Home » 2019 » February » 01

Daily Archives: February 1, 2019

سانحہ ساہیوال متاثرین نے جے آئی ٹی لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کردی

لاہور: سانحہ ساہیوال میں جاں بحق افراد کے لواحقین اور سی ٹی ڈی اہلکاروں کے خلاف درج دہشت گردی و قتل کیس کے مدعی نے واقعے کی جے آئی ٹی کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کردیا۔

سانحہ میں جاں بحق خلیل کے بھائی جلیل نے لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب حکومت کی بنائی گئی جے آئی ٹی کو کالعدم قرار دیا جائے۔ درخواست گزار نے واقعے کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن تشکیل دینے کی استدعا کی۔

جلیل نے اپنی درخواست میں وفاقی حکومت، وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار اور آئی جی پنجاب پولیس امجد جاوید سلیمی کو فریق بناتے ہوئے کہا کہ آئی جی پنجاب اعلیٰ پولیس اہلکاروں اور سی ٹی ڈی حکام کی بچانے کی کوشش کررہے ہیں، انہوں نے اختیار نہ ہونے کے باوجود غیر قانونی طور پر جے آئی ٹی تشکیل دی، اس لیے درخواست گزار اور اس کے خاندان کو جے آئی ٹی سے انصاف کی امید نہیں ہے۔

جلیل نے کہا کہ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے بھی جے آئی ٹی کو تحقیقات روکنے کا حکم دیا ہے، اس لیے ضروری ہے کہ جے آئی ٹی کو تحقیقات کرنے سے روکا جائے۔

درخواست میں کہا گیا کہ انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے کیلئے ضروری ہے کہ پنجاب ٹربیونلز آف انکوائری آرڈیننس کے تحت ہائیکورٹ کے ججز پر مشتمل جوڈیشل کمیشن بنایا جائے، جبکہ جے آئی ٹی کی تشکیل کو غیر قانونی طور قرار دیکر تحقیقات سے روکا جائے۔

علاوہ ازیں ساہیوال واقعے میں گرفتار سی ٹی ڈی اہلکار دوران تفتیش گاڑی پر فائرنگ کے بیان سے پھرگئے اور جے آئی ٹی کو بیان میں کہا کہ کار پر فائرنگ ہم نے نہیں کی۔

ذرائع کے مطابق جے آئی ٹی نے سی ٹی ڈی کے گرفتار اہلکاروں صفدر، رمضان، سیف اللہ اور حسنین سے دوران تفتیش پوچھا کہ گاڑی پر کس نے فائرنگ کی؟ تو سی ٹی ڈی اہلکاروں  نے فائرنگ سے صاف انکار کرتے ہوئے کہا کہ خلیل، اس کے اہل خانہ اور ذیشان اپنے موٹرسائیکل سوار ساتھیوں کی فائرنگ سے مارے گئے۔

جے آئی ٹی نے پوچھا کہ گولی چلانے کا حکم کس نے دیا تھا؟ تو اہلکاروں نے کہا کہ ہمیں کسی نے حکم نہیں دیا بلکہ ہم پر فائرنگ ہوئی جس پر ہم نے صرف جوابی فائرنگ کی۔

واضح رہے کہ رواں ماہ ساہیوال میں مبینہ طور پر جعلی پولیس مقابلے میں 13 سالہ بچی سمیت 4 افراد جاں بحق ہوگئے تھے۔

آئی ایم ایف کے پاس جاتے تو مشکلات میں اضافہ ہوتا، وزیراعظم

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ آئی ایف ایم کے پاس جانے سے عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوتا  جب کہ اوورسیز پاکستانیوں سے اپیل کرتا ہوں کہ عارضی بحران پرقابو پانے کے لیے سمندر پار پاکستانی بینکوں کے ذریعے پیسے ملک میں بھجیں۔

بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے’پاکستان بناؤ سرٹیفکیٹ‘ اجراء کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ کا یہ سب سے مشکل وقت ہے ان حالات  میں آئی ایم ایف کے پاس جانا آسان راستہ تھا لیکن ان کی شرائط کڑی تھی جس سے مہنگائی مزید بڑھتی  یا پھردوست ممالک سے اتنے پیسے لیتے کہ گزارا کرتے، اس لیے آئی ایم ایف کے پاس فوری نہ جانے کا فیصلہ کیا اور کوشش ہے کہ پہلے معیشت کو بہتر کریں پھر عالمی مالیاتی فنڈ کے پاس جائیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ اوورسیز پاکستانیوں سے اپیل کرتا ہوں کہ ’پاکستان بناؤ سرٹیفکیٹ‘ خریدیں اور سرمایہ کاری کریں،  یہ اقدام ہمیں مشکل حالات سے نکلنے کے لیے مددگار ثابت ہوگا، آج بھی شوکت خانم کےلیے آدھی رقم بیرون ملک سے آتی ہے، سمندر پار مقیم پاکستانی اس سے منافع حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ ملک کی مدد بھی کرسکتے ہیں، ہم ملک کو پاؤں میں کھڑا کریں گے، سبز پاسپورٹ کی دنیا بھر میں عزت کروائیں گے، یہ ملک ترقی پزیر ممالک کے لیے ایک مثال بنے گا، ہم نے تمام سفارتخانوں کو  اوورسیز پاکستانیوں کے لیے آسانیاں اور سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ  میں اتنا خسارہ پہلے کبھی نہیں تھا، توقع نہیں تھی کہ اداروں کےحالات اتنے برے ہوں گے، پہلے تو ہمیں پتا ہی نہیں تھا کہ اداروں میں کیا ہورہا ہے، حکومت میں آنے کے 5 ماہ بعد پتا چلا کہ حالات خراب ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عارضی بحران پرقابو پانے کے لیے سمندر پار پاکستانی بینکوں کے ذریعے پیسے ملک میں بھجیں جب کہ ٹیکس کا دائرہ کار بڑھانے کے لیے ایف بی آر میں اصلاحات لارہے ہیں۔

