Home » 2019 » January

Monthly Archives: January 2019

بیوروکریسی کو سیاسی دباؤ کے سامنے سر نہیں جھکانا چاہیے، چیئرمین نیب

اسلام آباد: چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال کا کہنا ہے کہ بیوروکریسی کو سیاسی دباؤ کے سامنے سر نہیں جھکانا چاہیے۔

وفاقی سیکرٹریز سے کابینہ ڈویژن میں خطاب کرتے ہوئے چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال کا کہنا تھا کہ بیوروکریسی ملک کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے اور ملکی ترقی میں اہم کردار ہے جب کہ بیوروکریسی کے مسائل سے آگاہ ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ اعلیٰ عدلیہ سمیت ملک کے مختلف اداروں میں اہم ذمہ داریاں سر انجام ی ہیں، نیب 1999 میں قائم کیاگیا، چیئرمین نیب کی حیثیت سے گزشتہ 13ماہ سے کام کررہا ہوں اور اس عرصہ کے دوران نیب کو آزاد ادارہ بنانے کیلئے بھرپور کوشش کی جا رہی ہیں۔

ملکی ادارے مضبوط ہوں گے تو ملک مضبوط ہوگ

چیئرمین نیب کا کہنا تھا کہ تمام شعبوں میں جامع اصلاحات کے ذریعے نیب کو فعال ادارہ بنایا گیا ہے، ملکی ادارے مضبوط ہوں گے تو ملک مضبوط ہوگا، پروپیگنڈہ کیا گیا کہ نیب کی وجہ سے بیوروکریسی نے کام کرنا چھوڑ دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیب کے ہزاروں مقدمات کا جائزہ لیا تو بیوروکریسی کے خلاف سامنے آنے والے مقدمات نہ ہونے کے برابر تھے، یہ مذموم پروپیگنڈہ تھا جس کا مقصد نیب پر الزام تراشی اور بیوروکریسی کی حوصلہ شکنی کرنا تھا۔

نیب بدعنوانی کے خاتمہ کیلئے کام کرنے والا معتبر ادارہ ہے 

چیئرمین نیب کا کہنا تھا کہ نیب ملک کا بدعنوانی کے خاتمہ کیلئے قانون کے مطابق کام کرنے والا معتبر ادارہ ہے، نیب ہر شخص کی عزت نفس کا احترام کرنے کے علاوہ ان کے جائز خدشات کو قانون اور آئین کے مطابق حل کرنے پر یقین رکھتاہے۔

ہم سب کوملک نے جو کچھ دیا ہے وہ ہم پر قرض ہے 

چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال کا کہنا تھا کہ کرپشن کا خاتمہ نہ صرف نیب بلکہ ہم سب کی اجتماعی ذمہ دار ی ہے، ہم سب کوملک نے جو کچھ دیا ہے وہ ہم پر قرض ہے اور ہمیں یہ قرض اتارنا ہے، 28سال قبل جن کے پاس سواری نہیں تھی وہ آج دبئی اور دیگر ممالک میں جائیدادوں اور ٹاورز کے مالک ہیں، ان سے یہ پوچھنا کہ یہ سب کہاں سے آیا تو یہ جرم ہے۔

بیوروکریسی کو کوئی بھی غلط قدم اٹھانے سے پہلے 10 بار سوچنا چاہیے 

چیئرمین نیب کا کہنا تھا کہ 95 ارب ڈالر کا قرضہ کہاں خرچ کیا گیا کیا یہ پوچھناکیا جرم ہے، نیب اور بیورو کریسی کا تعلق کسی گروپ، گروہ، طبقہ، حکومت اور کسی سیاسی جماعت سے نہیں، ہمارا تعلق پاکستان کے ساتھ ہے، بیوروکریسی کو کوئی بھی غلط قدم اٹھانے سے پہلے 10 بار سوچنا چاہیے ہمیشہ ملک کے مفاد میں فیصلے کریں، حکومتیں بدلتی رہتی ہیں لیکن ریاست پاکستان ہمیشہ قائم و دائم رہے گی۔

بیوروکریسی کو سیاسی دباؤ کے سامنے سر نہیں جھکانا چاہیے

چیئرمین نیب کا کہنا تھا کہ حکومت پالیسی سازی کرتی ہے لیکن اس پر عملدرآمد کرنا بیوروکریسی کا کام ہے، بیوروکریسی کو سیاسی دباؤ کے سامنے سر نہیں جھکانا چاہیے، سزا کے خوف کے بجائے اللہ پر یقین رکھیں گے تو مشکلات حل ہوجائیں گے کیونکہ فتح ہمیشہ حق کی ہوتی ہے۔

