Home » 2019 » February » 04

Daily Archives: February 4, 2019

عوام پر گیس کی قیمتوں کا اضافی بوجھ ڈالنا غیر مناسب ہے، وزیراعظم

لاہور: وزیراعظم عمران خان نے گیس کی قیمتوں میں اضافے کا نوٹس لیتے ہوئے وزیر پیٹرولیم کو فوری طور پر انکوائری کی ہدایت کردی۔

وزیراعظم عمران خان نے گھریلو صارفین کے لئے گیس بلوں میں اضافہ کا نوٹس لیتے ہوئے کہا کہ عوام پر گیس کی قیمتوں کا اضافی بوجھ ڈالنا غیر مناسب ہے۔ انہوں نے اس حوالے سے وزیر پیٹرولیم کو فوری طور پر انکوائری کی ہدایت کردی۔

دوسری جانب گورنر پنجاب سے ملاقات کے دوران وزیراعظم نے پنجاب میں صاف پانی کی فراہمی کے لئے واٹر اتھارٹی کے قیام کی منظوری دیتے ہوئے کہا کہ پنجاب کے عوام کو صاف پانی کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے جب کہ واٹر اتھارٹی کے قیام کے لئے جلد قانون سازی کی جائے گی۔

وزیر اعظم کا سانحہ ساہیوال پر جوڈیشل کمیشن بنانے کا عندیہ

 لاہور: وزیراعظم عمران خان نے سانحہ ساہیوال پر جوڈیشل کمیشن بنانے کا عندیہ دے دیا۔

وزیراعظم عمران خان ایک روزہ دورے پر لاہور پہنچے جہاں ان سے وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے ملاقات کی اور سانحہ ساہیوال کی تحقیقات میں پیش رفت سے آگاہ کیا۔

بعدازاں وزیراعظم کی زیر صدارت اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا جس میں وفاقی وزیر اطلاعات فواد حسین، وزیر اورسیز پاکستانیز سید ذوالفقار بخاری ، وزیر صحت ڈاکٹر عامر کیانی ، معاون خصوصی نعیم الحق، پنجاب کے سینئر وزیر علیم خان ، وزیر زراعت ملک نعمان لنگڑیال، وزیر خزانہ مخدوم ہاشم جوان بخت، وزیر ہاوٴسنگ میاں محمود الرشید، وزیر آبپاشی محمّد محسن لنگڑیال، وزیر صنعت میاں محمد اسلم اقبال اور سینئر افسران نے شرکت کی۔

وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے وزیراعظم کو پولیس اصلاحات کے بارے میں بریفنگ دی اور پنجاب میں امن و امان کی صورتحال پر تفصیلی بات چیت کی گئی۔

وزیراعظم عمران خان نے سانحہ ساہیوال پر جوڈیشل کمیشن بنانے کا عندیہ دیتے ہوئے عثمان بزدار کو سانحہ ساہیوال کے متاثرہ خاندان سے ملاقات کی ہدایت کی۔

عمران خان نے کہا کہ متاثرہ خاندان کی بات سنی جائے اور اگر وہ لوگ جوڈیشل کمیشن پر مطمئن ہوتے ہیں تو اس پر غور کیا جائے جب کہ اس فیملی کے ساتھ پولیس کے رویے کی بھی نگرانی کی جائے۔

وزیراعظم نے متاثرہ خاندان میں ایک کینسر زدہ مریض کے علاج کی بھی خصوصی ہدایت کی۔ وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار کل پیر کو سانحہ ساہیوال کی متاثرہ فیملی سے ملاقات کرینگے۔

پنجاب کا انتظامی ڈھانچہ تبدیل کرنے کا فیصلہ

اجلاس میں پنجاب حکومت کی انتظامی اور مالی استعداد کار بڑھانے پر بھی غور کیا گیا اور صوبے کا انتظامی ڈھانچہ تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

وزیراعظم نے پنجاب اسپیشل اسٹرٹیجی کی منظوری دیتے ہوئے کہا کہ عوام کی فلاح کے لیے انتظامی ڈھانچے کی تنظیم نو کی اشد ضرورت ہے اور وفاقی حکومت اس سلسلے میں ہر ممکن مدد فراہم کرے گی۔

یہ بھی طے ہوا کہ پنجاب میں سینئر بیوروکریٹس کو اہم وزارتوں کی ذمہ داری دی جائے گی جن کے ذریعے اہم فیصلے کیے جائیں گے، مختلف وزارتوں کو رابطہ نیٹ ورک کے ذریعے منسلک کیا جائیگا جن کی سربراہی بھی سرکاری افسران کریں گے۔

