Home » 2018 » December » 04

Daily Archives: December 4, 2018

محمد حفیظ نے ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کردیا

پاکستان کرکٹ ٹیم کے تجربہ کار آل راؤنڈر محمد حفیظ نے مستقل ناقص فارم کے سبب ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کردیا۔

غیرقانونی باؤلنگ ایکشن اور خراب فارم کے باعث محمد حفیظ کا کیریئر خصوصاً ٹیسٹ کرکٹ میں انہیں مسائل کا سامنا رہا اور حالیہ عرصے میں وہ وقتاً فوقتاً ٹیم سے ڈراپ ہوتے رہے۔

ان کے باؤلنگ ایکشن پر ماضی میں تین مرتبہ پابندی لگی لیکن وہ ہر مرتبہ اپنا ایکشن کلیئر کرانے میں کامیاب رہے البتہ بیٹنگ میں غیرمستقل مزاجی ان کی ٹیم میں تواتر کے ساتھ سلیکشن کی راہ میں حائل ہوتی رہی اور اسی وجہ سے انہیں متعدد حلقوں خصوصاً سابق کرکٹرز کی جانب سے تنقید کا سامنا بھی رہا۔

پروفیسر کے نام سے مشہور حفیظ کی گزشتہ ماہ آسٹریلیا کے خلاف ٹیسٹ سیریز کے ذریعے قومی ٹیم میں دوبارہ واپسی ہوئی اور انہوں نے سنچری اسکور کر کے سلیکٹرز کے انتخاب کو درست ثابت کر دکھایا تھا۔

لیکن اس کے بعد سے انہیں مسلسل مشکلات کا سامنا تھا اور آخری 7 ٹیسٹ اننگز میں صرف 66رنز بنائے اور نیوزی لینڈ کے خلاف ابوظہبی میں جاری سیریز کے آخری ٹیسٹ میچ کی پہلی اننگز میں بھی بغیر کوئی رن بنائے پویلین لوٹ گئے تھے۔

نیوزی لینڈ کے خلاف ابوظہبی میں جاری ٹیسٹ میچ حفیظ کے کیریئر کا آخری ٹیسٹ میچ ہے اور میچ کی دوسری اننگز میں اچھا اسکور کر کے ان کے پاس ٹیسٹ کرکٹ کا یادگار انداز میں اختتام کرنے کا نادر موقع ہے۔

محمد حفیظ نے 55 ٹیسٹ میچوں کی 104 اننگز میں 10سنچریوں اور 12 نصف سنچریوں کی مدد سے 3ہزار 644 رنز بنائے جبکہ اس کے علاوہ 53وکٹیں بھی حاصل کیں۔

یاد رہے کہ ایشیا کپ کے اسکواڈ سے ڈراپ کیے جانے کے بعد بھی محمد حفیظ نے ریٹائرمنٹ کا فیصلہ کر لیا تھا لیکن پھر ارباب اختیار اور سینئر کھلاڑیوں کے مشورے پر انہوں نے فیصلہ تبدیل کرتے ہوئے کھیل سے کنارہ کش نہ ہونے کا فیصلہ کیا۔

حفیظ نے ابھی صرف ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا ہے اور وہ ون ڈے اور ٹیسٹ کرکٹ میں قومی ٹیم کی نمائندگی کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔

ملک میں وقت سے پہلے عام انتخابات ہوسکتے ہیں، وزیراعظم

اسلام آباد:وزیراعظم عمران خان نے آئندہ 10 دنوں میں وفاقی کابینہ میں ردوبدل کا عندیہ  دیتے ہوئے کہا کہ ملک میں وقت سے پہلے عام انتخابات  ہوسکتے ہیں۔

وزیراعظم عمران خان  نے سینئر صحافیوں اور اینکر پرسنز سے ملاقات کی جس میں ملک کی سیاسی،معاشی صورت حال اور خارجہ امور پر تفصیلی گفتگو کی۔

امریکی صدر افغان طالبان سے مذاکرات کیلیے پاکستان کا تعاون چاہتے ہیں

وزیراعظم کا ملاقات میں کہنا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک خط بھیجا جس میں پاکستان کے کردار کو سراہا اور امن کے لیے کوششوں پر زور دیا جب کہ خط میں افغان طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے تعاون مانگا گیا اور امریکا چاہتا ہے کہ پاکستان افغانستان میں امن کے لیے کردار ادا کرے۔

وزیراعظم نے کہا کہ افغانستان میں امن کے لیے ہر ممکن کردار ادا کریں گے، ماضی میں امریکا کے ساتھ معذرت خواہانہ موقف اختیار کیا گیا جب کہ ہم مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے پرعزم ہیں، دونوں حکومتیں چاہیں تو یہ مسئلہ حل ہوسکتا ہے۔

ہم نے بھارت کے نفرت پھیلانے کا منصوبہ ناکام بنادیا 

عمران خان نے کہا کہ ہم نے بھارت کے نفرت پھیلانے کا منصوبہ ناکام بنادیا اور اس نفرت آمیز منصوبے کو روکنے کے لیے ہی کرتار پور کھولا، کرتارپور کھولنے کا مقصد کسی کو دھوکا دینا نہیں تھا جب کہ کرتار پور راہداری گگلی نہیں ایک سیدھا سادہ فیصلہ ہے۔

