Home » 2019 » February » 02

Daily Archives: February 2, 2019

نواز شریف کو جیل سے اسپتال منتقل کیاجائے، میڈیکل بورڈ کی سفارش

 لاہور: میڈیکل بورڈ نے سابق وزیر اعظم نوازشریف کو جیل سے اسپتال منتقل کرنے کی سفارش پر مبنی رپورٹ محکمہ داخلہ پنجاب کو بھجوادی ہے۔

سابق وزیر اعظم نواز شریف مختلف امراض میں مبتلا ہیں۔ان کے طبی معائنے کے لیے پنجاب حکومت کی جانب سے امراض قلب کے ماہرین پر مشتمل خصوصی میڈیکل بورڈ تشکیل دیا گیا تھا۔ جس نے 30 جنوری کو دو گھنٹے تک کوٹ لکھپت جیل میں نواز شریف کا طبی معائنہ کیا تھا۔

میڈیکل بورڈ نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کا بلڈ پریشر ، ای سی جی اور خون کے نمونے حاصل کیے جبکہ نواز شریف کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان نے میڈیکل بورڈ کو نواز شریف کی دل کی بیماری سے متعلق ہسٹری پر بریفنگ دی تھی۔

میڈیکل بورڈ نے جیل میں نواز شریف کا معائنہ کرنے اور میڈیکل رپورٹس کی روشنی میں رپورٹ مرتب کر کے محکمہ داخلہ پنجاب کو بھجوادی ہے جس میں انہیں جیل سے اسپتال منتقل کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔

اب پاکستان کے فیصلے ملک میں ہی ہوں گے، شہریار آفریدی

کوہاٹ: وزیر مملکت برائے داخلہ شہر یار آفریدی کا کہنا ہے کہ اب اس ملک کے فیصلے پاکستان میں ہی ہوں گے اور پاکستان کسی کے سامنے سر نہیں جھکائے گا۔

کوہاٹ یونیورسٹی میں چین کے تعاون سے قائم کیے گئے سنٹر فار ٹریننگ ٹیچنگ اینڈ ریسرچ سنٹر کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر مملکت برائے داخلہ شہر یار آفریدی کا کہنا تھا کہ پاکستان کی ترقی کی راہ میں روڑے اٹکانے کیلئے اب مخالفین پی ٹی آئی حکومت اور عمران خان کے خلاف پروپیگنڈے کررہے ہیں تاہم حکومت ملک کی ترقی کے ایجنڈے پر ثابت قدم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کا نعرہ انصاف اور امن ہے، وزیراعظم نے دنیا کے اندازوں کو غلط ثابت کردیا، اب اس ملک کے فیصلے پاکستان میں ہی ہوں گے اور پاکستان کسی کے سامنے سر نہیں جھکائے گا۔

شہر یار آفریدی کا کہنا تھا کہ امن اور ترقی ہمارا مستقبل ہے، پاکستان دشمنوں کو پیغام دیتے ہیں کہ ہم ایک ہیں اور غیرت مند قوم کی طرح دنیا کے ملکوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنا جانتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان پر دشمنوں نے ایک جنگ مسلط کی اور ہمیں آپس میں لڑانے کی کوشش کی گئی تاہم عوام اور سیکورٹی فورسز نے دشمنوں کے عزائم خاک میں ملا دیے۔

کٹھ پتلی حکومت ہمارے لئے مشکلات پیدا نہیں کرسکتی، بلاول بھٹو زرداری

کندھ کوٹ: پاکستان پیپلز پارٹی کےچیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ کوئی بھی کٹھ پتلی حکومت ہمارے لئے مشکلات پیدا نہیں کرسکتی۔

