Home » 2018 » December » 05

Daily Archives: December 5, 2018

پاکستان میں امن بحالی کے ساتھ افغانستان میں بھی امن کے خواہاں ہیں، ترجمان پاک فوج

 راولپنڈی: پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ پاکستان میں امن کی بحالی کے ساتھ ساتھ بارڈ کے اس پار افغانستان میں بھی امن کے خواہاں ہیں۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق پاکستان میں مقیم غیر ملکی میڈیا کے نمائندوں نے ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور سے ملاقات کی۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے میڈیا کے نمائندوں کو سیکیورٹی کی  صورتحال اور ملک میں جاری مستحکم آپریشنز کے حوالے سے بریفنگ دی۔

اس موقع پر ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ کلیئرنس آپریشن سے پاکستان میں سیکیورٹی کی صورتحال کافی بہتر ہوئی، ہم استحکام کی طرف جارہے ہیں اور پاکستان میں امن کی بحالی کے ساتھ افغانستان میں بھی امن کے خواہاں ہیں۔

میجر جنرل کا کہنا تھا کہ عالمی برادری پاکستان میں اپنے رپورٹرز کے ذریعے پاکستان کو دیکھتی ہے، میڈیا کا پاکستان کو حقیقی اور مثبت انداز میں دکھانے میں انتہائی اہم کردار ہے۔

سانحہ ماڈل ٹاؤن پر لارجر بینچ تشکیل؛ نواز اور شہباز شریف سمیت 146 افراد کو نوٹس

اسلام آباد:سپریم کورٹ نے سانحہ ماڈل ٹاؤن میں نامزد سابق وزیراعظم نواز شریف اور شہباز شریف سمیت 146 افراد کو نوٹسز جاری کردیئے ہیں۔

پاکستان عوامی تحریک کی درخواست پر سپریم کورٹ نے سانحہ ماڈل ٹاؤن پر لارجر بینچ تشکیل دے دیا ہے، چیف جسٹس کی سربراہی میں 5 رکنی لارجر بینچ کیس کی سماعت کل کرے گا۔ لارجز بینچ میں چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کے علاوہ جسٹس آصف سعید کھوسہ، جسٹس عظمت سعید، جسٹس فیصل عرب اور مظہر عالم میاں خیل شامل ہیں۔

سپریم کورٹ نے نوازشریف، شہباز شریف، حمزہ شہباز، رانا ثناء اللہ، چوہدری نثار، خواجہ آصف، پرویز رشید، عابد شیر علی اور اٹارنی جنرل سمیت 146 افراد کو نوٹس جاری کردیئے ہیں، جب کہ کیس کے مدعی عوامی تحریک کے سربراہ طاہرالقادری بھی کل سماعت کے لئے سپریم کورٹ میں پیش ہوں گے۔

پاکپتن اراضی کیس؛ چاہتا ہوں کہ نواز شریف کلیئر ہوں، چیف جسٹس

 اسلام آباد: چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے پاکپتن اراضی کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیئے ہیں کہ چاہتا ہوں کہ 2 بار کے وزیراعلیٰ اور 3 بار کے وزیراعظم کلیئر ہوں۔

چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں جسٹس اعجازالاحسن اور جسٹس فیصل عرب پر مشتمل سپریم کورٹ کے 3 رکنی بنچ نے پاکپتن دربار اراضی ازخود نوٹس کیس کی سماعت کی۔ سابق وزیراعظم نواز شریف عدالتی حکم پر ذاتی طور پر پیش ہوئے۔