ماہر معاشیات ڈاکٹر سلمان شاہ نے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ پنجاب میں زراعت اور صنعتی پیداوار میں مصنوعات کے تنوع کی ضرورت ہے۔ شرکا نے صوبے کے 50 شہروں اور 36 اضلاع کی ترقی کے لیے تجاویز بھی پیش کیں اور کم سے کم 15 شہروں کو معاشی حب قرار دینے کی سفارش کی گئی۔

واٹر اتھارٹی کے قیام کی منظوری 

اجلاس میں وزیراعظم نے پنجاب میں صاف پانی کی فراہمی کے لیے واٹر اتھارٹی کے قیام کی اصولی منظوری دیتے ہوئے اس حوالے سے جلد قانون سازی کرنے کی ہدایت کی۔

گیس قیمتوں میں اضافے کا نوٹس 

وزیراعظم عمران خان نے گیس کی قیمتوں میں اضافے کا نوٹس لیتے ہوئے وزیر پیٹرولیم کو فوری طور پر تحقیقات کی ہدایت کردی ہیں۔

میڈیا حکمت عملی

علاوہ ازیں وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت میڈیا اسٹریٹجک کمیٹی کا اجلاس بھی ہوا جس میں وزیراعظم نے میڈیا کے ساتھ روابط کو مضبوط بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ میڈیا کو عوام کی فلاح و بہبود کے حوالے سے جاری منصوبوں سے آگاہ کیا جائے اور میڈیا میں موثر انداز میں حکومت کا دفاع کیا جائے۔

نوازشریف کے میڈیکل ٹیسٹ، گردے میں پتھری کی نشاندہی

لاہور: سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کی سی ٹی اسکین ٹیسٹ رپورٹ منظرعام پر آ گئی ہے۔

لاہور کے سروسز اسپتال میں زیر علاج میاں نواز شریف کے بائیں گردے میں مائنر پتھری کی نشاندہی  ہوئی ہے اور اس معاملے پر ڈاکٹرز کی مشاورت جاری ہے جب کہ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ میاں نواز شریف کے گردے میں موجود پتھری لتھوٹرپسی کے ذریعے نکالی جا سکتی ہے۔

سروسز اسپتال کی غازی علم دین شہید وارڈ میں میاں نواز شریف کا سی ٹی اسکین کے یو بی ٹیسٹ سمیت دیگر ٹیسٹ لیے گئے، سی ٹی اسکین گردوں کی بیماری کے باعث کیا گیا تھا۔

علاوہ ازیں سابق وزیراعظم کے دل کےمعائنے کے لیے پی آئی سی کو کال بھجوادی گئی، سروسز اسپتال کا وی آئی پی روم سابق وزیراعظم کے لیے مختص کردیا گیا ہے جب کہ گزشتہ روز بھی3 رکنی میڈیکل بورڈ نے ایک گھنٹے تک نواز شریف کا طبی معائنہ کیا تھا۔

واضح رہے کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف مختلف امراض میں مبتلا ہیں۔ ان کے طبی معائنے کے لیے پنجاب حکومت کی جانب سے امراض قلب کے ماہرین پر مشتمل خصوصی میڈیکل بورڈ تشکیل دیا گیا تھا۔ جس نے 30 جنوری کو 2 گھنٹے تک کوٹ لکھپت جیل میں نواز شریف کا طبی معائنہ کیا تھا۔ میڈیکل بورڈ نے میڈیکل رپورٹس کی روشنی میں نواز شریف کو اسپتال منتقل کرنے کی سفارش کی تھی۔

پنجاب میں گورننس سے متعلق بڑی تبدیلی لائی جارہی ہے، فواد چوہدری

لاہور: وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ پنجاب میں گورننس کے نظام پر تفصیلی غور کیا گیا اور اس حوالے سے بڑی تبدیلی لائی جارہی ہے۔

لاہور میں میڈیا سے گفتگو میں وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان نے  گیس کے زائد بلوں سے متعلق نوٹس لیتے ہوئے وزیر پیٹرولیم کو تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کل صحت کارڈز کے پہلے مرحلے کا افتتاح کیا جائے گا، ہیلتھ کارڈ کے ذریعے 7 سے 9 لاکھ روپے تک کا علاج مفت ہوگا۔

فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ پنجاب میں گورننس کے نظام پر تفصیلی غور کیا گیا، پنجاب میں گورننس سے متعلق بڑی تبدیلی لائی جارہی ہے جب کہ محکمہ پولیس میں بھی ریفارمز لائی جارہی ہیں، (ق) لیگ کے ساتھ پی ٹی آئی کے نہ تو کوئی تحفظات ہیں اور نہ کوئی سنجیدہ اختلافات ہیں۔

فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ نواز شریف کی صحت سے متعلق ڈاکٹرز فیصلہ کریں گے اور اس حوالے سے ڈاکٹرز آزاد ہیں جب کہ ان کی قسمت سے متعلق فیصلہ عدالتوں نے کرنا ہے، نواز شریف اور آصف زرداری نے یا تو جیل میں  دن گزارنے  ہیں یا پھر لندن میں، یہ انتہائی شرم کی بات ہے، یہ لوگ اتنا عرصہ اقتدارمیں رہے اور آخر میں کہہ رہے ہیں کہ ہمیں لندن بھیج دیں۔

سانحہ ساہیوال پر وفاقی وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان نے سانحہ ساہیوال پر متاثرین سے اظہار یکجہتی کیاہے اور متاثرہ خاندان کو انصاف فراہم کیا جائے گا۔

18ویں ترمیم اور صدارتی نظام پر اپوزیشن کا شور،بے وقت کی راگنی

adaria

نئی حکومت کو وجود میں آئے ابھی چھ ماہ بھی نہیں ہوئے کہ سیاسی تلخی آسمانوں کو چھو رہی ہے۔آئے روز کی بیان بازی سے یوں محسوس ہوتا کہ اپوزیشن نے تہیہ کر لیا ہے کہ اس نے حکومت کو چین سے نہیں بیٹھنے دینا اور اس کا بس چلے تو وہ کل ہی حکومت کو چلتا کرے۔اس سلسلے میں اپوزیشن کی ایک جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کچھ زیادہ جلدی میں دکھائی دیتی۔پاکستان پیپلزپارٹی کی قیادت کی جانب سے روز کسی نہ کسی ایشو کو اٹھا کر ماحول گرم رکھا جا رہا ہے۔اس کے باوجود کہ حکومتی سطح پر ایسی کوئی تجویز باضابطہ طور سامنے نہیں آئی کہ وہ کوئی ترمیم کر کے ملک کا طرز حکمرانی بدلنا چاہتی ہے، پاکستان پیپلز پارٹی کبھی 18ویں ترمیم تو کبھی صدارتی نظام کا واویلا مچائے ہوئے ہے۔ گزشتہ روز بھی پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی)کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے 1973 ء کے آئین اور اٹھارویں ترمیم کی حفاظت کیلئے حکومت کے خلاف لانگ مارچ کرنے کی دھمکی دی ہے۔کراچی پریس کلب میں میڈیا نمائندؤں سے گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو زر داری کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ جمہوریت کی مضبوطی کے لیے اپنا کردار ادا کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ 18ویں ترمیم پر حملے کیے جاتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ہمیشہ ان مذموم حملوں کی مخالفت کی ہے۔چیئرمین پی پی پی کا کہنا تھا کہ بے نظیر بھٹو کی پوری جدوجہد 1973 کے آئین کی بحالی کے لیے تھی، جبکہ 18ویں آئینی ترمیم پورے ملک کے لیے تاریخی موقع تھا جس کی شکل میں 1973 کے آئین کو بحال کیا گیا۔ان کا کہنا تھا کہ میں پورے ملک میں لوگوں کے پاس جاؤں گا اور انہیں یہ بتاؤں گا 1973 کا آئین انہیں کیا کیا حقوق دیتا ہے، تاہم اگر ان کی ان کوششوں کو کمزور کرنے کی سازشیں کی گئیں تو وہ حکومت کے خلاف لانگ مارچ بھی کر سکتے ہیں۔ادھر اسلام آباد میں مسئلہ کشمیر سے متعلق اے پی سی میں خطاب کے دوران پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری نے یہاں تک کہہ ڈالا کہ حکومت گرانے کے لیے میڈیا ہمارا ساتھ دے ،ہم صحافیوں کی مشکلات میں انکا ساتھ دیں گے۔اس انوکھی اور نا معقول خواہش پر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے درست اور مناسب ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ صحافیوں کا کام حکومت بنانا یا گرانا نہیں بلکہ رپورٹنگ کرنا ہوتا ہے۔ملتان میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ملک میں جمہوریت، اٹھارویں ترمیم اور آئین کو کوئی خطرہ نہیں ہے لیکن کچھ شخصیات کے مفادات کو خطرہ ضرور ہوسکتا ہے۔حکومت کی ن لیگ سے کوئی ڈیل نہیں ہورہی، بلکہ پیپلز پارٹی اور ن لیگ میں مک مکا اور ڈیل ہو رہی ہے، یہ لوگ اپنی سیاسی بقا کے چکر میں ہیں، ماضی میں دونوں جماعتوں نے ایک دوسرے پر مقدمے بنائے ہیں، بلاول بھٹو کو لانگ مارچ کی ضرورت نہیں اور نہ ہی سندھ حکومت کو تحریک انصاف سے کوئی خطرہ ہے۔ سنجیدہ حلقوں کا ماننا ہے کہ اس وقت حکومت کسی آئینی بحران کی متحمل ہو سکتی ہے نہ ہی وہ آئین سے چھیڑ چھاڑ کا ارادہ رکھتی ہے۔حکومتی حلقے اپوزیشن کی ذہنی اختراع قرار دیتے ہوئے اسے بے وقت کی راگنی سمجھتے ہیں۔حکومت کو ابھی کئی چیلنجز درپیش ہیں۔تلخ نوائی اور فقرہ بازی سے ہٹ کر حکومت کو بنیادی اہداف تک رسائی کے لیے ٹھنڈے دل ودماغ سے آگے بڑھنا ہے۔یہ اپوزیشن پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہوہ اس بات کا احساس کرے کہ بے وقت سیاسی کشیدگی سے سسٹم کو ادارہ جاتی سطح پر سخت نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔کشیدہ جمہوری فضااور اشتعال انگیزبیان بازی کسی کے مفاد میں نہیں ۔وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ حکومت کے خلاف جھوٹا پروپیگنڈا ہورہا ہے، ہم اسٹرکچرل اصلاحات پر توجہ دے رہے ہیں تو درست کہہ رہے ہیں کیونکہ ماہرین کا کہنا ہے کہ اپوزیشن ایک منصوبہ بندی تحت یہ ماحول بنائے ہوئے ہے تاکہ حکومت اپنے پیر نہ جمانے پائے۔ اسے خدشہ ہے کہ اگر عمران خان حکومت قدم جمانے میں کامیاب ہو گئی تو پھر اپوزیشن کے پاؤں کے اکھڑ جائیں گے۔تاہم جہاں تک صدارتی نظام کا تعلق ہے تو دستور پاکستان کا سارا ڈھانچہ پارلیمانی نظام پرقائم ہے جسے گرانا آسان نہیں ہے۔سپریم کورٹ آف پاکستان بھی کئی فیصلے دے چکی ہے کہ کسی ترمیم کے ذریعے آئین کا بنیادی ڈھانچہ تبدیل نہیں کیا جا سکتا،ایسے میں پہلے اشد ضروری ہو گا کہ صدارتی نظام کیلئے موجودہ آئین منسوخ کر کے نیا آئین بنایا جائے،چنانچہ جاری صورتحال میں اس پر اتفاق ناممکن ہے۔اگر کہیں ایسی خواہش پنپ رہی ہے تو وہ اس بات کو پیش نظر رکھیں کہ طرز حکمرانی ایک ایسا معاملہ ہے جس کا تعلق اچھی حکمرانی یا گڈ گورننس سے ہے ،نظام حکومت سے نہیں۔ لہٰذا ضروری ہے کہ موجودہ نظام میں رہتے ہوئے طرز حکمرانی کی خامیاں دور کی جائیں تا کہ عوام کو ایک عادلانہ طریقے سے تمام سہولتیں مل سکیں۔