کندھ کوٹ میں تقریب سے خطاب اور میڈیا سے بات کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ روٹی، کپڑا اور مکان ذوالفقار بھٹو کا نعرہ تھا، پیپلز پارٹی کا نظریہ اسی فلسفے پر قائم ہے، پاکستان پیپلز پارٹی  نے تمام اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ بات کرکے یہ طے کیا ہے کہ ہم  پاکستانی عوام کے جمہوری، انسانی اورمعاشی حقوق  پر سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ ہم اپنی جمہوری جدوجہد جاری رکھیں گے اور کامیابی ہماری ہوگی۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین کا کہنا تھا کہ  18 ویں ترمیم  جو سندھ کومضبوط کرتی ہے خطرے میں ہے اس پر  ہر طرف سے حملے ہوہے ہیں، وفاق 18ویں ترمیم پرعمل نہیں کررہا، سندھ نے قومی سطح کے ادارے بنائے جنہیں چھیننے کی کوشش کی جارہی ہے، وزیراعظم کے اپنے وزیر 18ویں ترمیم کے خلاف ہیں، وزیراعظم جہاں جاتےہیں صدارتی نظام کی بات کرتےہیں، وہ سابق ایوب خان کی بہت تعریف کرتے ہیں، 18 ویں ترمیم پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہونے دیں گے، آئین کے تحت صوبے کے وسائل پر صوبوں کا حق ہے، ہمیں ہماراحق ملنا چاہیے۔ پاکستان پیپلز پارٹی ان تمام قوتوں کا مقابلہ کرے گی اورہم 18 ویں ترمیم پر آنچ نہیں آنے دیں گے۔

چیئرمین پیپلز پارٹی کا کہنا تھا کہ سلیکٹڈ حکومت عوام کےمسائل حل نہیں کرسکتی، عمران خان نے جو بھی کہا وہ جھوٹ ہی نکلا ہے، حکومت  نےنوکریاں دینے کاوعدہ کیا تھا لیکن نئی حکومت نےعوام سے نوکریاں چھینی ہیں، ہر انڈسٹری اور ہر شعبے میں لوگوں کو بے روزگار کیا گیا ہے۔ پنجاب میں عثمان بزدار جیسا وزیراعلیٰ بنادیا، جس پر بےچارے وسیم اکرم بھی کہہ رہے ہیں کہ میرا کیا قصور ہے۔

آصف زرداری اور نواز شریف کے سیاسی مستقبل کے حوالے سے بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ سیاست میں عوام اور کرکٹ میں امپائر کی مرضی چلتی ہے، کوئی بھی کٹھ پتلی حکومت ہمارے لئے مشکلات پیدا نہیں کرسکتی۔

 

عوام کی زندگیوں میں واضح تبدیلی حکومت کا منشور ہے، وزیراعظم

اسلام آباد  : وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ عوام کی زندگیوں میں واضح تبدیلی لانا پی ٹی آئی حکومت کا منشور ہے۔

وزیر اعظم عمران خان سے کوہاٹ اور ڈیرہ اسماعیل خان سے پی ٹی آئی کے ممبران قومی اسمبلی نے ملاقات کی جس میں علی امین گنڈاپور، شاہد احمد، نورین فاروق ابراہیم، شاندانہ گلزاراور یعقوب شیخ شامل تھے۔ ملاقات میں وزیراعظم کے معاون خصوصی نعیم الحق، ترجمان ندیم افضل چن اور سیکرٹری جنرل ارشد داد بھی موجود تھے۔

ممبران قومی اسمبلی نے وزیراعظم کو حلقوں کے متعلق مسائل سے آگاہ کیا، اس موقع پر وزیراعظم کی ممبران کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کرانے کی یقین دہانی کرواتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخواہ کے عوام کی بہتری کے اقدامات کو مزید آگے بڑھائیں گے، تعلیم ، صحت اور دیگر شعبوں میں تبدیلی کا عمل مستحکم کریں گے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ صوبہ خیبر پختونخواہ میں سیاحت کا بے پناہ صلاحیت ہے، سیاحت کے فروغ سے صوبائی اور ملکی معیشت کو فائدہ ہوگا جب کہ عوام کی زندگیوں میں واضح تبدیلی لانا پی ٹی آئی حکومت کا منشور ہے۔ وزیراعظم نے صوبائی حکومت کو کرک اور ڈی آئی خان میں پانی کی فراہمی کا پلان تشکیل دینے کی بھی ہدایت کی۔

