Home » 2019 » February » 05

Daily Archives: February 5, 2019

ملک بھر میں آج یوم یکجہتی کشمیر منایا جارہا ہے

پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج یوم یکجہتی کشمیر بھرپور طریقے سے منایا جارہا ہے۔

پاکستان بھر میں آج یوم یکجہتی کشمیر بھرپور طریقے سے منایا جارہا ہے، ملک بھر میں وفاقی و صوبائی حکومتوں کی جانب سے یوم  یکجہتی کشمیر کے موقع پر عام تعطیل ہے اور کشمیریوں سے  اظہار یکجہتی کیلئے ملک بھر میں ریلیاں نکالی جارہی ہیں۔

کشمیری شہدا کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے صبح 10 بجے سائرن بجائے گئے جس کے بعد ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی۔ اس کے علاوہ کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لئے  پاکستان اور کشمیر کو ملانے والے کہالہ پل پر منعقد ہوئی جہاں ہاتھوں کی زنجیر بنائی گئی۔

مقبوضہ کشمیرمیں دہائیوں سے جاری حق خودارادیت کی تحریک کچلنے کی تمام بھارتی کوششیں ناکام رہیں، ہزاروں کشمیری شہید ہوچکے ہیں، دہائیوں سے یہی داستان ہے مقبوضہ وادی کی جہاں ہردن کا آغاز ایک نئی امید اور اختتام کسی نہ کسی گھر میں بچھی صف ماتم پر ہوتا ہے۔

بات کریں اعداد و شمار کی تو کشمیر میڈیا سروس کے مطابق 1989 سے لے کر اب تک بھارتی فوج نے ظلم وستم کی تمام حدیں عبور کرتے ہوئے 95 ہزار سے زائد کشمیریوں کوشہید کردیا۔

انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا بدترین عملی مظاہرہ دیکھنا ہو تو مقبوضہ کشمیر پر ایک نظر ڈال لیجئے جہاں دوران حراست شہید کئے گئے کشمیریوں کی تعداد 7ہزار سے تجاوز کرچکی ہے جب کہ ایک لاکھ 45 ہزارکشمیریوں کو گرفتار کیا گیا جن کا قصور صرف آزادی کا مطالبہ تھا۔

مقبوضہ وادی کو بھارت کے غیرقانونی قبضے سے چھڑوانے کی جدوجہد میں تقریباً 23 ہزار کشمیری خواتین بیوہ ہوگئیں، 11ہزار کو زیادتی کا نشانہ بنایا گیا جب کہ ایک لاکھ 7 ہزار سے زائد بچے یتیم ہوگئے۔

2018 وادی میں بھارتی مظالم کی شدت کے لحاظ سے گزشتہ 10 سال میں بدترین سال رہا، بھارتی افواج نے نام نہاد سرچ آپریشنز سمیت مختلف واقعات میں 375 کشمیریوں کوشہید کردیا۔

ایک طرف غیر انسانی ظلم و جبر تو دوسری طرف بھارتی سرکار کی ہٹ دھرمی اور بے حسی اس کے لئے باعث ذلت بن گئی ہے، اتوارکو بھارتی وزیراعظم مودی کشمیر کے دورے پر آئے تو کشمیریوں نے پہیہ جام ہڑتال سے ان کا استقبال کیا لیکن بجائے ندامت کے مودی سری نگر کی جھیل کی سیر کو نکلے اور کیمروں کو دیکھ کر ہاتھ ہلاتے رہے۔ دوسری طرف حکومت اور پاکستان کی غیور عوام بھارتی مظالم کے خلاف ہمیشہ کشمیریوں کے ساتھ کھڑی رہی، یہی وجہ ہے کہ مقبوضہ وادی میں پاکستان زندہ باد کے نعرے لگائے جاتے ہیں اور ہر روز وہاں سبز ہلالی پرچم لہرائے جاتے ہیں۔

وزیر اعظم نے صحت انصاف کارڈ کا اجرا کردیا

وزیر اعظم عمران خان نے تقریباً 8 کروڑ افراد کو صحت کی مفت سہولیات فراہم کرنے کے لیے صحت انصاف کارڈ کا اجرا کردیا۔

اسلام آباد میں صحت انصاف کارڈ کے اجرا کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ہم نے پہلے اسے خیبرپختونخوا میں شروع کیا، جہاں لوگوں کی زندگیوں پر فرق پڑا۔

انہوں نے کہا کہ یہ کارڈ اس لیے ضروری ہے کیونکہ ایک مزدور مشکل میں اپنے گھر کا خرچ پورا کرپاتا ہے اور جب بیماری ہوتی ہے تو پورے گھر کا بجٹ خراب ہوجاتا ہے جبکہ تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ کئی غریب گھرانے صرف بیماری کی وجہ سے غربت سے نیچے چلے جاتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ بہت ضروری ہے کہ اس صحت کارڈ سے ہم غریب طبقے کو تحفظ دیں تاکہ انہیں یہ تسلی ہو کہ اس کارڈ سے ان کا ہسپتال میں علاج ہوسکے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ غریب آدمی اگر بیمار ہو اور اس کے پاس علاج کے لیے پیسے نہ ہوں تو یہ ظلم ہے اور ایسے معاشرے پر اللہ کا عذاب آتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ ایک پہلا قدم ہے، جو بھی ہماری پالیسی بنے گی اس میں یہ دیکھا جائے گا کہ کیا ہم غربت ختم کر رہے ہیں، یہ صحت کارڈ سے انشااللہ غربت کم ہوگی۔

وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ابتدائی طور پر یہ اسلام آباد اور خیبرپختونخوا کے قبائلی علاقوں میں جاری کیا جائے گا تاکہ وہاں کے متاثرہ لوگوں کو سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جاسکے، اس کے ساتھ ساتھ پنجاب کی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد اس کارڈ کو ایک کروڑ لوگوں تک پہنچائیں گی۔

انہوں نے کہا کہ لوگوں کو مشکلات کا سامنا اس لیے ہے کہ روپے کی قدر 35 فیصد گری اور ڈالر بڑھا کیونکہ ہماری درآمدات اور برآمدات میں بہت فرق تھا، ہمیں احساس ہے کہ اس وقت بجلی، گیس کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں لیکن میں آج پھر کہنا چاہتا ہوں کہ ہم پوری کوشش کر رہے ہیں کہ لوگوں کے لیے جتنی ہوسکیں آسانیاں پیدا کریں۔

انہوں نے کہا کہ ہم آنے والے دنوں میں غربت کم کرنے کا ایک منصوبہ لارہے ہیں اور سارے اداروں کو ایک چھت کے نیچے لا کر نچلے طبقے کے لیے بڑا بہتر پروگرام لائیں گے۔

وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ کوئی معاشرہ اس وقت تک ترقی نہیں کرتا جب تک وہ صحت اور تعلیم پر رقم خرچ نہ کرے، ہم ان دونوں چیزوں میں بہت پیچھے چلے گئے ہیں اور بھارت، سری لنکا یہاں تک کہ بنگلہ دیش ہم سے آگے نکل گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حالات مشکل ضرور ہیں لیکن ہماری سوچ ہے کہ موجود وسائل میں کتنی بہتری لاسکتے ہیں، جیسے جیسے وقت گزرے گا اس میں بہتری آئی گے کیونکہ ہم نے پاکستان کو ایک فلاحی ریاست بنانا ہے، جہاں نچلے طبقے کی صحت، تعلیم، روزگار اور انصاف کی سہولیات پوری کرنی ہیں۔

خیال رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے صحت سہولت پروگرام کے تحت 2016 میں خیبرپختونخوا میں پہلی مرتبہ صحت انشورنس اسکیم کو شروع کیا گیا تھا۔

وزیر اعظم کی جانب سے اجرا کی گئی اس صحت کارڈ اسکیم کے تحت 8 کروڑ لوگوں یا ڈیڑھ کروڑ خاندان صحت کی مفت سہولیات حاصل کرسکیں گے۔

اس کے علاوہ ملک بھر کے 150 سے زائد سرکاری و نجی ہسپتال اس کارڈ کی سہولت کے تحت مفت علاج فراہم کریں گے۔

ہر خاندان کو سالانہ 7 لاکھ 20 ہزار کی انشورنس کی سہولت ہوگی،وزیر صحت

بعد ازاں وفاقی وزیر قومی صحت عامر محمود کیانی نے پریس کانفرنس کے دوران ‘صحت انصاف کارڈ’ کی تفصیل سے آگا کرتے ہوئے کہا کہ ‘صحت انصاف کارڈ رکھنے والے ہر خاندان کو سالانہ علاج معالجہ کی سہولت کے لیے 7 لاکھ 20 ہزار روپے کی انشورنس کی سہولت حاصل ہو گی۔’

انہوں نے کہا کہ ‘صحت انصاف کارڈ میں انجیوپلاسٹی، اسٹنٹس، زچہ بچہ، ایمرجنسی اور تمام بیماریوں کا علاج ممکن ہو سکے گا۔’

ان کا کہنا تھا کہ ‘ پہلے مرحلے میں کارڈوں کی چھپائی 20 فروری سے شروع ہو گی اور ہر روز ایک لاکھ کارڈ چھاپے جائیں گے، تین ماہ میں ایک کروڑ پاکستانیوں کو کارڈ جاری ہوں گے جبکہ 2020 کے اختتام تک انصاف صحت کارڈ کا دائرہ پورے ملک تک پھیلایا جائے گا۔’

عامر کیانی کا کہنا تھا کہ ایک خاندان میں 18 سال سے کم عمر کے ‘ب’ فارم پر موجود تمام بچے علاج کی سہولت حاصل کریں گے، صحت انصاف کارڈ کے لیے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے اعداد و شمار استعمال کیے جا رہے ہیں جبکہ اس کے لیے نادرا سے معاونت بھی حاصل کی جا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ انشورنس کے لیے بولی کے بعد اسٹیٹ لائف انشورنس کارپوریشن کا انتخاب کیا گیا۔

بلاول نے میرے متعلق زبان استعمال کرکے اپنی بربادی لکھ دی، شیخ رشید

لاہور: عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید نے کہا ہے کہ بلاول نے میرے متعلق زبان استعمال کرکے اپنی بربادی لکھ دی ہے۔ 