ماضی کی غلط پالیسی کی سزا عوام کو نہ دی جائے
وزیراعظم کے مشیر خاص افتخار درانی کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران غلام سرور خان نے بھاری بھرکم گیس بلوں کی وجوہات بتاتے ہوئے کہا کہ جب پی ٹی آئی نے حکومت سنبھالی تو حکومت142ارب کے خسارے پر تھی اگر قیمتیں نہ بڑ ھائی جاتیں تو یہ خسارہ 154 ارب تک پہنچ رہا تھا ۔انہوں نے یہ انکشاف بھی کیا کہ سابق دور حکومت میں مہنگی گیس لے کر سستی دی جا رہی تھی، اس وجہ سے قیمتوں میں اضافہ ہوا ۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں احساس ہے کہ یہ بوجھ بہت سے لوگوں کی برداشت سے باہر ہے لیکن اس کے علاوہ ہمارے پاس کوئی راستہ بھی نہیں تھا۔وفاقی وزیر غلام سرور خان کا یہ کہنا بجا اور درست ہے کہ سابق حکومت کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے ہر حکومتی شعبہ تباہی و بربادی کے دہانے پر جا لگا ہے اور اس وقت موجودہ حکومت کو کاروبار حکومت چلانے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے مگر سوال یہ ہے کہ سارے کا سارا بوجھ یک لخت عوام پر منتقل کرنا بھی کہاں کی دانش مندی ہے۔کیا عوام کی اتنی سکت ہے کہ وہ اس بوجھ کو اٹھا سکے۔بہتر ہوتا کہ اس بوجھ کو رفتہ رفتہ عوام پر منتقل کرنے کی کوشش کی جاتی۔عوام پہلے ہی مختلف مسائل کی چکی میں پس رہی ہے۔نہ اسے سستا انصاف مل رہا ہے اور نہ ہی سستا علاج اور تعلیم میسر ہے۔اس پر حکومت بھی سارا بوجھ عوام پر ڈالے گی تو قرین قیاس ہے وہ جلد حکومت سے بد زن ہو جائے۔اس لیے حکومت تدبر اور حکمت سے آگے بڑھے اور ماضی کی غلط پالیسی کی سزا عوام کو نہ دے۔
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا بھارت کو صائب مشورہ
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بھارتی الزام تراشی کا جواب دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ پاکستان کا بھارت کے عالمی معاملات میں مداخلت کا کوئی ارادہ نہیں ہے وہ ملک اپنے مسائل کا ذمہ دار پاکستان کو قرار دینے کا سلسلہ بند کرے۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ کشمیر کے مسئلے پر ان کا حریت رہنماؤں سے رابطہ کوئی بڑا مسئلہ نہیں تھا۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ کشمیر کا مسئلہ منظر عام پر لایا جاتا ہے تو بھارت برہمی کا اظہار کرتا ہے حالانکہ وہ یہ حقیقت جانتا ہے کہ اس مسئلے کا حل نکلنا باقی ہے۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ بھارت میں آئندہ عام انتخابات میں چاہے کوئی بھی سیاسی جماعت کامیابی حاصل کرے، اس بات سے قطع نظر پاکستانی حکومت نئی بھارتی حکومت کے اچھے رویے کا مثبت انداز میں جواب دے گی۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی برطانوی پارلیمنٹ میں آج انٹرنیشنل کشمیر کانفرنس سے خطاب کریں گے۔لندن روانگی سے قبل میڈیا سے گفتگو میں وزیرخارجہ نے کہا کہ کشمیر پاکستان کی خارجہ پالیسی کا اہم ستون ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیریوں کی سیاسی، اخلاقی اور سفارتی حمایت جاری رکھیں گے اور نہتے کشمیریوں پر بھارت کی قابض فوج کے مظالم کے خلاف بھرپور آواز اٹھائیں گے۔