ٹیکس کے نظام میں اصلاحات وقت کی ضرورت

adaria

وزیرِ اعظم عمران خان نے ہدایت کی ہے کہ ایف بی آر بڑے ٹیکس چوروں سے ٹیکس ریکوری اور نان فائلرز کو ٹیکس نیٹ میں لانے پر خصوصی توجہ دے ،بے نامی جائیدادوں کے حوالے سے متعلقہ قانون کے تحت رولز کی تشکیل کا عمل جلد از جلد مکمل کیا جائے ، ایف بی آر میں اصلاحات حکومت کے ریفارمز ایجنڈے کا اہم جزو ہے، بدقسمتی سے ماضی کی حکومتوں نے ملک میں ٹیکس کے نظام میں موجود خرابیوں کو دور کرنے اور ٹیکس بیس بڑھانے کو مکمل طور پر نظر انداز کیا، ایک ایسا ملک جہاں ملکی اخراجات کا 30 فیصد محض قرضوں پر جمع شدہ سود کی ادائیگیوں پر خرچ ہو رہا ہو وہاں ٹیکس کے نظام میں موجود خرابیوں کو نظر انداز کرنا مجرمانہ غفلت ہے ، ماضی میں عوام الناس اور خصوصا بزنس کمیونٹی کو ٹیکس حکام کی جانب سے ہراساں کرنے، ٹیکس وصولیوں کے پیچیدہ عمل، کرپشن اورٹیکس سے جمع شدہ رقم کو حکمرانوں کے شاہانہ رہن سہن کیلئے استعمال کرنے کی وجہ سے عام شہریوں کا اعتماد ٹیکس کے نظام اور ایف بی آر سے اٹھ چکا ہے۔ اس اعتماد کو بحال کرنے کی ضرورت ہے۔ وزیرِ اعظم کو بتایا گیا کہ ادارے کی تنظیم نو کا کام آئندہ چند ہفتوں میں شروع کر دیا جائے گا جس کیلئے جامع پلان مرتب کر لیا گیا ہے۔ تنظیم نو کا مقصد ادارے کے کلچر کو بدلتے ہوئے ٹیکس دہندگان کو خوفزدہ کرنے کی بجائے انکوٹیکس کی ادائیگی میں سہولت فراہم کرنا اور ملکی معیشت کے فروغ کو سپورٹ کرنا ہے۔نیزوفاقی حکومت نے ملک میں کاروباری طبقے کیلئے ٹیکسوں کی تعداد 47سے کم کر کے 16کرنے کا اعلان کیا ہے جبکہ ٹیکس ادائیگی کی آن لائن سہولت فراہم کردی ہے، نئی کمپنیوں کی رجسٹریشن اب ون ونڈو کے ذریعے ہوسکے گی۔ مشیر تجارت عبدالرزاق داود اور چیئرمین سرمایہ کاری بورڈ ہارون شریف نے کہا کہ پاکستان اس وقت کاروباری دوست ممالک کی فہرست میں 136نمبر پر ہے، وزیر اعظم نے اسے 100کے اندر لانے کی ہدایت کی ہے، ہمارا ہدف پانچ سال میں اس کو ٹاپ 50 ممالک کی فہرست میں لانے کا ہے، برآمد کنندگان کو 15دن میں ریفنڈملے گا۔ ملک میں سرمایہ کاری لانے کیلئے کاروبار میں آسانیاں پیدا کی جارہی ہیں ۔ پنجاب ،ای او بی آئی ، ایس ای سی پی کو ون ونڈو کے ذریعے جوڑا ہے،مارچ تک سندھ بھی اس سسٹم میں آجائے گا،بجلی کنکشن اور لوڈشیڈنگ کے اوقات سے متعلق شکایات ہیں، اب وزارت توانائی تاجروں کو ویب سائٹ پر معلومات فراہم کریگی، آسان کاروبار کیلئے چاروں صوبوں میں خصوصی یونٹ قائم کیے جائینگے،خصوصی یونٹس کاروباری افراد کو 24گھنٹے خدمات فراہم کریں گے، پاکستانی سفارتخانہ بزنس ویزہ 24گھنٹے میں فراہم کر دیتا ہے، سرمایہ کاروں کی آسانی کیلئے بزنس ویزہ بھی آن لائن کر دیا گیا ہے،ہمسایہ ملک بھی پاکستان میں سرمایہ کاری کے خواہشمند ہیں۔عوام الناس کی سہولت کیلئے فوری طور پر نئی ویب سائٹ کا اجرا اور سہولت ڈیسک کا قیام عمل میں لایا جا رہا ہے۔ ادارے کی کارکردگی کو بہتر بنانے اور شفافیت کو یقینی بنانے کیلئے انٹرنل آڈٹ کے شعبے کو ایف بی آر سے علیحدہ کیا جا رہا ہے۔ حکومت نہایت بہتر اندازکے ساتھ معاشی نظام میں تبدیلی لانے کیلئے جو اقدامات کررہی ہے وہ قابل احسن ہے، کیونکہ ٹیکسیشن کے نظام کوبہتر بنا کر ہم نہ صرف بیرونی قرضوں سے چھٹکارا پاسکتے ہیں بلکہ ملک میں معاشی ترقی کے پہیے کی رفتار کو بھی ہزار گنا زیادہ کرسکتے ہیں اس لئے ایف بی آر اور بڑے ٹیکس چوروں کے گرد گھیرا تنگ کرنے کا اقدام خوش آئند ہے اور امید ہے کہ آنے والے دنوں میں اس کے اثرات ملکی سطح پر بہتر انداز میں مرتب ہونگے۔ ان کا یہ اقدام بدنیتی پر مبنی تھا یا غفلت کی وجہ سے وہ ایسا نہ کرسکے۔ مگر اس کا نقصان یہ ہوا کہ ٹیکسیشن اور معاشی نظام پر نظر نہ رکھنے کی وجہ سے بہت سارا پیسہ دہشت گردی میں استعمال ہوا اور دہشت گردی کے خاتمے کیلئے ہمیں ایک طویل جنگ لڑنا پڑی اگر ان دنوں ٹیکسیشن کے نظام کو بہتر بنا دیا جاتا اور پیسے کی نقل و حمل پر کڑی نظر رکھی جاتی تو شاید جلد دہشت گردوں کی کمر ٹوٹ جاتی اور ہمیں ان کیخلاف اتنا نہ لڑنا پڑتا، بہرحال دیر آید درست آید، موجودہ حکومت کی جانب سے کیے جانے والے اقدامات کے باعث انشاء اللہ آنے والے دنوں میں نہ صرف بیرونی قرضوں سے چھٹکارا حاصل ہوگا بلکہ ہماری آنے والی نسلیں مضبوط معیشت کی وجہ سے خوشحال دن دیکھ پائیں گی۔

