Home » 2019 » January » 02

Daily Archives: January 2, 2019

لورالائی میں دہشتگردوں کا حملہ، 4 اہلکار شہید، جوابی کارروائی میں 4 دہشتگرد ہلاک

راولپنڈی: ترجمان پاک فوج کا کہنا ہے کہ دہشت گردوں کی لورا لائی میں ایف سی ٹریننگ سینٹر کے رہائشی کمپانڈ پر حملے کی کوشش میں 4 جوان شہید جب کہ جوابی فائرنگ میں 4 دہشت گرد بھی مارے گئے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) بلوچستان کے علاقے لورالائی میں واقع  ایف سی ٹریننگ سینٹر کے رہائشی اور انتظامی کمپاؤنڈ پر دہشت گردوں نے حملے کی کوشش کی، تاہم دہشت گردوں کو انٹری پوائنٹ پر ہی روک لیا گیا، جس سے وہ اپنے ہدف تک نہیں پہنچ پائے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق دہشت گردوں نے حملے میں ناکامی پراندھا دھند فائرنگ شروع کی، جس کے نتیجے میں 4 جوان شہید اور 2 زخمی  ہوگئے، زخمی اہلکاروں کو کوئٹہ منتقل کردیا گیا ہے۔ شہدا میں صوبیدارمیجرمنور، حوالداراقبال خان، حوالدار بلال اور سپاہی نقشب شامل ہیں۔

ترجمان پاک فوج کے مطابق فورسز کی جوابی فائرنگ میں ایک خود کش بمبار سمیت 4 دہشت گرد بھی مارے گئے، ان میں سے ایک خود کش بمبار نے آخر میں خود کو دھماکے سے اڑالیا۔ سیکیورٹی فورسز نے کمپاؤنڈ کو فوری طور پرمحاصرے میں لیا، اور علاقے میں سرچ آپریشن شروع کردیا گیا۔

افغانستان میں طالبان کے پولیس چیک پوسٹ پرحملے میں 20 اہلکار ہلاک

کابل: افغانستان میں طالبان جنگجوؤں نے پولیس چیک پوسٹ پر حملہ کرکے 20 اہل کاروں کو ہلاک کردیا۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق افغانستان کے ضلع سید آباد کے علاقے سرائے پل پر واقع پولیس چیک پوسٹ پر طالبان نے دھاوا بول کر 20 اہل کاروں کو ہلاک کردیا، دہشت گردوں کے حملے میں 23 پولیس اہلکار زخمی بھی ہوئے۔

پولیس چیک پوسٹ پر حملے کی اطلاع  پر افغان پولیس کی مزید نفری بھی جائے وقوع پر پہنچ گئی، دہشت گردوں اور پولیس کے درمیان 6 گھنٹے گھمسان کی لڑائی جاری رہی جس کے بعد افغان طالبان واپس جانے پر مجبور ہوئے۔

افغان پولیس کا کہنا ہے کہ افغان طالبان تین جانب سے پولیس چیک پوسٹ پر حملہ آور ہوئے، شدید جھڑپ کے بعد طالبان کو پسپا ہونے پر مجبور کردیا گیا۔ جھڑپ میں کئی طالبان جنگجو بھی مارے گئے جنہیں حملہ آور اپنے ہمراہ لے گئے۔

افغان طالبان کی جانب سے پولیس چیک پوسٹ پر حملے اور جھڑپ سے متعلق خبروں کی تردید یا تصدیق نہیں کی گئی تاہم اس علاقے میں طالبان کی نقل و حرکت کافی عرصے سے جاری ہیں۔

رشی کپورکینسر کے مرض میں مبتلا

نیویارک: بالی ووڈ کے معروف اداکار رشی کپور کی اہلیہ نیتو سنگھ نے شوہرکے  کینسر کے مرض میں مبتلا ہونے کی جانب اشارہ کیا ہے۔