جنوبی افریقا نے پاکستان کیخلاف ٹی ٹوئنٹی سیریز جیت لی

جوہانسبرگ: جنوبی افریقا نے پاکستان کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد 7 رنز سے شکست دے کر تین ٹی ٹوئنٹی پر مشتمل سیریز 0-2 سے جیت لی۔

جوہانسبرگ میں کھیلے گئے میچ پروٹیز کے 189 رنز کے ہدف کے تعاقب میں پاکستانی ٹیم مقررہ اوورز میں 7 وکٹوں پر 181 رنز بنا سکی، بابر اعظم کے 90 اور حسین طلعت کے 55 رنز بھی ٹیم کو فتح سے ہمکنار کرنے میں ناکام رہے۔

اوپنر بابر اعظم اور فخر زمان نے ٹیم کو عمدہ آغاز فراہم کیا، دونوں بلے بازوں نے جارحانہ بیٹنگ کرتے ہوئے چار اوورز میں 41 رنز کا اوپننگ اسٹینڈ دیا، فخر زمان 9 گیندوں پر 14 رنز بنا کر کیچ آؤٹ ہوئے جب کہ بابر اعظم نے جارحانہ بیٹنگ کرتے ہوئے شاندار نصف سنچری اسکور کی اور 58 گیندوں پر 90 رنز بنائے، جس میں ایک چھکا اور 13 چوکے شامل تھے، حسین طلعت نے 55 رنز کی باری کھیلی جو بے سود ثابت ہوئی۔

کپتان شعیب ملک اور عماد وسیم نے 6،6 اور آصف علی نے 2 اور حسن علی نے ایک رن بنایا جب کہ محمد رضوان ایک بنا کر ناٹ آؤٹ رہے۔

جنوبی افریقا کی جانب سے پھلکوایو سب سے کامیاب بولر رہے جنہوں نے 3 وکٹیں حاصل کیں جب کہ مورس اور ہینڈرکس نے 2، 2 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔

قبل ازیں پاکستانی کپتان شعیب ملک نے ٹاس جیتا اور پہلے فیلڈنگ کو ترجیح دیتے ہوئے میزبان ٹیم کو بیٹنگ کی دعوت دی، پروٹیز نے مقررہ اوورز میں 3 وکٹوں پر 188 رنز بنائے، کپتان ڈیوڈ ملر نے جارحانہ بیٹنگ کرتے ہوئے صرف 29 گیندوں پر 65 رنز بنائے، ان کی اننگز میں 5 بلند و بالا چھکے اور چار دلکش چوکے شامل تھے جب کہ وینڈرڈوسن نے 45 اور ملان نے 33 رنز بنائے، ہینڈرکس نے 28 اور کلاسن نے 5 رنز کی باری کھیلی۔