سپریم کورٹ کی جانب سے بھی بیوروکریسی کے قانونی اقدامات کا تحفظ کیا جا رہا ہے

چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کی جانب سے بھی بیوروکریسی کے قانونی اقدامات کا تحفظ کیا جا رہا ہے، سرکاری ملازم کے خلاف معمولی فیصلہ کو بھی واپس لیا جاتاہے، اس وقت ملک میں آئین و قانون کی حکمرانی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم کیوں دباؤ کے سامنے سرنگوں ہوں، نیب پر زیادہ دباؤ آتا ہے لیکن ہم اس کا سامنا کرتے ہیں، بیوروکریسی قانون قواعد وضوابط اور آئین کے مطابق کام کرے، اگربیوروکریسی قانون کے مطابق کام کرے گی تو نیب آپ کو کیوں بلائے گا۔

نیب کے تفتیشی نظام میں بتدریج بہتری آرہی ہے 

چیئرمین نیب کا کہنا تھا کہ یہاں کیسے کیسے چھکے لگ رہے ہیں، ہمیں ملک اور عوام کے مفاد میں کام کرنا ہوگا، وزارتوں اور ڈویژنوں میں ادارہ جاتی نظام اتنا اچھاہو کہ معاملہ نیب تک نہ پہنچے۔ ان کا کہنا تھا کہ نیب کے تفتیشی نظام میں بتدریج بہتری آرہی ہے، فیصلہ کیا ہے کہ آج کے بعد نیب میں کسی سیکرٹری اور ایڈیشنل سیکرٹری کے خلاف شکایت کا میں ذاتی طورجائزہ لوں گا۔

ماتحت عدالتوں پر افسوس ہوتا ہے، چیف جسٹس

اسلام آباد: چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیے ہیں کہ ماتحت عدالتوں پر افسوس ہوتا ہے، اگر وہ معاملات صحیح طریقے سے دیکھیں تو سپریم کورٹ تک نہ آئیں۔

چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے سوتیلے باپ کے ہاتھوں بیٹے کے قتل کے کیس کی سماعت کی۔ پولیس نے بتایا کہ 2010 میں والدہ پر مبینہ طور پر تشدد کرنے پر محمد ریاض نے سوتیلے بیٹے فیصل اعجاز کو قتل کیا تھا۔

عدالت نے شواہد کا جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ واقعہ اسلام ٹاوٴن کوٹ اسحاق گوجرانولہ میں پیش آیا، فیصل اعجاز والدہ کو ملنے گیا اور مار پیٹ شروع کر دی، محمد ریاض نے چھری کے وار سے فیصل اعجاز کو قتل کیا، ٹرائل کورٹ نے ملزم محمد ریاض کو سزائے موت اور جرمانے کی سزا سنائی، ہائی کورٹ نے جرمانہ برقرار رکھتے ہوئے سزائے موت عمر قید میں بدل دی۔

سپریم کورٹ نے مجرم کی اپیل جزوی طور پر منظور کرتے ہوئے کہا کہ وہ جتنی سزا بھگت چکا کافی ہے۔ عدالت نے جرمانہ برقرار رکھتے ہوئے مجرم کی رہائی کا حکم دے دیا۔

اس موقع پر چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیے کہ ماتحت عدالتوں پر افسوس ہوتا ہے، اگر وہ معاملات صحیح طریقے سے دیکھیں تو سپریم کورٹ تک نہ آئیں۔

سانحہ ماڈل ٹاؤن کی تحقیقات میں اہم پیش رفت

لاہور: سانحہ ماڈل ٹاؤن کی تحقیقات کے لئے بنائی گئی نئی جے آئی ٹی کی اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، نئی جے آئی ٹی نے سانحہ کے مدعی جواد حامد سمیت 30 گواہوں کے بیانات قلمبند کرلیے۔