شیخ رشید اور بلاول بھٹو کی ایک دوسرے پر لفظی گولہ باری جاری ہے، گزشتہ روز شیخ رشید نے بلاول کو سیاسی نابالغ قرار دیتے ہوئے آصف زرداری پر بھی طنز کے تیر چلائے تھے اور کہا تھا کہ  آصف زرداری نے فالودے والے اور مُردوں کے نام پر اکاؤنٹ بنائے اور وہ کرپشن میں دنیا کے سب سے بڑے مالیاتی گٹر ہیں۔

شیخ رشید کے بیان سے ایک روز قبل بلاول بھٹو زرداری نے شیخ رشید کو پنڈی کا گٹر قرار دیتے ہوئے نازبیا الفاظ استمال کیے تھے اور  سوال پوچھنے والے صحافی سے کہا کہ آپ مجھ سے پنڈی کے گٹر کے بارے میں پوچھیں مگر اس انسان کے بارے میں نہ پوچھیں۔

آج ایک بار پھر لاہور میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے شیخ رشید کا کہنا تھا کہ بلاول زرداری کو پیار سے بلو رانی کہتا تھا لیکن انہوں نے میرے متعلق زبان استعمال کرکے اپنی بربادی لکھ دی ہے، وہ مجھ سے معافی مانگیں۔

شیخ رشید نے کہا کہ بلاول زرداری بھی اپنے والد آصف زرداری کے نقشِ قدم پر چل پڑے ہیں، اور آصف زرداری کرپشن کا سب سے بڑا گٹر ہیں، لوگ گیس اور بجلی کا بل برداشت کرلیں گے لیکن چوروں اور ڈاکوؤں کو برداشت نہیں کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان جلد ہی نواز شریف کے سیاسی مستقبل کا فیصلہ کریں گے، پہلے بھی شہباز شریف نے نواز شریف کو نجات دلائی تھی لیکن اب ایسا نہیں ہونے دوں گا اور اگر نواز شریف بیرون ملک چلے گئے تو اسے ڈیل سمجھا جائے گا۔