اداکار رشی کپور نے دو ماہ قبل اپنے مداحوں کو چونکا دینے والی خبر دیتے ہوئے کہا تھا وہ علاج کے لئے امریکا جارہے ہیں تاہم کپور فیملی کی جانب سے واضح طور پر کچھ نہیں بتایا گیا کہ رشی کپور کس بیماری سے لڑ رہے ہیں لیکن پہلی بار اداکار کی اہلیہ نیتو سنگھ نے ڈھکے چھپے الفاظوں میں رشی کپور کے کینسر میں مبتلا ہونے سے متعلق لب کشائی کی ہے۔

نیتو سنگھ،رنبیر کپور اور عالیہ بھٹ سمیت تمام فیملی نے نئے سال کا جشن رشی کپور کے ساتھ نیویارک میں منایا اور اس خوشی کا اظہار نیتو سنگھ نے مداحوں سے انسٹا گرام پر شیئر کرکے کیا۔

نیتو سنگھ نے پوسٹ میں لکھا کہ ’سال 2019 سب کو مبارک ہو، اس سال کوئی عہد نہیں بلکہ صرف نیک خواہشات کا اظہار کیا جائے گا، امید کرتی ہوں کہ مستقبل میں کینسر محض (سرطان) کی طرح ایک آسمانی برج ہی رہ جائے۔ نفرت کا پرچار اور غربت کا خاتمہ ہو۔ ڈھیروں پیار اور ایک ساتھ خوشیاں سمیٹنا ضروری ہے اور ہاں بہترین صحت بھی ہو۔

اس پوسٹ میں نیتو سنگھ کا اشارہ شوہر رشی کپور کی جانب ہے جوکہ تصویر میں پہلے سے زیادہ کمزور اور مرجھائے ہوئے نظر آرہے ہیں۔

نیب کےخلاف منظم اور جارحانہ پروپیگنڈا کیا جارہاہے، چیئرمین جاوید اقبال

اسلام آباد: چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاویداقبال کا کہنا ہے کہ نیب بدعنوان عناصر کو پکڑنے کے لئے پرعزم ہے۔

نیب ہیڈ کوارٹرمیں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال کا کہنا تھا کہ بدعنوانی تمام برائیوں کی جڑ اورملک کی ترقی وخوشحالی کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے، اس کا خاتمہ نیب کی اولین ترجیح ہے۔

جسٹس (ر) جاوید اقبال کا کہنا تھا کہ نیب کےخلاف منظم اور جارحانہ پروپیگنڈا کیا جارہا ہے، تنقید کرنے والے نیب قانون کو ڈریکونین لاء کہتے ہیں، نیب پر تنقید کرنے والوں کو آئین و قانون اور نیب لاء کاعلم ہی نہیں، سپریم کورٹ اس قانون کی تمام جزئیات کا جائزہ لے چکی ہے، اور عدالت عظمیٰ  نے نیب لاء کو نہ غیرآئینی کہا، نہ ہی ڈریکونین لاء کہا، پلی بارگین نہ ہوتا تو جورقم واپس لی گئی پاکستان کا کوئی ادارہ واپس نہيں لاسکتا تھا۔

چیئرمین جاوید اقبال نے کہا کہ نیب بدعنوان عناصر کو پکڑنے کے لئے پرعزم ہے اور ملک سے بدعنوانی کے خاتمہ کے لئے اپنی قومی ذمہ داری مؤثر طریقے سے سرانجام دے رہا ہے، نیب ہر قیمت پر بدعنوانی کے خاتمے  اورقوم کی امنگوں پر پورا اترنے کے لئے اپنے طریقہ کار میں تبدیلی لایا ہے۔