عوامی تحریک کے ذرائع کے مطابق سانحہ ماڈل ٹاؤن کے مدعی جواد حامد سمیت 30 گواہوں کے بیانات قلمبند ہوچکے ہیں اور یہ سلسلہ ابھی جاری ہے ، ہفتے میں چار دن ان کے گواہوں کے بیانات قلمبند کئے جارہے ہیں، ذرائع کے مطابق ان کے گواہوں کو بیانات ریکارڈ کروانے کا مکمل موقع دیا جارہا ہے اور ان پرکسی قسم کا کوئی دباؤ نہیں ڈالاجارہا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہونیوالے زیادہ ترگواہوں نے سابق ایس پی عمر ورک ، معروف صفدر واہلہ، عبدالرحیم شیرازی اور سلیمان کے خلاف گواہی دی ہے، گواہان نے بیان قلمبند کروایا کہ پولیس افسران نے نہتے لوگوں کا قتل عام کیا گیا۔

ادھرترجمان عوامی تحریک نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ نئی جے آئی ٹی نے پہلی بارجائے وقوعہ کا فرانزک سروے کیا ہے ، ٹیم ممبران مسلسل چار روزتک جائے وقوعہ کا مختلف پہلوؤں سے سروے کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ انہیں امید ہے کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کے متاثرین کو انصاف ملے گا اور قاتل کیفرکردارتک پہنچیں گے۔

واضع رہے کہ عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹرطاہرالقادری بھی نئی جے آئی ٹی کواپنا بیان ریکارڈکرواچکے ہیں اور جے آئی جے آئی ٹی نے سابق وزیرقانون پنجاب رانا ثنا اللہ کو طلب کررکھا ہے۔

لورالائی دہشتگردی۔۔۔پاک فوج اور پولیس کے جوانوں کی قربانی نے بڑی تباہی سے بچالیا

adaria

پاکستان میں پھر دہشت گردی کی لہر آرہی ہے، لورالائی میں ہونے والا خودکش حملہ اسی کی ایک کڑی ہے، تحقیقاتی اداروں کو چاہیے کہ وہ اس سلسلے میں مکمل تحقیقات کریں کہ آخر کار اتنے حملہ آور کیونکر ڈی آئی جی آفس تک پہنچ پائے۔ گو کہ تینوں حملہ آور جوابی کارروائی میں مارے گئے۔ اگر خدانخواستہ وہ کامیاب ہو جاتے تو بہت بڑے نقصان کا خدشہ تھا لیکن ہماری بہادر افواج اور پولیس کے جوان دہشت گردوں کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن گئے اور ان کے مذموم عزائم کو کامیاب نہیں ہونے دیا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ دہشت گردی اور دہشت گردوں کے خاتمے کے ساتھ ساتھ سہولت کاروں کا خاتمہ بھی انتہائی ضروری ہے۔ جب تک سہولت کار کٹہرے میں نہیں آئیں گے اس وقت یہ دہشت گرد اسی طرح دندناتے پھرتے رہیں گے۔ نیز یہ بھی ضروری ہے کہ جو بھی سہولت کار یا دہشت گرد گرفتار ہوتے ہیں انہیں جلدازجلد قرارواقعی سزا دی جائے۔ گزشتہ روزلورالائی میں ڈی آئی جی پولیس کے دفتر پر دہشت گردوں کے حملے میں3پولیس اہلکاروں سمیت 9افراد شہید اور15 اہلکاروں سمیت اکیس افراد زخمی ہوگئے، ایک خود کش حملہ آور نے عمارت کے مرکزی دروازے پر ہی خود کو اڑا لیاجس کے بعد دیگر حملہ آور عمارت کے اندر داخل ہوگئے، اندھا دھند فائرنگ، دستی بموں سے حملے، جوابی کارروائی میں دو دہشت گرد مارے گئے، پولیس کی اضافی نفری ایف سی اہلکار، لیویز اہلکار اور پاک فوج کے کمانڈوز نے آپریشن میں حصہ لیا۔حملے کی ذمہ داری تحریک طالبان پاکستان نے قبول کی ہے ۔لورالائی میں رواں مہینے کے دوران شدت پسندی کا یہ تیسرا واقعہ ہے۔اس سے قبل ایک حملے میں ایدھی فانڈیشن لورالائی کے انچارج بازمحمد عادل مارے گئے تھے ۔یکم جنوری کو لورالائی میں فرنٹیئر کور کے تربیتی مرکز پر بھی چار مسلح افراد نے حملہ کیا تھا ۔اس حملے میں بھی چار سیکورٹی اہلکار مارے گئے تھے ۔لورالائی شہر کوئٹہ سے شمال مشرق میں اندازا 250 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ضلع کی آبادی مختلف پشتون قبائل پر مشتمل ہے۔ ضلع کی سرحدیں مغرب میں افغانستان سے متصل دو اضلاع ژوب اور قلعہ سیف اللہ سے لگتی ہیں جبکہ ژوب کی سرحد شمال میں جنوبی وزیرستان سے بھی لگتی ہے۔بلوچستان کے بلوچ آبادی والے شورش سے متاثرہ علاقوں کی بہ نسبت ان اضلاع میں امن و امان کی صورتحال بہتر ہے تاہم ماضی میں بھی ان اضلاع میں بد امنی کے واقعات رونما ہوتے رہے ہیں۔ماضی میں بھی ان اضلاع میں شدت پسندی سے متعلق حملوں کی ذمہ داری طالبان اور دیگر مذہبی شدت پسند تنظیموں کی جانب سے قبول کی جاتی رہی۔ صدرڈاکٹرعارف علوی،وزیراعظم عمران خان سمیت سیاسی ومذہبی رہنماؤں نے لورالائی میں ڈی آئی جی کمپلیکس پر دہشت گرد حملے کی شدید مذمت کی ہے۔وزیراعظم نے فرنٹیئرکانسٹیبلری کے اہلکاروں اور پاک فوج کے جوانوں کی بروقت کارروائی کو سراہتے ہوئے کہاکہ دشمنوں کا یہ بزدلانہ حملہ ان کی شکست خوردہ ذہنیت کی عکاسی کرتاہے۔پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑرہاہے اور انشاء اللہ اس میں کامیاب ہوگا۔دشمن کو پاکستان میں امن ایک آنکھ نہیں بھارہا وہ ہر وقت پاکستان میں امن وامان کی صورتحال خراب کرنے میں تلا ہوا ہے اور وہ نہیں چاہتا کہ پاکستان میں امن قائم ہو۔اب اگلے ماہ فروری میں پاکستان میں افغان طالبان اورامریکہ کے درمیان مذاکرات ہونے جارہے ہیں جب بھی پاکستان میں کوئی امن کی نوید پیدا ہوتی ہے تو تاک میں بیٹھا دشمن ناپاک حملے کی جسارت کرتا ہے جسے منہ کی کھانی پڑتی ہے ۔ پاکستان گزشتہ کافی عرصے سے دہشت گرد ی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے اوراس میں بہت بڑی کامیابی بھی حاصل کی ہے جس کوپوری دنیا سراہ رہی ہے۔

