Home » 2019

Yearly Archives: 2019

ہالی ووڈ اینی میٹڈ فلم ’فروزن ٹو‘ کا رنگا رنگ پریمیئر

لندن: ہالی ووڈ اینی میٹڈ فلم ’فروزن ٹو‘ کا رنگا رنگ پریمیئر شو لندن میں منعقد ہوا جہاں فلمی ستاروں سے محفل جگمگا اُٹھی۔

مشہور فلم ’فروزن‘ کی کامیابی کے بعد فلم کا پارٹ ٹو بھی ریلیز کے لیے پیش کردیا گیا۔

Frozen 2 Premier 3

فلم کی کامیابی کے حوالے سے رنگا رنگ پریمیئر شو منعقد ہوا جہاں فلم کی کاسٹ نے ریڈ کارپٹ پر جلوے بکھیرے۔ مداح اپنے پسندیدہ ستاروں کو دیکھ کر بے حد خوش ہوئے۔

Frozen 2 Premier 6

Frozen 2 Premier 7

Frozen 2 Premier 4

فلم کی کہانی چار ایلسا،  اینا، اُولف اور کرسٹوف پر مشتمل ہے جوکہ اپنی سلطنت کے قدیم راز جاننے کے لیے ایک ایڈونچر پر نکل پڑتے ہیں۔

Frozen 2 Premier 5

Frozen 2 Premier 2

واضح رہے کہ  سال 2013ء میں ریلیز ہونے والی مشہور اینی میٹڈ فلم فروزن کا سیکوئل فروزن ٹو پاکستان سمیت مختلف ممالک میں 22 نومبر کو ریلیز کیا جائے گا۔

 

اپنی شہرت اور نام استعمال کرکے دین کی خدمت کرنا چاہتا ہوں، حمزہ علی عباسی

اداکار حمزہ علی عباسی  کا کہنا ہے کہ وہ اپنی شہرت، مقبولیت اور نام کو استعمال کرکے دین کی خدمت کرنا چاہتے ہیں۔

حال ہی میں حمزہ علی عباسی نے وائس امریکا کو انٹرویو دیتے ہوئے اداکاری چھوڑنے اور دین کی راہ اپنانے سے متعلق کھل کر گفتگو کی اور اپنے مستقبل کے منصوبوں سے بھی آگاہ کیا۔ میزبان نے حمزہ علی عباسی سے پوچھا کہ سوشل میڈیا پر جہاں ان کے اس فیصلے کو سراہا جارہا ہے وہیں کچھ لوگ تنقید کرتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ آپ نے یہ سب  سستی شہرت کے لیے کیا ہے۔

میزبان کے اس سوال پر حمزہ علی عباسی نے ہنستے ہوئے جواب دیا کہ اگر مجھے پبلسٹی چاہیے ہوتی تو میرے خیال میں سب سے اچھا میڈیم تو ایکٹنگ ہی تھا اوراگر میں نے یہ سب صرف پبلسٹی کے لیے کیا تو میں بہت بڑا بیوقوف ہوں۔ بعد ازاں حمزہ علی عباسی نے کہا کہ اداکاری کے دوران انہیں اللہ تعالیٰ نے بہت شہرت سے نوازا اور ان کے تمام پراجیکٹ سپرہٹ ثابت ہوئے لہٰذا شہرت تو ان کے پاس پہلے سے موجود تھی۔

حمزہ علی عباسی نے کہا جو لوگ میرے بارے میں ایسا سوچتے ہیں میں انہیں الزام نہیں دوں گا بلکہ میں امید کرتا ہوں کہ وقت کے ساتھ انہیں احساس ہو کہ میں نے یہ راستہ پبلسٹی کے لیے اختیار نہیں کیا۔ دین کی راہ اپنانے کا مقصد یہ تھا کہ مجھے احساس ہوگیا ہے کہ موت کے بعد ہر انسان کی جواب دہی ہونی ہے جس کے بعد ہمیشہ کے لیے قائم رہنے والی دنیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں پچھلے ڈھائی سال سے صحیح طرح سو نہیں پایا یہ سوچ کرکہ میری آخرت میں جواب دہی ہونی ہے۔