امریکا نے فلسطین میں امدادی سرگرمیاں بند کردیں

غزہ: امریکی امدادی ادارے یو ایس ایڈ نے فلسطینی علاقوں میں امدادی سرگرمیاں بند کر دی ہیں۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکا کے بین الاقوامی امدادی ادارے یو ایس ایڈ نے فلسطینی علاقوں مغربی کنارے اور غزہ پٹی پر ہر قسم کی امدادی سرگرمیوں کے سلسلے کو روک دیا ہے۔

امریکی حکام کا موقف ہے کہ امدادی سرگرمیوں کی بندش فلسطینی اتھارٹی کی درخواست پر کی گئی ہے اور اب تک ایسے شواہد نہیں ملے کہ یو ایس ایڈ مستقل بنیادوں پر سرگرمیاں بند کر رہا ہے۔

فلسطینی اتھارٹی کی جانب سے یو ایس ایڈ کی سرگرمیاں بند ہونے پر کسی قسم کا تبصرہ نہیں کیا گیا ہے تاہم مغربی کنارے اور غزہ کی پٹی پر امدادی کیمپ میں سرگرمیان ماند پڑگئی ہیں۔

واضح رہے کہ گزشتہ برس ستمبر میں امریکی حکومت نے فلسطینی پناہ گزینوں کی بہبود کے لیے کام کرنے والی اقوام متحدہ کی ’ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی‘ (UNRWA) کی مالی امداد مکمل طور پر ختم کر دی تھی۔

کوشش ہے معیشت کو بہتری کی طرف لے جایا جائے ،اسد عمر

اسلام آباد: وفاقی وزیرخزانہ اسد عمر کا کہنا ہے کہ کوشش ہے معیشت کو بہتری کی طرف لے جایا جائے۔

سینیٹ کا اجلاس چیئرمین صادق سنجرانی کی زیرصدارت ہوا جس میں وزیرخزانہ اسد عمر نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن کے سینٹرز کوسیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے لیے میں بار بار یاد آتا تھا، آج میں موجود ہوں لیکن اپوزیشن ایوان میں موجود نہیں۔

اسد عمر نے کہا کہ حال ہی میں ہم نے بجٹ پیش نہیں کیا بلکہ وہ معاشی اصلاحات پیکج ہے، کوشش ہے معیشت کو بہتری کی طرف لے جایا جائے، جنوری میں اسٹاک ایکسچینج میں اضافہ ہوا ہے، جتنا نقصان اسٹاک مارکیٹ کو 2018 میں ہوا تھا وہ جنوری میں ریکور ہوگیا۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی بونڈ مارکیٹ میں ایشا میں سب سے زیادہ بہتری پاکستانی بونڈز میں ہوئی جب کہ بینک میں اعتماد بحال ہو رہا ہے۔

