Home » 2019 » February » 06

Daily Archives: February 6, 2019

نواز شریف کا علاج پاکستان میں ہی ممکن ہے، سربراہ میڈیکل بورڈ

 لاہور: نواز شریف کا معائنہ کرنے والے میڈیکل بورڈ کے سربراہ ڈاکٹر محمود ایاز کا کہنا ہے کہ سابق وزیر اعظم کا علاج پاکستان میں ہی ہوسکتا ہے۔

سروسز اسپتال لاہور میں نواز شریف کا علاج کرنے والے میڈیکل بورڈ کے سربراہ پروفیسر محمود ایاز نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ نواز شریف کو بلڈ پریشر، شوگر، گردوں اور خون کی شریانوں کا مسئلہ ہے، ہم نے نواز شریف کا تفصیلی طبی معائنہ کیا، اس دوران تمام شعبوں کے سربراہان میڈیکل بورڈ میں شامل تھے۔

ڈاکٹر محمود ایاز کا کہنا ہے کہ نوازشریف کے تمام ضروری ٹیسٹ کرلیے ہیں تاہم ٹیسٹ رپورٹس سے متعلق کچھ نہیں بتاسکتے۔ ہم نے ان کی دواؤں میں معمولی ردوبدل کیا ہے، میڈیکل بورڈ نے تجاویز محکمہ داخلہ پنجاب کو بھیج دی ہیں، ہم نے محکمہ داخلہ کو سفارش کی ہے کہ ان کا عارضہ قلب کے لئے اسپیشلائزڈ طبی معائنہ کیا جائے۔

سربراہ میڈیکل بورڈ کا کہنا تھا کہ نواز شریف کا علاج پاکستان میں ممکن ہے اور انہیں شفٹ کرنے کا حتمی فیصلہ محکمہ داخلہ کرے گا۔

نواز شریف چاہتے ہیں کہ انہیں جیل واپس بھیجا جائے، مریم نواز

لاہور: مسلم لیگ (ن) کی رہنما مریم نواز کا کہنا ہے کہ نواز شریف چاہتے ہیں کہ انہیں جیل واپس بھیجا جائے۔

سابق وزیراعظم نواز شریف کی عیادت کےلیے ان کی صاحبزادی مریم نواز سروسز اسپتال لاہور پہنچیں، اس موقع پر انہوں نے کہا کہ اللہ تعالی نواز شریف کو صحت دے، وہ چاہتے ہیں کہ انہیں جیل واپس بھیجا جائے۔

واضح رہے کہ نواز شریف سروسز اسپتال میں گزشتہ 4 روز سے زیر علاج ہیں۔ گزشتہ روز ان کے دل کے ٹروپ آئی ٹیسٹ کی رپورٹ آئی تھی، جس کے مطابق انہیں حالیہ دنوں میں دل کا دورہ نہیں پڑا۔ ان کا مکمل بلڈ ٹیسٹ نارمل ہے تاہم ان کا یورک ایسڈ ٹیسٹ بارڈر لائن پر ہے۔

وزیراعظم عمران خان کی وفاق اور صوبوں کے درمیان تعاون بڑھانے کی ہدایت

 اسلام آباد: ملک میں صحت، تعلیم، زراعت، سیاحت اور صنعتی شعبے کو فروغ دینے کے لیے وفاق نے صوبوں کو مکمل تعاون یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔

وزیراعظم عمران خان کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس میں وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان، گورنر شاہ فرمان اور دونوں صوبوں کے وزرا سے شرکت کی۔

اجلاس میں وزیراعظم نے عوام کو درپیش مشکلات کے حل کے لیے وفاق اور صوبوں کے درمیان تعاون بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا، ان کا کہنا تھا کہ ابتدائی 6 ماہ کے عرصے کے بعد اگلے مرحلے کا آغاز ہونے جارہا ہے جس کے لیے وفاق اور صوبوں کے درمیان مزید مربوط تعاون ہونا چاہیے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ عوام کی بہتری کے لیے اٹھائے گئے حکومتی اقدامات کو اجاگر کرنے کی ضرورت ہے تاکہ انہیں علم ہوسکے کہ گزشتہ حکمرانوں نے ملک کا کیا حال کر چھوڑا ہے، انہوں نے کہا کہ’ہم نے مشکل حالات میں اقتدار سنبھالا اور ہم جانتے ہیں کہ روپے کی قدر میں کمی کے باعث لوگوں کو مشکلات کا سامنا ہے تاہم حکومت ملک کو خوشحال بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کررہی ہے‘۔

