Home » 2019 » January » 04

Daily Archives: January 4, 2019

اے ڈی خواجہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کی جے آئی ٹی کے سربراہ مقرر

لاہور: پنجاب حکومت نے اے ڈی خواجہ کو ماڈل ٹاؤن جے آئی ٹی کا سربراہ مقرر کردیا۔

پنجاب حکومت نے اے ڈی خواجہ کو ماڈل ٹاؤن جے آئی ٹی کا نیا سربراہ مقرر کر دیا ہے، اے ڈی خواجہ اس وقت بطور آئی جی موٹرویز خدمات انجام دے رہے ہیں۔

سانحہ ماڈل ٹاؤن کی 5 رکنی نئی جے آئی ٹی  میں آئی ایس آئی کے نمائندے لیفٹیننٹ کرنل محمد عتیق الزمان، لیفٹیننٹ کرنل عرفان مراز نمائندہ ایم آئی اور محمد احمد کمال ڈپٹی ڈائریکٹر آئی بی شامل ہیں۔

سانحہ ماڈل ٹاون کی ایف آئی آر 28 اگست کو تھانہ فیصل ٹاون میں درج کی گئی اور ایف آئی آر میں دہشت گردی اور قتل سمیت دیگر دفعات لگائی گئی تھیں، جب کہ سانحے پر اس سے قبل بھی جے آئی ٹیز تشکیل دی جاچکی ہیں۔

واضح رہے کہ 5 دسمبر کو چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 5 رکنی لارجر بینچ نے ماڈل ٹاؤن میں جاں بحق خاتون کی بیٹی کی درخواست پر سماعت کی تھی۔

عدالت نے دلائل سننے کے بعد حکم دیا تھا کہ پنجاب حکومت سانحہ ماڈل ٹاؤن پر نئی جے آئی ٹی بنائے، اس کی فائنڈنگز کو سامنے لایا جائے اور ٹرائل کا حصہ بنایا جائے۔

ہمیں کچھ کرنے کی ضرورت نہیں حکومت خود گر جائے گی، شاہد خاقان عباسی

اسلام آباد: مسلم لیگ(ن) کے مرکزی رہنما شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ ہمیں کچھ بھی کرنے کی ضرورت نہیں حکومت خود اپنے وزن سے گر جائے گی۔

اسلام آباد میں مریم اورنگزیب اور مصدق ملک کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ یہ حکومت جھوٹوں کا ٹولہ ہے،  اتنے جھوٹ بولنے والے کبھی اکٹھے نہیں ہوئے ، یہ اتنی جھوٹی حکومت ہے کہ ایک دن کا بیان دوسرے دن سے نہیں ملتا، حکومت کا مشورہ ہے کہ اگر وزیراعظم، وزیر خزانہ و اطلاعات منہ بند رکھیں اور جھوٹ بولنا چھوڑ دیں تو حالات ٹھیک ہوجائیں گے۔

شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ اس حکومت میں اکثر لوگوں کو پتا نہیں ہوتا کہ ان کا کیا کام ہےخود عمران خان بھی اکثر بھول جاتے ہیں کہ وہ وزیراعظم ہیں، معیشت کے بارے میں بہت سے شکوک و شبہات پیدا ہوگئے ہیں، بجلی گیس کی قیمتوں میں اضافہ ہوگیا ہے، بے روز گاری بڑھی ہے اور افراط زر میں اضافہ ہوا ہے، ایف بی آر نے ٹیکس ریونیو 176 ارب روپے کم  جمع کیا جو حکومت کی ناکامی ہے جب کہ حکومت نے ڈالر کی قیمت بڑھائی لیکن ایکسپورٹ میں کمی آئی