حج پالیسی نظرثانی کی ضرورت۔۔۔پاکستان بناؤ بانڈزکا اجراء

adaria

ہر مسلمان کی زندگی میں خواہش ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے کم ازکم ایک دفعہ حرم پاک اور روضہ رسولﷺ کا دیدار نصیب عطا فرمائے، جس دن سے مسلمان گھرانے میں بچہ پیدا ہوتا ہے تو وہ یہی خواہش لیکر پروان چڑھتا ہے کہ وہ زندگی میں حج ضرور کرے اس کیلئے تگ ودو بھی کرتا رہتا ہے۔ گزشتہ ہونے والے حج کو دیکھا جائے تو حکومت اس میں عازمین کو سبسڈی دیتی تھی جس سے حج سستا ہوتا تھا اور غریب آدمی کی زندگی کی خواہش بھی پوری ہو جاتی تھی۔ پاکستان تو پھر بھی ایک نظریاتی مملکت ہے جس کی بنیاد اسلام پر ہے، پڑوسی ملک بھارت تک میں اتنا مہنگا حج نہیں ہے وہ تو حجاج کرام کو 40دن تک کھانا بھی فراہم کرتے ہیں تاہم گزشتہ حکومت نے بھی یہ کام شروع کردیا تھا مگر امسال وفاقی کابینہ نے جو حج پالیسی کی منظوری دی ہے وہ عازمین کیلئے انتہائی مایوس کن ہے۔ اب حج کی سعادت چار لاکھ سے زائد رقم ادا کرنے پر حاصل کی جاسکتی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ملک معاشی بحران کا شکار ہے لیکن یہ کام تو اللہ اور اسکے رسولﷺ کی رضا کیلئے کیا جاتا ہے، حکمرانوں کے اپنے اللے تللے اتنے ہوتے ہیں اگر ان پر ہی قدغن لگا دی جائے تو یہ سارا خرچہ نکل سکتا تھا۔ نامعلوم حکومت کیا کررہی ہے۔ اگر گورنمنٹ یہ چاہتی ہے کہ اس حج پالیسی سے اسے عوام میں پذیرائی ملے گی تو یہ اس کی خام خیالی ہے۔حجاج کرام کیلئے جتنی زیادہ سے زیادہ سہولیات پیدا کی جائیں اتنا ہی اللہ تعالیٰ رحمتیں نازل کرتا ہے۔ اب خدانخواستہ ملک اتنا بھی دیوالیہ نہیں کہ حج اتنا مہنگا کردیا گیا ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ اس پالیسی پرنظرثانی کرے۔وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت ہونے والے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں حج پالیسی 2019ء پیش کی گئی ۔وفاقی کابینہ نے حج پالیسی 2019 کی منظوری دے دی ہے جس کے تحت اس سال حکومت کسی قسم کی کوئی سبسڈی نہیں دے گی اس سال ایک لاکھ 84ہزارپاکستانی فریضہ حج اداکریں گے۔ شمالی زون کے حج اخراجات 4 لاکھ 36 ہزار 975 روپے اور جنوبی زون کے حج اخراجات 4 لاکھ 27 ہزار 975 روپے ہوں گے جو کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں ڈیڑھ لاکھ روپے زیادہ ہیں۔ درخواستیں 20فروری سے وصول کی جائیں گی جبکہ اس سال کوئٹہ سے بھی حج پروازیں چلانے کا فیصلہ کیاگیاہے ۔ کابینہ کوبتایا گیا کہ حج درخواستیں 20 فروری سے وصول کی جائیں گی۔اجلاس کے دوران وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ وہ حج پراسیس کو خود مانیٹر کریں گے اور حاجیوں کو دی جانے والی سہولیات پر کسی قسم کا کوئی سمجھوتا نہیں کیا جائے گا۔ سرکاری کوٹہ 60 فیصد اور نجی ٹورزآپریٹرز کا کوٹہ 40 رکھا گیا ہے۔اس سال 80 سال یا زائد عمر کے افراد اور مسلسل تین سال سے ناکام رہنے والوں کو بغیر قرعہ اندازی حج پر بھجوایا جائیگا۔حکومت نے حاجیوں کو کوئی سبسڈی نہ دیکرحج مہنگاکردیاہے ۔ گزشتہ سال اس مذہبی فریضے کو ادا کرنے میں 2 لاکھ 85 ہزار روپے کے اخراجات سامنے آئے تھے جبکہ اس مرتبہ وہی حج اب سوا چار لاکھ روپے میں ہوگا۔ اتنے پیسے کس غریب کے پاس ہونگے کہ وہ حج جیسی سعادت حاصل کرسکے۔ نیز وزیراعظم عمران خان نے بیرون ملک پاکستانیوں کیلئے پاکستان بناؤ سرٹیفکیٹ کااجرا کردیا ۔ پاکستان بناؤ سرٹیفکیٹ خصوصی طور پر سمندر پار مقیم پاکستانیوں کیلئے جاری کیا گیا جس میں کم از کم سرمایہ کاری کی شرح 5 ہزار ڈالر مقرر کی گئی ہے، سرٹیفکیٹ کے تحت تین سال کیلئے اس پر منافع کی شرح 6.25 اور پانچ سال کیلئے منافع کی شرح 6.75 فیصد مقرر کی گئی ہے، سرمایہ کاری کا طریقہ کار انتہائی آسان ہے، سمندر پار پاکستانی ویب پورٹل کے ذریعے بھی زیادہ سے زیادہ 15 منٹ میں سرمایہ کاری کر سکتے ہیں، پاکستان بناؤ سرٹیفکیٹ کے منافع پر ٹیکس نہیں ہو گا جبکہ منافع ڈالر اور روپے دونوں میں ادا ہو سکے گا، ایک فیصد انکیشمنٹ پر سرمایہ کاری میں لگائی گئی رقوم بھی واپس ہو سکتی ہیں، پاکستان بناؤ سرٹیفکیٹ کیلئے سائبر سکیورٹی کا بہترین، محفوظ اور جدید ترین طریقہ کار وضع کیا گیا ہے، سمندر پار مقیم پاکستانیز 30 جون 2019تک پاکستان بناؤ سرٹیفکیٹ میں سرمایہ کاری کر سکیں گے۔سمندر پار مقیم پاکستانیوں سے اسکیم میں زیادہ سے زیادہ سرمایہ کار اس کے ذریعے بیرون ممالک مقیم محب وطن پاکستانی ملکی تعمیر و ترقی میں اپنا بھرپور کردار ادا کر سکتے ہیں، پاکستان بناؤ سرٹیفکیٹ میں بیرون ممالک مقیم پاکستانیوں کی سرمایہ کاری سے معاشی مشکلات اور ادائیگیوں کے توازن پر قابو پانے میں مدد ملے گی، ادائیگیوں کا توازن ختم نہیں ہوا تاہم اس میں بہتری آئی ہے،موجودہ وقت پاکستان کی تاریخ کا سب سے مشکل ترین وقت ہے، ملک کی کسی حکومت کو کبھی اتنے خساروں کا سامنا نہیں کرنا پڑا،حکومت نے جب اقتدارسنبھالاتو ملک دیوالیہ حالت میں تھا، 5 ماہ میں حالات کوبہتری کی جانب گامزن کیا تاہم توازن ادائیگیوں کا بحران ابھی ختم نہیں ہوا اس میں بہتری آئی ہے ۔ پاکستان کی یہ حالت کرپشن اور بدنظمی کی وجہ سے ہوئی ہے۔ موجودہ حکومت سرمایہ کاری کے فروغ اور کاروبار میں آسانیاں پیدا کرنے کیلئے کام کر رہی ہے جس قدر تارکین وطن ملک میں سرمایہ کاری کریں گے اس قدر تیزی سے یہ ملک ترقی کرے گا، جب ملک ترقی کرے گا تو پوری دنیا میں پاکستانیوں کی عزت و وقار بلند ہوگا۔ اوورسیز پاکستانیوں کیلئے پاکستان بناؤ سرٹیفکیٹ کے اجرا پر حکومت مبارکباد کی مستحق ہے۔ پاکستان اس وقت مشکل ترین وقت سے گزر رہا ہے اور یہ پہلی حکومت ہے جسے اتنے بڑے خسارے کا سامنا ہے اور اس سے قبل کسی حکومت نے اتنے بڑے خسارے برداشت نہیں کئے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ خسارے کا سامنا کیوں ہے۔ ماضی کو رونے کے بجائے حال پر توجہ دینا اور مستقبل کیلئے منصوبہ بندی کرنا انتہائی ضروری ہے۔خزانہ تو ہر حکومت کو ہی خالی ملتا ہے اب جبکہ حکومت یہ دعوے کررہی ہے کہ اسے اربوں ڈالر ز کی سرمایہ کاری ملک میں آرہی ہے تو پھر رونا دھونا کس بات کا ہے۔

