Home » 2018 » December » 06

Daily Archives: December 6, 2018

چیف جسٹس نے پاناما لیکس کا فیصلہ کرکے نئے پاکستان کی بنیاد رکھ دی تھی، وزیراعظم

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ جمہوریت اور قانون کی حکمرانی لازم و ملزوم ہیں جب کہ چیف جسٹس نے پاناما لیکس کا  فیصلہ کرکے نئے پاکستان کی بنیاد رکھ دی تھی۔  

اسلام آباد میں بڑھتی آبادی پرفوری توجہ کے موضوع پرمنعقدہ سمپوزیم سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ وہ معاشرہ ترقی کرتا ہے جہاں قانون کی پاسداری ہو، کیوں کہ کسی بھی ملک کی ترقی کے لئے جمہوریت اور قانون کی حکمرانی لازم و ملزوم ہے، میں یہ سمجھتا ہوں کہ چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار نے پاناما لیکس کا فیصلہ کرکے نئے پاکستان کی بنیاد رکھ دی تھی۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ماضی کی جمہوری حکومتیں صرف 5 سال کا سوچتی تھیں کہ اگلا الیکشن کیسے جیتیں، ان کے دور میں تمام حکومتی ادارے مفلوج تھے، ان کی چھوٹی سوچ کی وجہ سے ہم پانی جیسے سنگین مسئلےمیں پھنس گئے، یہاں انتخابات ہوتے تھے قانون پر عملدرآمد نہیں ہوتا تھا، کسی  نے نہیں سوچا تھا کہ وزیرِاعظم بھی قانون کے تابع ہوگا، میرے کانوں نے یہ بھی سنا کہ اچھا ہوا بنگلا دیش الگ ہوگیا وہ بوجھ تھا، آج وہی بنگلا دیش آگے کی طرف جارہا ہے۔

عمران خان نے کہا جمہوریت کا مقصد حکمرانوں کو قانون کے نیچے لانا ہے، سی ڈی اے میرے نیچے ہے پھر بھی آپکو بتاتا ہے عمران خان نے یہاں غلطی کی، میرے ماتحت ادارہ سی  ڈی اے آج عدالت کو بنی گالا کی صورتحال بتارہا ہے، ایسا پہلے نہیں تھا، جن بوتل سے نکل چکا ہے،اب کوئی نہیں سوچے گا کہ وہ قانون سے بالاتر ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اب پاکستان میں ادارے خود مختار ہو رہے ہیں،  ہم بڑے بڑے قبضہ گروپوں پر ہاتھ ڈال رہے  ہیں، قانون سازی کے لیے بھی اقدامات کررہے ہیں، 6 نئےقانون اسمبلی میں لے کر آرہے ہیں، دنیا کے کئی ممالک پاکستان میں سرمایہ کاری میں دلچسپی رکھتے ہیں، آنے والے دنوں میں قرضوں سے نکل جائیں گے۔