نیب بحیثیت غیر جانبدار ادارہ
قومی احتساب بیورو(نیب)کے چیئرمین جسٹس (ر)جاوید اقبال نے بیوروکریسی سے خطاب کرتے ہوئے کہاہے کہ نیب بیوروکریسی کے کام میں رکاوٹ نہیں بلکہ آسانیاں پیدا کرنے والا ادارہ ہے۔ نیب کو مردہ ادارہ قرار دیا جاتا تھا لیکن یہ اپنی آزادانہ حیثیت منوانے میں کامیاب ہوگیا، ملکی ادارے مضبوط ہوں گے تو ملک مضبوط ہوگا۔بیوروکریسی ملک کیلئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے اور اس کا ملکی ترقی میں اہم کردار ہے، بیوروکریسی کے مسائل سے آگاہ ہوں، پروپیگنڈا کیا گیا نیب کی وجہ سے بیوروکریسی نے کام کرنا چھوڑ دیا، ہزاروں مقدمات میں بیوروکریسی کے خلاف مقدمات نہ ہونے کے برابر تھے، اس پروپیگنڈے کامقصد نیب پر الزام تراشی اور بیوروکریسی کی حوصلہ شکنی تھا۔ ملک میں ایک ادارہ ایساہونا چاہیے جو سب کا بلاتفریق احتساب کرسکے اوریقیناً یہ ذمہ داری نیب بااحسن نبھانے کی کوشش کررہا ہے مگر جن لوگوں کو خدشات ہیں یا دال میں کچھ کالاہے تو وہی نیب کی جانب انگلیاں اٹھا کر اس کی حیثیت کو متنازعہ ثابت کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں مگر یہ ایک حقیقت ہے کہ نیب ایک آزاد،خودمختار اور غیرسیاسی ادارے کے طورپر اپنی حیثیت منوانے میں کامیاب ہوچکا ہے۔
سچی بات میں کہی گئی سچی باتیں
چیف ایڈیٹر پاکستان گروپ آف نیوز پیپرز اور چیئرمین روز نیوزایس کے نیازی نے اپنے پروگرام’’ سچی بات‘‘ میں گفتگوکرتے ہوئے کہا ہے کہ سوئس بینک کا مسئلہ ہویا پانامہ کا ہم نے تمام ایشوز کو اٹھایا،بہت سارے لوگوں نے لاکرز میں فارن کرنسی بھی رکھی ہے،حکومت بیرون ملک پیسہ تلاش کرنے کی بجائے اپنے بنکوں کے لاکرز کو چیک کرے تو اربوں روپے برآمد ہونگے، ہوسکتا ہے صوبہ ہزارہ بھی بن جائے، انہوں نے چیئرمین نیب جسٹس (ر)جاوید اقبال کے کام کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ درست کام کررہے ہیں۔ چیئرمین بورڈ آف انویسٹمنٹ ہارون شریف نے روز نیوز کے پروگرام ’’سچی بات‘‘ میں ایس کے نیازی سے گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ حکومت اوربزنس مین کے درمیان اعتماد کا ہونا ضروری ہے ، ہمارے اداروں میں کمیونیکیشن کا خلا بہت زیادہ ہے، اعتماد بڑھے گا تو سرمایہ کاری آئے گی، جب انویسٹمنٹ آئے گی تو اعتماد بڑھے گا،ٹیکنالوجی کے استعمال سے کرپشن پرقابو پایا جاسکتا ہے،دنیا کوپیغام جارہا ہے کہ پاکستان بزنس پرتوجہ دے رہاہے،پچھلے کچھ ہفتوں میں اسٹاک مارکیٹ میں استحکام آیا ہے، حکومت ابھی تو ایک دوسرے کے خلاف لگی ہوئی ہے، لاکرزکامعاملہ بڑا توجہ طلب ہے ۔

ویب سیریز پر فہد مصطفیٰ کی تنقید، مہوش حیات برا مان گئیں

آپ سب کو ہی یاد ہوگا کہ کچھ روز قبل نامور اداکار و میزبان فہد مصطفیٰ نے ویب سیریز میں دکھائے جانے والے نازیبا مواد پر تنقید کی تھی اور پھر موقف اختیار کیا کہ یہ تنقید غیر ملکی ویب سیریز کے لیے ہے لیکن اداکارہ مہوش حیات کو یہ تنقید بالکل پسند نہ آئی اور وہ بھڑک اٹھیں۔