چیف جسٹس نے نواز شریف سے استفسار کیا کہ اوقاف کی زمین کے دعوے داروں نے کیس کیا، ہائیکورٹ نے بھی قراردیا کہ زمین محکمہ اوقاف کی ہے، آپ کو نوٹی فکیشن نہیں سمری منظور کرنا تھی، تاثر یہی ملے گا کہ نوٹی فکیشن آپ کی منظوری سے جاری ہوا۔ نواز شریف نے کہا کہ ریکارڈ پر ایسا کوئی نوٹی فکیشن نہیں، نوٹی فکیشن کا نمبر غلط ہونے کا معاملہ سامنے آیا تھا، میراخیال ہے نچلی سطح پر کوئی گڑبڑ ہوئی ہے، شاید سیکرٹری اوقاف نےاختیارات کے تحت 1971 کے نوٹی فکیشن کو ڈی نوٹیفائی کیا۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ یہ بڑی قیمتی زمین تھی، سوال نوٹی فکیشن کے نمبر کا نہیں، سیکرٹری اوقاف کے پاس ایسے کوئی اختیارات نہیں، کیا محکمہ اوقاف کے ساتھ فراڈ ہوا ہے، ایک ایسی چیز آگئی ہے جس کی تحقیق کی ضرورت ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ 2 بار کے وزیراعلیٰ اور 3 بار کے وزیراعظم کلیئر ہوں، پولیس، نیب، ایف آئی اے، اینٹی کرپشن یا جے آئی ٹی میں سے کس سے تحقیق کرائیں؟۔

نواز شریف نے کہا کہ آپ جو کہہ رہے ہیں میں اس سے اتفاق کرتا ہوں، تحقیقات پر کوئی حرج نہیں لیکن میرا جے آئی ٹی کا تجربہ اچھا نہیں، کسی اور سے انکوائری کرالیں۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ انصاف کرنا صرف عدالتوں کا کام نہیں ، آپ جیسے لیڈر بھی انصاف کرسکتے ہیں، آپ خود منصف بن جائیں۔ نواز شریف ایک ہفتے میں بتادیں کس ادارے سے تحقیق کرائیں۔

عدالت نے پاکپتن اراضی کیس کی سماعت ایک ہفتے تک ملتوی کردی جب کہ نوازشریف کو آئندہ حاضری سے استشنی دے دیا ہے۔

پاکپتن دربار اراضی کیس کیا ہے؟

عدالت عظمیٰ نے 2015 میں دربار اراضی پر دکانوں کی تعمیر کا از خود نوٹس لیا تھا، نواز شریف پر 1985 میں بطور وزیر اعلیٰ اوقاف کی زمین واپسی کا نوٹی فکیشن واپس لینے کا الزام ہے۔ گزشتہ سماعت پر عدالت عظمیٰ نے نواز شریف کا جواب مسترد کرتے ہوئے ریمارکس دیئے تھے کہ وہ خود آکر وضاحت دیں۔