زلمے خلیل زاد کی آمد۔۔۔ پاکستان بھی افغان امن کا خواہاں

adaria

امریکہ کیلئے افغانستان وہ کمبل بن چکا ہے جس کو وہ چھوڑنا چاہتا ہے مگر اب کمبل اس کو نہیں چھوڑ رہا، افغانستان میں امریکہ بری طرح پھنس چکا ہے ، وہ اپنی عزت بچانے کیلئے کسی نہ کسی صورت مفر حاصل کرنے کا خواہاں ہے مگر اسے ابھی تک کوئی راستہ نہیں مل رہا، گو کہ اِدھراُدھر وہ ٹامک ٹوئیاں مار رہا ہے مگر ہاتھ میں کچھ بھی نہیں آرہا چونکہ امریکہ کا صدر ٹرمپ ہے جس سے کسی وقت بھی کسی بھی قسم کی بات بعید از خیال نہیں۔ ٹرمپ کچھ بھی کہہ سکتے ہیں، پہلے امریکہ نے پاکستان پر دباؤ بڑھایا اور مختلف قسم کے الزامات عائد کیے لیکن وزیراعظم عمران خان نے جب ڈونلڈ ٹرمپ کو آڑے ہاتھوں لیا تو امریکہ نے اپنی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے یوٹرن لے لیا اور ساتھ ہی ٹرمپ نے طالبان سے مذاکرات کیلئے پاکستان کو خط لکھ دیا اور باقاعدہ اس سلسلے میں مدد طلب کی ، یقینی طورپر یہ پاکستان کی ایک قابل تحسین سفارتی فتح ہے۔ امریکہ یہ اچھی طرح جانتا ہے کہ پاکستان کے بغیر افغان جنگ سے اس کا نکلنا ناممکن ہے لیکن اس کے باوجود بھی وہ پاکستان کیخلاف ہرزہ سرائی کرنے سے باز نہیں آتا، اب اسی مدد کو عملی جامہ پہنانے کیلئے امریکہ کے نمائندہ خصوصی برائے افغان مفاہمتی عمل زلمے خلیل زاد کو خصوصی طورپر پاکستان بھیجا ہے انہوں نے یہاں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے باقاعدہ ملاقات کی۔ جہاں انہوں نے ٹرمپ کے خط کے حوالے سے خصوصی طورپر گفتگو کی اور پاکستان سے مدد بھی طلب کی۔ دفتر خارجہ کے مطابق زلمے خلیل زاد نے وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کو افغانستان مفاہمتی عمل کے سلسلے میں پاکستان کے تعاون کے حصول کیلئے امریکی صدر کی طرف سے وزیر اعظم عمران خان کو لکھے گئے خط کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔ وزیر خارجہ نے اس موقع پر ان سے کہا کہ پاکستان، افغانستان میں سیاسی تصفیہ کیلئے، خلوصِ نیت کے ساتھ، اپنا تعاون جاری رکھے گا کیونکہ افغانستان میں قیام امن، پاکستان کے بہترین مفاد میں ہے۔ امریکی مندوب کو بتایا کہ وزیر اعظم عمران خان نے افغان مصالحتی عمل میں پاکستان کے تعاون کے حصول کیلئے صدر ٹرمپ کے پیغام کا خیرمقدم کیا ہے ۔امریکی نمائندہ خصوصی برائے افغان مفاہمتی عمل زلمے خلیل زاد نے ایک بار پھر پاکستان سے افغانستان میں امن کیلئے تعاون کی درخواست کی ہے۔ زلمے خلیل زاد غیر ملکی ائر لائن کی پرواز کے ذریعے دبئی سے اسلام آباد پہنچے۔ پاکستانی وفد کی قیادت سیکرٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ نے کی جبکہ اجلاس میں دونوں جانب سے سفارتی، سکیورٹی اور دفاعی حکام نے بھی شرکت کی۔ ملاقات میں افغانستان میں امن اور سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ بات چیت کے دوران افغانستان میں امن و استحکام اور افغان تنازعہ کے سیاسی تصیفے سے متعلق امور پر زیر بحث لائے۔زلمے خلیل زاد نے ایک بار پھر امریکی صدر ڈونلڈ کی جانب سے افغانستان میں امن مذاکرات کیلئے پاکستان سے تعاون کی درخواست کی۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے امریکی وفد کو افغانستان میں قیام امن کیلئے پاکستان کی جانب سے جلد اور مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔پاکستان افغانستان اور چین کے درمیان وزرا خارجہ کی سطح پر افغانستان میں امن و سلامتی کے موضوع پر سہ فریقی مذاکرات 15 دسمبر کو کابل میں منعقد ہونگے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی پاکستان کی نمائندگی کریں گے تینوں ممالک کے درمیان سہ فریقی مذاکرات کا یہ دوسرا دور ہے اس سلسلے میں پہلا دور گزشتہ سال دسمبر میں بیجنگ میں ہوا تھا تینوں ممالک نے گزشتہ سال سہ فریقی مذاکرات میکانزم پراتفاق کیا تھا مذاکرات میں چینی وفد کی قیادت وزیر خارجہ وانگ ذی کریں گے جبکہ افغان وزیر خارجہ صلاح الدین ربانی اپنے ملک کے وفد کی قیادت کریں گے۔امریکی وزیردفاع جیمز میٹس کا کہنا ہے کہ 40 سال افغان جنگ کیلئے بہت ہیں افغان امن معاملے پر اب سب کو شریک کرنے کا وقت آگیا ہے۔ امریکہ کو چاہیے کہ اب وہ الزام تراشیوں اور بہانے بازیوں سے باہر آئے، جب پاکستان سے مدد حاصل کی ہے تو یقینی طورپر اس حوالے سے پاکستان جو بھی تجاویز دیتا ہے اس پر امریکہ کو عمل کرنا ہوگا اس کے باوجود اس مسئلے کا اور کوئی حل نہیں۔ امریکہ کو یہ ادراک ہوچکا ہے کہ خطے میں امن پاک افغان امن سے منسلک ہے تاہم اس موقع پر مسئلہ کشمیر کو بھی کسی صورت پس پشت نہیں ڈالا جاسکتا ۔ بین الاقوامی برادری کو یہ بھی چاہیے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کو ہر صورت بند کرائے اور مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت حل کیا جائے۔