واضح رہے کہ مہوش حیات، وجاہت رؤف کی ہدایات میں بننے والی ویب سیریز ’عنایہ‘ میں مرکزی کردار نبھا رہی ہیں۔

ویب سیریز ’عنایہ‘ کا آغاز 21 جنوری سے ہوا ہے، جسے ایک طرف مداحوں نے قابلِ ستائش قرار دیا، وہیں بولڈ ڈائیلاگز اور ملبوسات کی وجہ سے اسے تنقید کا بھی سامنا کرنا پڑا

ایسے میں فہد مصطفیٰ نے بھی ٹوئٹر پر ایک پیغام پوسٹ کیا، جس میں ان کا کہنا تھا کہ ’عریانیت، خراب زبان اور محض جنسی تعلقات کے بارے میں بات کرنا مواد نہیں ہے، اسے آزادی اظہار رائے کا نام مت دیں! اس طرح سے اپنے آپ کو فروخت کرنے والے اداکار بالکل بھی اچھا نہیں کر رہے’۔

فہد مصطفیٰ نے یہ بھی مشورہ دیا تھا کہ ’ویب سیریز اور مختصر فلموں کو تھوڑے وقار کا مظاہرہ کرنا چاہیے یا پھر انہیں اسے پورن (فحش مواد) کا نام دے دینا چاہیے۔’

Fahad Mustafa

@fahadmustafa26

Nudity ,abusive language and just talking about sex is not content .lets not call it freedom of speech ! Actors selling themselves very cheaply its not cool at all .web series and short films needs to be a little dignified or they should just call it porn ..

2,817 people are talking about this

اب فہد مصطفیٰ نے تو اپنے خیالات کا اظہار کردیا، لیکن کچھ لوگوں کو شاید یہ لگا کہ انہوں نے اپنی ٹوئیٹ میں ڈھکے چھپے الفاظ میں وجاہت رؤف کی ویب سیریز ‘عنایہ’ کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ اپنی اگلی ہی ٹوئیٹ میں فہد مصطفیٰ نے وجاہت رؤف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ یہ تنقید غیرملکی ویب سیریز کیلئے ہے، لوگ تو بس بات کا پتنگڑ بنا رہے ہیں۔

وجاہت رؤف نے تو خیر فہد مصطفیٰ کی ٹوئیٹ پر کوئی ردعمل نہیں دیا، لیکن مہوش حیات خاموش نہ رہیں اور انہوں نے انسٹاگرام پر لکھا، ’ انتہائی افسوس ہے کہ کچھ لوگ ’عنایہ‘ کی مکمل سیریز دیکھے بغیر ہی بیان بازی کر رہے ہیں، دو مکالموں کے علاوہ بھی سیریز میں دیکھنے کیلئے بہت کچھ ہے جو کہ آج کی نوجوان نسل کی حقیقی عکاسی ہی نہیں بلکہ مواد اور مناظر کے اعتبار سے بالکل درست بھی ہے‘۔

اداکارہ نے مزید لکھا کہ ’سجھدار بنیں اور اس بات کو مانیں کہ کچھ الفاظ کی وجہ سے قوم خراب نہیں ہوتی۔’

اب مہوش حیات نے تو اپنے دل کی بھڑاس نکال لی لیکن انہوں نے کسی کا بھی نام واضح نہیں کیا، تاہم لگتا یہی ہے کہ ان کا اشارہ فہد مصطفیٰ کی ہی جانب تھا۔

یاد رہے کہ مہوش حیات اور فہد مصطفیٰ کی جوڑی پاکستانی فلم انڈسٹری کی سب سے زیادہ پسند کی جانے والی جوڑی ہے، دونوں ایک ساتھ ’نامعلوم افراد‘، ’ایکٹر اِن لاء‘ اور ‘لوڈ ویڈنگ’ جیسی کامیاب فلموں میں کام کرچکے ہیں۔

کابینہ نے حج پالیسی کی منظوری دیدی، سبسڈی نہ دینے کا فیصلہ

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت ہونے والے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں حج پالیسی 2019 کی منظوری دے دی گئی۔

وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں حج پالیسی 2019 پیش کی گئی اور حج اخراجات اور سہولیات سے متعلق بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ اس سال وفاقی حکومت نے فی حاجی 45 ہزار سبسڈی دینے کافیصلہ کیا ہے تاہم اس فیصلے کو مسترد کردیا گیا اور رواں برس سبسڈی نہ دینے کا فصیلہ کیا گیا ہے۔