دفاعی خودمختاری کی طرف ایک اور قدم
پاکستان نے نصر بیلسٹک میزائل کا کامیاب تجربہ کرلیا ہے۔ اس تجربے سے ملک کا دفاع مزید مضبوط ہوگیا ۔آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستان نے نصربیلسٹک میزائل کا ایک اور کامیاب تجربہ کیا ہے۔ تجربے کے دوسرے مرحلے میں دوران پرواز اور ہدف تک پہنچنے میں صلاحیتوں کا جائزہ لیاگیا،میزائل بغیر نشاندہی ہدف تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتاہے، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل زبیر محمود حیات کا کہنا ہے کہ تجربے سے دفاعی صلاحیتوں سے متعلق ایک اورسنگ میل عبورکرلیا، ویپن سسٹم کے کامیاب تجربے پر ماہرین مبارکباد کے مستحق ہیں۔ 24 جنوری کو بھی بیلسٹک میزائل نصر کا کامیاب تجربہ کیا گیا تھا۔ چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل زبیر محمود حیات نے تجربے کامشاہدہ کیا۔ تجربے کے موقع پر اعلی عسکری حکام، سائنسدان اور انجینئرز بھی موجود تھے۔پاکستان کا نصر میزائل بھارت کے کولڈ سٹارٹ ڈاکٹرائین کا جواب ہے۔ پاکستان کے مقامی سطح پر تیار کئے گئے میزائل کے تجربے سے خطے میں طاقت کا توازن برقرار رکھنے میں مدد ملے گی۔ مقامی سطح پر فوجی سازو سامان کی تیاری پاکستان کی بڑی کامیابی ہے۔پاکستان کے دفاعی پروگرام کا مقصد خطے میں طاقت کا توازن برقرار رکھنا ہے۔