میزبان کی جانب سے پوچھے جانے والے سوال کہ آپ نے دین کی خدمت کے لئے تبلیغ کا راستہ ہی کیوں اپنایا جس پر حمزہ نے کہا انسانیت کی خدمت کرنا ہر انسان پر فرض ہے اور اسلام کا اولین کا تقاضہ یہ ہے کہ مخلوق کی خدمت کی جائے اور میں نے ہمیشہ انسانیت کی خدمت کی ہے اور آگے بھی کروں گا۔ اور جہاں جہاں میں اپنے نام، اپنی شہرت کو استعمال کرسکتا ہوں دین کی خدمت کے لیے استعمال کروں گا۔

حمزہ علی عباسی نے کہا کہ لوگ ہمیشہ باہر تبلیغ کرنے جاتے ہیں اور کہتے ہیں اسلام پھیلانا ہے لیکن مجھے احساس ہوا کہ ہمارے گھر میں ہمارے اندر کچھ مسائل ہیں جن پر بات کرنے کو بھی بڑا خطرناک سمجھاجاتاہے۔ ہمارے ملک میں لوگ اسلام سے اور حضرت محمد ﷺ سے بے حد محبت کرتے ہیں اور دین کے لیے جان دینے کے لیے ہر وقت تیار رہتے ہیں۔ لیکن بدقسمتی سے ہمارے ملک میں کچھ ایسے عناصر بھی موجود ہیں جو لوگوں کے ان جذبات کو غلط راستے پر ڈال کر استعمال کرتے ہیں۔ لہٰذا ہمارے ملک میں ایسے لوگوں کی ضرورت ہے جو لوگوں کو دین کے بارے میں صحیح راہ دکھائیں۔

حمزہ علی عباسی نے کہا بہت سے لوگ میرے نظریات کی وجہ سے کہتے ہیں کہ آپ کی زندگی زیادہ لمبی نہیں ہوگی جس پر میں کہتا ہوں کہ اس سے بڑی تو سعادت ہی کو ئی نہیں ہوگی کہ میں اللہ کی باتیں کرتے کرتے دنیا سے چلاجاؤں اسے تو شہادت کہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ میں نے یہ راستہ اس لیے چنا کہ ہمارے ملک میں لوگ عقل کے بجائے جذبات سے سوچتے ہیں لہذا میں وہ عزت جو اللہ نے مجھے دی ہے اسے استعمال کرکے لوگوں میں شعور پھیلاؤں گا۔ انسانیت کی خدمت اورلوگوں کے مذہب کے حوالے سے پوچھے جانے والے سوالوں کے جواب دینے کے لیے میں نے یہ راستہ اختیار کیا اور شاید اسی کی وجہ سے مجھے آخرت میں تھوڑا اطمینان حاصل ہوگا۔

ماضی میں ’’می ٹو‘‘ پر کی گئی ٹویٹ پر حمزہ علی عباسی نے کہا کہ ہمارے دین میں مَردوں کو نگاہیں نیچی رکھنے کا حکم ہے خواتین نے چاہے کیسا بھی لباس پہنا ہو مَردوں کو چاہیے کہ وہ اپنی نگاہوں میں شرم پیدا کریں اور اپنی نگاہیں نیچی رکھیں۔

انٹرویو کے آخر میں حمزہ علی عباسی نے کہا دین ایک پیغام کا نام ہے کہ یہ موت زندگی کے اختتام کا نام نہیں ہے۔ بلکہ ابدی زندگی اس کے بعد شروع ہوتی ہے اور میرا کردار صرف اتنا ہے کہ میں جتنا اس چیز کو پھیلاسکوں پھیلاؤں۔ دوسری بات ہماری نوجوان نسل جو لادینیت کی طرف جارہی ہے ان کے سوالات کے جوابات دینے کی کوشش کرسکوں اور تیسری بات یہ کہ میرے نزدیک ہمارے معاشرے میں مذہب کے حوالے سے جو غلط تصورات آگئے ہیں ان کے بارے میں بات کرسکوں۔