(ن) لیگ کے رہنما نے کہا کہ حکومت کے اپنے ترجمان نے اپنی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے، فرخ سلیم حکومت کے معیشت پر ترجمان ہیں اور وہ کہتے ہیں کہ خطرے کی گھنٹیاں بج رہی ہیں، اب اگر خطرہ ہے تو سب کو اس پر تشویش ہونی چاہیے، ہم وزیر اعظم، وزیر خزانہ ، وزیر اطلاعات یا حکومت کے ترجمان کی بات پر یقین کریں، ان کا تو کہنا ہے کہ حکومت جھوٹ بول رہی ہے اور معیشت پر اثرات چھپانے کی کوشش کررہی ہے۔

شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ نیب قانون کالا اور اندھا قانون ہے، نیب کی جانب سے کوئی نوٹس نہیں آیا،الزام وہ لگائیں جو حقیقت ہو جو الزام لگائیں یا نوٹس دیں میں سامنا کرنے کو تیار ہوں، اسحاق ڈار کو اگر میں نے باہر بھجوایا ہے تو میرے خلاف مقدمہ درج کروائیں۔

نواز شریف نے العزیزیہ ریفرنس میں سزا معطلی کی درخواست دوبارہ دائر کردی

 اسلام آباد: سابق وزیراعظم نواز شریف نے رجسٹرار کے اعتراضات دور کرکے سزا معطلی کی اپیل دائر کردی۔

اسلام آباد ہائی کورٹ میں نواز شریف کے وکلا نے العزیزیہ ریفرنس کے فیصلے میں سنائی گئی سزا معطل کرنے کے لیے درخواست دوبارہ دائر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اصل اپیل کا فیصلہ آنے تک سزا معطل کی جائے۔

نواز شریف نے منگل کو العزیزیہ ریفرنس میں سزا کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی تھی لیکن گزشتہ روز رجسٹرار آفس نے درخواست نامکمل قرار دے کر واپس کردی تھی اور وکلا کو ہدایت کی تھی کہ درخواست مکمل کرکے دوبارہ جمع کرائیں۔

نواز شریف نے درخواست میں چیئرمین نیب، احتساب عدالت کے جج اور کوٹ لکھپت جیل لاہور کے سپرنٹنڈنٹ کو فریق بناتے ہوئے اپیلوں کی سماعت کے دوران عدالت میں پیشی کی یقین دہانی کرائی ہے۔

واضح رہے کہ اسلام آباد کی احتساب عدالت نے 24 دسمبر کو نواز شریف کو العزیزیہ ریفرنس میں 7 سال قید کی سزا سنائی تھی۔

قوم کا سرمایہ لوٹنے والے معصوم بننے کی کوشش نہ کریں، فواد چوہدری

 اسلام آباد: وزیر اطلاعات فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ بے رحمی کے ساتھ قوم کا سرمایہ لوٹنے والے آج بین کر کے معصوم بننے کی کوشش نہ کریں۔

مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں کی پریس کانفرنس پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ جے آئی ٹی رپورٹ اور سزائیں سنائے جانے کے بعد اپوزیشن کو عوام اور معیشت کی یاد ستانے لگی ہے، کاش عوام کا درد اور معیشت کی بدحالی انہیں اس وقت یاد آتی جب یہ اقتدار میں تھے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ انہی کے بوئے ہوئے کا پوری قوم خمیازہ بھگت رہی ہے، انہوں نے معیشت کی جڑیں کھوکھلی کیں، ملک کو قرض کی دلدل میں دھکیلا، بے رحمی کے ساتھ قوم کا سرمایہ لوٹنے والے آج بین ڈال کر معصوم بننے کی کوشش نہ کریں، خطرے کی گھنٹیاں بجی تھیں تو عوام نے لوٹ مار کرنے والوں کو اقتدار سے اٹھا کر باہر پھینک دیا تھا۔

فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ اپوزیشن رہنماوٴں کو چاہیے کہ وہ معاشی مسائل کے حل کے لیے آصف زرداری اور نواز شریف کے خلاف پریس کانفرنس کریں اور انہیں کہیں کہ لوٹی ہوئی دولت واپس کر دیں، اپوزیشن رہنما ایسی پریس کانفرنسز کرکے قوم کی دولت لوٹنے کے جرم میں اعانت جرم کے مرتکب ہو رہے ہیں۔

فواد چوہدری نے مزید کہا کہ باتیں کرنے والوں سے مہمند ڈیم کی تعمیر کا عملی اقدام برداشت نہیں ہو رہا، اپنا گھر بھرنے والوں کو عوام کے لیے ڈیم کا منصوبہ ہضم نہیں ہو رہا، عمران خان کی سب سے بڑی شناخت ان کی دیانت داری ہے، بددیانتی کی علامتیں مشورے دینے کی بجائے اپنے اعمال پر توبہ کریں۔

پاک فوج کے ترجمان کا انٹرویو۔۔۔۔۔۔ بھارت کو دوٹوک پیغام

adaria

ایک ڈرون واپس نہیں جاسکتا تو سرجیکل سٹرائیکس کرکے بھارتی کمانڈو کیسے واپس جاسکتے ہیں۔ بھارت کو بتانا چاہتے ہیں کہ باتوں سے سرجیکل سٹرائیکس نہیں ہوتا۔ پاک فوج کے ترجمان ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل آصف غفور نے یہ باتیں ایک انٹرویو کے دوران کہیں۔ پاک فوج کی جانب سے بھارت کو بھارت کی گیدڑ بھبکیوں اور اس کی جانب سے کی جانے والی ہرزہ سرائی کا دوٹوک جواب دیا گیا جس میں اس پر واضح کردیا گیا کہ اگر اس نے اپنے کسی بھی مذموم ارادے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کیلئے قدم اٹھایا تو اس کو منہ کی کھانا پڑے گی۔پاک فوج کے ترجمان نے واضح کیا کہ پاکستان نے ہمیشہ امن کی خواہش کی ہے اور وہ خطے میں امن چاہتا ہے، جنگ کی دھمکیوں سے مسئلے حل نہیں ہونگے، اگر بھارت نے جنگ کی تو پاک فوج بھرپور جواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ نیز انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ پاکستان افغانستان میں امن کا خواہاں ہے اور ایک مستحکم افغانستان ہی مستحکم پاکستان کیلئے بہتر ہے۔ میجر جنرل آصف غفور کی یہ بات بالکل 100فیصد درست ہے کہ اگر بھارت نے کوئی بھی قدم اٹھایا تو اسے پاکستان کی جانب سے بھرپور جواب ملے گا۔ نیز افغانستان کے حالات بھی پاکستان کے ساتھ منسلک ہیں جب وہاں امن ہوگا تو پھر پاکستان میں بھی امن ہوگابلکہ پورے خطے میں امن قائم ہوگا۔ بھارت کی جانب سے اس کے انتخابات میں پاکستان کے سلوگن کو استعمال کرنے کے بارے میں پاک فوج کے ترجمان نے کہاکہ ایسی باتیں ان کے سیاسی ا نتخابات کی ہیں، پاکستان نے اپنے ملک کے مفاد میں جو کرنا ہے کرے گا، ہمیشہ جنگ کی بات بھارت نے کی، پاکستان نے کبھی ایسی بات نہیں کی، ہم نے ہمیشہ امن کی بات کی ہے۔ انہوں نے کہاکہ بھارتی دھمکیوں کا اثر پاکستان اور انڈیا کے ساتھ ساتھ خطے کے امن پر بھی پڑتا ہے۔ حالات بہتری کی طرف جارہے تھے تو بھارت نے سیاچن کا مسئلہ کھڑا کردیا۔ میجر جنرل آصف غفور نے کہاکہ کوئی بھی ریاست جنگ کی دھمکیوں سے نہیں ڈرتی اور نہ ہی ان سے مسائل حل ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ بھارتی وزیراعظم خود کہتا ہے کہ سرجیکل سٹرائیک کو ہمارے ملک کے لوگ نہیں مانتے یہ بالکل ٹھیک ہے کہ ایک چیز جو ہوئی ہی نہیں اس کو لوگ کیسے مانیں گے۔ ترجمان پاک فوج کی یہ باتیں سو فیصد درست ہیں، بھارتی وزیراعظم کا بیان خود ہی ان کے منہ پر اپنا طمانچہ ہے، جب وہاں کے عوام ہی سرجیکل سٹرائیک کو تسلیم نہیں کرتے کہ ایسا کوئی وقوعہ پیش ہی نہیں آیا تو پھر آئے دن بھارت اور اس کی فوج کی جانب سے اس قسم کی ہرزہ سرائی کیا معنی رکھتی ہے۔ جب بھارتی عوام ہی بھارتی حکومت کے دعوؤں کو تسلیم نہیں کرتی تو یہ محض گیدڑ بھبکیوں سے زیادہ کچھ بھی نہیں اگر بھارت یہ سمجھے کہ وہ دھمکیوں سے پاکستان جیسی خودمختار ریاست کو دبا لے گا تو ترجمان پاک فوج نے واضح کردیا ہے کہ کوئی بھی ریاست کسی بھی ریاست کو دھمکیوں سے دبایا نہیں جاسکتا۔ نیز جب بھی بھارت کے انتخابات آتے ہیں تو وہ خوا ہ مخواہ پاکستان مخالف کارڈ استعمال کرنا شروع کردیتا ہے مگر شاید اس مرتبہ ایسا نہیں چل سکے گا۔پوری دنیا کے سامنے بھارتی مکروہ چہرہ بے نقاب ہوچکا ہے۔میجر جنرل آصف غفور نے یہ بھی واضح کیا کہ پاکستان میں جتنی آزادی میڈیا کوحاصل ہے اور کسی ملک میں نہیں۔ جتنی حمایت میڈیا نے مسلح افواج کو دی ہے وہ کسی کو نہیں دی گئی، جہاں تک میڈیا کی جانب سے فوج کو حمایت دینے کاتعلق ہے تو صحافت کے بنیادی اصول ہیں کہ وہ اسٹیٹ ، جوڈیشری اور آرمی کے حوالے سے انتہائی محتاط رہتی ہے چونکہ ان تینوں اداروں کا تعلق ملکی استحکام سے ہے اور کبھی بھی پاکستان میں ایسی صحافت نہیں ہوئی جس سے ملکی استحکام کو نقصان ہو، پھر پاک فوج کی قربانیوں ہی کی وجہ سے اس ملک میں استحکام ہے ، امن و امان ہے ،سرحدیں محفوظ ہیں تو کیوں نہ میڈیا پاک فوج کی حمایت کرے، ہمارے پاک فوج کے جری جوان قوم کے ماتھے کے جھومر ہیں ان کی قربانیوں کو جتنا بھی زیادہ سراہا جائے اتنا ہی کم ہے۔