پانچ فروری۔۔۔مظلوم کشمیریو ں کے ساتھ تجدیدعہد کادن

adaria

آج کشمیرمیں ریاستی دہشت گردی کی بد ترین صورتحال دیکھی جارہی ہے جہاں بھارتی فوج جبروظلم کی داستانیں رقم کررہی ہے ۔ مقبوضہ وادی کشمیر میں تحریک آزادی کو کچلنے کیلئے نہتے کشمیری مسلمانوں پر سنگین ظلم و بربریت اور انسانی حقوق کی بدترین پامالی روا رکھے ہوئے ہے۔ بھارتی فوج کی سفاکیت پر جب پُرامن مظاہرین احتجاج کرتے ہیں تو انہیں پیلٹ گنوں اور آنسو گیس کے گولوں سے نشانہ بنایاجاتا ہے۔نہتے کشمیریوں پر ظلم وستم کے سینکڑوں واقعات نے دنیا بھر میں انسانی حقوق کے علمبرداروں کیلئے سوالیہ نشان چھوڑ دیا ہے ۔افسوس ہے کہ اقوام عالم بھارت کو مقبوضہ کشمیرمیں ظلم وبربریت سے روکنے میں ناکام نظر آئی ہے ۔اقوام متحدہ کی خاموشی کشمیریوں کیلئے اذیت کا سبب بن رہی ہے حالانکہ اقوام متحدہ میں بھارت نے کشمیریوں کو حق خودارادیت دینے کا وعدہ کیا تھا اب بھارت قراردادوں کو تسلیم کرنے سے منحرف ہے ۔ کشمیریوں کی جرأت و بہادری اور بھارتی تسلط سے آزادی کے حصول کی جدو جہد سے اظہارِ یکجہتی کے طورپر پاکستانی قوم گزشتہ کئی دہائیوں سے ہر سال 5 فروری کو یوم یکجہتی کشمیر مناتی ہے۔ملک بھر میں آج یوم یکجہتی کشمیر بھر پور جوش وجذبے سے منایا جارہاہے ، عام تعطیل کے باعث تمام سرکاری و نیم سرکاری ادارے بندرہیں گے اور تمام صوبائی، ڈویژنل، ضلعی، تحصیل اور سٹی ہیڈ کوارٹرز میں ریلیاں منعقد کی جائیں گی جن کا مقصد عالم اقوام کی توجہ مسئلہ کشمیر کے حل اور کشمیریوں کو حق خود ارادیت دینے کی جانب مبذول کرانا ہے۔ مختلف سیاسی، دینی اور مذہبی جماعتوں کے زیر اہتمام خصوصی سیمینارز، کانفرنسز، مباحثوں، مذاکروں، جلسے اور جلوسوں کا بھی انعقاد کیا کیا جائے گا ۔ یوم یکجہتی کشمیر کی صبح کا آغاز نماز فجر کے وقت کشمیر کی آزادی، پاکستان کے استحکام، ملکی سلامتی، عالم اسلام کی سربلندی، کشمیری و پاکستانی عوام کی خوشحالی، مستقل بنیادوں پر امن کے قیام، اخوت و یگانگت اور بھائی چارے کے فروغ کی خصوصی دعاؤں سے کیاجاتاہے۔ دن صبح 10بجے تمام شہروں میں سائرن بجائے جاتے ہیں اور شہدائے کشمیر کو خراج عقیدت پیش کرنے سمیت ان کے ورثاسے اظہار یکجہتی کیلئے ایک منٹ کی مکمل خاموشی اختیار کی جاتی ہے۔ ادھرلندن میں کشمیرکے موضوع پرانٹرنیشنل کشمیر کانفرنس منعقد کی گئی جس میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے شرکت کی ۔ عالمی کشمیر کانفرنس کا اہتمام آل پارٹی پارلیمانی گروپ آن پاکستان (اے پی پی جی) نے دارالعوام ہاؤس آف کامنز میں کیا ہے ۔میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے وزیرخارجہ نے کہاکہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں ظلم کررہا ہے، عالمی دنیا خاموش ہے ، مسئلہ کشمیر حل طلب اور متنازعہ مسئلہ ہے، اسے بات چیت سے حل کیا جائے،مودی کی مقبوضہ کشمیر آمد پر مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال تھی، کیا مقبوضہ کشمیر میں ہڑتال پاکستان نے کرائی تھی، پاکستان پُرامن ملک ہے لڑائی نہیں چاہتا،نہتے کشمیریوں پر پیلٹ گنز کا استعمال کیا جارہا ہے عالمی برادری خاموش ہے، مقبوضہ کشمیر کی صورت حال تیزی سے بگڑ رہی ہے، دنیا میں جمہوریت کا سب سے بڑا دعویدار بھارت کشمیر میں ظلم کررہا ہے، کشمیری اپنے حق خود ارادیت کے جذبے پر قائم ہیں،کشمیر ایشو پر پاکستان کشمیر اور بھارت فریق ہیں۔ مقبوضہ جموں و کشمیر کے حوالے سے پاکستان کا موقف انتہائی واضح اور دو ٹوک ہے۔ لندن میں یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر نہتے کشمیریوں پر ہونے والے بھارتی مظالم اور جبر استبداد کے خلاف بھر پور آواز اٹھائیں گے ۔پاکستان اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی منظور کردہ قراردادوں کی روشنی میں کشمیری عوام کے حق خودارادیت کے حصول تک انکی بھرپور سیاسی، اخلاقی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گا۔ دنیا کے کسی مہذب معاشرے میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی اجازت نہیں ، سب سے بڑی جمہوریت کی دعویدار بھارتی سرکار کشمیریوں پر ظلم و ستم ڈھا رہی ہے۔ کشمیری حق خودارادیت کے جذبے پر قائم ہیں۔گزشتہ روز مقبوضہ وادی میں جذبہ شہادت سے سرشار کشمیریوں نے بھارتی وزیراعظم نریندرمودی کے دورے کے موقع پر اہل کشمیرنے جس یکجہتی کامظاہرہ کیاوہ مودی کے لئے آنکھیں کھول دینے کے لئے کافی ہے۔ احتجاج کے باعث مقبوضہ کشمیر فوجی چھاؤنی میں تبدیل ہوگیا۔ مقبوضہ کشمیر میں حریت رہنماؤں کو نظربندکیاگیا۔ مقبوضہ وادی میں کاروباری مراکز بند، موبائل اور انٹرنیٹ سروس معطل رہی۔ یہ سب کچھ بھی اگرعالمی برادری اورخودبھارتی حکمرانوں کی آنکھیں نہیں کھولتاتوپھراس پرافسوس ہی کیاجاسکتاہے۔