اجے دیوگن اپنی ہی فلم کی راہ میں رکاوٹ بن گئے

ممبئی: اجے دیوگن کی نئی رومینٹک کامیڈی فلم ’’دے دے پیار دے‘‘ کی ریلیز تاخیر کا شکار ہوگئی ہے اور اس کی وجہ ان ہی کی ایک اور فلم ’’ٹوٹل دھمال‘‘ کو قرار دیا جارہا ہے۔ 

بالی ووڈ کے سینئر اداکار اجے دیو گن کی فلم ’’دے دے پیار دے‘‘ 15 مارچ کو بھارت سمیت دنیا بھر کے سینما گھروں کی زینت بننا تھی تاہم اب اسے 17 مئی کو ریلیز کیا جائے گا۔

’’دے دے پیار دے‘‘ کے فلمسازوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے فلم کی ریلیز کی تاریخ میں ردو بدل ’’ٹوٹل دھمال‘‘ کی وجہ سے کیا ہے، اس فلم میں بھی اجے دیو گن ہی مرکزی کردار ادا کررہے ہیں اور یہ فلم 22 فروری کو ریلیز ہوگی، بزنس کے اصولوں کے مطابق یہ صحیح نہیں کہ ایک ہی اداکار کی دو فلمیں 20 دن کے فرق سے ریلیز ہوں، اس لئے اب فلم کو 15 مارچ کے بجائے 17 مئی کو ریلیز کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ ’’دے دے پیار دے‘‘ کامیڈی رومینٹک فلم ہے، جس میں اجے دیوگن 8 سال بعد رومانوی کردار میں نظر آئیں گے۔

Google Analytics Alternative