اجلاس میں وزیر برائے منصوبہ بندی خسرو بختیار نے مستقبل میں حکومتی ترجیحات پر روشنی ڈالی۔ اس موقع پر وزیراعظم نے ملک میں سیاحت کو فروغ دینے کے لیے ایک روڈ میپ تیار کرنے کی ضرورت پر زور دیا، ان کا کہنا تھا کہ ’ہم صرف سیاحت سے 40 ارب ڈالر سالانہ حاصل کرسکتے ہیں‘۔

اجلاس میں صوبائی وزرا نے دونوں صوبوں کے تعلیم، صحت، زراعت اور دیگر شعبہ جات سے متعلق بریفنگ دی جس پر وفاقی اور صوبائی وزرا پر مشتمل ورکنگ گروپس تشکیل دیے گئے۔

اجلاس میں وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے بتایا کہ پنجاب میں 7 صنعتی زونز کے قیام کے لیے سمری بورڈ آف انویسٹمنٹ (بی او آئی) کو ارسال کردی گئی ہے اور بی او آئی کو سیاحت کے لیے بھی خصوصی اقتصادی فریم ورک 30 دن کے اندر بنانے کی ہدایت کی گئی ہے اور رشاکئی اقتصادی زون جلد کام شروع کردے گا۔

زراعت کے حوالے سے وزیراعظم کو بتایا گیا کہ حکومتی اقدامات کے بدولت پہلی مرتبہ پنجاب کے کسانوں کو گنے کی فصل کی صحیح قیمت ملی ہےجبکہ کسانوں کو کنولا اور سن فلاور تیل کی پیداوار کے لیے سبسڈی بھی فراہم کی جارہی ہے۔

علاوہ ازیں وزیراعظم نے تمام سرکاری ہسپتالوں میں صحت و صفائی کے انتظامات بہتر بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ ’ہسپتالوں کی انتظامیہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ صفائی ستھرائی کے معاملات میں کوئی غفلت نہ برتی جائے اور اس کے لیے متعلقہ وزیر زیادہ سے زیادہ ہسپتالوں کے دورے کریں۔

اس کے ساتھ وزیراعظم نے اقتصادی مشاورتی کونسل کے اجلاس کی بھی سربراہی کی اور ملک کو معاشی بحران سے نکالنے کے لیے حکومتی اقدامات کا جائزہ لیا۔

وزیر خزانہ نے اجلاس کے شرکا کو ماہ جنوری کے دوران حکومتی کوششوں کی بدولت بہتر ہوئے اقتصادی اعشاریوں اور معیشیت کو ڈیجیٹلائزش کرنے کے اقدامات سے آگاہ کیا۔

جس پر اجلاس کے شرکا نے امیدظاہر کی کہ معیشت کی ڈیجیٹلائزیشن اور ای-کامرس کی بدولت چھوٹی اور درمیانی صنعتوں کو پھلنے پھولنے کے موقع میسر آئیں گے۔

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی مقبوضہ کشمیر کے دورے پر مذاق بن گئے

سری نگر: مقبوضہ کشمیر کے دورے کے موقع پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی پہاڑوں کی جانب سے ہاتھ لہراتے رہے اور ان کی ویڈیو کلپ منظر عام پر آنے کے بعد انہیں سوشل میڈیا پر مذاق کا نشانہ بنا دیا گیا ہے۔

نریندر مودی نے گزشتہ روز مقبوضہ کشمیر کا دورہ کیا تو اس موقع پر وادی بھر میں احتجاج و ہڑتال کی گئی، سڑکوں پر سناٹا رہا اور کشمیری عوام نے ان کے دورے پر یوم سیاہ منایا۔