چیف جسٹس کے اقرباپروری کے ریمارکس پر افسوس ہوا

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ جنوبی پنجاب کے معاملے میں ہماری دلچسپی ہے اور ہوسکتا ہے ملک میں قبل از وقت انتخابات ہوں جب کہ آنے والے 10 دنوں میں وزارتوں میں بھی تبدیلیاں ہوسکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں نے کبھی اقرباپروری نہیں کی، زلفی بخاری کے معاملے پرچیف جسٹس کے اقرباپروری کے ریمارکس پر افسوس ہوا۔

روپے کی گرتی ہوئی قدر کا میڈیا سے پتہ چلا

عمران خان کا کہنا تھا کہ روپے کی گرتی ہوئی قدر کا میڈیا سے پتہ چلا، پہلے بھی ڈالر کی قیمت میں اچانک اضافہ ہوا تو میڈیا سے پتہ چلا تھا، اسٹیٹ بینک نے ہم سے پوچھے بغیر روپے کی قیمت میں کمی کی تاہم اب مکینزم بنارہے ہیں کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان اپنے طور پر ڈالر کی قیمت میں اضافہ نہ کرسکے۔

منی لانڈرنگ پر سخت قانون لارہے ہیں

وزیراعظم نے کہا کہ منی لانڈرنگ پر سخت قانون لارہے ہیں، بڑے بڑے لوگ نام سامنے آنے سے ڈر رہے ہیں، گوسلو پالیسی والے افسران کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے اور اگر اپوزیشن ساتھ نہیں چلنا چاہتی تو نہ چلے، شہباز شریف کو پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا چیئرمین نہیں بنائیں گے۔

پاک فوج تحریک انصاف کے منشورکے ساتھ کھڑی ہے

لاپتہ افراد سے متعلق وزیراعظم سے جب سوال کیا گیا توان کا کہنا تھا کہ اس معاملے پر آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ ہمارے ساتھ تعاون کررہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاک فوج تحریک انصاف کے منشورکے ساتھ کھڑی ہے اورہمارا منشورہے کہ پڑوسی ممالک کے ساتھ تعلقات میں بہتری لائیں۔

تمام مسائل پر بھارت سے مذاکرات کے لیے تیار ہیں

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ہم مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے پرعزم ہیں اور پاکستان اورہندوستان کی حکومتیں چاہیں تو یہ مسئلہ حل ہو سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تمام مسائل پر بھارت سے مذاکرات کے لیے تیار ہیں، دونوں ممالک ایٹمی قوت کے حامل ہیں اورجنگ کا سوچنا بھی بے وقوفی ہوگی۔

اعظم سواتی کی غلطی ہوئی تو وہ خود  استعفیٰ دے دیں گے

عمران خان نے کہا کہ فارم ہاؤس کے معاملے پر اعظم سواتی کی غلطی ہوئی تو وہ خود  استعفیٰ دے دیں گے،اعظم سواتی کی جے آئی ٹی رپورٹ ابھی مجھے نہیں ملی حالانکہ سی ڈی اے میرے ماتحت ہے لیکن میں نے انکوائری میں کوئی مداخلت نہیں کی۔

وزیرریلوے شیخ رشید کا ٹرینوں کے کرائے میں اضافے کا اعلان

راولپنڈی: وفاقی وزیربرائے ریلوے شیخ رشید نے ٹرینوں کے کرائے میں اضافے کا عندیہ دے دیا ہے۔

ڈی ایس آفس راولپنڈی ریلوے اسٹیشن میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے وفاقی وزیرِ ریلوے شیخ رشید کا کہنا تھا کہ آئل اور ڈالر مہنگا ہو گیا ہے جس کے باعث ٹرینوں کے کرائے میں اضافہ کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ فی الحال 40 ٹرینوں کے کرائے میں اضافے کا فیصلہ کیا ہے تاہم رقم کا تعین باقی ہے۔

شیخ رشید نے کہا کہ ریلوے کی ترقی کے لیے دن رات مصروف عمل ہیں،  ہم نے ایک دن میں 8 کروڑ 70 لاکھ کے ٹکٹ فروخت کرنے کا ریکارڈ قائم کیا، ریلوے کی کمائی میں2 ارب روپے کا اضافہ ہوا ہے، ہم تین نئی ٹرینیں چلانے جا رہے ہیں،  23 دسمبر کو رحمان بابا ٹرین پشاور سے کراچی چلے گی، تھوڑا مختلف روٹ ہو گا لیکن ایک نیا راستہ ہو گا،  25 دسمبر پاکستان ریلوے کی تاریخ میں یادگاردن ہو گا اور یہ دن پاکستان کی معیشت میں انقلاب لائے گا۔