پاکستان کی جانب سے عماد وسیم اور شاہین شاہ آفریدی نے ایک ایک وکٹ حاصل کی، عثمان شنواری سب سے مہنگے بالر ثابت ہوئے جنہوں نے 4 اوورز کے کوٹے میں 63 رنز دیے۔

قومی ٹیم میں ایک تبدیلی کی گئی ہے، فہیم اشرف کی جگہ شاہین شاہ آفریدی کو ٹیم میں شامل کیا گیا ہے جب کہ جنوبی افریقی ٹیم کے مستقل کپتان فاف ڈوپلیسی کی غیر موجودگی میں ڈیوڈ ملر کپتانی کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔

پاکستان، حریت رہنما رابطے پر بھارت سیخ پا کیوں؟

مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی فوج کی جارحیت جاری ہے۔ جنوری 2019 میں قابض بھارتی فوج نے 18 کشمیری شہید اور 4 گھروں کوتباہ کیا جبکہ مختلف کارروائیوں میں فائرنگ، پیلٹ اور شیلنگ سے 126 افراد زخمی ہوئے۔ اس کے علاوہ جنوری میں حریت رہنماؤں سمیت 93 کشمیریوں گرفتار کیے گئے۔ابھی دو ر وز قبل قابض بھارتی فوج نے راج پورہ میں شہری آبادی کا محاصرہ کیا اورگھرگھرتلاشی لی۔ اسی دوران فائرنگ سے 2 بیگناہ کشمیریوں کو شہید کردیا گیا۔ بھارتی فوج کی جارحیت کے خلاف علاقے کے لوگوں نے سڑکوں پر نکل کرشدید احتجاج کیا جنہیں منتشر کرنے کیلئے قابض فوج نے آنسو گیس کی شیلنگ کی۔ پلوامہ اورشوپیاں میں انٹرنیٹ سروس بھی معطل کردی گئی۔پلوامہ میں بھارتی فورسز کے ہاتھوں شہید ہونے والے کشمیریوں کی نماز جنازہ میں پلوامہ، شوپیاں اور دیگر اضلاع کے ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ خواتین نے گھروں کی چھتوں سے پھولوں کی پتیاں نچھاور کیں۔ ادھر مقبوضہ کشمیر میں ظلم ڈھانے والے بھارتی فوجیوں میں مایوسی اور بے چینی پھیلنے لگی۔ اسی وجہ سے بارہ مولا میں ایک بھارتی فوجی نے خود کشی کر لی۔ مقبوضہ کشمیر میں شدید بارش و برفباری کے باوجود بھارتی قابض فوج نے کئی علاقوں میں فوجی آپریشن جاری رکھا۔جس کے دوران سونگھنے والے کتوں کی بھی خدمات حاصل کی گئیں۔ انسانی حقوق کے ریاستی کمیشن کی رپورٹ میں انکشاف کے بعد بھارتی پولیس اور مقبوضہ کشمیر کی کٹھ پتلی انتظامیہ نے شہید نوجوان رئیس احمد کے ذہنی مریض ہونے کا اعتراف کرلیا ہے۔ مقبوضہ کشمیر کی سنگین صورتحال سے آگاہی کیلئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے حریت رہنما میر واعظ عمر فاروق سے ٹیلی فون پر بات کی۔ ظاہر ہے بھارت کو یہ کب منظور تھا۔ بھارتی سرکار اور میڈیا نے اس پر شور مچا دیا۔ بھارت نے پاکستانی ہائی کمشنر کو طلب کر کے اس ٹیلی فونک بات چیت پر شدید احتجاج کیا۔ پاکستانی ہائی کمشنر کی طلبی کے جواب میں بھارتی ہائی کمشنر کو بھی دفتر خارجہ طلب کرکے احتجاج ریکارڈ کرایا گیا اور سیکرٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ نے ان پر واضح کردیا کہ پاکستان ہر حال میں کشمیریوں کی مسلسل حمایت جاری رکھے گا ۔ بھارت مقبوضہ کشمیر میں ریاستی دہشت گردی کر رہا ہے۔ بھارت کی جانب سے میر واعظ عمر فاروق کو دہشت گرد کہنا قابل مذمت ہے۔مقبوضہ کشمیر ایک متنا زعہ علا قہ ہے۔بھارت مانتا ہے کہ کشمیر متنازعہ علاقہ ہے۔ بھارت اٹوٹ انگ کا راگ بھی الاپتا ہے۔ بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں باعث تشویش ہیں۔مقبوضہ کشمیر میں بھارت جو کچھ کر رہا ہے، مسترد کرتے ہیں۔ حریت کانفرنس (ع) چیئرمین میرواعظ عمر فاروق نے کہا ہے کہ پاکستان کے وزیر خارجہ نے ٹیلی فون پر ان سے رابطہ کیا اور کشمیر کی صورتحال پر انہوں نے تشویش ظاہر کی لیکن اس پر بھارت کیوں سیخ پا ہوا۔ پاکستان مسئلہ کشمیر کا اہم فریق ہے اور بھارت کے ارباب سیاست کو یہ بات سمجھنی چاہئے کہ مسئلہ کشمیر کا صرف اس مسئلے سے جڑے تینوں فریقوں کے درمیان ایک بامعنی مذاکراتی عمل کے ذریعے ہی کوئی قابل قبول حل تلاش کیا جاسکتا ہے۔ سابق بھارتی وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی نے کشمیر کو انسانیت کے زاویہ سے دیکھنے کیلئے جس ڈور کو تھاما تھا اسے وزیر اعظم نریندر مودی توڑ رہے ہیں۔ بھارتی حکومت پر کشمیری نوجوانوں کو عسکریت کی طرف دھکیلنے کا الزام عائد کرتے ہوئے میرواعظ نے کہا کہ تعلیم یافتہ نوجوان تعلیم چھوڑ کرغصہ میں آکر ہتھیار تھام رہے ہیں۔جب بھارت کے سابق وزیر اعظم کشمیر آئے تو انہوں نے اقتصادی پیکیج کا اعلان کیا تھا،تاہم بعد میں ان کو احساس ہوا کہ کشمیر اقتصادی مسئلہ نہیں ہے۔مودی حکومت کو اگلے دو ماہ میں الیکشن کا سامنا ہے ۔ لیکن اپنے رویوں اور انتہا پسندی کی بدولت مودی کو بھارت اپنے ہاتھ سے نکلتا دکھائی دے رہا ہے۔ اسی پریشانی میں وہ کبھی کچھ کہتے ہیں تو کبھی کچھ کرتے ہیں۔فی الحال ان کے پاس الیکشن میں کھیلنے کیلئے پاکستان کارڈ موجود ہے۔ اسی لئے وہ بار بار پاکستان پر مقبوضہ کشمیر میں مداخلت کے الزام لگاتا ہے۔ دہلی میں پاکستانی ہائی کمشنر کی طلبی کو بھارتی انتخابات پر اثر انداز ہونے کی کوشش قرار دیتے ہوئے نریندر مودی حکومت کو خبردار کیا گیا ہے کہ بھارتی الیکشن میں پاکستان کو نہ گھسیٹا جائے۔ بھارت اپنا الیکشن اپنے ملک میں لڑے۔ پاکستان کو اس میں نہ گھسیٹے۔ جہاں تک بات کرتار پور بارڈر کی ہے تو اس پر پاکستان کی پالیسی واضح ہے لیکن بھارت کا طرز عمل بچگانہ ہے۔

