Home » 2019 » January » 01

Daily Archives: January 1, 2019

دنیا بھر میں سالِ نو کے رنگا رنگ استقبال کا آغاز نیوزی لینڈ سے ہوگیا

دنیا بھر میں نئے سال کو خوش آمدید کہنے لیے تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں، 2019 کا سب سے پہلا استقبال نیوزی لینڈ کے شہر آکلینڈ میں کیا گیا۔

نیوزی لینڈ کے شہر آکلینڈ میں سال نو کے استقبال کا آغاز ہوگیا ہے، اس موقع پر ہزاروں شہریوں نے 2018 کو الوداع کہا اور سحرانگیز آتش بازی کے  ساتھ 2019 کی آمد کا جشن منایا۔ موسیقی دھنوں پر رقص کیا گیا اور پُرتعیش ہوٹلوں میں لذیذ پکوان سے مہمانوں کی تواضع کی گئی۔

نیوزی لینڈ کے بعد آسٹریلیا میں جشنِ سالِ نو منایا گیا جس کے لیے سڈنی میں “ہاربر بریج ” کو دلہن کی طرح سجایا گیا تھا اور موسیقی کی دھن پر شاندار آتش بازی کی گئی۔ آسٹریلیا کے بعد جاپان، چین اور انڈونیشیا میں نئے سال کا جشن اپنے اپنے روایتی طریقوں سے منایا جائے گا۔

فرانس اور برطانیہ میں بھی سحرانگیز آتش بازی کے انتظامات مکمل ہیں، ہوٹلوں میں خصوصی تقاریب کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ میوزیکل کنسرٹ کی تمام ٹکٹیں فروخت ہوچکی ہیں۔ شہر کے اہم مقامات پر آتش بازی کے مظاہرے کیے جائیں گے، بھارت، بنگلا دیش اور پاکستان کے شہری بھی سال نو کو خوش آمدید کہنے کے لیے بے چین ہیں۔

سب سے آخر میں امریکا کے شہر نیو یارک میں سال نو کا استقبال پُر جوش طریقے سے کیا جائے گا۔ ٹائم اسکوائر پر کاؤنٹ ڈاون شروع ہوگا اور نیو ایئر ایو بال کو روشن کیا جائے گا اور آتش بازی کے دلفریب نظاروں کے ساتھ نئے سال کا آغاز کیا جائے گا۔

نیویارک میں ہرسال کی طرح اس سال بھی ’نیوایئر بال ڈروپنگ تقریب‘ اہم ترین روایت کے طور پر برقرار رہے گی، 12 ہزار پاؤنڈ وزنی بال کی تیاری میں مختلف سائز کے 2 ہزار 600 کرسٹل ٹرائی اینگلز استعمال کیے گئے جسے ’’گفٹ آف ہارمونی‘‘ یعنی ہم آہنگی کا تحفہ کا نام دیا گیا ہے۔

 

حکومت کا پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کمی کا اعلان

اسلام آباد: حکومت نے پیٹرول پر 4 روپے 86 پیسے جب کہ ڈیزل کی قیمت میں 4 روپے 26 پیسے فی لیٹر کمی کردی۔

نئے سال کے شروع میں ہی عوام کے لیےحکومت کی جانب سے خوشخبری ملی ہے اور پیٹرولیم  مصنوعات میں کمی کا اعلان کردیا گیا ہے جس کا باضابطہ نوٹی فکیشن بھی جاری کردیا گیا ہے۔

نوٹی فکیشن کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے 86 پیسے، ہائی اسپیڈ ڈیزل 4 روپے 26 پیسے، مٹی کا تیل 0.52 پیسے جب کہ لائٹ ڈیزل کی قیمت میں 2 روپے 16 پیسے فی لیٹر کمی کا اعلان کیا گیا ہے، قیمتوں کا اطلاق رات 12 بجے سے ہوگا۔