وزیرِ ریلوے کا کہنا تھا کہ کراچی میں سرکلر ریلوے شروع کرنے کے لئے کوشاں ہیں اور اس حوالے سے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار سے بھی بات ہوئی ہے، وزیر اعظم نالہ لئی کا فیصلہ کر دیں تو کوشش ہو گی یہ ٹریک بھی بحال کر دیا جائے، تاہم کسی غریب کا گھر گرانے کا ارادہ نہیں، صرف قبضہ مافیا کے خلاف کاروائیاں کی جائیں گی۔

علیمہ خان کی منی لانڈرنگ کے پیچھے خود عمران خان ہیں، مریم اورنگزیب

 اسلام آباد: ترجمان مسلم لیگ (ن) مریم اورنگزیب کا کہنا ہے کہ عمران خان کو معلوم ہوچکا ہے کہ حکومت چلانا ان کے بس کی بات نہیں، علیمہ خان کی منی لانڈرنگ کے پیچھے خود عمران خان ہیں۔

وزیراعظم عمران خان کے بیان پر ردِعمل کا اظہار کرتے ہوئے ترجمان (ن) لیگ مریم اورنگزیب کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کا یہ کہنا کہ قبل از وقت انتخابات ہوسکتے ہیں عوام کے لیے لمحہ فکریہ ہے، عمران خان کو معلوم ہوچکا ہے کہ حکومت چلانا ان کے بس کی بات نہیں، وزیراعظم کو اپنی حکومت پر اعتماد نہیں، اس بیان کے بعد کرسی پر ایک منٹ نہیں بیٹھنا چاہیے۔

مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے اپنے بیان میں اپنی نااہلی سے نظر ہٹانے کے لیے ایک بار پھر این آر او کی بات دہرائی جب کہ اپوزیشن لیڈر شہباز شریف پارلیمنٹ میں یہ پوچھ چکے ہیں کہ بتایا جائے حکومت سے این آر او کس نے مانگا؟ جو لوگ جیل جا چکے اور ڈیڑھ سو سے زائد پیشیاں بھگت چکے ہیں انھیں این آر او کی کیا ضرورت؟  این آر او تو علیمہ خان کو دیا جاچکا ہے جن کی منی لانڈرنگ کے پیچھے خود عمران خان ہیں۔

ترجمان (ن) لیگ نے کہا کہ عمران خان کہتے ہیں کہ انہیں ٹی وی سے پتا چلا کہ ڈالر کی قیمت بڑھ گئی ہے دوسری طرف وزیراعظم کہتے ہیں کہ اسحا ق ڈار اور (ن) لیگ نے مصنوعی طور پر ڈالر پرائس کنٹرول کی، عمران خان کا یا تو وہ بیان غلط تھا یا پھر یہ الزام غلط ہے، ایک دفعہ پھر ایک جھوٹ اور یوٹرن لیا گیا لیکن پاکستان کے عوام آپ کی اصلیت جان چکے ہیں۔