وزیراعظم کی صحافیوں سے فکر انگیز گفتگو

adaria

تحریک انصاف کی حکومت کو جس قسم کے حالات درپیش ہیں اس حوالے سے کپتان نے تمام چیزوں کو بالکل کلیئر کردیا ہے جہاں انہوں نے یہ کہاکہ انتخابات قبل ازوقت ہوسکتے ہیں وہاں پر یہ بھی عندیہ دیا کہ چین نے کرپشن کی مد میں اپنے چار سو وزراء کو فارغ کیا لہذا وفاقی کابینہ کیلئے ایک قسم کا یہ ریڈ الرٹ ہے جو وزیر کارکردگی دکھائے گا وہی وزارت میں رہے گا، نیز اگر کسی کی بھی کرپشن پکڑی گئی تو وہ وزارت سے بھی جائے گا اور یقینی طورپر اس کو قرار واقعی سزا بھی ملے گی۔ ابھی تک کپتان نے جن خیالات کا اظہار کیا ہے اس سے واضح ہے کہ وہ اس وطن عزیز کیلئے کچھ نہ کچھ کرنا چاہتے ہیں ، ہمیں وزیراعظم کی نیت پر کسی طرح کے شکوک و شبہات نہیں لیکن جیسا کہ اس بات کو ہم پہلے بھی باور کراچکے ہیں کہ انہیں اپنی ٹیم پر نظرثانی کرنا پڑے گی اور یہ بات بھی ہم بتاچکے ہیں کہ جب تک ہر وزیر اپنی مرضی سے بیان دیتا رہے گا اس وقت تک اسی طرح کی وضاحتیں وزیراعظم کو پیش کرنا پڑیں گی۔ گزشتہ روز وزیراعظم عمران خان نے سینئر صحافیوں اور اینکر پرسن سے سیر حاصل گفتگو کی جس میں انہوں نے کہاکہ وفاقی کابینہ میں اکھاڑ پچھاڑ کا عندیہ دیتے ہوئے کہا کہ ملک میں قبل از وقت الیکشن ہوسکتے ہیں، ڈالر مہنگا ہونے کا پتہ میڈیا سے چلا، شہباز شریف کو پی اے سی کا چیئرمین نہیں بنائیں گے ، فوج ہمارے منشور کے ساتھ ہے،اسٹیٹ بینک نے حکومت کو اعتماد میں لیے بغیر روپے کی قدرکم کی، اسکے لئے میکنزم بنارہے ہیں،نیب میرے ماتحت ہوتا تو بڑے بڑے50کرپٹ لوگ آج جیلوں میں ہوتے،مولانا فضل الرحمان اپنی سیاسی دکان بچارہے ہیں، پاکستان میں ہیلتھ کارڈ لارہے ہیں،آئندہ ہمیں کسی کی جنگ کا حصہ نہیں بننا ، کرتارپور راہداری کھولنادھوکا، گگلی یا ڈبل گیم نہیں، سیدھا سادہ فیصلہ ہے،تمام ہمسائیوں کیساتھ اچھے تعلقات چاہتے ہیں، طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے کیلئے ٹرمپ نے مجھ خط لکھا، ہم تعاون کرینگے، میرے جواب کے بعد امریکا برابری کی سطح پر آگیا ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا خط آیا جو بہت مثبت ہے، ٹرمپ نے افغان طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے تعاون مانگا ہے، ہم ان کو پورا تعاون دیں گے، اس حوالے سے پاکستان اور امریکی حکام کے درمیان رابطہ ہے، افغانستان کے لیے امریکی حکومت کے خصوصی نمائندے زلمے خلیل زاد بھی پاکستان آرہے ہیں، ہم افغانستان میں امن لانے کیلئے خلوص کے ساتھ پوری کوشش کریں گے۔ ماضی میں امریکا سے معذرت خواہانہ رویہ اختیار کیا گیا اب ہم نے امریکا کو برابری کی بنیاد پر جواب دیا تو ٹرمپ نے خط لکھا، ہم پوری کوشش کریں گے کہ افغان مسئلے کا حل نکالنے کے لیے جو کردار ادا کرسکیں وہ کریں۔ وزیراعظم نے کرتار پور راہدری پر وزیر خارجہ کے گُگلی کے بیان کی وضاحت کرتے ہوئے کہاکہ شاہ محمود کا مطلب تھا کہ بھارت میں الیکشن آرہے ہیں، وہ پاکستان کے خلاف نفرت پھیلانے کی کوشش کررہا ہے لیکن ہم نے نفرت پھیلانیکا منصوبہ روکنے کے لیے کرتارپور کوریڈور کھولا ہے لہذا نفرت پھیلانے کا منصوبہ ناکام بنانے کو گُگلی کہہ سکتے ہیں لیکن اس کا قطعا یہ مقصد نہیں کہ ہم نے دھوکا یا ڈبل گیم کیا ہے۔ ہم مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے پرعزم ہیں، اگر دونوں ممالک چاہیں تو یہ ہوسکتا ہے۔ وزیراعظم نے ڈالر کی قیمت بڑھنے سے متعلق بھی انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ پہلے بھی جب ڈالر کی قیمت میں اضافہ ہوا تو ان کو علم نہیں تھا اور گزشتہ روز بھی انہیں اس حوالے سے ٹی وی سے پتا چلا، روپے کی قدر اسٹیٹ بینک نے گرائی تھی جو ایک اتھارٹی ہے اور خود یہ کام کرتے ہیں، اگر اپوزیشن کا تعاون نہیں رہا تو پی اے سی کا چیئرمین شہبازشریف کی بجائے اپنے طورپر کسی کو بنائیں گے۔ جنوبی پنجاب صوبے کے سوال پر واضح جواب نہیں دیا اور گزشتہ روز آصف زرداری کی تنقید پر انہوں نے سابق صدر پر شدید تنقید کی۔ جنوبی پنجاب کے معاملے میں ہماری دلچسپی ہے اور ہوسکتا ہے ملک میں قبل از وقت انتخابات ہوں جب کہ آنے والے 10 دنوں میں وزارتوں میں بھی تبدیلیاں ہوسکتی ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ منی لانڈرنگ پر سخت قانون لارہے ہیں، بڑے بڑے لوگ نام سامنے آنے سے ڈر رہے ہیں، گوسلو پالیسی والے افسران کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ ہو سکتا ہے کہ وقت سے پہلے انتخابات ہوں، کپتان اپنی حکمت عملی کسی بھی وقت بدل سکتا ہے، چھ ہزار سے قرض تیس ہزار ارب روپے تک پہنچانے والوں کا پہلے احتساب کریں گے جو ملک کو نقصان پہنچاتا ہے اور قانون کو توڑتا ہے اس کو جواب دہ ہونا ہو گا۔ پاکستان کے جو حالات ہیں اس میں 100 دن کی کارکردگی زبردست ہے۔ ملک میں چھوٹی اور درمیانی صنعتیں ختم ہو گئی ہیں، کاروبار میں آسانی پیدا کرنا بڑی کامیابی ہو گی۔