وزیراعظم عمران خان کادورہ لاہور
سانحہ ساہیوال اس حکومت کیلئے ٹیسٹ کیس ہے ، کیونکہ بظاہر جو شواہد ملے ہیں اس میں خلیل کے خاندان کے ساتھ انتہائی ظلم ہواہے لیکن المیہ یہ ہے کہ سی ڈی ٹی کے اہلکاروں نے بھی ایک عجیب وغریب منطق پیش کرتے ہوئے اپنا بیان بدل لیاہے جس کی وجہ سے یہ سانحہ مزید گھمبیرصورتحال اختیار کر گیا۔ گزشتہ روز وزیراعظم پاکستان عمران خان لاہور گئے جہاں پر انہوں نے اہم اجلاسوں کی صدارت کی ۔ کچھ منصوبو ں کی منظوری بھی دی ۔وزیراعلیٰ عثمان بزدار سے ون ٹو ون ملاقات بھی کی ۔وزیراعظم نے انتہائی اہم عندیہ دیتے ہوئے کہاکہ اگرمتاثرین کا خاندان راضی ہوتاہے تو سانحہ ساہیوال کی تحقیقات کے حوالے سے جوڈیشل کمیشن بنایاجاسکتاہے۔پوری قوم کی نظریں اس سانحے پرمرکوز ہیں۔ نیزوزیراعظم نے گورنر پنجاب سے ملاقات میں صوبے میں واٹر اتھارٹی کے قیام کی منظوری دی۔ وزیراعظم عمران خان نے ہدایت کی پنجاب کے عوام کیلئے صاف پانی کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔ وزیراعظم نے کہا کہ واٹر اتھارٹی کے قیام کیلئے جلد قانون سازی کی جائے گی۔ عمران خان نے وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار سے ملاقات صوبے میں امن و امان کی صورتحال پر تفصیلی بات چیت کی ۔ وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے وزیراعظم عمران خان کو سانحہ ساہیوال پر پیشرفت سے آگاہ کیا اور پولیس اصلاحات کے بارے میں بریفنگ دی۔ دوسری جانب وزیراعظم عمران خان نے گیس کی قیمتوں میں اضافے کا نوٹس لیتے ہوئے وزیر پیٹرولیم کو فوری طور پر تحقیقات کی ہدایت کردی ہے، وزیراعظم نے کہا کہ گھریلو صارفین کے لئے گیس بلوں میں اضافی بوجھ ڈالنا نا مناسب ہے۔ یہ فیصلہ انتہائی مستحسن ہے کیونکہ اس سے براہ راست عوام متاثرہورہی ہے پہلے ہی گیس کی لوڈشیڈنگ اوپر سے بھاری بھرکم بلوں کی وجہ سے عوام کامزید بھرکس نکل جائے گا۔نیزاس تحقیقات میں محکمہ سوئی گیس کی بہت زیادہ خامیاں بھی سامنے آنے کے امکانات ہیں۔
ایس کے نیازی کی قبضہ مافیا کے خلاف ٹویٹ
پاکستان گروپ آف نیوزپیپرزکے چیف ایڈیٹر اور روز نیوز کے چیئرمین ایس کے نیازی نے ایک انتہائی اہم ٹویٹ کی ہے ۔جس میں انہوں نے کہاکہ پاکستان میں قابضین کے خلاف کارروائی خوش آئند ہے تاہم انہوں نے آگے مزید وضاحت کی کہ قابضین کے خلاف کب کارروائی ہوگی۔اصل بات یہی ہے کہ جو قبضہ مافیا ہے اس کو قرارواقعی سزادی جائے اور کوئی بھی کسی بھی قسم کی غیرقانونی سرگرمیوں میں ملوث ہو اس کو سزاہرصورت ملناچاہیے۔اس حوالے سے یہ ٹویٹ ایک اہمیت کی حامل ہے حکومت کوبھی چاہیے کہ وہ قابضین کے خلاف ترجیحی بنیادوں پر کارروائی کرے اس سے کرپشن کے خاتمے میں بھی مددملے گی۔

ملک دشمن عناصرکی سازشیں ناکام بنانے کے لئے کوشاں ہیں، آرمی چیف

راولپنڈی: آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا ہے کہ ملک دشمن عناصر کی سازشیں ناکام بنانے کے لئے کوشاں ہیں۔

آئی ایس پی آرکے مطابق آرمی چیف جنرل قمرجاوید کی زیرصدارت  جی ایچ کیو راولپنڈی میں کورکمانڈرکانفرنس ہوئی۔ جس میں جیو اسٹرٹیجک صورتحال اورسیکیورٹی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ کانفرنس میں علاقائی امن باالخصوص افغان مفاہمتی عمل پر پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا گیا۔

کورکمانڈرکانفرنس میں کنٹرول لائن اورورکنگ باوٴنڈری پر سیزفائرکی بھارتی خلاف ورزیوں کا بھی جائزہ لیا گیا اورمقبوضہ کشمیر میں معصوم کشمیریوں پربھارتی مظالم بھی زیربحث لائے گئے۔ پاک فوج کی آپریشنل تیاریوں کا بھی جائزہ لیا گیا۔

کانفرنس میں آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ کا کہنا تھا کہ ملک دشمن عناصرکی سازشیں ناکام بنانے کے لئے کوشاں ہیں، سرحدوں کی حفاظت کے لیے ردالفساد کے تحت آپریشن جاری ہیں، اپنی سرحدوں کے تحفظ سمیت مربوط قومی ردعمل پربھرپورتوجہ ہے اوررپاکستان کے خلاف سازشیں ناکام بنائیں گے۔

طالبان اور افغان رہنما روس میں ملاقات پر رضامند

کابل: طالبان اور افغان رہنماؤں نے روس میں ہونے والے امن مذاکرات میں شرکت کے لیے حامی بھر لی۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق افغان طالبان اور سابق افغان صدر حامد کرزئی سمیت دیگر افغان رہنماؤں کے درمیان امن مذاکرات کل ماسکو میں ہوں گے۔ فریقین نے 2 روزہ امن مذاکرات میں شرکت کرنے کے لیے رضامندی ظاہر کردی ہے۔

ادھر افغان طالبان کے امن مذاکرات میں کابل حکومت کے نمائندے کی غیر موجودگی کے مطالبے کو تسلیم کرتے ہوئے کل ہونے والے مذاکرات میں کابل حکومت کو مدعو نہیں کیا گیا ہے۔