ملکی معیشت کو مضبوط کرنے کیلئے صدر مملکت کا سنہرا مشورہ

adaria

پاکستان کو آج جس معاشی بحران کا سامنا ہے درحقیقت اس کے تمام تر ذمہ دار ہم خود ہیں، حکمران سے لیکر غریب عوام تک ملکی معاشی ابتری میں شامل حال ہیں، سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہمارے ملک میں یہ ایک فیشن ہے کہ کوئی بھی کپڑا خریدنا ہے، کوئی مشینری خریدنی ہے تو وہ بیرون ملک کی ہو، پھر اہم مسئلہ یہ ہے کہ 1947 ء سے لیکر آج تک ہماری ملکی پیداوار قابل ذکر ہی نہیں رہیں ہمیشہ دیگر ممالک سے چیزیں منگوانے پرہی اکتفا کیا۔ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے انتہائی اہم بات کہی جس کے تحت انہوں نے کہاکہ کرنسی میں دباؤ میں کمی کیلئے چاہتا ہوں کہ لوگ میڈ اِن پاکستان اشیاء خریدیں، پاکستان روپے پردباؤ کے تناظر میں ہمیں پرتعیش اور درآمد شدہ اشیاء کی خریداری سے گریز کرنا چاہیے۔ ہمیں اپنے روز مرہ استعمال کی اشیاء کا جائزہ لینا ہوگا، ہم سب مل کر روپے پر دباؤ میں کمی لانے کیلئے اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ معیشت کو سنبھالا دینے کیلئے ویسے بھی یہ بنیادی اصول ہے کہ اپنے ملک کی چیزوں کا استعمال کیا جائے ، دنیا کی تاریخ کو کھنگالا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ انہی ممالک نے ترقی جنہوں نے اپنے ملک کی بنی ہوئی اشیاء پر اکتفا کیا۔ مگر سوچنے کی یہ بات ہے کہ اگر عوام اپنی ملک کی تیار کردہ اشیاء پر انحصار کرنا شروع بھی کردے تو کیا ہماری صنعت یا پیداواری صلاحیت اس قابل ہے کہ ہم اس ڈیمانڈ کو پورا کرسکیں۔ صدر صاحب نے تجویز تو بہت اچھی دی ہے مگر اس تجویز پر بہت زیادہ کام کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ تب ہی قابل عمل ہوسکتی ہے جب ہم ملکی پیداوار میں خودکفیل ہوں، حد تو یہ ہے کہ بعض اوقات اشیاء تو درکنار گندم اور آلو ہمیں باہر سے درآمد کرنا پڑتے ہیں ، دیگر اشیاء تو دور کی بات ہیں۔ اس کی تمام تر ذمہ داری بھی حکمرانوں پر عائد ہوتی ہے، آج تک ہمارے ملک میں کوئی آٹو موبیل کی صنعت کو ہی ترقی نہیں دے سکے ، جو گاڑی اور موٹر سائیکل آرہے ہیں وہ باہر کے ہیں، ادویات کی حالت یہ ہے کہ اگر ملک میں تیار ہورہی ہیں تو ان کے اصل ہونے پر ہی شکوک و شبہات قائم رہتے ہیں، ہاں البتہ ایسی پیک ادویات جو امریکہ یا یورپ سے برآمد کی جائیں ان پر آنکھیں بند کرکے اعتبار کیا جاتا ہے ۔ماضی میں تو یہاں تک ظلم ہوتا رہا ہے کہ اگر کسی حکمران کو کھانسی یا زکام ہو جائے تو اس کا علاج بھی بیرون ملک کرانے کیلئے روانہ ہو جایا کرتے تھے اور غریب عوام ملک میں ہی بستر مرگ پر ایڑیاں رگڑ رگڑ کر جان دے دیتی تھی، تاہم پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے اس حوالے سے کچھ پابندیاں عائد کی ہیں کہ ہر کوئی ملک میں علاج کرانے کیلئے پابند ہوگا، دیگر اقدامات پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے جس سے مقامی صنعت کو فروغ حاصل ہوسکے۔ اب جبکہ حکومت کے 100دن پایہ تکمیل کو پہنچ چکے ہیں ایسا نہ ہو جیسے کہ اپوزیشن کے تحفظات ہیں کہ حکومت نے آئندہ پھر اڑھائی سو دن کا منصوبہ دے دیا ہے، اب عمل کی ضرورت ہے، نتائج سامنے آنے چاہئیں، اجلاس پر اجلاس ضرور کرنے چاہئیں مگر دیکھنا یہ ہے کہ اس کے رزلٹ کیا نکلتے ہیں۔ اس وقت اہم مسئلہ گنے کی کرشنگ کا بھی زیر غور ہے کیونکہ اکثر یہ ہوتا ہے کہ کسان بے چارہ رُل کر رہ جاتا ہے اور شوگر ملز والے انہیں ادائیگی ہی نہیں کرتے، یہی ہیں ہماری ملکی پیداوار جب آپ کسان کو سہولت نہیں پہنچائیں گے، زراعت اہمیت نہیں دیں گے پھر ہم کس کسی بھی چیز میں خود کفیل ہوسکتے ہیں ، نہ ہی ایسے معیشت مضبوط ہوگی اور نہ ہی لوکل مصنوعات کو فروغ حاصل ہوسکے گا، زندگی کی بہت ساری اشیاء ایسی ہیں گو کہ جن پر ہمیں دیگر ممالک پر اکتفا کرنا پڑتا ہے لیکن کیا ہی اچھا ہو کہ سب سے پہلے بذات خود حکمران اس بات کی مثال بنیں بلکہ حکومت کو چاہیے کہ اس سلسلے میں ایک مہم کا آغاز کرے جس میں سب سے پہلے پاکستان کو ترجیح دی جائے۔ کیوں نہیں حکومت ان چیزوں کی درآمدات بند کردیتی ہے جو کہ ملک میں تیار ہورہی ہیں، کیا ہی بہتر ہوتا کہ صدر مملکت یہ مشورہ دیتے کہ آج سے ملک میں اشیاء تیارہورہی ہیں انہیں بیرون ملک سے کسی صورت بھی درآمد نہیں کیا جائے گا، ہم یہاں حکومت سے یہی عرض کریں گے کہ صرف زبانی کلامی باتیں کرنے سے مسائل حل نہیں ہوتے جو کہا جارہا ہے اس پر عمل بھی نظر آنا چاہیے۔