اصلاحات پروگرام میں تیزی ضروری ہے
اسٹیٹ بینک کی سہ ماہی رپورٹ موجودہ معاشی حالات کی عکاسی ہے گو کہ حکومتی اخراجات میں تو کمی آئی ہے کیونکہ وزیراعظم نے واضح طورپر کہہ دیا تھا کہ وہ اخراجات کم کریں گے لیکن مہنگائی پر قابو پانے میں خاطر خواہ کمی نظر نہیں آرہی ہے اور اس بوجھ تلے عوام دبتے جارہے ہیں ۔ خاص کر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہونے کی وجہ سے ہر چیز کی قیمت آسمان تک جا لگتی ہے۔اسٹیٹ بینک نے پاکستان کی معاشی صورتحال پرمالی سال 2018-19 کی پہلی سہ ماہی رپورٹ جاری کردی پہلی سہ ماہی میں بڑے پیمانے کی اشیا سازی میں 1.7 فیصد کمی جبکہ نجی شعبے کی قرض گیری میں اضافہ ہوا،حکومتی اخراجات میں کمی دیکھنے میں آئی خام تیل کی قیمتوں نے مہنگائی بڑھائی اور بیرونی شعبوں میں بہتری کا اثرزائل کیا، سیاسی تبدیلی کے سبب بیرونی ادائیگیوں کوغیر یقینی صورتحال کا سامنا رہا مالیاتی خسارہ حکومتی قرضوں سے پوراکیاگیا بیرونی فنانسنگ کے نئے ذرائع تلاش کیے گئے حکومت کی توجہ معاشی استحکام کے حصول پر ہے مجموعی قومی پیداوار کی نموکیلئے مقررہ 6.2 فیصد کا ہدف حاصل نہیں ہو سکے گا معیشت کو درپیش مسائل کے حل کیلئے اصلاحات پروگرام میں تیزی ضروری ہوگئی ہے۔ رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی کے دوران مجموعی معاشی ماحول دشوار رہا، جس کی عکاسی ابتدائی ڈیٹا سے ہوتی ہے۔ مذکورہ چیلنجوں کے جواب میں نئی سیاسی حکومت نے فوری طور پر ترقیاتی اخراجات میں کٹوتیوں کا اعلان کیا، ٹیکسوں میں دیے گئے ریلیف میں جزوی کمی کی اور بیرونی فنانسنگ کا فرق کم کرنے کے ذرائع بھی تلاش کیے گئے۔ حقیقی جی ڈی پی کی نمو کیلئے مقررہ 6.2 فیصد کا ہدف حاصل نہیں ہوسکے گا کیونکہ پالیسی میں توجہ معاشی استحکام پر مرکوز کی گئی ہے۔

ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کی حوصلہ افزاء رپورٹ
پاکستان تحریک انصاف کی حکومت آنے کے بعد ملک میں کرپشن کچھ نہ کچھ کم ہوتی ہوئی نظر آرہی ہے کیونکہ حکومت کا شروع سے ہی یہ مطمع نظر رہا ہے کہ وہ کرپشن کو کسی صورت بھی برداشت نہیں کرے گی اورنیب اس سلسلے میں بہت زیادہ متحرک ہے۔ وزیراعظم بھی اس حوالے سے متعدد بار کہہ چکے ہیں کہ نیب کو مزید بڑے مگرمچھوں پر ہاتھ ڈالنے کی ضرورت ہے۔حکومت کی جانب سے ان ہی اقدامات کی وجہ سے کرپشن میں کمی آئی ہے ۔ اسی لئے بدعنوانی پر نظر رکھنے والے عالمی ادارے ٹرانپیرنسی انٹرنیشنل نے کرپٹ ممالک کی فہرست جاری کردی جس میں پاکستان کی پوزیشن پہلے سے بہتر ہوئی۔ جرمنی کے دارالحکومت میں قائم بین الاقوامی تنظیم ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل نے بدعنوانی سے متعلق سال 2018 کی عالمی رپورٹ جاری کی جس کے مطابق ہنگری اور ترکی جیسے ممالک میں کرپشن گزشتہ برس کے مقابلے میں بہت زیادہ بڑھ گئی۔رپورٹ کے مطابق امریکا بھی بڑھتی ہوئی کرپشن کی وجہ سے شفاف ترین ممالک کی فہرست سے خارج ہوگیا جبکہ پاکستان کی پوزیشن میں بہتری پیدا ہوئی۔ 2018 میں دنیا کے دو تہائی ممالک 100 میں سے نصف نمبر بھی حاصل نہیں کرسکے، پورے یعنی 100 نمبر حاصل کرنے والے ملک کو شفاف ترین جبکہ سب سے کم نمبر حاصل کرنے والے کو بدعنوان ترین ملک قرار دیا جاتا ہے۔ ڈنمارک نے دنیا کے شفاف ترین ملک کا اعزاز اپنے نام کیا، نیوزی لینڈ، فن لینڈ، سنگاپور، سوئیڈن، سوئٹزرلینڈ بالترتیب فہرست میں دوسری، تیسری، چوتھی، پانچویں اور چھٹی جگہ حاصل کرسکے۔اسی طرح صومالیہ کو دنیا کا بدعنوان ترین ملک قرار دیا گیا علاوہ ازیں شام، جنوبی، سوڈان، یمن، شمالی کوریا، سوڈان، افغانستان اور لیبیا جیسے ممالک کے نام بھی برعنوان ممالک کی فہرست میں سامنے آئے۔

فہد مصطفیٰ اورمہوش حیات کی ایک دوسرے پر لفظی گولہ باری

کراچی: پاکستانی اداکار فہد مصطفیٰ اورخوبرو اداکارہ مہوش حیات کے درمیان سوشل میڈیا پر لفظی گولہ باری جاری ہے۔

چند روز قبل فہد مصطفیٰ نے ویب سیریز میں دکھائے جانے والے موضوعات پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ عریانی، بیہودہ زبان اور صرف جنس پر بات کرنا موضوعات میں شمار نہیں ہوتا، یہ اظہار رائے کی آزادی نہیں ہے، اداکار خود کو بے وقعت کرکے بیچ رہے ہیں اور یہ ٹھیک بات نہیں ہے۔ ویب سیریز اور مختصر دورانیے کی فلموں کو مزید باوقار ہونا ہوگا۔