حمزہ علی عباسی نے کہا  فلم ڈراما، پینٹنگ یہ حرام نہیں،حرام بدکاری ہے، ماضی میں میں نے فلم ’’جوانی پھر نہیں آنی‘‘ میں کام کیا جس میں یہ چیز شامل تھی اور جس کے لیے میں معافی مانگ چکاہوں۔ میں نے اداکاری اس لیے نہیں چھوڑی کہ یہ حرام  ہے بلکہ اس لیے چھوڑی ہے کہ لوگ مجھے بطور مذہبی ایکٹیوٹسٹ سنجیدگی سے لیں۔ حمزہ علی عباسی نے مزید کہا کہ وہ مستقبل میں ڈراما اور فلم کی ہدایت کاری دیں گے اور اس میڈیم کے ذریعے اسلام کی جتنی خدمت کرسکتے ہیں کریں گے۔

’اسٹیج پر شائقین کے سامنے یوٹیوب کامیڈین نے نامناسب حرکتیں کیں‘

پاکستان میں ٹرانس جینڈر افراد کے حقوق کے لیے سرگرم سماجی کارکن اور مخنث اسٹینڈ اپ کامیڈین، لکھاری و ریسرچر انایا شیخ نے دعویٰ کیا ہے کہ انہیں اسٹیج پر پرفارمنس کے دوران ساتھی یوٹیوب کامیڈین نے جنسی طور پر ہراساں کیا۔

انایا شخ نے ڈان امیجز سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ انہیں 17 نومبر کو لاہور میں منعقد کیے جانے والے ایک کامیڈی شو کے دوران ساتھی اسٹارز نے نہ صرف ہراساں کیا بلکہ ان کے حوالے سے جنسی طور پر نامناسب فقرے بھی کہے گئے۔

۔
۔

انایا شیخ نے بتایا کہ یوٹیوب چینل ’لاہوری پرانک اسٹار‘ کی انتظامیہ کی جانب سے منعقد کیے گئے کامیڈی شو کے دوران انہیں منتظمین میں شامل یوٹیوب کامیڈین شارق شاہ اور عثمان نے تضحیک کا نشانہ بنایا۔

انایا شیخ نے الزام عائد کیا کہ جب وہ پرفارمنس کے لیے اسٹیج پر پہنچیں تو شارق شاہ نے ان کا لباس دیکھتے ہی انہیں صنفی تنقید کا نشانہ بنایا اور ان کی جنس پر نامناسب لطیفے کسے۔

ان کے مطابق انہوں نے جو ٹی شرٹ پہن رکھی تھی اس پر ’فیمنزم‘ کے حوالے سے ایک جملہ دیکھ کر شارق شاہ نے انہیں ’کُھسرا اور شی میل‘ بلانا شروع کیا۔

انایا شیخ نے دعویٰ کیا کہ شارق شاہ اور عثمان نے انہیں اسٹیج پر سب کے سامنے تضحیک کا نشانہ بنایا جب کہ پرفارمنس کے دوران ایک موقع پر شارق شاہ ان کے بہت قریب بھی آئے۔

انایا شیخ نے پرفارمنس کے وقت پہنے گئے لباس کے ساتھ تصویر بھی ڈان کے ساتھ شیئر کی—فوٹو: انایا شیخ
انایا شیخ نے پرفارمنس کے وقت پہنے گئے لباس کے ساتھ تصویر بھی ڈان کے ساتھ شیئر کی—فوٹو: انایا شیخ

مخنث کامیڈین نے دعویٰ کیا کہ جب انہوں نے اسٹیج سے جانا چاہا تو دونوں کامیڈین نے انہیں انگلیوں سے نامناسب اشارے بھی کیے جس وجہ سے انہیں ذہنی اذیت پہنچی اور ان کا حوصلہ پست ہوا۔

انایا شیخ کے مطابق اگرچہ شائقین نے ان کی پرفارمنس کو سراہا تاہم ساتھ کامیڈین نے انہیں ہراساں کرنے سمیت تضحیک کا نشانہ بنایا اور ان کے پاس اس سارے معاملے کی ویڈیوز بھی موجود ہیں، تاہم وہ انہیں سامنے لاکر خود کو لوگوں کی نظروں میں مزید گرانا نہیں چاہتیں۔