سندھ کے سیاسی حالات،وزیراعظم کا مستحسن فیصلہ

وفاق اور سندھ حکومت سیاسی میدان میں آمنے سامنے آچکے ہیں اور وہ ایک دوسرے کی اہلیت کو چیلنج کررہے ہیں۔ وفاق اس بات پر کمربستہ ہے کہ وزیراعلیٰ سندھ کیخلاف تحریک عدم اعتماد لائی جائے جبکہ بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ اگر آصف علی زرداری اشارہ کریں تو وہ وفاق کی حکومت کو ایک سیکنڈ میں گرا سکتے ہیں۔ اسی سلسلے میں وزیراعظم اور وزیراطلاعات کی ایک طویل ملاقات ہوئی جس میں سیاسی حالات زیر بحث آئے اور وزیراعظم نے ای سی ایل لسٹ میں ڈالے گئے 172 ناموں کے حوالے سے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فی الحال فواد چوہدری کا دورہ کراچی بھی ملتوی کردیا ہے۔ وزیراعظم کا یہ فیصلہ خوش آئند ہے کیونکہ اس اقدام کے اٹھانے سے صرف سیاسی انارکی کے علاوہ کچھ حاصل نہیں ہوگا کیونکہ اپوزیشن اس بات پر بھی کمربستہ ہے کہ وہ چیئرمین سینیٹ کیخلاف عدم اعتماد تحریک لائے گی اور اس کے بعد وہ وفاق کو نشانہ بنائے گی۔ اس سلسلے میں گو کہ جوڑ توڑ بھی جاری ہے مگر نتائج کچھ اچھے برآمد نہیں ہونگے۔ حکومت کو چاہیے کہ اس نے جمہوریت اور کرپشن کے خاتمے کے حوالے سے جو ترجیحات متعین کی ہیں ان کا حصول کیا جائے اگر جمہوریت میں اسی طرح کی محلاتی سازشیں ہوتی رہیں تو حکومت متعین کردہ سمت سے بے راہ روی کا شکار ہو جائے گی اور اصل مقاصد حاصل نہیں ہوسکیں گے۔ لہذا یہاں پر وزیراعظم پاکستان عمران خان کو انتہائی اہم کردار ادا کرنا ہوگا ۔ویسے انہوں نے اپنے وزراء کو سندھ کی صورتحال کے حوالے سے بیان دینے سے بھی روک دیا ہے۔ یہ بھی ایک اچھا فیصلہ ہے ، ہم تو متعدد بار حکومت کو یہ بات کہہ چکے ہیں کہ وہ باقاعدہ ایک حکومتی ترجمان مقرر کرے جو حکومت کا موقف عوام اور میڈیا کے سامنے پیش کرے، جب ہر وزیر یا حکومتی ایم این اے اپنے تئیں اپنی اپنی بولی بولتے رہیں گے تو پھر نتائج اسی طرح کے حاصل ہونگے جس سے نہ صرف جمہوریت کو نقصان پہنچے گا بلکہ حکومت کی پوزیشن بھی ڈانواڈول رہے گی۔ لہذا تعمیری سیاست کرنے کیلئے ایک دوسرے کو برداشت کرنے کا حوصلہ پیدا کرنا پڑے گا ۔وفاق تمام اکائیوں کے اتحاد کا مظہر ہوتا ہے اور اس کا فرض ہے کہ وہ سب کو ساتھ لے کر چلے۔ اپوزیشن تنقید کیلئے ہوتی ہے لیکن اسے بھی تنقید برائے تنقید نہیں بلکہ تنقید برائے تعمیر کرنا چاہیے۔ جہاں حکومت کوئی غلط قدم اٹھاتی ہے تو اس کی ضرور نشاندہی کرے۔ حکومت کو بھی چاہیے کہ اس مسئلے کو حل کرے نہ کہ آپس میں ذاتی عناد سمجھ کر ایوان کا ماحول پراگندہ نہ کیا جائے۔وزیراعظم عمران خان سے وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے ملاقات کی جس میں وزیراطلاعات کا دورہ سندھ ملتوی کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ملاقات میں فواد چوہدری کے دورہ سندھ کے آغاز سے قبل وزیر اعظم سے سیاسی معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ فواد چوہدری نے سندھ میں اتحادیوں سے رابطوں پر وزیر اعظم کو بریفنگ دی۔ وزیراعظم کا ملاقات میں کہنا تھا وہ سندھ کے عوام کے ساتھ کھڑے ہیں تاہم ابھی ہمیں سندھ حکومت کے معاملات پر صبروتحمل سے کام لیتے ہوئے دورہ ملتوی کرنا چاہیے۔ وزیراعظم نے مزید کہا معاملے پر پارٹی کے دیگر رہنماں کیساتھ بھی مشاورت کی جائے گی ۔ سپریم کورٹ میں جعلی اکاؤنٹس کیس کے حوالے سے جے آئی ٹی رپورٹ پر حکومت کی جانب سے وزیراعلیٰ سندھ سمیت صوبائی وزراکے نام ای سی ایل میں ڈالنے پر اظہار برہمی کیا گیا اور عدالت کی جانب سے حکومت اور اپوزیشن کو کیس پر تبصرے سے روک دیا گیا جس کے بعد وزیراعظم اور وزیر اطلاعات سمیت دیگر وفاقی وزراکے درمیان سندھ حکومت کے معاملے پر مشاورت کی گئی اور اس دوران فیصلہ کیا گیا کہ وزیراطلاعات و نشریات کو اپنا دورہ فی الحال ملتوی کردینا چاہیے۔اِ دھرپیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے آصف زرداری اجازت دیں تو ہم حکومت کو ایک ہفتے میں گرا سکتے ہیں اور حکمرانوں کو جیل بھجوا سکتے ہیں۔ہم ماتحت عدالت میں اپنا کیس لڑیں گے، جے آئی ٹی رپورٹ پر قانون کے مطابق لڑیں گے جو چاہتے ہیں عوام کے مسائل حل نہ ہوں وہ چاہتے ہیں وزیراعلیٰ سندھ تبدیل ہو، آصف زرداری کے خلاف کتنے کیسز بنائے گئے ،وہ ان سب کیسز میں بھی سرخرو ہوں گے۔ حکومت اور جے آئی ٹی کا گٹھ جوڑبے نقاب ہو گیا ہے،حکومت کی ہرسازش کا مقابلہ کریں گے، پی ٹی آئی کوسیاست کے ساتھ حساب بھی نہیں آتا۔ ہماری توجہ دہشت گردی جیسے سنجیدہ مسئلے پر ہونی چاہئے۔ سندھ حکومت گرانے کی ہر سازش ناکام بنائیں گے۔ پی ٹی آئی کو سیاست آتی ہے نہ حساب آتاہے۔ سندھ اسمبلی میں ہمارے 99 ارکان ہیں۔ حکومت گرانے کیلئے انہیں 55 ارکان توڑنے پڑیں گے۔
پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی، احسن اقدام