فہد مصطفیٰ کا یہ ٹوئٹ اداکارہ مہوش حیات کی ویب سیریز ’’عنایا‘‘ کے ٹریلر کے محض چند روز بعد ہی سامنے آیا تھا لیکن فہد مصطفیٰ نے اپنی ٹوئٹ میں کسی کا نام نہیں لیا تھا، تاہم اداکارہ مہوش حیات نے بھی ویب سیریز پر تنقید کرنے کے لیے فہد مصطفیٰ کو نام لیے بغیر  کرارا جواب دیتے ہوئے کہا ہے بہت افسوس کی بات ہے کہ کچھ لوگ میری ویب سیریز’’عنایا‘‘ کو دیکھے بغیر اس پر تبصرے کررہے ہیں۔ حالانکہ ویب سیریز میں ان دومکالموں کے علاوہ بھی بہت کچھ ہے دکھانے کو جو آج کے نوجوانوں کے کلچر کی حقیقی تصویر پیش کرتا ہے بلکہ یہ سین کے حساب سے مناسب ہے۔ چلو اب بڑے ہوجاؤ اور ان مکالموں کو قبول کرو کیونکہ یہ چند الفاظ  قوم کو خراب کرنے کے لیے نہیں ہیں۔ شکریہ۔

واضح رہے کہ مہوش حیات سے قبل’’عنایا‘‘ کے ہدایت کار وجاہت رؤف بھی فہد مصطفیٰ پر تنقید کرچکے ہیں جس پر فہد نے اپنی پوزیشن کلیئرکرتے ہوئے کہا تھا کہ میری ٹوئٹ آپ کی نہیں بلکہ غیر ملکی ویب سیریز کے بارے میں تھی۔

روس اور چین جوہری عدم پھیلاؤ کو یقینی بنائیں، امریکا

امریکا نے روس اور چین پر آرمز کنٹرول معاہدے سے دستبرداری کی امریکی دھمکیوں کے باوجود جوہری منصوبوں سے مکمل طور پر آگاہ نہیں کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے مزید شفافیت کا مطالبہ کیا ہے۔

فرانسیسی خبررساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق امریکی نائب سیکریٹری برائے آرمز کنٹرول اور بین الاقوامی سیکیورٹی اینڈریا تھامسن نے کہا کہ جوہری ہتھیاروں کے عدم استعمال کے معاہدے میں شفافیت قائم کرنے کی کوششوں کے غیریکساں نتائج تھے۔

انہوں نے کہا کہ ’ اس سے قبل ہم نے رپورٹنگ کے طریقہ کار پر اتفاق کیا تھا لیکن ایک طرف امریکا کی رپورٹ اور دوسری جانب روس اور چین کی رپورٹ کے درمیان خلا بہت زیادہ ہے‘۔

اینڈریا تھامسن نے کہا کہ’ میں شفافیت کی اہمیت پر مزید اصرار نہیں کرسکتی ‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہم اس بات پر غور کررہے ہیں کہ ہم شفافیت کو کیسے بڑھا سکتے ہیں تاکہ دیگر ممالک کو جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ سے مطابقت کے لیے اقدامات کا ایک مرتبہ پھر یقین دلایا جاسکے‘۔

سینئر امریکی عہدیدار نے یہ بیان جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ سے متعلق بیجنگ میں جاری مذاکرات کے دوران دیا۔

اس اجلاس میں اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کے 5 مستقل رکن ممالک روس،چین، فرانس اور برطانیہ کے حکام بھی شریک تھے، یہ اجلاس یکم فروری تک جاری رہے گا۔

یہ مذاکرات روس اور امریکا کے درمیان انٹرمیڈیٹ رینج نیوکلیر فورسز معاہدے(آئی این ایف) سے متعلق کشیدگی کے بعد کیے گئےہیں، یہ معاہدہ 1987 میں اس وقت کے امریکی صدر رونالڈ ریگن اور سوویت رہنما میخائل گورباشیف کے درمیان طے پایا تھا۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے اس معاہدے سے علیحدہ ہونے کا وعدہ کیا ہے جبکہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے ہتھیاروں کی ایک نئی جنگ سے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ یورپ ان کا بنیادی ہدف ہوگا۔