آصف زرداری کے تحفظات۔۔۔ توجہ طلب
پیپلزپارٹی کے چیئرمین اور سابق صدر آصف علی زرداری نے حکومت پر انتہائی تحفظات کا اظہار کیا ہے، سب سے پہلا بڑا اعتراض یہ ہے کہ انہوں نے کہاکہ حکومت جنوبی پنجاب صوبہ بنانے میں مخلص نہیں ہے، یہ بات زرداری نے ویسے ہی کوئی لاحاصل طورپر نہیں کی کیونکہ حکومت نے وعدہ کیا تھا کہ وہ یہ صوبہ بنائے گی، چونکہ صدر مملکت نے بھی کہاکہ جنوبی پنجاب کا صوبہ بنانا آسان بات نہیں، اب یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ اس نے جو وعدے وعید کیے ہیں انہیں وہ پورا کرے، معاشی اعتبار سے بھی زرداری نے کہاکہ ایسا مشکل نظر آرہا ہے کہ کپتان معیشت کو سنبھال سکے۔ باقی رہی سہی کسر انہوں نے یہ کہہ کر پوری کردی کہ لگتا ہے حکومت چند دنوں کی مہمان ہے۔ حکومت میں اندھے، بہرے لوگ بیٹھے ہیں وہاں ہر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ وہ ہم سے زیادہ ہوشیار ہے۔ حکومت کو اس نکتے پر توجہ دینی چاہیے اور اپنی کابینہ کو پابند کرنا چاہیے کہ ضروری نہیں ہر وزیر جب چاہے اور جہاں چاہے حکومتی پالیسی کے حوالے سے بیان داغ دے اور اس کے بعد پھر سبکی کا سامنا کرتے ہوئے بیان واپس لینا پڑے۔ ایک ترجمان کو مختص ہونا چاہیے جو کہ حکومت کی جانب سے جتنی بھی وزارتیں ہیں ان کا میڈیا یا عوام کے کے سامنے جوابدہ ہو۔ گزشتہ ادوار میں بھی یہی پریکٹس ہوتی رہی کہ وزراء بھانت بھانت کی بولیاں بولتے رہے بعد میں وضاحتیں پیش کرتے رہے اور نتائج سب کے سامنے ہیں، آج اگر اپوزیشن اتنے تحفظات کا اظہار کررہی ہے تو اس کی قصوروار بھی حکومت ہی ہے۔ نہ ایسا موقع فراہم کیا جائے جس سے اپوزیشن کھل کر کھیل سکے۔ حکومتی پالیسیوں کے حصول سے ہی اپوزیشن کا منہ بند ہوسکتا ہے، اقرباپروری کو قطعی طورپر ختم کردیا جائے یہ نہ ہوکہ اندھا بانٹے ریوڑیاں اپنوں اپنوں کو دے۔ سب سے پہلے حکومت اپنے دامن کو صاف کرے اور اس کے بعد دیگر افراد کی جانب قدم بڑھائے پھر ہی نظام بہترین طریقے سے چل سکتا ہے۔
چینی قونصل جنرل حوصلہ افزاء بیان
پاکستان میں تعینات چینی قونصل جنرل لانگ ڈنگ بِن کا یاک کاحوصلہ افزاء بیان سامنے آیا ہے کہ چین، پاکستانی معیشت کے استحکام کیلئے قرض فراہم کرنے کی بجائے مختلف سیکٹرز میں سرمایہ کاری کرے گا،اس سے پاکستان کو مالیاتی بحران پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے ایک بار پھر اس عزم کو دوہرایا کہ مشکل وقت میں پاکستان کو تنہانہیں چھوڑیں گے ۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ پاکستان کے گردشی قرضوں کا بوجھ بڑھانے میں سی پیک کا کوئی کردار نہیں ہے اور عمران خان کے چین کے حالیہ دورے میں دونوں ممالک کے درمیان 15 نئے معاہدوں پر دستخط کیے گئے تھے جو سیاست اور مالیاتی سیکٹر میں تعاون فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ ثقافتی تعلقات کو بہتر بنانے میں بھی مدد دیں گے۔چینی قونصل جنرل کے بیان سے سی پیک اور پاک چین حالیہ معاہدوں کے حوالے سے جاری پروپیگنڈہ زائل ہوگا اور دونوں ممالک کے مابین دوستی مزید مضبوط ہوگی۔چین نے واضح کیا ہے کہ وہ پاکستان کی حقیقی مالی معاونت کا خواہشمند ہے تاکہ وہ اپنی معیشت کو اپنے پیروں پر کھڑا کر سکے۔

وزیراعظم آفس نے اسد عمر کے استعفے سے متعلق خبروں کی تردید کردی

اسلام آباد وزیراعظم آفس نے وزیر خزانہ اسد عمر کے استعفیٰ کی خبروں کو بے بنیاد قرار دے دیا ہے۔

ذرائع وزیراعظم آفس کے مطابق وزیر خزانہ اسد عمر نے استعفیٰ نہیں دیا ہے لہذا وزیر خزانہ کے استعفیٰ کے حوالے سے خبروں میں کوئی  صداقت نہیں ہے۔

ترجمان وزارت خزانہ نے بھی کہا ہے کہ وزیرخزانہ کا عبدالرزاق داؤد یا کسی اور سے کوئی جھگڑا نہیں ہوا، صحت مند بحث پارٹی کلچر کا حصہ ہے، بحث ہوتی رہتی ہے۔ وزیر خزانہ اسد عمر نے نا تو استعفیٰ دیا ہے اور نہ ہی استعفیٰ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیرخزانہ کے استعفیٰ کی افواہ بعض عناصر اپنے مذموم مقاصد کے لیے اڑا رہے ہیں۔

دوسری جانب وزیر خزانہ کے استعفیٰ کے معاملے پر تحریک انصاف کے رہنما جہانگیر ترین نے اسد عمر کے ساتھ چپقلش کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسد عمر اور میرے درمیان اختلاف کی خبر من گھڑت ہے، میرے اور اسد عمر کے درمیان کسی معاملہ پر کوئی اختلاف نہیں ہوا۔