حج کے اخراجات کو دو زونز میں تقسیم کیا گیا ہے، شمالی زون کے حج اخراجات 4 لاکھ 36 ہزار 975 روپے اور جنوبی زون کے حج اخراجات 4 لاکھ 26 ہزار روپے ہوں گے،اجلاس میں پالیسی کے مندرجات پر غور کے بعد حج پالیسی 2019 کی منظوری دے دی گئی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ دوران بریفنگ کابینہ کو بتایا گیا کہ اس سال 80 سال یا زائد عمر کے افراد کو بغیر قرعہ اندازی حج پر بھجوایا جائے گا اور مسلسل 3 سال ناکام رہنے والوں کو بھی اس سال بغیر قرعہ اندازی حج پر بھجوایا جائے گا جب کہ سرکاری کوٹا 60 اور نجی ٹورز آپریٹرز کا کوٹا 40 فی صد ہوگا، حج درخواستیں 20 فروری سے وصول کی جائیں گی اور اس سال ایک لاکھ 84 ہزار 210 پاکستانی فریضہ حج ادا کریں گے۔

اجلاس میں مستقبل کے ورک پلان سے متعلق سمری پیش کی جائے گی اور سول سروس ریفارمز اورری اسٹرکچرنگ سے متعلق سمری بھی پیش کی جائے گی۔

 

پیاز کھانا ذیابیطس کی روک تھام کیلئے مفید

پیاز تقریباً ہر پکوان میں شامل کی جاتی ہے، یہ کسی بھی پکوان کو ذائقہ دار بنانے کے لیے سب سے اہم سبزی ہے۔

پیاز کو کاٹنا یقیناً کافی مشکل کام ہے، لیکن اس کے بہت زیادہ فوائد بھی ہیں۔

پیاز میں ایسے اینٹی بیکٹیریل کمپاؤنڈز موجود ہوتے ہیں جو سردی میں نزلہ زکام کی روک تھام کے لیے بھی مفید ہیں۔

پیاز کھانے سے دل کی صحت بھی بہتر ہوتی ہے جس سے کولیسٹرول بھی کنٹرول میں رہتا ہے۔

پیاز میں آئرن، فائبر، پوٹاشیم اور وٹامن سی بھی موجود ہوتا ہے، لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ پیاز ٹائپ 2 ذیابیطس کے شکار افراد کے لیے بھی بہت مفید ہے؟

پیاز کھانے کے کئی فوائد یہاں مندرجہ ذیل ہیں:

1- خون میں شوگر کی سطح کو کنٹرول رکھنے کے لیے پیاز کارآمد مانی جاتی ہے۔

2- پیاز میں ایسے کمپاؤنڈز موجود ہیں جو ذیابیطس کی تمام علامات کو ختم کرتا ہے۔

3- سرخ پیاز میں فائبر کی تعداد زیادہ ہوتی ہے، فائبر کسی بھی قسم کے کھانے کو دیر سے ہضم کرتا ہے، اور یہی وجہ ہے کہ فائبر ہماری صحت کے لیے بےحد ضروری ہے، کیوں کہ کھانے کو ہضم کرنے کے لیے خون میں موجود شوگر حرکت میں آتی ہے جس سے بلڈ شوگر لیول مستحکم رہتی ہے۔

4- ذیابیطس میں مبتلا افراد کو ایسی غذاؤں سے دور رہنے کی تاکید کی جاتی ہے جن میں کاربوہائیڈریٹس کی تعداد زیادہ ہو، اور پیاس ایک ایسی چیز ہے جس میں کاربز کافی کم تعداد میں موجود ہوتے ہیں۔

5- پیاز میں کیلوریز کی مقدار بھی کافی کم ہوتی ہے، جس سے وزن کنٹرول میں رہتا ہے، دھیان رہے کہ پیاز کو صحیح انداز میں پکایا جائے جبکہ بہت زیادہ تیل کا استعمال نہ کیا جائے۔

کہا جاتا ہے کہ کچی پیاز بھی صحت کے لیے کافی مفید ہے، تاہم دن میں بہت زیادہ پیاز کھانا نقصان دہ بھی ثابت ہوسکتا ہے۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