رواں ماہ کے آغاز میں جینیوا میں ہونے والے مذاکرات میں دونوں ممالک کے سینئر سفارتکاروں نے واشنگٹن اور ماسکو کو آئی این ایف معاہدے کے خاتمے تک پہنچنے کا ذمہ دار ٹھہرایا۔

گزشتہ ہفتے روس نے اپنے میزائل سسٹم سے متعلق غیرملکی حکام کو یقین دلایا کہ ان کا ہتھیار آئی این ایف معاہدے سے مطابقت رکھتا ہے۔

تاہم واشنگٹن نے کہا ہے کہ اگر روس آئی این ایف معاہدے کو برقرار رکھنا چاہتا ہے تو اسے میزائل سسٹم کو درست انداز میں تباہ کرنا ہوگا۔

بیجنگ میں جاری اجلاس میں روس کے نائب وزیر خارجہ سرگئی رائبکوو نے بڑھتے ہوئے یک طرفہ رویوں کو جوہری عدم پھیلاؤ کے لیے خطرہ قرار دیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’ سیاسی عدم دلچسپی کی وجہ سے اکثر مسائل حل نہیں ہوپاتے،جوہری عدم پھیلاؤ سے متعلق معاہدے کی تمام ریاستوں کے درمیان باہمی اعتبار کی واضح کمی ہے‘۔   سرگئی رائبکوو نے کہا کہ ’ جوہری عدم پھیلاؤ کا معاہدہ کمزور ہے جسے جوہری عدم پھیلاؤ کے سنگین اور منفی اثرات سے بھرپور ہے‘۔

سرمایہ کاری میں معاونت کیلیے ہر اقدام اٹھانے کیلیے تیار ہیں، مشیر تجارت

اسلام آباد: مشیر تجارت عبدالرزاق داؤد کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نے آسان کاروبار کے لیے پاکستان کی رینکنگ بہتر بنانے کا ہدف دیا ہے اور ہم ہر وہ اقدام چاہتے ہیں جس سے کاروبار اور سرمایہ کاری میں معاونت ہو۔

اسلام آباد میں چیئرمین سرمایہ کاری بورڈ ہارون شریف کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیراعظم کے مشیر برائے تجارت عبدالرزاق داؤد کا کہنا تھا کہ معاشی صورتحال میں بہتری آ رہی ہے اور کاروبار میں بھی آسانیاں پیدا کی جارہی ہیں، اس وقت آسان کاروبار کے لیے پاکستان 136 نمبر پر ہے، وزیراعظم نے پاکستان کی رینکنگ بہتر بنانے کا ہدف دیا ہے اور وزیراعظم پاکستان میں ہوٹلنگ اور سیاحت انڈسٹری کا فروغ بھی چاہتے ہیں۔

مشیر تجارت عبدالرزاق داؤد نے کہا کہ بینکوں سے قرضے لینے کا طریقہ بھی آسان بنایا جا رہا ہے اور ہمسایہ ملکوں سے تجارت بڑھانے کا عندیہ بھی دے دیا جب کہ ہماری ٹیم نے صوبوں کیساتھ مل کر ٹیکسز سے متعلق کام کیا، پورٹل بنایا ہے جہاں کمپنی کو تمام سہولتیں ایک جگہ ملیں گی، نئی کمپنیوں کی رجسٹریشن سے متعلق بھی آسانی پیدا کررہے ہیں، اب ون ونڈو کے ذریعے کمپنی کی رجسٹریشن ہوا کرے گی۔

مشیر تجارت کا کہنا تھا کہ ایکسپورٹرزکو ریفنڈزجلدی نہیں مل رہے، ہر 15 دن بعد ایکسپورٹر کو اسٹیٹ بنک سے ریفنڈ کا سسٹم بنایا گیا ہے، پیداوار بڑھانے کے لئے جدید ٹیکنالوجی پرتوجہ دے رہے ہیں، تین انڈسٹریل اسٹیٹ تیار ہیں، چند ماہ میں فنکشنل ہو جائیں گے جب کہ بجلی کنکشن اور لوڈشیڈنگ کے اوقات سے متعلق شکایات ہیں، نیشنل انڈسٹریل پارک کو دو ماہ میں بجلی پہنچا دی جائے گی، پاکستان میں بجلی کے نرخ زیادہ ہیں، پانچ برآمدی شعبوں کیلئے بجلی کے نرخ کم کئے ہیں۔