حکومت نے عوام کو سال نو کا تحفہ دیتے ہوئے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کر دی۔ گوکہ یہ کمی اونٹ کے منہ میں زیرے کے مترادف ہے مگر حکومت کو اس جانب بھی دھیان دینا ہوگا جیسا کہ اس نے کہا ہے کہ منی بجٹ آئے گا، یہ نہ ہوکہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا سارا نزلہ منی بجٹ کی صورت میں عوام پر مزید مہنگائی اور ٹیکسوں کا بوجھ لاد دیا جائے۔ بین الاقوامی سطح پر پٹرولیم مصنوعات اس سے بھی زیادہ سستی ہیں، یہاں پر ہم وزارت پٹرولیم اور حکومت کی خدمت میں ایک نکتہ ضرور عرض کریں گے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں مستقبل میں ہمیشہ روپوں کی مد میں کم یا زیادہ کی جائیں کیونکہ سکہ رائج الوقت میں پیسہ یا ٹکہ تو ملتا نہیں لہذا لیٹر میں جو 20,25پیسے بچتے ہیں اس کا کوئی حساب نہیں ہوتا اگر ان پیسوں کی ملکی سطح پر جمع تفریق کی جائے تو یہ کروڑوں روپے بنتے ہیں جو عوام اپنی جیبوں سے دیتی ہے لیکن اس کا صلہ اسے کوئی نہیں ملتا۔
وائٹ کالر کرائم معاشی دہشتگردی
پاکستان گروپ آف نیوز پیپرز کے چیف ایڈیٹر اور روز نیوز کے چیئرمین ایس کے نیازی(تمغہ امتیاز) کے پروگرام’’سچی بات‘‘ میں سابق وفاقی ٹیکس محتسب ڈاکٹر شعیب سڈل نے کہا کہ وائٹ کالر کرائم ایک قسم کی معاشی دہشتگردی ہے،اسکی روک تھام کیلئے قانون میں ترمیم کی ضرورت ہے،وزیراعظم عمران خان تبدیلی کے ویژن میں مخلص ہیں میں دل سے انکے جذبے اور خلوص کی قدر کرتا ہوں،اومنی گروپ کا کیس ملکی تاریخ کا بڑا سکینڈل ہے۔ایک سوال کے جواب میں سابق وفاقی ٹیکس محتسب ڈاکٹر شعیب سڈل نے کہا کہ “وائٹ کالر کرائم “یا بلیو کالر کرائم میں فرق یہ ہے کہ اس میں ویپن آف افنس قلم ہوتا ہے،وائٹ کالر کرائم میں یہ دیکھنا ہوتا ہے کہ سسٹم کو بیٹ کیسے کرنا ہے ،وائٹ کالروائٹ کالر کرائم کو ثابت کرنا بہت مشکل ہوتا ہے ،وائٹ کالروائٹ کالر کرائم میں ملوث افراد کوشش کرتے ہیں کوئی ٹریل باقی نہ رہے،اس کوشش میں اب تک کو ئی کامیاب نہیں ہوا،وائٹ کالروائٹ کالر کرائم کی تفتیش کے لئے اسپیشلسٹ افراد کی ضرورت ہوتی ہے ،وائٹ کالر کرائم میں جتنے گواہ زیادہ ہونگے اتنی کنفیوڑن ہو گی ،وائٹ کالر کرائم کیلئے ڈاکومنٹس کو سامنے رکھیں ،وائٹ کالر کرائم کی روک تھام کیلئے قانون میں ترامیم کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہاعمران خان تبدیلی کے وژن میں مخلص ہیں ،میں دل سے خان صاحب کے جذبے اور خلوص کی قدر کرتا ہوں ،پانامہ جے آئی ٹی میں ڈاکومینٹری ایویڈنس کم تھے،جعلی اکاونٹس والی جے آئی ٹی میں ڈاکومینٹری ایویڈنس زیادہ ہیں،اومنی گروپ کا کیس ملکی تاریخ کا بڑا سکینڈل ہے