قبل ازیں اوگرا (آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی) نے  پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 15 روپے کمی کی سفارش کی تھی۔ اوگرا نے پیٹرول کی قیمت میں 9 روپے 50 پیسے، ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 15 روپے فی لیٹر، لائٹ ڈیزل میں 2 روپے اور مٹی کا تیل 25 پیسے فی لیٹر تک کمی کی تجویز دی تھی۔

وزیر اعلیٰ سندھ کا ڈبل سواری پر پابندی کا نوٹی فکیشن واپس لینے کا حکم

کراچی: وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے شہر قائد میں ڈبل سواری پر پابندی کے نوٹی فکیشن کو فوری طور پر واپس لینے کا حکم جاری کردیا۔

محکمہ داخلہ سندھ نے آج نوٹی فکیشن جاری کیا ہے جس کے تحت کراچی میں نئے سال کے موقع پر دو روز کے لیے ڈبل سواری پر پابندی عائد کردی گئی ہے تاہم وزیر اعلیٰ سندھ نے سیکریٹری داخلہ سندھ سے رابطہ کرکے انہیں نوٹی فکیشن فوری طور پر واپس لینے کی ہدایت کردی۔

وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ ڈبل سواری پر کوئی پابندی نہیں ہے نوٹی فکیشن واپس لینے کا حکم دے دیا ہے ساتھ ہی پولیس کو ہدایت دے دی ہے کہ عوام کو نہ روکا جائے۔

مراد علی شاہ نے تحریک انصاف کی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی والے نہ سمجھدار ہیں اور نہ ان میں کوئی میچوریٹی ہے، یہ لوگ گورنر راج کی بات کر رہے تھے لیکن اب مکر گئے۔