غیرملکی سرمایہ کاروں کو ون ونڈو آپریشن سہولت دی جائے
غیر ملکی سرمایہ کاری لانا سب سے اہم ٹاسک ہے اور حکومت اس پر شب و روز کوشاں ہے، جب تک غیر ملکی سرمایہ کار پاکستان میں دلچسپی نہیں لیں گے اس وقت تک ہماری معیشت اپنے پاؤں پر کھڑی نہیں ہوسکے گی۔ معیشت کی ترقی کیلئے ضروری ہے کہ حکومت باہر سے آنے والے سرمایہ کاروں کو ون ونڈو آپریشن کے تحت تمام تر سہولیات ایک ہی چھت کے نیچے فراہم کرے اور یہ سرمایہ کاری زیادہ تر صنعت کے شعبے میں ہوتو اس سے نہ صرف ملکی حالات بہتر ہونگے بلکہ روزگار کے مواقع بھی پیدا ہونگے۔ گزشتہ روز وزیراعظم عمران خان سے صدرٹیلی نارگروپ نے ملاقات کی۔ اس دورانوزیراعظم نے کہا ہے کہ حکومت سرمایہ کاری میں شفافیت لانا چاہتی ہے، سرمایہ کاروں کو مکمل سہولیات فراہم کرے گی، ایسا نظام بنانا چاہتے ہیں جو حکومتی ترقیاتی ایجنڈے کی مدد کرے۔ پاکستانی معیشت میں بہت زیادہ ممکنہ صلاحیت کا سرمایہ کاروں کو پورا فائدہ اٹھانا چاہئے۔ وزیراعظم عمران خان سے سیلولر کمپنی ٹیلی نار گروپ کے صدر نے ملاقات کی ، صدرٹیلی نارگروپ نے کہا کہ پاکستان میں 3.5 ارب ڈالرکی سرمایہ کاری کی اورسرمایہ کاری سے 5 ہزار لوگوں کو روزگار ملا۔ وزیراعظم سے عثمان ڈار نے ملاقات کی جس میں وزیراعظم نے انہیں اپنا معاون خصوصی برائے یوتھ افیئرز مقرر کیا جبکہ وزیراعظم کی منظوری کے بعد کابینہ ڈویژن نے عثمان ڈار کی تقرری کا نوٹی فکیشن بھی جاری کردیا گیا۔ وزیراعظم نے آئندہ چند روز میں نیا پاکستان یوتھ پروگرام لانچ کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے جبکہ قومی پالیسی اور یوتھ پروگرام کی تیاری کا ٹاسک عثمان ڈار کو سونپا گیا ہے، مزید برآں وزیراعظم عمران خان سے ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کرنے کیلئے ٹاسک فورس قائم کرنے کی منظوری دیدی۔ ٹاسک فورس معاشی بہتری سے متعلق قومی ترجیحات کا فائدہ لے گی ٹاسک فورس حکمت عملی اور ایکشن پلان ترتیب دے گی۔ ٹاسک فورس ملک کے نامور سائنسدانوں، انجینئرز پرمشتمل ہو گی۔ وزیراعظم نے فیصلہ سابق چیئرمین ایچ ای سی ڈاکٹر عطا الرحمن سے ملاقات میں کیا۔