بھارتی وزیراعظم نے اپنے دورے کے دوران مختلف منصوبوں کا افتتاح کیا اور جب وہ ‘دل جھیل’ کی سیر کو پہنچے اور کشتی میں سوار ہوئے تو انہوں نے یہ دکھانے کے لیے کہ لوگ ان کا استقبال کر رہے ہیں، پہاڑوں کی جانب دیکھ کر ہاتھ لہراتے رہے۔

بھارتی نیوز ایجنسی اے این آئی نے جب ان کی یہ ویڈیو سماجی رابطے کی سائٹ ٹوئٹر پر اپ لوڈ کی تو اس پر کشمیر کے سیاسی رہنماؤں سمیت سوشل میڈیا صارفین نے شدید تنقید کا نشانے بنانے کے ساتھ مختلف جملے کسے۔

مقبوضہ جموں کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے نریندر مودی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ نریندر مودی کا ہاتھ ہلانا کشمیر میں نہ دکھائی دینے والے ان گنت بی جے پی کے دوستوں کے لیے ہے۔

Mehbooba Mufti

@MehboobaMufti

For the those who are asking , the 👋 is for BJPs countless imaginary ‘friends’ in Kashmir.

ANI

@ANI

#WATCH Jammu & Kashmir: Prime Minister Narendra Modi tours Dal lake in Srinagar.

Embedded video

651 people are talking about this

سابق وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے اپنی ٹوئٹ میں کہا کہ کیمرہ مین نے نریندر مودی کے ہاتھ ہلانے کا جواب دینے والے لوگوں کو نہ دکھا کر ذمہ داری کی ادائیگی میں بہت بڑی غفلت کی، کیوں کہ اس کی کوئی وجہ نہیں بنتی کہ وزیراعظم خالی جھیل پر حالت لہرائیں۔

Omar Abdullah

@OmarAbdullah

This camera person has done the Hon PM a huge disservice by not showing all the people furiously waving back because there is no way the PM would be waving at an empty lake.

ANI

@ANI

#WATCH Jammu & Kashmir: Prime Minister Narendra Modi tours Dal lake in Srinagar.

Embedded video

4,178 people are talking about this

بھارتی مصنف اور سیاستدان سلمان نظامی نے نریندر مودی کی ویڈیو پر دلچسپ تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ کس کو ہاتھ ہلارہے تھے، ویڈیو کے آخر میں دیکھیں۔

Embedded video

Salman Nizami

@SalmanNizami_

Modi’s photoshoot in Dal Lake Kashmir today;

But who is he waving at? Watch till end…. 😉

279 people are talking about this

پرعزم کشمیری اپنا حق لینے میں کامیاب ہوں گے، ترجمان پاک فوج

راولپنڈی: ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور کا کہنا ہے کہ پرعزم کشمیری اپنا حق لینے میں کامیاب ہوں گے۔

یوم یکجہتی کشمیر پر ڈی جی آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری پیغام میں کہا گیا ہے کہ مسئلہ کشمیر 1948 سے اقوام متحدہ  ایجنڈے پر حل کا منتظر ہے، دہائیوں سے قابض فوج تحریک آزادی کچلنے میں ناکام ہے، انشااللہ پرعزم کشمیری اپنا حق لینے میں کامیاب ہوں گے۔

 