یکجہتی کشمیراور ۔۔۔۔۔۔!

asgher ali shad

سبھی جانتے ہیں کہ سید علی گیلانی ، میر واعظ عمر فاروق ، یاسین ملک ، شبیر شاہ اور سبھی حریت قیادت ہر چند دنوں کے بعد گرفتار کر لی جاتی ہے اور ’’ بر ہان وانی ‘‘ کی شہادت بعد سے تو یہ سلسلہ ہے کہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا ۔ علاوہ ازیں مقبوضہ ریاست ، آزاد کشمیر اور پاکستان کے طول و عرض میں یکجہتی کشمیر کا دن منایا جا رہا ہے ۔ اسی پس منظر میں مبصرین نے کہا ہے کہ بھارتی حکومت نے مقبوضہ کشمیر میں جو ظلم و زیادتی کا بازار گرم کر رکھا ہے اس سے کون آگاہ نہیں ۔ درندگی کی انتہا یہ کہ پیلٹ گنوں کے استعمال سے سینکڑوں نہتے کشمیریوں سے ان کی بینائی مکمل طور پر چھین لی گئی ۔ وحشت و بربریت کے ان واقعات کو محض انسانی حقوق کی پا مالی قرار دینا بھی بہت چھوٹی بات ہے کہ ایسی صورتحال کے اظہار کے لئے لفظ بھی ساتھ چھوڑ جاتے ہیں ۔ تازہ ترین رپورٹس کے مطابق صرف دسمبر 2018 کے مہینے میں 31 نہتے کشمیریوں کو شہید کیا گیا جبکہ 375 افراد زخمیوں کی فہرست میں شامل ہیں ۔ 162 کشمیریوں کو جرمِ بے گناہی میں گرفتار کیا گیا ۔ 18 دکانوں اور مکانوں کو مسمار کیا گیا ۔ 2مزید خواتین کو بیوگی کے لق و دق صحرا میں دھکیل دیا گیا اور ماہِ جنوری کے دوران چھ خواتین سے اجتماعی بے حرمتی کے واقعات پیش آئے ۔ دوسری طرف یہ بات بھی غالباً انسانی ضمیر کو جھنجھوڑنے کے لئے کافی ہونی چاہیے کہ مصدقہ اطلاعات کے مطابق محض اس مہینے کے دوران بے شمار کشمیری ایسے لا پتہ افراد کی فہرست میں شامل ہیں جو بظاہر ہندوستان کی ریاستی دہشت گردی کے نتیجے میں یقیناًشہید کیے جا چکے ہیں مگر چونکہ ایسے تمام افراد کی شہادت کی تصدیق نہیں ہو سکی لہٰذا ان کے لواحقین عجیب سی صورتحال میں مبتلا ہیں کیونکہ ایسی شادی شدہ خواتین کو نہ تو بیواؤں میں شمار کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی کسی دوسرے زمرے میں ۔ معاشرتی اور سماجی حوالے سے یہ اتنا بڑا انسانی المیہ ہے جس کا شاید تصور بھی کسی ذی نفس کے سواہانِ روح ہو مگر اسے عالمی ضمیر کی بے حسی کہا جائے یا انسان دوست ہونے کے دعویدار حلقوں کا تجاہلِ عارفانہ کہ اس معاملے کی سنگینی کا خاطر خواہ انداز سے اظہار تک نہیں کیا جا رہا ۔ غیر جانبدار میڈیا رپورٹس کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق جنوری 1989 سے اکتیس دسمبر 2018تک 95,265کشمیریوں کو شہید کیا گیا ۔ 7,120افراد کو حراست کے دوران شہید کیا گیا جبکہ 145,504معصوم شہریوں کو گرفتار کیا گیا اور109,201مکانوں اور رہائشگاہوں کو مسمار یا نذرِ آتش کیا گیا ۔ بھارتی بربریت کے نتیجے میں 22,896خواتین کو بیوہ کیا گیا جبکہ 107,754بچوں کے سر سے ان کے والدین کا سایہ ہمیشہ کیلئے چھن گیا ۔ اس کے علاوہ 11,111خواتین کے ساتھ اجتماعی بے حرمتی کے مکروہ واقعات پیش آئے ۔ اس ضمن میں یہ بات بھی قابلِ توجہ ہے کہ یہ مندرجہ بالا اعداد و شمار انتہائی محتاط اندازوں پر مبنی ہیں وگرنہ تو اکثر ذرائع اس سے کئی گنا زیادہ نقصانات کا اظہار کرتے آئے ہیں ۔ اسی پس منظر میں مقبوضہ کشمیر کے سابق کٹھ پتلی وزیراعلیٰ عمرعبداللہ بھی بھارتی سرکار پر کڑی تنقید کہہ چکے ہیں کہ ’’ کشمیر میں حالات کی خرابی کا ذمہ دار پاکستان کو کسی بھی صورت نہیں ٹھہرایا جاسکتا اورجموں کشمیر میں حالات کی خرابی سے متعلق پاکستان پر الزام لگا کر غلط تاثر دیا جاتا ہے، بھارتی سرکار ہمیشہ اپنے آپ کو بچاتی ہے اور الزام پاکستان پر ڈالنا ان کیلئے آسان حربہ ہے۔ ‘‘موصوف نے کہا تھا کہ’’ ہم نے بارہا بھارتی حکومت کو سمجھایا ہے کہ کشمیر میں بے امنی پاکستان نے پیدا نہیں کی بلکہ یہ ہمارے اپنے فیصلوں کا نتیجہ ہے، حالات کی بہتری کیلئے بھارتی سرکار کشمیریوں سے کئے اپنے وعدے پورے کرے‘‘ ۔یاد رہے کہ اس سے محض چند روز پہلے مقبوضہ ریاست کے سابق وزیر اعلیٰ اور عمر عبداللہ کے والد ’’ فاروق عبداللہ ‘‘ نے بھی انتہائی سخت لہجے میں مودی سرکار کے لتے لیتے ہوئے وہ لب و لہجہ استعمال کیا تھا جو یقیناًناقابلِ اشاعت ہے ۔ فاروق عبد اللہ نے کہاکہ دہلی سرکار نے جموں و کشمیر میں انسانیت و جمہوریت کا گلا گھونٹ دیا ہے، موب لنچنگ، گھرواپسی کا ذکرکرتے ہوئے فاروق عبداللہ نے کہا کہ سب کا ساتھ، سب کا وکاس کہا ں چلا گیا؟ ۔علاوہ ازیں سابق کٹھ پتلی وزاعلیٰ مقبوضہ جموں و کشمیر محبوبہ مفتی نے بھی بارہا دہلی سرکار کو مقبوضہ ریاست میں انسانی حقوق کی بدترین پامالیوں پر آڑے ہاتھوں لیا۔ بہر کیف ایسے میں یومِ یکجہتی کے حوالے سے دنیا بھر کے انسان دوست حلقے اس عزم کا اعادہ کر رہے ہیں کہ بھارت کی تمام تر دہشتگردی کے باجود بالاخر کشمیری قوم اپنا پیدائشی حق حاصل کر کے رہے گی ۔