صحافیوں کی جانوں کاتحفظ یقینی بنایا جائے
دنیا بھر میں شعبہ صحافت پر ہر وقت کسی نہ کسی صورت میں خطرات منڈلاتے رہتے ہیں اور اکثر اوقات خبر دینے والا خود ہی خبر بن جاتا ہے۔ پاکستان میں بھی صحافیوں کے حوالے سے ماحول اتنا ساز گار نہیں ہے۔گزشتہ روزپشاور میں موٹرسائیکل سوار حملہ آوروں کی فائرنگ سے روز نیوز کے خیبرپختونخوا کے بیوروچیف نورالحسن شہیدہو گئے جبکہ کیمرہ مین شبیر زخمی ہوا۔وزیراعلیٰ کے پی کے نے واقعے کا نوٹس لے لیا۔ نوشہرہ سے تعلق رکھنے والے روز نیوز کے خیبرپختونخوا کے بیوروچیف نور الحسن گاڑی میں پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی کیلئے حیات آباد سے پشاور جا رہے تھے کہ رِنگ روڈ پر نامعلوم موٹر سائیکل سوار حملہ آوروں نے ان کی گاڑی پر فائرنگ کر دی جس سے وہ موقع پر شہید ہوگئے جبکہ کیمرہ مین شبیرشدید زخمی ہوگیا۔ آئی جی پولیس صلاح الدین محسود نے بھی واقعے کا نوٹس لے لیا ہے۔ سی سی پی او قاضی جمیل الرحمان نے جائے وقوع کا دورہ کیا اور مقتول صحافی کی گاڑی کا معائنہ کیا۔ روز نیوز کے خیبرپختونخوا کے بیوروچیف نورالحسن کی شہادت کی خبر سنتے ہی ملک بھر کی صحافی برادری سراپا احتجاج بن گئی اورحکومت سے فوری طور پر قاتلوں کو گرفتار کرنے کا مطالبہ کیا۔ مقتول صحافی کے بھائی محمود خان نے کہا کہ ان کی کسی کے ساتھ ذاتی دشمنی نہیں، لیفٹیننٹ جنرل(ر)امجد شعیب نے نور الحسن کی شہادت پر گہرے رنج اورافسوس کا اظہارکرتے ہوئے انکے قاتلوں کو فوری گرفتار کرنے کا مطالبہ کیا جبکہ سینئر قانون دان احمد رضا قصوری نے بھی نور الحسن کی شہادت پر افسوس کا اظہار کیا۔ پاکستان میڈیا زون کی جانب سے بھی نورالحسن پر قاتلانہ حملے کی پرزور مذمت کی گئی اور مطالبہ کیا گیا کہ آئی جی فوری قاتلوں کو گرفتار کریں۔چیف ایڈیٹر پاکستان گروپ آف نیوز پیپرز اور سینئر اینکر پرسن ایس کے نیازی نے وزیراعظم سے واقعے کا نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہاکہ شہید نور الحسن کے اہلخانہ کے غم میں برابر کے شریک ہیں ۔ بیوروچیف سینئر صحافی نورالحسن کے قتل کا وزیراعظم نوٹس لیں ۔انھوں نے کہا کہ شہید صحافی نور الحسن دلیر اور نڈر انسان تھے،نور الحسن ایک طویل عرصے سے روز نیوز کے ساتھ وابستہ تھے،اللہ تعالیٰ لواحقین کو صبرجمیل عطا کرے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ پوری صحافی برادری کی جانوں کے تحفظ کیلئے باقاعدہ پالیسی بنائے اور نورالحسن شہید کے قاتلوں کو فی الفور گرفتار کرکے قرار واقعی سزا دی جائے۔