172 افراد کے نام ای سی ایل میں، مسئلہ جائزہ کمیٹی کے سپرد
172افراد کے نام ای سی ایل سے فوری نکالنے کے معاملے کو وفاقی کابینہ نے جائزہ کمیٹی کے سپرد کردیا ہے اور فی الحال ان ناموں کو ای سی ایل سے نہیں نکالا جارہا ، اب کمیٹی جائزہ لے گی کہ کن افراد کے نام کو ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے نکالا جاسکتا ہے یا نہیں۔ گزشتہ روز وفاقی کابینہ کے ہونے والے اجلاس میںیہ فیصلہ کیا گیا ۔واضح رہے کہ ای سی ایل میں شامل کیے گئے 172 افراد کے ناموں سے متعلق سپریم کورٹ نے ازسرنو جائزہ لینے کا کہا تھا۔ ای سی ایل میں نام ڈالنے کا پورا طریقہ کار ہے ، متعلقہ ادارہ سفارشات وزارت داخلہ کو بجھواتا ہے اور وزارت داخلہ وہ سفارشات کابینہ میں پیش کرتا ہے جس کے بعد نام ای سی ایل میں ڈالنے یا نہ ڈالنے کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔ وفاقی کابینہ نے گورنر سندھ کی سربراہی میں ایک کمیٹی بنائی جس کی نگرانی میں وفاق کا پیسہ کراچی سمیت سندھ بھر میں خرچ ہوگا۔ چونکہ وفاقی حکومت کے یہ تحفظات ہیں کہ اگرسندھ حکومت کو براہ راست پیسہ دیا گیا تو یہ پیسہ مبینہ طورپر لندن یادبئی سے برآمد ہوگا، انہی تحفظات کو مدنظر رکھتے ہوئے کمیٹی بنائی گئی جس کے تحت چیک اینڈ بیلنس قائم کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
احتساب ہونا چاہیے انتقام نہیں
پاکستان پیپلزپارٹی کے احتساب کے حوالے سے تحفظات واضح ہیں ان کا کہنا ہے کہ احتساب کے نام پر ہماری حکومت پر ڈاکہ ڈالنے کی کوشش کی جارہی ہے، ہم بھی یہ کہتے ہیں کہ احتساب سب کا ہونا چاہیے ، ان سطور میں یہ بات متعدد بار تحریر کی جاچکی ہے کہ کسی خاص کو ٹارگٹ نہیں کرنا چاہیے اس سے احتساب پر انتقام کا الزام عائد ہو جائے گا ۔ گزشتہ روزپاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما سید نوید قمر نے کہا ہے کہ ملک میں مہنگائی بڑھ گئی،ڈالر مہنگا ہو گیا اور حکومت کہتی ہے لوٹی رقوم ملکی خزانے میں جمع کرائے گی،اگر حکومت کو لوٹی دولت کا انتظار ہے تو پھر اس ملک کا اللہ ہی حافظ ہے،پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی پر عوام کو بیوقوف بنایا گیا۔ان خیالات کا اظہار انھوں نے روز نیوز کے پروگرام سچی بات ایس کے نیازی کیساتھ میں کیا۔ایک سوال کے جواب میں پی پی رہنما سید نوید قمر نے مزید کہا کہ پاکستان میں احتساب کی تاریخ بہت گھناونی ہے،ہمارے ملک میں ہمیشہ احتساب کے نام پر سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جارہا ہے،اب کی بار بھی احتساب کے نام پر ہماری حکومت پر ڈاکہ ڈالنے کی کوشش کی جارہے ،جے آئی ٹی رپورٹ سے سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش کی جارہی ہے،ای سی ایل میں نام ڈالنے کا کوئی سینس نہیں بنتا،ای سی ایل میں تو ان لوگوں کے نام بھی ہیں جو ابھی زندہ ہی نہیں،پیپلزپارٹی کو پہلے بھی سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا گیا،ہمارے لیڈر پہلے بھی پیشیاں بھگت چکے ہیں ،آصف زرداری گیارہ سال جیل گزار چکے ہیں ،حکومت کہتی ہے کہ لوٹی گئی رقوم ملکی خزانے میں جمع کرے گی ،یہ حکومت بیوقوفوں کی جنت میں رہتی ہے ،اگر لوٹی گئی رقوم کا انتظار ہے تو پھر اس ملک کا اللہ ہی حافظ ہے،ملک میں مہنگائی بڑھ گئی ڈالر مہنگا ہو رہا ہے ،یہ تو ابھی کچھ بھی نہیں عوام انتظار کرے ابھی مستقبل میں اور بھی بحران آئیں گے۔