*****

‘شہزادی ڈیانا اپنے محبوب کے ساتھ پاکستان منتقل ہونا چاہتی تھیں’

بہترین شخصیت کی مالک شہزادی ڈیانا کو اس جہان فانی سے رخصت ہوئے 21 برس ہوچکے ہیں مگر ان کی زندگی کے ایسے گوشوں مسلسل سامنے آتے رہتے ہیں، جن کا علم بہت کم افراد کو ہوتا ہے۔

گزشتہ دنوں برطانوی روزنامے ایکسپریس نے اپنی ایک رپورٹ میں آنجہانی پرنسز آف ویلز کی ایک قریبی دوست کے حوالے سے دعویٰ کیا کہ شہزادی ڈیانا ایک پاکستانی کی محبت میں گرفتار اور پاکستان ہی منتقل ہوجانے کے لیے تیار تھیں۔

رپورٹ میں شیزادہ ڈیانا کی قریبی دوست اور موجودہ وزیراعظم پاکستان عمران خان کی سابق اہلیہ جمائمہ خان کے 2013 کو ونیٹی فیئر کو دیئے گئے ایک انٹرویو کے حوالے سے یہ دعویٰ کیا گیا۔

جمائمہ خان نے اس انٹرویو میں بتایا کہ شہزادی ڈیانا پاکستانی ڈاکٹر حسنات خان سے شادی کرنا چاہتی تھیں اور برطانیہ چھوڑنے کر پاکستان بسنے کے لیے تیار تھیں۔

فروری 1996 میں لاہور میں ایک تقریب کی تصویر — اے ایف پی فوٹو
فروری 1996 میں لاہور میں ایک تقریب کی تصویر — اے ایف پی فوٹو

ڈاکٹر حسنات خان اس زمانے میں برطانیہ میں ہارٹ سرجن کے طور پر کام کررہے تھے اور لیڈی ڈیانا کے دیگر معاشقوں کے برعکس پاکستانی نژاد ڈاکٹر سے ان کے تعلق کو زیادہ پبلسٹی نہیں ملی۔