امریکہ پاکستان کی اہمیت سے واقف ہوگیا، ایس کے نیازی
پاکستان گروپ آف نیوز پیپرز کے چیف ایڈیٹر اور روز نیوز کے چیئرمین ایس کے نیازی نے کہاکہ امریکی صدر کا وزیراعظم پاکستان کو طالبان سے مذاکرات کے حوالے سے خط پاکستان کی بہت بڑی فتح ہے ۔امریکہ یہ جان چکا ہے کہ افغانستان کے مسئلے میں پاکستان کتنی اہمیت کا حامل ہے اسی وجہ سے آج اس نے پاکستان کے سامنے گھٹنے ٹیک دئیے ہیں جو کل تک ہرزہ سرائی کرنے سے بھی باز نہیں آتا تھا۔ روز نیوز کے پروگرام’’سچی بات‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے ایس کے نیازی نے کہاکہ حکومت پاکستان اس وقت صحیح سمت میں چل رہی ہے تاہم ابھی آگے دیکھنا ہے کہ معاملات کیسے بہتر ہونگے، سانحہ ماڈل ٹاؤن کے ملزمان کا تاحال پتہ نہیں چل سکا یہ ایک لمحہ فکریہ ہے اس حوالے سے بھی کام کرنے کی ضرورت ہے۔

وزیراعظم عمران خان سے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی ملاقات

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان سے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے ملاقات کی ہے جس میں اہم سیکیورٹی اور افغان امن عمل سمیت مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

ترجمان وزیراعظم ہاؤس کے مطابق وزیراعظم عمران خان سے آرمی چیف جنرل قمر جاوید کی ملاقات ہوئی ہے، ملاقات میں ملک کی سلامتی اور فوج کے پیشہ ورانہ امور، دہشتگردی کے خلاف جاری آپریشنز، داخلی و سرحدی سیکiورٹی صورتحال پر بات چیت کی گئی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ملاقات میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے افغان امن عمل میں تعاون بڑھانے کے معاملے پر بھی غور کیا گیا۔

قبل ازیں وزیراعظم عمران خان سے امریکی نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد نے بھی ملاقات کی تھی، زلمے خلیل زاد نے ملاقات میں امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیک خواہشات کا پیغام پہنچایا۔ ملاقات میں وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان افغانستان میں امن اورمصالحت کیلئے سیاسی حل کا حامی ہے جب کہ امریکی نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد کا کہنا تھا کہ امریکا افغانستان میں سیاسی حل چاہتا ہے اورافغانستان میں امن کی بحالی کے لئے پاکستان کے ساتھ مل کرچلنا چاہتا ہے۔

میڈیا ریٹنگ کیس: چیئرمین پیمرا کو عدالت نہ آنے پر 25 ہزار روپے جرمانہ

اسلام اباد: سپریم کورٹ نے میڈیا ریٹنگ سے متعلق کیس میں طلب کیے جانے کے باوجود پیش نہ ہونے پر چیئرمین پیمرا پر 25 ہزار روپے کا جرمانہ عائد کردیا۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے میڈیا ریٹنگ سے متعلق کیس کی سماعت کی۔

دوران سماعت جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ ریٹنگ کے لیے عارضی رجسٹریشن تو سب کو دے دی گئی ہے۔

میڈیا لاجک کے چیف ایگزیکٹو افسر (سی ای او) سلمان دانش عدالت میں پیش ہوئے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ میڈیا لاجک کے خلاف توہین عدالت کیس نمٹا دیا گیا، اب آپ کے آنے کی ضرورت نہیں۔

نجی ٹی وی چینل کے وکیل نے کہا کہ پاکستان براڈکاسٹرز ایسوسی ایشن (پی بی اے) اور میڈیا لاجک نے اجارہ داری بنا رکھی ہے، عدالت نے تمام ریٹنگ کمپنیوں کو رجسٹریشن کا کہا تھا، میڈیا لاجک کے پاس پہلےہی 95 فیصد مارکیٹ شئیر ہے جبکہ پیمرا ریٹنگ ویب سائٹ پر بھی شائع نہیں کر رہا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ پیمرا نے 4 کمپنیوں کی ریٹنگ شائع کی باقیوں کی کیوں نہیں کی، کیا یہ امتیازی سلوک نہیں ہے؟

پیمرا کے نمائندے نے جواب دیا کہ کُل 9 ریٹنگ کمپنیاں ہیں، دو کمپنیوں نے فیس جمع نہیں کروائی، چار کمپنیوں نے پیمرا کے پاس اپلائی کیا ہے اور میڈیا لاجک، میڈیا وائر، دن انڈسٹریز اور وی وی او نے رجسٹریشن کروائی ہے جبکہ ریٹنگ کمپنیوں نے مطلوبہ معلومات مہیا نہیں کیں۔

نجی ٹی وی چینل کے وکیل نے کہا کہ ریٹنگ کے حوالے سے دوبارہ اجارہ داری بن رہی ہے، ڈیٹا ویب سائٹ پر شائع نہیں کیا جارہا۔