پارلیمنٹ میں 18 ویں ترمیم بغیر بحث کے منظور ہوئی، چیف جسٹس

اسلام آباد: چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیے ہیں کہ وفاق پر صوبوں میں اسپتال بنانے پر پابندی نہیں جبکہ پارلیمنٹ میں 18 ویں ترمیم پر بحث نہیں ہوئی۔

سپریم کورٹ میں 18 ویں ترمیم کے بعد ٹرسٹ اسپتالوں کی صوبوں کو منتقلی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔ ایڈوکیٹ جنرل نے بتایا کہ سندھ ہائی کورٹ نے اسپتالوں کی منتقلی کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے جناح اسپتال کو وفاق کے تحت کام جاری رکھنے کا حکم دیا ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ عمارت صوبے میں ہونے کا مطلب نہیں کہ صوبوں کو منتقل ہو جائے گی، قانون سازی کے لیے پارلیمان سپریم ادارہ ہے، دنیا بھر میں آئینی ترمیم سے پہلے بحث ہوتی ہے کیونکہ وہ آئین کی تشریح کے لیے اہم ہوتی ہے، پارلیمنٹ میں 18 ویں ترمیم پر بحث نہیں ہوئی، ہمارے ملک میں بغیر بحث کے ترمیم کیسے منظور ہوتی ہیں۔

وکیل رضا ربانی نے کہا کہ یہ درست ہے 18 ویں ترمیم پر پارلیمنٹ میں سیر حاصل بحث نہیں ہوئی، تاہم ترمیم کا مسودہ بنانے میں نو ماہ لگے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ وفاق پر صوبوں یا شہر میں اسپتال بنانے اور سہولیات کی فراہمی پر پابندی نہیں، صوبے اگر لوگوں کو طبی سہولت نہ دے سکیں تو وفاقی حکومت اسپتال تعمیر کرے، یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ وفاقی حکومت اسپتال بنا کر تباہ و برباد کرنے کے لئے صوبے کے حوالے کر دے۔

وکیل رضا ربانی نے کہا کہ عدالت یہ مسئلہ حل کرنے کے لئے پارلیمنٹ کو کہہ دے۔

اس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ 18 ویں ترمیم کرکے پارلیمنٹ نے اپنا کام کر دیا، اب 18 ویں ترمیم کی تشریح عدالت کا کام ہے، یہ معاملہ دوبارہ پارلیمنٹ کو نہیں بھیج رہے، قانون کی تشریح وہ ہے جو سپریم کورٹ کہے گی۔