وزیراعظم کے مشیر کا کہنا تھا کہ ملک میں انڈسٹری کو اپنے پاؤں پرکھڑاہونا چاہیے،کوئی سبسڈی نہیں ہونی چاہیے، موٹرسائیکل ، فریج ،مشینری انجنینرنگ پراڈکٹس کی نئی انڈسڑی کیلیے سبسڈی دیں گے، ارادہ ہے ان پیداواری انڈسٹریز کو دو سال کیلیے سبسڈی دی جائے جب کہ بلیک منی سے اکانومی نہیں چل سکتی، اس کوٹیکس ایبل کرنا ضروری ہے، جس کے پاس پیسا ہے بزنس کرے لیکن اس کوٹیکس دینا پڑے گا۔

جب امیتابھ کو دیکھ کر ریکھا نے رُخ بدل لیا

بالی وڈ کی نامور اداکارہ ریکھا اور لیجنڈری اداکار امیتابھ بچن کی جوڑی 70 اور 80 کی دہائی کی سب سے مقبول اور پسندیدہ جوڑی مانی جاتی تھی، لیکن حال ہی میں بگ بی کی تصویر دیکھ کر ریکھا کے چہرے پر آنے والے تاثرات سوشل میڈیا پر مقبول ہو رہے ہیں، جس نے سب کے لبوں پر مسکراہٹ بکھیر دی ہے۔

 گزشتہ روز بھارتی سلیبرٹی فوٹوگرافر دبو رتنانی نے ایک شاندار تقریب سجائی، جس کے دوران انہوں نے رواں سال کا 12 اسٹارز کی تصاویر پر مبنی کیلنڈر متعارف کروایا۔

اس تقریب میں بالی وڈ کی متعدد نامور شخصیات نے شرکت کی اور چار چاند لگا دیے۔

اگرچہ اس کیلنڈر میں ریکھا کی تصویر نہیں تھی، لیکن انہوں نے سیاہ رنگ کے لباس  زیب تن کیے، آنکھوں پر کیٹ گلاسز لگائے تقریب میں شاندار انداز میں انٹری کی۔

جب وہ تصویر بنوانے کے لیے بیک ڈراپ کے آگے کھڑی ہوئیں تو فوٹو گرافرز نے انہیں آگے ہونے کو کہا، جس کے پیچھے امیتابھ بچن کی تصویر تھی۔

اداکارہ جب پیچھے مڑیں اور امیتابھ بچن کی تصویر دیکھی تو چونک گئیں اور انتہائی دلچسپ تاثرات دے کر وہاں سے ہٹ گئیں، جس پر تقریب میں قہقہے گونج اٹھے۔

Embedded video

Why So Serious !@SurrealZak

When Rekha Realized she was posing infront of Amitabh’s Picture 😂

225 people are talking about this

ڈبو رتنانی کے سال نو کے کیلنڈر میں امیتابھ بچن کی تصویر کے ساتھ ساتھ ابھیشیک بچن، ایشوریا رائے، شاہ رخ خان، ودیا بالن، ٹائیگر شروف، کریتی سنن، سوناکشی سنہا، سنی لیون، عالیہ بھٹ اور رنبیر کپور کی تصاویر بھی شامل ہیں۔

یاد رہے کہ اداکار امیتابھ بچن اور اداکارہ ریکھا کی جوڑی 70 اور 80 کی دہائی کی سب سے مقبول اور پسندیدہ جوڑی مانی جاتی تھی اور دونوں کے قریبی تعلقات کے چرچے بھی زبان زدعام تھے لیکن ذاتی وجوہات کے باعث دونوں کی شادی نہ ہوسکی۔

دونوں نے ایک ساتھ ’سلسلے‘، ’دو انجانے‘، ’مسٹر نٹورلال‘ جیسی کئی کامیاب فلموں میں کام کیا جن کو مداح اب بھی دیکھنا پسند کرتے ہیں۔

طویل عرصے تک یہ بھی مشہور رہا کہ ریکھا شادی نہیں کرنا چاہتی کیونکہ وہ صرف امیتابھ بچن سے ہی محبت کرتی ہیں، یہی وجہ ہے برسوں بعد بھی دونوں توجہ کا مرکز بنے رہتے ہیں۔

Google Analytics Alternative