سندھ حکومت کے خلاف ممکنہ تحریک عدم اعتماد۔۔۔حکومت محتاط قدم اٹھائے

پاکستان تحریک انصاف اس وقت سندھ حکومت کے خلاف سرگرم عمل ہے اور اس کی پوری کوشش ہے کہ وہ وزیراعلیٰ سندھ مرادعلی شاہ کے خلاف تحریک عدم اعتمادلائے اوراس سلسلے میں باقاعدہ حکمت عملی بھی مرتب کرلی گئی ہے۔فردوس شمیم نے پیپلزپارٹی کے ناراض اراکین ،ایم کیوایم اور جے ڈی اے سمیت دیگر رہنماؤں سے رابطے شروع کردیئے ہیں۔ادھر دوسری جانب اپوزیشن نے چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کے لئے کمرکس لی ہے اس طرح وفاقی حکومت او رسندھ دونوں آمنے سامنے آچکے ہیں۔ پیپلزپارٹی نے کہاہے کہ پاکستان تحریک انصاف بیک ڈور چینل سے کچھ بھی نہیں کرسکتی۔ کراچی بلاول ہاؤس میں بھی ملاقاتیں عروج پرہیں وزیراعلیٰ سندھ نے بلاول بھٹو سے ملاقات کی اور موجودہ صورتحال پرگفتگوکی گئی۔ پیپلزپارٹی نے الزام عائد کیاکہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کی پانچ مہینوں کی کارکردگی نے ثابت کردیاہے کہ پی ٹی آئی تباہی کانام ہے جبکہ پی ٹی آئی اب اس بات پربضد ہے کہ مرادعلی شاہ کو تبدیل کیاجائے چاہے اس کی جگہ پیپلزپارٹی کو ئی اپنادوسراوزیراعلیٰ بناد ے لیکن پیپلزپارٹی اس بات پرقائم ہے کہ مرادعلی شاہ ہی وزیراعلیٰ رہیں گے سندھ حکومت ہماری ہے اور ہماری ہی رہے گی فارورڈبلاک کی باتیں بالکل غلط ہیں۔پی ٹی آئی کے نادان دوستوں کو شہید بھٹوکے آئین کوپڑھناچاہیے۔ خود ہچکولے کھاتی ہوئی پی ٹی آئی کی حکومت سندھ حکومت کو کیاعدم استحکام کاشکارکرے گی۔پی ٹی آئی کے وفاقی وزیرعلی زیدی کادعویٰ ہے کہ زرداری کاوقت پورا ہوچکا ان کے بندے ٹوٹ رہے ہیں۔پیپلزپارٹی نے پورے سندھ میں تباہی مچارکھی ہے پگڑیاں اور ٹوپیاں بدل بدل کرعوام کو بیوقوف نہیں بنایاجاسکتا۔ادھر تحریک انصاف نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ اس نے 89اراکین کی حمایت حاصل کرلی ہے، سندھ میں پیپلزپارٹی کے اراکین کی تعداد99ہے ،تحریک انصاف کے اراکین کی تعداد30 ہے ،ایم کیو ایم کے اراکین کی تعداد21ہے ،جے ڈی اے کے پاس 14اراکین اسمبلی ہیں جبکہ تحریک لبیک کے پاس تین، ایم ایم اے کے پاس ایک ممبر اسمبلی ہے اس طرح اپوزیشن جماعتوں کے اراکین اسمبلی کی تعداد69بنتی ہے اس تمام صورتحال میں ایم کیو ایم کی اہمیت پھربڑھتی ہوئی نظرآرہی ہے کیونکہ ان کے پاس اکیس اراکین اسمبلی ہیں۔ سندھ اوروفاق کی جانب سے دونوں ایک دوسرے پردباؤ بڑھارہے ہیں۔ گوکہ یہ جمہوریت کاخاصاہے مگر دیکھنایہ چاہیے کہ کیا اس خاصے سے جمہوریت کونقصان تونہیں پہنچے گا۔اگر جمہوریت کو نقصان پہنچتاہوا نظرآرہاہے تواحتیاط سے کا م لینے کی ضرورت ہے اس وقت ایم کیوایم جس کے پلڑے میں جاکربیٹھے گی یقینی طورپراس کاوزن زیادہ ہوجائے گا۔ماضی قریب میں پاکستان تحریک انصاف اور ایم کیوایم کے درمیان کچھ کشیدگی اورتناؤ دیکھنے میں آیا ہے ویسے بھی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ جس طرح زیادہ مفاد ہو ایم کیوایم کاجھکاؤ بھی اسی طرف ہوتاہے ان کاناراض اورراضی ہوناایک وطیرہ ہے۔ ماضی کی مثالیں اس کاواضح ثبوت ہیں کہ ایم کیو ایم گھڑی میں تولہ اورگھڑی میں ماشہ رہے ہیں۔ اب چونکہ وفاقی وزیراطلاعات فواد چودھری کو بھی خصوصی طورپرٹاسک دیدیاگیا ہے کہ وہ سندھ حکومت کے خلاف عدم تحریک لانے کومزیدمضبوط بنائیں لیکن ہم یہاں حکومت کو یہ مشورہ دیں گے کہ وہ تحریک عدم اعتماد ضرورلائے مگر تحریک لانے سے قبل یہ لازمی نوٹ کرلے کہ اس کاکوئی قدم ایسانہ ہو جو کہ اس کے خلاف استعمال ہوجائے کیونکہ آصف علی زرداری بھی جوڑ توڑ کے ماہر ہیں اور شایداسی وجہ سے سینئرسیاستدان جاویدہاشمی نے کہاتھا کہ آصف زرداری کی سیاست کو سمجھنے کے لئے پی ایچ ڈی کی ضرورت ہے ۔آج تک پاکستان میں واحد ایک آصف علی زرداری کی حکومت تھی جس نے پانچ سال پورے کئے باقی کوئی جماعت یہ تاریخ رقم نہیں کرسکی۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ سیاسی پختگی کامظاہرہ کرتے ہوئے سندھ کی سیاست پرہاتھ ڈالے کیونکہ سندھ میں سیاسی ہیجانی کیفیت پیدا ہونے کے بعد صادق سنجرانی کے حوالے سے جو موومنٹ پیدا ہوگی یقینی طورپر اس سے وفاق بھی متاثر ہوگا۔ملک اس وقت سیاسی حالات کے پراگندہ ہونے کامتحمل نہیں ہوسکتا اور بہت سارے ایسے چیلنجز ہیں جو کہ حکومت کو درپیش ہیں حکومتیں گرانے اوربنانے میں اگر وقت ضائع کیاجاتارہا تو سودن کے بعد جو حکومت کامتعین کردہ ایجنڈا ہے اسے کیونکر حاصل کیا جا سکے گا۔حکومت کو چاہیے کہ وہ چومکھی سیاسی جنگ شروع کرنے سے پرہیزکرے کیونکہ جتنے زیادہ محاذ کھولے جائیں گے اتناہی زیادہ نقصان ہوگا۔ بہتر یہ ہے کہ پہلے ایک محاذپرمتعین کردہ منزل کوحاصل کرلیاجائے اس کے بعد اگلامحاذ کھولاجائے۔ بیک وقت اتنی جگہوں پر سیاسی جنگ کرنا کہیں کی بھی عقلمندی نہیں ہے۔ مشورے حکومت سب سے ضرور لے مگر یہ دیکھے کہ اس کے حق میں کیابہترہے۔
وزیراعظم کاپولی کلینک کادورہ
وزیراعظم پاکستان کاوفاقی دارالحکومت کے دوبڑے ہسپتالوں کااچانک دورہ انتہائی خوش آئند ہے کیونکہ ہمار ے ملک میں صحت کے حوالے سے بہت زیادہ مسائل درپیش ہیں۔ جب حکومت کی جانب سے ایسے اچانک دورے شروع کردیئے جائیں تو یقینی طورپرتمام ادارے الرٹ ہوجاتے ہیں ۔نامعلوم کس ادارے کی کس وقت باری آجائے تاہم یہ بات اہم ہے کہ کسی بھی وی وی آئی پی کے دورے کے موقع پراصل متاثرہ لوگوں کوسامنے لاناچاہیے نہ کہ پہلے سے منصوبہ بندی کے تحت ایسا کام کیاجائے جس سے دورہ کرنیوالابھی مطمئن ہو اور ادارہ بھی محفوظ رہے۔وزیر اعظم عمران خان نے گزشتہ روزپولی کلینک اسلام آ بادکا اچانک دورہ کیا، وزیر اعظم نے ہسپتال کے مختلف شعبوں کا دورہ کیا، زیر علاج مریضوں سے بات چیت کی اور مریضوں کو فراہم کی جانیوالی طبی سہولتوں پر بریفنگ لی، وزیر اعظم نیمریضوں کو ادویات کی فراہمی اور دیگر طبی سہولیات کی فراہمی سے متعلق ہسپتال انتظامیہ سے استفسار کیا، عمران خان نے بہتر انتظامات اور سروسز کی فراہمی پر ہسپتال انتظامیہ کی کارکردگی کو سراہا،وزیر اعظم نے ہسپتالانتظامیہ کو ہدایت کی کہ مریضوں کو معیاری علاج کی سہولیات فراہمی کا تسلسل جاری رکھا جائے، وفا قی وزیر صحت عامر کیانی اورمعاون خصوصی افتخار درانی بھی وزیر اعظم کے ہمراہ تھے۔نیزوزیراعظم عمران خان نے وزیر خزانہ خیبر پختونخوا تیمور جھگڑا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملکی معیشت کی بحالی اور قبائلی علاقوں کو فنڈز کی فراہمی حکومت کی ترجیح ہے۔ وزیراعظم نے ٹیکس دہندگان میں اضافہ کیلئے صوبائی حکومت کے اقدامات کو سراہا ۔