’بیلٹ اینڈ روڈ‘ اس صدی کا عظیم منصوبہ ہیق

چینی صدر شی جین پنگ کا کہنا ہے کہ ‘بیلٹ اینڈ روڈ’ منصوبے میں شامل تمام فریق مضبوط باہمی تعاون کے ذریعے اپنے ممالک میں خوش حالی لا سکتے ہیں۔بیلٹ اینڈ روڈ اس صدی کا سب سے عظیم منصوبہ ہے اور اس میں شامل تمام ممالک، باہمی تعاون، منفعت اور مشاورت سے اسے کامیاب بنا سکتے ہیں۔ اس منصوبے کی کامیابی اس میں شامل تمام فریقین کی کامیابی ہوگی اور یہ خطے میں امن و بھائی چارے کے ساتھ ساتھ معاشی اور سیاسی استحکام کا ضامن ہوگا۔2013 کے اواخر میں صدر شی جین پنگ نے اپنے دورہ قازقستان اور پھر دورہ انڈونیشیا کے دوران بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کا اعلان کیا تھا اور رواں سال کے اوائل تک، محض 5 سال کے قلیل عرصے میں دنیا بھر کے 100 سے زیادہ ممالک اس منصوبے کا حصہ بن چکے ہیں۔ بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کے تحت قدیم سلک روٹ یا شاہراہ ریشم کو دوبارہ زندہ کرنا اور راستے میں آنے والی بندرگاہوں، شاہراہوں اور ریل کے شعبے میں سرمایہ کاری کرنا شامل ہے تاکہ چین کو ایشیا، یورپ اور افریقہ سے جوڑا جا سکے۔پاکستان کا کہنا ہے کہ ون بیلٹ ون روڈ درحقیقت انسانیت کیلئے نئے دور کا آغاز ہے جس کے ذریعے غربت اورپسماندگی کے خاتمے میں مدد ملے گی۔ ون بیلٹ ون روڈ کے تحت ہمارے پاس تعلقات کو مستحکم کرنے ، تعاون کو مضبوط بنانے اور اب تک کی اپنی ترقی کا جائزہ لینے کا بہترین موقع ہے ۔ خطے ون بیلٹ ون روڈ منصوبے کو باہمی کاوشوں ، متواترجائزے اور تعاون کی پالیسیوں کی ضرورت ہے۔ آج جیسے ہی ہم مل بیٹھے ہیں دنیا کی معیشت میں بہتری کے پہلے آثار نمودار ہونے لگے ہیں جبکہ عالمی تجارت کی بہتری کے بھی ٹھوس شواہد موجود ہیں ۔گوادر کی تعمیر و ترقی تیزی سے جاری ہے، گوادر کی بندرگاہ مشرق مغرب اورجنوبی ایشیا کو آپس میں جوڑے گی اور اس کے ذریعے افریقی اور یورپی منڈیوں تک رسائی حاصل ہوگی۔ ہم نے مختصر وقت میں سی پیک کے تحت منصوبوں پر کام کیا۔یہ منصوبہ نئی سپلائی اور مواصلاتی زنجیر تخلیق کرے گا اور بہت جلد گوادر وسیع مواقع کا شہر بن جائے گا۔ یہ منصوبہ غریب ملکوں کو امیر ممالک کے ساتھ جوڑے گا۔ ون بیلٹ ون روڈ منصوبہ آدھی دنیا کے معیشتوں کیلئے کشش کا باعث ہے۔ یہ منصوبہ تعاون بڑھانے کے مواقع تلاش کرنے کا بہترین موقع ہے تاہم اس منصوبے کے علاوہ بھی ممالک اور اقوام کے ساتھ مذاکرات کی ضرورت ہے۔