ملی جوش وجذبہ اوریوم یکجہتی کشمیر،عالمی برادری مسئلے کافوری حل نکالے

adaria

پاکستان سمیت دنیا بھر میں بھارتی مظالم کے خلاف سینہ سپر کشمیری عوام سے اظہار یکجہتی کیلئے گزشتہ روز یوم یکجہتی کشمیر پورے ملی جوش جذبے کے ساتھ منایا گیا۔ اس دن کو منانے کا مقصد کشمیری عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کرنا اور یہ باور کرانا ہوتا ہے کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے، اس کیساتھ ساتھ پاکستان کے عوام کے دل کشمیریوں کے ساتھ دھڑکتے ہیں اور وہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جارحیت اور ظلم و جبر کیخلاف ہیں۔ مقبوضہ کشمیر کے عوام اپنے حق خود ادرایت کیلئے کئی لاکھ بھارتی فوجیوں سے برسرپیکارہیں تاکہ وہ بین الاقوامی سطح پر اپنے حق خوداردایت کو منوا سکیں۔پاکستان اور آزاد کشمیر کو ملانے والے کوہالہ، منگلا، ہولاڑ اورآزاد پتن کے مقامات پر انسانی ہاتھوں کی زنجیر بنائی گئی۔ وفاقی دارالحکومت میں معاشرے کے مختلف طبقوں سے تعلق رکھنے والے افراد مظلوم کشمیری بھائیوں سے اظہار یکجہتی کیلئے ڈی چوک پر انسانی ہاتھوں کی زنجیر بنائی گئی۔ مقبوضہ کشمیر کی جدوجہد آزادی کے شہدا کو خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے صبح دس بجے ایک منٹ کیلئے خاموشی اختیار کی گئی۔ آزاد کشمیر سمیت ملک بھر میں ریلیاں نکالی گئیں جلسے جلوس اور سیمینارزمنعقد کئے گئے جن کا مقصد عالمی برادری کی توجہ بے گناہ کشمیریوں پر بھارتی فوج کے مظالم اورانسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی طرف مبذول کراناتھا۔کشمیر کے دیرینہ مسئلے کے انسانی پہلووں کو موثر انداز میں اجاگر کرنے کیلئے لندن میں بھی تقریبات کااہتمام کیا گیا۔ اس دن کے حوالے سے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی، وزیر اعظم عمران خان اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے خصوصی پیغام دیا، جس میں کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کیا گیا۔ صدر ڈاکٹرعارف علوی اور وزیر اعظم عمران خان نے یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر اپنے الگ الگ پیغامات میں کشمیری بھائی، بہنوں کو ایک مرتبہ پھر یقین دلایا کہ پاکستان کا مسئلہ کشمیر پر اصولی موقف ہمیشہ برقرار رہے گا۔ وزیراعظم عمران خان نے اپنے پیغام میں کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں جدوجہد آزادی کو ہر گزرتے دن کے ساتھ تقویت مل رہی ہے۔ انہوں نے افسوس کاا ظہار کرتے ہوئے کہا کہ 7دہائیاں گزرنے کے باوجود تنازع کشمیر حل نہیں ہوسکا۔ انہوں نے بذریعہ ویڈیو پیغام کہا کہ پانچ فروری کو پوری پاکستانی قوم نے کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کی ۔ ان کا کہنا تھا کہ مجھے بے حد خوشی ہوتی اگر حریت قیادت آزاد ہوتی، ان کے پاسپورٹ ضبط نہ کیے گئے ہوتے، انہیں اظہار خیال کرنے کا حق دیا گیا ہوتا اور اگر آج وہاں سنگینوں کے نیچے آزادی کے نعرے نہ لگ رہے ہوتے۔اُدھر جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کی چیئرمین یاسین ملک کی اہلیہ مشعال ملک نے ویڈیو پیغام جاری کرتے ہوئے پاکستانی عوام کا مظلوم کشمیریوں سے غیر مشروط اور بے پناہ حمایت کا مظاہرہ کرنے پر شکریہ ادا کیا۔ اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر کشمیر ایک دیرینہ تنازعہ ہے۔بھارتی حکمران کشمیر میں استصواب رائے سے انکار کررہے ہیں جس کا ان کے ماضی کے رہنماؤں نے وعدہ کیا تھا۔ بھارت مقبوضہ وادی میں مسلم اکثریت کواقلیت میں تبدیل کرنے کیلئے مختلف ہتھکنڈے استعمال کر رہا ہے۔ عالمی برادری مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور جاری مظالم پراپنی خاموشی توڑے۔ بین الاقوامی میڈیا بھی مقبوضہ کشمیرکے زمینی حقائق کو دنیا کے سامنے بے نقاب کرے۔ کشمیر کی عوام بھی انسان ہیں جس کی وجہ سے بین الاقوامی برادری جو عالمی امن اور افغانستان میں امن کیلئے اقدامات کر رہی ہے کو اس ہی طرح کشمیر کے مسئلے کا بھی حل تلاش کرنا چاہیے تاکہ جنوبی ایشیا میں حقیقی امن سامنے آئے۔