پی پی کے ارکان صوبائی اسمبلی مجھ سے رابطے میں ہیں، فواد چوہدری

اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ پاکستان پیپلزپارٹی کے ارکان صوبائی اسمبلی مجھ سے رابطے میں ہیں۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا کہ جعلی اکاؤنٹس کا معاملہ 2016 سے وفاقی حکومت اور ایف آئی اے کے درمیان تھا، یہ کیسز تحریک انصاف کی حکومت نے نہیں بنائے، جے آئی ٹی نے بتایا کہ کس طرح لوگوں کا پیسہ لندن میں خرچ ہوتا رہا،  جعلی اکاؤنٹس کے معاملے پر (ن) لیگ کیوں خاموش رہی تاہم اب کچھ لو اور کچھ دو کی سیاست کا زمانہ ختم ہوگیا، نواز شریف اور زرداری کی سیاست دفن ہوچکی ہے۔

فواد چوہدری نے کہا کہ وزرا میں سے کسی نے نہیں کہا کہ گورنر راج لگایا جارہا ہے، کچھ دنوں سے یہ تاثر دینے کی کوشش کی جا رہی تھی کہ وفاقی حکومت سندھ حکومت کا تختہ الٹنے جا رہی ہے، سندھ میں گورنر راج کی میڈیا پر خبریں چلتی آ رہی ہیں تاہم یہ خبریں بے بنیاد تھیں، ہم نے کبھی نہیں کہا کہ ہم سندھ حکومت بدلنے جارہے ہیں۔

وفاقی وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ سندھ کے عوام کا پیسہ لندن اور دبئی میں خرچ ہوتا رہا، غریبوں اور کسانوں کا پیسہ آصف زرداری کے اکاؤنٹ میں آتا رہا، پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) ایک دوسروں کی کرپشن پر پردہ ڈالتے رہے تھے، دونوں جماعتوں نے باریاں لگائی ہوئی تھیں، عمران خان کے آنے سے ان کی باریاں ختم ہوگئیں اور ان کی کرپشن بھی سامنے آگئی۔

فواد چوہدری نے وزیراعلیٰ سندھ سے استعفی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ مراد علی شاہ استعفی دیں اور پیپلز پارٹی سے کوئی اور وزیراعلیٰ بن جائے، 2 وفاقی وزرا نے الزامات کی روشنی میں اپنے استعفے وزیراعظم کو پیش کیے، ہم نے جو اصول اپنے لیے طے کیے انہی اصولوں پر دوسروں سے بات کر رہے ہیں لہذا مراد علی شاہ کو اصولی طور پر اپنے عہدے سے ہٹ جانا چاہیے۔

بلاول بھٹو زرداری کے بیان پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے فواد چوہدری نے کہا کہ آپ کے ابو حکومت نہیں گرا سکے آپ کیا گرائیں گے، پی پی کے ارکان صوبائی اسمبلی مجھ سے رابطے میں ہیں، مجھے پیپلزپارٹی کے ارکان اسمبلی نے خود فون کیا ہے لہذا مرادعلی شاہ عہدے سے ہٹ جائیں ورنہ اسمبلی انہیں ہٹاسکتی ہے۔

وفاقی وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ جی آئی ٹی نے 16 ریفرنسز دائر کرنے کی درخواست کی ہے، اب جو بھی فیصلہ ہوگا وہ سپریم کورٹ کی روشنی میں ہوگا، جے آئی ٹی سپریم کورٹ کے حکم پر بنی اب جو سپریم کورٹ حکم دے گی ادارے اس کے پابند ہوں گے۔