ان کا کہنا تھا کہ سماج میں اب بھی شارق شاہ اور عثمان جیسی ذہنیت کے لوگ موجود ہیں جو انسانوں کو ان کی جنس کی بنیاد پر تضحیک کا نشانہ بناتے ہیں۔

واقعے کے بعد اگرچہ شو منعقد کرنے والے منتظمین نے آفیشل انسٹاگرام پر انایا شیخ سے ہونے والے واقعے کی مذمت کی اور کہا کہ منتظمین کسی کو بھی کسی دوسرے شخص کو جنس کی بنیاد پر تضحیک کا نشانہ بنانے کی اجازت نہیں دیتے۔

منتظمین نے انایا شیخ کے ساتھ پیش آنے والے واقعے کی مذمت کی اور افسوس کا اظہار بھی کیا، تاہم مخنث ماڈل کے مطابق منتظمین میں سے کچھ افراد کو اس بات کا علم اسی وقت ہی تھا، تاہم انہوں نے اس وقت کچھ نہیں کیا۔

ماڈل سمارا چوہدری ’سائبر کرائم‘ کا نشانہ بن گئیں، ذاتی ویڈیوز لیک

گلوکارہ و اداکارہ رابی پیرزادہ کے بعد ایک اور پاکستانی ماڈل بھی عالمی ہیکرز کا نشانہ بن گئیں، ہیکرز نے ابھرتی ہوئی ماڈل سمارا چوہدری کی متعدد ذاتی ویڈیوز کو لیک کردیا۔

سمارا چوہدری کی ویڈیوز ایک ایسے وقت میں لیک ہوئی ہیں جب کہ تین ہفتے قبل ہی اداکارہ و گلوکارہ رابی پیرزادہ کی ذاتی ویڈیوز لیک کی گئی تھیں۔

اگرچہ ابھی تک یہ واضح نہیں ہوسکا کہ رابی پیرزادہ کی ویڈیوز کس نے لیک کی تھیں، تاہم اداکارہ نے خود عندیہ دیا تھا کہ ممکنہ طور پر ان کی ویڈیوز کو فروخت کیے گئے موبائل سے ری کور کرکے لیک کیا گیا ہوگا۔

رابی پیرزادہ نے ویڈیوز لیک ہونے کے بعد شوبز کو چھوڑ کر اسلامی تعلیمات کے مطابق زندگی گزارنے کا اعلان کیا تھا جب کہ وفاقی تحقیقاتی ادارے ’ایف آئی اے‘ نے ان کی ویڈیوز کو عام کرنے والے 2 افراد سے پوچھ گچھ کے بعد انہیں کڑی نگرانی میں بھی رکھا تھا۔

سمارا چوہدری مختصر اشتہارات کرتی آئی ہیں—فوٹو: ٹوئٹر
سمارا چوہدری مختصر اشتہارات کرتی آئی ہیں—فوٹو: ٹوئٹر

لیکن اب ان کے بعد ابھرتی ہوئی ماڈل سمارا چوہدری کو بھی ہیکرز نے نشانہ بنایا ہے اور ان کی متعدد ذاتی ویڈیوز کو لیک کردیا گیا ہے۔

سمارا چوہدری کی لیک ہونے والی نامناسب ویڈیوز کے حوالے سے یہ واضح نہیں ہوسکا کہ وہ کیسے لیک ہوئیں۔

تاہم گلف نیوز نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ ممکنہ طور پر سمارا چوہدری کی ویڈیوز ہیکرز کے ایک عالمی گروپ نے لیک کی ہوں گی۔

رپورٹ میں ایک عالمی نیوز ویب سائٹ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ہیکرز کا عالمی گروہ پنجاب کے شہر لاہور میں متحرک ہو چکا ہے اور وہ متعدد شوبز شخصیات کی نامناسب اور ذاتی ویڈیوز لیک کرنے کا منصوبہ بن چکا ہے۔

رپورٹ کے مطابق رابی پیرزادہ کے بعد سمارا چوہدری بھی ان ہی ہیکرز کا نشانہ بنی ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ ہیکرز کا مذکورہ گروہ پاکستانی اداکاراؤں و ماڈلز کے ذاتی ویڈیوز کو ہیک کرکے مبینہ طور پر فحش مواد چلانے والی ویب سائٹ کو بھی فروخت کر رہا ہے۔