جسٹس اعجازالاحسن کا کہنا تھا کہ ڈیٹا شائع نہیں کیا جا سکتا، جس کو ضرورت ہے خرید لے، اس میں اجارہ داری کہاں ہے۔

نمائندہ نجی ٹی وی چینل سمیع ابراہیم نے کہا کہ ٹیکنالوجی کے معیارات طے کیے گئے تھے، پیمرا اس حوالے سے کام نہیں کر رہا، جبکہ ڈیٹا میں ٹیمپرنگ چیک کرنے کی ٹیکنالوجی نہیں ہے۔

چیف جسٹس نے چیئرمین پیمرا کی عدالت میں عدم موجودگی پر اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ حکم کے باوجود وہ عدالت میں نہیں آئے۔

چیئرمین پیمرا کو عدالت نہ آنے پر 25 ہزار روپے جرمانہ ڈیم فنڈ میں جمع کرانے کا حکم دیا۔

عدالت نے پیمرا کو حکم دیا کہ تمام ریٹنگ کمپنیوں کے ڈیٹا کی تصدیق کی جائے اور پتہ کرے کہ کیا ڈیٹا میں ٹیمپرنگ تو نہیں ہو رہی۔

چیف جسٹس نے کہا کہ مجھے یقین ہے کہ پیمرا ملا ہوا ہے۔

کیس کی سماعت ایک ہفتے کے لیے ملتوی کر دی گئی۔

یومِ شہادت بابری مسجد۔دلخراش سانحہ

آرایس ایس کے دیوانے‘سرپھرے‘ جنونی متشدد کارسیکوں کی سیاسی تنظیم بی جے پی نے مودی کی قیادت میں آج سے ساڑھے چار برس قبل نئی دہلی کی مرکزی حکومت کا اقتدارجب اپنے ہاتھوں میں لیا تھا تواقتدار کے حصول کے پس منظرمیں دیش میں پہلے سے اقلیتوں پر جاری ظلم وستم اورمذہبی تعصب کی کھلی ہوئی نفرتوں پر مبنی وحشت زدہ انسانیت سوز فلسفہ کی عکاسی ہر کسی کو واضح نظر آرہی تھی یوں لگ رہا تھا کہ بھارت اب سیکولر دیش نہیں رہا دیش کوخالص’ہندوریاست ڈکلیئر‘کرنے کی راہ میں نہ کوئی رکاوٹ باقی ہے نہ ہی مستقبل میں کوئی رکاوٹ برداشت کی جائے گی اکثرپوچھا جاتا ہے کہ بھارت اپنے قیام کے بعد کسی دور میں کبھی ‘سیکولر’ اسٹیٹ رہا؟ گاندھی جی خود اور نہرو سمیت کانگریس کے صف اؤل کے دیگر اہم رہنما اپنے سیاسی اعمال و افعال کے نتیجے میں کبھی’سیکولر’دکھائی دئیے ،نہرو سے اندراگاندھی تک بھارت کے جتنے حکمران رہے کیا وہ ‘سیکولر’تھے؟ خو د مختار ریاست جموں وکشمیر پربھارتی فوجیں اتارنا، ایک آزادوخود مختار پڑوسی ملک پاکستان کے ایک حصہ میں اپنی خفیہ ایجنسی’را’ کے ذریعے اپنے ایجنٹس بھیج کرمشرقی پاکستان( آج کے بنگلہ دیش )میں سیاسی انارکی پھیلانا’سیاسی وانتخابی افراتفری کی آڑ میں انتشار وافتراق کو ہوا دینا لسانی عصبیت اکسانا بھارت کویہ سب زیب دیتا تھا؟ پاکستان کو بھارت نے کبھی دل سے تسلیم کیا نہ ہی بھارت میں رہ جانے والے مسلمانوں کو’بھارتی نژاد مسلمان’ مانا گیا، بھارتی نژاد مسلم اقلیت کو بھارت میں ہمیشہ تعصب اور تنگ نظری سے دیکھا جاتا ہے، اْن کے بنیادی حقوق برابری کی بنیاد پراْنہیں کبھی دئیے ہی نہیں گئے تقسیم ہند کے بعد بھارت نے دنیا کو دھوکہ دینے کی غرض سے اپنے دوغلے چہرے پر ‘سیکولر ازم’ کا نقاب چڑھا یا تھا اور سیکولرازم کی آڑ میں ابتداء میں کانگریس نے خصوصاً مسلمانوں پر خون آشام مظالم ڈھائے دیگر غیر ہندو اقلیتیں جن میں عیسائی’بدھسٹ اورسکھ شامل تھے جنونی انتہا پسند ہندووں نے کسی اقلیت کو نہیں بخشا مذہبی نفرتوں کے ایسے شعلے بھڑکائے اِن بھڑکتے شعلوں میں عیسائیوں کے گرجا گھروں کو خاکستر کیا گیا دیش کے بعض مقامات پر تو غیر دیشی عیسائیوں کو اُن کی عورتوں اور بچوں کو زندہ جلا دیا گیا انسانیت کے احترام کو بھارت میں نجانے اعلیٰ وارفع مقام کیوں نہیں دیا جاتا؟ ذات پات اورچھوت چھات کے برسہا برس کے صدیوں پر قائم نسلی امتیازات اور تعصب کی منافرت کے عذاب سے نجانے بھارت میں انسانیت کے احترام کا انسانیت پرور نظام وہاں کبھی قائم ہوگا یا نہیں؟ فسطائی ہندو جنونیت پرسلگائی ہوئی منافرت کے شعلوں میں بھارتی نژ اد مسلمان گزشتہ71 برس میں محفوظ رہے نہ عیسائی اور نہ ہی اْن کے گرجا گھروں کا احترام کیا گیا، سکھ محفوظ رہے نہ اْن کے مقدس گولڈن ٹمپل میں اْن کا اکال تخت محفوظ رہا ‘وشوا ہندو پریشد’بجرنگ دل اوربھاجپا کے وحشت ناک نعروں نے ہر غیر ہندو اقلیت کو غیر محفوظ کردیا ہے آج بھارتی نژاد مسلمانوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر کے مسلمان ‘بابری مسجد کی شہادت’ پراپنے شدید غم وغصہ کا اظہار کرتے ہوئے نئی دہلی سرکار کو باور کرانا چاہ رہے ہیں کہ وہ اپنے آرایس ایس کے چھٹے ہوئے بے لگام غنڈوں کو لگام دے بھارت میں آباد مسلمانوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر کے مسلمانوں کے لئے آج کا دن’ 6 ؍دسمبر کا دن‘ اس اعتبار سے ناقابلِ فراموش دلخراش دن ہے آج سے26 برس قبل 6 ؍دسمبر1992 کو اترپردیش کے شہرایودھیا میں عہد مغلیہ کی تاریخی ’بابری مسجد‘کو دن دھاڑے شہید کیا گیا تھا جس کے بعد دنیا بھر کے مسلمانوں نے بھرپور احتجاج کیا ،اُس وقت بھارت میں کانگریس کی حکومت تھی نرسہماراؤ وزیراعظم تھے بھارت کی ایک مصدقہ ومعتبر تفتیشی ویب سائٹ ‘کوبراپوسٹ’ نے2014 میں انکشاف کیا تھاکہ ’بابری مسجد‘ کو جنونی ہندوتنظیموں نے منظم سازش کے تحت شہید کیا تھااس خطرناک سازش سے ایل کے ایڈوانی ‘ منوہر جوشی اوراس وقت کے مرکزی وزیراعظم نرسہماراؤ باخبرتھے ’کوبراپوسٹ‘ کے مطابق مسجد کو شہید کرنے والوں کو سابق فوجیوں نے گجرات میں تربیت دی تھی جبکہ نظریاتی تربیت وشواہندوپریشدکی اعلیٰ قیادت نے دی یاد رہے کہ بابری مسجد کی شہادت کو بھارتی نژاد مسلمان اور اہل پاکستان کبھی نہیں بھول سکتے جہاں تک بھارتی ہندوقیادت کا یہ کہنا ہے کہ وہ بابری مسجد کی جگہ رام کا مندر بنائیں گے اُن کا یہ خواب کبھی پورا نہیں ہوسکتا دنیا کواب تو یہ سمجھ آجانی چاہیئے کہ بھارت میں جنونی متشدد حکومت قائم ہے جو’رام راج’ اور’دھرم’کی آڑ میں بھارت میں آباد مسلمان اقلیت کو زیر کرکے متنازعہ مندر کی تعمیر کرنے میں اخلاقی و قانونی تقاضوں کو اپنے جوتوں کی نوک پر رکھتی ہے بھارتی سپریم کورٹ نے بابری مسجد کی شہادت میں شریک ملزمان پر فرد جرم عائد کردی ہے بابری مسجد کی ایکشن کمیٹی نے بارہا اپنا ٹھوس موقف دنیا کے سامنے پیش کیا ہے کہ’ وہ کسی صورت مسلم قوم کی مسجد کا سودا نہیں ہونے دیں گے’بابری مسجد کا تنازعہ1949 میں پہلی مرتبہ اُس وقت پیش آیا جب تقسیم ہند کا زمانہ تھا پورا ملک دنگے فساد کی زد میں تھا ایسے میں چند شرارتی ہندوپنڈتوں نے بابری مسجد میں داخل ہوکر وہاں رام بھگوان کی مورتیاں رکھ کر اُن کی پوجا پاٹ شروع کردی، جس پر لکھنو کے بااثر مسلمانوں نے اس معاملہ پر اپنا اثررسوخ استعمال کیا یوں معاملہ رفع دفع ہوا تاریخ ہند پر گہری اورموثر تحقیق رکھنے والے غیر جانبدار اور غیر متعصب ماہرین کی رائے ہے کہ مسلمان حکمرانوں نے چاہے وہ خاندانِ غوری ہو یا سوری خاندان کے بادشاہ ہوں مغلیہ عہد ہو یا افغانستان کے درانیوں کا عہد ہو ہندوؤں کے کسی مندر کو کسی مسلمان حکمران نے منہدم نہیں کیا اُن کے مذہبی حقوق کا احترام کیا گیا کھلے دلوں کے ساتھ ہندوؤں سے برابری کا برتاؤ روا رکھا گیا تقسیم ہند کے بعد انگریز کے جب واپس چلے گئے تو ہندوؤں کے سازشی منافق لیڈرٹولے نے جن کے دلوں میں مسلمانوں کے خلاف زہریلا بغض وعناد بھرا ہوا تھا وہ کھل کر سامنے آگیا جس کا ادراک علامہ اقبال اور بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح نے بروقت کیا کہ’ہندو اور مسلمان دوعلیحدہ قومیں ہیں ‘ اب وہ جو اپنے آپ کوبڑا ’لبرل‘ اور ’روشن خیال سمجھتے ہیں ذرا وہ دیکھیں تو سہی! آرایس ایس والوں کو کہ ’ پاکستان کی ایماء پر خطہ میں امن کی راہ ہموار کردی گٗی ’’کرتارپورہ کوریڈور ‘‘کا کھلنا اُنہیں کیسے زیب دیتا ہے؟‘۔