افغان صدر اشرف غنی نے ماسکو میں ہونے والے امن مذاکرات کو تنقيد کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ طالبان افغانستان کے حقیقی نمائندوں سے ملاقات سے انکاری ہو کر غیر جمہوری قوتیں ہونے کا ثبوت دے رہے ہیں۔

صدر اشرف غنی نے مزید کہا کہ افغان عوام ایسے کسی امن مذاکرات کو نہیں مانیں گے جس میں ان کے حقیقی نمائندے شریک نہ ہوں۔ سابق صدر حامد کرزئی کو کابل حکومت کے نمائندے کی شرکت کے بغیر مذاکرات میں حصہ نہیں لینا چاہیئے۔

واضح رہے کہ قطر اور سعودی عرب میں امریکا اور افغان طالبان کے درمیان ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد فریقین کا کئی اہم نکات پر اتفاق رائے ہو گیا ہے اور فریقین نے ایک دوسری کو کئی معاملات میں یقین دہانیاں بھی کرائی ہیں۔

افغانستان میں انتخابات اقوام متحدہ کے زیر نگرانی کرانے کی تجویز

اسلام آباد:  امریکا اور افغان طالبان کے درمیان مذاکرات کا اگلا دور آئندہ ماہ دوحا میں ہونے کی توقع  ہے۔ آئندہ مرحلے میں افغانستان میں دو عشروں سے جاری جنگ کے خاتمے کی تجاویز پر مزید اور تفصیلی غور ہوگا جب کہ افغانستان میں انتخابات افغان حکومت کے بجائے اقوام متحدہ کے زیر نگرانی کرانے کی تجویز بھی سامنے آئی ہے۔

گذشتہ ماہ قطر میں ہونے والے مذاکرات میں افغانستان کے مستقبل کے حوالے سے جہاں امید پیدا ہوئی وہاں اندیشوں نے بھی جنم لیا۔ دوحا میں 6  روز تک جاری رہنے والے مذاکرات کے حوالے سے امریکا اور طالبان دونوں فریقین نے ’ پیش رفت‘ ہونے کا اعتراف کیا تھا۔

ان مذاکرات کی بنیاد دو مرکزی نکات پر تھی پہلا امریکی افواج  کے انخلا کی ٹائم لائن اور دوسرا یہ کہ مغرب اور  دیگر ممالک کے خلاف دہشت گرد گروپ افغان سرزمین دوبارہ استعمال  نہ کرسکیں تاہم باخبر حکام کے مطابق مذاکرات میں  فریقین کے درمیان امن معاہدے طے پاجانے کی صورت میں افغانستان میں اگلے انتخابات اقوام متحدہ کے تحت کرائے جانے کی تجویز بھی زیرغور رہی۔ پاکستان بھی بند دروازے کے پیچھے ہونے والے مذاکرات کا حصہ تھا جس کی کوششوں سے دیرینہ دشمن مذاکرات کی میز پر بیٹھے تھے۔

مذاکرات میں ہونے والی پیش رفت سے واقف ایک سینئر اہلکار نے ’ایکسپریس ٹریبیون‘ کو بتایا کہ مذاکرات میں امن معاہدے کے تمام پہلوؤں پر مشتمل ایک ’وسیع تر فریم ورک‘ زیربحث رہا۔

واضح رہے کہ طالبان اب تک امن معاہدے کے لیے جاری کوششوں میں افغان حکومت کے ساتھ بیٹھنے سے انکاری رہے ہیں تاہم حکام کے مطابق اگلے مرحلے میں طالبان اور افغان حکومت سمیت تمام گروپ عشروں کی خونریزی کے بعد اپنے ملک کا مستقبل طے کرنے کے لیے سرجوڑ کر بیٹھ سکتے ہیں۔

یہ خبریں بھی گردش کرتی رہی ہیں کہ تمام اسٹیک ہولڈرز اگر کسی معاہدے پر پہنچ جاتے ہیں تو پھر افغانستان میں عبوری حکومت بھی قائم ہوسکتی ہے تاہم سب سے اہم سوال پھر بھی یہ ہوگا کہ آیا افغان طالبان یا کابل کی موجودہ انتظامیہ طاقت اور اختیار میں شراکت داری پر آمادہ ہوتے ہیں یا نہیں؟

دریں اثنا مذاکرات میں جس انداز سے پیش رفت ہوئی ہے اس سے افغان صدر اشرف غنی بظاہر پریشان نظر آتے ہیں۔ ان کی انتظامیہ کو اس وقت سائیڈلائن کردیا گیا جب کہ وہ رواں برس جولائی میں ہونے والے صدارتی انتخابات کے بعد مزید پانچ سال کے لیے منصب صدارت سنبھالنے کے متمنی ہیں تاہم مشاہدہ کاروں کو یقین ہے کہ صدارتی انتخابات کا مستقبل جاری امن مذاکرات سے وابستہ ہے۔