بغیر تحقیق پاکستان پر بھارتی الزامات

2جنوری 2016 کو بھارتی پنجاب میں پاکستان کی سرحد کے قریب پٹھانکوٹ کے علاقے میں دہشت گردوں نے ائرفورس کے بیس پر حملہ کردیا، جس کے نتیجہ میں 3 فوجی اور 5 حملہ آور مارے گئے تھے۔ حملے کے بعد بھارتی میڈیا اور وزراء نے ایک بار پھر بغیر تحقیق کے پاکستان پر الزامات لگانا شروع کردئیے جبکہ بھارتی میڈیا کے ایک حصے نے حملہ کو مشکوک قرار دیا تھا۔ میڈیا کے مطابق عینی شاہدین کا کہنا تھا کہ حملہ صبح 4 بجے ہوا لیکن سکیورٹی کل رات سے ہی الرٹ کردی گئی تھی۔ عام دنوں میں سکیورٹی ائیربیس کے گیٹ پر ہوتی ہے اور بیرئیرز لگے ہوتے ہیں لیکن ایک دن پہلے ہی شام 5 بجے بیرئیرز ہٹا کر اندر منتقل کردیئے گئے تھے۔ آس پاس کے لوگوں سے فروٹ اور سبزی کی دکانیں بھی بند کرا دی گئی تھیں۔ شہریوں نے انکشاف کیا کہ ائربیس کے قریب سے ایک روز قبل حفاظتی رکاوٹیں ہٹا دی گئی تھیں۔ شہریوں کے انکشاف کے بعد ائربیس پر ہونے والا حملہ مشکوک ہوگیا۔ ائربیس پر حملے کے بعد کئی سوالات اٹھنے لگے ۔ سرحد کے قریب ہی ائربیس پر حملہ کیوں ہوا؟ بغیر تحقیقات کئے بھارت نے پاکستان کی جانب کیوں انگلی اٹھا دی؟ مودی کے دورے کے بعد ہی ائربیس پر حملہ ہونا تھا۔ ادھر بھارتی انٹیلی جنس ذرائع کا کہنا تھا کہ حکام کو علاقے میں مشتبہ افراد کی موجودگی اور ایئربیس پر ممکنہ حملے سے ایک روز پہلے ہی آگاہ کر دیا گیا تھا۔ پٹھان کوٹ ائیر بیس پر حملے کے تین روز بعد موہالی پولیس نے دعویٰ کیا کہ سیکیورٹی فورسز نے آپریشن کر کے تین افراد کو گرفتار کیا ہے جن کے قبضے سے پاکستانی سم اور بھاری مقدار میں اسلحہ برآمد ہوا ۔بھارتی اخبار’’ٹائمز آف انڈیا‘‘ کی رپورٹ کے مطابق بھارتی سابق ایس ایس پی گرپیت سنگھ بھلرنے کہا کہ تین سمگلروں کو گرفتار کیا جن کے قبضے سے سٹین گن ،دو 9ایم ایم ،دو 30بور ،ایک ائیر گن ،190کارتوس ،31موبائل فون اور ایک پاکستانی سم برآمد ہوئی ہے۔ گرفتار دہشت گردوں کی شناخت ہرجندر سنگھ ،گرجنت سنگھ اور سندیپ سنگھ کے نام سے ہوئی ہے۔ پٹھان کوٹ میں بھارتی ائیر بیس پر حملے کے بعد سے بھارتی میڈیا پاکستان کو اس حملے کا ذمہ دار ٹھہرانے کے لیے سر توڑ کوشش کر رہا ہے اور اپنے سیکیورٹی اداروں سے اس طرح کے سوالات کر رہا ہے جس سے اس حملے کا ذمہ دارپاکستان کو ٹھہرا یا جا سکے۔حالانکہ بھارتی فوج نے فوجی اڈے پر چار روز تک جاری رہنے والی کارروائی کے بعد تمام چھ حملہ آوروں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔پھر یہ تین گرفتار دہشت گرد کہاں سے آئے۔