صحت کارڈکااجراء۔۔۔ حکومت کاتاریخی اقدام
وزیراعظم عمران خان نے صحت انصاف کارڈ کے پہلے مرحلے کا آغاز کر دیا۔ اس موقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ قیمتیں بڑھنے کا احساس ہے۔ لوگ مشکل میں ہیں۔ روپے کی قیمت 35 فیصد گری تو مہنگائی آنا تھی۔ آنے والے دنوں میں غربت ختم کرنے کا جامع پروگرام لا رہے ہیں۔ وزیراعظم نے پنجاب میں ایک کروڑ خاندانوں کو ایک ماہ کے اندر ہیلتھ کارڈ دینے کا اعلان کیا۔ غریب طبقے کو ہیلتھ کارڈ کے ذریعے تحفظ دینا ہے۔ ہیلتھ کارڈ سے غربت کم ہو گی۔ پاکستان کو فلاحی ریاست بنا کر رہیں گے۔ ہیلتھ کارڈ سے 7لاکھ 20ہزار روپے تک کا علاج کرایا جا سکے گا۔ صحت کارڈ سے مریض کی انجیو پلاسٹی، برین سرجری سمیت کینسر اور دیگر امراض کا مفت علاج کیا جائے گا۔ پہلے مرحلے میں اسلام آباد میں صحت کارڈ تقسیم کیے جائیں گے اور آئندہ ماہ قبائلی علاقوں اور پھر ملک بھر میں صحت کارڈ تقسیم ہوں گے۔ صحت کارڈ سے ملک کے ڈیڑھ کروڑ غریب خاندان مستفید ہوں گے۔ مریض 150 سے زائد سرکاری و نجی ہسپتالوں میں علاج کرواسکیں گے۔ صحت کارڈ حکومت کابہت اچھا اقدام ہے جس کو ہرکوئی سراہارہاہے۔علاج ہرکسی کی بنیادی ضرورت ہے ، کئی مریض غربت کی وجہ سے علاج کرانے کی سکت نہ رکھنے سے موت کی آغوش میں چلے جاتے ہیں۔ مہنگائی کی وجہ سے غریب کو تو دووقت کی روٹی بھی مشکل ہے وہ اپناعلاج کہاں کراسکتاہے۔ ہسپتال مریضوں سے بھرے پڑے ہیں۔عام ٹیسٹ کی فیس بھی ہزاروں میں ہوتی ہے ۔حکومت کے اس اقدام سے عام آدمی کی زندگی میں بہتری آئے گی ۔کوئی بھی بیماری ہو اس کاعلاج ضروری ہوتا ہے ۔ کینسر کے علاج کیلئے توخاندان اپنے گھر تک بیچ دیتے ہیں۔ ضروری ہے کہ کمزور طبقے کو بیماری ہونے پر سہولت فراہم ہوگی اور بیماری ہونے پر مفت علاج کراسکے گا، ہیلتھ کارڈ سے غربت میں بھی واضح کمی آئے گی۔
کور کمانڈرزکانفرنس۔۔۔سیکیورٹی صورتحال کاجائزہ
آئی ایس پی آر کے مطابق کور کمانڈرز نے ملک کی داخلی سلامتی میں بہتری اور افغانستان میں امن کیلئے مفاہمتی عمل کی پیشرفت اور ملک میں سکیورٹی صورتحال پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ دو سو اٹھارہویں کور کمانڈرز کانفرنس گزشتہ روز آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی زیر صدارت منعقد ہوئی۔ شرکانے جیو سٹرٹیجک حالات اور ملک کی سلامتی کی صورتحال کا جائزہ لیا۔ کور کمانڈرز نے دشمن کی کسی غلط مہم جوئی کو ناکام بنانے کے نکتہ نظر سے کنٹرول لائن، ورکنگ بانڈری اور مشرقی سرحد پر فوجی تیاریوں کا بھی جائزہ لیا اور یوم کشمیر کے موقع پر بہادر کشمیریوں سے مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ ملکی سرحدوں کی حفاظت اور آپریشن ردالفساد کے تحت جاری آپریشنوں کے علاوہ ہماری توجہ دشمن انٹیلی جنس ایجنسیوں اور مخالف طاقتوں کے ان عزائم کو ناکام بنانے پر بھی مرکوز ہے جن کا مقصد پاکستان کو حاصل کئے گئے امن کے ثمرات سے محروم کرنا ہے۔ سماجی و معاشی ترقی کے ذریعے امن و امان کی بہتر صورتحال کے ثمرات لوگوں تک پہنچانے کی ضرورت ہے۔ پاکستان کے خلاف کی جانے والی سازشیں ناکام بنائی جائیں گی۔ اجلاس کے دوران لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باونڈری پر بھارت کی جانب سے جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزی اور معصوم کشمیریوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کا بھی جائزہ لیا گیا۔ نیزآرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے پاکستان میں افغان سفیر نے بھی ملاقات کی۔ ملاقات میں علاقائی سکیورٹی صورتحال پر بات چیت ہوئی۔ افغان سفیر نے افغانستان میں امن کیلئے پاکستان کی کوششوں کی تعریف کی۔