امریکا اور دیگر اسٹیک ہولڈرز جولائی سے قبل امن معاہدے کو حتمی شکل دینے کے حق میں ہیں اور توقع رکھتے ہیں کہ طالبان اس انتخاب میں حصہ لیں گے تاہم ذرائع کے مطابق طالبان نے انتخابی عمل کا حصہ بننے میں کوئی دل چسپی ظاہر نہیں کی اس کے بجائے دوحا میں ہونے والے مذاکرات میں طالبان کے نمائندے نے امریکا پر اپنا یہ موقف واضح کیا تھا کہ موجودہ نظام کے تحت منصفانہ انتخابات نہیں ہوسکتے۔

طالبان کے تحفظات دور کرنے کے لیے اقوام متحدہ اور دوسرے عالمی اداروں کی نگرانی میں انتخابات کروانے کی تجویز دی گئی تھی۔ طالبان پر اثر رکھنے والے ممالک ان پر انتخابی عمل کا حصہ بننے کے لیے دباؤ ڈالتے رہے ہیں تاہم طالبان کی جانب سے انھیں واضح اشارے نہیں ملے۔

مذاکراتی عمل میں طالبان کی نمائندگی کرنے والے شیرعباس ستنکزئی نے اس بات پر زور دیا کہ طالبان، افغان حکومت کو تسلیم نہیں کرتے اور توقع رکھتے ہیں کہ امن معاہدے کے بعد افغان فوج کو تحلیل کردیا جائے۔