بابری مسجد کی جگہ رام مندر، یہ سیکولر بھارت ہے

بابری مسجد سولہوی صدی عیسوی میں مغل حکمران خاندان نے تعمیر کی تھی جسے مغل فرمانروا بابر کے نام سے منسوب کیا گیا تھا۔ 1992ء کو ہندو بلوائیوں نے مسجد پر حملہ کر کے اسے شہید کر دیا تھا اور یہ دعویٰ کیا تھا کہ یہ مسجد ایک مندر کی جگہ پر تعمیر کی ہے۔ اس واقعے کے کئی سال بعد ہندوؤں نے ریاست گجرات میں ایک ٹرین میں مسلمانوں کے خلاف انتقامی کارروائیوں کے دوران سیکڑوں مسلمانوں کو بے دردی کے ساتھ شہید کردیا تھا۔ گجرات کے فسادات میں مارے جانے والے مسلمانوں کی تعداد 700 سے زائد بتائی جاتی ہے۔آر ایس ایس اور وشوا ہندو پریشد کی کال پر قریباً ایک لاکھ افراد ایودھیا میں جمع ہوگئے ہیں اور پورا شہر ‘جے شری رام’، ‘مندر وہیں بنائیں گے’، ‘ہر ہندو کی یہی پکار، پہلے مندر پھر سرکار’ جیسے نعروں سے گونج رہا ہے۔ شہر کی فضا میں گھبراہٹ اور بے چینی محسوس کی جا سکتی ہے۔متنازع مقام پر عارضی رام مندر کے گرد سکیورٹی کے سخت انتظامات ہیں۔ وی ایچ پی اور اس کی ہمنوا تنظیم کے کارکن پڑوسی اضلاع سے ‘بھکت مال بگیا’ میں جمع ہو رہے ہیں جہاں ان کی دھرم سبھا منعقد ہونے والی ہے۔ ہزاروں وہاں پہلے ہی پہنچ چکے ہیں۔ہندوقوم کبھی بھی مسلمانوں کے ساتھ امن سے نہیں رہی کیونکہ شیطانیت انکی فطرت میں شامل ہے اور یہی چیز انہیں مسلمانوں کے خلاف تعصب پر اکساتی رہتی ہے اس لیے انہیں جب بھی موقع ملتاہے اس تعصب اورنفرت کا اظہار کرتے ہیں۔اسی نفرت کے پیش نظر 6 دسمبر 1992 کو انتہا پسند ہندووں نے قوم پرست ہندو تنظیموں کے اکسانے پربابری مسجد کو شہید کرکے عارضی طورپر ایک مندر بنادیا تھا۔ جس کے بعدسارے ہندوستان میں فسادات پھوٹ پڑے جن میں ہزاروں افراد مارے گئے تھے۔ مارے جانے والوں میں زیادہ تعداد مسلمانوں کی تھی۔ مسجد کی شہادت سے قبل نرسمہا راؤ سارے ملک کو یہ کہہ کر دھوکہ دیتے رہے کہ مسئلہ حل کرلیا جائے گا سپریم کورٹ میں بھی مسجد کی برقراری اور نقصان نہ پہنچانے کا حلف نامہ نرسمہا راؤ نے اپنے دوست کلیان سنگھ سے داخل کروایا اور جس وقت مسجد شہید کی جارہی تھی نرسمہا راؤ سوتے رہے کارسیوکوں کو من مانی کرنے کی کھلی چھوٹ حاصل تھی۔ پولیس اورنیم فوجی دستوں کو مداخلت سے روک دیا گیا اور نہ صرف مسجد شہید کردی گئی بلکہ اس کی جگہ عارضی مندر کی تعمیر تک نرسمہا راؤ کی مجرمانہ لاعلمی برقرار رہی ہے ۔اس لئے بابری مسجد کی شہادت کا کلیدی مجرم نرسمہا راؤ کو کہا جاتا ہے۔مسجد کی شہادت یقینی طورپر دنیا بھرکے مسلمانوں کے لیے اشتعال انگیز اقدام تھا اس لیے پوری دنیا میں مسلمان ہندوؤں کیخلاف اٹھ کھڑے ہوئے۔ حکومت وقت نے مسجد کی شہادت کے وقت فوج اورپولیس کومشتعل ہندوؤں کے کیخلاف مسجد کو شہید ہونے سے بچانے کے لیے کوئی قدم نہیں اٹھایا وہی حکومت مسجد کی شہاد ت کے بعد مسلمانوں سے پرامن رہنے کی اپیل کرتی رہی اوراندرون خانہ ہندو انتہا پسندوں کی سپورٹ کرتی رہی۔ بعد میں بھارت کی تقریباً تمام سیاسی جماعتوں نے بابری مسجد پراپنی سیاست چمکائی لیکن کسی میں اس مسجد کو تعمیر کرنے کی ہمت نہ ہوئی۔ بابری مسجد کی شہادت کے واقعے کی تحقیقات کا وقت آیا تودوران تحقیقات یہ بات سامنے آئی کہ مسجد کی شہادت میں اس وقت کی حکومت کا بہت بڑا عمل دخل تھا۔ رپورٹ میں ایل کے ایڈوانی منوہر جوشی اورکاٹھیا کومسجد کی شہادت کے منصوبے میں براہ راست ملوث پایا گیا۔ رپورٹ کے مطابق مرلی منوہر جوشی اورایڈوانی نے اپنی نگرانی میں تمام انتظامات کو حتمی شکل دی اورمسجد کی شہادت کے وقت یہ دونوں لیڈر مسجد کے سامنے واقع ’’رام کتھا کنج‘‘ کی عمارت میں موجود تھے جوبابری مسجد سے صرف دوسومیٹر دورتھا اس رپورٹ نے جہاں ہندوؤں کے سکیولر ازم اورلبرل ازم پر سے پردہ اٹھایا وہاں بھارتی لیڈروں کا اصل چہرہ بھی دنیا کے سامنے عیاں ہوگیا ۔بابری مسجد کی شہادت کے الزام میں ایل کے ایڈوانی اعترافی بیان بھی دے چکے ہیں لیکن بھارتی ایوان انصاف کوان کے اندرموجود مجرم دکھائی نہیں دے رہا اس لیے وہ اب تک آزاد پھر رہے ہیں۔