہے۔

واضح رہے کہ پریانکا چوپڑا اور نک جونز آج ایک بار پھر ہندو رسومات کے مطابق شادی کے بندھن میں بندھیں گے۔

Google Analytics Alternative