سمارا چوہدری کی ویڈیوز لیک ہونے کے بعد تاحال ماڈل نے کوئی بیان نہیں دیا اور نہ ہی ان کی ویڈیوز کو پھیلانے والے افراد کے خلاف کارروائی کے حوالے سے پولیس یا وفاقی تحقیقاتی ادارے کا کوئی بیان سامنے آ سکا ہے۔

لیک ہونے والی سمارا چوہدری کی مذکورہ ذاتی ویڈیوز کے حوالےسے خیال کیا جا رہا ہے کہ انہیں گزشتہ برس لاہور کے کسی ہوٹل میں ریکارڈ کیا گیا تھا۔

سمارا چوہدری ابھرتی ہوئی ماڈلز ہیں اور وہ کیٹ واک سمیت چند اشتہارات میں مختصر طور پر دکھائی دی ہیں۔

ویڈیوز کے حوالے سے تفتیشی اداروں نے بھی کوئی بیان نہیں دیا—فوٹو: ٹوئٹر
ویڈیوز کے حوالے سے تفتیشی اداروں نے بھی کوئی بیان نہیں دیا—فوٹو: ٹوئٹر

سابق وزیراعظم نواز شریف لندن پہنچ گئے

لاہور: سابق وزیراعظم نواز شریف علاج کے لیے لندن پہنچ گئے شہباز شریف اور ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان بھی ان کے ہمراہ ہیں۔

سابق وزیر اعظم نواز شریف لاہور ہائی کورٹ کے اجازت کے بعد اپنے علاج کی غرض سے چار ہفتوں کے لیے لندن پہنچ گئے، ان کی ایئر ایمبولینس نے لندن کے ہیتھرو ایئرپورٹ پر لینڈ کیا۔ نواز شریف کے ساتھ ان کے بھائی شہباز شریف اور ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان بھی موجود ہیں۔

قبل ازیں سابق وزیراعظم کو گاڑی کے ذریعے جاتی امرا سے لاہور ایئر پورٹ کے حج ٹرمینل پہنچایا گیا، ایئر پورٹ پر کارکنان کی بڑی تعداد حج ٹرمینل کے باہر موجود تھی جنہوں نے نواز شریف کے حق میں نعرے بازی کی، نواز شریف کی گاڑی کے ساتھ کچھ کارکنان نے بھی حج ٹرمینل میں داخل ہونے کی کوشش کی جنہیں باہر نکال دیا گیا۔

جاتی امرا سے ایئرپورٹ روانگی کے وقت شہباز شریف اور ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان سابق وزیراعظم کے ہمراہ تھے جب کہ (ن) لیگی رہنما احسن اقبال، خواجہ آصف اور مریم اورنگزیب سمیت دیگر رہنماؤں نے ایئر پورٹ پر نواز شریف سے ملاقات کی اور نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

ایئرپورٹ پہنچنے کے بعد نواز شریف کے امیگریشن کا عمل مکمل کیا گیا جب کہ حج ٹرمینل میں ایئر ایمبولینس کے ڈاکٹر اور دیگر اسٹاف نے سابق وزیراعظم کا طبی معائنہ بھی کیا جس کے بعد نواز شریف کو ایمبولفٹ کے ذریعے طیارے میں منتقل کیا گیا اور کچھ دیر بعد ایئر ایمبولینس سابق وزیراعظم نواز شریف کو لے کر لندن کے لیے روانہ ہوگئی۔

سابق وزیراعظم کے ہمراہ 5 دیگر افراد بھی لندن روانہ ہوئے جن میں بھائی شہباز شریف اور ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان سمیت دیگر 2 ملازمین شامل ہیں۔

ایئر ایمبولینس براہ راست لندن تک پرواز کرسکتی ہے تاہم سابق وزیراعظم نواز شریف کو ایئر ایمبولینس پہلے دوحہ لے کر پہنچی جہاں کچھ دیر قیام کے بعد لندن کے لیے روانہ ہوگئی۔ ایئر ایمبولینس قطر کی ہے جسے شریف فیملی نے کرائے پر حاصل کیا ہے، ایئر ایمبولینس میں اسٹریچر کے علاوہ ڈاکٹرز اور پیرامیڈکس اسٹاف بھی موجود ہے۔