ہندوؤں کا الزام ہے کہ مسلمانوں نے ظہیر الدین بابر کی بادشاہت کے زمانے میں رام کی پیدائش کے مقام پر مندر کو تباہ کرکے مسجد بنادی تھی۔اس واقعے کے بعد ہندو ستان میں ایک تنازعہ اٹھا اورواقعے عدالتی تحقیق کا کام الہ آباد ہائی کورٹ کے سپرد کردیا گیا۔ 30 ستمبر 20210 کو الہ آباد ہائی کورٹ نے اپنا تاریخی فیصلہ سنایا جس کے مطابق بابری مسجد زمین کی ملکیت کے تنازع کے حوالے سے سنی سینٹرل وقف بورڈ کی درخواست خارج کرتے ہوئے قرار دیا کہ بابری مسجدکی اراضی وفاق کی ملکیت رہے گی اور اس تنازع کو بات چیت کے ذریعے حل کیا جائے۔ الہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کو لیکر سنی وقف بورڈ نے سپریم کورٹ میں حصول حق کے لئے آواز اٹھانے کا فیصلہ کیا جو اصولی بھی ہے اور جمہوری بھی۔لیکن اس قضیے میں امریکہ بدنام زمانہ جاسوس تنظیم سی آئی اے اور ایک امریکی کمپنی کا نام سامنے آنے کے بعد کہ جس کا انکشاف ایودھیا کے مہنت یوگل کشور شاستری نے بابری مسجد شہادت کیس کی سماعت کے دوران اسپیشل جج وریندر کمار کی عدالت میں کیا، کم از کم ایک بات عیاں ہوگئی ہے کہ امریکی سی آئی اے انتہا پسندوں کو اکسانے، نوازنے اور پروان چڑھانے میں پیش پیش رہی ہے اور ویشو ہندو پریشد والوں اور اس وقت کی کانگریس حکومت سے اسے کوئی دلچسپی ہو نہ ہو، مسلمانوں کے ساتھ اسکی دشمنی بابری مسجد کی مسماری کا باعث بنی تھی۔بھارتی عدلیہ کے فیصلے کے بعد بھارت میں آباد 26 کروڑ سے زائد مسلمان شدید مایوسی اور اضطراب کا شکارہوئے جبکہ دوسری طرف انتہا پسند ہندو خوشی سے بھنگڑا ڈال رہے تھے کیونکہ عدالت کے اس فیصلے نے مندر کی تعمیر کی راہ ہموار کردی ہے۔ مسلمانوں کا عدالت سے رجوع کرنے کا مقصد یہ تھا کہ مسجد کی شہادت جو لوگ ملوث ہیں انہیں سزائیں دی جائیں اور مسجد کی ازسرنو تعمیر کی اجازت دی جائے نہ کہ مسجد کو 3 حصوں میں تقسیم کرکے 2 حصے ہندوؤں کو دے دیئے جائیں۔ بھارتی عدلیہ نے قانون کے بجائے مذہبی بنیاد پر فیصلہ کیا جوہندوؤں کی قیاس آرائیوں پر مبنی ہے جن کے مطابق یہ جگہ رام کی جائے پیدائش تھی، جس کے کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ملے۔فیصلے میں قانون اور انصاف کے تقاضوں کو نظر انداز کرکے انتہا پسند ہندوؤں کی خوشنودی حاصل کی گئی ہے جبکہ دوسری طرف مسجد کا ایک حصہ مسلمانوں کو دے کر انہیں بھی خاموش کرنے کی ناکام کوشش کی گئی ہے۔ بھارتی عدالت کا فیصلہ ایک سیاسی فیصلہ ہے جو قانون کے بجائے مذہبی بنیاد پر کیا گیا ہے۔ عدالتوں کے فیصلے اگر سیاسی بنیاد پر ہونے لگیں تو پھر ان کا زوال شروع ہوجاتا ہے۔بابری مسجد کا متعصب اور انصاف سے مبرا فیصلہ آنے کے بعد ہمارے ان دوستوں کی آنکھیں بھی کھل جانی چاہیے جو بھارت اور دیگر غیر مسلم اقوام سے دوستی کی پینگیں بڑھانے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں۔ انہیں اب سمجھ جانا چاہیے کہ کفار کبھی ’’ امن کی آشا ‘‘ والی بھاشا نہیں سمجھتے بلکہ یہ صرف ڈنڈے کے سامنے ’’ رام رام ‘‘ کرنا ہی جانتے ہیں۔ ہم اپنی طرف سے جتنے مرضی دوستی کی ٹرینیں چلائیں یا بسیں دوڑائیں ،چاہے تو انکے قدموں میں گریں یا پھران سے بغلگیر ہو کر دوستی نبھائیں لیکن یہ ’’ رام وام ‘‘ کے پجاری کبھی مسلمانوں کے دوست نہیں ہو سکتے۔ کیونکہ یہ ہم نے نہیں بلکہ اللہ تعالٰی نے روز اول ہی سے طے کر دیا تھا کہ کافرکبھی مسلمان کا دوست نہیں ہو سکتا۔ رام مندر کی تحریک ایک بار پھر جارحانہ رخ اختیار کر رہی ہے۔ ایودھیا میں سخت گیر وشو ہندو پریشد کے لاکھوں حامیوں کی متوقع آمد سے لوگوں کے ذہن میں اندیشہ پیدا ہونا فطری ہے۔ان کے ذہن میں دسمبر1992 کی یادیں بسی ہوئی ہیں۔ چھبیس برس قبل ایودھیا میں اسی طرح لاکھوں کارسیوک (ہندو رضاکار) پورے ملک سے جمع ہوئے تھے۔ بے قابو کارسیوکوں نے ہزاروں سکیورٹی اہلکاروں کی موجودگی میں بابری مسجد مسمار کر دی تھی۔ پورے ملک میں فسادات برپا ہوئے تھے جن میں ہزاروں لوگ مارے گئے تھے۔
***