وزیر اعظم عمران خان نے چینی حکومت کی تعریف کرتے ہوئے کہا ہے اب ہم سب دہشتگردی ، پناہ گزینوں کی نقل و حرکت ، لوگوں کی ہجرت ، فوڈ سیکیورٹی اور پانی کی کمی جیسے موجودہ اور آنے والے خطرات کے بارے فکر مند ہیں تاہم میں پرامید ہوں کہ ون بیلٹ و ن روڈ کی تکمیل سے ہم ان خطرات پر قابو پانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ پہلے ہمیں ون بیلٹ ون روڈ کیلئے اتفاق پیدا کرنا ہے اور پھر ترقی اور عملدرآمد کیلئے تعاون کو فروغ دینا ہے جبکہ تیسرے مرحلے پر ہمیں طویل مدتی تعاون کیلئے ایک روڈ میپ تیار کرنا ہے۔ چین کے صدر شی جن پنگ کا بیلٹ اور روڈ ا قدام نہ صرف مستقبل کا آئینہ دار ہے بلکہ یہ ایک تاریخ ساز اقدام ہے۔ شی جن پنگ کا بیلٹ اور روڈ کا اقدام منفرد حیثیت رکھتا ہے اور چینی صدر شی جن پنگ نے بیلٹ اور روڈ کے جرات مندانہ اقدام کے ذریعے محفوظ مستقبل کی بنیاد رکھی ہے ان کا ویژن خطے میں دیرپا امن، استحکام اور معاشی مضبوطی لائے گا۔ یہ شاندار اقدام لوگوں کو بااختیار بناکر دہشت گردی اور انتہا پسندی کے ناسور پر قابو پانے کا ایک مؤثر طریقہ ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد میں بیلٹ اینڈ روڈ کی شمولیت اس اقدام کی عظیم تر عالمی اونر شپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے عظیم ویژن کی توثیق اور ان کی سیاسی بصیرت کی عکاس ہے۔ بیلٹ اور روڈ کے تحت نئی سلک روڈز کی بحالی نے امید اور روشنی کے نئے دور کی بنیاد رکھی ہے۔ چین کے بیلٹ اینڈ روڈ پراجیکٹ سے سب سے زیادہ فائدہ پاکستان اٹھا رہا ہے۔ بھارت کی جانب سے دعویٰ کیا جاتا ہے کہ اس نے پاکستان کو دنیا بھر میں سفارتی طور پر تنہا کردیا ہے لیکن اس فورم میں پاکستان 65 ممالک کے ساتھ کھڑا نظر آ رہا ہے جبکہ بھارت تنہائی کا شکار ہو چکا ہے۔ اس فورم نے پاکستان کے تنہا ہونے کے خیال کو یکسر مسترد کردیا ہے۔ چینی صدر شی چن پنگ نے سلک روڈ منصوبے کیلئے اضافی 15 بلین ڈالر دینے کا اعلان کیا ہے جس کے بعد یہ منصوبہ 125 بلین ڈالر سے تجاوز کر گیا ہے۔ یہ دنیا میں جاری سب سے بڑے منصوبوں میں سے ایک ہے اور پاکستان اس کا سب سے زیادہ فائدہ اٹھانے والا ملک ہے کیونکہ سی پیک کے بغیر شی چن پنگ کے ویژن کی تکمیل ناممکن ہے۔یہ بات خوش آئند ہے کہ چین میں جاری فورم میں پاکستان نے بھرپور شرکت کی اور ایک دوسرے کے ساتھ خوشگوار ماحول میں وقت گزارا۔ بیجنگ میں نیا پاکستان بنتا دیکھ رہے ہیں جہاں تمام جماعتیں سیاسی اختلافات بھلا کر ملکی ترقی کیلئے ایک ساتھ کھڑی نظر آ رہی ہیں۔ ایم ایل ون ریلوے لائن کا فریم ورک معاہدہ طے پاگیا ہے جبکہ گوادر ایکسپریس وے پر 19 کلومیٹر طویل موٹروے کیلئے گرانٹ جاری کرنے کی منظوری بھی دے دی گئی ہے۔