کیا واقعی امریکہ افغانستان میں امن چاہتاہے؟

آخر کار امریکا کو افغان طالبان سے بات چیت کرنے اور انہیں مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے پاکستان کی ضرورت پڑ ہی گئی۔ گزشتہ ماہ دسمبر میں امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کو خط لکھا جس میں انہوں نے افغان تنازع کا حل نکالنے کے لیے اسلام آباد سے مدد کی درخواست کی۔ ساتھ ہی ڈونلڈ ٹرمپ نے اعتراف کیا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بڑی قربانیاں دی ہیں۔ خط میں ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’امریکا کے لیے پاکستان کے ساتھ بہتر تعلقات اور افغان تنازعہ کا حل نکالنا دونوں ہی اہمیت کے حامل ہیں‘۔ لیکن اس خط سے چندروز قبل ہی امریکی صدر نے پاکستان کے لیے امریکی امداد روکے جانے کا دفاع کیا تھا اور کہا تھا کہ پاکستان نے اب تک امریکا کے لیے کچھ نہیں کیا۔جس کے جواب میں حکومت اور اپوزیشن نے یک زبان ہو کر امریکا کو منہ توڑ جواب دیا تھا۔امریکی صدر کے خط کے بعدکہا گیا کہ امریکی نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد اس سلسلے میں پاکستان کادورہ کریں گے۔ بہر حال زلمے خلیل زاد پاکستان آئے اور وزیر اعظم عمران خان ،آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ، وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی اور سیکرٹری خارجہ سے اہم ملاقاتیں کیں۔ اس کے علاوہ انہو ں نے اسلام آباد میں تعینات مختلف ممالک کے سفیروں سے بھی ملاقاتیں کیں۔ ان کے دورہ کے اختتام پر ایک اعلامیہ بھی جاری کیا گیا جس میں کہا گیا کہ امریکی نمائندہ خصوصی نے افغان مسئلے کے سیاسی حل کیلئے امریکہ کے عزم کو دہرایا ہے جس کا مقصد یہ ہے کہ افغانستان کبھی بھی عالمی دہشت گردی کیلئے استعمال نہ ہوسکے۔ گزشتہ40 سال کی شورش کے خاتمے سے خطے کے تمام ممالک مستفید ہوں گے۔زلمے خلیل زاد کے دورہ پر فوجی سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا تھا کہ افغانستان میں امن پاکستان کیلئے بہت اہم ہے۔ پاکستان خطہ میں قیام امن اور استحکام کیلئے کوششیں جاری رکھے گا۔ حال ہی میں افغان طالبان اور امریکہ کے مابین ابوظہبی میں جاری امن مذاکرات ختم ہو ئے جس کے بعد امریکہ کا کہنا ہے کہ بات چیت مفید رہی لیکن طالبان افغانستان سے غیر ملکی افواج کا انخلا چاہتے ہیں۔ اس صورتحال میں طالبان ترجمان کا کہنا ہے کہ ان تمام مسائل کی جڑ اور افغانستان میں امن کی راہ میں رکاوٹ افغانستان میں قابض فوج کی موجودگی ہے جس کا خاتمہ ضروری ہے۔ اس کے علاوہ طالبان عام شہریوں کے خلاف بمباری روکنے اور قیدیوں کی فوری رہائی بھی چاہتے ہیں۔ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ امریکہ افغانستان میں طاقت کے استعمال سے وہ نتائج حاصل نہیں کر سکا جو چاہتا تھا۔ کیونکہ طاقت کے بے جا استعمال سے نہ تو اس کا اپنا تسلط قائم ہو سکا نہ افغان انتظامیہ کے قدم جم سکے اور نہ ہی وہ افغانستان جیسے پسماندہ ملک میں فتح کا اعلان کر سکا۔ پاکستان ہمیشہ سے یہ کہتا رہا ہے کہ اگر امریکہ افغانستان کے مسئلہ کا حل چاہتا ہے تو طاقت کے بجائے مفاہمتی عمل آگے بڑھائے ۔ پاکستان نے ہمیشہ امن کیلئے نیٹو ، امریکہ کی مدد کی۔ اتنے ڈالر، فوجی گنوا کر اب امریکہ کو ہوش آیا ہے کہ افغانستان میں امن ضروری ہے اور وہ صرف مذاکرات سے ممکن ہے، طاقت سے نہیں۔ اور مذاکرات کیلئے پاکستان کی اپنی ایک اہمیت ہے ۔ طالبان بھی پاکستان کو اپنا بڑ ا بھائی ، نمائندہ جانتے ہیں۔ لہذا امریکہ نے پاکستان سے درخواست کی کہ افغانستان میں قیام امن کیلئے پاکستان اپنا کردار ادا کرے۔ پاکستان اس وقت اس پوزیشن میں ہے کہ وہ طالبان کو مذاکرات کی میز پر لا سکتا ہے لیکن اس کیلئے ضروری ہوگا کہ افغانستان میں کٹھ پتلی حکومتوں سے نجات ملے اور امریکی افواج کا انخلا کیا جائے کیونکہ طالبان کابل حکومت کو مذاکرات میں شریک نہیں کرنا چاہتے۔ وہ براہ راست امریکہ سے مذاکرات کرنا چاہتے ہیں ۔ ویسے بھی امریکہ اب افغانستان کی صورتحال سے جان چھڑانا چاہتا ہے اور وہ کسی ایسے حل پر آنا چاہتا ہے جس سے خود اسے اپنی افواج کو یہاں سے واپس بلانا پڑے کیونکہ افغانستان کی صورتحال سے امریکہ کا بھرم اور حاکمیت کا رجحان متاثر ہوا ہے۔ اس کی آمد سے دہشت گردی میں کمی کے بجائے اضافہ ہوا ہے اور افغان مسئلے کا بگاڑ کم ہونے کے بجائے بڑھا ہے لہٰذا اب امریکہ کو خود اپنے مفاد میں پاکستان کی کوششوں اور کاوشوں کی تائید و حمایت اور سرپرستی کرنا ہوگی، مسئلہ کے حل میں معاون بننا ہوگا۔حقیقت یہ ہے کہ افغانستان میں قیام امن سے خود پاکستان کا امن و استحکام مشروط ہے۔ پاکستان یہ بات بخوبی سمجھتا ہے کہ افغانستان میں امن و استحکام کے نتیجہ میں سی پیک کے ثمرات اس خطہ تک وسیع ہو سکتے ہیں اور اس کا فائدہ افغانستان کی تعمیر نو میں بھی ہوگا۔