پاکستانی فلم ’لوڈ ویڈنگ‘ نے بھارتی فلم میلہ لوٹ لیا

پاکستانی فلموں کا معیار بہتر سے بہترین ہوچکا ہے یہی وجہ ہے کہ انہیں بین الاقوامی سطح پر خوب پزیرائی مل رہی ہے، ایسے میں بھارت کے راجستھان انٹرنیشنل فلم فیسٹیول میں پاکستانی فلم ’لوڈ ویڈنگ‘ نے بہترین فلم کا اعزاز حاصل کر لیا ہے۔

بھارتی ریاست جے پور میں منعقد راجستھان انٹرنیشنل فلم فیسٹیول میں پاکستانی فلم ’لوڈ ویڈنگ‘ کو بہترین فلم کے ایوارڈ سے نوازا گیا اور اسے قابل ستائش قرار دیا۔

’لوڈ ویڈنگ‘ کی راجستھان انٹرنیشنل فلم فیسٹیول میں نامزدگی کی خبر گزشتہ برس دسمبر میں فلم کے ہدایت کار نبیل قریشی نے مداحوں سے شیئر کی تھی اور اب فلم کو ایوارڈ ملنے کی خوشخبری بھی ہدایت کار نے ہی انسٹاگرام پر شیئر کی ہے۔

انہوں نے فلم کی کامیابی پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے پوری ٹیم کو مبارک باد پیش کی۔

دوسری جانب فلم میں مرکزی کردار نبھانے والے اداکار فہد مصطفی نے بھی خوشخبری شیئر کرتے ہوئے بتایا کہ راجستھان انٹرنیشنل فلم فیسٹیول میں ’لوڈ ویڈنگ‘ نے ‘ویوورز چوائس ایوارڈ’ یعنی ناظرین کی پسند میں بہترین فلم کا ایوارڈ جیت لیا ہے۔

’لوڈ ویڈنگ‘ کی کہانی لڑکیوں کی شادی اور جہیز کے مسائل کو اجاگر کرنے پر مبنی تھی جس میں رومانوی کامیڈی کا تڑکا شامل تھا۔

فلم میں مرکزی کردار اداکار فہد مصطفی کے ساتھ اداکارہ مہوش حیات نے ادا کیا تھا۔

مہوش حیات نے بھی انٹرنیشنل فلم فیسٹیول میں ’لوڈ ویڈنگ‘ کی نامزدگی کو زبردست کامیابی قرار دیا تھا۔