وفاقی حکومت کا نان سیلری بجٹ میں 10 فیصد کٹوتی کا فیصلہ

اسلام آباد: وفاقی حکومت نے نان سیلری بجٹ (تنخواہ کے علاوہ اخراجات ) میں 10 فیصد کمی کا فیصلہ کیا ہے۔ 

تحریک انصاف کی وفاقی حکومت نے موجودہ معاشی بحران پر قابو پانے اور حکومتی بجٹ خسارے کو کنٹرول میں رکھنے کی پالیسی کے تحت نان سیلری بجٹ (تنخواہ کے علاوہ اخراجات ) میں 10 فیصد کمی کا فیصلہ کیا ہے۔

حکومت پُرامید ہے کہ اس اقدام سے تقریباً 10 بلین روپے کی بچت ہوگی تاہم حکومت نے یہ فیصلہ لیتے ہوئے معیشت کو درپیش اہم امور کو نظر انداز کردیا ہے۔اس کے علاوہ حکومت نے نئی پوسٹوں پر بھرتیوں پر عائد پابندی بھی برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے تاہم ترقیاتی منصوبوں پر ضرورت کے مطابق بھرتیاں کی جاسکیں گی۔

وزارت خزانہ کے اعلامیے کے مطابق نان سیلری بجٹ میں کٹوتی کا اطلاق رواں سال دسمبر سے جون 2019 تک ہوگا۔