روانگی سے قبل طبی معائنہ؛

بیرون ملک روانگی سے قبل ڈاکٹرز نے سابق وزیراعظم نواز شریف کا تفصیلی معائنہ کیا اور پلیٹ لیٹس کو مستحکم کرنے کے لیے ادویات بھی دی گئیں جب کہ میڈیکل ٹیم نے نواز شریف کو سفر کے قابل قرار دیا۔

ترجمان مسلم لیگ (ن) مریم اورنگزیب کا کہنا ہے کہ نواز شریف کو دوران سفر خطرات سے بچانے کے لیے اسٹیرائیڈ کی ہائی ڈوز اور ادویات دی گئی ہیں، لندن تک محفوظ سفر کو یقینی بنانے کے لیے ڈاکٹرز نے تمام طبی احتیاطی تدابیر اختیار کی ہیں جب کہ ائیر ایمبولینس میں آئی سی یو اور آپریشن تھیٹر کی سہولت بھی موجود ہے۔

وزارت داخلہ نے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں نواز شریف کو بیرون ملک جانے کی اجازت دی تھی تاہم ان کا نام بدستور ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں شامل رہے گا۔ نواز شریف کو صرف ایک بار ملک سے باہر جانے کی اجازت دی گئی ہے۔

حکومتی شرائط معطل؛

لاہور ہائیکورٹ نے حکومتی شرائط معطل کرتے ہوئے نواز شریف کو 4 ہفتوں کے لیے بیرون ملک جانے کی اجازت دی ہے اور صحت بہتر نہ ہونے پر اس مدت میں توسیع بھی ممکن ہے۔

طبی بنیاد پر درخواستِ ضمانت منظور؛

اسلام آباد ہائی کورٹ نے نواز شریف کی طبی بنیادوں پر درخواستِ ضمانت منظور کرتے ہوئے ان کی سزا 8 ہفتوں کے لیے معطل کی تھی۔  حکومت نے نواز شریف کو 4 ہفتوں کے لیے ایک بار بیرون ملک جانے کی مشروط اجازت دی تھی جس کے لیے 80 لاکھ پاؤنڈ، 2 کروڑ 50 لاکھ امریکی ڈالر، 1.5 ارب روپے جمع کرانے کی شرط رکھی گئی تھی تاہم لاہور ہائی کورٹ نے حکومتی شرائط معطل کردیں۔

کیسز کا پس منظر؛

واضح رہے کہ احتساب عدات کی جانب سے سابق وزیراعظم نواز شریف کو العزیزیہ اور ایون فیلڈ ریفرنس میں قید بامشقت سمیت جرمانے کی سزا سنائی گئی تھی، جس کے بعد وہ پہلے اڈیالہ اور پھر کوٹ لکھپت جیل لاہور میں قید تھے۔

ایون فیلڈ ریفرنس؛

احتساب عدالت نے گزشتہ سال 6 جولائی کو ایون فیلڈ ریفرنس میں نواز شریف کو 10 سال قید بامشقت اور 80 لاکھ برطانوی پاؤنڈ جرمانہ، صاحبزادی مریم نواز کو 7 سال قید اور 20 لاکھ پاؤنڈ جرمانہ جب کہ داماد کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کو ایک سال قید کی سزا سنائی تھی۔

وطن واپسی؛

احتساب عدالت کی جانب سے ایون فیلڈ ریفرنس میں سزا سنائے جانے کے بعد سابق وزیراعظم نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز 13 جولائی کو نجی ایئرلائن کی پرواز ای وائے 423 کے ذریعے وطن واپس پہنچے اور جیسے ہی ان کا طیارہ لاہور ایئرپورٹ پر لینڈ ہوا، وہاں موجود نیب ٹیم نے دونوں کو گرفتار کرلیا جس کے بعد نواز شریف کو اڈیالہ جیل اور ان کی صاحبزادی مریم نواز کو سہالہ ریسٹ ہاؤس بھیج دیا گیا۔