گلگت بلتستان میں بھارتی سازشوں کا جال

پاکستان میں دہشت گردی کی ہونے والی تقریباً تمام وارداتوں اور سازشوں کا سر خیل بھارت ہے جو بلوچستان سے لے کر گلگت بلتستان تک سازشوں کا جال بن رہا ہے۔ اس مقصد کیلئے گلگت بلتستان جو سی پیک کا آغاز ہے اور بلوچستان جو سی پیک کا آخری کنارہ ہے، اس کا خاص ٹارگٹ ہے۔گلگت بلتستان اقتصادی راہداری کا گیٹ وے ہے۔ جوں جوں سی پیک پر کام بڑھتا جا رہا ہے تو ں توں بھارت نے گلگت بلتستان پر اپنا فوکس بڑھا دیا ہے۔اقتصادی راہداری منصوبے میں گلگت بلتستان کی اہمیت اس لئے دو چند ہے کہ چین کے شہر کاشغر سے جیسے ہی اقتصادی راہداری گزر کر پاکستان میں داخل ہوگی تو پہلا علاقہ گلگت بلتستان ہے۔اقتصادی راہداری کی ابتدا پاکستان میں ابتدا اور انتہا گوادر ہے۔ اس لئے بھارت گوادر سے لے کر گلگت بلتستان تک ساشوں میں مصروف ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ بھارت کی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘بلوچستان کے ساتھ ساتھ گلگت بلتستان میں سازشوں میں مصروف ہے۔ بھارتی سفارت کار بھی اس ضمن میں ر ا کا ساتھ دیتے ہوئے گلگت بلتستان، آزاد کشمیر اور بلوچستان میں اپنے میڈیائی رابطوں کے ذریعے ایسے عناصر اور خیالات کو پروان چڑھا رہے ہیں جن کے ذریعے ان مذکورہ علاقوں میں پاکستان مخالف جذبات کو ابھارا جا سکے۔سی پیک کے علاوہ بھی پاکستان کے ترقیاتی منصوبے، توانائی منصوبے اور عوامی بہبود کے منصوبے بھارت کیلئے تکلیف دہ ہیں۔ ایک عرصہ بعد سابق چیف جسٹس کی ڈیم مہم کے بعد دیامر بھاشا ڈیم اور مہمند ڈیم بنانے کی تیاریاں عروج پر ہیں۔ اس کیلئے فنڈز بھی اکٹھے ہو رہے ہیں۔ مگر ظاہر ہے بھارت کو یہ کہاں پسند آئے گاکہ پاکستان میں ڈیم بنے اسی لئے گزشتہ برس سے ہی بھارت نے دیامر کے علاقہ میں دہشت گردی اور سازشوں کے جال بننا شروع کر دیے۔ دیامر کے علاقے میں سیشن جج کی گاڑی پر شرپسندوں نے حملہ کیا ‘ جج محفوظ رہے۔ اس کے علاوہ علاقے میں لڑکیوں کے سکولوں کو نذر آتش کیا گیا۔ گلگت حکومت کا کہنا تھا کہ ان دہشت گردوں کا اگلا ہدف سی پیک اور بھاشا ڈیم کو نشانہ بنانا تھا۔ فورسز کے آپریشن کے دوران دہشت گردوں کے ٹھکانوں سے خود کش جیکٹس اور دستی بموں سمیت بھاری مقدار میں اسلحہ برآمد کیا گیا۔ دیامر میں سکول جلانے والے وہی شدت پسند تھے جو کہ سکیورٹی فورسز پر حملے کرتے ہیں تمام دہشتگرد افغانستان کے ہی تربیت یافتہ تھے اور اس سے پہلے سوات میں بھی لڑکیوں کے سکولوں پر حملے کر چکے تھے۔ انہی دہشت گردوں کا نشانہ ملالہ یوسف زئی بنی تھی۔ علاقے کے مدرسہ میں 200 طلبہ کی لڑکیوں کی تعلیم کے خلاف برین واش کی جاتی تھی۔گلگت بلتستان اور سوات کے علاقے پہلے بھی دہشت گردی کا شکار رہے ہیں۔ انہی علاقوں میں غیرملکی سیاحوں کو نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔ ایک وہ دور تھا جب شدت پسندوں کے مظالم انتہاء کو پہنچے ہوئے تھے۔ فرقہ واریت اس حد تک پہنچی ہوئی تھی کہ ایک فرقہ سے تعلق رکھنے والے شدت پسند دہشت اور وحشت کی علامت بن چکے تھے۔ اپنے گمراہ کن نظریات کا نفاذ چاہے تھے‘ ان نظریات میں خواتین کیلئے تعلیم کا حصول جرم تھا۔سوات اپریشن کے بعد ان علاقوں میں امن لوٹ آیا تھا۔ دہشت و بربریت کی علامت بنے اکثر لوگ افغانستان چلے گئے‘ کچھ روپوش ہوگئے۔ ان میں سے بھی کئی ضرب عضب آپریشن کا نشانہ بنے۔ آپریشن ضرب عضب کے ساتھ آپریشن ردالفساد آج بھی جاری ہے۔ ان آپریشنز کے ذریعے دہشت گردوں کے خاتمے اور انکے ٹھکانے تباہ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی گئی۔ بہت سے دہشت گرد ہلاک ہوگئے۔ گلگت بلتستان میں صوبہ خیبر پختونخواہ سے دہشت گرد پہنچ رہے ہیں۔ دہشت گردی کی کاروائیوں کے پیچھے بھارتی ’’را‘‘ اور افغان ’’این ڈی ایس‘‘ کا ہاتھ ہے۔ بلوچستان اور کے پی کے میں آپریشنز کے بعد وہاں دہشت گردی میں نمایاں کمی ہوئی ۔ وہاں سے مایوس ہونے کے بعد دہشت گردوں نے گلگت بلتستان کا رخ کر لیا۔گلگت بلتستان کی مغربی سرحد صوبہ خیبر پختونخوا سے لگتی ہے۔ اسی سرحد کو عبور کر کے دہشت گردوں نے گلگت بلتستان میں تازہ کارروائیاں کی ہیں۔ جہاں انہیں مقامی شدت پسندوں اور بھارتی فنڈنگ یافتہ لوکل سہولت کاروں کی مدد حاصل ہے۔براہ راست دہشت گردی کے ساتھ ساتھ بھارت دنیا بھر میں سی پیک اور گلگت بلتستان کو متنازعہ بنانے کیلئے اپنے میڈیا کا استعمال کر رہا ہے۔ بھارتی میڈیا میں گلگت بلتستان میں علیحدگی پسندوں کے احتجاج سے متعلق بے بنیاد خبریں چلائی گئیں۔ جسے مختلف ممالک میں موجود گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والے مٹھی بھر ریاست مخالف عناصر سوشل میڈیا پر وائرل کرتے رہے۔ مقصد صرف سی پیک اور پاکستان کی ناکامی تھا۔ گلگت بلتستان میں شرح خواندگی 90 فیصد کے قریب ہے۔ اسکول اور کالجز کی بڑی تعداد موجود ہے۔ آغا خان فاؤنڈیشن نے یہاں بڑا کام کیا ہے۔ یہاں سے کچھ لوگ باہر ممالک میں بھی گئے ہیں۔ ان میں سے بعض کے ساتھ بھارت نے روابط بنا لئے ہیں اور انہیں پاکستان کے خلاف پروپیگنڈے کے لئے استعمال کر رہا ہے۔ بیرونی ممالک کے علاوہ بھاری فنڈنگ کے ذریعے گلگت بلتستان میں موجود مٹھی بھر عناصر کو متحرک کرنے کی کوشش بھی کی جا رہی ہے۔یہ معاملہ فوری توجہ کا طالب ہے۔ حکومت پاکستان اور صوبائی حکومت گلگت بلتستان کو چاہیے کہ وہ فوری طور پر یہاں چھپے دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کا سراغ لگائے کیونکہ سی پیک کے تحفظ کیلئے یہ گیٹ وے بہت اہم ہے۔ بھارت نے گلگت بلتستان میں دہشت گردی کے ذریعے سی پیک کو سبوتاژ کرنے کا جو پلان بنا رکھا ہے اس کو ختم کیا جائے ۔ بھارت گلگت بلتستان کو متنازعہ علاقہ قرار دیتا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ یہاں سے سی پیک نہ گزارا جائے اس کی کوشش ہے کہ جس قدر ممکن ہو سکے غیر مستحکم کر دیا جائے۔ دہشت گردوں کے خلاف جامع آپریشن کیا جائے اور گلگت بلتستان کے عوام کو تمام مراعات اور سہولیات دی جائیں۔

Google Analytics Alternative