قادر خان کے بیٹے نے گووندا کی منافقت کا پول کھول دیا

ممبئی: بالی ووڈ کے لیجنڈ اداکار قادر خان کے بیٹے سرفراز خان نے بالی ووڈ فنکاروں کی بے حسی پر اپنے غصے کااظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ خود کو میرے والد کا بیٹا کہنے والے گووندا نے آج تک انہیں فون نہیں کیا۔

بالی ووڈ کے مرحوم اداکار و مصنف قادر خان کے ساتھ متعدد فلموں میں کام کرنےوالے اداکار گووندا نے ان کی موت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ قادر خان نا صرف ان کے استاد تھے بلکہ وہ ان کے والد کی طرح تھے۔

گووندا کے اس بیان پر قادر خان کے بیٹے سرفراز خان نے ہنستے ہوئے بالی ووڈ اداکاروں کی بے حسی بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’مہربانی کرکے گووندا سے پوچھیں کہ خود کو قادر خان کا بیٹا کہنے والے نے انہیں کتنی بار فون کرکے ان کی صحت کے متعلق پوچھاتھا، یہاں تک کہ انہوں نے میرے والد کے گزر جانے کے بعد ایک بار بھی فون نہیں کیا۔‘‘

سرفراز نے مزید کہا کہ  ’’میرے والد بالی ووڈ میں بہت سارے لوگوں کے قریب تھے لیکن امیتابھ بچن کے ساتھ ان کا خاص تعلق تھا، وہ بچن صاحب سے بے حد محبت کرتے تھے۔ والد کی بیماری کے دوران میں نے ان سے پوچھا تھا کہ آپ بالی ووڈ میں سب سے زیادہ کسے یاد کرتے ہیں تو انہوں نے کہا تھا کہ وہ امیتابھ بچن کو بہت یاد کرتے ہیں۔ میں چاہتاہوں بچن صاحب  کو یہ بات معلوم ہو کہ میرے والد آخری وقت تک صرف ان کے بارے میں ہی باتیں کرتے رہتے تھے۔‘‘

خوش قسمتی سے میرے والد کے تین بیٹے  آخری وقت میں ان کی دیکھ بھال کے لیے موجود تھے جب وہ اس دنیا سے گئے ان کے چہرے پر مسکراہٹ تھی، میرے والد کے آخری سال بہت تکلیف میں گزرے لیکن ہم نے انہیں کینیڈا کا بہترین علاج فراہم کیا۔

واضح رہے کہ اپنے چاہنے والوں کو سوگوار چھوڑ کر ہمیشہ کے لیے اس دنیا سے رخصت ہوجانے والے قادر خان کو کینیڈا میں سپرد خاک کردیا گیا ہے۔

Google Analytics Alternative