عمران خان کو اگلا حکمران جیل بھیجے گا، آصف زرداری

ٹنڈو الہیار: پیپلز پارٹی کے شریک چیرمین آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ تحریک انصاف کی ناتجربہ کار حکومت نہیں چل سکے گی جبکہ عمران خان کو اگلا حکمران جیل بھیجے گا۔

ٹنڈوالہیار میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سابق صدر آصف زرداری نے کہا ہے کہ ناسمجھ وزیراعظم سے ملک نہیں سنبھالا جارہا، الیکشن میں لائی گئی کٹھ پتلیوں سے کام نہیں چلنا، یہ حکومت ملک نہیں سنبھال سکتی اور حالات بہت سنگین ہیں، تاہم بدترین جمہوریت بہترین آمریت سے بہتر ہوتی ہے، اسی لیے پارلیمنٹ میں بیٹھے ہیں تاکہ کسی اور قوت کو نظام لپیٹنے کا موقع نہ ملے اور ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے، تاہم پی ٹی آئی حکومت کی پوری کوشش ہے کہ کسی طرح نظام کو توڑ دیں۔

آصف زرداری نے کہا کہ  یہ ناتجربہ کار حکومت ہے جسے سیاسی سمجھ بوجھ نہیں، ون یونٹ کے خلاف ہم نے جدوجہد کی تھی اور موقع ملا تو آئین میں ترمیم کی، اب یہ حکومت اٹھارویں ترمیم سے متعلق کچھ شقوں کا بہانہ بناکر آئین کو منسوخ کرنا چاہتی ہے، ہم حکومت کی اس کوشش کی بھرپور مخالفت کریں گے، تاہم موجودہ حکومت نہیں چل سکے گی اور اگر اسے خطرہ ہوا تو اسے ہم نہیں بلکہ وہی طاقتیں سپورٹ کریں گی جو لے کر آئی ہیں۔

سابق صدر کا کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان انتقامی کارروائیاں کررہے ہیں اور کہتے ہیں ساری اپوزیشن کو جیل میں ڈالوں گا، ہم میں جیل جانے کی صبر و برداشت ہے لیکن کیا عمران خان خود جیل جانا برداشت کرسکتے ہیں، جیسی کرنی ویسی بھرنی، نواز شریف نے احتساب عدالتیں اور قانون میرے لیے بنائے تھے لیکن خود ان کے گلے پڑگئے اور آج وہ کٹہرے میں کھڑے ہیں، عمران خان آج اپوزیشن کو جیل بھیجیں گے لیکن آنے والا انہیں بھی ضرور جیل بھیجے گا۔