اسی بنا پر بھارت نے پاکستان سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ پٹھان کوٹ حملے سے متعلق فراہم کیے جانے والے شواہد کی بنیاد پر حملے میں ملوث دہشت گردوں کے خلاف “فوری اور سخت” کارروائی کرے۔کیونکہ پاکستان کو دیے جانیوالے شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ پٹھان کوٹ میں بھارتی فضائیہ کے اڈے پر حملے میں ملوث ملزمان پاکستان سے آئے تھے۔پٹھان کوٹ میں بھارتی فضائیہ کے اڈے پر حملے کے بعد ایک طرف تو بھارت کے خفیہ اداروں کی کارکردگی اور دفاعی سکیورٹی پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں جبکہ بھارت پاکستان تعلقات کے مستقبل پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ پٹھانکوٹ حملے کی تحقیقات کرنے والی بھارتی ’’نیشنل انوسٹی گیشن ایجنسی‘‘ (این آئی اے) نے ایئر بیس کی سکیورٹی کے حوالے سے بھارتی اداروں کا پول کھول کے رکھ دیا۔ ائر بیس کی سکیورٹی پر متعین اہلکار صرف’’50‘‘ روپے لیکر کسی کو بھی ائر بیس کے اندر جانے دیتے تھے۔ ایئر بیس کے ارد گرد گجر برادی بڑی تعداد میں آباد ہے جو اپنی گائے بھینسوں اور دیگر جانوروں کو چرانے کیلئے ایئر بیس کے اندر لے جاتے ہیں جبکہ ائر بیس کے اندر مارکیٹ اور دکانیں بھی موجود ہیں جہاں سے خریداری کے لئے لوگ سکیورٹی پر متعین اہلکاروں کو ’’50 روپے‘‘ دے کر اندر چلے جاتے تھے۔دفاعی اور سکیورٹی ماہرین نے پٹھان کوٹ پر حملے کے بعد خفیہ اداروں کی کارکردگی اور بھارتی دفاعی تیاریوں کے حوالے سے سخت نکتہ چینی کی ہے۔ ایئر وائس مارشل (ر) کپل کاک نے کہا کہ’’حکومت کے پاس چوبیس گھنٹے پہلے ہی یہ واضح اطلاع پہنچ گئی تھی کہ دہشت گرد حملہ کرسکتے ہیں۔ اس کے باوجود اہم تنصیبات کی سکیورٹی میں اضافہ کیوں نہیں کیا گیا، اگر بروقت سکیورٹی تعینات کر دی جاتی تو ہمارے سات جوانوں کی قیمتی جانیں نہیں جاتیں۔‘‘ اس سوا ل کے جواب میں کہ کیا اس حملے میں پاکستانی آرمی یا آئی ایس آئی کا ہاتھ ہے؟ سابق فوجی افسر نے کہا، ’’گوکہ یہ بات بھارتی رائے عامہ کے خلاف ہوگی تاہم میں اپنے تجزیے کی بنیاد پر واضح اور یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ اس میں پاکستانی آرمی یا آئی ایس آئی کا ہاتھ نہیں ہے۔‘‘ بھارتی انٹیلی جنس ایجنسی را کے سابق سربراہ اے ایس دلت نے ایک بیان میں کہا کہ ’’ پٹھان کوٹ آپریشن نے سکیورٹی فورسز کی کارکردگی سمیت بہت سارے سوالات پیدا کردیے ہیں۔ آخر دہشت گرد اتنی آسانی سے اور اتنے ڈھیر سارے ہتھیاروں کے ساتھ ایئر بیس میں داخل کیسے ہوگئے؟