سام سنگ اپنے فون کی تشہیر آئی فون سے کرتے ہوئے ‘پکڑی’ گئی

جنوبی کورین کمپنی سام سنگ اسمارٹ فونز کی دنیا پر راج کرتی ہے اور اس کا مقابلہ امریکا کی کمپنی ایپل کے آئی فون سے ہے۔

تو اس کمپنی کے لیے اس سے زیادہ شرمندہ کردینے والی بات کیا ہوسکتی ہے کہ وہ اپنے کسی اسمارٹ فون کی ٹوئٹر پر تشہیر آئی فون کے ذریعے کرے؟

کچھ ایسا ہی گزشتہ دنوں سامنے آیا ہے جس نے یقیناً سام سنگ کو شرمندہ کردیا ہوگا۔

ویسے تو ایسی غلطیاں اکثر سامنے آتی ہیں مگر عام طور پر یہ کسی برانڈ ایمبیسڈر کی جانب سے ہوتا ہے مگر اس وقت کیا ہو جب ایسا کام ایک آفیشل سام سنگ ٹوئٹر اکاﺅنٹ سے ہو؟

جی ہاں واقعی ایسا ہوا ہے اور ایک ٹوئٹر صارف مارکیوس براﺅنی نے ایک ٹوئیٹ میں اسکرین شاٹ شیئر کیا جس میں سام سنگ موبائل نائیجریا نے نومبر کے آخر میں گلیکسی نوٹ نائن کے بارے میں ایک تشہیری ویڈیو ٹوئیٹ کی۔

اس میں تو کوئی برائی نہیں مگر یہ ٹوئیٹ کسی آئی فون کے مداح نے کی جو کہ ٹوئٹر کی آنکھ سے چھپ نہیں سکی۔

اسکرین شاٹ آپ نیچے دیکھ سکتے ہیں۔

اسکرین شاٹ
اسکرین شاٹ

ٹوئٹر کے اینالسٹ لوکا ہیمر نے سام سنگ کے اس اکاﺅنٹ کے 3200 ٹوئیٹس کا تجزیہ کرنے کے بعد دریافت کیا کہ 10 فیصد سے زائد (331) ٹوئیٹس آئی فون سے ہی کیے گئے ہیں۔

۔

یہ غلطی سامنے آنے کے بعد کمپنی نے کچھ دیر کے لیے سام سنگ موبائل نائیجریا کا ٹوئٹر اکاﺅنٹ بند کردیا اور آئی فونز سے کیے گئے ٹوئیٹس ڈیلیٹ کرنے کے بعد اکاﺅنٹ بحال کردیا۔

یہ پہلی بار نہیں کہ مارکیوس براﺅنی نے اس طرح کی غلطی پکڑی ہو۔

ستمبر میں انہوں نے ایک ٹوئیٹ میں دکھایا تھا کہ بولی وڈ اداکارہ انوشکا شرما جو کہ گوگل پکسل ٹو کو پروموٹ کررہی تھیں، نے آئی فون سے ٹوئیٹ کیا۔

اسی طرح چند دیگر مشہور شخصیات جیسے ہولی وڈ اداکارہ گال گدوت اور ٹینس اسٹار ثانیہ مرزا نے سام سنگ ڈیوائسز کی تشہیر آئی فونز سے کی۔

Google Analytics Alternative