العزیزیہ ریفرنس میں سزا؛

گزشتہ سال 24 دسمبر کو احتساب عدالت  کے جج ارشد ملک نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کے خلاف العزیزیہ اسٹیل ملز اور فلیگ شپ ریفرنسز  کا محفوظ کیا گیا مختصر فیصلہ سنایا جس میں عدالت نے نوازشریف کو فلیگ شپ انویسٹمنٹ ریفرنس میں بری کرتے ہوئے العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس میں 7 سال قید جب کہ ڈیڑھ ارب روپے اور 25 ملین ڈالر جرمانے کی سزا کا حکم سنایا تھا۔

حکومت کا نواز شریف کی بیرون ملک روانگی کیخلاف اپیل نہ کرنے کا فیصلہ

اسلام آباد: وفاقی کابینہ نے نواز شریف کو لندن جانے کی اجازت دینے کے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں 8 نکات کی منظوری دی گئی۔ کابینہ نے لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرنے پر بھی غور کیا۔

فواد چوہدری اور فیصل واوڈا نے لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ چیلنج کرنے کا مشورہ دیا لیکن کابینہ ارکان کی اکثریت نے اپیل دائر کرنے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ عدالتوں کے فیصلوں کا احترام کرنا چاہیئے۔

بعض کابینہ ارکان نے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے پر سپریم کورٹ کی رہنمائی لینا ضروری ہے کیونکہ ای سی ایل قانون میں واضح ہے کہ سزا یافتہ شخص بیرون ملک نہیں جا سکتا۔ بعض وزرا نے کہا کہ نواز شریف کو طبی بنیادوں پر صرف ایک بار بیرون ملک علاج کی اجازت دی گئی ہے اور حکومت کو چاہیے کہ لاہور ہائیکورٹ کے تفصیلی فیصلے کا انتظار کرے۔

کابینہ نے نیشنل ٹیرف پالیسی اور قابل تجدید توانائی پالیسی کی منظوری دی جبکہ ای سی سی اور کابینہ کمیٹی برائے سی پی کے فیصلوں کی توثیق کی۔ اجلاس میں وزارتوں، ڈویژن میں چیف ایگزیکٹو اور ایم ڈیز کی خالی آسامیوں کی رپورٹ بھی پیش کی گئی۔

کابینہ کے اجلاس میں اسد عمر نے بھی شرکت کی۔ انہوں نے وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی کا حلف اٹھالیا ہے۔ حلف برداری کی تقریب ایوان صدر میں ہوئی اور صدر مملکت عارف علوی نے اسد عمر سے حلف لیا۔

آرمی چیف کی ایرانی سیاسی و عسکری قیادت سے ملاقاتیں، خطے کی سیکیورٹی پر بات چیت

راولپنڈی / تہران: آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے ایرانی صدر حسن روحانی، ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکریٹری ایڈمرل علی شمخانی اور ایران کے آرمی چیف میجر جنرل عبد الرحیم موسوی سے ملاقات کی جس میں خطے کی سیکیورٹی سمیت دیگر معاملات پر بات چیت ہوئی۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے ایرانی صدر حسن روحانی سے ملاقات کی، ملاقات میں پاک ایران سرحدی امور، سیکیورٹی صورتحال اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

آئی ایس پی آر کے مطابق ایرانی صدر نے خطے میں امن و استحکام کے لیے پاکستان کے کردار کی تعریف کی اور دہشت گردی کے خلاف پاک فوج کی کامیابیوں کو سراہا۔

قبل ازیں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکریٹری ایڈمرل علی شمخانی اور ایران کے آرمی چیف میجر جنرل عبد الرحیم موسوی سے ملاقات کی، جس میں خطے کی سیکیورٹی صورتحال اور دفاعی تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا

وزیراعظم سے ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کی ملاقات

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان سے ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید نے ملاقات کی۔

وزیراعظم آفس سے جاری ہونے والے اعلامیے کے مطابق وزیراعظم عمران خان سے ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید نے ملاقات کی جس میں قومی سلامتی سے متعلق امور پر بات چیت کی گئی۔

Google Analytics Alternative