آصف زرداری اجازت دیں ایک ہفتے میں وفاقی حکومت گرادیں گے، بلاول بھٹو

کراچی: پاکستان پیپلز پارٹی کے چیرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ آصف زرداری اجازت دیں اور صرف ایک اشارہ کردیں تو ہم ایک ہفتے میں تحریک انصاف کی وفاقی حکومت گرادیں گے۔

کراچی میں چیرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سندھ کی ترقی کے مخالفین چاہتے ہیں کہ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کو تبدیل کردیا جائے لیکن عوام ایسا نہیں ہونے دیں گے، آصف زرداری پر بھی پہلے بھی بہت سے مقدمے بنے اور انہوں نے گیارہ سال جیل میں گزارے، لیکن سب کیسز میں بری ہوئے، یہ بھی جھوٹا کیس ہے، اس سے بھی بری ہوجائیں گے۔

چیرمین پیپلز پارٹی کا کہنا تھا کہ حکومت اور جے آئی ٹی کا گٹھ جوڑ اب بے نقاب ہوتا جارہا ہے، جے آئی ٹی رپورٹ جعلی اور جھوٹی ہے،اس رپورٹ پر عدالتوں میں قانون کے مطابق لڑیں گے اور ہر سازش کو ناکام بنائیں گے، پی ٹی آئی کا وزیر رات دو بجے تک ایف آئی اے کے دفتر میں بیٹھا رہا، جے آئی ٹی صرف بہانہ تھا اور اصل نشانہ حکومت سندھ تھی، میرے خلاف کرپشن کا کوئی الزام نہیں۔

سندھ میں گورنر راج لگنے سے متعلق سوال کے جواب میں بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ اگر آصف علی زرداری اجازت دیں اور صرف ایک اشارہ کردیں تو ہم ایک ہفتے کے اندر وفاقی حکومت گرا کر دکھا سکتے ہیں بلکہ ان حکمرانوں کو جیل بھی بھیج سکتے ہیں، وفاق میں ان کی صرف 6 نشستوں کی برتری ہے اور پنجاب میں اس سے بھی کم اکثریت ہے، ہم پنجاب حکومت گرانے کی بھی صلاحیت رکھتے ہیں، پی پی پی کی سندھ اسمبلی میں 99 نشستیں ہیں اور پی ٹی آئی کو صوبائی حکومت گرانے کے لیے 45 ارکان کو توڑنا ہوگا، جب کہ اہم قانون سازی کے لیے 50 فیصد سے زیادہ ووٹ درکار ہوتے ہیں، اس لیے پی ٹی آئی کا خواب کبھی پورا نہیں ہوگا۔

ورون دھون اور شردھا کپور ایک بار پھر ساتھ جلوہ گر ہوں گے

ممبئی: بالی ووڈ کے نامور کوریوگرافر وہدایت کار ریمو ڈیسوزا کی فلم ’اے بی سی ڈی تھری‘ میں شردھا کپور ایک بار پھر ورون دھون کیساتھ جلوے بکھیریں گی۔

بالی ووڈ انڈسٹری میں بطور کوریوگرافر اپنا مقام بنانے والے ریمو ڈیسوزا کی بطور ہدایت کار کامیاب ترین فلم ’اے بی سی ڈی‘ ثابت ہوئی جو ڈانس پر مبنی تھی جس کے بعد انہوں نے فلم کا سیکوئل بنانے کا فیصلہ کیا اور اس میں ورون دھون اور شردھا کپور کو کاسٹ کیا جو نہ صرف سپر ہٹ ثابت ہوئی بلکہ فلم نے 100 کروڑ کلب میں بھی شامل ہونے کا اعزاز حاصل کیا اور اب انہوں نے فلم کا ایک اور سیکوئل بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق فلم ’اے بی سی ڈی تھری‘ کے لیے ورون دھون کے ساتھ کترینہ کیف کو کاسٹ کیا گیا تھا اور فلم میں انہوں نے پاکستانی ڈانسر کا کردار ادا کرنا تھا تاہم بالی ووڈ کی باربی ڈول نے گزشتہ روز فلم کرنے سے معذرت کردی تھی، جس کی وجہ انہوں نے بالی ووڈ سلطان سلمان خان کی فلم ’بھارت‘ کی شوٹنگ شیڈول کو قرار دیا۔

ذرائع کے مطابق کترینہ کے انکار کے بعد ہدایت کار ریمو ڈیسوزا نے ’اے بی سی ڈی تھری‘ کے لیے شردھا کپور کو ایک بار پھر ورون دھون کے ساتھ مرکزی کردار میں کاسٹ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ فلم کی شوٹنگ جنوری میں شروع کی جائے گی جو 8 نومبر 2019 کو سینما گھروں کی زینت بنے گی۔

Google Analytics Alternative