جمائمہ خان نے انٹرویو میں کہا ‘ڈیانا حسنات خان کی محبت میں پاگل اور شادی کرنا چاہتی تھیں، یہاں تک کہ پاکستان میں رہنے کے لیے بھی تیار تھیں، اور یہ بھی ان وجوہات میں سے ایک ہے جو ہم دوست بنے’۔

ان کا مزید کہنا تھا ‘ ڈیانا مجھ سے جاننا چاہتی تھیں کہ پاکستان میں زندگی گزارنا میرے لیے کس حد تک مشکل ثابت ہوئی’۔

خیال رہے کہ جمائمہ خان نے عمران خان سے شادی کے بعد پاکستان میں رہائش اختیار کرلی تھی۔

22 فروری 1996 کی اس تصویر میں عمران خان لیڈی ڈیانا کے ساتھ شوکت خانم کینسر ہسپتال لاہور کا دورہ کر رہے ہیں — اے پی فوٹو
22 فروری 1996 کی اس تصویر میں عمران خان لیڈی ڈیانا کے ساتھ شوکت خانم کینسر ہسپتال لاہور کا دورہ کر رہے ہیں — اے پی فوٹو

جمائمہ خان کے مطابق پرنسز آف ویلز نے 2 بار پاکستان کا دورہ کرکے یہاں مستقل رہائش کے لیے ان سے مشورہ کیا ‘ڈیانا پاکستان میں عمران خان کے ہسپتال کے لیے فنڈز جمع کرنے میں مدد کے لیے آئی تھیں، مگر دونوں بار وہ چھپ کر ان کے خاندان سے بھی ملیں تاکہ حسنات سے شادی کے امکانات پر بات کرسکیں’۔

ونیٹی فیئر کے لیے کام کرنے والی سارہ ایلیسین نے دعویٰ کیا ‘شہزادی ڈیانا کا تعلق 1995 سے 1997 تک ڈاکٹر حسنات خان سے رہا، یہ جوڑا شادی کرنا چاہتا تھا، مگر ڈاکٹر کی والدہ نے اس کی اجازت نہیں دی۔ شہزادی نے اپنے دوستوں کو بتایا کہ وہ حسنات سے شادی کے بعد ایک بیٹی کی خواہشمند ہیں’۔

شہزادی ڈیانا حسنات کے خاندان کے بارے میں جاننا چاہتی تھیں خصوصاً ان کی والدہ کی منظوری حاصل کرنا چاہتی تھیں۔

فوٹو بشکریہ ڈیلی مرر
فوٹو بشکریہ ڈیلی مرر

جمائمہ نے اس حوالے سے بتایا ‘اپنے بیٹے کی کسی انگلش لڑکی شادی ہر قدامت پسند پشتون ماں کے لیے بھیانک خواب ہے، آپ اپنے بیٹے کو تعلیم کے لیے برطانیہ بھیجتے ہیں اور وہ اپنے ساتھ ایک انگلش دلہن لے آتا ہے، جو کہ خوفزدہ کردیتا تھا´۔

رپورٹ میں شہزادی ڈیانا کے کچھ دوستوں کے حوالے سے کہا گیا کہ حسنات کی جانب سے شادی سے انکار پر پرنسز آف ویلز دلبرداشتہ ہوگئی تھیں، اس بارے میں جمائمہ خان نے بتایا ‘ڈاکٹر حسنات اس بات سے نفرت کرتے تھے کہ اس شادی کے بعد ان کی پوری زندگی پبلسٹی کی زد میں رہے گی’۔

اپنی موت سے قبل شہزادی ڈیانا نے اپنے ایک دوست کو بتایا ‘ہر ایک نے مجھے فروخت کیا، حسنات واحد شخص ہیں جس نے مجھے کبھی فروخت نہیں کیا’۔

ڈاکٹر حسنات سے تعلق ختم ہونے پر لیڈی ڈیانا نے دودی الفائید سے نیا تعلق شروع کیا۔

خیال رہے کہ 19 جولائی 1981 کو لیڈی ڈیانا کی شادی شہزادہ چارلس سے ہوئی جسے دنیا بھر کے میڈیا نے دکھایا اور دو بچوں کی پیدائش بھی ہوئی۔

دو بچوں کی پیدائش کے بعد شہزادہ چارلس کی سرد مہری سے لیڈی ڈیانا کے جذبات کو شدید ٹھیس پہنچی اور شادی کے مقدس بندھن میں دراڑ پیدا ہونے لگی۔

20 دسمبر 1995 میں شہزادی ڈیانا اور ان کے شوہر شہزادہ چارلس کے درمیان علیحدگی ہوگئی۔

Google Analytics Alternative