شہباز شریف مہروں کی تکلیف میں مبتلا، آپریشن کا امکان

اسلام آباد: اپوزیشن لیڈر اور مسلم لیگ (ن) کے قائد شہباز شریف مہروں کی تکلیف میں مبتلا ہوگئے صحت یابی کے لیے ان کی کمر کے آپریشن کا بھی امکان ہے۔

شہباز شریف کو کمر میں تکلیف کی شکایت پر گزشتہ رات ایم آر آئی کے لیے پمزاسپتال لایا گیا تھا جہاں ان کے ٹیسٹ کیے گئے جن کی رپورٹ سامنے آگئی ہے۔

ایم آر آئی میں کمر کی تکلیف کی وجہ مہروں کی خرابی قرار دی گئی ہے، پمزاسپتال کا میڈکل بورڈ شہباز شریف کا ایک بار پھر طبی معائنہ کرے گا اور ڈاکٹرز کی جانب سے مہروں میں درد کے لیے میڈیسن کے ساتھ آپریشن بھی تجویز کیا جاسکتا ہے۔

واضح رہے کہ 27 دسمبر کو شہباز شریف کی کمر میں تکلیف بڑھنے پر ڈاکٹرز کو فوری طور پر طلب کرکے ان کا طبی معائنہ کرایا گیا تھا، ڈاکٹرز کی 3 رکنی ٹیم نے منسٹر انکلیو میں شہباز شریف کا معائنہ کرنے کے بعد ایم آر آئی ٹیسٹ تجویز کیا تھا۔

لیجنڈ اداکارقادرخان طویل علالت کے بعد انتقال کرگئے

ممبئی: بالی ووڈ اداکار قادر خان 81 برس کی عمر میں کینیڈا میں انتقال کر گئے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق قادرخان گزشتہ کئی برس سے اپنے بیٹے کے ساتھ کینیڈا میں رہائش پزیر تھے، شدید علالت کے باعث انہوں نے گزشتہ کئی دنوں سے بات چیت بھی بند کردی تھی۔ قادر خان کو سانس لینے میں بھی دشواری کا سامنا تھا  جس کے باعث  وہ کینیڈا کے اسپتال میں زیرعلاج تھے اورانہیں وینٹی لیٹرپررکھا گیا تھا تاہم وہ جانبر نہ ہوسکے اور81 برس کی عمر میں انتقال کرگئے۔

قادر خان کے بیٹے نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ  ہماری پوری فیملی کینیڈا میں رہائش پزیر ہے لہٰذا میرے والد کی آخری رسومات کینیڈا میں ہی ادا کی جائیں گی۔

قادرخان کے بیٹے سرفرازنے چند روز قبل میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا تھا کہ گزشتہ برس ان کے والد کا گٹھنے کا بھی آپریشن ہوا تھا لیکن آپریشن کے بعد سے ہی ان کی حالت خراب ہوتی چلی گئی۔

واضح رہے کہ 81 سالہ اداکار قادر خان نے اپنے 43 سالہ بالی ووڈ کیریئر میں 300 فلموں میں کام کیا ہے اور250 فلموں میں مکالمے لکھے ہیں۔ انہوں نے مزاحیہ اداکاری کے ساتھ منفی کردار بھی بخوبی نبھائے ہیں۔

لیجنڈ اداکار قادر خان کے انتقال پر فنکاروں نے اظہار تعزیت کیا ہے۔ بالی ووڈ کے بگ بی امیتابھ بچن نے ٹوئٹر پر اظہار تعزیت کرتے ہوئے کہاکہ قادر خان کے انتقال کی خبر سن کر بہت افسوس ہوا، وہ بہت بہترین آرٹسٹ تھے۔

اداکار انوپم کھیر نے بھی  ویڈیو پیغام کے ذریعے افسوس کا اظہار کیا۔

اداکار ارجن کپور نے بھی افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا آپ کے جانے سے بھارتی فلم انڈسٹری کو ہونےو الا نقصان کبھی پورا نہیں گا، اس کے ساتھ ہی انہوں نے آنجہانی اداکار قادر خان کے گھر والوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے ان کے لیے صبر کی دعاکی

بھارتی فلم انڈسٹری کی لیجنڈ گلوکارہ لتا منگیشکر نے قادر خان کو اپنا پسندیدہ اداکار اورمصنف قرار دیتے ہوئے کہا مجھے ان کی موت کی خبر سن کر بہت افسوس ہوا، ہماری فلم انڈسٹری نے ایک بہت اچھا فنکاراور مصنف کھودیاہے۔

Google Analytics Alternative