****

پاکستان کا نصر بیلسٹک میزائل کا ایک اور کامیاب تجربہ

راولپنڈی: پاکستان نے زمین سے زمین تک مارکرنے والے بیلسٹک میزائل ’نصر‘ کا ایک اور کامیاب تجربہ کیا ہے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق پاکستان نے زمین سے زمین تک مارکرنے والے نصر بیلسٹک میزائل کا 28 جنوری کے بعد آج ایک اور کامیاب تجربہ کیا ہے، میزائل تجربے کے دوسرے مرحلے میں پرواز اور ہدف تک پہنچنے کی صلاحیتوں کا جائزہ لیا گیا۔

آئی ایس پی آر کے مطابق بیلسٹک میزائل نصر ہدف تک کامیابی سے پہنچنے کی صلاحیت کاحامل ہے اور میزائل نصر بغیر نشاندہی کامیابی سے ہدف تک پہنچنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔

آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان کے مطابق میزائل تجربے کے موقع پر چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل زبیر محمود حیات سمیت اعلیٰ عسکری حکام، سائنسدان اور انجینئرز بھی موجود تھے، اس موقع پر چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل زبیرمحمود حیات کا کہنا تھا کہ تجربے سے دفاعی صلاحیتوں پر ایک اورسنگ میل عبور کرلیا، ویپن سسٹم کے کامیاب تجربے پر ماہرین مبارکباد کے مستحق ہیں۔

Google Analytics Alternative