لندن میں کشمیر کانفرنس اور بھارتی پریشانی

کشمیری عوام کی تحریک آزادیاسی روز سے شروع ہو گئی تھی جب انگریزوں نے گلاب سنگھ کے ساتھ بدنام زمانہ ’’معاہدہ امرتسر‘‘ کے تحت کشمیر کا 75لاکھ روپے نانک شاہی کے عوض سودا کیا۔ کشمیریوں نے غیر مسلح جدوجہد اور سول نافرمانی کے ذریعے جموں کشمیر کو آزاد کرانے کا مطالبہ کردیا۔ یوں 1934ء میں پہلی مرتبہ ہندوستان میں کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی اور ڈوگرہ راج کے مظالم کے خلاف ملک گیر ہڑتال کی گئی۔ قائد اعظم ؒ کی دور اندیش نگاہوں نے سیاسی‘ دفاعی‘ اقتصادی اور جغرافیائی حقائق کو سامنے رکھتے ہوئے کشمیر کو پاکستان کی’’شہ رگ‘‘ قرار دیا۔ کسی کے وہم وگمان میں بھی نہیں تھا کہ آنے والے برسوں میں کشمیری عوام اس طرح ان کے ساتھ کھڑے ہوں گے کہ ہندوستان نواز سیاسی قوتوں کو اپنا وجود برقرار رکھنا بھی مشکل ہوجائے گا۔ بھارت کو یہ اندازہ تک نہیں تھا کہ کشمیری عوام کی جدوجہد کے نتیجے میں کشمیر کے انتظامی ‘ سیاسی اور سماجی ڈھانچے کی بلند و بالا عمارت اسی پر آگرے گی۔اسی جدوجہد کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کیلئے سابق امیر جماعت اسلامی قاضی حسین احمد نے 5 جنوری 1989ء کو لاہور میں ایک پریس کانفرنس میں5 فروری کو ہڑتال کی اپیل کرکے یوم کشمیر منانے کا فیصلہ کیا۔ یوں 1989ء کو یوم کشمیر پہلی مرتبہ اور 1990ء کو تمام تر سیاسی اختلافات کو پس پشت ڈال کر منایا گیا۔ اس کے بعد گزشتہ 28 برسوں سے 5 فروری کو آزاد و مقبوضہ کشمیر ‘ پاکستان اور دنیا بھر میں موجودہ 15 لاکھ سے زائد کشمیری تارکین وطن ہر سال یوم کشمیر اس عزم کے ساتھ مناتے ہیں کہ آزادی کے حصول تک یہ سلسلہ جاری رہے گا۔امسال یہ دن اس لئے بھی اہمیت اختیار کر گیا ہے کہ برطانیہ میں یوم یکجہتی کشمیر منایا جا رہا ہے۔برطانوی دارالحکومت لندن کے علاقے ڈاؤننگ سٹریٹ پر 5فروری کو یوم یکجہتی کشمیر کے سلسلے میں احتجاج ہوگا جس میں پاکستانی اور کشمیری سیاسی جماعتیں فعال کردار ادا کررہی ہیں۔مختلف شہروں میں مظاہرے کو کامیاب بنانے کے لیے اجلاس بلائے جارہے ہیں۔تمام جماعتوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے ایک جھنڈے تلے مظاہرہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ پہلی دفعہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کشمیر ڈے پر لندن میں پاکستان کی نمائندگی کریں گے۔سابق وزیر اعظم آزاد کشمیر بیرسٹر سلطان بھی برطانیہ میں موجود ہیں۔آزاد کشمیر و پاکستان کے رہنماؤں نے بھارتی مظالم کو بھرپور طریقے سے بے نقاب کرنے کے عہد کا اظہار کیا ہے۔کانفرنس میں پوری پاکستانی قیادت کیساتھ ساتھ سرحد پار کشمیر کی پوری سیاسی قیادت کو بھی مدعو کیا گیا ہے۔ اس موقعے پر میر واعظ کوبھی اس کانفرنس میں شرکت کی باضابط دعوت دی گئی لیکن میر واعظ عمر فاروق نے یہ کہہ کر معذرت ظاہر کی کہ بھارتی حکومت نے ان کا پاسپورٹ ہی ضبط کر لیا ہے جس کی بنیا د پر وہ اس کانفرنس میں شریک نہیں ہوسکتے ہیں۔مسئلہ کشمیر پر بھارت کو سفارتی سطح پر ا س وقت ایک بڑا دھچکا لگا جب برطانوی حکومت نے4اور5فروری کو برطانیہ میں منعقد ہونے والی کشمیر کانفرنس کے انعقاد پر بھارتی اعتراض و احتجاج کومسترد کرتے ہوئے کہاکہ یہ حکومت کے دائرے اختیار میں نہیں ہے کہ یوم یکجہتی کشمیر کے سلسلے میں برطانیہ میں منعقد ہونے والی اس کشمیر کانفرنس کو منسوخ کرایا جاسکے۔ بھارت کی وزرات خارجہ نے برطانوی حکومت کے اس اقدامات کی سخت الفاظ میں نکتہ چینی کرتے ہوئے احتجاج کیا اور بھارت میں موجود برطانوی سفارت کار کو بھی وزارت خارجہ نے طلب کیا ہے اور ان کی اپنی تشویش پہنچائی۔ بھارت نے مطالبہ کیا کہ بھارتی نقطہ نظر کو سمجھتے ہوئے برطانوی سرزمین پر ایسی سرگرمیوں کو روکا جائے۔ ہندوستانی حکومت عالمی رائے عامہ کو یہ تاثر دینا چاہتی ہے کہ وہ مسئلہ کشمیر سمیت تمام تنازعات پر امن مذاکرات کے ذریعے حل کرنا چاہتی ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ ہندوستانی حکمران پاکستان پرکشمیر میں دہشت گردی کا بے بنیاد الزام عائد کر رہے ہیں۔ ہندوستانی حکمرانوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ جب کوئی قوم آزادی کے حصول پر تل جائے تو دنیا کی بڑی سے بڑی طاقت بھی اس کو آزادی کے حصول سے نہیں روک سکتی۔ کشمیری گزشتہ 71 سال سے آزادی کی تلاش میں سرکردہ ہیں اور وہ اس مقصد کے لئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر رہے ہیں۔ اس میں بڑے تو بڑے جوان، عورتیں، بچے سبھی شامل ہیں۔ ہندوستان اپنی آٹھ لاکھ فوج کر استعمال کرنے کے باوجود کشمیریوں کی تحریک آزادی کو روک نہیں سکا اور وہ زیادہ دیر تک طاقت کے استعمال سے کشمیریوں کو غلام نہیں رکھ سکتا۔کل جماعتی حریت کانفرنس نے اقوام عالم اور انسان دوست ممالک سے اپیل کی ہے کہ وہ کشمیر کی ابتر سیاسی صورتحال کا سنجیدہ نوٹس لے کر بھارت کی سرکاری دہشت گردی روکنے میں کر دار ادا کریں اور تنازعہ کشمیر کو حل کرنے کیلئے کشمیری عوام کی رائے اور امنگوں کا لحاظ رکھیں۔ بھارتی سرکار اپنے ذرائع ابلاغ کے ذریعے اس بات کے گمراہ کن پروپیگنڈے سے یہ تاثر دینے کی کوشش میں لگی ہے کہ کشمیر میں سب کچھ ٹھیک ہے۔ لیکن حقیقت اس کے برعکس اور تشویشناک ہے۔ بھارت نے8 لاکھ فوجی اہلکاروں کی بندوقوں کے زیر سایہ کشمیر کے متنازعہ خطے میں کچھ بھی کر گزرنے کی ٹھان لی ہے۔ حراستی ہلاکتوں ، خواتین پر دست اندازیاں، عزتوں پر حملے اور املاک کی تباہی روز کا معمول بنادیا گیا ہے۔ کٹھ پتلی حکومتیں جعلی الیکشنوں کا ڈرامہ رچا کر قائم کی جاتی ہیں جو جمہوریت کا دعوی تو کرتی ہیں اور سیاسی سرگرمیوں پر کٹھ پتلی حکومت کے رکاوٹ نہ ڈالنے کا یقین تو دلاتی ہیں لیکن وہ ایک لمحے کے لئے بھی کشمیری حریت پسند عوام کو اظہار رائے کا حق دینے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ کشمیر ایک زندہ حقیقت ہے اور بھارت کا انکار کسی بھی طور پر کشمیر کی ہیئت پر اثر انداز نہیں ہوسکتا ہے۔ یوم یکجہتی کشمیر منانے سے بھارت کو واضح پیغام دیا گیا کہ کشمیر کے مسئلہ پر تمام سیاسی جماعتیں یک جان ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے سربراہ آصف زرداری نے بھار ت کوپیغام دیا ہے کہ بھلے ہی وہ اپوزیشن میں ہیں لیکن کشمیر کے معاملے پر پاکستانی قوم اور سیاسی لیڈران کا موقف ایک ہی ہے۔

Google Analytics Alternative