جعلی بینک اکاؤنٹس اور منی لانڈرنگ کیس سے متعلق سوال کے جواب میں آصف زرداری نے کہا کہ جب تک جاں ہے یہ جنگ چلتی رہے گی، پہلے بھی مجھے قیدی بنایا گیا تھا اب بھی یہی ارادے ہیں، حکومت ہماری ہمت آزمائے ہم ان کے ظلم آزمائیں گے، جے آٰٗئی ٹی میں مجھے اور بہن فریال تالپور کو بلایا گیا ہے لیکن بلاول کو طلب نہیں کیا گیا، ہم نے سوالات کے جواب دیے ہیں، کیس چلے گا تو دیکھیں گے۔

ایران کی خلیجی ممالک سے دنیا کو تیل کی سپلائی بند کرنے کی دھمکی

تہران: ایران کے صدر حسن روحانی نے کہا ہے کہ امریکا باز نہ آیا تو دنیا کو خلیجی ممالک سے پٹرول کی سپلائی کو بند کردیں گے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق ایرانی صدر حسن روحانی نے صوبے سمنان میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکا اچھی طرح جان لے اگر ایران سے چھیڑ چھاڑ کی گئی تو خلیجی ممالک سے دنیا کو پٹرول کی سپلائی ممکن نہیں رہے گی۔

ایرانی صدر نے امریکا کو متنبہ کیا کہ اتحادی ممالک کو ایران سے تیل خریدنے سے روکنے کی کوششوں سے باز آجائے ورنہ خلیج فارس سے پٹرول کی کوئی بھی سپلائی نہیں کی جا سکے گی، امریکا ایران کو تباہ کرنے کے خواب دیکھنا چھوڑ دے۔

حسن روحانی نے عالمی میڈیا کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ امریکا کی جانب سے عائد پابندیوں پر ایران کی معیشت کی صورت حال کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جا رہا ہے، ایرانی معیشت مستحکم ہے اور کوئی بحرانی کیفیت نہیں۔

ایرانی صدرنے اس سے قبل رواں برس جولائی میں بھی سوئٹزرلینڈ کے دورے کے دوران دنیا کو پٹرول کی سپلائی بند کرنے کی دھمکی تھی تاہم اس پر عمل درآمد نہیں کیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ امریکا ایران پر دہشت گردی کا الزام عائد کرتے ہوئے جوہری توانائی کے عالمی معاہدے سے دستبردار ہوگیا تھا اور ایران پر معاشی پابندیاں عائد کردی تھیں تاہم دیگر عالمی قوتوں نے ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کو برقرار رکھا تھا۔

فرانس میں پُرتشدد مظاہروں کے بعد پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ معطل

پیرس: فرانس میں پُر تشدد مظاہروں نے حکومت کو پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کو معطل کرنے پر مجبور کر دیا۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق فرانس کے وزیراعظم ایڈوارڈ فلپس نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کو 6 ماہ کے لیے معطل کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ مظاہرین کو قائل کیے بغیر کسی قسم کا ٹیکس عائد نہیں کیا جائے گا۔

فرانسیسی صدر میکرون کی ہدایت پر وزیراعظم فلپس نے بیرون ملک دورہ منسوخ کر کے مظاہرین کے رہنماؤں بینجمن کووچی اور جیکولین موریو سے ملاقات کی اور کامیاب مذاکرات کے بعد پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کو معطل کردیا۔

فرانس میں اُس وقت ہنگامے پھوٹ پڑے تھے جب فرانس کے صدر ایمانیول میکرون نے گیسولین اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کا اعلان کیا تھا، ان قیمتوں کا اطلاق یکم جنوری سے ہونا تھا، فرانس میں زیادہ تر ڈیزل استعمال ہوتا ہے۔

ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کے اعلان سے عوامی احتجاج نے پُر تشدد مظاہروں کی شکل اختیار کرلی، پیرس کی سڑکیں میدان جنگ بن گئیں، دو ہفتے سے جاری ہنگامہ آرائی میں 3 افراد ہلاک اور 400  سے زائد زخمی ہوگئے تھے۔

مشتعل مظاہرین نے درجنوں گاڑیوں کو نذر آتش کیا اور سرکاری املاک کو شدید نقصان پہنچایا جب کہ چند مظاہرین نے پارلیمنٹ میں بھی داخل ہونے کی کوشش کی۔ جس پر 500 سے زائد مظاہرین کو حراست میں لے لیا گیا تھا۔