کیا انوشکا شرما اُمید سے ہیں ؟

ممبئی: بالی ووڈ کی اداکارہ انوشکا شرما کرکٹر ویرات کوہلی گزشتہ سال ہی شادی کے بندھن میں بندھے تھے تاہم اب میڈیا میں اداکارہ کی اُمید سے ہونے کی خبریں سامنے آرہی ہیں۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق اداکارہ انوشکا شرما کے اُمید سے ہونے کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ غیر ضروری باتیں ہیں جوکہ کبھی نہیں چھپ سکتی۔ آپ شادی کو راز میں رکھ سکتے ہیں لیکن امید سے ہونے کو کبھی نہیں چھپا سکتے۔

انوشکا شرما نے کہا کہ لوگ بغیر سوچے سمجھے کچھ بھی لکھ دیتے ہیں۔ حتیٰ کہ میڈیا لوگوں کو اُمید سے ہونے سے قبل ہی ماں بنا دیتا ہے جب کہ میں ایسی من گھڑت خبروں پر سنجیدہ ہونے کے بجائے ہنس ہی سکتی ہوں۔ لیکن مجھے اس طرح کی بے معنی خبریں پڑھ کر حیرانی ہوتی ہے کہ ایسی خبریں آتی کہاں سے ہیں۔

واضح رہے کہ اداکارہ انوشکا شرما گزشتہ سال ہی 11 دسمبر کو اٹلی کے خوبصورت مقام پر بھارتی کرکٹر ویرات کوہلی کے ساتھ رشتہ ازدواج میں منسلک ہوئی تھیں اور اب یہ جوڑا اپنی پہلی شادی کی سالگرہ اسٹریلیا میں منائے گا۔

60 برسوں میں آبادی پر قابو پانے کیلیے توجہ نہیں دی گئی، چیف جسٹس

اسلام آباد: چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا ہے کہ گزشتہ 60 برسوں میں بڑھتی ہوئی آبادی کنٹرول کرنے پر کوئی توجہ نہیں دی گئی۔

بڑھتی ہوئی آبادی پر فوری توجہ کے موضوع پر منعقدہ سمپوزیم  سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا کہ وسائل محدود اور ضرورت لامحدود ہیں،  گزشتہ 60 سال میں بڑھتی ہوئی آبادی کنٹرول کرنے پر کوئی توجہ نہیں دی، بڑھتی ہوئی آبادی کی وجہ سے ہمارے وسائل مسلسل دباؤ کا شکار رہے ہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ آبادی ایسے ہی بڑھتی رہی تو 30سال بعد پاکستان کی آبادی45کروڑ ہوگی، بڑھتی ہوئی آبادی کو کنٹرول کرنے کیلیے سپریم کورٹ نے جو حصہ ڈالنا تھا وہ ڈال دیا ہے  اب  ہمیں  آبادی پر قابو پانے کے لیے آگاہی پھیلانی ہے اور اس حوالے سے عملی  کام کرنے کا وقت ہے کیونکہ پاکستان کی بقا کیلیےہم نے آبادی کو کنٹرول کرنا ہے۔

جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ  پانی زندگی ہے ہر سال 7 ارب گیلن پانی زمین سے نکالا جاتا ہے،  4 لیٹر پانی میں ایک لیٹر پانی قابل استعمال ہوتا ہے اور باقی تین چوتھائی حصہ ضائع کردیا جاتا ہے جب کہ گزشتہ 40 سالوں میں کوئی ڈیم نہیں بنایا گیا اس لیے آنے والے دنوں میں پانی کی کمی  کے تباہ کن اثرات ہوں گے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ وزیراعظم اور پارلیمنٹ کی معاونت بہت ضرورت ہے اب وقت آگیا ہے کہ پارلیمنٹ کی کارروائی کا بائیکاٹ کرنا چھوڑ دیا جائے، آج ملک میں بچہ ایک لاکھ سے زائد کا مقروض پیدا ہوتا ہے، ہم  آنے والی نسلوں کو کچھ دے کر جانا  چاہتے ہیں جب کہ وزیراعظم  مدینہ کی ریاست قائم کرنے کی بات کرتے ہیں اس خواب اور تصور میں عدلیہ شانہ بشانہ ہےاور نیک نیتی سے وزیراعظم کے اس خواب کی تعبیر کو پانے کی کوشش کریں گے،عدلیہ کو وہ ٹولز دیے جائیں کہ وہ آج کے تقاضوں کو پورا کرسکے،عدلیہ اب اس بوجھ کو اٹھانے کی متحمل نہیں ہوسکتی کہ برسہابرس کیس چلتا  رہے۔

Google Analytics Alternative