بھارتی انتخابات میں پاکستان مخالف کارڈ

بھارت میں عام انتخابات اپریل یا مئی 2019 میں ہونے والے ہیں۔ یہ انتخابات بھارت کی 17ویں لوک سبھا کی تشکیل کے لیے ہوں گے جس میں 543 نشستوں سے امید وار منتخب ہو کر آئیں گے اور سب سے زیادہ نشستیں دکھانے والی جماعت حکومت بنائے گی۔ اب تک بھارت کے انتہا پسند ہندو قوم پرست سیاست دان اس غلط فہمی کا شکار رہے ہیں کہ کہ پاکستان کو کمزور کرکے وہ بھارت کو مضبوط اور سرخرو کرسکتے ہیں۔ بھارتی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی اگلے عام انتخابات کوپاکستان بمقابلہ بھارت اوربھگوان بمقابلہ اسلام قراردیتے ہوئے کہاہے کہ اگر آئندہ الیکشن میں بی جے پی جیتی، تو بھارتی عوام خوش ہوں گے۔ بصورت دیگر اگر اپوزیشن کامیاب رہی، تو کامیابی کے ڈھول پاکستان میں بجیں گے۔ آئندہ انتخابات کے بعد لوگوں کو فیصلہ کرنا ہو گا کہ وہ بھگوان کے ساتھ ہیں یا اسلام کے۔بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ابتدا سے ہی پاکستان کے مخالف رہے ہیں۔ ممبئی حملے ہوں یا کوئی اور کارروائی مودی کا ہدف ہمیشہ پاکستان ہی رہا ہے۔ بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج کی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں حالیہ پاکستان مخالف تقریر اور بھارتی آرمی چیف کے اسلام آباد مخالف بیانات انتخابات جیتو پالیسی کا حصہ ہیں۔ مودی گجرات سے نئی دہلی بھی پاکستان مخالف پالیسی انتہاپسندوں کو خوش کرنے کے بعد پہنچے حالانکہ رافیل طیارہ ڈیل میں فرانس کے اس وقت کے صدر فرانسوا اولاند نے مودی کی کرپشن کے پول کھول دیئے ہیں۔ بھارت نے پاکستان کی مذاکرات کی پیش کش کو مسترد کرتے ہوئے نہایت گھمنڈ سے ایک طرف پاکستان کے سفارتی بائیکاٹ کے لئے عالمی کوششوں کا آغاز کیا تو دوسری طرف پاکستانی علاقے میں سرجیکل آپریشن کا شوشا چھوڑ کر پاکستان کو اشتعال دلانے اور حالات کو خراب کرنے کی کوشش کی۔ حالانکہ اس سے پہلے جنوری 2016 میں پٹھان کوٹ ائیر بیس پر دہشت گرد حملہ کے بعد پاکستان نے بھارت کی تشفی کے لئے جیش محمد کے خلاف غیر روایتی کارروائی کی تھی اور اس کے دفاتر بند کرنے کے علاوہ اس کے اکثر لیڈروں کو گرفتار کرلیا تھا۔ لیکن بھارت نے اس قسم کے اقدامات کو پاکستان کی کمزوری سمجھنے کی غلطی کرتے ہوئے یہ باور کیا کہ پاکستان پر دباؤ بڑھانے اور اس کی سفارتی کوششوں کو مسترد کرکے پاکستان کو کشمیر اور دیگر معاملات پر جھکنے پر مجبور کیا جاسکے گا۔ اگر ہم بھارت کے گزشتہ الیکشن پر نظر ڈالیں تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ 2014 کے عام انتخابات میں جن وعدوں کے سہارے بھارتیہ جنتاپارٹی نے لوک سبھا کی 282 سیٹیں جیتی تھیں‘ وہ اب پوری طرح فیل ہو چکی ہیں۔ مسلمان مخالف اور پاکستان مخالف کارڈ استعمال کر کے بی جے پی نے انتہا پسند ہندوؤں کی مدد سے لوک سبھا میں اکثریت حاصل کرلی تھی۔ بی جے پی نے انتخابات میں کسی مسلمان کو ٹکٹ جاری نہیں کیا تھا ۔ یوں اس نے واضح کر دیا کہ وہ مسلمانوں کے ووٹ کے بغیر بھی حکومت بنا سکتی ہے۔ لیکن 2019 کے انتخابات میں اب بی جے پی کا یہ کارڈ نہیں چلنے والا۔ بی جے پی کی مشکلات بڑھتی جا رہی ہیں کیونکہ عوام کو جو سنہرے خواب دکھائے گئے تھے وہ جھوٹے ثابت ہوئے ہیں۔ مسلمان تو ایک طرف مودی سرکار نے ہندو اقلیتوں کے ساتھ جو سلوک روا رکھا وہ اب بھاری پڑ رہا ہے۔ اپریل میں پورے ملک میں دلتوں کی طرف سے منائے گئے ’بھارت بند‘ کے دوران کم وبیش ڈیڑھ درجن لوگوں کی جانیں چلی گئی تھیں۔ کروڑوں کی املاک جلائی گئی اور احتجاج کرنے والوں نے یہ ثابت کردکھایا کہ اگر ان کے مفادات سے کھلواڑ کی گئی تو وہ طوفان مچادیں گے۔ دلتوں کے احتجاج نے حکومت کو یہ بھی بتا دیا کہ نچلی ذات کے لوگوں کو اعلیٰ ذاتوں کے ظلم وستم سے بچانے کے لئے بنائے گئے ایکٹ میں انہیں کوئی بھی ترمیم منظور نہیں ہے۔ اگر اس ایکٹ کو چھوا بھی گیا تو وہ سب کچھ تہس نہس کردیں گے۔ بھارت میں دلتوں اور مسلمانوں کی آبادی تقریباً برابر ہے۔ مجموعی آبادی میں دلت 19فیصد ہیں اور مسلمان 18فیصد۔ مودی حکومت نے دونوں اقلیتوں کے مذہبی اور نجی قوانین میں دخل اندازی کی کوشش کی۔ مودی سرکار نے مسلم پرسنل لاء میں مداخلت کی یعنی طلاق ثلاثہ پر قانونی پابندی کے بعد اب تعدد ازدواج اور نکاح حلالہ کے خلاف عدالتی کارروائی جاری ہے۔ ملک میں یکساں سول کوڈ نافذ کرنے کی کوششوں کے خلاف اور شریعت اسلامی کے حق میں مسلمان مسلسل صدائے احتجاج بلند کررہے ہیں۔اسی طرح ایس سی/ ایس ٹی ایکٹ میں ترمیم کی عدالتی پہل کے خلاف دلتوں کے غم وغصے کو دیکھ کر حکومت کے ہاتھ پاؤں پھول گئے اور وہ نظرثانی کی درخواست لے کر سپریم کورٹ پہنچ گئی۔ غرض آئندہ الیکشن میں بی جے پی کے پیروں تلے سے زمین اس لئے کھسک رہی ہے کہ اس نے 2014کے عام چناؤ میں مسلمانوں کو حاشیے پر پہنچا کر اور دلتوں و پچھڑوں کو اچھے دن کے خواب دکھا کر جو بازی جیتی تھی وہ 2019 میں پوری طرح الٹتی ہوئی نظر آرہی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ ہندو مسلم کی تفریق پیدا کرکے ذات پات کے جھگڑوں کو روکنے کا فارمولہ اب کامیاب ہوتا ہوا نظر نہیں آرہا ہے۔ اب ایسے میں بی جے پی کے پاس رام مندر کی تعمیر کے مسئلہ کو اچھالنے کے سوا کوئی نعرہ نہیں ہے۔ لیکن اس معاملے میں بھی خود سنگھ پریوار کے لوگوں میں ناراضگی بڑھ رہی ہے۔

***

Google Analytics Alternative